Baaghi TV

Tag: political news

  • کراچی اور حیدرآباد میں بلدیاتی الیکشن رکوانے کی ایم کیو ایم کی درخواست مسترد

    کراچی اور حیدرآباد میں بلدیاتی الیکشن رکوانے کی ایم کیو ایم کی درخواست مسترد

    کراچی اور حیدرآباد میں بلدیاتی الیکشن رکوانے کی ایم کیو ایم کی درخواست مسترد

    سندھ ہائیکورٹ نے کراچی اورحیدرآباد میں بلدیاتی الیکشن رکوانے کی ایم کیو ایم پاکستان کی درخواست مسترد کردی ہے۔ عدالت نے الیکشن کمیشن کے کورم سے متعلق درخواست پر مختصرفیصلہ جاری کردیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے نامکمل کورم اور اقدامات کی قانونی حیثیت کے معاملے میں عدالت نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے کورم سے متعلق درخواست پر تفصیلی دلائل سن کر فیصلہ کیا جائے گا۔

    حتمی فیصلہ ہونے تک بلدیاتی انتخابات روکنے سے متعلق ایم کیو ایم کی حکم امتناعی درخواست کی سماعت میں ایڈووکیٹ جنرل سندھ حسن اکبر، ایم کیو ایم وکیل طارق منصورعدالت میں پیش ہوئے۔ وکیل ایم کیو ایم نے دلائل دیے کہ نامکمل الیکشن کمیشن نے بلدیاتی الیکشن کا نوٹیفیکیشن جاری کیا تھا جوغیر قانونی ہے جس پر ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ ایم کیو ایم کی الیکشن کمیشن کے کورم سے متعلق ایک درخواست پہلے مسترد ہوچکی ہے۔ ایم کیو ایم نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد سے متعلق درخواست میں بھی بلدیاتی الیکشن رکوانے کی استدعا کی تھی۔

    سندھ ہائیکورٹ نے جماعت اسلامی اورایم کیو ایم کی درخواستیں ملتوی کردیں جبکہ دوسری جانب سندھ ہائیکورٹ نے بلدیاتی اداروں کو با اختیار بنانے پر سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کی جماعت اسلامی اورایم کیو ایم درخواستیں 24جنوری تک ملتوی کردیں۔ سندھ ہائی کورٹ میں بلدیاتی اداروں کو با اختیار بنانے سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کے معاملے میں جماعت اسلامی اورایم کیو ایم کی درخواستوں کی سماعت ہوئی۔

    سندھ حکومت نے تحریری جواب جمع کرادیا جس میں کہا گیا کہ اختیارات نچلی سطح منتقلی کا عمل جاری ہے۔ جسٹس محمد اقبال کلہوڑو نے پوچھا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے جواب کیوں جمع نہیں کرایا گیا؟ جماعت اسلامی کے وکیل صلاح الدین احمد نے عدالت کو بتایا کہ بلدیاتی اختیارات منتقلی کا معاملہ صوبائی حکومت کے پاس ہے،وفاق کا کوئی عمل دخل نہیں۔ ایم کیو ایم کے وکیل نے کہا کہ سلیکٹ کمیٹی کے درمیان اب بھی ڈیڈ لاک برقرارہے،صوبائی حکومت نے جو پہلے جواب جمع کرایا تھا آج بھی وہی پیش کیا ہے، یہ معاملہ فوری نوعیت ہے۔

