Baaghi TV

Tag: PMLN

  • امریکی ویب سائٹ نے سائفر لیک کردیا؟

    امریکی ویب سائٹ نے سائفر لیک کردیا؟

    امریکی ویب سائٹ نے سائفر لیک کر دیا

    ویب سائٹ دی انٹرسیپٹ دعوی کیا ہے کہ ان کو موصول ہونے والی خفیہ دستاویز کے مطابق امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے 7 مارچ 2022 کو ہونے والے ایک اجلاس میں عمران خان کو یوکرین پر روسی حملے پر غیر جانبداری پر وزیر اعظم کے عہدے سے ہٹانے کے لیے پاکستانی حکومت کی حوصلہ افزائی کی، امریکہ میں پاکستانی سفیر اور اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے دو عہدیداروں کے درمیان ہونے والی ملاقات گزشتہ ڈیڑھ سال سے پاکستان میں شدید چھان بین، تنازعات اور قیاس آرائیوں کا موضوع بنی ہوئی ہے، کیونکہ عمران خان اور ان کےمخالفین اقتدار کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ سیاسی کشمکش 5 اگست کو اس وقت شدت اختیار کر گئی جب عمران خان کو بدعنوانی کے الزام میں تین سال قید کی سزا سنائی گئی اور ان کی برطرفی کے بعد دوسری بار حراست میں لیا گیا۔ عمران خان کے حمایتی ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کرتے ہیں۔


    ویب سائٹ کے مطابق لیک ہونے والی دستاویز میں امریکی حکام کے ساتھ ملاقات کے ایک ماہ بعد پارلیمنٹ میں عدم اعتماد کا ووٹ لیا گیا، جس کے نتیجے میں عمران خان کو اقتدار سے ہٹادیا گیا۔ خان کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے امریکہ کی درخواست پر اقتدار سے ہٹانے کی منصوبہ بندی کی تھی۔ پاکستانی کیبل کا متن، جو سفیر کی جانب سے اس ملاقات سے تیار کیا گیا تھا اور پاکستان منتقل کیا گیا تھا، اس سے قبل شائع نہیں کیا گیا تھا۔ اندرونی طور پر ‘سائفر’ کے نام سے جانی جانے والی اس کیبل میں ان گاجروں اور لاٹھیوں کو ظاہر کیا گیا ہے جو اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے عمران خان کے خلاف دباؤ ڈالنے کے لیے تعینات کی تھیں، جس میں وعدہ کیا گیا تھا کہ اگر عمران خان کو ہٹایا گیا تو تعلقات بہتر ہوں گے اور اگر ایسا نہ ہوا تو مشکل کا سامنا کرنا پڑے گا.


    ویب سائٹ میں لکھا ہے کہ اس دستاویز کو ‘خفیہ’ کا نام دیا گیا ہے جس میں محکمہ خارجہ کے حکام بشمول جنوبی اور وسطی ایشیائی امور کے بیورو کے معاون وزیر خارجہ ڈونلڈ لو اور اسد مجید خان کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں کا ذکر بھی شامل ہے، جو اس وقت امریکہ میں پاکستان کے سفیر تھے۔ یہ دستاویز ذرائع نے "دی انٹرسیپٹ” کو فراہم کی، جبکہ انٹرسیپٹ ذیل میں کیبل کی باڈی شائع کر رہا ہے ، متن میں معمولی ٹائپوز کو درست کر رہا ہے کیونکہ ایسی تفصیلات دستاویزات کو واٹر مارک کرنے اور ان کے پھیلاؤ کو ٹریک کرنے کے لئے استعمال کی جاسکتی ہیں۔

    دی انٹرسیپٹ کو حاصل ہونے والی دستاویز کے مندرجات پاکستانی اخبار ڈان اور دیگر جگہوں پر شائع ہونے والی رپورٹنگ سے مطابقت رکھتے ہیں جس میں ملاقات کے حالات اور کیبل میں ہی تفصیلات بیان کی گئی ہیں، جس میں انٹرسیپٹ کی پریزنٹیشن سے حذف کیے گئے درجہ بندی کے نشانات بھی شامل ہیں۔ کیبل میں بیان کردہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کی حرکات کو بعد میں واقعات سے ظاہر کیا گیا۔ کیبل میں امریکہ یوکرین جنگ پر عمران خان کی خارجہ پالیسی پر اعتراض کرتا ہے۔ ان کی برطرفی کے بعد ان موقف کو فوری طور پر تبدیل کر دیا گیا، جس کے بعد، جیسا کہ اجلاس میں وعدہ کیا گیا تھا.

