Baaghi TV

Tag: politics

  • پاکستانی پاسپورٹ پر متحدہ عرب امارات جانیوالا ایرانی شہری گرفتار

    پاکستانی پاسپورٹ پر متحدہ عرب امارات جانیوالا ایرانی شہری گرفتار

    فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) امیگریشن نے کراچی ایئرپورٹ پر کارروائی کرتے ہوئے پاکستانی پاسپورٹ پر متحدہ عرب امارات جانے کی کوشش کرنیوالے ایرانی شہری کو گرفتار کرلیا۔ترجمان ایف آئی اے کے مطابق ایف آئی اے امیگریشن نے کراچی ایئرپورٹ پر کارروائی کے امیر یوسف نامی ایرانی شہری کو طیارے سے آف لوڈ کردیا۔

    رپورٹ کے مطابق ملزم پاکستانی پاسپورٹ کے ذریعے وزٹ ویزے پر یو اے ای جا رہا تھا، دوران تفتیش ملزم اپنے خاندان سے متعلق مکمل طور پر لاعلم تھا، دوران تفتیش وہ اپنی جائے پیدائش اور دیگر متعلقہ سوالات پر بھی حکام کو مطمئن کرنے میں ناکام رہا۔ملزم کے پاس پاکستان پاسپورٹ کے ساتھ ساتھ نادرا سے جاری قومی شناختی کارڈ بھی ہے۔

    طالبہ پر ساتھی لڑکیوں کی جانب سے تشدد، طالبات کی درخواست ضمانت پر آیا فیصلہ

    ترجمان کا کہنا ہے کہ ملزم کو قانونی کارروائی کیلئے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی منتقل کردیا گیا ہے، جس سے مزید تحقیقاتی جاری ہیں۔

     

    ادھروفاقی وزیرداخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ عراق جانے والے زائرین کے مسائل پر بات چیت کیلئے عراقی وزیر داخلہ مارچ میں پاکستان آ رہے ہیں۔

    کتے کو نام سے نہ پکارنے پرمالک نے پڑوسی کو قتل کر یا

    وزیرداخلہ رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ نواسہ رسول کے چہلم پر عراق جانے والے زائرین کے مسائل وزیر اعظم شہباز شریف کے علم میں آئے تو انہوں نے فوری نوٹس لیا اور انکے حل کی ہدایات جاری کیں۔رانا ثنا اللہ نے کہا کہ میں نے وزیر اعظم کی ہدایت پر عراقی وزیر داخلہ سے رابطہ کیا ہے، عراقی وزیر داخلہ مارچ میں پاکستان آ رہے ہیں۔

    قصور:2 سگے بھائیوں سمیت4 افراد دم گھٹنےسےجاں بحق

    وزیر داخلہ نے کہا عراقی حکومت اور زائرین کے مابین کوئی چیز تحریری نہیں سب کچھ زبانی ہے، ہم ساری چیزیں ان سے بلیک اینڈ وائٹ طے کریں گے تاکہ پاکستان سے عراق جانے والے زائرین کو مسائل درپیش نہ آئیں، اسی سال مارچ میں زائرین کو دپیش مسائل حل ہو جائیں گے۔

  • بلوچستان حکومت نے وفاق کو گیس بند کرنے کی دھمکی دیدی

    بلوچستان حکومت نے وفاق کو گیس بند کرنے کی دھمکی دیدی

    کوئٹہ:بلوچستان حکومت نے وفاق کو گیس بند کرنے کی دھمکی دیدی،اس وقت پاکستان میں جہاں سیاسی صورت حال بڑی خراب نظرآرہی ہے وہاں ملک کی معاشی صورت حال بھی بہت پچیدہ ہے ، ایک طرف وفاقی حکومت سستا تیل اور گیس ملک میں لانے کیلئے کوششیں کررہی ہے دوسری طرف قدرتی گیس کے وسائل سے مالا مال بلوچستان ناراض ہورہا ہے، واجبات کی عدم ادائیگی پر بلوچستان نے وفاق کو گیس بند کرنے کی دھمکی دے دی۔

    صوبائی وزیر خزانہ زمرک خان اچکزئی کا کہنا ہے کہ بلوچستان اس وقت مشکل میں ہے، وفاق فوری مدد کرے، خیرات نہیں بلکہ اپنا حق مانگ ہے ہیں، اگر 75 ارب روپے کے بقایا جات مل جائیں تو بحران ختم ہوسکتا ہے۔

    ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اگر بقایا جات نہ ملے تو بلوچستان سے گیس کی سپلائی کو بھی بند کرنے کا آپشن موجود ہے، 18 ویں ترمیم کے بعد صوبے کو اختیار حاصل ہے، صوبے سے گیس سپلائی جاری ہے، بقایا جات نہیں مل رہے۔

    زمرک اچکزئی نے کہا کہ وفاق کو مشکلات سے متعلق دو ٹوک الفاظ میں بتادیا، وفاق ڈوبنے سے پہلے مدد کرے، پی پی ایل کے ذمہ بلوچستان کے 30 ارب روپے کے بقایاجات ہیں، 15 دن میں بقایا جات نہیں ملے تو بلوچستان حکومت فیصلہ کرے گی۔

