Baaghi TV

Tag: politics

  • عمران خان کو مارنے کی سپاری:اصل کہانی کیا ہے:ارشد شریف کے خون کا سودا ہوگیا

    عمران خان کو مارنے کی سپاری:اصل کہانی کیا ہے:ارشد شریف کے خون کا سودا ہوگیا

    لندن:پاکستان کی معاشی اورسیاسی صورت حال پرلندن سے تبصروں اور تجزیوں کے ساتھ سینئرصحافی مبشرلقمان پچھلے کئی دنوں سے حقائق بیان کررہے ہیں، مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ اس وقت میں لندن میں جہاں سے ہوائی جہازاڑتے دکھائی دیتے ہیں وہاں موجود ہیں اور مجھے برطانیہ کا جہاں موسم نظرآرہا ہے وہاں برطانیہ کی معاشی ،سیاسی اورامن اومان کی صورت حال بھی میرے سامنے ہے

     

    مبشرلقمان کا کہنا ہےکہ ان کی اہم برطانوی شخصیات سے ملاقاتیں ہوئی ہیں اوران ملاقاتوں سے یہ بات اچھی طرح عیاں ہورہی ہےکہ برطانیہ بھی اس وقت سخت مشکل میں ہے لیکن اس کے باوجود لندن میں کسی کی کوئی سیکورٹی نہیں ، جبکہ ہمارے ہاں تو سیاستدانوں کی سکیورٹی پرپولیس کے دستے تعینات ہوتے ہیں ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ دور نہ جائیں عمران خان کی سیکورٹی پراڑھائی ہزار پولیس والے تعینات تھے کم کیے توملک کی سیکورٹی خطرے میں پڑجاتی ہے

    پرویزالہی اور فواد چوہدری کے درمیان کیا الزام تراشیاں جاری ہیں‌، ہر کوئی جانتا ہے ، ان کا کہنا تھا کہ اس وقت خود پی ٹی آئی والے آپ میں الجھ رہےہیں اور
    اس موقع پر یہ بھی بتا دوں کہ آنےوالے دنوں میں ایک بہت ہی اہم آڈیو آنے والی ہے ، جس میں بڑے بڑے اہم انکشافات سامنے آئیں گے ،مبشرلقمان نے سابق سینئر صحافی ارشد شریف کی شہادت پر اپنے جزبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ارشد شریف ہمارے درمیان نہیں ہے ، مگردکھ کی بات یہ ہے کہ ارشد شریف کوعمران خان بھول گئے ، اس کی ماں اس کے بچے کہاں گئے ، وہ سلمان اقبال جو کہتا تھا کہ وہ تحقیقاتی ٹیم کوہرقسم کی مدد فراہم کرے گا مگروہ بھی تعاون نہیں کررہا

    مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ کینیا میں موجود وقار اور اس کے بھائی کا نام کیوں نکالا گیا ، ان کو کون تحفظ دے رہا ہے ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ارشد شریف ایک بہت بڑے صحافی تھے مگران کے ساتھ جو ظلم ہوا وہ کبھی بھی نہیں بھولے گا ، مبشرلقمان نے مزید کہا جے آئی ٹی بنی ہے اور پھر سپریم کورٹ اوراس جے آئی ٹی میں شامل لوگوں نے کیا کیا ہے اب تو معاملہ ویسے ہی دبا دیا گیا ہے، ان کا مزید کہنا تھا کہ ارشد شریف کے قتل سے سی ایم کے پی کا کیاتعلق ہے، جنرل فیض حمید کا کیا تعلق ہے

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مجھے ایک شخص نے سول ایوی ایشن میں کرپشن کے بارے میں بتایا اور ساتھ ہی کہا کہ اس کا نام نہیں آنا چاہیے ، ان کا کہنا تھا کہ نام کیوں کیا ہمارے یعنی صحافیوں کےنام آتے رہیں ، سب کا پاکستان ہے سبکی ذمہ داری ہے آگے بڑھیں اور کرپشن کے خلاف نکلیں

    ان کا مزید کہنا تھاکہ اب تو صورت حال ہے کہ اسحاق ڈار کے خلاف ڈالراوپرجائے تو اس کے خلاف مہم شروع کردیتے ہیں اور ڈالرخود چھپا کررکھے ہیں‌، ایسے ہی اگرادارے کچھ کرنا چاہیں تو پھر ہم ان اداروں کےخلاف ہوجاتے ہیں اور اگرہمارے حق میں ہوں تو ہم پھر اداروں کے حق میں ہوجاتے ہیں ،ہمیں اپنے رویے پرنظرثانی کرنی چاہیے

  • آج فواد چوہدری بھی عدالت میں رو پڑے،اہلیہ فواد

    آج فواد چوہدری بھی عدالت میں رو پڑے،اہلیہ فواد

    تحریک انصاف کے گرفتار رہنما فواد چودھری کی اہلیہ نے اپنے شوہر کی عدالت پیشی کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج فواد چوہدری بھی عدالت میں رو پڑے

    حبا چودھری کا کہنا تھا کہ اج فواد چوہدری کو سیشن کورٹ بلایا گیا تھا فواد چوہدری کے لیے پہلے بکتر بند گاڑی بھیجی گئی انہیں یہاں اسے لایا گیا ہے جیسے دہشتگرد کو لایا گیا ہے انہیں فیملی سے ملوانے نہیں ملوایا گیا ان کی دو بچیاں باپ سے اتنے دنوں سے نہیں ملیں عدالت نے کہا کہ بخشی خانے میں فیملی اور بچیوں کو ملوایا جائے لیکن ہمیں نہیں پتہ کہ وہ کہاں لے گئے ہیں آج فواد چوہدری بھی عدالت میں رو پڑے مجھے اور بچیوں کو فواد چوہدری سے نہیں ملوایا رہا،میری چیف جسٹس اور وزیر اعلی پنجاب سے درخواست ہے کہ ہمیں ملوایا جائے،

    تحریک انصاف کے رہنما قاسم سوری نے کہا کہ فواد چوہدری نے خود مانا ہے کہ ایسا میں نے کہا ہے لیکن حکومت کہ رہی ہے کہ نہیں میں نے فرانزک کرانا یے پیشی کے بعد ان کے منہ پر کپڑا ڈال کر لے جایا گیا ہے تنقید کا حق ہر شہری کو دیا گیا ہے

