Baaghi TV

Tag: ppp

  • اسپیکر قومی اسمبلی کی سابق صدر آصف علی زرداری سے ملاقات

    اسپیکر قومی اسمبلی کی سابق صدر آصف علی زرداری سے ملاقات

    سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے اسلام آباد میں پاکستان پیپلز پارٹی کے کو چیئر مین اور سابق صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کی ہے جبکہ اس ملاقات میں موجودہ اہم سیاسی صورتحال سمیت باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا جس میں سابق صدر آصف علی زرداری نے اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کو گزشتہ 16 ماہ کے دوران ایوان کی کارروائی کو خوش اسلوبی، منصفانہ اور غیر جانبدارانہ طریقے سے چلانے پر مبارکباد پیش کی۔

    علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے ہمیشہ جمہوری انداز میں پارلیمانی نظام کو آگے بڑھایا ہے۔انہوں نے کہا کہ 15 ویں قومی اسمبلی کی تکمیل بھی اسی سلسلے کی ایک کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 15 ویں قومی اسمبلی کی تکمیل سے جمہوریت مضبوط ہوئی ہے اور جمہوری اقدار کو فروغ ملا ہے۔انہوں نے اسپیکر قومی اسمبلی کی پارلیمان میں نئی پارلیمانی روایت قائم کر کہ ایوان میں موجود جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں سے الوداعی ملاقاتوں کے فیصلہ کو خوش آئند قرار دیا ۔انہوں نے کہا کہ نئی پارلیمانی روایات سے پارلیمنٹ میں موجود پارٹی لیڈران کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ پارلیمان کا جمہوری انداز میں اختتام ایک اچھا شگون ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پاکستان کے حوالے سےامریکا پر لگائے جانے والے الزامات جھوٹے ہیں،امریکی محکمہ خارجہ
    چین:سیاحتی مقام پر دریا میں اچانک سیلابی ریلا آگیا،کئی افراد بہہ گئے
    ڈالر کی قیمت میں ایک بار پھراضافہ
    گیسٹ ہاؤس کی آڑ میں قحبہ خانہ،5 خواتین سمیت 11 ملزمان گرفتار
    نئے چئیرمین نیپرا نے چارج سنبھال لیا
    پشاور ہائیکورٹ میں اے پی ایس واقعے کے متعلق کیس کی سماعت
    انجرڈ پرسنز میڈیکل بل؛ مریض کو پوچھا تک نہیں جاتا. سینیٹر مہر تاج
    اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے سابق صدر آصف علی زرداری کی جانب سے تعریفی کلمات پر ان کا شکریہ ادا کیا اور موجودہ اسمبلی میں بھرپور اور مثبت کردار ادا کرنے اور ان کی بے مثال خدمات کے اعتراف میں انہیں یادگاری شیلڈ بھی پیش کی۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ آصف علی زرداری ایک زیرک سیاستدان اور قابل رہنما ہیں جنہوں نے ملک کے مشکل حالات میں حکومت چلانے میں اہم کردار ادا کرتے ہوئے بھرپور رہنمائی کی۔

  • نگراں وزیراعظم کیلئے اب تک کوئی نام فائنل نہیں ہوا. قمر زمان کائرہ

    نگراں وزیراعظم کیلئے اب تک کوئی نام فائنل نہیں ہوا. قمر زمان کائرہ

    وزیراعظم کے مشیر امور کشمیر قمر زمان کائرہ کا کہنا ہے کہ نگراں حکومت کی کوئی مدت نہیں ہوتی کیونکہ انتخابات ہونے تک نگراں حکومت رہتی ہے اور حلقہ بندیوں میں کسی صوبے کی نشستیں کم زیادہ نہیں ہوں گی جبکہ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے کہا تھا کہ اداروں کو اپنے آئینی دائرہ کار میں رہنا چاہیئے اور سوسائٹی بیلنس ہوگی تو ہم آگے بڑھ سکیں گے، 30 سال تک ملک میں آمریت رہی ہے جبکہ جمہوری ادوار میں بھی کام نہیں کرنے دیا گیا، ہمیں حقیقت کو تسلیم کرنا چاہیئے، بلاول بھٹو نے بات حکومت کی جانب سے کہی۔

