Baaghi TV

Tag: politics

  • اسمبلی تحلیل کرنا یا نہ کرنا ایک سیاسی فیصلہ ہے،بیرسٹرعلی ظفر

    اسمبلی تحلیل کرنا یا نہ کرنا ایک سیاسی فیصلہ ہے،بیرسٹرعلی ظفر

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب میں کئی روز سے جاری بحران آج ختم ہوا ہے، عدم اعتماد کے ووٹ کی کہانی کا سلسلہ ایک بار پھر آج ختم ہوا تا ہم دوبارہ سیاسی سرگرمیاں تیز ہو سکتی ہیں

    گورنر پنجاب بلیغ الرحمان نے وزیراعلیٰ پرویز الٰہی کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا حکم واپس لے لیا،عدالت نے گورنر پنجاب کی جانب سے وزیراعلیٰ کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا حکم معطل کردیا، عدالتی فیصلے کے بعد ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جو پرویز الہی نے حلف دیا تھا وہ کیس کی سماعت تک تھا ،یہ سب کو سمجھ آجانی چاہیئے کہ آئین سب سے اوپر ہے پرسنل سکورنگ نہیں ہونی چاہیئے ، وزیر اعلی اور کیبنٹ کے خاتمے کا نوٹیفکیشن سیٹ آسائیڈ کردیا گیا ہے گورنر پنجاب کو ان کی غلطی کا احساس ہوا تو انہوں نے اپنا حکم واپس لیا جو اچھی بات ہے سیاسی معاملات ایوانوں میں ہی حل ہونے چاہییے وزیر اعلی کا حق ہے کہ جب مرضی اسمبلی توڑ سکتا ہے اگر اعتماد کے ووٹ کی تحریک آجائے تو اعتماد کا ووٹ لینا ضروری ہوگا،

    وزیراعلی پرویزالہی کے وکیل علی ظفرنے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی حکم کے مطابق وزیر اعلی اور ان کی کابینہ آگئی ہے اسمبلیاں توڑنے کا جو حلف دیا تھا وہ ختم ہوگیا ہے ۔گورنر نے اچھا کیا کہ غلطی مان لی پوری قوم کو مبارکباد دینا چاہتا ہوں کہ آج آئین کی جیت ہوئی ہے عدالت نے کہا ہے کہ عدم اعتماد ہوگیا ہے تو وہ معاملہ ختم ہوگیا ہے گورنر کے آرڈر کو چیلنج کیا تھا عدالت فیصلہ کرنے والی تھی گورنر نے نوٹیفیکیشن واپس لے لیا ہے اس کا مطلب گورنر نے غلطی مان لی ہے ،چیف سیکریٹری کے نوٹیفیکیشن کو بھی کالعدم قرار دے دیا گیا ہے،عدالت کا تفصیلی فیصلہ پڑھنے کے بعد اس پر مزید بات ہوسکتی ہے وزیراعلیٰ پنجاب اور کابینہ دوبارہ اپنی جگہ بحال ہوگئی ہے،اسمبلی تحلیل کرنا یا نہ کرنا ایک سیاسی فیصلہ ہے،جب اپوزیشن کے مطلوبہ ووٹ نہیں تھے تو انہوں نے عدم اعتماد واپس لی

    عثمان بزدار کے گرد گھیرا تنگ،مبشر لقمان نے بطور وزیر بیورو کریسی کیلئے کیسے سٹینڈ لیا تھا؟ بتا دیا

     پنجاب میں سال 2022 کے دوران سیاسی کشیدگی عروج پر رہی،

    نیب قانون میں اپوزیشن کی جانب سے ترامیم کا مسودہ، قریشی نے کھری کھری سنا دیں، کہا تحریک انصاف کیلئے یہ ممکن نہیں

    عدم اعتماد، پرویز الہیٰ کیوں کامیاب ہوا؟ نواز شریف برہم

  • عدم اعتماد، پرویز الہیٰ کیوں کامیاب ہوا؟ نواز شریف برہم

    عدم اعتماد، پرویز الہیٰ کیوں کامیاب ہوا؟ نواز شریف برہم

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب اسمبلی میں اعتماد کا ووٹ لینے میں وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الہیٰ کامیاب ہو گئے ہیں.

