Baaghi TV

Tag: politics

  • مسلم لیگ ن کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس طلب

    مسلم لیگ ن کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس طلب

    لاہور:مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے پارٹی کا اہم اجلاس آئندہ ہفتے طلب کر لیا، جس میں سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے نئے عہدیداروں کا چناؤ کیا جائے گا۔

    نواز شریف کی زیر صدارت مسلم لیگ ن کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس آئندہ ہفتے طلب کیا گیا ہے، مریم نواز کی وطن روانگی سے قبل ہونیوالے اجلاس میں سی ای سی کے نئے عہدیداروں کا چناؤ کیا جائے گا۔رپورٹ کے مطابق اجلاس میں پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں کے انتخابات پر امیدواروں کے ناموں کا جائزہ بھی لیا جائے گا۔

    وزیراعظم شہبازشریف کی پنجاب اسمبلی کی تحلیل پر کوئی رکاوٹ نہ ڈالنے کی ہدایت

    دوسری طرف یہ بھی معلوم ہواہے کہ ملک میں مسلسل بدلتی سیاسی صورت حال کے پیش نظر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کا اسی ماہ پاکستان واپس آنے کا امکان ہے۔ذرائع مسلم لیگ (ن) کے مطابق مریم نواز اور سابق وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کا بھی نواز شریف کے ہمراہ اسی ماہ ملک واپس آنے کا امکان ہے۔

    سندھ بلدیاتی انتخابات:ہفتہ کوتعلیمی ادارے بند رکھنےکا اعلان

    ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف، مریم نواز اور حمزہ شہباز پاکستان واپس آ کر انتخابی مہم میں بھرپور حصہ لیں گے۔کچھ ایسا ہی احسن اقبال نے کہا کہ پہلے مریم نواز وطن واپس آئیں گی اور جب ملک میں عام انتخابات کی مہم ہوگی تو اس کی قیادت کرنے کیلئے نواز شریف بھی واپس آجائیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ ایک آئینی بحران پیداہوسکتا ہے کیوں کہ عمران خان کی حکومت نے خود یہ فیصلہ کیا تھا کہ آئندہ انتخابات نئی مردم شماری کے تحت ہوں گے، اب یہ الیکشن کمیشن نے فیصلہ کرنا ہے کہ جب نئی مردم شماری کا عمل جاری ہو تو اس وقت پوری اسمبلی اور عام انتخابات پرانی مردم شماری کے تحت ہوسکتے ہیں یا نہیں؟

  • تحریک آزادی کے ایک اہم رہنما اور شاعر لالہ لال چند فلک

    تحریک آزادی کے ایک اہم رہنما اور شاعر لالہ لال چند فلک

    آگ میں پڑ کر بھی سونے کی دمک جاتی نہیں
    کاٹ دینے سے بھی ہیرے کی چمک جاتی نہیں

    لالہ لال چند فلک

    تاریخ ولادت:13 جنوری 1887ء
    تاریخ وفات:26 مارچ 1967ء
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ہندوستان کی تحریک آزادی کے ایک اہم رہنما اور شاعر لالہ لال چند فلک 13 جنوری1887ء کو اپنے آبائی وطن یعنی ضلع گوجرانوالہ پنجاب پاکستان) کے مشہور قصبے حافظ آباد میں پیدا ہوئے ۔ ان کے والد کی لاہور میں غلّے اور اناج کی دکان تھی ۔ چنانچہ ان کا بچپن اور تعلیمی زمانہ یہیں گزرا۔ 1904ء میں دسویں درجے کی سند حاصل کی۔ اس کے بعد کسبِ معاش کے لیے ملازمت اختیار کی اور چیف انجینیر کے دفتر میں جگہ مل گئی ۔ یہ دہ زمانہ ہے جب انگریز افسر اپنے دلیسی ماتحتوں سے بہت درشتی اور فرعونیت کا برتاؤ کرتے تھے۔ انھوں نے آئے دن اس طرح کے ناخوشگوار حالات دیکھے تو ان کے دل پر بہت اثر ہوا ۔ اس پر وہ ملازمت سے مستعفی ہو گئے اور پھر ساری عمر سرکاری نوکری کے نزدیک نہیں گئے ۔
    کانگریس کی سیاسی تحریک اب روز بروز تیزتر ہو رہی تھی۔ لال چند فلک بھی اس میں شامل ہو گئے ۔ پُرجوش تقریریں اور نظمیں پڑھنے لگے۔ نوبت قید و بند تک پہنچی۔ جون ۱۹۱۷ ء میں بجرم بغاوت ۲۰ سال کے لیے کالے پانی (جزیرہ انڈیمان) کی سزا ہوئی جو بعد کو ۴ اسال کی قید میں تبدیل کر دی گئی ۔ لیکن جب 1920ء میں دستوری اصلاحات کا نفاذ ہوا تو تمام سیاسی قیدی رہا کر دیے گئے، اسی میں انھیں بھی رہائی ملی لیکن ان کا نشہ ایسا نہیں تھا کہ تعزیر و تعذیب کی ترشی اُسے اتار دیتی۔ ان کی سرگرمیوں میں کوئی کمی نہیں آئی ۔
    شعر پر اصلاح منشی دوار کا پر شاد افق لکھنوی سے لی۔ اسی زمانے میں ان کی قومی نظموں کے متعدد مجموعے شائع ہوئے تھے جام فلک ، پیام فلک کلام فلک۔ مہا بھارت بھی بطر زِ ناول نثر میں لکھی تھی ۔ ان کا یہ مصرع ضرب المثل بن چکا ہے .
    تو کبھی بدل، فلک کہ زما نہ بدل گیا
    اس بزرگ قوم پرست شاعر کا 26 مارچ 1967ء کو دلی میں انتقال ہوا۔ ۸۰ سال کی عمر پائی۔
    افسوس، کوشش کے باوجود ان کے کلام کا کوئی مجموعۂ دستیاب نہیں ہوا۔ مندر جہ ذیل چند اشعار بڑی کوشش سے مہیا کر سکا ہوں ۔ ان کا کلام آپ بیتی اوردلی جذبات کا آمیز ہے۔
    آگ میں پڑ کر بھی سونے کی دمک جاتی نہیں
    کاٹ دینے سے بھی ہیرے کی چمک جاتی نہیں
    سِل پر گھس دینے سے بھی جاتی نہیں چندن کی بو
    پھول کی، مٹی میں مل کر بھی ، مہک جاتی نہیں
    رنج میں آتا نہیں نیکوں کی پیشانی پر بل
    دھوپ کی تیزی میں سبزے کی لہک جاتی نہیں
    جا نہیں سکتی کٹہروں میں بھی شیروں کی دھاڑ
    دست گلچیں میں بھی غنچوں کی چٹک جاتی نہیں
    صاحبِ ہمت نہیں دبتا مخالف سے کبھی
    زو ر سے آندھی کے آتش کی بھڑک جاتی نہیں
    نعرہ زن رہتا ہے آفات و حوادث میں دلیر
    بادلوں میں گھر کے بجلی کی کڑک جاتی نہیں
    ملک کی الفت کا جذبہ دل سے مٹ سکتا نہیں
    قوم کی خدمت کی خواہش اے فلک جاتی نہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    دل سے نکلے گی نہ مر کر بھی وطن کی الفت
    میری مٹی سے بھی خوشبوئے وفا آئے گی
    میں اٹھالوں گا بڑے شوق سے اس کو سر پر
    خاک اڑانے کے لیے باد صبا آئے گی
    زندگانی میں تو ملنے سے جھجکتی ہے فلک!
    خلق کو یاد مری بعد فنا آئے گی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    وطن کی پھانس جس دل میں گڑی ہے
    خوشی سے وہ اٹھا تا ہر کڑی ہے
    محن کا ابر ہے رحمت کا بادل
    گھٹا آفت کی ، ساون کی جھڑی ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ماخوذ از تذکرۂ معاصرین، مصنف:مالک رام

