Baaghi TV

Tag: press conference

  • تم آرڈیننس لاؤ گے ہم اس کا بھی عدالتوں میں مقابلہ کریں گے، حافظ نعیم الرحمان

    تم آرڈیننس لاؤ گے ہم اس کا بھی عدالتوں میں مقابلہ کریں گے، حافظ نعیم الرحمان

    کراچی: جماعت اسلامی کے رہنما حافظ نعیم الرحمان نے آرڈیننس لانے کی صورت میں عدالت جانے کا اعلان کیا ہے-

    باغی ٹی وی: حافظ نعیم الرحمان نے کراچی میں ریلی سے خطاب میں کہا کہ مسترد جماعت کی فرمائشوں پر وزیراعظم اور آصف زرداری سرگرم ہیں اور اب بھی بلدیاتی انتخابات روکنے کی سازش ہو رہی ہے۔

    سندھ حکومت نے بلدیاتی الیکشن ملتوی کرنے کیلئے الیکشن کشمنر کو خط لکھ دیا

    انہوں نے کہا کہ تم آرڈیننس لاؤ گے ہم اس کا بھی عدالتوں میں مقابلہ کریں گے،عوام سازشیوں کو انتخابات سے بھاگنے نہیں دیں گےچیف الیکشن کمشنر سن لیں! انہیں انتخابات کرانے ہوں گے-

    واضح رہے کہ سندھ حکومت نے کل ہونے والے بلدیاتی الیکشن ملتوی کرنے کے لیے صوبائی الیکشن کمشنر کو خط لکھ دیا،سندھ حکومت کی جانب سے صوبائی الیکشن کمشنر کو لکھے گئے خط میں کل 15 جنوری کو کراچی اور حیدرآباد میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کی درخواست کی –

    اغوا برائے تاوان کے الزام میں سی ٹی ڈی افسر کا ڈرائیور گرفتار

    سندھ حکومت کے خط میں کہا گیا ہےکہ سکیورٹی کے مسائل کا سامنا ہے اور کوئی بھی ناخوشگوار واقعہ رونما ہوسکتاہے لہٰذا سکیورٹی کے فول پروف انتظامات ہونے تک بلدیاتی الیکشن ملتوی کیے جائیں۔

    خط میں مزید کہا گیا کہ سندھ کابینہ نے کراچی ڈویژن میں یونین کمیٹیز کی تعداد کا نوٹس واپس لینے کا فیصلہ کیا تھا،کابینہ نے حیدرآباد ڈسٹرکٹ میں بھی یونین کمیٹیزکی تعدادکا نوٹس واپس لینے کا فیصلہ کیاتھا، سندھ کابینہ نے سکیورٹی اہلکاروں کی اسٹیٹک تعیناتی کے لیے عدم دستیابی پربھی اظہارتشویش کیا تھا۔

    موجودہ حالات میں حکومت کا ساتھ جاری رکھیں،گورنر سندھ کی خالد مقبول صدیقی سے درخواست

  • موجودہ حالات میں حکومت کا ساتھ جاری رکھیں،گورنر سندھ کی خالد مقبول صدیقی سے درخواست

    موجودہ حالات میں حکومت کا ساتھ جاری رکھیں،گورنر سندھ کی خالد مقبول صدیقی سے درخواست

    کراچی: گورنر سندھ کامران ٹیسوری سے ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کے سربراہ خالد مقبول صدیقی نے ملاقات کی-

    باغی ٹی وی: ذرائع کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ کے کنوینر ڈاکٹرخالد مقبول صدیقی کی رابطہ کمیٹی کے اراکین کے ہمراہ گورنر ہاؤس میں گورنرسندھ کامران ٹیسوری سے ملاقات ہوئی جس میں کامران ٹیسوری نے وفد کو موجودہ صورتحال میں تمام معاملات افہام و تفہیم سے حل ہونے کا یقین دلایا ملاقات میں سید سہیل مشہدی اور ظفر کمالی بھی شریک تھے-

    بلدیاتی انتخابات شیڈول کے مطابق ہوں گے. ترجمان الیکشن کمیشن سندھ

    جبکہ ملاقات میں خالد مقبول نے رابطہ کمیٹی کی رائے سے گورنر سندھ کو آگاہ کیا اور وزیراعظم شہباز شریف، آصف زرداری اور فضل الرحمان سے ہونے والی گفتگو بتائی سہیل مشہدی نے گورنر سندھ کو ڈسٹرکٹ کونسل حیدرآباد سے متعلق آگاہ کیا۔