    عدالت نے ایم کیو ایم کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہر مقدمے میں آپ کہتے ہیں مجھے ایمرجنسی ہے۔ جسٹس محمد اقبال کلہوڑو نے ایم کیو ایم کے وکیل کو ہدایت کی کہ صوبائی حکومت نے جو بھی جواب جمع کرایا ہے اس پر جواب الجواب جمع کرائیں۔ سندھ ہائیکورٹ نے وفاقی حکومت کے وکیل کو بھی ہدایت کی کہ اٹارنی جنرل کو نوٹس کیا گیا تھا آپ بھی تحریری جواب جمع کرائیں۔ عدالت عالیہ نے کیس کی مزید سماعت 24 جنوری تک ملتوی کر دی۔عدالت نے بلدیاتی اختیارات سے متعلق درخواستوں کو یکجا کررکھا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    رمضان شوگر ملز کو این او سی جاری کرنے کے خلاف پنجاب حکومت کی انٹرا کورٹ اپیل مسترد
    آٹا بحران کیس؛ پشاور ہائیکورٹ کا سیکریٹری فوڈ و دیگر کو مارکیٹ کا دورہ کرنیکا حکم
    لیپ ٹاپ گم ہونے پر گاہک نےغصے میں اپنی کار ہوٹل پر دے ماری
    نادیہ خان 38 ہزار ڈالرز گنوا بیٹھیں. اداکارہ نے دلچسپ واقعہ سنا کر حیران کر دیا
    عدلیہ اورنیب کو درخواست کرتا ہوں جھوٹے کیسز ختم کیے جائیں. وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ
    معروف فٹبالر کی منفرد گھڑی توجہ کا مرکز بن گئی
    وزیراعظم دو روزہ سرکاری دورے پر متحدہ عرب امارات روانہ
    طارق منصور ایڈووکیٹ نے کہا کہ ہم یہاں سپریم کورٹ فیصلے پرعمل درآمد کے لئے آئے ہیں، بلدیاتی انتخابات کے قبل سندھ حکومت ترقیاتی منصوبوں پر کام نہیں کرسکتی، کراچی میں بے شمار ترقیاتی منصوبوں پر کام ہورہا ہے۔ وکیل ایم کیو ایم کا کہنا تھا کہ جب تک بلدیاتی انتخابات نہیں ہوتے ترقیاتی منصوبوں پر کام روکا جائے، بہت اہم مسئلہ ہے سپریم کورٹ نے بھی فوری بلدیاتی انتخابات کرانے کا حکم دیا تھا۔

  • وزیراعلیٰ پنجاب کو کسی بھی وقت دوبارہ اعتماد کے ووٹ کا کہا جا سکتا ہے. وکیل گورنر

    وزیراعلیٰ پنجاب کو کسی بھی وقت دوبارہ اعتماد کے ووٹ کا کہا جا سکتا ہے. وکیل گورنر

    گورنر پنجاب کے وکیل منصور عثمان اعوان کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کو کسی بھی وقت دوبارہ اعتماد کے ووٹ کا کہا جا سکتا ہے، اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کیلئے چھ ماہ کی کوئی قد غن نہیں ہے۔ لاہور ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے گورنر پنجاب کے وکیل منصور عثمان اعوان کا کہنا تھا کہ گورنر پنجاب بلیغ الرحمان نے اپنا جاری کردہ 22 دسمبر کا نوٹیفکیشن واپس لے لیا ہے۔

    وکیل منصور عثمان اعوان نے کہا کہ اسپیکر پنجاب اسمبلی نے اعتماد کے ووٹ کی رپورٹ گورنر کو بھیجی، اور گورنر نے رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد 22 دسمبر کا حکم واپس لیا۔ منصور عثمان اعوان کا کہنا تھا کہ گورنر بلیغ الرحمان کسی بھی وقت دوبارہ اعتماد کے ووٹ کا کہہ سکتے ہیں، آئین میں عدم اعتماد کے معاملے پرچھ ماہ کی قد غن ہے لیکن اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کیلئے چھ ماہ کی کوئی قد غن نہیں ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    رمضان شوگر ملز کو این او سی جاری کرنے کے خلاف پنجاب حکومت کی انٹرا کورٹ اپیل مسترد
    آٹا بحران کیس؛ پشاور ہائیکورٹ کا سیکریٹری فوڈ و دیگر کو مارکیٹ کا دورہ کرنیکا حکم
    لیپ ٹاپ گم ہونے پر گاہک نےغصے میں اپنی کار ہوٹل پر دے ماری
    نادیہ خان 38 ہزار ڈالرز گنوا بیٹھیں. اداکارہ نے دلچسپ واقعہ سنا کر حیران کر دیا
    عدلیہ اورنیب کو درخواست کرتا ہوں جھوٹے کیسز ختم کیے جائیں. وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ
    معروف فٹبالر کی منفرد گھڑی توجہ کا مرکز بن گئی
    وزیراعظم دو روزہ سرکاری دورے پر متحدہ عرب امارات روانہ
    یاد رہے کہ گزشتہ روز وزیراعلی پنجاب پرویز الہیٰ صوبائی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے میں کامیاب ہو گئے تھے ۔انہوں نے 186 ووٹ حاصل کئے ہیں۔ اسپیکر سبطین خان کی زیر صدارت پنجاب اسمبلی کا اجلاس رات گئے شروع ہوا جس میں راجہ بشارت کی جانب سے اعتماد کا ووٹ لینے کی قرارداد پیش کی گئی۔ اجلاس شروع ہوتے ہی اپوزیشن اور حکومتی ارکان اسمبلی میں ہاتھا پائی ہوئی، کرسیاں چلیں۔ اس دوران اپوزیشن نے کارروائی کا بائیکاٹ کر دیا۔وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ اور عطا تارڑ بھی ایوان سے اٹھ کر چلے گئے۔
    بعدازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا تھا کہ اعتماد کے ووٹ کے عمل کو بلڈوز کر دیا گیا۔