    پرویز الہیٰ نے گزشتہ شب پنجاب اسمبلی میں عدم اعتماد جمع ہونے کے بعد ووٹ لے لیا، پرویز الہیٰ نے 186 ووٹ حاصل کئے، اپوزیشن نے اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا تھا، ن لیگ جوڑ توڑ کر رہی تھی تا ہم ن لیگ کو کامیابی نہیں ہو سکی،گزشتہ روز رانا ثناء اللہ نے بیان دیا تھا کہ اب پنجاب حکومت تبدیل کروا کر ہی اسلام آباد جاؤں گا تا ہم وہ مشن میں کامیاب نہ ہو سکے، تحریک انصاف کی جانب سے 186 ووٹ پورے ہونے پر لندن میں مقیم سابق وزیراعظم نواز شریف نے اظہار برہمی کیا ہے اور پارٹی رہنماؤ‌ں سے رپورٹ طلب کی ہے کہ ایسا کیوں ہوا ہے؟ نواز شریف ن لیگ کی صوبائی قیادت پر شدید برہم ہوئے،

    میڈیا رپورٹس کے مطابق پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف نے استفسار کیا کہ پارٹی قیادت کو آگاہ کیا گیا تھا کہ تحریک انصاف کے کم از کم 7 ناراض اراکین پی ڈی ایم سے رابطوں میں ہیں ناراض اراکین کیسے ووٹنگ کے لئے پہنچ گئے انہیں مینیج کیوں نہیں کیا جا سکا۔ ن لیگ پنجاب کے صدر، وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے نواز شریف اور مریم نواز کو معاملے پر ابتدائی رپورٹ پیش کرتے ہوئے مریم نواز کی فوری وطن واپسی کی تجویز دے دی، رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ مریم نواز فوری وطن واپس نہیں آتی تو پارٹی کو نقصان ہو سکتا ہے، ضروری ہے کہ مریم نواز فوری وطن واپس آئیں اور پارٹی کو سنبھالیں،

    وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ ہائوس میں جانے سے کسی کو بھی اندر جانےسے روکا جا سکتا،

    گیٹ پر سکیورٹی اسٹاف اور اسمبلی ارکان کے درمیان دھکم پیل ہوئی

    عثمان بزدار کے گرد گھیرا تنگ،مبشر لقمان نے بطور وزیر بیورو کریسی کیلئے کیسے سٹینڈ لیا تھا؟ بتا دیا

     پنجاب میں سال 2022 کے دوران سیاسی کشیدگی عروج پر رہی،

    نیب قانون میں اپوزیشن کی جانب سے ترامیم کا مسودہ، قریشی نے کھری کھری سنا دیں، کہا تحریک انصاف کیلئے یہ ممکن نہیں

  • گورنر نے وزیر اعلی کو ڈی نوٹی کرنے کا حکم واپس لے لیا

    گورنر نے وزیر اعلی کو ڈی نوٹی کرنے کا حکم واپس لے لیا

    پرویز الٰہی کو ڈی نوٹی کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت دوبارہ ہوئی

    گورنر کے وکیل منصور عثمان نے دلائل دیئے، وکیل گورنر نے کہا ہے کہ گورنر سے رابط ہو گیا ہے ،گورنر نے اعتماد کے ووٹ کی تصدیق کردی ہے ،گورنر نے وزیر اعلی کو ڈی نوٹی کرنے کا حکم واپس لے لیا ہے ،جسٹس عابد عزیز شیخ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ گورنر نے اپنا نوٹیفکیشن واپس لے لیا ہے تو پھر معاملہ ہی ختم ہوگیا ہے ،آپ نے اپنی اسمبلی کے اندر یہ معاملہ حل کرلیا ہے جو اچھی چیز ہے ،سب کچھ آئین اور قانون کے مطابق ہوگیا ہے،ہم تو چاہتے ہیں ایسے معاملات میں عدالت کی مداخلت کم سے کم ہونی چاہیے ،