    ملاقات میں گورنر سندھ نے خالد مقبول صدیقی کو موجودہ صورتحال میں تمام معاملات افہام و تفہیم سے حل ہونے کا یقین دلایا اور گورنر سندھ نے خالد مقبول صدیقی سے درخواست کی کہ موجودہ حالات میں حکومت کا ساتھ جاری رکھیں کہ سندھ حکومت اور پیپلز پارٹی قیادت تمام معاملات سے آگاہ ہے۔

    یکم فروری تک پارٹی الیکشن نہ ہوئے تو انتخابی نشان واپس لے لیں گے،الیکشن کمیشن

    واضح رہے کہ ایم کیو ایم نے حکومت سے علیحدہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے ایم کیو ایم رہنما خواجہ اظہار الحسن کا کہنا تھا کہ رابطہ کمیٹی کے بعض ارکان کی رائے ہے15 جنوری کو بلدیاتی الیکشن ہو تو حکومت سے علیحدہ ہوجائیں، حتمی فیصلہ آج ایم کیوایم کے جنرل ورکرز اجلاس میں ہوگا۔

    ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم کی جانب سے حکومت چھوڑنے پر غور کیے جانے پر وزیر اعظم شہباز شریف نے خالد مقبول سے رابطہ کرتے ہوئے ان کے تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کرائی ،کہا ہے کہ آج رات میں ہی تحفظات دور کیے جائیں گے ۔

    جبکہ ٹیلیفونک رابطے میں سابق صدر آصف علی زرداری کی جانب سے خالد مقبول صدیقی کو یقین دہانیاں کراتے ہوئے مل بیٹھ کر تمام مسائل حل کرنے کی پیشکش کی ہے۔ پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے بھی خالد مقبول صدیقی سے ٹیلیفونک رابطہ کرتے ہوئے خالد مقبول صدیقی کو صبر سے کام لینے کا مشورہ دیا ہے۔

    چھوڑجانےکی بات مت کرنا​ دل دکھانےکی بات مت کرنا​:شہبازشریف،زرداری،مولاناایم کیوایم کی منتیں‌کرنےلگے

  • سندھ حکومت نے بلدیاتی الیکشن ملتوی کرنے کیلئے الیکشن کشمنر کو خط لکھ دیا

    سندھ حکومت نے بلدیاتی الیکشن ملتوی کرنے کیلئے الیکشن کشمنر کو خط لکھ دیا

    کراچی: سندھ حکومت نے کل ہونے والے بلدیاتی الیکشن ملتوی کرنے کے لیے صوبائی الیکشن کمشنر کو خط لکھ دیا۔

    باغی ٹی وی: سندھ حکومت کی جانب سے صوبائی الیکشن کمشنر کو لکھے گئے خط میں کل 15 جنوری کو کراچی اور حیدرآباد میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کی درخواست کی ہے۔

    تھانہ بی ڈویژن قصور کی کاروائی،ملزمان اسلحہ سمیت گرفتار

    سندھ حکومت کے خط میں کہا گیا ہےکہ سکیورٹی کے مسائل کا سامنا ہے اور کوئی بھی ناخوشگوار واقعہ رونما ہوسکتاہے لہٰذا سکیورٹی کے فول پروف انتظامات ہونے تک بلدیاتی الیکشن ملتوی کیے جائیں۔

    خط میں مزید کہا گیا ہے کہ سندھ کابینہ نےکراچی ڈویژن میں یونین کمیٹیزکی تعداد کا نوٹس واپس لینے کا فیصلہ کیا تھا،کابینہ نے حیدرآباد ڈسٹرکٹ میں بھی یونین کمیٹیزکی تعدادکا نوٹس واپس لینے کا فیصلہ کیاتھا، سندھ کابینہ نے سکیورٹی اہلکاروں کی اسٹیٹک تعیناتی کے لیے عدم دستیابی پربھی اظہارتشویش کیا تھا۔

    خط کے مطابق الیکشن کمیشن نے سکیورٹی اہلکاروں کی اسٹیٹک تعیناتی کے لیے عدم دستیابی پرتشویش کاجواب نہیں دیا۔

    اس سے قبل قومی سلامتی کے اداروں نےبھی سندھ میں بلدیاتی انتخابات کےحوالے سے شدید سکیورٹی خدشات کا اظہار کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو 15 جنوری کا انتخابی مرحلہ ملتوی کرنے کی سفارش کی ہے۔

    پشاور:تھانے پر دہشتگردوں کا حملہ،ڈی ایس پی سمیت 3 اہلکار شہید

    دوسری جانب وزارت داخلہ نے سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کے لیے پولنگ کے دوران ایف سی کی تعیناتی کی ہدایت کردی جی ایچ کیو کی جانب سے اسٹیٹک تعیناتی سے انکار کے بعد الیکشن کمیشن نےانتہائی حساس اورحساس پولنگ اسٹیشنز پر فرنٹیر کانسٹیبلری کی اسٹیٹک تعیناتی کی درخواست کی تھی۔

