Baaghi TV

Tag: ppp

  • حلقہ بندیاں آئینی ضرورت نہیں بلکہ 90 دن میں الیکشن کرانا لازمی ہے. فیصل کریم کنڈی

    حلقہ بندیاں آئینی ضرورت نہیں بلکہ 90 دن میں الیکشن کرانا لازمی ہے. فیصل کریم کنڈی

    پیپلزپارٹی کے سینئر رہنماء فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی آئین کے مطابق انتخابات کرانے کا مطالبہ کرتی رہی ہے جبکہ حلقہ بندیاں کرنے کی کوئی آئینی ضرورت نہیں ہے لیکن 90 دن کے اندر انتخابات کرانے کی آئینی ضرورت ہے۔ لہذا انتخابات اپنے آئینی وقت کے مطابق ہو جانے چاہئں.


    پیپلزپارٹی کے رہنماء نے یہ ردعمل الیکشن کمیشن کے اس اعلان پر دیا جس میں الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ملک بھر میں حلقہ بندیاں کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ عام انتخابات 90 روز میں نہیں ہو سکتے ہیں جبکہ چیف الیکشن کمشنرسکندرسلطان راجہ کی زیرصدارت نئی حلقہ بندیوں کےمتعلق الیکشن کمیشن کااجلاس ہوا جس میں 7ویں مردم شماری کےمطابق نئی حلقہ بندیاں کرانےکی منظوری دی گئی۔

    علاوہ ازیں جاری اعلامیہ میں کہا گیا کہ قومی و صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات نئی حلقہ بندیوں کےتحت ہوں گے اور حلقہ بندیوں کاکام تقریبا 4ماہ میں مکمل ہوگا جس کی وجہ سےعام انتخابات 90روزمیں نہیں ہوسکیں گے اور الیکشن کمیشن نے نئی حلقہ بندیوں سےمتعلق شیڈول کا اعلان کرتے ہوئےصوبائی حکومتوں اور ادارہ شماریات سےمعاونت طلب کرلی ۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ہیرا پھیری 3 جلد ریلیزہوگی ، فلم کا تیسرا حصہ شوٹ کر لیا گیا
    جڑانوالہ میں جو کچھ ہوا ہم شرمندہ ہیں، طاہر اشرفی
    نگراں کابینہ میں کشمیری حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک بھی شامل
    نگران وزیر اعلیٰ سندھ نے حلف اٹھا لیا
    ندا یاسر 16 لاکھ کمانے آئیں اور پھر شوبز کی ہی ہو کر رہ گئیں
    https://twitter.com/fkkundi/status/1691850734017413179
    تاہم یاد رہے کہ اس سے قبل سابق مشیر وزیر اعظم اور پیپلزپارٹی کے رہنماء فیصل کریم کنڈی نے اپنی ٹوئیٹ میں مطالبہ کیا تھا کہ "الیکشن کمیشن کو اب عام انتخابات کی تاریخ دے دینی چاہیئے۔” انہوں نے اس سے قبل کہا تھا کہ انتخابات کے شیڈول کا اعلان کیے بغیر یا حلقہ بندیوں کا فیصلہ کیے بغیر نگران حکومت کو افسران کی تبدیلی کے حوالے سے احکامات جاری کرنا شروع کر دیے گئے ہیں۔ جبکہ پیپلزپارٹی کا مطالبہ ہے کہ الیکشن کمیشن فوری طور پر انتخابی شیڈول کا اعلان کرے۔

  • ای سی پی نے ملک بھر میں نئی حلقہ بندیاں کرانے کے شیڈول کا اعلان کردیا

    ای سی پی نے ملک بھر میں نئی حلقہ بندیاں کرانے کے شیڈول کا اعلان کردیا

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ملک بھر میں حلقہ بندیاں کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ عام انتخابات 90 روز میں نہیں ہو سکتے ہیں جبکہ جاری اعلامیہ کے مطابق چیف الیکشن کمشنرسکندرسلطان راجہ کی زیرصدارت نئی حلقہ بندیوں کےمتعلق الیکشن کمیشن کااجلاس ہوا ہے جس میں 7ویں مردم شماری کےمطابق نئی حلقہ بندیاں کرانےکی منظوری دی گئی ہے۔

    علاوہ ازیں جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ قومی و صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات نئی حلقہ بندیوں کےتحت ہوں گے اور حلقہ بندیوں کاکام تقریبا 4ماہ میں مکمل ہوگا، جس کی وجہ سےعام انتخابات 90روزمیں نہیں ہوسکیں گے۔ جبکہ الیکشن کمیشن نے نئی حلقہ بندیوں سےمتعلق شیڈول کا اعلان کرتے ہوئےصوبائی حکومتوں اور ادارہ شماریات سےمعاونت طلب کرلی ہے۔

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن کا نئی مردم شماری کی بنیاد پر ملک بھر میں حلقہ بندیاں کرانے کا فیصلہ کیا اور حلقہ بندیاں 14 دسمبر تک مکمل کی جائیں گی حکام کا کہنا تھا کہ 21 اگست کو چاروں صوبوں اور اسلام آباد کے لئے کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی، یکم سے 4 ستمبر تک حلقہ بندیوں کمیٹیوں کو ٹریننگ دی جائے گی.