    عدالت نے گورنر پنجاب کے وکیل کے جواب کے بعد فیصلہ لکھوانا شروع کر دیا، جسٹس عابد عزیز شیخ نے کہا کہ عدالت نے گورنر پنجاب کیجانب سے وزیر اعلی کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا حکم معطل کیا، پنجاب اسمبلی میں وزیر اعلی نے 12 جنوری کو اعتماد کا ووٹ حاصل کیا، وزیر اعلی پنجاب نے آئین کے آرٹیکل 137 کے سب سیشن 7 کے تحت اعتماد کا ووٹ حاصل کیا، اعتماد کے ووٹ کا نتیجہ گورنر پنجاب نے مان لیا ہے، گورنر کے وکیل منصور اعوان نے گورنر پنجاب کیجانب سے اسٹیمنٹ عدالت میں دی،معاملہ عدالت میں آنے پر اسمبلی فلور پر حل ہوگیا سارا کچھ آئین کے مطابق حل ہو گیا گورنر نے آئین کے مطابق آرڈر جاری کیا ۔پرویز الٰہی نے گورنر کے آرڈر پر اعتماد کا ووٹ لے لیا ۔اگر سپیکر گورنر کی ایڈوائس پر اجلاس میں معاملہ حل کر لیتے رواج ایسی صورت حال نہ ہوتی۔لاہور ہائیکورٹ کے فل بینچ نے وزیر اعلی پنجاب کی درخواست نمٹا دی ،عدالت نے وزیر اعلی پنجاب اور کابینہ کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا اقدام کالعدم قرار دے دیا

    تحریک انصاف کا پنجاب اسمبلی سے بھی استعفوں پرغور

    نیب قانون میں اپوزیشن کی جانب سے ترامیم کا مسودہ، قریشی نے کھری کھری سنا دیں، کہا تحریک انصاف کیلئے یہ ممکن نہیں

    وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ ہائوس میں جانے سے کسی کو بھی اندر جانےسے روکا جا سکتا،

    گیٹ پر سکیورٹی اسٹاف اور اسمبلی ارکان کے درمیان دھکم پیل ہوئی

    عثمان بزدار کے گرد گھیرا تنگ،مبشر لقمان نے بطور وزیر بیورو کریسی کیلئے کیسے سٹینڈ لیا تھا؟ بتا دیا

     پنجاب میں سال 2022 کے دوران سیاسی کشیدگی عروج پر رہی،

  • گورنر پنجاب کے اعتماد کے ووٹ کا مسئلہ حل ہوگیا. لاہور ہائی کورٹ

    گورنر پنجاب کے اعتماد کے ووٹ کا مسئلہ حل ہوگیا. لاہور ہائی کورٹ

    گورنر پنجاب کے اعتماد کے ووٹ کا مسئلہ حل ہوگیا. لاہور ہائی کورٹ

    اسپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان نے وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی کے اعتماد کے ووٹ کے نتائج پر مشتمل جواب لاہور ہائیکورٹ میں جمع کرادیا، جسٹس عاصم حفیظ نے ریمارکس دیے کہ گورنر پنجاب کے اعتماد کے ووٹ کا مسئلہ حل ہوگیا،اب اس پر اعتراض نہیں بنتا۔ جسٹس عابدعزیزشیخ کی سربراہی میں لاہور ہائیکورٹ کے 5 رکنی بینچ نے گورنر پنجاب کی جانب سے وزیر اعلیٰ اور کابینہ کو ڈی نوٹیفائیڈ کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت کی۔ وزیراعلیٰ پنجاب کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی مسئلہ حل ہوگیا، 186 ارکان نے پرویز الہٰی پر اعتماد کا اظہار کیا، وزیر اعلیٰ نے رات گئے اعتماد کا ووٹ حاصل کرلیا۔

    جسٹس عابد عزیز شیخ نے بیرسٹر علی ظفر سے استفسار کیا کہ کتنے ارکان تھے رات کو پنجاب اسمبلی میں؟جس پر علی ظفرنے بتایا کہ 186 ارکان نے پرویز الہٰی پر اعتماد کا اظہار کیا، 186 ارکان کی ہی ضرورت ہوتی ہے۔ اسپیکرپنجاب اسمبلی نےاعتمادکےووٹ کےنتائج پرمشتمل جواب عدالت میں جمع کرادیا۔ جواب میں کہا گیا ہے کہ صوبائی وزرااسلم اقبال اور راجہ بشارت نےاعتمادکےووٹ کی قرار داد پیش کی ، بطوراسپیکر اعتماد کے ووٹ کے لئے نیا اجلاس بلاکر کارروائی کی، وزیراعلیٰ پنجاب کو 186 ارکان نے اعتماد کا ووٹ دیا، اکثریتی ووٹ لینے پر چوہدری پرویز الہٰی وزیراعلیٰ کے عہدے پر برقرارہیں۔