    صوبائی وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ ہم وفاق کے ساتھ چلنا چاہتے ہیں، اکائیاں کمزور ہوں گی تو وفاق کمزور ہوگا، اگر گودار، سینڈک اور ریکوڈک ہمیں دے دیں ہم پورا ملک چلا سکتے ہیں۔

  • بارش،برفباری:مظفرآباد اورمری میں ٹریفک جام،سیاح پھنس گئے

    بارش،برفباری:مظفرآباد اورمری میں ٹریفک جام،سیاح پھنس گئے

    مری:بارش،برفباری:مظفرآباد اورمری میں ٹریفک جام،سیاح پھنس گئے،اطلاعات کے مطابق شمالی علاقہ جات میں اس وقت بارش اور برفباری کی وجہ سے ٹریفک جام ہےاورپولیس اور دیگر امدادی ٹیمیں سیاحوں کو محفوظ مقامات پرپہنچانے کےلیے کوشاں ہیں،

     

    اس حوالے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مظفرآباد، پولیس اور ریسکیو کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں،یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مظفرآباد،30سے 35گاڑیاں برف میں پھنسی ہیں،پمظفرآباد، پولیس اور ریسکیو کی ٹیمیں موقع پہنچ گئیں،مظفرآباد،نیاز پورہ کے مقام پر برفباری، سیاحوں کی گاڑیاں پھنس گئیں

     

    مظفرآباد مشہور سیاحتی مقام پیرچناسی میں برفباری کےباعث لنگرپورہ کےمقام پہ سیاحوں کی گاڑیاں پھنس گئی،سیاحوں کو منع کرنے کےباوجود سیاح برفباری دیکھنے گئے،رفباری میں پھنسے سیاحوں کو ریسکیو کرنے کے لیے امدادی ٹیمیں روانہ کر دی گئی ہیں،

    آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں بارش اور پہاڑوں پر برفباری کا سلسلہ جاری ہے جس کے بعد دارالحکومت و گردونواح میں موسم مزید سرد ہو گیا۔

     

    وادی لیپا، نیلم، باغ، راولا کوٹ اور حویلی کے بالائی علاقوں میں برفباری ہوئی جس کے بعد متعدد شاہراہیں بند ہو گئیں، بالائی نیلم شاہراہ کیل کا تاؤ بٹ سے رابطہ ٹوٹ گیا، ضلع حویلی کی حاجی پیر تا بانڈی اور لسڈنہ حاجی پیر شاہراہ بھی ٹریفک کیلئے بند ہے۔

     

    ایس ڈی ایم اے کے مطابق آزاد کشمیر کے بالائی علاقوں میں شاہراوں پر لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے، شہری بالائی علاقوں میں غیر ضروری سفر سے اجتناب کریں۔

  • محکمہ سیاحت میں آسیہ گل کی تین ماہ کی خدمات قابل ستائش تاریخی اور یادگار

    محکمہ سیاحت میں آسیہ گل کی تین ماہ کی خدمات قابل ستائش تاریخی اور یادگار

    محکمہ سیاحت میں آسیہ گل کی تین ماہ کی خدمات قابل ستائش تاریخی اور یادگار

    تلہ گنگ ( ارشد کوٹگلہ سے ) پنجاب کی سیکرٹری سیاحت آسیہ گل کی تین ماہ کی خدمات قابل ستائش تاریخی اور یادگار رہیں، آسیہ گل نے محکمہ سیاحت میں تعیناتی کے دوران سیاحت کے فروغ اورترقی کے لیے اہم ترین اقدامات سرانجام دیئے۔ پنجاب میں اہم سیاحتی مقامات تک سیاحوں کی بآسانی رسائی کے لیے آسیہ گل نے جہاں کام کیا وہیں پنجاب کے سیاحتی مقامات کو سوشل ، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے دنیا بھر میں شاندارانداز میں اجاگر کیاگیا۔ آسیہ گل نے پنجاب کے اضلاع چکوال مری خوشاب سمیت دیگر اضلاع میں سیاحتی مقامات کی تزئین و آرائش اورخوبصورتی کے لیے جاری کام کو تیز کیا تا کہ سیاح دلنشیں اور پرکشش نظارے دیکھ کر جلد سے جلد لطف اندوز ہوسکیں اور سیاحت کا مزہ دوبالا ہوسکے آسیہ گل نے انتہائی کم عرصے میں پنجاب میں سیاحت کو اسقدر فروغ اور عروج دیا جو سالہاسال گزرنے کے باوجود نہ ہوسکا آسیہ گل کو اگر چند ماہ تک مزید موقع میسر آجاتا اور آپ کی تعیناتی محکمہ سیاحت ہی میں رہتی تو پنجاب پاکستان کا ایک مثالی سیاحتی مرکز بن جانا تھا۔ پنجاب میں قدرتی سیاحتی مقامات سے ہونیوالی آمدن سے نہ صرف پنجاب بلکہ ملکی معیشت کو بھی فائدہ پہنچتا ہے۔

    50 ہزار میں بچہ فروخت کرنے والی ماں گرفتار

    ایم بی اے کی طالبہ کو ہراساں کرنا ساتھی طالب علم کو مہنگا پڑ گیا

    تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے

    کورونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن کے بیچ دنیا بھر میں کنڈوم کی کمی 