  • سیّد محمد علی جمال زادہ۔ ایک ایرانی ادیب، افسانہ نگار، مزاح نگار اور مترجم

    سیّد محمد علی جمال زادہ۔ ایک ایرانی ادیب، افسانہ نگار، مزاح نگار اور مترجم

    پیدائش:13 جنوری 1892ء
    اصفہان
    وفات:08 نومبر 1997ء
    جنیوا
    شہریت:ایران
    پیشہ:ماہرِ لسانیات، مصنف، مؤرخ
    ناول نگار، مترجم، شاعر
    زبان:فارسی

    سیّد محمد علی جمال زادہ۔ ایک ایرانی ادیب، افسانہ نگار، مزاح نگار اور مترجم تھے۔
    حالات زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    سید محمد علی جمال زادہ اصفہانی، 13 جنوری 1892ء کو اصفہان پیدا ہوئے۔ پھر آپ کا گھرانہ تہران منتقل ہوگیا۔ آپ نے تہران اور بیروت میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد پھر فرانس میں قانون کی ڈگری بھی حاصل کی۔ جمال زادہ کے مقالات فارسی اور جرمنی زبان میں بے شمار ہیں۔ آپ روز نامہ ”کاوہ“ کے مدیر بھی رہے۔ بعد میں برلن کے ایرانی سفارت خانے میں ملازم ہوگئے۔ پھر سوئٹزرلینڈ چلے گئے اور انجمن بین المللی کے دفتر میں جو جینیوا ہے، اس میں تقریباً 27 سال کام کیا۔ ان کی شہرت کا آغاز اس زمانہ میں ہوا جب 1921ء میں انھوں نے اپنے افسانوں کا پہلا مجموعہ ”یکے بود ویکے نبود“ شائع کیا۔ جو چھ افسانوں پر مشتمل تھا، اس کے بعد آپ کے مزید افسانوی مجموعے شائع ہوئے۔ آپ نے تاریخ و ادب اور سیاسی اور سماجی کتب بھی تحریر کیں۔
    سید محمد علی جمال زادہ فارسی افسانہ نویسی میں ایک ممتاز مقام کے مالک ہیں۔ انھوں نے ہی سب سے پہلے فنِ افسانہ نویسی کو ایران میں شروع کیا۔ محمد علی جمال زادہ نے افسانوں میں قصوں اور لوک کہانیوں کے انداز کو چھوڑ کر حقیقت نگاری کا نیا انداز اختیار کیا ہے۔ فارسی زبان پر انھیں پوری دسترس حاصل تھی۔ اپنے افسانوں میں انھوں نے نہ صرف عام اور روز مرہ کی زبان اور محاورے استعمال کیے گئے بلکہ سیاسی اورسماجی موضوعات کے ساتھ طنزیہ پیرایہ بھی استعمال کیا گیا۔ جمال زادہ کی کہانیوں میں پلاٹ کو مرکزیت حاصل رہتی ہے اور وہ اپنی کہانیوں کا اختتام موپاساں اور او ہینری کی طرح ڈرامائی اور چونکانے والے انداز میں کرتے ہیں لیکن انھوں نے زبان کا جو انداز اختیار کیا، اس نے فارسی میں افسانے کے لیے جس زبان کی بنیاد رکھی، وہ اب تک برقرار ہے۔ محمد علی جمال زادہ 8 نومبر 1997ء کو جینیوا سوئزرلینڈ میں انتقال کر گئے۔
    تصانیف
    ۔۔۔۔۔۔
    تاریخ و ادب
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)گنج شایان ( 1335 ہجری)
    ۔ (شایان کا خزانہ)
    ۔ (2)تاریخ روابط روس با ایران
    ۔ ( 1372ہجری) (ایران روس تعلقات)
    ۔ (3)پندنامۂ سعدی یا گلستان نیکبختی
    ۔ (1317ہجری) (پندنامۂ سعدی)
    ۔ (4)قصہ قصہ ہا
    ۔ (از روی قصص المعمای تنکابنی
    ۔ 1321ہجری) (کہانیوں کی کہانی)
    ۔ (5)بانگ نای
    ۔ (داستان ہای مثنوی معنوی
    ۔ 1337ہجری) (پائپ کی آواز)
    ۔ (6)فرہنگ لغات عوامانہ
    ۔ (1341ہجری) (عوامی لغت)
    ۔ (7)طریقۂ نویسندگی و داستان سرایی
    ۔ (1345ہجری) (کہانی نویسی
    ۔ اور داستان سرائی کے طریقے)
    ۔ (8)سرگزشت حاجی بابای اصفہانی
    ۔ (1348ہجری) (سرگزشت حاجی بابا اصفہانی)
    ۔ (9)اندک آشنایی با حافظ
    ۔ (1366ہجری)
    ۔ (حافظ کے ساتھ تھوڑی سی آشنائی)
    کہانیاں افسانے
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)یکی بود، یکی نبود
    ۔ (1300ہجری)
    ۔ (ایک دفعہ کا ذکر)
    ۔ (2)عمو حسینعلی (جلد اول شاہکار)
    ۔ (1320ہجری) (حیاتِ چچا حسین علی )
    ۔ (3)سر و تہ یہ کرباس (1323ہجری)
    ۔ (1944) (کینوس کے اوپر و نیچے)
    ۔ (4)دارالمجانین (1321ہجری)
    ۔ (1942) (پاگل خانہ)