    اسپیکر پنجاب اسمبلی کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن پڑھ کر سنایا گیا۔ جسٹس عاصم حفیظ نے ریمارکس دیے کہ گورنر پنجاب کے اعتماد کے ووٹ کا مسئلہ حل ہوگیا، گورنر پنجاب کا اب اس پر اعتراض نہیں بنتا۔ اٹارنی جنرل منصور اعوان نے کہا کہ تسلیم کرتے ہیں اسمبلی کے معاملات میں گورنر مداخلت نہیں کرسکتا۔

    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ 19 دسمبر کے گورنر کے حکم کو پورا کر دیا ہے، اس پر نہیں جاتا کہ وہ حکم درست تھا یا نہیں۔ جسٹس عاصم حفیظ نے کہا کہ ابھی ہم نے کوئی فیصلہ نہیں کیا ہوتا، ٹی وی میں رات 8 سے 9 بجے میں بتا دیا جاتا ہے کہ فیصلہ کیا ہوگا، یہ طریقہ بہت اسٹرینج ہے۔ جسٹس عابد عزیز شیخ نے ریمارکس دیے کہ آپ ووٹ لے لیتے ہیں تو گراؤنڈ کی کوئی حیثیت نہیں رہتی، آپ نے آرٹیکل 137 کے تحت اعتماد کا ووٹ لیا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    لیپ ٹاپ گم ہونے پر گاہک نےغصے میں اپنی کار ہوٹل پر دے ماری
    نادیہ خان 38 ہزار ڈالرز گنوا بیٹھیں. اداکارہ نے دلچسپ واقعہ سنا کر حیران کر دیا
    جسٹس عاصم حفیظ نے کہا کہ آپ نے اس کے حکم کو غیر قانونی قرار دیا، پھر آپ نے گورنر کے حکم پر اعتماد کا ووٹ لیا۔ جسٹس عابد عزیز شیخ نے ریمارکس دیے کہ ہم پہلے ہی چاہتے تھے اسمبلی کا مسئلہ وہیں پر حل ہو، وزیراعلیٰ نے اعتماد کا ووٹ لے لیا اب دوسرے حکم کو کالعدم قرار دے دیتے ہیں، پہلے حکم پر نہیں جاتے، دوسرے معاملے کو دیکھ لیتے ہیں۔ جسٹس عابد عزیز شیخ نے مزید کہا کہ اب ہمارے سامنے تین سوال ہیں، پہلا گورنر کی تسلی، دوسرا ووٹنگ کے لئے مناسب وقت اور تیسرا سوال کیا رولز 22 کے تحت سیشن کے دوران اعتماد کا ووٹ لیا جا سکتا ہے۔

  • بلدیاتی انتخابات میں عوام کے تعاون پر مشکور ہیں : ڈپٹی کمشنر

    بلدیاتی انتخابات میں عوام کے تعاون پر مشکور ہیں : ڈپٹی کمشنر

    چارسدہ( ) الیکشن کمیشن آف پاکستان اور صوبائی الیکشن کمیشن کے احکامات پر بلدیاتی انتخابات 2021 کی چارسدہ میں پرامن اور غیر جانبدار انعقاد پر ڈپٹی کمشنر چارسدہ سعادت حسن نے چارسدہ کے عوام سمیت تمام سرکاری محکموں کوخراج تحسین پیش کیا ہے

    ان کا مزید کہنا تھا کہ تمام سرکاری اداروں نے ضلع کی بہتری کے لئے دن رات محنت کرکے پرامن انتخابات کا انعقاد ممکن بنایا ،پولیس اور صحافی برادری سمیت غیر سرکاری تنظیموں کے اہلکاروں نے بھی ضلع کی تعمیر و ترقی کے لئے کردار اد ا کیا ہے ۔ 