    جبکہ ویب نے مزید لکھا کہ دستاویز کے مطابق؛ ملاقات میں، لو نے تنازعہ میں پاکستان کے موقف پر واشنگٹن کی ناراضگی کے بارے میں واضح الفاظ میں بات کی۔ اس دستاویز میں لو کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ‘یہاں اور یورپ کے لوگ اس بات پر کافی فکرمند ہیں کہ پاکستان (یوکرین پر) اتنا جارحانہ غیر جانبدار موقف کیوں اختیار کر رہا ہے،۔ یہ ہمارے لئے اتنا غیر جانبدار موقف نہیں لگتا ہے۔ لو نے مزید کہا کہ انہوں نے امریکہ کی قومی سلامتی کونسل کے ساتھ داخلی بات چیت کی ہے اور "یہ بالکل واضح ہے کہ یہ وزیر اعظم کی پالیسی ہے۔

    ویب نے دعویٰ کیا کہ لو نے دو ٹوک انداز میں عدم اعتماد کے ووٹ کا معاملہ اٹھایا: "میرے خیال میں اگر وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کا ووٹ کامیاب ہو جاتا ہے، تو واشنگٹن میں سب کو معاف کر دیا جائے گا کیونکہ روس کے دورے کو وزیر اعظم ایک فیصلے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ بصورت دیگر،” انہوں نے مزید کہا، ”مجھے لگتا ہے کہ آگے بڑھنا مشکل ہو جائے گا۔ لو نے متنبہ کیا کہ اگر یہ صورتحال حل نہ کی گئی تو پاکستان اپنے مغربی اتحادیوں کے ہاتھوں پسماندہ ہو جائے گا۔ لو نے کہا، "میں یہ نہیں بتا سکتا کہ یورپ اسے کس طرح دیکھے گا لیکن مجھے شبہ ہے کہ ان کا رد عمل بھی ایسا ہی ہوگا، انہوں نے مزید کہا کہ اگر خان عہدے پر رہے تو انہیں یورپ اور امریکہ کی طرف سے "تنہائی” کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نگران حکومت کو ہر صورت مہنگائی کو قابو کرنا ہو گا ، راجہ ریاض
    نو مئی یوم سیاہ کے طورپر، آج رات اسمبلی تحلیل کی سمری بھیجوں گا، وزیراعظم
    ایشیا کپ اورافغانستان سیریز کیلئے 18 رکنی اسکواڈ کا اعلان
    نواز شریف بہت جلد واپس آرہے، مریم نواز شریف نے عندیہ دے دیا
    روپے کی قدر میں بحالی

    لیکن فرحان ورک کے مطابق تحریک انصاف کا سائفر بیانیہ جعلی جعلی ہے کیونکہ اگر امریکہ روس جانے پر پی ٹی آئی حکومت ہٹاتا تو امریکہ کے تین ہی فوائد ہوسکتے تھے

    1۔ پاکستان روس یوکرین جنگ میں یوکرین کا ساتھ دے
    2۔ پاکستان اقوام متحدہ میں روس کے خلاف ووٹ دے
    3۔ پاکستان روس سے دور ہوجائے

    اسکے علاوہ تحریک انصاف ہٹانے کا امریکہ کو کوئی فائدہ نہیں تھا۔ لیکن پی ٹی آئی حکومت ہٹنے کے بعد کیا امریکہ کو ان تینوں فائدوں میں سے ایک بھی فائدہ ملا؟ نہیں۔
    فرحان ورک نے مزید کہا ثبوت حاضر ہیں
    1۔ پاکستان کے وزیر خارجہ بلاول زرداری صاف صاف واضح کرچکے ہیں کہ پاکستان روس یوکرین جنگ میں نیوٹرل ہے۔
    (ثبوت ساتھ جڑا ہے)
    2۔ پاکستان نے اقوام متحدہ میں روس یوکرائن جنگ پر نیوٹرل موقف رکھا۔ یہ وہی موقف تھا جو عمران خان دور کا تھا اور وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی اسی موقف کی حمایت کی۔ امریکہ کے پریشر کے باوجود یوکرائن کے حق میں ووٹ نا دیا
    (ثبوت ساتھ جڑا ہے)
    3۔ پاکستان روس سے قطع تعلقی کرلیتا لیکن یہاں تو پاکستان روس سے تیل منگوا رہا ہے۔
    (ثبوت ساتھ جڑا ہے)

    انہوں یہ بھی کہا کہ ان تمام ثبوتوں کو دیکھ کر آپ خود بتائیں کہ اگر امریکہ نے روس سے تعلقات پر تحریک انصاف حکومت ختم کروائی تو پھر اس حساب سے تو پی ڈی ایم حکومت کی بھی یہی پالیسی رہی تو پھر امریکہ کوعمران حکومت ہٹانے کا فائدہ کیا ہوا؟ لیکن وقت نے اس جماعت کے تمام جعلی پراپیگینڈا کو بے نقاب کر دیا ہے۔