    قمر زمان کائرہ نے مزید کہا کہ کوئی شک نہیں ہم مہنگائی اور بیروزگاری پر قابو نہیں پاسکے ہیں لیکن حکومت کی مدت ختم ہونے سے پہلے پیٹرول مہنگا کیا گیا مگر ذرا سوچیں کہ پیٹرول کی قیمت میں 20 روپے اضافہ کرنا کیا آسان فیصلہ تھا۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ حکومت کو ریاست کے لیے مشکل فیصلے کرنے پڑے، بلاول بھٹو کے بیان پر میں تبصرہ نہیں کرسکتا، پیمرا ایکٹ میں ترامیم کرکے بل دوبارہ پیش کیا گیا، اس کا مطلب ہے کسی کے کہنے پر ٹھپے نہیں لگ رہے، تیز رفتار قانون سازی سے گریز کرنا چاہیئے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ حکومتی ارکان مزے کررہے ہیں، جہاں ضرورت ہوتی ہے ایوان میں اعتراض اٹھایا جاتا ہے، جمہوریت کے لیے ہم ایک قدم آگے اور 2 قدم پیچھے جاتے ہیں، جمہوریت کے لیے جدوجہد میں ہم پیچھے ہی گئے ہیں۔ علاوہ ازیں انتخابات سے متعلق سوال پر قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ انتخابات آئینی ضرورت ہیں، 90 دن میں ہوتے نظر نہیں آرہے، سی سی آئی نے 2017 کی مردم شماری کو مشکوک قرار دیا، 2022 میں نئی مردم شماری کا آغاز ہوا تھا، مردم شماری پر ایم کیوایم کو شدید تحفظات تھے، سی سی آئی نے متفقہ طور پر مردم شماری کی منظوری دی، مردم شماری کے نتائج پر تمام جماعتیں متفق ہوگئیں، مردم شماری کے تحت حلقہ بندیاں ہونا قومی تقاضہ ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نگران حکومت کو ہر صورت مہنگائی کو قابو کرنا ہو گا ، راجہ ریاض
    نو مئی یوم سیاہ کے طورپر، آج رات اسمبلی تحلیل کی سمری بھیجوں گا، وزیراعظم
    ایشیا کپ اورافغانستان سیریز کیلئے 18 رکنی اسکواڈ کا اعلان
    نواز شریف بہت جلد واپس آرہے، مریم نواز شریف نے عندیہ دے دیا
    روپے کی قدر میں بحالی
    پیپلز پارٹی کے رہنما نے کہا کہ نگراں حکومت کی کوئی مدت نہیں ہوتی، نگراں وزیراعلیٰ کی سی سی آئی میں شرکت پر کوئی قدغن نہیں، انتخابات ہونے تک نگراں حکومت رہتی ہے، نگراں حکومت 90 دن میں ختم نہیں ہوتی، حکومت سازی میں مزید 15 دن لگتے ہیں، نگراں حکومت رہتی ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ حلقہ بندیوں میں پنجاب کی کوئی نشست کم نہیں ہوگی، اور حلقہ بندیوں کے لیے اب آئینی ترمیم کی ضرورت نہیں رہی ہے لہذا حلقہ بندیوں میں کسی صوبے کی نشستیں کم یا زیادہ نہیں ہوں گی۔ علاوہ ازیں وفاقی وزیر قمر زمان کائرہ نےکہا کہ نگراں وزیراعظم کے لیے اب تک کوئی نام فائنل نہیں ہوا ہے اور وزیراعظم و اپوزیشن لیڈر اس پر کل مشاورت کریں گے جبکہ الیکشن کمیشن کو حلقہ بندیوں کے لیے 4 ماہ چاہئیں لہذا الیکشن کمیشن کو چاہیئے کہ 3 ماہ میں حلقہ بندیاں مکمل کرلے جبکہ آئین پر جلد از جلد عملدرآمد کرنے کی کوشش کی جانی چاہیئے۔

  • سیاست ایسے کریں کہ ادارے دائرے میں رہ کر کام کرتے رہیں ،بلاول بھٹو

    سیاست ایسے کریں کہ ادارے دائرے میں رہ کر کام کرتے رہیں ،بلاول بھٹو

    اسلام آباد: وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ نواز شریف اور آصف زرداری کو ایسے فیصلے لینے چاہئیں جس سے میرے اور مریم نواز کیلئے سیاست آسان ہو۔