    ایف ایٹ کچہری میں پی ٹی ائی رہنما حماد اظہر نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ آج اسلام اباد کچہری میں عجیب و غریب دیکھنے کو ملا ہے معزز جج نے کل جسمانی ریمانڈ مسترد کیا اج اس کے خلاف ایک درخواست دائر کی ہم کس طرف جا رہے ہیں کہ اب توہین الیکشن کمیشن میں لوگ پکڑے جائیں

    علاوہ ازیں پاکستان تحریک انصاف لاہور کے سٹیک ہولڈر کا اہم اجلاس پارٹی دفتر میں منعقد ہوا، اجلاس کی صدارت پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل اسد عمر نے کی ،زمان پارک میں پارٹی چیئرمین عمران خان کی سیکورٹی بارے بات چیت سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال کیا ، اس موقع پر اسد عمر کا کہنا تھا کہ پارٹی چیئرمین عمران خان کی سکیورٹی کو ہر صورت یقینی بنائیں گے پارٹی رہنماؤں کو اہم ذمہ داریاں سونپی دیگی عمران خان ہماری ریڈ لائن ہے عمران خان ملک کو بچانے کی جنگ لڑ رہے ہیں امپورٹڈ حکمران ٹولہ خوشحال اور عوام بدحال ہو چکے ہیں حکمرانوں کو عام آدمی کی کوئی فکر نہیں حکمرانوں کی ساری توجہ صرف اپنے کرپشن کے کیس ختم کروانے پر لگی ہوئی ہے

    عدالت نے مونس الہٰی کی اہلیہ کے وکیل کو جواب جمع کروانے کیلئے وقت دے دی
    قابل اعتراض مواد جو ہٹا سکتے تھے ہٹا دیا،بیرون ملک مواد کیلئے متعلقہ حکام سے رجوع کیا ہے،پی ٹی اے
    نگراں کابینہ غیرسیاسی اور غیر جانبدارہوگی، شوکت یوسفزئی
    پابندیوں کے باوجود پاکستان روس سے تیل خرید سکتا ہے. امریکہ
    نگراں کابینہ غیرسیاسی اور غیر جانبدارہوگی، شوکت یوسفزئی

    تحریک انصاف کے رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا کہ پی ٹی آئی کے جانثار کارکنان ہر وقت عمران خان کی حفاظت کے لیے موجود ہے حکومت ایسے بے لوث جذبے کو شکست نہیں دے سکتی تحریک انصاف امپورٹڈ حکومت کے تمام اوچھے ہتھکنڈوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گی ملک کو تباہ کرنے میں پی ڈی ایم حکومت نے کوئی کسر نہیں چھوڑی پارٹی چیئرمین عمران خان کی گرفتاری پر پی ٹی آئی بھرپور مزاحمت کرے گی امپورٹڈ حکومت ملک میں مہنگائی کا طوفان لے کر آئی ہے حکومت اپنی تمام نااہلی اور ناکامیوں کا بوجھ غربت کی چکی میں پسی عوام پر ڈال رہی ہے

  • عمران خان بیان واپس لیں ورنہ قانونی کاروائی کیلئے تیار رہیں، پیپلز پارٹی

    عمران خان بیان واپس لیں ورنہ قانونی کاروائی کیلئے تیار رہیں، پیپلز پارٹی

    پیپلز پارٹی کے رہنما سید نیئر بخاری نے وفاقی وزیر قمر زمان کائرہ اور فرحت اللہ بابر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کی طرف سے الزام تراشییوں کا سلسلہ پرانا نہیں عمران یو ٹرن لینے کی بجائے قلابازیاں کھا رہا ہے

    نیئر بخاری کا کہنا تھا کہ عمران خان کی سیاست دفن ہو چکی ہے عمران خان کے خلاف قانونی نوٹس بھیجیں گے عمران خان کے بیان پر اپنا موئقف دینا چاہتے ہیں عمران نے جو الزام لگائے وہ اس کی عادت ہے ان الزامات کا کوئی ثبوت اس کے پاس نہیں ہے عمران خان کے تمام الزامات بے بنیاد ہیں جو سیاسی طور پر مر چکا ہے وہ ڈپریشن کا شکار ہے ڈپریشن میں وہ ہر کسی پر الزام لگا تا ہے پی پی پی عمران خان کو لیگل نوٹس دے گی اگر عمران خان اپنا بیان واپس نہیں لیتا تو ہم اگلی کارروائی کرینگے،

    وفاقی وزیر قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ عمران خا ن نے ہمیشہ دوسروں پر الزامات لگائے،عمران خان کی سیاست جمہوری نہیں ہے،عمران خان نے پیپلزپارٹی قیادت پر سنگین الزام لگایا،عمران خان نے کہا کہ دہشتگرد تنظیم کو میرے اوپرحملے کیلئے پیسے دیئے گئے،ملک جب بھی مشکل دور سے گزررہاہوتا ہے عمران خان نے غیرذمہ داری کامظاہرہ کیا، عمران خان کے الزامات کی انکوائری ہونی چاہیے، عمران خان کے اس الزام کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں عمران خان نے انتہائی گھٹیا اور بیہودہ الزامات لگائے ہیں، ہم ان بیہودہ الزامات کے خلاف کورٹ جائیں گے٬ عمران خان کے ان گھٹیا الزامات کے باعث آصف علی زرداری کی زندگی کو خطرات لاحق ہوگئے ہیں٬عمران خان کیخلاف جھوٹا الزام کا مقدمہ دائر کریں گے، ہماری پارٹی کے کسی کارکن یا قیادت پر حملہ ہوا تو اس کاذمہ دارکون ہوسکتا ہے؟ اگر عمران خان کے پاس مصدقہ اطلاعات ہیں تو اداروں کو دیں،اگر مصدقہ اطلاعات یا ثبوت نہیں ہیں تو عمران خان کو قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا

    خواتین کی تصاویر اور ویڈیوز بنانے والے اوباش ملزمان گرفتار

    حکومت پورے ادارے کو آگ لگانے کی دھمکی لگا رہی،کوئی پوچھنے والا نہیں، مریم

    نو سالہ بچی سے زیادتی کی کوشش کرنیوالا سگا پھوپھا گرفتار

    خواتین کو دست درازی سے بچانے کیلئے سی سی پی او لاہور میدان میں آ گئے

    مریم نواز نکلیں گی، ہم ہر صورت یہ کام کریں گے، مریم اورنگزیب کا چیلنج

    بطور جانشین مشن کو آگے بڑھانے کا ذمہ دار ہوں،بلاول

    آصفہ بھٹو مریم نواز پر پہلے روز ہی بازی لے گئی

  • سندھ ہائیکورٹ میں گریڈ 1 سے 15 تک کے 1500 ملازمین کو مستقل کرنے کیخلاف درخواست

    سندھ ہائیکورٹ میں گریڈ 1 سے 15 تک کے 1500 ملازمین کو مستقل کرنے کیخلاف درخواست

    سندھ ہائیکورٹ میں گریڈ 1 سے 15 تک کے 1500 ملازمین کو مستقل کرنے کیخلاف درخواست

    سندھ ہائیکورٹ نے گریڈ 1 سے 15 تک کے 1500 ملازمین کو مستقل کرنے کیخلاف درخواست پر متعلقہ افسران کو سیکریٹری کے ساتھ بیٹھ کر معاملات حل کرنے کی ہدایت کردی۔ جسٹس محمد اقبال کلہوڑو کی سربراہی میں دو رکنی بینچ کے روبرو گریڈ 1 سے 15 تک کے 1500 ملازمین کو مستقل نہ کرنے سے کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔ مختلف محکموں میں تعینات کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل نہ کرنے پر عدالت سندھ حکومت پر برہم ہوگئی۔

    جسٹس محمد اقبال کلہوڑو نے ریمارکس دیئے کہ سندھ حکومت کیا کر رہی ہے؟ کچھ لوگوں کو کنٹریکٹ پر سرکاری ملازمت دیتے ہیں اور کچھ کو مستقل کر دیتے ہیں۔ ڈائریکٹر کرکولیم نے بتایا کہ سابق ڈائریکٹر نے غلط بھرتیاں کی تھیں۔ جسٹس محمد اقبال کلہوڑو نے ریمارکس دیئے کہ وہ ڈائریکٹر تو اب اے سی والے کمرے میں آرام کر رہا ہوگا، بیچارے غریب ملازم رل رہے ہیں۔ یہ انصاف نہیں ہے اور ہم آپ کو ناانصافی کرنے بھی نہیں دیں گے۔ یہاں لوگ بیروزگاری کی وجہ سے خودکشیاں کر رہے ہیں۔ سرکاری افسران اپنے رشتے داروں کو فیور دیتے ہیں اور غریب کے بچوں کے ساتھ امتیازی سلوک کر رہے ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں
    بجلی بریک ڈاؤن پر نئی رپورٹ نے حکومتی بیانات کا بھانڈا پھوڑ دیا
    ہماری طرف آئیں ہم اچھے میزبان ہیں آپ کو دکھائیں گےکہ ہم کیسے نظر آتے ہیں،عدنان صدیقی کا بھارتی فلم ’مشن مجنوں‘ پر ردعمل
    عدالت نے مونس الہٰی کی اہلیہ کے وکیل کو جواب جمع کروانے کیلئے وقت دے دی
    قابل اعتراض مواد جو ہٹا سکتے تھے ہٹا دیا،بیرون ملک مواد کیلئے متعلقہ حکام سے رجوع کیا ہے،پی ٹی اے
    نگراں کابینہ غیرسیاسی اور غیر جانبدارہوگی، شوکت یوسفزئی
    پابندیوں کے باوجود پاکستان روس سے تیل خرید سکتا ہے. امریکہ
    نگراں کابینہ غیرسیاسی اور غیر جانبدارہوگی، شوکت یوسفزئی
    جسٹس محمد اقبال کلہوڑو نے کہا کہ ہر عمل کا ردعمل ہوتا ہے، لوگوں کی زندگیوں کے ساتھ نہ کھیلیں۔ ہمیں بتائیں ان کو ریگیولر کیوں نہیں کیا جارہا؟ جو ریگیولر ملازمین رکھ رہے ہیں کیا وہ آسمان سے پریاں لے کر آئیں گے۔ یا تو سب کے لئے ایک پالیسی رکھیں کے ہم صرف کنٹریکٹ پر بھرتیاں کریں گے۔ ان کو 3 سال کنٹریکٹ پر رکھا، عمر بڑھ گئی ان کی اب یہ نا یہاں کے رہے نا وہاں کے۔ عدالت نے ڈائریکٹر کو سیکریٹری کے پاس جاکر بیٹھ کر درخواستگزاروں کا مسئلہ حل کرنے کی ہدایت کردی۔ عدالت نے ریمارکس دیئے اگر ان کا معاملہ حل نہیں کر رہے تو ہم حکمنامہ جاری کریں گے، پھر سب کے لئے مسئلہ ہوجائے گا۔ عدالت نے درخواست کی سماعت دوہفتوں کے لیے ملتوی کردی۔

  • آئین میں لکھا ہے گورنر 90 دن کے اندر الیکشن کی تاریخ دے گا پھر دیر کیوں؟ تیمور سلیم جھگڑا

    آئین میں لکھا ہے گورنر 90 دن کے اندر الیکشن کی تاریخ دے گا پھر دیر کیوں؟ تیمور سلیم جھگڑا

    آئین میں لکھا ہے گورنر 90 دن کے اندر الیکشن کی تاریخ دے گا پھر دیر کیوں؟ تیمور سلیم جھگڑا

    تیمور سلیم جھگڑا کے ساتھ کی گئی پریس کانفرنس میں شوکت یوسفزئی نے کہا کہ نگراں وزیراعلیٰ ایسے فیصلے کریں جس سے خیبرپختونخوا کو فائدہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ گورنر کہتا ہے الیکشن کی تاریخ دینا میرا کام نہیں، جبکہ الیکشن کمیشن کہتا ہے گورنر الیکشن کی تاریخ دے۔ ملکی معشیت پر بات کرتے ہوئے شوکت یوسفزئی نے کہا کہ آئی ایم ایف و دیگر ممالک اس حکومت کو سنجیدہ ہی نہیں لے رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈالر کی قیمت بڑھنے سے ملک میں مہنگائی کا طوفان آئے گا، موجودہ حکمرانوں کو فوری مستعفی ہوجانا چاہئے۔