    لاک ڈاؤن کے بعد سیکس ٹوائیز کی مانگ میں زبردست اضافہ

    آسیہ گل نے عوام کے لیے سستی اورآسان سیاحت متعارف کروائی تا کہ ہر شہری باآسانی سیاحتی مقامات سے لطف اندوز ہوسکے۔آسیہ گل نے تعیناتی کے دوران کلر کہار میں ٹی ڈی سی پی ریزورٹ کا دورہ کیاتھا، اس موقع پر سیکرٹری سیاحت نے چکوال، سون ویلی اور کلر کہار میں جاری ترقیاتی کاموں کو تیز کرنے کی ہدایات جاری کیں۔ سیکرٹری سیاحت آسیہ گل نے شاہی قلعہ میں موجود آرکیالوجی ڈائریکٹوریٹ کا دورہ کیا تھا اور آثار قدیمہ کے زیر نگرانی سکھ اور آرمرز گیلری کا بھی وزٹ کیا۔ ڈی جی آرکیالوجی کی جانب سے اعلی خدمات پر آسیہ گل کو اس موقع پر سوینئر بھی پیش کی گئی تھی ۔ پنجاب میں سیاحت کو ڈیجیٹائز کرنے کے حوالے سے اہم اقدامات اٹھائے گئے محکمہ سیاحت پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ساتھ مل کر “ورچوئل ٹوارزم” متعارف کروائی گی۔ آسیہ گل نے پنجاب میں سیروسیاحت کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کرتے ہوئے سیاحت کی فیلڈ کا حق ادا کیا جو آنے والے افسران کے لئے مشعل راہ ہے۔ پنجاب میں متعدد سیاحتی مقامات موجود ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ اعلی افسران آسیہ گل کے نقش قدم پر چلتے ہوئے سیرو سیاحت کے فروغ کے لئے زبانی جمع خرچ کی بجائے عملی اقدامات اٹھائیں.

    آبادی کم کرنے کا منصوبہ، نئے شادی شدہ جوڑوں کو حکومت دے گی تحفے میں "کنڈوم”

    واٹس ایپ کے ذریعے فحش پیغام بھیجنے والا ملزم ہوا گرفتار، کئے ہوش اڑا دینے والے انکشاف

    شادی سے انکار، لڑکی نے کی خودکشی تو لڑکے نے بھی کیا ایسا کام کہ سب ہوئے پریشان

    شوہرکے موبائل میں بیوی نے دیکھی لڑکی کی تصویر،پھر اٹھایا کونسا قدم؟

    خاتون پولیس اہلکار کے کپڑے بدلنے کی خفیہ ویڈیو بنانے پر 3 کیمرہ مینوں کے خلاف کاروائی

    جنسی طور پر ہراساں کرنے پر طالبہ نے دس سال بعد ٹیچر کو گرفتار کروا دیا

    غیر ملکی خاتون کے سامنے 21 سالہ نوجوان نے پینٹ اتاری اور……خاتون نے کیا قدم اٹھایا؟

    لاک ڈاؤن میں فحش فلمیں دیکھنے میں اضافہ،فحش ویڈیوزدیکھنے سے پہلے یہ خبر ضرور پڑھ لیں،سائبر کرائم کا بڑا الرٹ

  • تمام سیاستدان ایک پیج پر آکر پاکستان کے لئے کام کریں ،چودھری شجاعت

    تمام سیاستدان ایک پیج پر آکر پاکستان کے لئے کام کریں ،چودھری شجاعت

    صدر ق لیگ چودھری شجاعت سے سابق وزیر داخلہ فیصل صالح حیات کی ملاقات ہوئی ہے

    ملاقات میں ق لیگ کے سینئر رہنما چودھری شافع حسین بھی موجود تھے، ملاقات میں ملکی سیاسی صورتحال پر بات چیت کی گئی، اس موقع پر سابق صدر، ق لیگ کے سربراہ چودھری شجاعت حسین کا کہنا تھا کہ ہم سب کو مل کر پاکستان کی معیشت کو ٹھیک کرنا ہے، ملک کی معیشت کو اس وقت سنگین چیلنجز کا سامنا ہے، تمام سیاستدان ایک پیج پر آکر پاکستان کے لئے کام کریں ، دہشتگردی کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، ہمیں قانون نافذ کرنے والے اداروں کا بھرپور ساتھ دینا چاہیے،

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    مجھے عام انتخابات جلد نظر نہیں آرہے،