    ۔ (5)زمین، ارباب، دہقان
    ۔ (زمین، جاگیردار، کسان)
    ۔ (6)صندوقچہ اسرار (1342ہجری)
    ۔ (1963) (صندوقچۂ اسرار)
    ۔ (7)تلخ و شیریں (1334ہجری)
    ۔ (1955) (تلخ و شیرین )
    ۔ (8)شاہکار (دوجلدیں) (1337ہجری)
    ۔ (شاہکار )
    ۔ (9)فارسی شکر است(فارسی میٹھی ہے)
    ۔ (10)راہ آب نامہ(راہ آب نامہ)
    ۔ (11)قصہ ہای کوتاہ برای
    ۔ بچہ ہای ریش دار (1352ہجری)
    ۔ 1973) (داڑھی * والے بچوں کے لیے
    ۔ مختصر کہانیاں )
    ۔ (12)قصۂ ما بہ سر رسید
    ۔ (1357ہجری)
    ۔ (1978)
    ۔ (ختم ہو گئی ہماری کہانی)
    ۔ (13)قلتشن دیوان (1325ہجری)
    ۔ (1946)
    ۔ (دیوانِ قلتشن)
    ۔ (14)صحرای محشر
    ۔ (عذاب کا صحرا)
    ۔ (15)ہزار پیشہ (1326ہجری)
    ۔ (1947)
    ۔ (ہزار پیشے والا فرد)
    ۔ (16)معصومہ شیرازی
    ۔ (1333ہجری)
    ۔ (1954)
    ۔ معصومہ شیرازی )
    ۔ (17)ہفت کشور(سات ممالک)
    ۔ (18)قصہ ہای کوتاہ قنبرعلی
    ۔ (1338ہجری)
    ۔ (1959)
    ۔ (قنبر علی مختصر کہانیاں )
    ۔ (19)کہنہ و نو
    ۔ (نئی اور پرانی )
    ۔ (20)یاد و یاد بود
    ۔ (نصیحت اور یادگار)
    ۔ (21)قیصر و ایلچی
    ۔ کالیگولا امپراتور روم
    ۔ (رومن شہنشاہ کالیگولا
    ۔ قیصر اور ایلچی)
    ۔ (21)غیر از خدا ہیچکس نبود
    ۔ (1340ہجری)
    ۔ (1961)
    ۔ (خدا کے سوا کوئی نہیں )
    ۔ (22)شورآباد
    ۔ (1341ہجری)
    ۔ (1962)
    ۔ (شورآباد )
    ۔ (23)خاک و آدم
    ۔ (مٹی اور آدم)
    ۔ (24)آسمان و ریسمان
    ۔ (1343ہجری)
    ۔ (1964)
    ۔ (آسمان اور ڈور)
    ۔ (25)مرکب محو
    ۔ (1344ہجری)
    ۔ (1965)
    ۔ (غائب سیاہی )
    سیاست ومعاشرت
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)آزادی وحیثیت انسانی
    ۔ (1338ہجری)
    ۔ (آزادی و انسانی وقار)
    ۔ (2)خاک وآدم
    ۔ (1340ہجری)
    ۔ (مٹی اور آدم)
    ۔ (3)زمین، ارباب، دہقان
    ۔ (1341ہجری)
    ۔ (زمین، جاگیردار، کسان)
    ۔ (4)خلقیات ما ایرانیان
    ۔ (1345ہجری)
    ۔ (ایران کی ہماری اقدار)
    ۔ (5)تصویر زن
    ۔ در فرہنگ ایران
    ۔ (1357ہجری)
    ۔ (ایران میں خواتین کی تصویر)
    تراجم
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1)قہوہ خانہ سورات
    ۔ یا جنگ ہفتاد ودو ملت
    ۔ (برنارڈن دی سینٹ پیرے)
    ۔ (1340ہجری)
    ۔ (سورت کافی ہاؤس
    ۔ Le Café du Surat by
    ۔ Bernardin de Saint-Pierre)
    ۔ (2)ویلہلم تل (فیڈرک شیللر)
    ۔ (1334ہجری)
    ۔ (ویلہم ٹیل
    ۔ Wilhelm Tell by
    ۔ Friedrich Schiller)
    ۔ (3)داستان بشر (ہنڈرک وان لون)
    ۔ (1335ہجری)
    ۔ (داستانِ بشر
    ۔ The Story of Mankind
    ۔ by Hendrik Willem
    ۔ van Loon)
    ۔ (4)دون کارلوس (فیڈرک شیلر)
    ۔ (ڈون کارلوس
    ۔ Don Carlos by
    ۔ Friedrich Schiller)
    ۔ (5)خسیس (مولیر)
    ۔ (کنجوس L’Avare by Molière)
    ۔ (6)داستان ہای برگزیدہ
    ۔ (اہم داستان)
    ۔ (7)دشمن ملت (ہینرک ایبسن)
    ۔ (قوم کا دشمن
    ۔ En Folkerfiende
    ۔ by Henrik Ibsen)
    ۔ (8)داستانہای ہفت کشور
    ۔ (مجموعہ)
    ۔ (سات ملکوں کی کہانیاں )
    ۔ (9)بلای ترکمن در ایران قاجاریہ
    ۔ (بلوک ویل)
    ۔ (10)قنبرعلی جوانمرد شیراز
    ۔ (آرتور کنت دوگوپینو)
    ۔ (11)سیر وسیاحت در ترکستان وایران
    ۔ (ہانری موزر)
    ۔ (12)جنگ ترکمن (کونٹ دی گبینو)
    ۔ (جنگِ ترکمان
    ۔ Turkmen War by
    ۔ Conte de Gobineau)
    ۔ (13)کباب غاز
    دیگر
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1)کشکول جمالی
    ۔ (2)صندوقچۂ اسرار