    میڈیا سے گفتگو میں پی ٹی آئی رہنما تیمور سلیم جھگڑا نے کہا کہ جمہوریت معاشی ایمرجنسی اور سیکیورٹی سے نہیں جڑی ہوئی، جمہوریت کا مطلب آئین پر عمل درآمد کرنا ہے ان کا کہنا تھا کہ آئین کہتا ہے اسمبلی تحلیل کے بعد 90 روز میں الیکشن کرانا ہوں گے، آئین میں لکھا ہے کہ گورنر 90 دن کے اندر الیکشن کی تاریخ دے گا۔ تیمور سلیم جھگڑا نے کہا کہ جس نے الیکشن میں تاخیر کی اس کا نام جسٹس منیر کی طرح تاریخ میں یاد رکھا جائے گا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں
    بجلی بریک ڈاؤن پر نئی رپورٹ نے حکومتی بیانات کا بھانڈا پھوڑ دیا
    ہماری طرف آئیں ہم اچھے میزبان ہیں آپ کو دکھائیں گےکہ ہم کیسے نظر آتے ہیں،عدنان صدیقی کا بھارتی فلم ’مشن مجنوں‘ پر ردعمل
    عدالت نے مونس الہٰی کی اہلیہ کے وکیل کو جواب جمع کروانے کیلئے وقت دے دی
    قابل اعتراض مواد جو ہٹا سکتے تھے ہٹا دیا،بیرون ملک مواد کیلئے متعلقہ حکام سے رجوع کیا ہے،پی ٹی اے
    نگراں کابینہ غیرسیاسی اور غیر جانبدارہوگی، شوکت یوسفزئی
    پابندیوں کے باوجود پاکستان روس سے تیل خرید سکتا ہے. امریکہ
    نگراں کابینہ غیرسیاسی اور غیر جانبدارہوگی، شوکت یوسفزئی
    ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی جمہوریت اور معیشت کے ساتھ نہ کھیلیں، تین ارب ڈالر کا نقصان پچھلے تین مہینوں میں ہوا، ایل سیز بند ہونے کی وجہ سے جانوں کے ساتھ کھیلا جارہا ہے، ملک میں کینسر کی ادویات نہیں ہیں، ایکسرے کی فلمز ختم ہوگئی ہیں۔ تیمور سلیم جھگڑا نے کہا کہ ان حالات سے تو بہتر ہوتا 9 ماہ پہلے الیکشن کرواتے۔

  • الیکشن شیڈول جاری نہ کرنے پر عدالت میں گورنر پنجاب کو عہدے سے ہٹانے کیلئے درخواست دائر

    الیکشن شیڈول جاری نہ کرنے پر عدالت میں گورنر پنجاب کو عہدے سے ہٹانے کیلئے درخواست دائر

    الیکشن شیڈول جاری نہ کرنے پر عدالت میں گورنر پنجاب کو عہدے سے ہٹانے کیلئے درخواست دائر

    پنجاب میں انتخابات کا شیڈول جاری نہ کرنے اور گورنر کو عہدے سے ہٹانے کے لئے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائرکردی گئی ہے۔ درخواست جوڈیشل ایکٹوازم پینل کے سربراہ اظہر صدیق کی جانب سے دائر کی گئی ہے جس میں الیکشن کمیشن، گورنر پنجاب اور پنجاب حکومت فریق بنایا گیا ہے۔

    درخواست میں مؤقف پیش کیا ہے کہ اسمبلیوں کی تحلیل کے90 دن میں انتخابات کرانا آئینی تقاضا ہے پنجاب اسمبلی کی تحلیل کے باوجود انتخابی شیڈول جاری نہ ہوا اور صاف وشفاف انتخابات کیلئے انتخابی شیڈول کا اجراجمہوری اساس ہے۔ آرٹیکل 105 کے برعکس گورنربدنیتی کی بناپرانتخابی شیڈول جاری نہیں کررہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں
    بجلی بریک ڈاؤن پر نئی رپورٹ نے حکومتی بیانات کا بھانڈا پھوڑ دیا
    ہماری طرف آئیں ہم اچھے میزبان ہیں آپ کو دکھائیں گےکہ ہم کیسے نظر آتے ہیں،عدنان صدیقی کا بھارتی فلم ’مشن مجنوں‘ پر ردعمل
    عدالت نے مونس الہٰی کی اہلیہ کے وکیل کو جواب جمع کروانے کیلئے وقت دے دی
    قابل اعتراض مواد جو ہٹا سکتے تھے ہٹا دیا،بیرون ملک مواد کیلئے متعلقہ حکام سے رجوع کیا ہے،پی ٹی اے
    نگراں کابینہ غیرسیاسی اور غیر جانبدارہوگی، شوکت یوسفزئی
    پابندیوں کے باوجود پاکستان روس سے تیل خرید سکتا ہے. امریکہ
    نگراں کابینہ غیرسیاسی اور غیر جانبدارہوگی، شوکت یوسفزئی
    مزید کہا کہ عدالت گورنر پنجاب کو انتخابی شیڈول جاری کرنے کا حکم دے، حلف کی خلاف ورزی پر گورنر کو عہدے سے ہٹانے کے احکامات صادر کئے جائیں۔ جبکہ خیال رہے کہ گزشتہ 27 دسمبر 2022 کو ورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمان کو عہدے سے ہٹانے کے لئے بھی لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی جبکہ درخواست مقامی وکیل شبیر اسماعیل نے اظہر صدیق ایڈووکیٹ کی وساطت سے دائر کی، جس میں درخواست گزار کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ گورنر پنجاب بغیر کسی وجہ کے اعتماد کے ووٹ کا نہیں کہہ سکتے، اس کے علاوہ گورنر جاری اجلاس میں بھی اعتماد کے ووٹ کا تقاضا نہیں کرسکتے جب کہ اعتماد کے ووٹ کے لئے 4 سے 7 روز درکار ہوتے ہیں۔

    آئینی درخواست میں کہا گیا تھا کہ ان خلاف ورزیوں کی بنیاد پر صدر پاکستان اور وزیراعظم کو گورنر پنجاب کو ہٹانے کے لیے خط لکھا گیا لیکن صدر پاکستان اور وزیراعظم نے خط کا جواب نہیں دیا اور گورنر پنجاب کے خلاف کوئی ایکشن بھی نہیں لیا گیا، اس لیے عدالت سے استدعا کی جاتی ہے کہ صدر پاکستان اور وزیراعظم کو فوری طور پر گورنر پنجاب کو عہدے سے ہٹانے کی ہدایات جاری کی جائیں۔