  • نگراں وزیراعظم کیلئے اب تک کوئی نام فائنل نہیں ہوا. قمر زمان کائرہ

    نگراں وزیراعظم کیلئے اب تک کوئی نام فائنل نہیں ہوا. قمر زمان کائرہ

    وزیراعظم کے مشیر امور کشمیر قمر زمان کائرہ کا کہنا ہے کہ نگراں حکومت کی کوئی مدت نہیں ہوتی کیونکہ انتخابات ہونے تک نگراں حکومت رہتی ہے اور حلقہ بندیوں میں کسی صوبے کی نشستیں کم زیادہ نہیں ہوں گی جبکہ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے کہا تھا کہ اداروں کو اپنے آئینی دائرہ کار میں رہنا چاہیئے اور سوسائٹی بیلنس ہوگی تو ہم آگے بڑھ سکیں گے، 30 سال تک ملک میں آمریت رہی ہے جبکہ جمہوری ادوار میں بھی کام نہیں کرنے دیا گیا، ہمیں حقیقت کو تسلیم کرنا چاہیئے، بلاول بھٹو نے بات حکومت کی جانب سے کہی۔

    قمر زمان کائرہ نے مزید کہا کہ کوئی شک نہیں ہم مہنگائی اور بیروزگاری پر قابو نہیں پاسکے ہیں لیکن حکومت کی مدت ختم ہونے سے پہلے پیٹرول مہنگا کیا گیا مگر ذرا سوچیں کہ پیٹرول کی قیمت میں 20 روپے اضافہ کرنا کیا آسان فیصلہ تھا۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ حکومت کو ریاست کے لیے مشکل فیصلے کرنے پڑے، بلاول بھٹو کے بیان پر میں تبصرہ نہیں کرسکتا، پیمرا ایکٹ میں ترامیم کرکے بل دوبارہ پیش کیا گیا، اس کا مطلب ہے کسی کے کہنے پر ٹھپے نہیں لگ رہے، تیز رفتار قانون سازی سے گریز کرنا چاہیئے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ حکومتی ارکان مزے کررہے ہیں، جہاں ضرورت ہوتی ہے ایوان میں اعتراض اٹھایا جاتا ہے، جمہوریت کے لیے ہم ایک قدم آگے اور 2 قدم پیچھے جاتے ہیں، جمہوریت کے لیے جدوجہد میں ہم پیچھے ہی گئے ہیں۔ علاوہ ازیں انتخابات سے متعلق سوال پر قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ انتخابات آئینی ضرورت ہیں، 90 دن میں ہوتے نظر نہیں آرہے، سی سی آئی نے 2017 کی مردم شماری کو مشکوک قرار دیا، 2022 میں نئی مردم شماری کا آغاز ہوا تھا، مردم شماری پر ایم کیوایم کو شدید تحفظات تھے، سی سی آئی نے متفقہ طور پر مردم شماری کی منظوری دی، مردم شماری کے نتائج پر تمام جماعتیں متفق ہوگئیں، مردم شماری کے تحت حلقہ بندیاں ہونا قومی تقاضہ ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نگران حکومت کو ہر صورت مہنگائی کو قابو کرنا ہو گا ، راجہ ریاض
    نو مئی یوم سیاہ کے طورپر، آج رات اسمبلی تحلیل کی سمری بھیجوں گا، وزیراعظم
    ایشیا کپ اورافغانستان سیریز کیلئے 18 رکنی اسکواڈ کا اعلان
    نواز شریف بہت جلد واپس آرہے، مریم نواز شریف نے عندیہ دے دیا
    روپے کی قدر میں بحالی
    پیپلز پارٹی کے رہنما نے کہا کہ نگراں حکومت کی کوئی مدت نہیں ہوتی، نگراں وزیراعلیٰ کی سی سی آئی میں شرکت پر کوئی قدغن نہیں، انتخابات ہونے تک نگراں حکومت رہتی ہے، نگراں حکومت 90 دن میں ختم نہیں ہوتی، حکومت سازی میں مزید 15 دن لگتے ہیں، نگراں حکومت رہتی ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ حلقہ بندیوں میں پنجاب کی کوئی نشست کم نہیں ہوگی، اور حلقہ بندیوں کے لیے اب آئینی ترمیم کی ضرورت نہیں رہی ہے لہذا حلقہ بندیوں میں کسی صوبے کی نشستیں کم یا زیادہ نہیں ہوں گی۔ علاوہ ازیں وفاقی وزیر قمر زمان کائرہ نےکہا کہ نگراں وزیراعظم کے لیے اب تک کوئی نام فائنل نہیں ہوا ہے اور وزیراعظم و اپوزیشن لیڈر اس پر کل مشاورت کریں گے جبکہ الیکشن کمیشن کو حلقہ بندیوں کے لیے 4 ماہ چاہئیں لہذا الیکشن کمیشن کو چاہیئے کہ 3 ماہ میں حلقہ بندیاں مکمل کرلے جبکہ آئین پر جلد از جلد عملدرآمد کرنے کی کوشش کی جانی چاہیئے۔