  • چھوڑجانےکی بات مت کرنا​ دل دکھانےکی بات مت کرنا​:شہبازشریف،زرداری،مولاناایم کیوایم کی منتیں‌کرنےلگے

    چھوڑجانےکی بات مت کرنا​ دل دکھانےکی بات مت کرنا​:شہبازشریف،زرداری،مولاناایم کیوایم کی منتیں‌کرنےلگے

    کراچی :متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے حکومت چھوڑنے کے خدشات کے بعد وزیر اعظم شہباز شریف،آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمان نےالگ، الگ خالد مقبول صدیقی سے رابطہ کیا ہے۔ایم کیو ایم پاکستان کی رابطہ کمیٹی نے اپنے ارکان قومی اسمبلی سے استعفے طلب کرلیے ہیں، بہادرآباد میں ہونے والے رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں ایم کیو ایم نے وفاقی کابینہ اور حکومت سے علیحدگی اور دیگر آپشنز پر غور کیا گیا۔

    یکم فروری تک پارٹی الیکشن نہ ہوئے تو انتخابی نشان واپس لے لیں گے،الیکشن کمیشن

    ایم کیو ایم رہنما خواجہ اظہار الحسن کا کہنا تھا کہ رابطہ کمیٹی کے بعض ارکان کی رائے ہے15 جنوری کو بلدیاتی الیکشن ہو تو حکومت سے علیحدہ ہوجائیں، حتمی فیصلہ کل ایم کیوایم کے جنرل ورکرز اجلاس میں ہوگا۔ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم کی جانب سے حکومت چھوڑنے پر غور کیے جانے پر وزیر اعظم شہباز شریف نے خالد مقبول سے رابطہ کرتے ہوئے ان کے تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

    الیکشن کمیشن کے نوٹس پر سعید غنی پیش،دستاویزی شواہد فراہم کر دیئے

    ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نے خالد مقبول کو یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا ہے کہ آج رات میں ہی تحفظات دور کیے جائیں گے ۔

    دوسری جانب ٹیلیفونک رابطے میں سابق صدر آصف علی زرداری کی جانب سے خالد مقبول صدیقی کو یقین دہانیاں کراتے ہوئے مل بیٹھ کر تمام مسائل حل کرنے کی پیشکش کی ہے۔ پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے بھی خالد مقبول صدیقی سے ٹیلیفونک رابطہ کرتے ہوئے خالد مقبول صدیقی کو صبر سے کام لینے کا مشورہ دیا ہے۔

    بلدیاتی انتخابات شیڈول کے مطابق ہوں گے. ترجمان الیکشن کمیشن سندھ

    علاوہ ازیں خالد مقبول صدیقی بہادر آباد مرکز سے روانہ ہوگئے، اس موقع پر انہوں نے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آصف زرداری سے رابطہ ہوا ہے، انہوں نےکہا ہمیں آپ کی مشکلات کا اندازہ ہے۔خالدمقبول صدیقی نے کہا کہ مطالبات پورے نہ ہونےکی صورت میں دو گھنٹے بعد دوبارہ بیٹھیں گے،انتخابات ملتوی کرنے کیلئے دو آپشن حکومت کے پاس موجود ہیں۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ گورنر سندھ کا بھی آصف زرداری اور خالدمقبول صدیقی سے ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے۔

  • ایم کیو ایم کاحکومت سےعلیحدگی پرغور،2 وزراء ایک معاون خصوصی نےاستعفے جمع کرادیے

    ایم کیو ایم کاحکومت سےعلیحدگی پرغور،2 وزراء ایک معاون خصوصی نےاستعفے جمع کرادیے

    کراچی :متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کی رابطہ کمیٹی نے اپنے ارکان قومی اسمبلی سے استعفے طلب کرلیے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بہادرآباد میں ہونے والے رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں ایم کیو ایم نے وفاقی کابینہ اور حکومت سے علیحدگی اور دیگر آپشنز پر غور کیا۔