    اسپیکر پنجاب اسمبلی نے گورنر کے طلب کردہ اجلاس کو غیر قانونی قرار دے دیا

     وزیراعلیٰ نے ووٹ نہ لیا تو وزیراعلیٰ ہاوس سیل کر دینگے

    واضح رہے کہ عمران خان سابق وزیراعظم ہو چکے ہیں، ق لیگ دو حصوں میں تقسیم ہو چکی ہے، چودھری شجاعت پی ڈی ایم کے ساتھ کھڑے ہیں، جبکہ پرویز الہیٰ تحریک انصاف کے ساتھ کھڑے ہیں پنجاب کا سیاسی محاذ گرم ہے،عمران خان نے پرویز الہییٰ کو تحریک انصاف میں شمولیت کی دعوت دے رکھی ہے،پرویز الہیٰ نے اس ضمن میں اجلاس بلایا تھا جس میں پرویز الہیٰ پر اعتماد کا اظہار اور فیصلے کرنے کا اختیار دیا گیا تو دوسری جانب چودھری شجاعت نے پرویز الہیٰ کو شوکاز نوٹس جاری کیا، آنیوالے دنوں میں ق لیگ ایک ہوتی ہے یا پھر پی ٹی آئی میں ضم ہوتی ہے، فیصلہ ہو جائے گا

  • شوکت خانم کے فنڈز سے نجی ہاؤسنگ پروجیکٹ میں سرمایہ کاری کی گئی، عمران خان کا اعتراف

    شوکت خانم کے فنڈز سے نجی ہاؤسنگ پروجیکٹ میں سرمایہ کاری کی گئی، عمران خان کا اعتراف

    شوکت خانم کے فنڈز سے نجی ہاؤسنگ پروجیکٹ میں سرمایہ کاری کی گئی، عمران خان کا اعتراف

    سابق وزیر اعظم عمران خان کا خواجہ آصف کے خلاف دس ارب ہرجانہ کیس کی سماعت ہوئی

    سابق وزیر اعظم عمران خان ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہوئے ،خواجہ آصف کے وکیل نے عمران خان سے شوکت خانم کی ہاؤسنگ پروجیکٹ میں سرمایہ کاری سے متعلق جرح کی ، عمران خان نے کہا کہ شوکت خانم کے فنڈز سے نجی ہاؤسنگ پروجیکٹ میں سرمایہ کاری کی گئی،شوکت خانم کے بورڈ کی جانب سے مجھے اس حوالے سے بتایا گیا تھا،اس وقت یاد نہیں کہ ہاؤسنگ پراجیکٹ کا نام کیا تھا،

    وکیل نے عمران خان سے سوال کیا کہ کیا آپ کو بورڈ کی طرف سے اس حوالے سے تحریری طور پر آگاہ کیا گیا تھا؟عمران خان نے جواب دیا کہ اس وقت یاد نہیں کہ تحریری طور پر آگاہ کیا گیا تھا یا نہیں، جو 3 ملین ڈالرز تھے وہ بورڈ ممبرز کی جانب سے واپس جمع کرا دیئے گئے تھے تو معاملہ ختم ہوگیا،وکیل خواجہ آصف نے کہاکہ معاملہ ختم نہیں، معاملہ تو وہیں سے شروع ہوتا ہے، جب 3 ملین کی سرمایہ کاری کی گئی اس وقت ڈالر کا ریٹ 60 روپے تھا، جب واپس آئے تو 120 روپے تھا،عمران خان کے وکیل کی جانب سے سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کی گئی،خواجہ آصف کے وکیل نے کہا کہ آئندہ سماعت پر صرف 2 گھنٹے میں جرح مکمل کر لوں گا، عمران خان نے ہنستے ہوئے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ ادھر ادھر کے سوال کرنے کے بجائے سچ پر آئیں تو معاملہ جلدی ختم ہو سکتا ہے، آئندہ سماعت کی تاریخ شڈول سے دیکھ کر آگاہ کر دوں گا، عدالت نے کیس کی سماعت ملتوی غیرمعینہ مدت تک ملتوی کر دی

    ‏جیسا مافیا چاہتا تھا ویسا نہیں ملا ، وسیم بادامی کا پٹرول کی قیمتوں میں اضافے پر تبصرہ

    میڈم یہ کہتے ہیں بچے کو نہیں ملے گی،فردوس عاشق اعوان کو بچے نے پکڑ لیا

    بے بس عوام:بےحس افسران:ACسیالکوٹ اورفردوس عاشق کےدرمیان ہونے والی نوک جھوک:ویڈیووائرل

  • یااللہ رحم:-پاکستان بڑے منجھدار میں پھنس گیا:معاملہ گھمبیر،حالات خراب،سعودی عرب کا جواب

    یااللہ رحم:-پاکستان بڑے منجھدار میں پھنس گیا:معاملہ گھمبیر،حالات خراب،سعودی عرب کا جواب

    لاہور:پاکستان کےمعاشی حالات ابترسے ابترہورہےہیں اورپیارے دوست سعودی عرب کے تیوربھی کچھ اچھے نہیں،پاکستان کے حوالے سے جہاں پاکستان میں رہنے والے پریشان ہیں وہاں پاکستان سے باہررہنے والے پاکستانی اور پاکستان سے محبت کرنے والے بھی فکرمند ہیں،اس حوالےسے حسب روایت پاکستان کے مسائل کو قوم کے سامنے رکھنے اوران کے حل کےلیے سینئرصحافی مبشرلقمان اپنا تجزیہ ، رائے اورفکری مندی کا اظہارکرتے رہتے ہیں،