  • نواز شریف بہت جلد واپس آرہے، مریم نواز شریف نے عندیہ دے دیا

    نواز شریف بہت جلد واپس آرہے، مریم نواز شریف نے عندیہ دے دیا

    مسلم لیگ ( نواز ) کی چیف آرگنائزر و سینئر نائب صدر مریم نواز شریف نے نواز شریف بہت جلد واپس آنے کا عندیہ دے دیا ہے، پاکستان مسلم لیگ کے مرکزی سیکرٹریٹ ماڈل ٹاون میں تقریب کا انعقاد کیا گیا تھا جس میں پارٹی کے سلوگنز والی اشیا نمائش کے لیے پیش کی گئیں اور اس موقع پر سینئر نائب صدر نے ان اشیاء کا معائنہ کیا اور پارٹی پرچم، نواز شریف کی تصاویر اور پارٹی نعروں والی اشیاء کو پسند کیا گیا۔

    جبکہ اس موقع پر مریم نواز کا کہنا تھا کہ میرے چائے کے کپ پر بہت تبصرے، تجزیے اور پروگرامز کئے گئے، اب میں نیا کافی کپ استعمال کر رہی ہوں جس میں کافی زیادہ مزے کی لگتی ہے، اس کپ پر ایک جانب لکھا ہے ’‘ میاں دے نعرے وجن گے’’ اور دوسری جانب نواز شریف کی تصویر بنی ہوئی ہے۔

    علاوہ ازیں مریم نواز کی جانب سے آئندہ انتخابات کی تیاریوں میں پارٹی سلوگن والی اشیاء استعمال کرنے کی ہدایات جاری کی گئیں جن میں جدید کافی کپ، نوٹ بکس، بیجز اور پوسٹرز شامل ہیں جبکہ تمام اشیا پر مسلم لیگ ن کا جھنڈا، انتخابی نشان شیر اور مختلف نعرے درج ہیں۔ جبکہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مسلم لیگ ن کے تمام رہنما نیا کافی کپ استعمال کریں، میں یقین دلاتی ہوں کہ اس نئے کپ میں کافی زیادہ بہتر مزہ دے گی، فون کور پر ’‘ دیکھو دیکھو کون آیا، شیر آیا شیر آیا ’‘ کے نعرے درج ہیں جو کہ موجودہ حالات کی عکاسی کرتا ہے۔
    نگران حکومت کو ہر صورت مہنگائی کو قابو کرنا ہو گا ، راجہ ریاض
    نو مئی یوم سیاہ کے طورپر، آج رات اسمبلی تحلیل کی سمری بھیجوں گا، وزیراعظم
    ایشیا کپ اورافغانستان سیریز کیلئے 18 رکنی اسکواڈ کا اعلان

    ان کا مزید کہنا تھا کہ شیر بہت جلد لندن سے واپس آنے والا ہے، اگلے انتخابات میں ایک بار پھر شیر دھاڑنے جا رہا ہے۔

  • نئی مردم شماری پرانتخابات نہیں کرانے چاہیے۔ شیری رحمان

    نئی مردم شماری پرانتخابات نہیں کرانے چاہیے۔ شیری رحمان

    پیپلزپارٹی کی سینیٹرشیری رحمان نےعام انتخابات پُرانی مردم شماری کے مطابق کرانے کا مطالبہ کردیا ہے جبکہ آج سینیٹ ہونے والے اجلاس میں پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے کا کہنا تھا کہ مردم شماری پربہت سے لوگوں کو اعتراض ہے، لیکن نئی مردم شماری پرانتخابات نہیں کرانے چاہیے۔ علاوہ ازیں شیری رحمان نے الیکشن پرانی مردم شماری کے تحت کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ نئی مردم شماری پرانتخابات نہیں کرانے چاہیے، ہم نہیں چاہتے کہ الیکشن میں تاخیرہو،الیکشن وقت پراورآئین کےمطابق ہونےچاہئیں اور یہی ہمارا مطالبہ ہے۔