    الیکشن کمیشن کے نوٹیفیکشن کے مطابق حلقہ بندیوں کی ابتدائی اشاعت 9 اکتوبر کو ہوگی، اور حلقہ بندیوں کے خلاف اپیلیں 10 اکتوبر سے 8 نومبر تک کی جاسکیں گی جبکہ الیکشن کمیشن 10 نومبر سے 9 دسمبر تک شکایات پر سماعت کرے گا اور حلقہ بندیوں کی حتمی اشاعت 14 دسمبر کو ہوگی.

    جبکہ شیڈول کے مطابق حلقہ بندیوں کی حتمی اشاعت 14دسمبر2023ءکوہوگی۔ تاہم یاد رہے کہ اس سے چیف جسٹس عمر عطا بندیال سے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے ملاقات بھی کی تھی جو دو گھنٹے جاری رہی، ملاقات میں ملک میں عام انتخابات کے معاملے پر گفتگو کی گئی تھی۔ جبکہ چیف جسٹس آف پاکستان اور چیف الیکشن کمشنر کی ملاقات میں مختلف آئینی اور قانونی امور پر بھی بات چیت کی گئی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ہیرا پھیری 3 جلد ریلیزہوگی ، فلم کا تیسرا حصہ شوٹ کر لیا گیا
    جڑانوالہ میں جو کچھ ہوا ہم شرمندہ ہیں، طاہر اشرفی
    نگراں کابینہ میں کشمیری حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک بھی شامل
    نگران وزیر اعلیٰ سندھ نے حلف اٹھا لیا
    ندا یاسر 16 لاکھ کمانے آئیں اور پھر شوبز کی ہی ہو کر رہ گئیں
    جبکہ یاد رہے کہ اس سے قبل سپریم کورٹ میں چیف جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے الیکشن کمیشن کی سندھ میں صوبائی حلقہ بندیوں کے خلاف درخواستوں پر سماعت کے دوران کہا تھا کہ الیکشن کمیشن حلقہ بندیاں شفاف طریقہ کار سے کرے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ حلقہ بندیاں عوامی مفاد کا معاملہ ہیں، سپریم کورٹ میں متعدد بار حلقہ بندیوں کا معاملہ آ چکا، حلقہ بندیوں میں سرکل ذرا سا متاثر کرنے سے امیدوار کے ووٹ متاثر ہوتے ہیں، الیکشن کمیشن حلقہ بندیاں شفاف طریقہ کار سے کرے۔ چیف جسٹس نے دوران سماعت استفسار کیا تھا کہ عام انتخابات کب کرائے جارہے ہیں؟ ڈی جی لاء الیکشن کمیشن نے کندھے اچکائے تو چیف جسٹس نے مسکراہتے ہوئے کہا کہ مطلب ابھی تک عام انتخابات کی کوئی تاریخ ہی طے نہیں کی گئی۔

  • نگران کابینہ کے ممکنہ نام

    نگران کابینہ کے ممکنہ نام

    نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کی کابینہ میں شامل وزرا کے ممکنہ نام سامنے آگئے ہیں جبکہ نجی ٹی وی کے صحافی کے ذرائع کے مطابق نگران وفاقی کابینہ کی تشکیل کیلئے مختلف ناموں پر غور کیا جا رہا ہے اور اس میں انیق احمد جوکہ ایک بڑا معروف نام ہیں کو نگران وزارت مذہبی امور کا قلمدان سونپے جانے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔

    جبکہ اس کے علاوہ محمد علی کو نگران وزیراطلاعات بنائے جانے کی اطلاعات ہیں اور اس کے ساتھ نگران وزیرداخلہ کے لیے سرفرازبگٹی جو کہ اس وقت سینیٹر بھی ہیں کو بنایا جائے گا اور یہ اس عہدہ کیلئے ایک مضبوط امیدوار بتائے جارہے ہیں علاوہ ازیں نگران وزیرخزانہ کے لیے شمشاد اختر اور وقار مسعود کے ناموں پر غورکیا جارہا ہے بلکہ ڈاکٹر شمشاد کا نام تو ممکنہ طور پر مقرر کردیا گیا ہے.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نگران وزیراعظم سے متحدہ عرب امارات کے سفیرکی ملاقات
    جڑانوالہ میں جو کچھ ہوا، افسوسناک،مجرموں کے خلاف کارروائی کی جائے۔شہباز شریف
    گھریلوملازمہ رضوانہ کی پہلی پلاسٹک سرجری
    جج نے جھگڑے کے بعد بیوی کو قتل کردیا
    سابق گورنر اسٹیٹ بینک نگراں وزیر خزانہ مقرر
    واضح رہے کہ گوہر اعجاز کو نگران وزیرتجارت کا قلمدان سونپا جانے کا بتایا جارہا ہے اور اس کے ساتھ ہی تابش گوہر، ڈاکٹرعمرسیف، جلیل عباس جیلانی بھی نگران کابینہ کا حصہ ہونگے اور انہیں بھی اہم عہدے دیئے جائیں گے خیال رہے کہ جلیل عباس کو وزیر خارجہ بنائے جانے کا امکان ہے کہ ان کا اس معاملے میں بہپت اچھا تجربہ ہے. اور یہی وجہ ہے کہ خارجہ امور انہیں سونپا جائے گا.