    باغی ٹی وی: قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیں طے کرنا ہو گا کہ واپڈا کو منسٹری چلائے گی یا سپریم کورٹ،ہمیں طے کرنا ہو گا کہ سیاست ایسے کریں کہ ادارے دائرے میں رہ کر کام کرتے رہیں ہم اپنے دور حکومت میں کامیاب نہیں ہوئے کہ اداروں کو اپنے دائرے میں رکھ سکیں ہم آگے جا کر سیاسی جماعتوں کو سوچنا چاہیے کہ اس مسئلہ کو حل کیا جائے۔

    پچھلے 15ماہ میں عوام کی خدمت کا موقع ہی نہیں ملا ،کبھی لانگ مارچ اور کبھی زمان پارک میدان جنگ بنا رہا،ہم سب کو سیاست دان بننا چاہیے اور جمہوریت کو مضبوط کرنا چاہیے ،ہم روایتی سیاست سےتنگ آ چکے ہیں ملک کو ترقی نوجوان دلوا سکتے ہیں ،ایسی سیاست کی جائے جس سے نوجوانوں کی امید برقرار رہے۔

    بلاول بھٹو کی ا سپیکر قومی اسمبلی کومبارکباد

    افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمیں ایسی اپوزیشن ملی جس نے تاریخ میں پہلی بار جناح ہاؤس پر حملہ کیا، فوجی تنصیبات پر حملہ کیا اور جب ایسا کوئی قدم اٹھایا جاتا ہے تو ریاست کی رٹ قائم کرنے کیلئے سخت اقدامات اٹھانے پڑتے ہیں،ہماری کوشش ہمیشہ یہ ہی رہی ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے فلسفے اور منشور، شہید ذوالفقار علی بھٹو کے نظریہ اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی تربیت کے مطابق کام کریں، ہم نے ایوان میں کبھی گالم گلوچ نہیں کی کیونکہ ہم اس پر یقین نہیں رکھتے۔

    بچوں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا ہمارا نصب العین ہونا چاہیے،راجہ پرویز اشرف

  • آصف علی زرداری کے پیر، سید اعجاز شاہ کے اہم انکشافات

    آصف علی زرداری کے پیر، سید اعجاز شاہ کے اہم انکشافات

    نجی ٹی وی سے گفتگو میں پیر سید اعجازشاہ نے کہا کہ آصف علی زرداری پسند نہیں کرتے تھے کہ میں میڈیا پر آؤں میرا خیال ہے کہ میں پہلی بار میڈیا پر آیا ہوں، میں تو فقیر ہوں میرا چھوٹا سا دربار ہے، مجھے میرے خواب میں میرے ہی پیر صاحبٓ کی جانب سے مجھے حکم ہوا کہ ایک آدمی سندھ سے آیا ہے اور اس سے رابطہ کرو جبکہ وہ مصیبت میں ہے۔ آصف علی زرداری پر جب فرد جرم عائد ہوئی تو مجھے معلوم ہوا تو میں اٹک قلعے گیا جہاں وہ قید تھے۔

    انہوں نے نے نجی ٹی وی کے انٹرویو میں بتایا کہ میں اٹل قلعے میں داخل ہوگیا اور صبح کا وقت تھا بس میں اندر داخل ہوگیا جبکہ یہ تو راز کی بات ہے۔ ایک بجے پولیس آئی تو پوچھا کہ کوئی مہمان آرہا ہے تو انہوں نے کہا کہ آرہا ہے۔ جیسے مزید آگے بڑھا اندر داخل ہوا اور دروازہ کھولا جبکہ اندر صدر صاحب موجود تھے سلام کیا تو مسکرائے پھر پریشان ہوگئے۔ علاوہ ازیں پیر سید اعجازشاہ نے کہا کہ میں جاکر بیٹھا گیا سماعت ہورہی تھی وہاں آٹھ یا نو آدمی تھے جبکہ آصف علی زرداری نے اپنے ہمراہ ایک آدمی سے میرے بارے میں پوچھا کہ یہ کون ہے اور کیسے آیا ہے۔ میں چند لائینیں لکھیں کردیں۔ لکھا تھا کہ میں آیاہوں فقیر آدمی ہوں آپ کامعاملہ میرے سپرد کیا جارہا ہے اور آپ بھی دعا کریں دیکھنا آپ بھی کہ کیا نتائج نکلتے ہیں۔