    چارسدہ میں 19دسمبر کو احتتام پذیر ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے کامیاب پرامن اور غیر جانبدار انعقاد پر ڈپٹی کمشنر چارسدہ سعادت حسن نے انتخابات کے انتظامات مکمل کرنے والے مختلف سرکاری اداروں کے افسران اور دیگر اہلکاروں جن میں تمام ریٹرننگ افسران، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز، تمام اسسٹنٹ و ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنرز، محکمہ الیکشن، محکمہ پولیس، محکمہ تعلیم، محکمہ صحت، محکمہ بلدیات، محکمہ سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ و پاپولیشن، ریسکیو 1122، سول ڈیفنس، ریونیو اہلکاروں سمیت تمام ایل ایچ ڈبلیو کو خراج تحسین پیش کیا ہے جنہوں نے گزشتہ چند روز سے مسلسل دن رات محنت کرکے ضلع بھرمیں پرامن اور غیر جانبدار انتخابات کے انعقاد کوممکن بنائے ۔
     
    ضلع بھر سے 25سو کے قریب امیدواروں نے حالیہ بلدیاتی انتخابات میں حصہ لیا تھا جبکہ19دسمبر کے دن کے لئے 10لاکھ سے زائد ووٹرز کے لئے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے تمام تر انتظامات مکمل کر لی گئی تھے ۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ پرامن انتخابات کے انعقاد کے لئے چارسدہ پولیس نے ایک بہترین سیکیورٹی پلان تشکیل دیا جس پر عمل درآمد کرتے ہوئے ضلع میں 732پولنگ سٹیشن جن میں 437 پولنگ سٹیشنز انتہائی حساس تھے کے لئے مکمل سیکورٹی فراہم کی گئی جبکہ عبدالولی خان سپورٹس کمپلکس سے الیکشن میٹرئل کے موقع پر بھی بہترین سیکورٹی کے انتظامات کئے گئے ۔ ضلع بھر میں مجموعی طور پر ساڑھے پانچ ہزار پولیس اہلکاروں نے انتخابات کی سیکورٹی میں حصہ لیا جس پر ڈپٹی کمشنر اور چارسدہ کے عوام ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر چارسدہ آصف بہادر خان کا شکریہ ادا کیا ۔

    اسی طرح چارسدہ کے صحافی برادری نے بھی غیر جانبدار انتخابات کے انعقاد اور ضلع میں ایک جمہوری عمل مکمل کرنے کے لئے ضلع انتظامیہ کے ساتھ بھر پور تعاون کیا جس پر ضلعی انتظامیہ ان کی بے حد مشکور ہیں ۔

     دوسری جانب چارسدہ کے عوام نے حصوصی طور پر ضلع انتظامیہ کے ہر آواز پر لبیک کرتے ہوئے پرامن اور ایک ذمہ داری شہری ہونے کا ثبوت پیش کیا ہے جس پر ضلعی انتظامیہ کے تمام افسران ان کے بے حد مشکور ہیں 

  • خانیوال میں استقبال کی تیاریاں

    خانیوال میں استقبال کی تیاریاں

    میاں چنوں:مہر محسن ہراج ایڈووکیٹ ہائی کورٹ کے ڈیرہ پر پاکستان مسلم لیگ ن لائئر ونگ و شوشل میڈیا ٹیم پی پی 207 کی سابق ایم پی اے سابق چیٸرمین پنجاب فوڈ اتھارٹی مہر عامر حیات ہراج کے ساتھ ملاقات
    ملاقات میں سابق ایم پی اے مہر عامر حیات ہراج نے کہا ہے کہ این اے 152 تحصیل میاں چنوں تلمبہ سے مسلم لیگ ن کے کارکنان کی گرفتاریوں انتقامی کاروائیاں ہیں جس کی ہم پرزورمذمت کرتے ہیں یہ چھاپے اور گرفتاریاں ہماری جدوجہد کو متاثر نہیں کرسکتیں 30نومبر کو پی ڈی ایم کے جلسہ میں شرکت کیلئے خانیوال لاہورموڑ پر مریم نواز کا شانداراستقبال کیا جائیگا این اے 152 کے تمام ورکرز کارکنان 9 بجے میاں چنوں پنہچیں
    مہر عامر حیات ہراج نے کہاکہ30 نومبر کو ملتان میں پی ڈی ایم کاجلسہ جنوبی پنجاب کی تاریخ کاسب سے بڑا جلسہ ہوگاجسے روکنے کے لیے موجودہ سلیکٹڈ حکومت اپنی نااہلیوں کو چھپانے کے لیے بدترین انتقام کی راہ پر چل پڑی ہےنیازی حکومت نے عوام کو جومعاشی خواب دکھائے وہ سب الٹے ثابت ہورہے ہیں جو عوام کی نفرت اوربیزاری کا باعث بن کر سامنے آرہے ہیں‘موجودہ حکومت اپنے اوچھے ہتھکنڈوں سے بازآجائے وگرنہ عوام سڑکوں پر آجائے گی اورپھردما دم مست قلندرہوگا۔