    یہ بھی خیال رہے کہ اس کے علاوہ بھی کئی ایسے نام زیر غور ہیں جنہیں فلوقت عیاں نہیں کیا جارہا ہے لیکن ذرائع کے مطابق نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ چاہتے ہیں کہ ان پر جس قسم کا بوجھ ہے جیسے ایک پٹرولیم قیمتوں میں اضافہ سمیت آئی ایم ایف کا دباؤ اور پھر الیکشن کی ذمہ داری تو وہ چاہتے ہیں کہ ایسے قابل لوگوں کو لایا جائے جو کم از کم انہیں اس بوجھ میں بوجھ بننے کے بجائے مددگار ثابت ہوں.

  • الیکشن کمیشن کو انتخابات سے پہلے حلقہ بندیاں کرنی چاہیئں. سرفراز بگٹی

    الیکشن کمیشن کو انتخابات سے پہلے حلقہ بندیاں کرنی چاہیئں. سرفراز بگٹی

    بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنما، سینیٹر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ احتجاج کے حق کی آڑ میں ریاست پر حملے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے اور الیکشن سے پہلے دہشت گردی بڑھتی ہوئی نظر آرہی ہے جبکہ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر داخلہ بلوچستان سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ الیکشن کی تاریخ دینا الیکشن کمیشن کی صوابدید ہے، الیکشن کمیشن کو انتخابات سے پہلے حلقہ بندیاں کرنی چاہیئں۔

    سرفراز بگٹی نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن حلقہ بندیوں کے بعد انتخابات کی تاریخ دے، نگراں حکومت کی ترجیح ہوگی کہ الیکشن صاف اور شفاف ہوں، جب تک حلقہ بندیاں نہیں ہوں گی،الیکشن نہیں ہوں گے۔ علاوہ ازیں سابق وزیر داخلہ کا مزید کہنا تھا کہ حلقہ بندیاں بھی صاف اور شفاف انتخابات کی بنیادی شرط ہے، زمینی حقائق بتارہے ہیں الیکشن 6 سے7 ماہ میں ہوں گے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نگران وزیراعظم سے متحدہ عرب امارات کے سفیرکی ملاقات
    جڑانوالہ میں جو کچھ ہوا، افسوسناک،مجرموں کے خلاف کارروائی کی جائے۔شہباز شریف
    گھریلوملازمہ رضوانہ کی پہلی پلاسٹک سرجری
    جج نے جھگڑے کے بعد بیوی کو قتل کردیا
    سابق گورنر اسٹیٹ بینک نگراں وزیر خزانہ مقرر
    جنوبی افریقہ؛ کورونا وائرس کے ایریس ویریئنٹ کا پہلا کیس سامنے آگیا
    نگراں وزیراعظم تقرری، روز اول سے ہمیں محتاط رہنا چاہیے تھا. خواجہ آصف
    جبکہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ احتجاج کے حق کی آڑ میں ریاست پر حملے کی اجازت نہیں ہوگی، سیاسی تشدد کا راستہ کسی کو نہیں دینا چاہیئے، الیکشن سے پہلے دہشت گردی بڑھتی ہوئی نظرآرہی ہے، دہشت گردی کے خلاف تمام اسٹیک ہولڈرز کو ایک پیج پر آنا ہوگا۔

  • مہنگائی میں اضافہ کرکے غریب سے جینے کا حق بھی چھیننا چاہتے. عبدالعلیم خان

    مہنگائی میں اضافہ کرکے غریب سے جینے کا حق بھی چھیننا چاہتے. عبدالعلیم خان

    مہنگائی میں اضافہ کرکے غریب سے جینے کا حق بھی چھیننا چاہتے. عبدالعلیم خان

    استحکام پاکستان پارٹی کے صدر عبدالعلیم خان کا کہنا ہے کہ مہنگائی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر کے غریبوں سے جینے کا حق چھیننے کی کوشش کی جارہی ہے جبکہ جاری ایک بیان میں صدر استحکام پاکستان پارٹی عبدالعلیم خان نے پٹرول و ریلوے کے کرایوں میں اضافے پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مہنگائی و پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے ہر شہری تلملا اٹھا ہے اور مہنگائی ختم کرنے کا نعرہ لگانے والوں نے بھی عوام سے روٹی کا نوالہ تک چھین لیا ہے.