    پیر اعجاز شاہ نے مزید بتایا کہ ایک ماہ بعد میں پنڈی میں احتساب عدالت گیا جبکہ وہاں ملاقات ہوئی اور آصف علی زرداری نے ایک آدمی سے کہا کہ انہیں آپ جانے کا کرایہ دیں تو میں نے کہا کہ سر میں کرایہ نہیں لوں گا جب تک آپ کا معاملہ حل نہیں ہوتا۔ جب ان کے ساتھ معاہدہ لکھا تو میں نے کہا کہ آپ یہ معاملہ یہاں سے نہیں مدینہ سے حل ہوگا۔ اس کے بعد میں مدینے گیا اور وہاں ان کے لئے دعا کی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ریلوے کیرج فیکٹری کو آؤٹ سورس کرنے کا منصوبہ
    ایلون مسک کا ایک بار پھر مارک زکربرگ کیساتھ ایم ایم اے فائٹ کا عندیہ
    طالبان نے لڑکیوں پر کلاس 3 سے آگے پڑھنے پر بھی پابندی عائد کردی
    پی آئی اے کی لینڈنگ کی وجہ سے سالانہ 71 ارب کا نقصان ہو رہا ہے،اسحاق ڈار
    ہمارے دو تین دن رہ گئے، ڈر تھا کہ کوئی حادثہ نہ ہو جائے اور ایسا ہی ہوا،سعد رفیق

    سابق صدر کے پیر سید اعجازشاہ نے کہا کہ جب ایوان صدر میں پہلی افطاری تھی تو صحافی حامد میر نے مجھ سے پوچھا کہ چاچا اگلی افطاری بھی ہوگی کہ نہیں، میں نے کہا کہ میں بیٹھا ہوں۔ جبکہ انہوں نے مزید کہا کہ آصف علی زرداری کی صدارت کو دور ختم ہوا تھا تو اس وقت سے ابتک میں اس جانب ہی نہیں گیا۔ کچھ لوگ ہیں جو اس طرح جھوٹی افواہیں پھیلاتے ہیں علاوہ ازیں پیر سید اعجازشاہ نے حال میں گرفتار ہونے والے چئیرمین پی ٹی آئی کے بارے میں کہا کہ جب میں مدینہ پہنچا میں نے کہا کہ اسکی فائلیں کھل گئیں ہیں یہ جارہا ہے، میں لیگی رہنما شاہد خاقان عباسی کو میسج بھیجا کہ یہ حکومت چلی گئی ہے۔

  • نئی مردم شماری پرانتخابات نہیں کرانے چاہیے۔ شیری رحمان

    نئی مردم شماری پرانتخابات نہیں کرانے چاہیے۔ شیری رحمان

    پیپلزپارٹی کی سینیٹرشیری رحمان نےعام انتخابات پُرانی مردم شماری کے مطابق کرانے کا مطالبہ کردیا ہے جبکہ آج سینیٹ ہونے والے اجلاس میں پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے کا کہنا تھا کہ مردم شماری پربہت سے لوگوں کو اعتراض ہے، لیکن نئی مردم شماری پرانتخابات نہیں کرانے چاہیے۔ علاوہ ازیں شیری رحمان نے الیکشن پرانی مردم شماری کے تحت کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ نئی مردم شماری پرانتخابات نہیں کرانے چاہیے، ہم نہیں چاہتے کہ الیکشن میں تاخیرہو،الیکشن وقت پراورآئین کےمطابق ہونےچاہئیں اور یہی ہمارا مطالبہ ہے۔

    ادھر دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف کے اس اعلان کہ عام انتخابات نئی مردم شماری پر ہوں گے، الیکشن میں تاخیر کے بادل منڈلانے لگے ہیں۔ جس کے بارے میں قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ انتخابات نئی مردم شماری کی مشترکہ مفادات کونسل سے منظوری اور نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد ہو سکتے ہیں۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    توشہ خانہ کا ٹرائل روکنے کا کیس، فیصلہ آج، عمران خان کی نیب،پولیس میں طلبی بھی آج
    توشہ خانہ کیس، آج کا وقت دیا تھا الیکشن کمیشن اپنے دلائل دے ،جج ہمایوں دلاور
    علی امین گنڈا پور کے گھر چھاپہ،غلیل،ڈنڈے،سیلاب ریلیف کا سامان برآمد
    تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی انتخاب ،الیکشن کمیشن میں سماعت ملتوی
    زیادہ بھیک کے لئے سفاک باپ نے کمسن بچی کو جلا دیا
    اس کے علاوہ جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم، کراچی اور حیدرآباد کی مردم شماری پر اعتراض اٹھا چکی ہیں۔ تایم خیال رہے کہ گزشتہ روز ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو میں شہباز شریف نے کہا تھا کہ 12 اگست کو حکومت کی مدت مکمل ہو رہی ہے، نئی مردم شماری کے تحت ہی انتخابات میں جانا ہے، عوامی مینڈیٹ سے لیس حکومت 5 سال حکومت کرےگی، انتخابات میں تاخیر کا کوئی جواز نہیں جبکہ وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ مردم شماری ہوئی ہے تو اسی پر انتخابات ہونے چاہئیں، الیکشن کمیشن کی ذمےداری ہے وہ انتخابات کرائیں گے، مردم شماری کے نتائج مکمل ہونے پر مشترکہ مفادات کونسل میں جائیں گے۔