  • احتساب-احتساب-معاف-کرو-پاکستان-صاف-کرو–وہاب ادریس خان

    احتساب-احتساب-معاف-کرو-پاکستان-صاف-کرو–وہاب ادریس خان

    لفظ احتساب کو جتنی پزیرائی اس حکومت نے پچھلے دو سالوں میں بخشی وہ پاکستان کی تاریخ میں اس سے قبل اس لفظ کو حاصل نہ تھی۔تحریکِ انصاف اوربالخصوص عمران خان نے احتساب کو ایک نئی شکل دی۔ عمران خان کی طرف سے ان کی حکومت کے ابتدائی دنوں میں یہ اعلان کیا گیا کہ وہ پاکستان کو ریاستِ مدینہ جیسا بنائیں گے۔تحریکِ انصاف کی حکومت کے دوران احتساب واقعی میں زوروشور سے شروع ہوا اور احتساب کے نام پر بہت سے کیسز بنائے گئےاور ان کا نتیجہ تقریباَ وہی تھا جو ہمیشہ سے نکلتا رہاہے اور بہت سے کیسز بے نتیجہ ختم ہوگئے یا ابھی تک التوا کا شکار ہیں۔ ہمارے ملک میں احتساب کے بعد پیدا ہونےوالی صورتحال دیکھ کرانگریزی کا ایک محاورہ ذہن میں آتا ہے. (Excess of Everything is Bad) یعنی کسی چیز کی بھی زیادتی ٹھیک نہیں ہوتی۔ابھی تک کے حالات دیکھ کر یہی لگتا ہے کہ ہماری ملک بھی احتساب کو برداشت کر پایا یا پھر اس طریقے کارکو نہیں سہہ پایا کیونکہ وہ کیس حدیبیہ مل کا ہو، پانامہ ہو یا چینی سکینڈل جب بھی کوئی کیس شروع ہوتا ہے تو اس کے ساتھ ایک اعلان یہ بھی کیا جاتا ہے کہ اس کیس کی انکوائری پاکستا ن کے بننے سے لیکر آج تک کی ہو گی یا پھر اس کی انکوائری کم ازکم کچھ گزشتہ دہائیوں پر محیط ہوگی جو اس بات کا اشارہ ہوتا ہے کہ ہم کیس شروع تو کر رہے ہیں مگر یقین کریں اس کو ختم کرنےکا ہمارا کوئی ارادہ نہیں، کیونکہ تھوری سی عقل رکھنے والا شخص بھی جانتا ہے کہ پاکستان میں پرانا ریکارڈموجود بھی ہو تواسے غائب کروانا مشکل نہیں اور رہی بات گواہان کی تو اس بات کا قوی امکان ہوتا ہے کہ جس دور سے انکوائری شروع کی جارہی ہےاس دور کا کوئی گواہ نہیں موجود ہوگا۔اوراگر کوئی غلطی سے زندہ ہوا بھی تو جب تک کیس چلنا ہے گواہ خود ہی اللہ کو پیارا ہو جائے گا۔ پی ٹی آئی حکومت شاید یہ سمجھ بیٹھی ہے کہ عوام نے ان کو ہمیشہ کے لئے ووٹ دے کر منتخب کر لیا ہےاور بھول جاتے ہیں کہ ان کے پاس صرف تین سال رہ گئے ہیں۔ وزرا، اپوزیشن، حکومتی وزرا سرکاری ملازمین، ریٹائرڈ ملازمین ہر کسی کا احتساب شروع ہو چکا ہے۔ ہمارے ملک میں احتساب اور کرونا وائرس میں کافی مما ثلت پائی جاتی ہے، کیونکہ احتساب بھی کرونا وائرس کی طرح بہت تیزی سے لوگوں کواپنی زد میں لیتا ہے اور کرونا کی طرز پر کچھ کو نگل جاتا ہے۔ اور جن کو نگلنے کی حیثیت نہیں ہوتی ان کو چھوڑ دیتا ہے۔یہاں یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ جو اثرات کرونانےپوری دنیا پر چھوڑے ہیں احتساب نے بھی ہمارے ملک کا تقریباَ وہی حال کیا ہے۔ کرونا کی وجہ سے جہاں پوری دنیا میں لاک ڈاون ہے ہمارے ملک میں احتساب نے بھی کا فی عرصے سے اکانومی کا لاک ڈاون کر رکھا ہے۔ کوئی ادارہ کوئی افسر احتساب کے ڈر سے کام کرنے کو تیار ہی نہیں ہوتا۔