    ادھر دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف کے اس اعلان کہ عام انتخابات نئی مردم شماری پر ہوں گے، الیکشن میں تاخیر کے بادل منڈلانے لگے ہیں۔ جس کے بارے میں قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ انتخابات نئی مردم شماری کی مشترکہ مفادات کونسل سے منظوری اور نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد ہو سکتے ہیں۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    توشہ خانہ کا ٹرائل روکنے کا کیس، فیصلہ آج، عمران خان کی نیب،پولیس میں طلبی بھی آج
    توشہ خانہ کیس، آج کا وقت دیا تھا الیکشن کمیشن اپنے دلائل دے ،جج ہمایوں دلاور
    علی امین گنڈا پور کے گھر چھاپہ،غلیل،ڈنڈے،سیلاب ریلیف کا سامان برآمد
    تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی انتخاب ،الیکشن کمیشن میں سماعت ملتوی
    زیادہ بھیک کے لئے سفاک باپ نے کمسن بچی کو جلا دیا
    اس کے علاوہ جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم، کراچی اور حیدرآباد کی مردم شماری پر اعتراض اٹھا چکی ہیں۔ تایم خیال رہے کہ گزشتہ روز ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو میں شہباز شریف نے کہا تھا کہ 12 اگست کو حکومت کی مدت مکمل ہو رہی ہے، نئی مردم شماری کے تحت ہی انتخابات میں جانا ہے، عوامی مینڈیٹ سے لیس حکومت 5 سال حکومت کرےگی، انتخابات میں تاخیر کا کوئی جواز نہیں جبکہ وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ مردم شماری ہوئی ہے تو اسی پر انتخابات ہونے چاہئیں، الیکشن کمیشن کی ذمےداری ہے وہ انتخابات کرائیں گے، مردم شماری کے نتائج مکمل ہونے پر مشترکہ مفادات کونسل میں جائیں گے۔

  • مردم شماری میں بے ضابطگیاں؛ حافظ نعیم الرحمان نے وزیراعظم کو خط لکھ دیا

    مردم شماری میں بے ضابطگیاں؛ حافظ نعیم الرحمان نے وزیراعظم کو خط لکھ دیا

    کراچی میں مردم شماری میں بے ضابطگیوں پر امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے وزیراعظم کو خط لکھ دیا جس میں انہوں نے کراچی کی گنتی کو پوری اور حلقہ بندیاں صحیح اعداد و شمار کے مطابق کرنے کا مطالبہ کردیا ہے، جبکہ مردم شماری میں بے ضابطگیوں پر امیر جماعت اسلامی نے وزیراعظم کو خط لکھا کہ کراچی کی آبادی کو 2017 کی مردم شماری میں آدھا کردیا گیا تھا، حالیہ مردم شماری میں کراچی میں 63 فیصد اضافہ ظاہر کیا گیا جبکہ لاہور اور اسلام آباد میں 113 اور 90 فیصد آبادی میں اضافہ دکھایا گیا ہے۔

    علاوہ ازیں خط میں حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ مردم شماری کے عمل میں حکومت سندھ کا کردار منفی رہا ہے، اور پیپلزپارٹی نہیں چاہتی کہ کراچی کی آبادی میں درست اضافہ ہو سکے، وزیراعظم کو لکھے گئے خط میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ کراچی کی گنتی پوری کی جائے، حلقہ بندیاں صحیح اعداد و شمار کے مطابق کی جائیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    حکومت کی مدت کے آخری دن، قومی اسمبلی میں مزید قوانین منظور
    اعجاز چوہدری کو جیل میں بی کلاس کی فراہمی کی درخواست پر سماعت ملتوی
    میڈیا ملازمین کی کم سے کم تنخواہ حکومت کی مقررکردہ ہوگی،مریم اورنگزیب
    عمر فاروق ظہور نامی شخص سے کبھی ملا اور نہ ہی فون پر بات کی،شہزاد اکبر
    خیال رہے کہ گزشتہ مئی میں ادارہ شماریات کے مطابق 22 مئی کے بعد تصدیق کا عمل شروع ہوگا جو 31 مئی تک جاری رہے گا جبکہ ملک بھر میں جاری ساتویں ڈیجیٹل خانہ و مردم شماری میں 4 روز کے وقفے کے بعد ایک بار پھر توسیع کردی گئی تھی. مردم شماری کا عمل صوبہ بلوچستان کے علاوہ ملک کے مختلف 66 اضلاع میں 22 مئی تک جاری رہنے کا کہا گیا تھا، جبکہ اب تک کے اعداد و شمار کے مطابق سندھ کی آبادی 5 کروڑ 75 لاکھ جبکہ کراچی ڈویژن کی ایک کروڑ 90 لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے۔

  • عمران خان کے کیس کا دو دن میں فیصلہ آنے والا ہے. اعتزاز احسن کا دعوٰی

    عمران خان کے کیس کا دو دن میں فیصلہ آنے والا ہے. اعتزاز احسن کا دعوٰی

    اعتراز احسن نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے تمام سوالوں کا جواب دے دیا ہے اور یہ معاملہ جس سپیڈ سے جارہا ہے اس کو دیکھتے ہوئے میرے خیال میں دو دن میں کیس کا فیصلہ آ جائے گا۔ جبکہ انہوں نے نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے اپنے ملٹری سیکرٹری کا نام بھی لیا ہے، اب اگر وہ عدالت پیش ہو کر ان کیخلاف بیان دے دیتا ہے تو پھر معاملہ الٹاپڑ جائے گا۔