  • ڈیموں کی وجہ سے پانی ضائع ہونے کے بجائے محفوظ ہوجاتا. وزیر اعلی سندھ

    ڈیموں کی وجہ سے پانی ضائع ہونے کے بجائے محفوظ ہوجاتا. وزیر اعلی سندھ

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ ڈیم بنانے سے پانی کا ضیاع کم ہو جائے گا جبکہ ہمیں آنے والی نسلوں کیلئےخوشحالی کی بنیاد رکھنا ہوگی لہذا آبادی کے تناسب سے پانی کا انتظام کرنا ہوگا جبکہ قومی آبی پالیسی اپریل 2018 میں منظور کی گئی تھی کیونکہ ہمارے مقامی مسائل، ان کے حل کیلئے ہماری اپنی پالیسی دستاویز کی ضرورت کو سختی سے محسوس کیا گیا تھا۔ صوبے کی واٹر پالیسی کے اجرا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ پانی زندگی ہے، جو ہمارے روح ارض پر موجود تمام جانداروں کو زندہ رکھتا ہے، سندھ میں پانی کی قلت، ناقابل اعتبار بہاؤ اور موسمیاتی تبدیلی کے واقعات کی وجہ ہم سے زیادہ حساس ہیں۔

    وزیر اعلی سندھ کا مزید کہنا تھا کہ عالمی آبادی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور پانی کی مانگ میں بھی بڑھ رہی ہے، آبادی میں تیزی اضافے کے باعث پانی کا موثر انتظام اور نظم و نسق انتہائی اہمیت کا حامل ہے، اس جامع واٹر پالیسی دستاویز کو متعارف کرواتے ہوئے مجھے بے حد خوشی ہو رہی ہے اور پانی کے انمول وسائل کی حفاظت اور ذمہ داری کے ساتھ انتظام کرنا ہمارے اجتماعی عزم کا ثبوت ہے جبکہ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی کی حکومت نے سندھ میں عوام کیلئے بہت سے منصوبے شروع کیئے، ہمیں آنے والی نسلوں کیلئے خوشحالی کی بنیاد رکھنا ہوگی اور آبادی کے تناسب سے پانی کا انتظام کرنا ہوگا، صوبے کیلئے جامع واٹر پالیسی وقت کی ضرورت ہے، ڈیم بنانے سے پانی کا ضیاع کم ہو جائے گا۔

    وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ اس پالیسی دستاویز کا وژن پانی سے متعلق مسائل کو حل کرنا ہے، پانی کو بنیادی انسانی حق اور مشترکہ ذمہ داری کے طور پر تسلیم کرنا ہے، واٹر پالیسی دستاویز کا مقصد پانی کے استعمال، ری سائیکلنگ، پانی کے ضیاع کو کم کرنا ہے، یہ مقامی کمیونٹیز اور مقامی لوگوں کو بااختیار بنانے کی کوشش کرتا ہے، اچھی حکمرانی اور پالیسی فریم ورک کی اہمیت کو واضح کرتا ہے ، پانی کے ذمہ دارانہ استعمال کی ترغیب دیتا ہے ۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    مریم نواز تشدد کا شکار کم عمر بچی کی عیادت کے لیے ہسپتال پہنچ گئیں
    بغداد، پاکستانی سفارتخانے میں مشین ریڈ ایبل پاسپورٹ سسٹم کا افتتاح
    انتخابی عمل میں خواتین کی شرکت سے جمہوریت مضبوط ہوتی ہے،وفاقی وزیر قانون

    وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ پانی کی دستیابی، تقسیم اور معیار کے حوالے سے ہمیں جن چیلنجز کا سامنا ہے وہ کثیر الجہتی اور پیچیدہ ہیں، موسمیاتی تبدیلی، آبادی میں اضافہ، شہروں کا بڑھنا اور صنعت کاری میٹھے پانی کے ذرائع پر غیرمعمولی دباؤ ڈال رہی ہے، یہ واٹر پالیسی دستاویز ماہرین، تعلیمی اداروں، پبلک سیکٹر کی تنظیموں اور متعلقہ شہریوں کی انتھک کوششوں کا نتیجہ ہے، جنہوں نے سرحدوں اور نظریات سے بالاتر ہو کر پانی کے انتظام کے لیے ایک روڈ میپ بنانے کے لیے تعاون کیا ہے۔ مراد علی شاہ نے مزید کہا کہ تمام لوگوں کا شکریہ جنہوں نے اس واٹر پالیسی دستاویز کی تیاری میں تعاون کیا ہے، ہم مل کر پانی کے پائیدار انتظام کے اس راستے پر آگے بڑھیں، اور آنے والی نسلوں کے لیے خوشحالی، مساوات اور لچکدار میراث چھوڑیں۔

  • عمران خان کے کیس کا دو دن میں فیصلہ آنے والا ہے. اعتزاز احسن کا دعوٰی

    عمران خان کے کیس کا دو دن میں فیصلہ آنے والا ہے. اعتزاز احسن کا دعوٰی

    اعتراز احسن نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے تمام سوالوں کا جواب دے دیا ہے اور یہ معاملہ جس سپیڈ سے جارہا ہے اس کو دیکھتے ہوئے میرے خیال میں دو دن میں کیس کا فیصلہ آ جائے گا۔ جبکہ انہوں نے نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے اپنے ملٹری سیکرٹری کا نام بھی لیا ہے، اب اگر وہ عدالت پیش ہو کر ان کیخلاف بیان دے دیتا ہے تو پھر معاملہ الٹاپڑ جائے گا۔

    پی پی پی رہنما اعتزاز احسن کا مزید کہنا تھا کہ انتخابات نئی مردم شماری پر نہیں ہو سکتے، انتخابات پرانی مردم شماری پر ہی ہوں گے، اور آئینی ترمیم کیلئےارکان کی مطلوبہ تعداد پوری نہیں ہے۔ جبکہ اعتراز احسن نے میزبان کو بتایا کہ کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 90دن گزرنے کے باوجود الیکشن نہیں ہوئے، نگران حکومت کے بعد الیکشن کا ملتوی ہونا کوئی مشکل بات نہیں ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    190 ملین پاؤنڈ،ڈیم فنڈ کی تفصیلات دی جائیں، مبشر لقمان کا سپریم کورٹ کو خط
    لسبیلہ ہیلی کاپٹر حادثے کو ایک سال،وزیراعظم کا شہداء کو خراج تحسین
    سویڈن پولیس نے ایک بار پھر قرآن پاک کی بے حرمتی کی اجازت دے دی
    چیئرمین پی ٹی آئی نے اپنے ریکارڈ کروائے گئے 342 کے بیان پر دستخط کردیئے
    انکا مزید کہنا تھا کہ یہ ان کے ذہن میں ہے کہ نگران حکومت لمبی جائے گی ، یہ اسحاق ڈار کو اس لیے بنانا چاہتے تھے کہ لمبا بیٹھا رہے۔ اور ان کی مرضی کے مطابق سب کچھ ہو لیکن اب پھر اس بات سے مکر گئے کیونکہ ان کا وہ پلان لیک ہوگیا لہذا اب بھی یہ ایسا بندہ بیٹھانا چایہں گے جو ان کی مرضی کے مطابق کام کرے.