    صدر آئی پی پی علیم خان کا مزید کہنا تھا کہ غریب کو مزید دن بدن مارا جارہا ہے کیونکہ مہنگائی کی انتہا ہوچکی ہے اور پہلے سے عذاب میں مبتلا عوام کی سانسیں بند ہو رہی ہیں جبکہ پچھلی دونوں حکومتوں نے پانچ سال ضائع کردیئے ہیں جس سے مزید تباہی ہورہی ہے کیونکہ فوری ریلیف نہ ملا تو لوگوں کا جینا مشکل ہوجائے گا۔

    علاوہ ازیں عبدالعلیم خان نے یہ بھی کہا کہ گزشتہ حکومتیں اپنی جیبیں بھرنے کے بجائے غریب عوام کا سوچتی تو آج حالات مختلف ہوتے مگر پٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے روزمرہ کی اشیاء کی قیمتوں میں بے شمار اضافہ ہوجائے گا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نگران وزیراعظم سے متحدہ عرب امارات کے سفیرکی ملاقات
    جڑانوالہ میں جو کچھ ہوا، افسوسناک،مجرموں کے خلاف کارروائی کی جائے۔شہباز شریف
    گھریلوملازمہ رضوانہ کی پہلی پلاسٹک سرجری
    جج نے جھگڑے کے بعد بیوی کو قتل کردیا
    سابق گورنر اسٹیٹ بینک نگراں وزیر خزانہ مقرر
    ان کا مزید یہ بھی کہنا تھا کہ استحکام پاکستان پارٹی عوامی حقوق کے تحفظ کیلئےغریب عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور ماضی کی حکومتوں چاہے وہ تحریک انصاف کی حکومت تھی یا پھر پی ڈی ایم کی دونوں نے تباہی ہی کی ہے اور غریب کا کسی نے کچھ نہیں سوچا ہے

  • عام انتخابات تاخیر کا شکار ہو سکتے. الیکشن کمیشن

    عام انتخابات تاخیر کا شکار ہو سکتے. الیکشن کمیشن

    سیکرٹری الیکشن کمیشن عمر حمید کا کہنا ہے کہ نئی حلقہ بندیوں کی وجہ سے عام انتخابات تاخیر کا شکار ہو سکتے ہیں جبکہ نجی ٹی وی سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے سیکرٹری الیکشن کمیشن عمر حمید کا کہنا تھا آئین کے تحت الیکشن کمیشن 90 روز میں انتخابات کرانے کا پابند ہے لیکن مردم شماری کے نوٹیفکیشن کے بعد ہم نئی حلقہ بندیاں کرانے کے بھی پابند ہیں۔

    جبکہ سیکرٹری الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ نئی حلقہ بندیوں میں 4 ماہ سے زیادہ وقت لگے گا جس کے باعث انتخابات زیادہ سے زیادہ ساڑھے 4 ماہ تاخیر کا شکار ہو سکتے ہیں جبکہ عمر حمید کا مزید کہنا تھا کہ انتخابات کے حوالے سے باقی تمام انتظامات مکمل کر رکھے ہیں۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    کسی بھی سیاسی جماعت پر پابندی نہیں لگنی چاہیے،چودھری شافع حسین
    سیما حیدر نے بھارتی ترنگا لہرا کر بھارت زندہ باد کا نعرہ لگا دیا
    گھبرانے کی ضرورت نہیں منزل قریب ہے، راجہ پرویز اشرف
    ڈاکوؤں کے متعدد ٹھکانے تباہ، املاک کو آگ لگا دی گئی
    76 واں یوم آزادی:14 صحافیوں کو سرکاری اعزازات سے نوازے جانے کاامکان

    یاد رہے کہ ملک میں نئی مردم شماری کی حتمی اشاعت کے بعد الیکشن کمیشن نئے سرے سے حلقہ بندیاں کرتا ہے۔ جبکہ اسلام آباد سمیت تمام صوبوں کے لیے حلقہ بندی کمیٹیاں قائم کی جاتی ہیں۔ اور قومی اسمبلی کے 266 حلقے ہیں اور صوبائی اسمبلیوں کے 593 حلقے ہیں، الیکشن کمیشن حلقہ بندیوں کے لیے شیڈول کا اعلان کرے گا جس کے بعد کوئی نیا انتظامی یونٹ نہیں بنایا جا سکتا۔