  • عمران پیروں کے گھر گیا اور پیرنی لے آیا. کیپٹن صفدر

    عمران پیروں کے گھر گیا اور پیرنی لے آیا. کیپٹن صفدر

    عمران پیروں کے گھر گیا اور پیرنی لے کر آ گیا. کیپٹن صفدر

    کیپٹن صفدر نے کہا ہے کہ نوازشریف نے ہمیشہ ریاست کو اہمیت دی ہے جبکہ عمران خان پیروں کے گھر گیا اور پیرنی لے کر آگیا ہے. لیگی رہنما کیپٹن صفدر نے ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ پیر عمران خان سے یہ کیوں نہیں پوچھتے کہ چھ کلمے آتے ہیں یا نہیں آتے. مسلم لیگ (ن) کے رہنما کیپٹن (ر) صفدر نے کہا ہے کہ نواز شریف نے ہمیشہ سیاست سے زیادہ ریاست کو اہمیت دی لیکن عمران خان پیروں کے گھر گیا اور پیرنی لے کر آگیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں
    بجلی بریک ڈاؤن پر نئی رپورٹ نے حکومتی بیانات کا بھانڈا پھوڑ دیا
    ہماری طرف آئیں ہم اچھے میزبان ہیں آپ کو دکھائیں گےکہ ہم کیسے نظر آتے ہیں،عدنان صدیقی کا بھارتی فلم ’مشن مجنوں‘ پر ردعمل
    عدالت نے مونس الہٰی کی اہلیہ کے وکیل کو جواب جمع کروانے کیلئے وقت دے دی
    قابل اعتراض مواد جو ہٹا سکتے تھے ہٹا دیا،بیرون ملک مواد کیلئے متعلقہ حکام سے رجوع کیا ہے،پی ٹی اے
    نگراں کابینہ غیرسیاسی اور غیر جانبدارہوگی، شوکت یوسفزئی
    پابندیوں کے باوجود پاکستان روس سے تیل خرید سکتا ہے. امریکہ
    نگراں کابینہ غیرسیاسی اور غیر جانبدارہوگی، شوکت یوسفزئی
    لاہورکے علاقے شام نگر کی یوسی 73 میں ورکرز کنونشن سےخطاب کرتے ہوئے کیپٹن ریٹائرڈ صفدر نے کہا ہے کہ کارکنوں کو مریم نواز کی آمد سے امید کی کرن نظر آ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے ہمیشہ سیاست سے زیادہ ریاست کو اہمیت دی ، آج کل خبریں آ رہی ہیں کہ فلاں پیر عمران خان کے ساتھ مل گیا جب کہ عمران خان پیروں کے گھر گیا اور پیرنی لے کر آگیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ پیر عمران خان سے یہ کیوں نہیں پوچھتے کہ چھ کلمے آتے ہیں یا نہیں ۔

  • عمران خان کو پارٹی عہدے سے ہٹانے کا نوٹس،کیس سماعت کیلئے مقرر

    عمران خان کو پارٹی عہدے سے ہٹانے کا نوٹس،کیس سماعت کیلئے مقرر

    لاہور ہائی کورٹ میں عمران خان کو پارٹی سربراہ سے ہٹانے کے لیے الیکشن کمیشن کی کاروائی کے خلاف درخواست سماعت کیلئے مقرر کر دی گئی،

    رجسٹرار ہائیکورٹ آفس نے کازلسٹ جاری کر دی ، جسٹس شاہد بلال حسن کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ 30 جنوری کو سماعت کرے گا بینچ کے دیگر اراکین میں جسٹس شاہد کریم، جسٹس جواد حسن، جسٹس شمس محمود مرزا، جسٹس شہرام سرور شامل ہیں، لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس جواد حسن نے لارجر بینچ بنانے کی سفارش کی تھی۔عمران خان نے الیکشن کمیشن کی کاروائی کو ہائیکورٹ چیلنج کر رکھا ہے

    عمران خان کی جانب سے عدالت میں دائر درخواست میں الیکشن کمیشن کو فریق بنایا گیا یے، چیئرمین تحریک انصاف کی جانب سے دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن اپنے اختیارات سے تجاوز کر کے پارٹی عہدے سے ہٹانے کی کاروائی کر رہا ہے، الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی چیرمین کو عہدے سے ہٹانے کے لئے غیر قانونی طور پر نوٹس جاری کیا، الیکشن کمیشن نے 7 دسمبر 2022 کو خلاف قانون کاروائی کا آغاز کیا، چیرمین تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن کے روبرو اپنے مکمل اثاثے ظاہر کر رکھے ہیں، عدالت الیکشن کمیشن کیجانب سے بھیجیے گئے نوٹس کو معطل کرنے کا حکم دے،عدالت درخواست گزار کی استدعا پر حتمی کاروائی تک الیکشن کمیشن کو کاروائی سے روکنے کا حکم دے،عدالت الیکشن کمیشن کے خلاف قانون اقدام کی کالعدم قرار دے،

    واضح رہے کہ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کی توشہ خانہ ریفرنس میں نااہلی الیکشن کمیشن نےعمران خان کو پارٹی چیئرمین شپ سے ہٹانے کی کارروائی شروع کر دی ہے توشہ خانہ کیس کا فیصلہ آنے کے بعد وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے عمران خان کیخلاف مقدمہ درج کروانے کا اعلان کیا تھا،وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ عمران خان کے خلاف فوجداری مقدمہ درج ہوگا یہ ایسی چوری ہے جس میں مقدمہ درج ہونے سے پہلے ہی سب کچھ ثابت ہے

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

    عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ

  • عمران خان کے تانے بانے دہشت گردوں سے ملتے. شرجیل میمن

    عمران خان کے تانے بانے دہشت گردوں سے ملتے. شرجیل میمن

    عمران خان کے اپنے تانے بانے دہشت گردوں سے ملتے. شرجیل میمن

    صوبائی وزیر سندھ شرجیل انعام میمن کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کے اپنے تانے بانے دہشت گردوں سے ملتے ہیں، یہ جھوٹا شخص ہے۔ عمران خان کو اپنے الزامات عدالت میں ثابت کرنا ہوں گے۔ سابق صدر آصف علی زرداری سے متعلق متنازع بیان پر سندھ کے وزیر اور پاکستان پیپلزپارٹٰ کے رہنما شرجیل انعام میمن نے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی پی سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) کے چیئرمین عمران خان کے خلاف قانونی کارروائی کرے گی۔