    وزارت داخلہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق کراچی اور حیدرآباد میں 15 جنوری کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے دوران سکیورٹی کےلیے فرنٹیئر کانسٹیبلری کی تعیناتی کی ہدایت جاری کردی گئی ہےوزارت داخلہ نے حساس اور انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنوں پر ایف سی کی تعیناتی کی ہدایت کی ہے۔

    نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہےکہ ایف سی کی تعیناتی کی تاریخ اورعلاقہ، سندھ حکومت، الیکشن کمیشن اور فرنٹیرکانسٹیبلری سےمشاورت سےطےکریں۔

    ذرائع کے مطابق کراچی میں حساس اداروں کا اجلاس جمعہ کی شام منعقد ہوا جس میں سندھ میں بلدیاتی انتخابات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔

    اغوا برائے تاوان کے الزام میں سی ٹی ڈی افسر کا ڈرائیور گرفتار

  • معاشی غیریقینی کے باوجود:انڈس موٹرز نے گاڑیوں کی قیمتوں میں 12 لاکھ تک اضافہ کردیا

    معاشی غیریقینی کے باوجود:انڈس موٹرز نے گاڑیوں کی قیمتوں میں 12 لاکھ تک اضافہ کردیا

    کراچی :انڈس موٹرز کمپنی (آئی ایم سی) نے معاشی غیریقینی، خام مال پر مہنگائی کے اثرات اور پیداواری لاگت میں اضافے کے پیش نظر ٹویوٹا گاڑیوں کی قیمتوں میں 2 لاکھ 80 ہزار سے 12 لاکھ روپے تک اضافہ کردیا۔انڈس موٹرز کی طرف سے قیمتوں میں اضافے کا سبب زرمبادلہ میں عدم استحکام، یوٹیلیٹی نرخوں میں اضافہ اور دیگر اخراجات بتایا گیا ہے۔

    کمپنی کی طرف سے جاری کردہ نوٹی فکیشن میں کہا گیا ہے کہ حالات نے کمپنی کو موجودہ قیمتیں برقرار رکھنے میں مشکلات پیدا کردی ہیں اس لیے کمپنی مارکیٹ پر کچھ اثرات مرتب کرنے پر مجبور ہے۔کمپنی کے نوٹی فکیشن کے مطابق یارس 1.3 ایم ٹی کی قیمت میں 2 لاکھ 80 ہزار روپے اضافہ کرکے 38 لاکھ 19 ہزار کی گئی ہے جبکہ 1.5 سی وی ٹی کی قیمت 3 لاکھ 50 ہزار اضافہ کرکے 46 لاکھ 9 ہزار روپے کردی گئی ہے۔

    کپمنی کی طرف سے نئی قیمتوں کا نوٹی فکیشن
    کمپنی کے مطابق یارس 1.3 سی وی ٹی کی نئی قیمت 40 لاکھ 69 ہزار، 1.3 ایچ ایم ٹی کی 40 لاکھ 39 ہزار، 1.3 ایچ سی وی ٹی کی 42 لاکھ 39 ہزار اور 1.5 ایم ٹی کی نئی قیمت 43 لاکھ 99 ہزار روپے کردی گئی ہے۔نوٹی فکیشن کے مطابق کرولا 1.6 ایم ٹی کی نئی قیمت 3 لاکھ 70 ہزار اضافے کے ساتھ 49 لاکھ 39 ہزار، 1.8 سی وی ٹی 4 لاکھ 60 ہزار اضافے کے ساتھ 62 لاکھ 9 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔

    اسی طرح کورولا کے ماڈل 1.6 سی وی ٹی کی نئی قیمت 53 لاکھ 69 ہزار، یو پی ایس پی ای سی کی قیمت 59 لاکھ 9 ہزار اور 1.8 سی وی ٹی ایس آر کی نئی قیمت 61 لاکھ 69 ہزار مقرر کی گئی ہے۔نوٹی فکیشن کے مطابق ریوو وی اے ٹی کی قیمت 8 لاکھ 30 ہزار اضافے کے ساتھ ایک کروڑ 14 لاکھ 29 ہزار جبکہ روکو وی اے ٹی کی قیمت 8 لاکھ 70 ہزار کے ساتھ ایک کروڑ 20 لاکھ 49 ہزار روپے تک مقرر کی گئی ہے۔