    جبکہ گزشتہ حلقہ بندی شیڈول کے اعلان کے بعد تقریباً چار ماہ میں الیکشن کمیشن نے حلقہ بندیوں کا کام مکمل کیا تھا۔ حلقہ بندیوں کے لیے ملک کو آبادی اور جغرافیائی لحاظ سے انتخابی حلقہ جات میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ کسی بھی حلقے میں آبادی کا فرق 10 فیصد سے زیادہ نہیں ہوناچاہیے۔ حلقہ بندی کے بعد الیکشن کمیشن ووٹر لسٹوں کا کام مکمل کرکے انہیں منجمد کر دیتا ہے اور اس کے بعد الیکشن شیڈول کا اعلان کیا جاتا ہے۔

    خیال رہے کہ اسمبلی قبل از وقت تحلیل ہونے پر الیکشن 90 روز کے اندر کرانا ہوتے ہیں، اگر مدت پوری ہوجائے تو 60 دن میں اور یوں اب الیکشن کمیشن کو عام انتخابات کرانے میں کم و بیش 6 سے7 ماہ درکار ہوں گے۔

  • نگراں وزیراعظم کا نام کہیں اور سے سامنے آنے میں کوئی حقیقت نہیں۔ خواجہ آصف

    نگراں وزیراعظم کا نام کہیں اور سے سامنے آنے میں کوئی حقیقت نہیں۔ خواجہ آصف

    سابق وزیر دفاع اور مسلم لیگ ن کے رہنماء خواجہ آصف نے کہا ہے کہ نگراں وزیر اعظم انوارالحق کاکڑ کا نام کہیں اور سے سامنے آنے میں کوئی حقیقت نہیں ہے جبکہ خواجہ آصف نے میڈیا کو بتایا کہ ضرورت تھی کہ چھوٹے صوبوں کو حکمرانی میں حصہ دیا جائے اور نگران وزیراعظم کیلئے انوارالحق کا نام سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر دیا گیا ہے جبکہ انوار الحق کا نگران وزیراعظم بننا بہت ہی اچھی بات ہے کیونکہ انوارالحق کانام نگران وزیراعظم کیلئے سرفہرست تھا۔

    سابق وزیر دفاع خواجہ آصف دعویٰ کیا کہ مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف اگلے مہینے ستمبر میں پاکستان آجائیں گے اور نوازشریف کو اختر مینگل کے تحفظات کو دورکرنا چاہئے کیونکہ ہمیں بلوچستان کےمسائل کا قومی حل تلاش کرنا چاہئے جبکہ ہمیں بلوچستان کے ناراض لوگوں کو بھی قومی دھارے میں لانا چاہئے اور اسی میں بہتری ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    لاہور:سفاک شوہر نے اپنی امریکن نیشنل اہلیہ کو تشدد کرکے قتل کردیا
    ون ویلرز اور ہلڑبازی کرنے والوں کےخلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ
    76 ویں یوم آزادی: پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں آزادی پریڈ کا انعقاد
    گریٹر پارک میں یوم آزادی کی تقریب ،آتشبازی اور میوزیکل پروگرام کا انعقاد
    سابق وزیردفاع خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ لیڈر آف اپوزیشن یعنی حزب اختلاف نے فروری میں الیکشن کا کہا ہے، الیکشن ڈیڑھ دو ماہ آگے جاسکتے ہیں لیکن الیکشن فروری سے آگے نہیں جائیں گے اور ہم سب چاہتے ہیں کہ جلد از جلد انتخابات صاف اور شفاف طریقے سے ہوجائیں اور جو بھی ملک کے لیئے بہتر وہی عوام کے ووٹ سے منتخب ہوکر اس ملک پر حکمرانی کرے جبکہ ان کا کہنا تھا نواز شریف اپنے ملک آکر سب کا سامنے کرنے کیلئے تیار ہیں.

  • ریحام خان نے سیاست میں آنے کا اعلان کردیا

    ریحام خان نے سیاست میں آنے کا اعلان کردیا

    معروف تجزیہ کار ریحام خان نے سیاست میں آنے کا اعلان کردیا ہے جبکہ ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ نئے جذبے اور نیت سے پاکستان واپس آئی ہوں اور اس بار میں پاکستانی سیاست میں حصہ لینا چاہتی ہوں۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ریحام خان نے کہا کہ زندگی میں ہمیشہ وہ کیا جو کرنا چاہتی تھی کبھی لوگوں کی پرواہ بھی نہیں کی اگر پرواہ کرتی تو سب کچھ چھوڑ کر پاکستان نہ آتی۔