    بلوچستان کے42پارلیمنٹرینزنےاپنےاوراہلخانہ کےاثاثوں کی تفصیلات الیکشن کمیشن کوجمع…

    ذرائع کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کی جانب سے 24 گھنٹوں میں اہم اعلان متوقع ہے، متحدہ نے کل پی آئی بی گراؤنڈ میں جنرل ورکرز اجلاس بھی بُلایا ہے۔ ایم کیوایم کے 2 وفاقی وزراء اور ایک معاون خصوصی نے استعفے ایم کیوایم رابطہ کمیٹی کوجمع کرادیے ہیں۔ وفاقی وزراء امین الحق اور فیصل سبزواری کی جانب سے استعفے رابطہ کمیٹی کو جمع کروائے گئے ہیں۔

    بلوچستان کے42پارلیمنٹرینزنےاپنےاوراہلخانہ کےاثاثوں کی تفصیلات الیکشن کمیشن کوجمع…

    ایم کیو ایم رہنما خواجہ اظہار الحسن کا کہنا ہے کہ رابطہ کمیٹی کے بعض ارکان کی رائے ہے15 جنوری کو بلدیاتی الیکشن ہو تو حکومت سے علیحدہ ہوجائیں، حتمی فیصلہ کل ایم کیوایم کے جنرل ورکرز اجلاس میں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ 15 جنوری کوالیکشن ہوپائیں گے، آئینی تشریح کی ضرورت ہے جس کیلئے عدالتوں سے رجوع کرنا پڑے گا، الیکشن کمیشن کل حلقہ بندیاں ٹھیک کروادے پرسوں ہم الیکشن میں حصہ لیں گے، ایم این ایزکی نشستیں پارٹی کی امانت ہوتی ہیں، پہلےدن ہی استعفیٰ پارٹی کو دے دیتے ہیں۔

    یکم فروری تک پارٹی الیکشن نہ ہوئے تو انتخابی نشان واپس لے لیں گے،الیکشن کمیشن

    خواجہ اظہار نے کہا کہ کراچی میں جماعت اسلامی ایم کیوایم کے مقابلے میں کبھی الیکشن نہیں جیتی، ایم کیوایم کے بائیکاٹ کے بعد جماعت اسلامی کے نمائندے کراچی میں جیتے۔خیال رہے کہ گزشتہ روز دھڑوں کے یکجا ہونے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا تھا کہ وفاقی و صوبائی حکومتوں سے باہر نکل آئيں، شارع فیصل پر دھرنا دیں دیکھتے ہیں کیسے 15 جنوری کو بلدیاتی الیکشن ہوتاہے۔

  • کراچی الیکشن، ایم کیو ایم کا تاخیر کا مطالبہ، کب ہوں گے کچھ نہیں کہہ سکتا، شرجیل میمن

    کراچی الیکشن، ایم کیو ایم کا تاخیر کا مطالبہ، کب ہوں گے کچھ نہیں کہہ سکتا، شرجیل میمن

    کراچی الیکشن، ایم کیو ایم کا تاخیر کا مطالبہ، کب ہوں گے کچھ نہیں کہہ سکتا، شرجیل میمن

    ایم کیو ایم کے رہنما، سابق وفاقی وزیر فروغ نسیم نے کہا ہے کہ سندھ حکومت نے نئی یوسیز بنائی ہیں سندھ حکومت کی بنائی گئی یوسیز کی آبادی صحیح نہیں ہے

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم نے حلقہ بندیوں کو چیلنج کیا،بلدیاتی ایکٹ کے تحت سندھ حکومت نے حلقہ بندیاں بنائی ںمہاجرآبادی کے ووٹ کو تقسیم کرنے کی سازش کی گئی،حلقہ بندیوں کے معاملے پر سپریم کورٹ سے رجوع کیا سپریم کورٹ میں ایم کیو ایم کی بات سنی گئی،ایم کیو ایم نے جب قائل کیا تو سندھ حکومت نے 10دن کاآرڈرپاس کیا،جہاں ہمارا یک ووٹر تھا دوسرے حلقے میں 3ووٹرز تھے،سپریم کورٹ کے کہنے پر سندھ حکومت نے ہمیں قائل کرنے کی کوشش کی،پی ٹی آئی نے ہماری درخواست کو کاپی پیسٹ کیا،ہم کراچی کے حقوق کی بات کررہے ہیں،کچھ لوگوں کو بہت جلدی ہے کہ الیکشن ہوجائیں ،انہیں ایم کیو ایم کے دوبارہ متحد ہونے سے تکلیف ہے،اس جلد بازی سے انہیں بھی کچھ حاصل نہیں ہوگا،یہ چاہتے ہیں کہ کراچی اور حیدر آباد کے شہری مزید 5 سال ان مسائل کوجھیلیں ہم الیکشن سے بھاگ نہیں رہے آپ کو بھگائیں گے یہ ایم کیو ایم کا نہیں کراچی کا مقدمہ ہے ،

    فیصل سبزواری کا کہنا تھا کہ کراچی کی حلقہ بندیاں شفاف نہیں ہیں غلط حلقہ بندیاں کرکے کراچی اور حیدرآبادکاحق مارا گیا،
    ایم کیو ایم کے 51 ایم پی ایز کے علاقوں میں حلقہ بندی قانون کیخلاف کوئی نہیں کھڑا تھا ،2013میں پی ٹی آئی کے4 ایم پی ایز نےحلقہ بندی قانون کے حق میں ووٹ دیا تھا ،پی ٹی آئی آج بلدیاتی الیکشن کے حوالے سے چیمپئن بنی رہی ہے،ایم کیو ایم الیکشن سے نہیں بھاگ رہی،صاف وشفاف انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے،