  • وزیر اعظم شہباز شریف نے الیکشن نئی مردم شماری کے بعد کرانے کا اعلان کردیا

    وزیر اعظم شہباز شریف نے الیکشن نئی مردم شماری کے بعد کرانے کا اعلان کردیا

    شہباز شریف نے الیکشن نئی مردم شماری کے بعد کرانے کا اعلان کر دیا

    وزیر اعظم شہبا زشریف نے انتخابات نئی مردم شماری کے تحت کرانے کا اعلان کردیا ہے جبکہ اس حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف کاکہنا ہےکہ نئی مردم شماری کے تحت ہی انتخابات میں جانا چاہیئے اور مردم شماری ہوئی ہے تو اسی پر انتخابات ہونے چاہئیں، الیکشن کمیشن کی ذمےداری ہے کہ وہ انتخابات کرائیں گے، مردم شماری کے نتائج مکمل ہونے پر مشترکہ مفادات کونسل میں جائیں گے۔

    علاوہ ازیں وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ 12 اگست کو حکومت کی مدت مکمل ہو رہی ہے، نئی مردم شماری کے تحت ہی انتخابات میں جانا ہے، جبکہ عوامی مینڈیٹ سے لیس حکومت 5 سال حکومت کرےگی۔ تاہم نگران سیٹ اپ کے حوالے سے نواز شریف سے مشاورت مکمل ہوگئی ہے ، قائد حزب اختلاف سے مشاورت کروں گا، پاکستان کی معاشی صورتحال کو آگے لے کر جائیں گے، اپوزیشن لیڈر سے مشاورت آئین کا تقاضہ ہے، پر امید ہوں اپوزیشن لیڈر مل کر نگران سیٹ اپ کا فیصلہ کریں گے، الیکشن میں مسلم لیگ ن کا امیدوار نوازشریف ہے۔

    جبکہ شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ9 مئی کو دوست نما دشمن بن کر یہ حرکت کی گئی، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مجبوراً اضافہ کرنا پڑا،دو تین ماہ میں کئی بار پیٹرول کی قیمتیں کم ہوئیں ایک دوبار قیمت بڑھائی،پیٹرول کی قیمت کا دار و مدار عالمی مارکیٹ میں قیمتوں پر ہے، پیٹرول کی قیمت میرے کنٹرول میں نہیں عالمی منڈی میں کروڈ آئل کی قیمت پر دارو مدار ہے،بدقسمتی سے اس مرتبہ پیٹرول کی قیمت عالمی منڈی میں آسمان پر چلی گئی۔

  • سینیٹ میں جو بل پیش  ہوا اس پر اتحادیوں کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ فیصل کریم کنڈی

    سینیٹ میں جو بل پیش ہوا اس پر اتحادیوں کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ فیصل کریم کنڈی

    وفاقی وزیر مملکت اور پیپلزپارٹی کے سینئر رہنماء فیصل کریم خان کنڈی کا کہنا ہے کہ منسٹر آف سٹیٹ نے سینیٹ میں ایک بل پیش کیا جس میں پیپلز پارٹی اور اتحادی جماعتوں کو اعتماد میں نہیں لیا گیا ہے. نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ہمیشہ اپنے اتحادیوں کو آن بورڈ لیتی ہے جبکہ ہم نے کبھی ایسا نہیں سوچا جبکہ جو بل لایا گیا اعتماد میں نہ لینے کی وجہ سے ہم سمیت دیگر جماعتوں کے ارکان نے بھی اس کی مخالفت کی ہے۔

    فیصل کریم کنڈی کا مزید کہنا تھا کہ ہم تمام لوگوں کو آن بورڈ لیکر دیکھیں گے کہ اس بل پر کیا ہو سکتا ہے اور کیا نہیں، ہم ایسا بل نہیں لانا چاہتے جو کل کو ہمارے ہی گلے پڑ جائے جبکہ نگران سیٹ اپ کے حوالے سے انہوں نے احسن واحد کو بتایا کہ نگران سیٹ اپ کیلئے پی پی پی اور مسلم لیگ ن کی کمیٹی دوبارہ مل بیٹھے گی اور اس کمیٹی میں نام شیئر ہونگے جس کے بعد اس پر پر بحث ہوگی۔ علاوہ ازیں انہوں نے کہا ہے کہ ابھی نگران وزیراعظم کے نام کیلئے کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا، سیاسی لوگوں کے نام سامنے آ رہے ہیں اس میں کوئی بڑی بات نہیں ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بلوچستان میں ” باپ” کا کردار بدستور اہم رہے گا
    چین میں پاکستانی آموں کی نمائش اگست کے تیسرے ہفتے میں
    اسٹیٹ بینک کا شرح سود22 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ
    باجوڑ، خار میں دہشت گردی،سی پیک کی دس سالہ تقریبات سادگی سے منانے کا فیصلہ
    رہنما پیپلز پارٹی فیصل خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کیا کبھی کسی سیاستدان کو کہا گیا ہے کہ ڈیپوٹیشن پر جج یا بیوروکریٹ بن جائیں، کیا سب لوگوں نے ہمارے پاس ہی آنا ہے کبھی کسی جج کو کبھی کسی بیوروکریٹ کو لے آئیں، اس کا کیا مطلب ہے جج اور بیوروکریٹ اچھی سیاست کر لیتے ہیں۔جبکہ ماضی میں ہم نے تجربے کیے ہیں اور انہی لوگوں کو بٹھا دیا لیکن جب آر ٹی ایس کا سوئچ آف ہوا تو یہ خاموش تھے، لیکن جب الیکشن گزر جاتے تو یہ کہتے کہ ہمیں تو گھر سے باہر جانے کی اجازت نہیں تھی۔