  • اسمبلی تحلیل کرنا یا نہ کرنا ایک سیاسی فیصلہ ہے،بیرسٹرعلی ظفر

    اسمبلی تحلیل کرنا یا نہ کرنا ایک سیاسی فیصلہ ہے،بیرسٹرعلی ظفر

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب میں کئی روز سے جاری بحران آج ختم ہوا ہے، عدم اعتماد کے ووٹ کی کہانی کا سلسلہ ایک بار پھر آج ختم ہوا تا ہم دوبارہ سیاسی سرگرمیاں تیز ہو سکتی ہیں

    گورنر پنجاب بلیغ الرحمان نے وزیراعلیٰ پرویز الٰہی کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا حکم واپس لے لیا،عدالت نے گورنر پنجاب کی جانب سے وزیراعلیٰ کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا حکم معطل کردیا، عدالتی فیصلے کے بعد ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جو پرویز الہی نے حلف دیا تھا وہ کیس کی سماعت تک تھا ،یہ سب کو سمجھ آجانی چاہیئے کہ آئین سب سے اوپر ہے پرسنل سکورنگ نہیں ہونی چاہیئے ، وزیر اعلی اور کیبنٹ کے خاتمے کا نوٹیفکیشن سیٹ آسائیڈ کردیا گیا ہے گورنر پنجاب کو ان کی غلطی کا احساس ہوا تو انہوں نے اپنا حکم واپس لیا جو اچھی بات ہے سیاسی معاملات ایوانوں میں ہی حل ہونے چاہییے وزیر اعلی کا حق ہے کہ جب مرضی اسمبلی توڑ سکتا ہے اگر اعتماد کے ووٹ کی تحریک آجائے تو اعتماد کا ووٹ لینا ضروری ہوگا،

    وزیراعلی پرویزالہی کے وکیل علی ظفرنے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی حکم کے مطابق وزیر اعلی اور ان کی کابینہ آگئی ہے اسمبلیاں توڑنے کا جو حلف دیا تھا وہ ختم ہوگیا ہے ۔گورنر نے اچھا کیا کہ غلطی مان لی پوری قوم کو مبارکباد دینا چاہتا ہوں کہ آج آئین کی جیت ہوئی ہے عدالت نے کہا ہے کہ عدم اعتماد ہوگیا ہے تو وہ معاملہ ختم ہوگیا ہے گورنر کے آرڈر کو چیلنج کیا تھا عدالت فیصلہ کرنے والی تھی گورنر نے نوٹیفیکیشن واپس لے لیا ہے اس کا مطلب گورنر نے غلطی مان لی ہے ،چیف سیکریٹری کے نوٹیفیکیشن کو بھی کالعدم قرار دے دیا گیا ہے،عدالت کا تفصیلی فیصلہ پڑھنے کے بعد اس پر مزید بات ہوسکتی ہے وزیراعلیٰ پنجاب اور کابینہ دوبارہ اپنی جگہ بحال ہوگئی ہے،اسمبلی تحلیل کرنا یا نہ کرنا ایک سیاسی فیصلہ ہے،جب اپوزیشن کے مطلوبہ ووٹ نہیں تھے تو انہوں نے عدم اعتماد واپس لی