    پی پی پی رہنما اعتزاز احسن کا مزید کہنا تھا کہ انتخابات نئی مردم شماری پر نہیں ہو سکتے، انتخابات پرانی مردم شماری پر ہی ہوں گے، اور آئینی ترمیم کیلئےارکان کی مطلوبہ تعداد پوری نہیں ہے۔ جبکہ اعتراز احسن نے میزبان کو بتایا کہ کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 90دن گزرنے کے باوجود الیکشن نہیں ہوئے، نگران حکومت کے بعد الیکشن کا ملتوی ہونا کوئی مشکل بات نہیں ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    190 ملین پاؤنڈ،ڈیم فنڈ کی تفصیلات دی جائیں، مبشر لقمان کا سپریم کورٹ کو خط
    لسبیلہ ہیلی کاپٹر حادثے کو ایک سال،وزیراعظم کا شہداء کو خراج تحسین
    سویڈن پولیس نے ایک بار پھر قرآن پاک کی بے حرمتی کی اجازت دے دی
    چیئرمین پی ٹی آئی نے اپنے ریکارڈ کروائے گئے 342 کے بیان پر دستخط کردیئے
    انکا مزید کہنا تھا کہ یہ ان کے ذہن میں ہے کہ نگران حکومت لمبی جائے گی ، یہ اسحاق ڈار کو اس لیے بنانا چاہتے تھے کہ لمبا بیٹھا رہے۔ اور ان کی مرضی کے مطابق سب کچھ ہو لیکن اب پھر اس بات سے مکر گئے کیونکہ ان کا وہ پلان لیک ہوگیا لہذا اب بھی یہ ایسا بندہ بیٹھانا چایہں گے جو ان کی مرضی کے مطابق کام کرے.

  • وزیر اعظم شہباز شریف نے الیکشن نئی مردم شماری کے بعد کرانے کا اعلان کردیا

    وزیر اعظم شہباز شریف نے الیکشن نئی مردم شماری کے بعد کرانے کا اعلان کردیا

    شہباز شریف نے الیکشن نئی مردم شماری کے بعد کرانے کا اعلان کر دیا

    وزیر اعظم شہبا زشریف نے انتخابات نئی مردم شماری کے تحت کرانے کا اعلان کردیا ہے جبکہ اس حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف کاکہنا ہےکہ نئی مردم شماری کے تحت ہی انتخابات میں جانا چاہیئے اور مردم شماری ہوئی ہے تو اسی پر انتخابات ہونے چاہئیں، الیکشن کمیشن کی ذمےداری ہے کہ وہ انتخابات کرائیں گے، مردم شماری کے نتائج مکمل ہونے پر مشترکہ مفادات کونسل میں جائیں گے۔

    علاوہ ازیں وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ 12 اگست کو حکومت کی مدت مکمل ہو رہی ہے، نئی مردم شماری کے تحت ہی انتخابات میں جانا ہے، جبکہ عوامی مینڈیٹ سے لیس حکومت 5 سال حکومت کرےگی۔ تاہم نگران سیٹ اپ کے حوالے سے نواز شریف سے مشاورت مکمل ہوگئی ہے ، قائد حزب اختلاف سے مشاورت کروں گا، پاکستان کی معاشی صورتحال کو آگے لے کر جائیں گے، اپوزیشن لیڈر سے مشاورت آئین کا تقاضہ ہے، پر امید ہوں اپوزیشن لیڈر مل کر نگران سیٹ اپ کا فیصلہ کریں گے، الیکشن میں مسلم لیگ ن کا امیدوار نوازشریف ہے۔

    جبکہ شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ9 مئی کو دوست نما دشمن بن کر یہ حرکت کی گئی، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مجبوراً اضافہ کرنا پڑا،دو تین ماہ میں کئی بار پیٹرول کی قیمتیں کم ہوئیں ایک دوبار قیمت بڑھائی،پیٹرول کی قیمت کا دار و مدار عالمی مارکیٹ میں قیمتوں پر ہے، پیٹرول کی قیمت میرے کنٹرول میں نہیں عالمی منڈی میں کروڈ آئل کی قیمت پر دارو مدار ہے،بدقسمتی سے اس مرتبہ پیٹرول کی قیمت عالمی منڈی میں آسمان پر چلی گئی۔

  • سینیٹ میں جو بل پیش  ہوا اس پر اتحادیوں کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ فیصل کریم کنڈی

    سینیٹ میں جو بل پیش ہوا اس پر اتحادیوں کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ فیصل کریم کنڈی