    کمپنی کے مطابق فارچونر ایل او پیٹرول، ہائی پیٹرول، ڈیزل اور ڈیزل لیجنڈر کی قیمتیں 9 لاکھ 30 ہزار کے ساتھ بالترتیب ایک کروڑ 25 لاکھ 9 ہزار، ایک کروڑ 43 لاکھ 19 ہزار، ایک کروڑ 50 لاکھ 99 ہزار، ایک کروڑ 59 لاکھ 9 ہزار روپے مقرر کی گئی ہیں۔گاڑیوں کی نئی قیمتوں کا اطلاق 12 جنوری کے بعد ہونے والے آرڈرز پر ہوگا۔

    خیال رہے کہ اکتوبر میں پیداوار میں 30.56 فیصد کمی کے ساتھ حالیہ مہینوں میں آٹو انڈسٹری بری طرح متاثر ہوئی ہے۔بڑھتی ہوئی قیمتوں کے ساتھ ساتھ سود کی شرحوں میں اضافے کی وجہ سے فروخت میں بھی تیزی سے کمی آئی ہے جس سے لیز مزید مہنگی ہوگئی ہے۔

    ڈالر کے اخراج کو کم کرنے کے لیے اسٹیٹ بینک کی جانب سے آٹو فنانسنگ پر پابندی اور لیٹر آف کریڈٹ نہ کھولنے کے نتیجے میں گاڑیوں کے پرزوں کی قلت پیدا ہوئی جس پر انڈس موٹرز اور پاک سوزوکی موٹر کمپنی جیسی بڑی کار ساز کمپنیوں نے گزشتہ چند ماہ کے دوران متعدد بار اپنی پراڈکشن سرگرمیاں معطل کی ہیں۔

    پاکستان آٹو موٹیو مینوفیکچررز کے اعداد و شمار کے مطابق ٹویوٹا کرولا اور یارس کی فروخت میں 59 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے جو کہ رواں مالی سال کے ابتدائی 6 ماہ میں 29 ہزار 126 سے کم ہو کر 12 ہزار 65 یونٹس رہ گئی ہے۔ماہانہ فروخت گزشتہ ماہ کے ایک ہزار 933 کے مقابلے میں گزشتہ برس دسمبر میں گر کر ایک ہزار 879 ہوگئی۔

  • مسلم لیگ ن کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس طلب

    مسلم لیگ ن کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس طلب

    لاہور:مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے پارٹی کا اہم اجلاس آئندہ ہفتے طلب کر لیا، جس میں سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے نئے عہدیداروں کا چناؤ کیا جائے گا۔

    نواز شریف کی زیر صدارت مسلم لیگ ن کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس آئندہ ہفتے طلب کیا گیا ہے، مریم نواز کی وطن روانگی سے قبل ہونیوالے اجلاس میں سی ای سی کے نئے عہدیداروں کا چناؤ کیا جائے گا۔رپورٹ کے مطابق اجلاس میں پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں کے انتخابات پر امیدواروں کے ناموں کا جائزہ بھی لیا جائے گا۔

    وزیراعظم شہبازشریف کی پنجاب اسمبلی کی تحلیل پر کوئی رکاوٹ نہ ڈالنے کی ہدایت

    دوسری طرف یہ بھی معلوم ہواہے کہ ملک میں مسلسل بدلتی سیاسی صورت حال کے پیش نظر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کا اسی ماہ پاکستان واپس آنے کا امکان ہے۔ذرائع مسلم لیگ (ن) کے مطابق مریم نواز اور سابق وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کا بھی نواز شریف کے ہمراہ اسی ماہ ملک واپس آنے کا امکان ہے۔

    سندھ بلدیاتی انتخابات:ہفتہ کوتعلیمی ادارے بند رکھنےکا اعلان

    ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف، مریم نواز اور حمزہ شہباز پاکستان واپس آ کر انتخابی مہم میں بھرپور حصہ لیں گے۔کچھ ایسا ہی احسن اقبال نے کہا کہ پہلے مریم نواز وطن واپس آئیں گی اور جب ملک میں عام انتخابات کی مہم ہوگی تو اس کی قیادت کرنے کیلئے نواز شریف بھی واپس آجائیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ ایک آئینی بحران پیداہوسکتا ہے کیوں کہ عمران خان کی حکومت نے خود یہ فیصلہ کیا تھا کہ آئندہ انتخابات نئی مردم شماری کے تحت ہوں گے، اب یہ الیکشن کمیشن نے فیصلہ کرنا ہے کہ جب نئی مردم شماری کا عمل جاری ہو تو اس وقت پوری اسمبلی اور عام انتخابات پرانی مردم شماری کے تحت ہوسکتے ہیں یا نہیں؟