    نجی ٹی وی سے خصوصی گفتگو میں شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ عمران خان الزامات کو عدالت میں ثابت کریں، جو انہوں نے آصف زرداری پر لگائے ہیں۔ عمران خان جادوگرنیوں کی خبروں پر چلتے ہیں، ان پر تو حملہ بھی جھوٹا تھا۔ اس شخص کی دو نمبری اور فراڈ سب کے سامنے ہے، یہ گرفتار ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ عمران کے آصف علی زرداری پر عائد کردہ الزام کو سنجیدہ لینے کی ضرورت نہیں، شاید اسی نے کوئی خواب دیکھا ہو، یہ روز سستی شہرت کیلئے نیا بیانیہ بیچنے کی کوشش کرتا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں
    عدالت نے مونس الہٰی کی اہلیہ کے وکیل کو جواب جمع کروانے کیلئے وقت دے دی
    قابل اعتراض مواد جو ہٹا سکتے تھے ہٹا دیا،بیرون ملک مواد کیلئے متعلقہ حکام سے رجوع کیا ہے،پی ٹی اے
    نگراں کابینہ غیرسیاسی اور غیر جانبدارہوگی، شوکت یوسفزئی
    پابندیوں کے باوجود پاکستان روس سے تیل خرید سکتا ہے. امریکہ
    نگراں کابینہ غیرسیاسی اور غیر جانبدارہوگی، شوکت یوسفزئی

    واضح رہے کہ گزشتہ روز 27 جنوری بروز جمعہ ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے کہا تھا کہ میرے قتل کی نئی سازش کے پیچھے آصف زرداری ہے، پلان اے میں 4 لوگوں نے بند کمرے میں میرے قتل کی سازش تیار کی، پلان بی کے مطابق مجھے مذہبی انتہا پسندی کے نام پر قتل کروانا تھا، پلان بی اور پلان اے میں ناکامی کے بعد پلان سی بنایا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ پلان سی میں 4 لوگوں کے علاوہ آصف زرداری بھی شامل ہیں، آصف زرداری نے سندھ حکومت کا پیسہ ایک دہشت گرد تنظیم کو دیا ہے، میرے خلاف سندھ حکومت کا لوٹا ہوا پیسہ استعمال کیا جا رہا ہے۔

  • فواد چوہدری کا مزید دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

    فواد چوہدری کا مزید دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

    فواد چوہدری کا مزید دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظورکر لیا گیا

    فواد چوہدری کا جسمانی ریمانڈ مسترد ہونے کا فیصلہ چیلنج کردیا گیا ،اسلام آباد کی مقامی عدالت میں فواد چودھری کے مزید جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر سماعت ہوئی،جج نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ پولیس نے فواد چودھری سے 2روز میں کیا تفتیش کی؟ وکیل نے کہا کہ فواد چودھری 2 روزہ ریمانڈ میں تکنیکی طور پر پولیس کے پاس ایک ہی دن رہے، فواد چودھری کا فوٹو گرامیٹری ٹیسٹ کروانا باقی ہے جو پنجاب فرانزک لیب میں ہوگا، عدالت نے کہا کہ فواد چودھری کے وکلاکو نوٹس کی تعمیل ہو جائے پھر دلائل دیں ،سیشن کورٹ اسلام آباد نے رہنما پی ٹی آئی فواد چودھری کو طلب کرلیا، عدالت نے فواد چودھری کو ساڑھے 12بجے پیش کرنے کی ہدایت کر دی،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جسمانی ریمانڈ کی اپیل میں ملزم کی موجودگی ضروری ہے،سیشن کورٹ اسلام آباد نے پولیس کی اپیل پر فواد چودھری کو طلب کر لیا

    بعد ازاں سیشن کورٹ اسلام آباد میں فواد چودھری کے مزید جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر سماعت ہوئی فواد چودھری کے وکیل بابر اعوان اورعلی بخاری سیشن کورٹ اسلام آباد میں پیش ہوئے،الیکشن کمیشن کے وکیل سعد حسن بھی سیشن کورٹ اسلام آباد میں پیش ہوئے،الیکشن کمیشن کے وکیل کی عدالت پیشی پربابر اعوان نے اعتراض کیا،بابر اعوان نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا وکیل کیس میں پیش نہیں ہو سکتا، سرکاری وکیل پیش ہو،سیکریٹری الیکشن کمیشن اگر لڑائی کرنا چاہتے ہیں تو باہر آ کر کریں ،لڑائی کیلئے عدالتوں کا سہارا نہ لیا جائے،سیکریٹری الیکشن کمیشن حکومت نہیں ہے وہ پیش نہیں ہو سکتا، عدالت نے کہا کہ عدالت الیکشن کمیشن کے وکیل کے دلائل سنے تو پھر آپ اعتراض کر سکتے ہیں، پولیس کے لیگل افسر طاہر کاظم بھی سیشن کورٹ اسلام آباد میں پیش ہوئے،پولیس کے لیگل افسر نے ایف آئی آر کا متن پڑھ کر عدالت کو سنایا

    عدالت نے استفسار کیا کہ پولیس کس بنیاد پر فواد چوہدری کا مزید ریمانڈ مانگ رہی ہے؟ لیگل افسر طاہر کاظم نے عدالت میں کہا کہ پولیس کی استدعا پر دو روز کا جسمانی ریمانڈ دیا گیا،فواد چوہدری کو ایف آئی اے دفتر لے کر گئے لیکن انہوں نے کہا کہ فوٹوگرامیٹری ٹیسٹ کی سہولت موجود نہیں، ہمیں بتایا گیا کہ فوٹوگرامیٹری ٹیسٹ پنجاب فرانزک لیب سے ہو گا، فوٹوگرامیٹری ٹیسٹ بہت ضروری ہے مزید جسمانی ریمانڈ دیا جائے، فواد چوہدری کے لیپ ٹاپ اور موبائل کی برآمدگی کیلئے تلاشی بھی لینی ہے،فواد چوہدری کہتے ہیں کہ وہ اپنی پارٹی کا موقف بیان کرتے ہیں،معلوم کرنا ہے کہ فواد چوہدری پارٹی کے کس رہنما سے رابطے میں تھے، پولیس نے ریمانڈ کے دو روز میں جو کام کیا وہ ریکارڈ پر ہے، پیمرا سے فواد چوہدری کی ویڈیو کی سی ڈی حاضل کی، ایف آئی اے سے فواد چوہدری کی وائس بھی میچ کروا لی ہے،یہ نہیں کہا جا سکتا کہ پولیس نے ریمانڈ کے دوران کچھ نہیں کیا، مجسٹریٹ کا جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرنے کا فیصلہ غیرقانونی ہے،