    فاروق ستار کا کہنا تھا کہ نہ تو ہم نے الیکشن کمیشن کی توہین کی اور نہ عدالت کی ،حلقہ بندیوں کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلےکا کیا کریں گے؟ ہمیں سپریم کورٹ نے ہی دونوں فورم سے رجوع کا حکم دیا تھا ،سندھ حکومت نے غلطی کا اعتراف کیا اور اس پر کمیٹی بنائی ہے الیکشن کمیشن کی جانب سے ایم کیو ایم تو کیاصوبائی حکومت کو بھی نہیں سنا گیا،

    دوسری جانب تحریک انصاف کے رہنما فردوس شمیم نقوی کا کہنا ہے کہ ہمیں الیکشن کمیشن سندھ حکومت کے سامنے بےبس نظر آتا ہےہم انکے آرڈیننس کا انتظار کر رہے ہیں،آرڈیننس رات کے اندھیرے میں آئے گا،ہم ان کےکیخلاف عدالت جائیں گے،یہ پہلے ہی 4 مرتبہ الیکشن ملتوی کرچکے ہیں،آج الیکشن مہم کا آخری دن تھا اورامیدوار تذبذب کا شکار ہیں،

    علاوہ ازیں سندھ کے صوبائی وزیر شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ مجھے نہیں پتہ کہ 15جنوری کو الیکشن ہونگے یا نہیں،الیکشن کے حوالے سے قانونی ماہرین سے مشورہ کرکے رہے ہیں،بلدیاتی انتخابات رکوانے سے متعلق آرڈیننس کے حوالے سے کوئی علم نہیں،

    رمضان شوگر ملز کو این او سی جاری کرنے کے خلاف پنجاب حکومت کی انٹرا کورٹ اپیل مسترد
    آٹا بحران کیس؛ پشاور ہائیکورٹ کا سیکریٹری فوڈ و دیگر کو مارکیٹ کا دورہ کرنیکا حکم
    لیپ ٹاپ گم ہونے پر گاہک نےغصے میں اپنی کار ہوٹل پر دے ماری
    نادیہ خان 38 ہزار ڈالرز گنوا بیٹھیں. اداکارہ نے دلچسپ واقعہ سنا کر حیران کر دیا
    عدلیہ اورنیب کو درخواست کرتا ہوں جھوٹے کیسز ختم کیے جائیں. وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ

    واضح رہے کہ سندھ حکومت نے گزشتہ روز کراچی، حیدر آباد اور دادومیں 15 جنوری کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کا اعلان کیا تھا جبکہ نئی حلقہ بندیوں سے متعلق نوٹیفکیشن بھی واپس لے لیا تھا۔ تا ہم الیکشن کمیشن نے سندھ حکومت کی کراچی اور حیدرآباد میں بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے الیکشن 15 جنوری کو ہی کروانے کا فیصلہ کیا۔ سندھ میں 15 جنوری کو بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے سے متعلق الیکشن کمیشن کے ہنگامی اجلاس میں سندھ حکومت کے اقدام پر برہمی کا اظہارکیا گیا۔

  • جس نے پاکستان کو چلانا ہے وہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ نہیں لڑسکتا،عمران خان

    جس نے پاکستان کو چلانا ہے وہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ نہیں لڑسکتا،عمران خان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیاں معاف کردوں گا،

    عمران خان کا کہنا تھا کہ اعظم سواتی شہباز گل کے ساتھ ہوئے سلوک کو بھی معاف کرنے کے لئے تیارہیں،مجھ پر گولیاں مارنے والوں کو بھی معاف کرنےکو تیارہوں ، فوج کے بغیر پاکستان آگے نہیں بڑھ سکتا، کورونا ،پولیو ویکسینیشن میں آرمی کو بہت قریب سے دیکھا ہے ،فوج نے کورونا اور پولیو ویکسینیشن کے لئے قابل قدر کام کیا ہے،یہ بھی سوچنا ہوگا کہ ملک کو موجودہ صورتحال سے کیسے نکالنا ہے؟ جس نے پاکستان کو چلانا ہے وہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ نہیں لڑسکتا،فوج اچھائی کی سب سے بڑی قوت بن سکتی ہے،

    عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ پنجاب کی خواتین اراکین اتنا اچھا پرفارم کرینگی،پنجاب میں ہماری خواتین کو غیر معمولی لالچ دی گئی ،انہوں نے سب کچھ ٹھکرا دیا، ملکی خزانہ کو لوٹنے والوں کے علاوہ میں سب سے مفاہمت پر یقین رکھتا ہوں ، میں بہت جلد انتخابات دیکھ رہا ہوں ، تین سال کی محنت سے انڈسٹری کو اٹھایا تھا اب دوبارہ پھر محنت کرنا ہوگی، مونس الہیٰ ڈٹ گیا، میں چودھری پرویز الہیٰ کی قدر کرتاہوں، پرویز الہیٰ نے لالچ کے ہر حربے کو ٹھکرا دیا،پرویز الہیٰ اور مونس پر کیسز بنانے کے لئے ڈرایا گیا،مونس الہیٰ بہت سمجھدا ر نوجوان ہے،

    متحدہ عرب امارات کا قومی دن مبارک ہو!!! — بلال شوکت آزاد

    متحدہ عرب امارات کے51 ویں قومی دن پر تصویری نمائش کا انعقاد

    وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ سے متحدہ عرب امارات کے ہم منصب کی ٹیلی فونک بات چیت 