  • بینظیر نشوونما کا دائرہ کار  ملک بھر میں بڑھا دیا گیا. شازیہ عطاء مری

    بینظیر نشوونما کا دائرہ کار ملک بھر میں بڑھا دیا گیا. شازیہ عطاء مری

    وفاقی وزیر برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ شازیہ مری نے عالمی بینک اور ورلڈ فوڈ پروگرام کے نمائندگان کے ہمراہ آج صوبہ سندھ کے رورل ہیلتھ سینٹر جام نواز علی میں قائم بینظیر نشوونما سینٹر کا دورہ کیا جبکہ ترجمان بی آئی ایس پی مہران عطاء کے مطابق دورے کے دوران وفاقی وزیرشازیہ مری نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے ہمیشہ غریب عوام کی فلاح بہبود کے لئے اچھے پروگرام مرتب کیے جاتے رہے ہیں ۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام اور ورلڈ فوڈ پروگرام کے تعاون سے بینظیر نشوونما پروگرام میں رجسٹرڈ 7 لاکھ 70 ہزار حاملہ خواتین، نومولود بچوں اور دودہ پلانے والی خواتین کی غذائی کمی کو دور کرنے کی غذائیت سے بھرپور غذا فراہم کی جاتی رہی ہے۔
    Shazia Atta Marri
    جبکہ ترجمان نے مزید بتایا کہ یہ خوراک خواتین اور دوسال تک کی عمر کے بچوں کو فراہم کی جاتی ہے۔ جس سے زچہ و بچہ کی صحت پر اچھے نتائج مرتب ہورہے ہیں اور اس کے لئے بینظیر نشوونما کا دائرہ 15 اضلاع سے بڑھا کے ملک بھر میں کردیا گیا ہے۔ جس کے لئے 157 اضلاع میں 488 مراکز کام کر رہے ہیں۔ اگلے مالی سال کیلئے بینظیر نشوونما پروگرام کا بجٹ 32 ارب سے زائد رکھا گیا ہے جس سے 1.5 ملین افراد مستفید ہونگے۔

    وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت نے سیلاب زدگان میں بر وقت 70 ارب روپے تقسیم کئے اور اب ہم سیلاب زدگان کی بحالی کے لئے دن رات کوشاں ہیں اور اس کام میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائیگی۔ سیلاب میں 3 کروڑ 30 لاکھ افراد متاثر ہوئے جن میں زیادہ تر کا تعلق سندھ اور بلوچستان سے تھا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بلوچستان میں ” باپ” کا کردار بدستور اہم رہے گا
    چین میں پاکستانی آموں کی نمائش اگست کے تیسرے ہفتے میں
    اسٹیٹ بینک کا شرح سود22 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ
    باجوڑ، خار میں دہشت گردی،سی پیک کی دس سالہ تقریبات سادگی سے منانے کا فیصلہ
    شازیہ مری کے مطابق بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسرکرنے والی خواتین کی رجسٹریشن کے لیے ڈائنامک سروے شروع کیا گیا ہے جس سے مستحق خواتین کو اس پروگرام میں شامل کیا جائے گا. اس وقت ملک میں617 ڈائنامک رجسٹری سنٹر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ موجودہ حکومت نے بینظیر کفالت پروگرام میں توسیع کی، اس کا دائرہ کار بڑھایا اور اس کے ذریعے اب 90 لاکھ خاندانوں کو سہ ماہی بنیادوں پر 8750 روپے دیئے جارہے ہیں۔ تاہم اس موقع پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر فیض محمد مری، ریجنل ڈائریکٹر پی پی ایچ آئی فدا حسین لاشاری و دیگر افسران بھی موجود تھے۔