    ریحام خان کا مزید کہنا تھا کہ زندگی میں کافی مشکل فیصلے کیے ہیں خاص طور پر اپنے پروفیشن سے متعلق اہم فیصلے کیے ہیں، جیسے کہ میں بی بی سی کو چھوڑ کر پاکستان آئی ہوں، انسان کو اپنا راستہ خود بنانا چاہیے جبکہ سب سے ضروری یہ بات ہے کہ انسان جو بھی کرے اس کا ضمیر مطمئن ہونا چاہیے۔ ریحام خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ آج کل نئے جذبے نئی نیت کے ساتھ پاکستان آئی ہوں اور پاکستان کے ساتھ میرا لگاؤ ہے جو سیکھا ہے وہ واپس دینا بھی چاہتی ہوں جبکہ سیاست میں حصہ ڈالنا چاہتی ہوں، صحافت میں موقع نہیں ملتا ورنہ صحافت میں بھی حصہ ڈالنا چاہتی ہوں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    لاہور:سفاک شوہر نے اپنی امریکن نیشنل اہلیہ کو تشدد کرکے قتل کردیا
    ون ویلرز اور ہلڑبازی کرنے والوں کےخلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ
    76 ویں یوم آزادی: پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں آزادی پریڈ کا انعقاد
    گریٹر پارک میں یوم آزادی کی تقریب ،آتشبازی اور میوزیکل پروگرام کا انعقاد
    عمران خان بارے ریحام خان نے کہا کہ اپنا مقصد حاصل کرنے یا اپنے مطالبات منوانے کیلئے پہلے جنگ ہوتی تھی اس کے بعد قتل و غارت کی جانے لگی اور آج کے جدید دور میں ماڈرن وار فیئر یہ ہے کہ خانہ جنگی کرادی جائے علاوہ ازیں انھوں نے مزید کہا کہ نو مئی کو جو ہوا اسے مجھ جیسے لوگ دیکھ رہے تھے، ایک سال سے یعنی 25 مئی سے، 2022 سے پہلے سے کہا جارہا تھا کہ یہ ہوگا ہونے جارہا ہے، ٹوئٹس میں انٹرویوز میں، میں نے باجوہ صاحب کو مخاطب کرکے یہ بات کہی کہ آپ دیکھیں گے کہ ہونے کیا جارہا ہے۔ ”9 مئی کو جو ہوا وہ ایک سوچی سمجھی سازش کےتحت ہوا، اس میں عوام آلہ کار بنے اور یہ اتنی خطرناک سازش ہے کہ اور میں نہیں سمجھتی کے خطرہ پوری طرح سے ٹل گیا ہے۔ میں سمجھتی ہوں کہ ابھی بھی خطرہ موجود ہے“۔

  • الیکشن اپنے وقت پر ہونے چاہئیں۔ قمر زمان کائرہ

    الیکشن اپنے وقت پر ہونے چاہئیں۔ قمر زمان کائرہ

    پیپلز پارٹی کے رہنماء قمر زمان کائرہ کا کہنا ہے کہ الیکشنز کے آگے جانے کا کوئی امکان نہیں، ہمیں 3 مہینے کے اندر الیکشن کی تیاری کرنی چاہیئے اور ہمیں الیکشن میں دیر نہیں کرنی چاہیئے، الیکشن اپنے وقت پر ہونے چاہئیں۔ جبکہ قمر زمان کائرہ کا نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ الیکشن کمیشن میں حلقہ بندیوں کا وقت 4 مہینے کا ہوتا ہے، فیصلے اکثر آخری دن ہی ہوتے ہیں، مجھے سندھ کے اندرونی معاملات کا پتہ نہیں ہوتا، اگر کوئی بندہ اس قابل ہے کہ وہ کام کرسکتا ہے اس کی مدد کرنی چاہیئے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی بگڑتی سیکیورٹی کی حالت ہمارے لیے چیلنج ہے، ہماری مرکزی حکومت اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے کام کررہی ہے۔ علاوہ ازیں مسلم لیگ ن کے رہنما عطاء تارڑ نے کہا کہ ہر انسان کی اپنی مرضی ہوتی ہے کہ کون سے پارٹی کب چھوڑنی ہے، چیئرمین پی ٹی آئی نے وہ کارمہ نامہ انجام دیا جو ہمارا دشمن نہ کرسکا۔ عطاء تارڑ نے کہا کہ عمران خان نے سیاست کے لبادے میں پاکستان کو نقصان پہنچایا، انہوں نے فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچایا، شہداء کی قبروں کی بے حرمتی کی گئی۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ہماری عوام نے ان کے منصوبے کو ناکام بنایا، کچھ لوگ جماعت اندررہ کربھی اختلاف کرنا مناسب سمجھتے ہیں۔ جبکہ ن لیگ کے رہنما کا کہنا تھا کہ مجھے تو شہزاد اکبر کسی میٹنگ میں نظر نہیں آیا، یہ سب بیرون لوگوں کی سازش تھی، ان لوگوں نے ملک کو تباہ برباد کردیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    لاہور:سفاک شوہر نے اپنی امریکن نیشنل اہلیہ کو تشدد کرکے قتل کردیا
    ون ویلرز اور ہلڑبازی کرنے والوں کےخلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ
    76 ویں یوم آزادی: پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں آزادی پریڈ کا انعقاد
    گریٹر پارک میں یوم آزادی کی تقریب ،آتشبازی اور میوزیکل پروگرام کا انعقاد
    بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنما سینیٹرسرفرازبگٹی کا کہنا تھا کہ ہمارے لیے بہت سے چیلنجز ہیں، یہ چیلنجز صرف سیاست دانوں کے لیے نہیں پوری قوم کے لیے ہیں، پیپلزپارٹی کے رہنما قمرزمان کائرہ کا کہنا ہے کہ الیکشن آگے جانے کا کوئی امکان نہیں، ہمیں 3 مہینے کے اندر الیکشن کی تیاری کرنی چاہیئے، مسلم لیگ ن کے رہنما عطا تارڑ کا کہنا ہے چیئرمین پی ٹی آئی نےسیاست کے لبادے میں پاکستان کو نقصان پہنچایا، انہوں نے وہ کارنامہ انجام دیا جو ہمارا دشمن نہ کرسکا۔

    نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر داخلہ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض کی جانب سے انوار الحق کاکڑ صاحب کا نام نگراں وزیراعظم کے لیے آیا تھا، کاکڑ صاحب ایک بہتر چوائس تھے۔ سرفراز بگٹی نے کہا کہ سردار اختر مینگل صاحب ہمارے بزرگ ہیں، سردار اختر مینگل صاحب ہمارے لیے قابل احترام ہیں، اختر مینگل صاحب نے ہمارے چیئرمین سینیٹ پر اعتراض نہیں کیا، انہوں نے میرعبدالقدوس پر اعتراض نہیں کیا، میرے لیے تعجب کی بات ہے سردار صاحب چاہتے کیا ہیں۔

  • نگران وزیر اعظم کا نام بہت جلد طے کرلیں گے. وزیر اعظم

    نگران وزیر اعظم کا نام بہت جلد طے کرلیں گے. وزیر اعظم

    وزیر اعظم میاں شہباز شریف کا کہنا ہے کہ نگران وزیراعظم کا فیصلہ آج رات یا کل تک ہو جائے گا جبکہ صحافیوں سے غیر رسمی بات چیت کے دوران وزیر اعظم شہباز شریف نے انہیں بتایا کہ صدرمملکت کو کس بات کی جلدی ہے جو خط لکھ دیا ہے، خط لکھنے سے قبل صدر مملکت کو آئین پڑھ لینا چاہیے تھا، میرے پورے 8 دن ابھی باقی ہیں، لہذا صدر مملکت عارف علوی کو چاہئے آئین پڑھیں۔

    وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ نگران وزیراعظم کی تقرری تک میں وزیراعظم ہوں، تین دن میں فیصلہ نہ ہوا تو پارلیمانی کمیٹی تین دن میں فیصلہ کرے گی اور اگر پارلیمانی کمیٹی بھی فیصلہ نہ کرسکی تو الیکشن کمیشن معاملہ دیکھے گا۔ جبکہ شہباز شریف کا یہ بھی کہنا تھا کہ آج رات اتحادیوں سے مشاورت کروں گا، تمام اتحادیوں کو مشاورت کیلئے آج بلایا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نمایاں تیزی
    صادق سنجرانی سب سے آگے،بڑا گھر بھی مان گیا، سلیم صافی کا دعویٰ
    سابق آئی جی کے پی کے بھائی کو اغوا کے بعد کیا گیا قتل
    غیرقانونی کاموں پر جواب دینا پڑتا ہے. عطاءاللہ تارڑ
    ایران اور امریکا کے درمیان منجمد فنڈز کی بحالی کا معاہدہ
    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نمایاں تیزی
    علاوہ ازیں ان کا مزید کہنا تھا کہ 16 ماہ کی حکومت مشکل ترین حکومت تھی، سابق حکومت نے معیشت کے ساتھ خارجہ تعلقات کوبھی نقصان پہنچایا، امریکہ کے ساتھ گزشتہ دورمیں تقریبا تعلقات ختم ہو چکے تھے، اب تعلقات بہتری کی طرف آئے ہیں اور انسان وہ کام کرے جس کے نتائج وہ برداشت کرسکے، دو دن میں سائفر کی حقیقت کھل کر سامنے آگئی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ایس آئی ایف سی ملکی ترقی کا مکمل ویژن ہے، سول اور عسکری قیادت نے ملک کو پھر ترقی کی راہ پرگامزن کیا ہے۔

    دوسری جانب وزیر اعظم میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ مقننہ کے ساتھ سپریم کورٹ کے سارے ججزنہیں، وہ ججز قابل احترام ہیں جو آئین کے خلاف کوئی بات کرتے ہیں نہ سنتے ہیں، چند ججز نے جان بوجھ کرپارلیمنٹ کےساتھ محاذ آرائی کی۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ کوئی شک نہیں کہ ہمارے 16 ماہ کے اقتدار میں مہنگائی بڑھی، چیئرمین پی ٹی آئی کےدورمیں مہنگائی ساڑھے 3 فیصد سے 12 فیصد تک گئی، ہمارے پاس کوئی جادو منتر نہیں تھا، تیل کی قیمتیں گرتی تھیں تو ہم قیمتیں کم کرتے تھے، ہمارے 16 ماہ میں کئی مرتبہ قیمتیں بڑھیں اورکم ہوئیں، چیئرمین پی ٹی آئی کے دور میں گندم کی پیداوار کم ہوئی تھی، اس کے بعد ہمیں مجبوراً گندم درآمد کرنا پڑی۔