  • تحریک آزادی کے ایک اہم رہنما اور شاعر لالہ لال چند فلک

    تحریک آزادی کے ایک اہم رہنما اور شاعر لالہ لال چند فلک

    آگ میں پڑ کر بھی سونے کی دمک جاتی نہیں
    کاٹ دینے سے بھی ہیرے کی چمک جاتی نہیں

    لالہ لال چند فلک

    تاریخ ولادت:13 جنوری 1887ء
    تاریخ وفات:26 مارچ 1967ء
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ہندوستان کی تحریک آزادی کے ایک اہم رہنما اور شاعر لالہ لال چند فلک 13 جنوری1887ء کو اپنے آبائی وطن یعنی ضلع گوجرانوالہ پنجاب پاکستان) کے مشہور قصبے حافظ آباد میں پیدا ہوئے ۔ ان کے والد کی لاہور میں غلّے اور اناج کی دکان تھی ۔ چنانچہ ان کا بچپن اور تعلیمی زمانہ یہیں گزرا۔ 1904ء میں دسویں درجے کی سند حاصل کی۔ اس کے بعد کسبِ معاش کے لیے ملازمت اختیار کی اور چیف انجینیر کے دفتر میں جگہ مل گئی ۔ یہ دہ زمانہ ہے جب انگریز افسر اپنے دلیسی ماتحتوں سے بہت درشتی اور فرعونیت کا برتاؤ کرتے تھے۔ انھوں نے آئے دن اس طرح کے ناخوشگوار حالات دیکھے تو ان کے دل پر بہت اثر ہوا ۔ اس پر وہ ملازمت سے مستعفی ہو گئے اور پھر ساری عمر سرکاری نوکری کے نزدیک نہیں گئے ۔
    کانگریس کی سیاسی تحریک اب روز بروز تیزتر ہو رہی تھی۔ لال چند فلک بھی اس میں شامل ہو گئے ۔ پُرجوش تقریریں اور نظمیں پڑھنے لگے۔ نوبت قید و بند تک پہنچی۔ جون ۱۹۱۷ ء میں بجرم بغاوت ۲۰ سال کے لیے کالے پانی (جزیرہ انڈیمان) کی سزا ہوئی جو بعد کو ۴ اسال کی قید میں تبدیل کر دی گئی ۔ لیکن جب 1920ء میں دستوری اصلاحات کا نفاذ ہوا تو تمام سیاسی قیدی رہا کر دیے گئے، اسی میں انھیں بھی رہائی ملی لیکن ان کا نشہ ایسا نہیں تھا کہ تعزیر و تعذیب کی ترشی اُسے اتار دیتی۔ ان کی سرگرمیوں میں کوئی کمی نہیں آئی ۔
    شعر پر اصلاح منشی دوار کا پر شاد افق لکھنوی سے لی۔ اسی زمانے میں ان کی قومی نظموں کے متعدد مجموعے شائع ہوئے تھے جام فلک ، پیام فلک کلام فلک۔ مہا بھارت بھی بطر زِ ناول نثر میں لکھی تھی ۔ ان کا یہ مصرع ضرب المثل بن چکا ہے .
    تو کبھی بدل، فلک کہ زما نہ بدل گیا
    اس بزرگ قوم پرست شاعر کا 26 مارچ 1967ء کو دلی میں انتقال ہوا۔ ۸۰ سال کی عمر پائی۔
    افسوس، کوشش کے باوجود ان کے کلام کا کوئی مجموعۂ دستیاب نہیں ہوا۔ مندر جہ ذیل چند اشعار بڑی کوشش سے مہیا کر سکا ہوں ۔ ان کا کلام آپ بیتی اوردلی جذبات کا آمیز ہے۔
    آگ میں پڑ کر بھی سونے کی دمک جاتی نہیں
    کاٹ دینے سے بھی ہیرے کی چمک جاتی نہیں
    سِل پر گھس دینے سے بھی جاتی نہیں چندن کی بو
    پھول کی، مٹی میں مل کر بھی ، مہک جاتی نہیں
    رنج میں آتا نہیں نیکوں کی پیشانی پر بل
    دھوپ کی تیزی میں سبزے کی لہک جاتی نہیں
    جا نہیں سکتی کٹہروں میں بھی شیروں کی دھاڑ
    دست گلچیں میں بھی غنچوں کی چٹک جاتی نہیں
    صاحبِ ہمت نہیں دبتا مخالف سے کبھی
    زو ر سے آندھی کے آتش کی بھڑک جاتی نہیں
    نعرہ زن رہتا ہے آفات و حوادث میں دلیر
    بادلوں میں گھر کے بجلی کی کڑک جاتی نہیں
    ملک کی الفت کا جذبہ دل سے مٹ سکتا نہیں
    قوم کی خدمت کی خواہش اے فلک جاتی نہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    دل سے نکلے گی نہ مر کر بھی وطن کی الفت
    میری مٹی سے بھی خوشبوئے وفا آئے گی
    میں اٹھالوں گا بڑے شوق سے اس کو سر پر
    خاک اڑانے کے لیے باد صبا آئے گی
    زندگانی میں تو ملنے سے جھجکتی ہے فلک!
    خلق کو یاد مری بعد فنا آئے گی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    وطن کی پھانس جس دل میں گڑی ہے
    خوشی سے وہ اٹھا تا ہر کڑی ہے
    محن کا ابر ہے رحمت کا بادل
    گھٹا آفت کی ، ساون کی جھڑی ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ماخوذ از تذکرۂ معاصرین، مصنف:مالک رام