    عمران خان صاحب اگر آپ نے ریاستِ مدینہ بنانی ہی ہے تو اصول بھی مدینہ کی ریاست بنانے والوں کے اپنانے چاہئے تھے۔ حضور پاک ﷺنے جس طرح فتح مکہ کے موقع پر حکمت کے تحت عام معافی کا اعلان فرمایا،وزیرِاعظم صاحب کو چاہئے تھا 2018کے الیکشن جیتنے کے بعد مشروط معافی کا اعلان کیا جاتا جس کے تحت اپوزیشن کے کیسز معاف کرے کے بدلے کرپشن کی سخت سزا کی قانون سازی کروا سکتے تھے جو کہ اپوزیشن اور پوری پارلیمنٹ مرتےکیا نہ کرتے کے اصول پر تسلیم کر لیتی۔اور آپ ریاستِ مدینہ کے ماڈل جیسی بھی قانون سازی با آسانی کروا سکتے تھے۔ مگر اس وقت عالم یہ ہے کہ کو ئی بھی بِل پاس کروانا تو بہت دور کی بات ہے حکومت اگرکوئی آرڈیننس بھی لے آئے تو اس کو اپو زیشن کے شور شرابے کی وجہ سے واپس لینا پڑتا ہے۔

    ہمارے ملک میں کرپشن اگر چہ پی ٹی آئی حکومت سے پہلے حلال تو نہیں تھی مگر معاشرہ کا اہم حصہ اور ضرورت بن چکی تھی۔پولیس، بیوروکریٹس، ریڑھی والا، سیاست دان چھوٹے بڑے تمام طبقے اس میں ملوث تھے اور یہ سلسلہ کئی دہائیوں تک چلتا رہا کہ اچانک پی ٹی آئی کی حکومت آنے پر لوگوں کو بتایا گیا کہ کرپشن معاشرہ میں ایک بہت بڑی لعنت ہےاور یہ کوئی اچھی چیز نہیں ہے۔ عمران خان صاحب اکثر کہتے ہیں کچھ سخت فیصلے کرنےپرتے ہیں مگر وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ کچھ اہم فیصلے بھی کرنے پرتے ہیں۔ یہاں پر میں ایک بڑی مثال اپنے چھوٹے سےقلم سے دینے کی کوشش کرتا ہوں۔ اسلام کے ابتدائی دنوں میں جب شراب کی حرمت آگئی تو اس سے پہلے کسی کے عمل پر بھی کوئی پکڑ نہیں رکھی گئی کیونکہ حرمت سے پہلے اسکو جائز سمجھا جاتا تھا۔اور اسی طرح اسلام میں قرآن میں اور ہمارے نبی ﷺ نے جس چیز سے جب لوگوں کو روکا تو ان کے اس سے پہلے عمل پر کوئی پوچھ گچھ نہیں کی گئی، اور پھر فتح مکہ کے موقع پرحضور پاک ﷺ کا معافی دینے کا عمل یہ وہ سنہری اصول ہیں جن کی بنیاد پر ریاستِ مدینہ قائم کی گئی۔

    اگر چہ ہمارے ملک میں ماضی میں ہونے والی کرپشن کو کسی بھی تناظر میں جائز قرار نہیں دیا جاسکتا لیکن ایک اہم فیصلہ کر کے پچھلے کرپشن کے کیسز کو ہتھیار بنا کراگر ملک میں اہم اورموثر قانون سازی کی جا سکے تو اس وقت کے حا لات میں سب سے بڑا احتساب یہی ہو گا اور آنے والی نسلیں وزیرِاعظم کی احسان بھی مند ہوں گی۔