    عثمان بزدار کے گرد گھیرا تنگ،مبشر لقمان نے بطور وزیر بیورو کریسی کیلئے کیسے سٹینڈ لیا تھا؟ بتا دیا

     پنجاب میں سال 2022 کے دوران سیاسی کشیدگی عروج پر رہی،

    نیب قانون میں اپوزیشن کی جانب سے ترامیم کا مسودہ، قریشی نے کھری کھری سنا دیں، کہا تحریک انصاف کیلئے یہ ممکن نہیں

    عدم اعتماد، پرویز الہیٰ کیوں کامیاب ہوا؟ نواز شریف برہم

  • عدم اعتماد، پرویز الہیٰ کیوں کامیاب ہوا؟ نواز شریف برہم

    عدم اعتماد، پرویز الہیٰ کیوں کامیاب ہوا؟ نواز شریف برہم

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب اسمبلی میں اعتماد کا ووٹ لینے میں وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الہیٰ کامیاب ہو گئے ہیں.

    پرویز الہیٰ نے گزشتہ شب پنجاب اسمبلی میں عدم اعتماد جمع ہونے کے بعد ووٹ لے لیا، پرویز الہیٰ نے 186 ووٹ حاصل کئے، اپوزیشن نے اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا تھا، ن لیگ جوڑ توڑ کر رہی تھی تا ہم ن لیگ کو کامیابی نہیں ہو سکی،گزشتہ روز رانا ثناء اللہ نے بیان دیا تھا کہ اب پنجاب حکومت تبدیل کروا کر ہی اسلام آباد جاؤں گا تا ہم وہ مشن میں کامیاب نہ ہو سکے، تحریک انصاف کی جانب سے 186 ووٹ پورے ہونے پر لندن میں مقیم سابق وزیراعظم نواز شریف نے اظہار برہمی کیا ہے اور پارٹی رہنماؤ‌ں سے رپورٹ طلب کی ہے کہ ایسا کیوں ہوا ہے؟ نواز شریف ن لیگ کی صوبائی قیادت پر شدید برہم ہوئے،

    میڈیا رپورٹس کے مطابق پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف نے استفسار کیا کہ پارٹی قیادت کو آگاہ کیا گیا تھا کہ تحریک انصاف کے کم از کم 7 ناراض اراکین پی ڈی ایم سے رابطوں میں ہیں ناراض اراکین کیسے ووٹنگ کے لئے پہنچ گئے انہیں مینیج کیوں نہیں کیا جا سکا۔ ن لیگ پنجاب کے صدر، وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے نواز شریف اور مریم نواز کو معاملے پر ابتدائی رپورٹ پیش کرتے ہوئے مریم نواز کی فوری وطن واپسی کی تجویز دے دی، رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ مریم نواز فوری وطن واپس نہیں آتی تو پارٹی کو نقصان ہو سکتا ہے، ضروری ہے کہ مریم نواز فوری وطن واپس آئیں اور پارٹی کو سنبھالیں،

    وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ ہائوس میں جانے سے کسی کو بھی اندر جانےسے روکا جا سکتا،

    گیٹ پر سکیورٹی اسٹاف اور اسمبلی ارکان کے درمیان دھکم پیل ہوئی

    عثمان بزدار کے گرد گھیرا تنگ،مبشر لقمان نے بطور وزیر بیورو کریسی کیلئے کیسے سٹینڈ لیا تھا؟ بتا دیا

     پنجاب میں سال 2022 کے دوران سیاسی کشیدگی عروج پر رہی،

    نیب قانون میں اپوزیشن کی جانب سے ترامیم کا مسودہ، قریشی نے کھری کھری سنا دیں، کہا تحریک انصاف کیلئے یہ ممکن نہیں

  • گورنر نے وزیر اعلی کو ڈی نوٹی کرنے کا حکم واپس لے لیا

    گورنر نے وزیر اعلی کو ڈی نوٹی کرنے کا حکم واپس لے لیا

    پرویز الٰہی کو ڈی نوٹی کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت دوبارہ ہوئی