    وفاقی وزیر مملکت اور پیپلزپارٹی کے سینئر رہنماء فیصل کریم خان کنڈی کا کہنا ہے کہ منسٹر آف سٹیٹ نے سینیٹ میں ایک بل پیش کیا جس میں پیپلز پارٹی اور اتحادی جماعتوں کو اعتماد میں نہیں لیا گیا ہے. نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ہمیشہ اپنے اتحادیوں کو آن بورڈ لیتی ہے جبکہ ہم نے کبھی ایسا نہیں سوچا جبکہ جو بل لایا گیا اعتماد میں نہ لینے کی وجہ سے ہم سمیت دیگر جماعتوں کے ارکان نے بھی اس کی مخالفت کی ہے۔

    فیصل کریم کنڈی کا مزید کہنا تھا کہ ہم تمام لوگوں کو آن بورڈ لیکر دیکھیں گے کہ اس بل پر کیا ہو سکتا ہے اور کیا نہیں، ہم ایسا بل نہیں لانا چاہتے جو کل کو ہمارے ہی گلے پڑ جائے جبکہ نگران سیٹ اپ کے حوالے سے انہوں نے احسن واحد کو بتایا کہ نگران سیٹ اپ کیلئے پی پی پی اور مسلم لیگ ن کی کمیٹی دوبارہ مل بیٹھے گی اور اس کمیٹی میں نام شیئر ہونگے جس کے بعد اس پر پر بحث ہوگی۔ علاوہ ازیں انہوں نے کہا ہے کہ ابھی نگران وزیراعظم کے نام کیلئے کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا، سیاسی لوگوں کے نام سامنے آ رہے ہیں اس میں کوئی بڑی بات نہیں ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بلوچستان میں ” باپ” کا کردار بدستور اہم رہے گا
    چین میں پاکستانی آموں کی نمائش اگست کے تیسرے ہفتے میں
    اسٹیٹ بینک کا شرح سود22 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ
    باجوڑ، خار میں دہشت گردی،سی پیک کی دس سالہ تقریبات سادگی سے منانے کا فیصلہ
    رہنما پیپلز پارٹی فیصل خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کیا کبھی کسی سیاستدان کو کہا گیا ہے کہ ڈیپوٹیشن پر جج یا بیوروکریٹ بن جائیں، کیا سب لوگوں نے ہمارے پاس ہی آنا ہے کبھی کسی جج کو کبھی کسی بیوروکریٹ کو لے آئیں، اس کا کیا مطلب ہے جج اور بیوروکریٹ اچھی سیاست کر لیتے ہیں۔جبکہ ماضی میں ہم نے تجربے کیے ہیں اور انہی لوگوں کو بٹھا دیا لیکن جب آر ٹی ایس کا سوئچ آف ہوا تو یہ خاموش تھے، لیکن جب الیکشن گزر جاتے تو یہ کہتے کہ ہمیں تو گھر سے باہر جانے کی اجازت نہیں تھی۔

  • ہائر ایجوکیشن بل ن لیگ کے لئے داغ بن جائے گا. عرفان صدیقی

    ہائر ایجوکیشن بل ن لیگ کے لئے داغ بن جائے گا. عرفان صدیقی

    مسلم لیگ ن کے سینیٹر عرفان صدیقی کا کہنا ہے کہ ہائر ایجوکیشن بل پر اتحادی جماعتوں میں میں شدید تحفظات پائے جاتے ہیں، یہ بل ن لیگ کے لئے داغ بن جائے گا کیونکہ اس کی کوئی شق تعلیم کے مفاد میں نہیں۔ جبکہ مسلم لیگ (نواز) کے سینیٹرعرفان صدیقی نے قانون سازی پر اپنی ہی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہائر ایجوکیشن بل کسی پہلو سے تعلیم کے مفادات سے مطابقت نہیں رکھتا، اس کی کوئی ایک شق بھی ایسی نہیں جسے قانون کی شکل دینے سے اساتذہ، طلبہ یا اعلی تعلیم کے اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکے۔

    سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ تعلیم و تحقیق سے تعلق رکھنے والے ادارے اور تمام شخصیات اس بل کی مخالفت کر رہے ہیں، وائس چانسلرز کمیٹی اور فیڈریشن اف آل پاکستان ایکیڈیمک اسٹاف ایسوسی ایشن نے مجوزہ بل کی شدید مخالفت کی ہے۔ سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ میں نے سینٹ کے اندر بھی اس بل کی مخالفت کی ہے، حکومت کی اتحادی جماعتوں میں بھی اس بل کے بارے میں شدید تحفظات پائے جاتے ہیں، اس بل کا اصل مقصد ہائر ایجوکیشن کمیشن کی ازادی اور خود مختاری کو ختم کر کے اسے بیوروکریسی کے ماتحت لانا ہے تاکہ یہ ادارہ بھی سرخ فیتے کا شکار ہو جائے۔

    سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ میں نے وزیراعظم شہباز شریف سے بھی رابطہ کر کے یہ بل واپس لینے کی درخواست کی ہے کیونکہ اس کی منظوری خود مسلم لیگ (ن) کے لیے ایک داغ بن جائے گی، توقع ہے کہ حکومت یہ بل واپس لے کر تعلیمی حلقوں کو اچھا پیغام دے گی۔ اس سے قبل سینیٹ میں بھی سینیٹر عرفان صدیقی نے پرتشدد انتہ اپسندی کی روک تھام بل 2023 کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آج انتہائی اہم بل پیش کیے جارہے ہیں، پرتشدد انتہاپسندی کی روک تھام بل 2023 اہمیت کا حامل ہے، لیکن اس بل کو پاس کرنے سے پہلے کمیٹی میں پیش کرنا چاہئیے تھا۔
    باجوڑ میں جے یو آئی کے ورکر کنونشن میں دھماکا
    قرآن پاک کی بے حرمتی روکنےکی کوشش کرنیوالی خاتون پر چوری کے الزامات
    حالیہ مون سون بارشوں کی تباہ کاریاں، این ڈی ایم اے کی رپورٹ جاری
    قرآن پاک کی بے حرمتی روکنےکی کوشش کرنیوالی خاتون پر چوری کے الزامات
    حالیہ مون سون بارشوں کی تباہ کاریاں، این ڈی ایم اے کی رپورٹ جاری
    عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ کل کو کوئی بھی اس بل کا شکار ہوسکتا ہے، ابھی جلد بازی میں بل پاس ہورہا ہے، کل کہا جائے گا بل پاس ہورہا تھا تو آپ کہاں تھے، یہ بل قومی اسمبلی سے نہیں آیا، بلکہ ڈائریکٹ ہمارے پاس آیا ہے، ہماری ذمہ داری ہے اسے اسمبلی بھیجنے کے بجائے اس کا تفصیلی جائزہ لیں، اس بل کا اس حالت میں پاس ہونا ایک شکنجہ ہے، اور یہ شکنجہ ہمارے گلے پڑے گا۔

  • 8 یا 9 اگست کو اسمبلی ٹوٹ جائے گی.  رہنما پیپلزپارٹی کا دعویٰ

    8 یا 9 اگست کو اسمبلی ٹوٹ جائے گی. رہنما پیپلزپارٹی کا دعویٰ

    پیپلزپارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے کہا کہ 8 یا 9 اگست کو اسمبلی ٹوٹ جائے گی اور انتخابات 90 روز میں ہوں گے، الیکشن کو مردم شماری کی وجہ سے تاخیر کا شکار نہیں کیا جاسکتا۔ جبکہ نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے پیپلزپارٹی کے رہنما اور مشیر وزیراعظم قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ بہت زیادہ ممکن ہے کہ الیکشن 90 دن میں ہوں گے، سیاسی جماعتوں کو بھی یہی سوٹ کرتا ہے کہ مقررہ مدت میں الیکشن ہوں، 8 یا 9 اگست کواسمبلی ٹوٹ جائے گی، وزیراعظم کا اختیار ہے کہ وہ اسمبلیاں توڑدیں۔

    قمرزمان کائرہ کا کہنا تھا کہ الیکشن کو مردم شماری کی وجہ سے تاخیر کا شکار نہیں کیا جاسکتا، بلکہ کسی بھی بنیاد پر الیکشن میں تاخیر نہیں ہونی چاہئے، مردم شماری کے بعد حلقہ بندیاں معمول کے حالات میں ہوتا ہے، عوام کو جذبات سے نہیں سوچ سمجھ کر ووٹ کا حق استعمال کریں۔
    باجوڑ میں جے یو آئی کے ورکر کنونشن میں دھماکا
    قرآن پاک کی بے حرمتی روکنےکی کوشش کرنیوالی خاتون پر چوری کے الزامات
    حالیہ مون سون بارشوں کی تباہ کاریاں، این ڈی ایم اے کی رپورٹ جاری
    قرآن پاک کی بے حرمتی روکنےکی کوشش کرنیوالی خاتون پر چوری کے الزامات
    حالیہ مون سون بارشوں کی تباہ کاریاں، این ڈی ایم اے کی رپورٹ جاری
    رہنما پی پی پی نے کہا کہ قومی اسمبلی کی نشستوں میں تبدیلی کیلئےآئینی ترمیم کرنا ہوگی، نگراں وزیراعظم کےنام پر قبل ازوقت بحث شروع ہوگی، اب وقت آگیا ہے تو مشاورت شروع ہوگئی ہے۔ قمرزمان کائرہ کا مزید کہنا تھا کہ نگراں وزیراعظم کے لئے 5 ناموں پر مشاورت ہو رہی ہے، کمیٹی کا ممبر نہیں ہوں اس لئے ناموں کی تصدیق نہیں کرسکتا، اسحاق ڈار کو معیشت سمیت دیگر شعبوں میں بہت تجربہ ہے، لیکن ان کے نام پر تصدیق ہوتی یا نہیں کچھ نہیں کہہ سکتا۔