    فواد چوہدری کی جانب سے مقدمہ سے ڈسچارج کرنے کی درخواست دائر کر دی گئی ،فواد چوہدری کی ڈسچارج کی درخواست پر سرکاری وکیل سے دلائل طلب کر لئے گئے،سرکاری وکیل نے کہا کہ ڈسچارج کی درخواست تب آ سکتی ہے جب ریکارڈ پر شواہد موجود نہ ہوں، فواد چوہدری کے خلاف کافی مواد ریکارڈ پر موجود ہے،فواد چوہدری کی ڈسچارج کی درخواست مسترد کی جائے، جج طاہر محمود نے بابر اعوان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ اپنے دلائل کا آغاز کریں، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ سرکاری وکیل نے دلائل دے دیے، جواب الجواب میں کچھ دلائل میں دونگا، بابر اعوان نے کہا کہ کوئی غیرمتعلقہ شخص میرے دلائل میں خلل نہ ڈالے،ایسا کریں گے تو میں بیٹھ جاؤں گا اور میرے ساتھ کھڑے دیگر لوگ خلل ڈالیں گے، آج کل تو یہ سرزمین بے آئین بنا دی گئی ہے،قانون میں ملزم سزا ہو جانے تک معصوم سمجھا جاتا ہے،

    سماعت کے دوران وکیل الیکشن کمیشن اور وکیل بابر اعوان کے درمیان تلخ کلامی ہوئی، بابر اعوان نے کہا کہ غیر ضروری طور پر سماعت کے دوران مداخلت نہ کریں، یہ الیکشن کمیشن نہیں ، یہ عدالت ہے،فوادچودھری اس وقت اڈیالہ جیل میں ہیں،
    تین دن قبل فوادچودھری سے ملاقات کی اجازت مانگی، ابھی تک اجازت نہیں ملی،پہلی بار دیکھا کہ ملزم کو کپڑا ڈال کر لائے اور اپنے وکلاء سے اسے ملنے کی اجازت نہیں ،فوادچودھری کو جس طرح لے کر ائے یہ انسانی حقوق کی خلاف وزری ہے فوادچودھری سے اپنی لیگل ٹیم کو بخشی خانے میں بھی نہیں ملنے دیا, مجھے بتایا گیا کہ فواد چوہدری کو ساڑھے بارہ بجے طلب کیا گیا، ایک بج گیا ہے ابھی تک فواد چوہدری کو پیش نہیں کیا جا سکا، یہاں اس عدالت سے بڑی مینجمنٹ موجود ہے، آپ تو صرف اس کمرے کو ریگولیٹ کرتے ہیں، سرکاری وکیل نے کہا کہ فواد چوہدری کو لایا جا رہا ہے وہ راستے میں ہیں،بابر اعوان نے کہا کہ ایک بار اور میرے دلائل میں خلل ڈالا گیا تو میں بیٹھ جاؤں گا، بابر اعوان نے سرکاری وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اپنے گھوڑوں کو لگام دیں، آپکی حاضری لگ گئی ہے، آپ کو بڑا افسر بنا دیا جائے گا جیسا آپکا ایس ایچ او ہے، میں عدالت کو نہیں بتانا چاہتا کہ لوگوں کو یہاں سے کہاں لے جایا جاتا ہے، میں تو نہیں بتا سکتا کہ کہاں لے جا کر لوگوں کو ننگا کیا جاتا ہے، یہ بتائیں نا کہ اعظم سواتی کو کہاں لے جا کر ننگا کیا گیا،پولیس اس لئے ریمانڈ مانگ رہی ہے کہ جو ویڈیو ہے اس سے فواد کی تصویر میچ کرانی ہے، یہ کوئی وہ ویڈیو تو نہیں ہے جو لیکس ہوتی ہے،وہ ویڈیو نہیں جس میں میچ کرانا ہوتا ہے کہ ٹانگ مرد کی ہے یا عورت کی،اس ویڈیو میں جو وہ بول چکا وہ سامنے ہے یہ اب کیا کرنا چاہتے ہیں،میرے اربوں روپے الیکشن کمیشن پر لگتے ہیں میں ان پر تنقید کیوں نہیں کر سکتا،الیکشن کمیشن اسلام آباد کے الیکشنز سے بھاگا ہوا ہے الیکشن نہیں کروا رہا، الیکشن کمیشن کی توہین ہوئی ہے تو آئیں اور ثابت کریں ساتھ جرمانے کے پیسے بھی ملیں گے،پیسے ملیں گے جس طرح ایک نوکری کی پینشن اور دوسری نوکری کی تنخواہ مل رہی ہے، جس کی توہین ہوئی وہ عدالت آئے نا تاکہ ہم اس کی حقیقت آشکار کریں

    فواد چودھری کو عدالت پیش کر دیا گیا، فیصل چوہدری نے عدالت سے فواد چوہدری کی ہتھکڑی کھولنے کی استدعا کر دی
    عدالت نے فواد چوہدری کی ہتھکڑی کھولنے کی ہدایت کر دی ، بابر اعوان نے تفتیشی افسر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ چابی ادھر ہی ہے یا اُن سے مانگ کر لائیں گے جنہوں نے ہتھکڑی لگائی ہے؟ پارلیمنٹ کے اندر فاضل رکن کو ٹریکٹر اور ٹرالی کہا گیا، کوئی مقدمہ درج نہیں ہوا،ایک شخص نے اقوم عالم میں رسول اللہ کی شان بیان کی اس کو یہودی کہتے ہیں، ایسا کہنے پر کوئی مقدمہ نہیں ہوا، ایمان کا تعین اللہ کرے گا فواد چوہدری نے جو کچھ بولا وہ اسکی پوری جماعت بول رہی ہے، فواد چوہدری ملک کی سب سے بڑی جماعت کا ترجمان اور نائب صدر ہے،فواد چوہدری جو بول رہا ہے وہ میری بھی آواز ہے، بابر اعوان کے دلائل مکمل، الیکشن کمیشن کے وکیل کے دلائل شروع ہو گئے

    وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ یہ کہا گیا کہ فواد چوہدری کے فوٹو گرامیٹک ٹیسٹ کی ضرورت ہی نہیں،بابر اعوان اس کیس میں گواہ نہیں جو بتائیں گے کہ فواد چوہدری نے بیان دیا، وکیل نے کہا کہ فواد چوہدری مجسٹریٹ کے سامنے بیان دیدیں تو پھر فوٹو گرامیٹک ٹیسٹ کی ضرورت نہیں،بابر اعوان اور الیکشن کمیشن کے وکیل کے درمیان تلخ کلامی ہوئی، بابر اعوان نے کہا کہ آپ عدالت کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ میں نے آپکے دلائل سنے، آپ بھی میرے دلائل میں خلل نہ ڈالیں، یہ کہتے ہیں کہ فواد چوہدری وکیل ہے تو اسے کوئی ریلیف دے دیا جائے،

    فواد چودھری نے عدالت میں کہا کہ میں نے جو باتیں کیں انکو مانتا ہوں اور کہتا ہوں کہ یہ میرا حق ہے،طاقت ور لوگ ہمیشہ سے یہی سمجھتے ہیں کہ ان پر تنقید درحقیقت غداری ہے،تاریخ اس بات کا تعین کرے گی کہ کون درست تھا اور کون غلط، طاقت ور لوگوں کو سمجھنا ہو گا کہ عزت اپنے کنڈکٹ سے کرائی جاتی ہے، ڈنڈے سے نہیں،میں منہ پر اچھا اچھا کہوں اور باہر جا کر گالیاں دوں، یہ کونسی عزت ہے اگر آپ تنقید نہیں لے سکتے تو آپ اس طرح کے عہدے نہ لیں،فواد چوہدری کے مزید جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا،عدالت نے فواد چوہدری کے وکلاء اور پراسیکیوشن کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا گیا تھا جو سنا دیا گیا ہے

    فواد چوہدری نے کہا کہ میری تضحیک کر کے یہ سمجھ رہے ہیں کہ پتہ نہیں کیا کر لیں گے،میں سابق وزیر، ممبر پارلیمنٹ رہ چکا ہوں اور سپریم کورٹ کا سینئر وکیل ہوں،فواد چودھری نے جج سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ کپڑا ڈال کر لانا اور تضحیک کرنا اس کو بھی دیکھ لیجئے گا، فواد چوہدری کی فیملی سے ملاقات کی استدعا منظورکر لی گئی، عدالت نے حکم دیا کہ بخشی خانے میں فواد چوہدری کی فیملی سے ملاقات کروا دی جائے،

    فواد چوہدری کا جسمانی ریمانڈ مسترد کرنے کے خلاف درخواست منظورکر لی گئی، عدالت نے فواد چوہدری کو دوبارہ مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنے کا حکم دیدیا ، جج طاہر محمود نے کہاکہ جوڈیشل مجسٹریٹ کا فواد چودھری کو جوڈیشل ریمانڈ پر بھیجنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جاتا ہے،جوڈیشل مجسٹریٹ نے فواد چوہدری کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کر دی تھی ، بعد ازاں دوبارہ سماعت ہوئی تو عدالت نے فواد چودھری کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا،

    قبل ازیں پولیس نے فواد چوہدری کا جسمانی ریمانڈ مسترد ہونے کا فیصلہ سیشن کورٹ میں چیلنج کردیا ہے۔ پولیس نے فیصلے کے خلاف سیشن کورٹ میں اپیل دائرکردی جس میں استدعا کی کہ جوڈیشل مجسٹریٹ کا فیصلہ کالعدم قراردیا جائے اور فواد چوہدری کا مزید جسمانی ریمانڈ دیا جائے۔سیشن جج نے پولیس کی درخواست پر نوٹس جاری کردیا جبکہ پراسیکیوشن نے جوڈیشل مجسٹریٹ وقاص احمد راجہ کے فیصلے کوچیلنج کیا کیونکہ جوڈیشل مجسٹریٹ نے فواد چوہدری کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کی تھی۔

    اس سے قبل اسلام آباد ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے گرفتار رہنما فواد حسین چوہدری کی ضمانت درخواست پر سماعت ہوئی۔ ایڈیشنل سیشن جج فیضان حیدر نے درخواستِ ضمانت پر سماعت شروع کی تو فواد چوہدری کے وکیل بابر اعوان نے کہا کہ ہم دلائل دینے کیلئے تیار ہیں۔
    مزید کہا کہ؛
    مزید یہ بھی پڑھیں
    عدالت نے مونس الہٰی کی اہلیہ کے وکیل کو جواب جمع کروانے کیلئے وقت دے دی
    قابل اعتراض مواد جو ہٹا سکتے تھے ہٹا دیا،بیرون ملک مواد کیلئے متعلقہ حکام سے رجوع کیا ہے،پی ٹی اے
    نگراں کابینہ غیرسیاسی اور غیر جانبدارہوگی، شوکت یوسفزئی
    پابندیوں کے باوجود پاکستان روس سے تیل خرید سکتا ہے. امریکہ
    نگراں کابینہ غیرسیاسی اور غیر جانبدارہوگی، شوکت یوسفزئی
    جس پر ایڈیشنل جج فیضان حید نے کہا کہ میرے سامنے ریکارڈ ہی نہیں توسماعت کیا کروں؟ بعد ازاں عدالت نے سماعت کچھ وقت کیلئے ملتوی کردی۔ خیال رہے کہ پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری کو الیکشن کمیشن اور ان کے اہل خانہ کو دھمکیاں دینے کے الزام میں بدھ 25 جنوری کو علی الصبح لاہور میں ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا گیا تھا۔ بعدازاں، پولیس انہیں ماتحت عدالت سے راہداری ریمانڈ لے کر اسلام آباد لے آئی۔ جبکہ لاہور ہائیکورٹ نے فواد چوہدری کو پیش کرنے کی ہدایت کی لیکن اس پر عمل نہ ہوا۔ عدالت نے درخواست خارج کردی۔ پی ٹی آئی رہنما کے خلاف تھانہ کوہسار اسلام آباد میں الیکشن کمیشن حکام کو دھمکانے کا مقدمہ درج ہے۔