    آج اسی حوالے سے انکی گفتگو سینئرصحافی کاشف عباسی سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ اس وقت پاکستان سے باہرعوام الناس بہت زیادہ فکر مند ہیں برطانیہ بھی مہنگائی کا شکار ہے اور 40 فیصد تک مہنگائی میں اضافہ ہوگیا ہے ، لوگوں کے حالات بہت خراب ہیں ، کھانے کے لیے کچھ نہیں مل رہا ،پاکستان میں‌ گندم وغیرہ لوگ جمع کرلیتے ہیں ، اکثرکسان ہیں اس لیے پاکستان میں کچھ ایسا محسوس نہیں ہوتا

     

    https://www.youtube.com/watch?v=t3pZvp5UpT4

    کاشف عباسی نے مبشرلقمان کے ساتھ اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ اس بات میں‌کوئی شک نہیں کہ پاکستان اس وقت معاشی دلدل میں پھنس چکا ہے اوراب تو آئی ایم ایف جیسے ادارے نے بھی بہت زیادہ کڑی شرائط سنادی ہیں، ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بڑے عرصے سے معاشی صورت حال خراب ہوتی آرہی ہے ،بہت سخت فیصلے ہوئے اوراب مزید سخت فیصلے کرنے ہوں گے تب جاکرکچھ بہتری کی امید کی جاسکتی ہے ،

    اسی حوالےسے جاری گفتگو میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ سعودی عرب بھی اب پاکستان سے دست شفقت ہٹا رہا ہے ، توایسی صورت میں حالات تو مزید مشکل ہوجائیں گے، کاشف عباسی کا کہنا تھا کہ مفتاح اسمٰعیل نے ٹیکس عائد کیا تو وہ مریم نواز نے ٹویٹ کی کہ واپس لے لیا جائے گا، نئے لوگ ٹیکس میں شامل نہیں کیے اورپرانے لوگوں پر ٹیکس بڑھا دیا ،ہمارے پاس ایل سیز کھولنے کےلیے پیسے نہیں ہیں،ملک انتہائی مشکل صورت حال سے دوچار ہے،

    ماہر معیشت ڈاکٹرخاقان نجیب مبشرلقمان کے سوال کو کوئی خاطرخواہ جواب دینے سے احتراز کرتے رہے ،جس میں پاکستان کے پچھلے پانچ سال سے بہتر اور بدتروزیرخزانہ کا نام پوچھا جاتا رہا ، خاقان نجیب کا کہنا تھا اس ملک کا معاشی مسئلہ کوئی ایک بندہ ٹھیک نہیں کرسکتا ہے ،اس کےلیے ٹیم کی ضرورت ہوتی ہے ، ان کا یہ بھی کہنا تھاکہ پاکستان کواپنے معاشی حالات بہتر کرنے کے لیے بہترفیصلے کرنے ہوںگے

    کاشف عباسی نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ جو الیکشن چاہتے تھے اب الیکشن سے فرار چاہتے ہیں اور جو الیکشن سے فرار چاہتے تھے اب وہ الیکشن چاہتے ہیں، جمہوریت ایک شخص کا نام نہیں اس کےلیے سب کو کردار ادا کرنا ہوگا، ملک کی معاشی صورت حال کے پیش نظرتمام سیاسی جماعتوں اور پارٹیوں کو مل بیٹھ کر ملکی مفاد کےلیے کام کرنے ہوں گے ، اس موقع پر مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ ہمارے وزرائے اعظم کے پاس پاور آف ڈیسین ہی نہیں ہاں شاہد خاقان عباسی ان کےخیال میں بہتر وزیراعظم رہے جوکافی حد تک بڑے دلیرانہ فیصلے کرتے رہے لیکن اب ایسا نہیں ہورہا ، جس کی وجہ سے ملک وقوم کو نقصان کاسامنا کرنا پڑرہا ہے

  • چترال میں سی ڈی ایم کے اراکین اور سول سوسائٹی کا مشترکہ احتجاجی جلسہ۔

    چترال میں سی ڈی ایم کے اراکین اور سول سوسائٹی کا مشترکہ احتجاجی جلسہ۔

    چترال میں سی ڈی ایم کے اراکین اور سول سوسائٹی کا مشترکہ احتجاجی جلسہ۔ چترال کی سڑکوں پر فوری کام شروع کروانے کا پرزور مطالبہ
    چترال(گل حماد فاروقی)چترال ڈیویلپمنٹ مومنٹ (سی ڈی ایم) کے زیر اہتمام سول سوسایٹی کے اراکین اور محتلف سیاسی اور مذہبی پارٹیوں کے رہنماؤں کا مشترکہ جلسہ ہوا۔ جلسے کی صدارت مولوی اسرار الدین الہلال نے کی۔اس جلسہ میں پہلی بار شہزادہ سراج الملک نے شرکت کرکے اظہار حیال کیا۔جلسہ میں ایک متفقہ قرارداد بھی منظور ہوا۔قرارداد کے ذریعے حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ لواری ٹنل سے شندور اور درہ پاس تک تمام سڑکوں پر دوبارہ فوری کام شروع کیا جائے۔گرم چشمہ سڑک کیلئے فنڈ دوبارہ منظور کیا جائے۔قرارداد کے ذریعے مطالبہ کیا گیا کہ آیون اور وادی کیلاش کی سڑکوں پر کام بند نہ کیا جائے اور اس سڑک میں آنے والے زمینوں کے مالکان کو فوری ادایگی بھی کی جائے۔مقررین نے کہا کہ چترال میں قیمتی معدنیات کے پہاڑ اور ذحائیر موجود ہیں مگر اس کی لیز غیر مقامی بااثر افراد کو دی گئی ہے جس سے مقامی لوگ استفادہ نہیں کرسکتے قرارداد ک ذریعے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ ان معدنیات کے ذحائیر سے مقامی لوگوں کو فائدہ دیا جائے۔