    گورنر کے وکیل منصور عثمان نے دلائل دیئے، وکیل گورنر نے کہا ہے کہ گورنر سے رابط ہو گیا ہے ،گورنر نے اعتماد کے ووٹ کی تصدیق کردی ہے ،گورنر نے وزیر اعلی کو ڈی نوٹی کرنے کا حکم واپس لے لیا ہے ،جسٹس عابد عزیز شیخ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ گورنر نے اپنا نوٹیفکیشن واپس لے لیا ہے تو پھر معاملہ ہی ختم ہوگیا ہے ،آپ نے اپنی اسمبلی کے اندر یہ معاملہ حل کرلیا ہے جو اچھی چیز ہے ،سب کچھ آئین اور قانون کے مطابق ہوگیا ہے،ہم تو چاہتے ہیں ایسے معاملات میں عدالت کی مداخلت کم سے کم ہونی چاہیے ،

    عدالت نے گورنر پنجاب کے وکیل کے جواب کے بعد فیصلہ لکھوانا شروع کر دیا، جسٹس عابد عزیز شیخ نے کہا کہ عدالت نے گورنر پنجاب کیجانب سے وزیر اعلی کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا حکم معطل کیا، پنجاب اسمبلی میں وزیر اعلی نے 12 جنوری کو اعتماد کا ووٹ حاصل کیا، وزیر اعلی پنجاب نے آئین کے آرٹیکل 137 کے سب سیشن 7 کے تحت اعتماد کا ووٹ حاصل کیا، اعتماد کے ووٹ کا نتیجہ گورنر پنجاب نے مان لیا ہے، گورنر کے وکیل منصور اعوان نے گورنر پنجاب کیجانب سے اسٹیمنٹ عدالت میں دی،معاملہ عدالت میں آنے پر اسمبلی فلور پر حل ہوگیا سارا کچھ آئین کے مطابق حل ہو گیا گورنر نے آئین کے مطابق آرڈر جاری کیا ۔پرویز الٰہی نے گورنر کے آرڈر پر اعتماد کا ووٹ لے لیا ۔اگر سپیکر گورنر کی ایڈوائس پر اجلاس میں معاملہ حل کر لیتے رواج ایسی صورت حال نہ ہوتی۔لاہور ہائیکورٹ کے فل بینچ نے وزیر اعلی پنجاب کی درخواست نمٹا دی ،عدالت نے وزیر اعلی پنجاب اور کابینہ کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا اقدام کالعدم قرار دے دیا

    تحریک انصاف کا پنجاب اسمبلی سے بھی استعفوں پرغور

    نیب قانون میں اپوزیشن کی جانب سے ترامیم کا مسودہ، قریشی نے کھری کھری سنا دیں، کہا تحریک انصاف کیلئے یہ ممکن نہیں

    وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ ہائوس میں جانے سے کسی کو بھی اندر جانےسے روکا جا سکتا،

    گیٹ پر سکیورٹی اسٹاف اور اسمبلی ارکان کے درمیان دھکم پیل ہوئی

    عثمان بزدار کے گرد گھیرا تنگ،مبشر لقمان نے بطور وزیر بیورو کریسی کیلئے کیسے سٹینڈ لیا تھا؟ بتا دیا

     پنجاب میں سال 2022 کے دوران سیاسی کشیدگی عروج پر رہی،

  • گورنر پنجاب کے اعتماد کے ووٹ کا مسئلہ حل ہوگیا. لاہور ہائی کورٹ

    گورنر پنجاب کے اعتماد کے ووٹ کا مسئلہ حل ہوگیا. لاہور ہائی کورٹ

    گورنر پنجاب کے اعتماد کے ووٹ کا مسئلہ حل ہوگیا. لاہور ہائی کورٹ

    اسپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان نے وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی کے اعتماد کے ووٹ کے نتائج پر مشتمل جواب لاہور ہائیکورٹ میں جمع کرادیا، جسٹس عاصم حفیظ نے ریمارکس دیے کہ گورنر پنجاب کے اعتماد کے ووٹ کا مسئلہ حل ہوگیا،اب اس پر اعتراض نہیں بنتا۔ جسٹس عابدعزیزشیخ کی سربراہی میں لاہور ہائیکورٹ کے 5 رکنی بینچ نے گورنر پنجاب کی جانب سے وزیر اعلیٰ اور کابینہ کو ڈی نوٹیفائیڈ کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت کی۔ وزیراعلیٰ پنجاب کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی مسئلہ حل ہوگیا، 186 ارکان نے پرویز الہٰی پر اعتماد کا اظہار کیا، وزیر اعلیٰ نے رات گئے اعتماد کا ووٹ حاصل کرلیا۔