  • سیّد محمد علی جمال زادہ۔ ایک ایرانی ادیب، افسانہ نگار، مزاح نگار اور مترجم

    سیّد محمد علی جمال زادہ۔ ایک ایرانی ادیب، افسانہ نگار، مزاح نگار اور مترجم

    پیدائش:13 جنوری 1892ء
    اصفہان
    وفات:08 نومبر 1997ء
    جنیوا
    شہریت:ایران
    پیشہ:ماہرِ لسانیات، مصنف، مؤرخ
    ناول نگار، مترجم، شاعر
    زبان:فارسی

    سیّد محمد علی جمال زادہ۔ ایک ایرانی ادیب، افسانہ نگار، مزاح نگار اور مترجم تھے۔
    حالات زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    سید محمد علی جمال زادہ اصفہانی، 13 جنوری 1892ء کو اصفہان پیدا ہوئے۔ پھر آپ کا گھرانہ تہران منتقل ہوگیا۔ آپ نے تہران اور بیروت میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد پھر فرانس میں قانون کی ڈگری بھی حاصل کی۔ جمال زادہ کے مقالات فارسی اور جرمنی زبان میں بے شمار ہیں۔ آپ روز نامہ ”کاوہ“ کے مدیر بھی رہے۔ بعد میں برلن کے ایرانی سفارت خانے میں ملازم ہوگئے۔ پھر سوئٹزرلینڈ چلے گئے اور انجمن بین المللی کے دفتر میں جو جینیوا ہے، اس میں تقریباً 27 سال کام کیا۔ ان کی شہرت کا آغاز اس زمانہ میں ہوا جب 1921ء میں انھوں نے اپنے افسانوں کا پہلا مجموعہ ”یکے بود ویکے نبود“ شائع کیا۔ جو چھ افسانوں پر مشتمل تھا، اس کے بعد آپ کے مزید افسانوی مجموعے شائع ہوئے۔ آپ نے تاریخ و ادب اور سیاسی اور سماجی کتب بھی تحریر کیں۔
    سید محمد علی جمال زادہ فارسی افسانہ نویسی میں ایک ممتاز مقام کے مالک ہیں۔ انھوں نے ہی سب سے پہلے فنِ افسانہ نویسی کو ایران میں شروع کیا۔ محمد علی جمال زادہ نے افسانوں میں قصوں اور لوک کہانیوں کے انداز کو چھوڑ کر حقیقت نگاری کا نیا انداز اختیار کیا ہے۔ فارسی زبان پر انھیں پوری دسترس حاصل تھی۔ اپنے افسانوں میں انھوں نے نہ صرف عام اور روز مرہ کی زبان اور محاورے استعمال کیے گئے بلکہ سیاسی اورسماجی موضوعات کے ساتھ طنزیہ پیرایہ بھی استعمال کیا گیا۔ جمال زادہ کی کہانیوں میں پلاٹ کو مرکزیت حاصل رہتی ہے اور وہ اپنی کہانیوں کا اختتام موپاساں اور او ہینری کی طرح ڈرامائی اور چونکانے والے انداز میں کرتے ہیں لیکن انھوں نے زبان کا جو انداز اختیار کیا، اس نے فارسی میں افسانے کے لیے جس زبان کی بنیاد رکھی، وہ اب تک برقرار ہے۔ محمد علی جمال زادہ 8 نومبر 1997ء کو جینیوا سوئزرلینڈ میں انتقال کر گئے۔
    تصانیف
    ۔۔۔۔۔۔
    تاریخ و ادب
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)گنج شایان ( 1335 ہجری)
    ۔ (شایان کا خزانہ)
    ۔ (2)تاریخ روابط روس با ایران
    ۔ ( 1372ہجری) (ایران روس تعلقات)
    ۔ (3)پندنامۂ سعدی یا گلستان نیکبختی
    ۔ (1317ہجری) (پندنامۂ سعدی)
    ۔ (4)قصہ قصہ ہا
    ۔ (از روی قصص المعمای تنکابنی
    ۔ 1321ہجری) (کہانیوں کی کہانی)
    ۔ (5)بانگ نای
    ۔ (داستان ہای مثنوی معنوی
    ۔ 1337ہجری) (پائپ کی آواز)
    ۔ (6)فرہنگ لغات عوامانہ
    ۔ (1341ہجری) (عوامی لغت)
    ۔ (7)طریقۂ نویسندگی و داستان سرایی
    ۔ (1345ہجری) (کہانی نویسی
    ۔ اور داستان سرائی کے طریقے)
    ۔ (8)سرگزشت حاجی بابای اصفہانی
    ۔ (1348ہجری) (سرگزشت حاجی بابا اصفہانی)
    ۔ (9)اندک آشنایی با حافظ
    ۔ (1366ہجری)
    ۔ (حافظ کے ساتھ تھوڑی سی آشنائی)
    کہانیاں افسانے
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)یکی بود، یکی نبود
    ۔ (1300ہجری)
    ۔ (ایک دفعہ کا ذکر)
    ۔ (2)عمو حسینعلی (جلد اول شاہکار)
    ۔ (1320ہجری) (حیاتِ چچا حسین علی )
    ۔ (3)سر و تہ یہ کرباس (1323ہجری)
    ۔ (1944) (کینوس کے اوپر و نیچے)
    ۔ (4)دارالمجانین (1321ہجری)
    ۔ (1942) (پاگل خانہ)