    سیلاب متاثرین کی مدد میں متحدہ عرب امارات کا مثالی کردار

  • وزیراعظم کے دورہ یو اے ای پر مشترکہ اعلامیہ جاری

    وزیراعظم کے دورہ یو اے ای پر مشترکہ اعلامیہ جاری

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے 12-13 جنوری کو متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا،اس حوالہ سے مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیاہے کہ وزیراعظم نے اماراتی صدر شیخ محمد بن زاید النہیان کی دعوت پر متحدہ عرب امارات کا سرکاری دورہ کیاعہدہ سنبھالنے کے بعد وزیراعظم کا یہ تیسرا دورہ تھا وزیراعظم شہباز شریف نے شیخ محمد بن زید النہیان سے دوطرفہ ملاقات کی وزیراعظم کو صدارتی محل میں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا نتہائی گرمجوشی اور دوستانہ ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا سیاسی، دفاعی، اقتصادی، تجارتی اور ثقافتی شعبوں میں تعاون بڑھانے، مشترکہ منصوبوں کو فروغ دینے اور انسانی وسائل کے شعبے میں تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے مخصوص اقدام پر بھی تبادلہ خیال کیا .

    جاری اعلامیہ کے مطابق وزیراعظم نے پاکستان میں حالیہ سیلاب کے دوران خاص طور پر اس مقصد کے لیے قائم کیے گئے ہوائی پل کے ذریعے متحدہ عرب امارات کی فراخدلانہ مدد پر عزت مآب شیخ محمد بن زید النہیان کا شکریہ ادا کیا ،دونوں رہنمائوں نے سٹریٹجک شراکت داری اور تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے مشاورت اور تعاون کو تیز کرنے پر اتفاق کیا ،خاص طور پر انفارمیشن اور کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں اور ڈیجیٹل تقسیم کو ختم کرنے کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا ،پاکستان اور متحدہ عرب امارات نے اپنے تاریخی اور برادرانہ تعلقات کا اعادہ کیا، مشترکہ مذہب، ثقافت، اقدار اور علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کے حصول میں ہیں۔ دونوں فریقوں نے متعدد علاقائی اور عالمی امور پر خیالات کے یکسانیت پر اطمینان کا اظہار کیا،اپنے دہائیوں پرانے برادرانہ تعلقات کی بنیاد پر، دونوں ممالک نے اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کی کوششوں میں ایک دوسرے کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ،اہم شعبوں میں ٹھوس اور بامعنی دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے کے مقصد کے ساتھ، دونوں ممالک نے اپنی اسٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط بنانے کے لیے مشاورت اور تعاون کو تیز کرنے پر اتفاق کیا ،دونوں فریقوں نے انسانی اسمگلنگ سے نمٹنے، معلومات کے تبادلے اور دونوں ممالک کی سفارتی اکیڈمیوں کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے

    متحدہ عرب امارات کا قومی دن مبارک ہو!!! — بلال شوکت آزاد

    متحدہ عرب امارات کے51 ویں قومی دن پر تصویری نمائش کا انعقاد

    وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ سے متحدہ عرب امارات کے ہم منصب کی ٹیلی فونک بات چیت 

    سیلاب متاثرین کی مدد میں متحدہ عرب امارات کا مثالی کردار

    سعودی عرب میں طوفان ابھی تھما نہیں، فوج کے ذریعے تبدیلی آ سکتی ہے،سعودی ولی عہد کو کن سے ہے خطرہ؟ مبشر لقمان نے بتا دیا

    محمد بن زید النہیان متحدہ عرب امارات کے نئے صدر بن گئے،

    وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی سے متحدہ عرب امارات کے سفیر حماد عبید ابراہیم سلیم الزیبی کی ملاقات

    مقامی ہوٹل میں متحدہ عرب امارات کے 51ویں قومی دن کی تقریب منعقد ہوئی

    وزیراعظم نے شیخ محمد بن زید النہیان کو بعد کی تاریخ میں پاکستان کے دورے کی دعوت دی ،یو اے ای کی قیادت نے دعوت قبول کر لی۔علاقائی سیاسی اور سلامتی کے امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے سیاسی، دفاعی، اقتصادی، تجارتی اور ثقافتی شعبوں میں تعاون بڑھانے، مشترکہ منصوبوں کو فروغ دینے اور انسانی وسائل کے شعبے میں تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے مخصوص اقدام پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

  • عالمی بینک کے وفد کی فیصل کریم کنڈی سے ملاقات؛ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو سراہا

    عالمی بینک کے وفد کی فیصل کریم کنڈی سے ملاقات؛ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو سراہا

    دوران ملاقات عالمی بینک نے بی آئی ایس پی کے مستحقین کے اندراج اور رقوم کی ادائیگیوں کے جدید طریقہ کار کو سراہا.

    وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ / وزیر مملکت فیصل کریم کنڈی نےآج اسلام آباد میں مسٹر لائر ایرساڈو Mr. Lire Ersado کی سربراہی میں عالمی بینک کے ایک وفد سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران عالمی بینک کے وفد نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کی جانب سے مستحق خواتین کے اندراج اور رقوم کی ادائیگی کے طریقہ کار میں شفافیت کو یقینی بنانے کیلئے جدید طریقہ کار کو سراہا۔

    فیصل کریم کنڈی نے وفد کو بی آئی ایس پی کے مختلف اقدامات کے بارے میں آگاہ کیا۔ عالمی بینک کے وفد نے پاکستان میں تخفیف غربت کے لیے بی آئی ایس پی کو اپنے ہرممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی اور مستحقین میں نقد رقم کی تقسیم اور ڈائنامک رجسٹری کے تحت رجسٹریشن کے عمل کا جائزہ لینے کے لیے بی آئی ایس پی کے فیلڈ دفاتر کا دورہ کرنے کی خواہش بھی ظاہر کی۔