    قرارداد کے ذریعے دروش سے مڈگلشٹ کی سڑک کی تعمیر کا بھی مطالبہ کیا گیا۔ارندو جو کہ ماضی میں ایک بڑا تجارتی مرکز بھی تھااس سڑک پر بھی فوری کام شروع کرکے زمین کے مالکان کو ادایگی کی جائے۔قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ بیوٹیفیکشن آف چترال کے نام پر جو 28 کروڑ روپے کا فنڈ آیا ہوا ہے اس فنڈ سے بھی معیاری کام کرکے چترال کی خوبصورتی کا کام جلد سے جلد مکمل کیا جائے۔قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ ماضی کی طرح چترال کے سرکاری غلہ گوداموں سے مقامی لوگوں کو رعایتی نرح پر گندم فراہم کیا جائے۔ مطالبہ کیا گیا کہ سرکاری غلہ گوداموں سے جو گندم فلور مل مالکان کو دی جاتی ہے وہ آئے روز آٹے کی قیمت بڑھاتے رہتے ہیں اس سلسلے کو بند کیا جائے لوگوں کو ان گوداموں سے گندم بھی دی جائے تاکہ وہ اپنے مرضی سے پن چکی میں اس سے آٹا پیس کر اسے استعمال کرے۔چترال میں چار سو سے زیادہ پن چکیوں کو بند کیا گیا ہے جس سے چار سو گھرانے متاثر ہوئے ہیں قرارداد کے ذریعے مطالبہ کیا گیا کہ ان پن چکیوں کو دوبارہ بحال کیا جائے اور یہ ظالمانہ فیصلہ واپس لیا جائے جس میں صرف مل مالکان کو خوش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔چترال میں 107 میگا واٹ پن بجلی گھر گولین میں تعمیر ہوچکا ہے مگر علاقے کے لوگ اس بجلی سے محروم ہیں اور چترال میں اب بھی آٹھ سے دس گھنٹے لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے جبکہ یہاں نہ کارخانہ ہے نہ کوئی بجلی چوری کرتا ہے قرارداد کے ذریعے واپڈا حکام سے مطالبہ کیا گیا کہ اس ظالمانہ اور ناروا لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ بند کیا جائے اور عوام کو سستی نرح پر بجلی فراہم کیا جائے تاکہ وہ اسے کھانا پکانے اور خود کو گرم رکھنے کیلئے بھی استعمال کرسکے۔
    یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ مرکزی حکومت اپنا وعدہ پوراکرتے ہوئے گولین بجلی گھر سے چترال کو تیس میگا واٹ بجلی دیکر بقایا بجلی کو نیچے اضلاع کو دی جائے۔چترال کے دونوں اضلاع میں سڑکوں میں آنے والے زمین کے مالکان کو مارکیٹ ریٹ کے مطابق قیمت ادا کی جائے۔ قرارداد کے ذریعے مطالبہ کیا گیا کہ چترال میں بھی گورنمنٹ میڈیکل کالج کی قیام پر غور کیا جائے اور ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال جو پندرہ سال قبل اسے کیٹیگری بی کا درجہ دیا گیا تھا مگر اس پر ابھی تک عملی کام نہیں ہوا ہے اس ہسپتال میں بھی کیٹیگری B کے مطابق تمام سہولیات فراہم کیا جائے۔ چترال یونیورسٹی کی تعمیر کا کام جلدی شروع کیا جائے اور اپر چترال کے قاقلشٹ کے میدان میں تریچ میر یونیورسٹی پر بھی کام شروع کیا جائے۔ قرارداد میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ چترال کے دونوں اضلاع کیلئے انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری بورڈ کے قیام کا جلد از جلد اعلان کیا جائے۔