    ۔ (5)زمین، ارباب، دہقان
    ۔ (زمین، جاگیردار، کسان)
    ۔ (6)صندوقچہ اسرار (1342ہجری)
    ۔ (1963) (صندوقچۂ اسرار)
    ۔ (7)تلخ و شیریں (1334ہجری)
    ۔ (1955) (تلخ و شیرین )
    ۔ (8)شاہکار (دوجلدیں) (1337ہجری)
    ۔ (شاہکار )
    ۔ (9)فارسی شکر است(فارسی میٹھی ہے)
    ۔ (10)راہ آب نامہ(راہ آب نامہ)
    ۔ (11)قصہ ہای کوتاہ برای
    ۔ بچہ ہای ریش دار (1352ہجری)
    ۔ 1973) (داڑھی * والے بچوں کے لیے
    ۔ مختصر کہانیاں )
    ۔ (12)قصۂ ما بہ سر رسید
    ۔ (1357ہجری)
    ۔ (1978)
    ۔ (ختم ہو گئی ہماری کہانی)
    ۔ (13)قلتشن دیوان (1325ہجری)
    ۔ (1946)
    ۔ (دیوانِ قلتشن)
    ۔ (14)صحرای محشر
    ۔ (عذاب کا صحرا)
    ۔ (15)ہزار پیشہ (1326ہجری)
    ۔ (1947)
    ۔ (ہزار پیشے والا فرد)
    ۔ (16)معصومہ شیرازی
    ۔ (1333ہجری)
    ۔ (1954)
    ۔ معصومہ شیرازی )
    ۔ (17)ہفت کشور(سات ممالک)
    ۔ (18)قصہ ہای کوتاہ قنبرعلی
    ۔ (1338ہجری)
    ۔ (1959)
    ۔ (قنبر علی مختصر کہانیاں )
    ۔ (19)کہنہ و نو
    ۔ (نئی اور پرانی )
    ۔ (20)یاد و یاد بود
    ۔ (نصیحت اور یادگار)
    ۔ (21)قیصر و ایلچی
    ۔ کالیگولا امپراتور روم
    ۔ (رومن شہنشاہ کالیگولا
    ۔ قیصر اور ایلچی)
    ۔ (21)غیر از خدا ہیچکس نبود
    ۔ (1340ہجری)
    ۔ (1961)
    ۔ (خدا کے سوا کوئی نہیں )
    ۔ (22)شورآباد
    ۔ (1341ہجری)
    ۔ (1962)
    ۔ (شورآباد )
    ۔ (23)خاک و آدم
    ۔ (مٹی اور آدم)
    ۔ (24)آسمان و ریسمان
    ۔ (1343ہجری)
    ۔ (1964)
    ۔ (آسمان اور ڈور)
    ۔ (25)مرکب محو
    ۔ (1344ہجری)
    ۔ (1965)
    ۔ (غائب سیاہی )
    سیاست ومعاشرت
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)آزادی وحیثیت انسانی
    ۔ (1338ہجری)
    ۔ (آزادی و انسانی وقار)
    ۔ (2)خاک وآدم
    ۔ (1340ہجری)
    ۔ (مٹی اور آدم)
    ۔ (3)زمین، ارباب، دہقان
    ۔ (1341ہجری)
    ۔ (زمین، جاگیردار، کسان)
    ۔ (4)خلقیات ما ایرانیان
    ۔ (1345ہجری)
    ۔ (ایران کی ہماری اقدار)
    ۔ (5)تصویر زن
    ۔ در فرہنگ ایران
    ۔ (1357ہجری)
    ۔ (ایران میں خواتین کی تصویر)
    تراجم
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1)قہوہ خانہ سورات
    ۔ یا جنگ ہفتاد ودو ملت
    ۔ (برنارڈن دی سینٹ پیرے)
    ۔ (1340ہجری)
    ۔ (سورت کافی ہاؤس
    ۔ Le Café du Surat by
    ۔ Bernardin de Saint-Pierre)
    ۔ (2)ویلہلم تل (فیڈرک شیللر)
    ۔ (1334ہجری)
    ۔ (ویلہم ٹیل
    ۔ Wilhelm Tell by
    ۔ Friedrich Schiller)
    ۔ (3)داستان بشر (ہنڈرک وان لون)
    ۔ (1335ہجری)
    ۔ (داستانِ بشر
    ۔ The Story of Mankind
    ۔ by Hendrik Willem
    ۔ van Loon)
    ۔ (4)دون کارلوس (فیڈرک شیلر)
    ۔ (ڈون کارلوس
    ۔ Don Carlos by
    ۔ Friedrich Schiller)
    ۔ (5)خسیس (مولیر)
    ۔ (کنجوس L’Avare by Molière)
    ۔ (6)داستان ہای برگزیدہ
    ۔ (اہم داستان)
    ۔ (7)دشمن ملت (ہینرک ایبسن)
    ۔ (قوم کا دشمن
    ۔ En Folkerfiende
    ۔ by Henrik Ibsen)
    ۔ (8)داستانہای ہفت کشور
    ۔ (مجموعہ)
    ۔ (سات ملکوں کی کہانیاں )
    ۔ (9)بلای ترکمن در ایران قاجاریہ
    ۔ (بلوک ویل)
    ۔ (10)قنبرعلی جوانمرد شیراز
    ۔ (آرتور کنت دوگوپینو)
    ۔ (11)سیر وسیاحت در ترکستان وایران
    ۔ (ہانری موزر)
    ۔ (12)جنگ ترکمن (کونٹ دی گبینو)
    ۔ (جنگِ ترکمان
    ۔ Turkmen War by
    ۔ Conte de Gobineau)
    ۔ (13)کباب غاز
    دیگر
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1)کشکول جمالی
    ۔ (2)صندوقچۂ اسرار