    مسٹر لیئر ایرساڈو نے بی آئی ایس پی کو مکمل طور پر غیر سیاسی قرار دیتے ہوئے کہا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز اس پروگرام میں گہری دلچسپی ظاہر کرتے ہیں۔ وفد نے بی آئی ایس پی کے سیلاب ریلیف پیکیج کی تقسیم کے دوران سیکھے گئے تجربات کو آئندہ اجلاس میں عالمی بینک کے ماہرین سے شیئر کرنے کی خواہش بھی ظاہر کی۔ وفد کے سربراہ نے کہا کہ عالمی بینک کو بی آئی ایس پی کے کرائسز ریسیلینٹ سوشل پروٹیکشن (سی آر آئی ایس پی) پراجیکٹ پر فخر ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    رمضان شوگر ملز کو این او سی جاری کرنے کے خلاف پنجاب حکومت کی انٹرا کورٹ اپیل مسترد
    آٹا بحران کیس؛ پشاور ہائیکورٹ کا سیکریٹری فوڈ و دیگر کو مارکیٹ کا دورہ کرنیکا حکم
    لیپ ٹاپ گم ہونے پر گاہک نےغصے میں اپنی کار ہوٹل پر دے ماری
    نادیہ خان 38 ہزار ڈالرز گنوا بیٹھیں. اداکارہ نے دلچسپ واقعہ سنا کر حیران کر دیا
    عدلیہ اورنیب کو درخواست کرتا ہوں جھوٹے کیسز ختم کیے جائیں. وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ
    ملاقات کے دوران وزیر مملکت فیصل کنڈی نے وفد کو بی آئی ایس پی کے مختلف اقدمات جیسے ڈائنامک سروے کے آغاز، بینظیر کفالت سے مستفید ہونے والوں کے لیے 55 ارب روپے کے اجراء، بینظیر تعلیمی وظائف کے مستحقین کے لیے 13 ارب کی ادائیگی، کفالت پروگرام میں خواجہ سراؤں کی شمولیت، حالیہ سیلاب سے متاثر ہونے والے بی آئی ایس پی مستحقین کے لیے 70 ارب کے پیکج اورسابقہ حکومت میں نکالےگئے 8 لاکھ سے زائد بی آئی ایس پی مستحقین کے لیے اپیل کا طریقہ کار متعارف کرانے کے حوالے سے آگاہ کیا۔

  • تحریک انصاف کی پارٹی پالیسی سے منحرف اراکین کیخلاف کارروائی

    تحریک انصاف کی پارٹی پالیسی سے منحرف اراکین کیخلاف کارروائی

    تحریک انصاف کی پارٹی پالیسی سے منحرف اراکین کیخلاف کارروائی

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے پنجاب اسمبلی میں اعتماد کے ووٹ کے وقت غیر حاضر رہنے والے 2 اراکین کو شوکاز نوٹسز جاری کرتے ہوئے پارٹی پالیسی سے منحرف اراکین کے خلاف کارروائی کا آغاز کردیا ہے پنجاب اسمبلی میں اعتماد کے ووٹ کے دوران غیر حاضر رہنے والے 2 اراکین کو شوکاز نوٹسز جاری کردیئے، جن میں ممومنہ وحید اور فیصل فاروق چیمہ شامل ہیں۔

    14 جنوری کو دونوں رہنما ذاتی حیثیت میں پارٹی چئیرمین عمران خان کے روبرو پیش ہوں گے، جنہیں آرٹیکل 63 اے کے تحت کارروائی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ پارٹی کی جانب سے جاری کردہ شوکاز میں کہا گیا ہےکہ آپ نے بطور پارلیمانی رکن پی ٹی آئی کی واضح پالیسی سے انحراف کیا، واضح ہدایات کے باوجود دونوں اراکین نے انحراف کیا۔

    خیال رہے کہ گزشتہ دنوں پرویز الہیٰ نے پنجاب اسمبلی سے 186 ووٹ لے کر اعتماد کا ووٹ حاصل کرلیا تھا جبکہ ووٹنگ کے موقع پر اپوزیشن اراکین نے کارروائی کا بائیکاٹ کیا۔ اور پھر یہ بات سامنے آئی کہ پاکستان تحریک انصاف نے دو رہنماء جن میں مومنا وحید اور فیصل فاروق ہیں نے اس میں حصہ نہیں لیا تھا.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    رمضان شوگر ملز کو این او سی جاری کرنے کے خلاف پنجاب حکومت کی انٹرا کورٹ اپیل مسترد
    آٹا بحران کیس؛ پشاور ہائیکورٹ کا سیکریٹری فوڈ و دیگر کو مارکیٹ کا دورہ کرنیکا حکم
    لیپ ٹاپ گم ہونے پر گاہک نےغصے میں اپنی کار ہوٹل پر دے ماری
    نادیہ خان 38 ہزار ڈالرز گنوا بیٹھیں. اداکارہ نے دلچسپ واقعہ سنا کر حیران کر دیا
    عدلیہ اورنیب کو درخواست کرتا ہوں جھوٹے کیسز ختم کیے جائیں. وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ
    یاد رہے کہ اجلاس کے دوران پی ٹی آئی نے جیت کے نعرے لگائے، اپوزیشن نے جعلی گنتی نامنظور کے نعرے لگائے، اپوزیشن اراکین کی جانب سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی آج ہی اعتماد کا ووٹ لیں۔ جبکہ اسپیکر سبطین خان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن ارکان نشستوں پر تشریف رکھیں، تاہم ن لیگی ارکان پنجاب حکومت کے خلاف مسلسل نعرے لگاتے رہے۔