    جسٹس عابد عزیز شیخ نے بیرسٹر علی ظفر سے استفسار کیا کہ کتنے ارکان تھے رات کو پنجاب اسمبلی میں؟جس پر علی ظفرنے بتایا کہ 186 ارکان نے پرویز الہٰی پر اعتماد کا اظہار کیا، 186 ارکان کی ہی ضرورت ہوتی ہے۔ اسپیکرپنجاب اسمبلی نےاعتمادکےووٹ کےنتائج پرمشتمل جواب عدالت میں جمع کرادیا۔ جواب میں کہا گیا ہے کہ صوبائی وزرااسلم اقبال اور راجہ بشارت نےاعتمادکےووٹ کی قرار داد پیش کی ، بطوراسپیکر اعتماد کے ووٹ کے لئے نیا اجلاس بلاکر کارروائی کی، وزیراعلیٰ پنجاب کو 186 ارکان نے اعتماد کا ووٹ دیا، اکثریتی ووٹ لینے پر چوہدری پرویز الہٰی وزیراعلیٰ کے عہدے پر برقرارہیں۔

    اسپیکر پنجاب اسمبلی کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن پڑھ کر سنایا گیا۔ جسٹس عاصم حفیظ نے ریمارکس دیے کہ گورنر پنجاب کے اعتماد کے ووٹ کا مسئلہ حل ہوگیا، گورنر پنجاب کا اب اس پر اعتراض نہیں بنتا۔ اٹارنی جنرل منصور اعوان نے کہا کہ تسلیم کرتے ہیں اسمبلی کے معاملات میں گورنر مداخلت نہیں کرسکتا۔

    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ 19 دسمبر کے گورنر کے حکم کو پورا کر دیا ہے، اس پر نہیں جاتا کہ وہ حکم درست تھا یا نہیں۔ جسٹس عاصم حفیظ نے کہا کہ ابھی ہم نے کوئی فیصلہ نہیں کیا ہوتا، ٹی وی میں رات 8 سے 9 بجے میں بتا دیا جاتا ہے کہ فیصلہ کیا ہوگا، یہ طریقہ بہت اسٹرینج ہے۔ جسٹس عابد عزیز شیخ نے ریمارکس دیے کہ آپ ووٹ لے لیتے ہیں تو گراؤنڈ کی کوئی حیثیت نہیں رہتی، آپ نے آرٹیکل 137 کے تحت اعتماد کا ووٹ لیا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    لیپ ٹاپ گم ہونے پر گاہک نےغصے میں اپنی کار ہوٹل پر دے ماری
    نادیہ خان 38 ہزار ڈالرز گنوا بیٹھیں. اداکارہ نے دلچسپ واقعہ سنا کر حیران کر دیا
    جسٹس عاصم حفیظ نے کہا کہ آپ نے اس کے حکم کو غیر قانونی قرار دیا، پھر آپ نے گورنر کے حکم پر اعتماد کا ووٹ لیا۔ جسٹس عابد عزیز شیخ نے ریمارکس دیے کہ ہم پہلے ہی چاہتے تھے اسمبلی کا مسئلہ وہیں پر حل ہو، وزیراعلیٰ نے اعتماد کا ووٹ لے لیا اب دوسرے حکم کو کالعدم قرار دے دیتے ہیں، پہلے حکم پر نہیں جاتے، دوسرے معاملے کو دیکھ لیتے ہیں۔ جسٹس عابد عزیز شیخ نے مزید کہا کہ اب ہمارے سامنے تین سوال ہیں، پہلا گورنر کی تسلی، دوسرا ووٹنگ کے لئے مناسب وقت اور تیسرا سوال کیا رولز 22 کے تحت سیشن کے دوران اعتماد کا ووٹ لیا جا سکتا ہے۔