    چترال کی جنگلات کو حتم ہونے اور ماحول کو تباہ ہونے سے بچانے کیلئے ضلع اپر اور لوئیر چترال کے لئے منظور شدہ ایل پی جی گیس پلانٹ کی چترال میں تنصیب کا کام جلد شروع کیا جائے اس مقصد کیلئے خریدے گئے زمینات کو نیلام نہ کیا جائے۔جلسہ سے الحاج عید الحسین، شریف حسین، وقاص احمد ایڈوکیٹ،لیاقت علی، عنایت اللہ اسیر، شہزادہ سراج الملک، نور احمد خان چارویلو،سلطان نگاہ،شبیر احمد، رحمت علی جعفر دوست، چوہدری امان اللہ اور دیگر نے بھی اظہار حیال کیا۔ جلسہ میں اس بات پر نہایت افسوس کااظہار کیا گیا کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے ٹھیکدار نے چترال سے بونی سڑک جو چین کے ایک تعمیراتی کمپنی نے چالیس سال پہلے بنایا تھا مگرا س کی تارکول ابھی تک نہایت مضبوط تھی مگر این ایچ اے حکام نے اس سڑک کی کشادگی کے دوان پورے سڑک سے تارکول اکاڑ کراسے کھنڈرات کی شکل میں تبدیل کیا اور دوبارہ اس پر تارکول بھی نہیں کیا جس سے ایک طرف نہایت مٹی اور گرد و غبار اٹھتی ہے تو دوسری طرف سڑک کے بیچ میں کھڈوں کی وجہ سے مریض اس سڑک پر سفر کے دوران نہایت مشکلات سے دوچار ہوتے ہیں۔ مقررین نے حکومت پر واضح کیا کہ ہم پر امن لوگ ہیں اور نہایت مہذب طریقے سے اپنا جائز حق مانگتے ہیں ہمیں مجبور نہ کیا جائے کہ ہم بھی دوسرے لوگوں کی طرح سڑکوں پر آکر جلاؤ گھیراو پر مجبور ہوجائے۔

    بعد میں جلسہ کے شرکاء نے ایک ریلی بھی نکالی جس میں تمام سول سوسائٹی اراکین اور سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔ یہ جلسہ دعائیہ کلمات کے ساتھ احتتام پذیر ہوا۔

  • ہماری پہلی چوائس جماعت اسلامی کیساتھ ملکر چلنا ہے،سعید غنی

    ہماری پہلی چوائس جماعت اسلامی کیساتھ ملکر چلنا ہے،سعید غنی

    پیپلزپارٹی کا وفد مسلم لیگ ن کے رہنماوں سے ملاقات کے لیے پہنچ گیا

    پی پی وفد کی قیادت سندھ کے صوبائی وزیر سعید غنی نے کی، مسلم لیگ ن سندھ کے صدر شاہ محمد شاہ نے پیپلز پارٹی کے وفد کا استقبال کیا ،ملاقات کے بعد سندھ کے صوبائی وزیر سعید غنی کا کہنا تھا کہ ن لیگ کے رہنماوں سے اچھے ماحول میں بات ہوئی،مسلم لیگ ن نے ساتھ دینے کی یقین دہانی کرائی ہے، پہلے دن سے کہہ رہے ہیں کہ جماعت اسلامی کو ساتھ لے کرچلنا چاہتے ہیں، پولرائزیشن ختم کرکے کراچی کے مسائل حل کرنا چاہتے ہیں،ہماری پہلی چوائس جماعت اسلامی کیساتھ ملکر چلنا ہے،کراچی نے مینڈیٹ پیپلزپارٹی اور جماعت اسلامی کو دیا ہے،دونوں جماعتوں کو ملکرشہر کے مسائل کو حل کرنا چاہیے،اگرجماعت اسلامی میئر کیلئے دوسری جماعتوں سے بات کررہی ہے تو یہ ان کا حق ہے،

    ن لیگ کے رہنما شاہ محمد کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی کیساتھ بات چیت چل رہی ہے،کراچی کی بہتری کیلئے پیپلزپارٹی کیساتھ ملکرچلیں گے،میئر پیپلز پارٹی کا ہوگا اس پر اتفاق ہو گیا ہے،

    کراچی کے مسائل کیلئے شہری حکومت کون بنائے گا؟ بلدیاتی الیکشن کے نتائج کے بعد توڑ جوڑ،بات چیت، ملاقاتوں کے سلسلے جاری،پیپلز پارٹی 93 جماعت اسلامی 86 اور پی ٹی آئی کی 40 سیٹیں ہیں، میئر کراچی بننے کیلئے 2بڑی جماعتوں کا اتحاد لازمی ہے کیا پیپلز پارٹی جماعت اسلامی کے ساتھ مل کر میئر کراچی لائے گی ؟کیا پیپلز پارٹی جماعت اسلامی کے میئر پر راضی ہوجائے گی؟ کیا جماعت اسلامی پیپلز پارٹی کے میئر پر راضی ہوجائے گی ؟ کیا جماعت اسلامی پی ٹی آئی کے ساتھ اتحاد کرے گی ؟ یا پیپلزپارٹی ، پی ٹی آئی کے ساتھ مل کر کراچی میں حکومت بنائے گی؟ اگر جماعت اسلامی اور پیپلز پارٹی ایک ہوگئے تو ایم کیو ایم کا رد عمل کیا ہوگا ؟ دو بڑی پارٹی نہ ملیں تو کیا کوئی سرپرائز آئے گا؟ اب کیا ہوگا ؟ کیا توڑ جوڑ ہوگا ؟ کراچی کا کپتان کون ہوگا ؟ سب کی نظریں کراچی پر…کون بنے گا کراچی کا کپتان؟

    ،ڈی سی کیماڑی کے دفترکے باہر پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی کے احتجاج کے دوران کارکنان میں تصادم

     پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی کا کراچی بلدیاتی الیکشن کے بعد رابطہ

    شوکت ترین ، تیمور جھگڑا ،محسن لغاری کی پاکستان کے خلاف سازش بے نقاب،آڈیو سامنے آ گئی