    نجی ٹی وی کے مطابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ یوکرین جنگ کی وجہ سے اشیا کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی تھیں، آئی ایم ایف کے ساتھ بڑے چیلنج کو ہینڈل کیا، ملک ڈیفالٹ سے بچ گیا اگر ڈیفالٹ ہوتا تو تباہی ہو جاتی، رمضان میں 40 یا 50 ارب روپے کا پنجاب میں مفت آٹافراہم کیا گیا، بجلی کی قیمتوں کی ری بیسنگ آئی ایم ایف کی وجہ سے کرنا پڑیں، اضافے کے باجود 63 فیصد بجلی صارفین پر کوئی بوجھ نہیں پڑا۔

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے ملک میں تباہی کی، 9 مئی ریاست، فوج اور سپہ سالار کے خلاف بغاوت تھی، بغاوت ہوجائے اور معیشت اچھی چلے یہ کیسے ممکن ہے، 9 مئی ملکی تاریخ کا تاریک ترین دن تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آرمی چیف کی تعیناتی کا معاملہ خوش اسلوبی سے طے ہوا، تعیناتی کی سمری آئی تو اس میں 6 نام موجود تھے جن میں سے جنرل عاصم منیرکا نام پہلے نمبر پر تھا۔ جبکہ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے اچھے وقت اورچیلنجز دیکھے، ہم نے سیاست کو قربان کر کے ریاست کو بچانےکا فیصلہ کیا تھا، ریاست بچی ہے تو سیاست بھی بچ جائے گی، اچھا وقت آئے گا۔

    وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ قانون بنانا مقننہ کا کام ہے، سپریم کورٹ قانون نہیں بناسکتی، سپریم کورٹ صرف قانون کی تشریح کرسکتی ہے، سپریم کورٹ کا فیصلہ اس وقت آیا جب پارلیمنٹ مدت پوری کرچکی، سمجھ آتا ہے فیصلہ اس لیے کیا گیا تاکہ اس پر نئی قانون سازی نہ ہو، مقننہ کو قانون سازی کا پورا اختیار ہے، کبھی نہیں ہوا ایک بینچ مقننہ کا قانون سازی پر عملدرآمد کا حق روک دے، قانون بننے کے بعد چیلنج کرنا الگ بات ہے، قانون پر عملدرآمد روکنے کا واقعہ کبھی نہیں دیکھا، نہ ہوگا، قانون پرعملدر آمد روکنا ناپسندیدہ عمل ہے۔ علاوہ ازیں شہباز شریف کا کہنا تھا کہ قائد مسلم لیگ ( ن ) نوازشریف اگلے ماہ وطن واپس آئیں گے، قوم ان کا بھرپور استقبال کرے گی، وہ وطن واپس آ کر قانون کا سامنا کریں گے، وہ اپنی نااہلی کی 5 سال کی مدت پوری کر چکے ہیں۔

    جبکہ وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ مردم شماری نتائج مکمل ہونے کے بعد ہم نے سی سی آئی کی میٹنگ بلائی، سی سی آئی فیصلےمیں لکھا ہے آئندہ الیکشن نئی مردم شماری پرہوںگے، چاہتاہوں کہ الیکشن جلد از جلد ہوں، میں نے اور نگراں حکومت نے الیکشن نہیں کرانے، انتخابات الیکشن کمیشن نے کرانے ہیں، آئین کے مطابق حکومت چھوڑ رہا ہوں، کوشش کی جائے تو مارچ 2024 سے پہلے الیکشن ہوسکتے ہیں۔ جبکہ ان کا کہنا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے سائفر کے حوالے سے تاریخی جھوٹ بولا، پینترا بدلا کہا کہ امریکا نے سازش نہیں کی، پھر جھوٹ بولا کہ سائفر گم ہوگیا ہے، سائفر گم ہو گیا تھا تو اسٹوری کہاں سے چھپ گئی؟، اسدمجید نے بطور سفیر میٹنگ میں کہا تھا حکومت گرانے کی سازش نہیں، سائفر کیسے لیک ہوا اس کاعلم نہیں، ایف آئی اے تحقیقات کر رہا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے خلاف کیسز سب نیب نیازی گٹھ جوڑ تھا، ہم دن رات پیشیاں بھگتے رہے، چیئرمین پی ٹی آئی کا معاملہ عدالت میں ہے، انہیں عدالتیں سزادیتی ہیں تو میرا اس میں کوئی عمل دخل نہیں۔