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    کراچی کو ایسے فرد کی ضرورت ہے جو اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ لیکر چلے۔

    ، جماعت اسلامی کو چاہیے پیپلزپارٹی کی اکثریت کو مانے

  • پاکستان میں الیکٹرک بائیکس مقبول کیوں نہیں؟

    پاکستان میں الیکٹرک بائیکس مقبول کیوں نہیں؟

    پاکستان میں الیکٹرک بائیکس مقبول کیوں نہیں؟

    پاکستان میں مقامی طور پر پہلی الیکٹرک موٹرسائیکل (ای بائیک) کا افتتاح اس وقت کے وزیراعظم عمران خان نے 8 جولائی 2021 کو ایک تقریب کے دوران کیا تھا. اس ای بائیک کو جولٹا الیکٹرک نامی کمپنی نے تیار کیا جس کی جانب سے متعدد ماحول دوست بائیکس کو بتدریج متعارف کرانے کا دعویٰ کیا گیا تھا. جس میں بائیکس کے مختلف ماڈلز جے ای 70، جے ای 70 ایل، جے ای 70 ڈی، جے ای 100 ایل، جے ای 125 ایل، جے ای اسکوٹی اور جے ای اسپورٹس بائیک صارفین کو دستیابی کا کہا گیا تھا.

    جبکہ ان بائیک بارے میں بتایا گیا تھا کہ ان سب ماڈلز کی رفتار بھی مختلف ہوگی جو 10 سے 60 کلومیٹر فی گھنٹہ ہوگی اور فل چارج بیٹری پر 60 سے 100 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرسکیں گے۔ جبکہ اس وقت کمپنی کی ایک ای بائیک جے ای 70 کو متعارف کرایا گیا تھا جو ماحول دوست، ایندھن فری، اسموک فری، بے آواز اور آلودگی نہیں پھیلائے گی۔

    جولٹا الیکٹرک کے مطابق ے ای 70 مکمل چارج بیٹری پر 80 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور موٹرسائیکل کی بیٹری رات بھر میں چارج ہوسکے گی اور اس دوران بجلی کا ڈیڑھ یونٹ خرچ ہوگا۔ کمپنی کا مزید بتانا تھا کہ بائیک میں کلچ اور گیئرز نہیں جبکہ زیادہ مینٹینیس کی بھی ضرورت نہیں۔ جبکہ پاکستان میں اس ای بائیک کو پاکستان الیکٹروک وہیکل پالیسی 2020۔2025 کے تحت متعارف کرایا گیا تھا. جبکہ اسکی قیمت 80 سے 90 ہزار روپے کے درمیان بتائی گئی تھی.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بارشیں برسانے والا نیا سلسلہ 24 جنوری تک جاری رہنے کا امکان
    فیفا ورلڈ کپ ٹرافی جیتنے پر خراج تحسین،کسان نے مکئی کے کھیت میں میسی کی تصویر بنا دی
    رواں برس ہی روسی افواج کو یوکرینی علاقوں سے نکالنا بہت مشکل ہے،امریکا
    بلوچستان مالی بحران:فوری اقدامات نہ کئےتوہم سخت فیصلے کرنے پرمجبور ہوںگے، وزیراعلیٰ بلوچستان
    جوکچھ امریکن انٹرنیشنل اسکول میں طالبہ کے ساتھ سلوک ہوا اس کی مذمت کرتےہیں:سٹی سکول
    نیا پاکستان اورنیا پاکستان اسلامک سرٹیفکیٹ پرمنافع کی شرح میں اضافہ
    خیال رہے کہ اس بائیک کی شکل اور ڈیزائن تو عام موٹرسائیکلوں جیسا ہی ہے، بس پٹرول انجن کی جگہ ان میں الیکٹرک انجن لگایا گیا ہے۔ لیکن پھر یہ بائیک پاکستان میں مقبول کیونکہ نہیں ؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں الیکٹرک بائیکس کو متعارف کرانا ایک بڑا چیلنج ہے کیونکہ ان بائیکس کی مقامی سطح پر تیاری ہے لیکن حکومت امپورٹڈ بائیکس کے حق میں نہیں ہے کیونکہ اس سے پاکستان کے درآمدی بل میں اضافہ ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں پاکستان میں لوگ پاورفل بائیکس چلانے کے عادی ہیں اور انھیں ماحولیاتی آلودگی اور توانائی کی بچت جیسے عوامل کے بارے میں کچھ زیادہ آگاہی نہیں ہے، اس لیے انھیں قائل کرنے میں بھی وقت لگے گا۔ اور ان بائیکس کے چونکہ کچھ کام مقامی سطح پر جیسے مینٹیننس وغیرہ ہوگئی بارے تمام مستری نہیں جانتے تو اس لیئے ابھی کچھ وقت لگے گا ان کے مقبول ہونے میں.

    واضح کرتا چلوں کہ گزشتہ دنوں وفاقی حکومت نے ملک میں پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمت کے پیش نظر الیکٹرک بائکس متعارف کروانے کا فیصلہ کیا تھا اور 22 پاکستانی کمپنیوں کو الیکٹرک بائیک بنانے کے لائنسنز جاری کر دیے ہیں۔ جو اب یہ بائیکس تیار کریں گی.