  • چھوڑجانےکی بات مت کرنا​ دل دکھانےکی بات مت کرنا​:شہبازشریف،زرداری،مولاناایم کیوایم کی منتیں‌کرنےلگے

    چھوڑجانےکی بات مت کرنا​ دل دکھانےکی بات مت کرنا​:شہبازشریف،زرداری،مولاناایم کیوایم کی منتیں‌کرنےلگے

    کراچی :متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے حکومت چھوڑنے کے خدشات کے بعد وزیر اعظم شہباز شریف،آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمان نےالگ، الگ خالد مقبول صدیقی سے رابطہ کیا ہے۔ایم کیو ایم پاکستان کی رابطہ کمیٹی نے اپنے ارکان قومی اسمبلی سے استعفے طلب کرلیے ہیں، بہادرآباد میں ہونے والے رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں ایم کیو ایم نے وفاقی کابینہ اور حکومت سے علیحدگی اور دیگر آپشنز پر غور کیا گیا۔

    یکم فروری تک پارٹی الیکشن نہ ہوئے تو انتخابی نشان واپس لے لیں گے،الیکشن کمیشن

    ایم کیو ایم رہنما خواجہ اظہار الحسن کا کہنا تھا کہ رابطہ کمیٹی کے بعض ارکان کی رائے ہے15 جنوری کو بلدیاتی الیکشن ہو تو حکومت سے علیحدہ ہوجائیں، حتمی فیصلہ کل ایم کیوایم کے جنرل ورکرز اجلاس میں ہوگا۔ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم کی جانب سے حکومت چھوڑنے پر غور کیے جانے پر وزیر اعظم شہباز شریف نے خالد مقبول سے رابطہ کرتے ہوئے ان کے تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

    الیکشن کمیشن کے نوٹس پر سعید غنی پیش،دستاویزی شواہد فراہم کر دیئے

    ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نے خالد مقبول کو یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا ہے کہ آج رات میں ہی تحفظات دور کیے جائیں گے ۔

    دوسری جانب ٹیلیفونک رابطے میں سابق صدر آصف علی زرداری کی جانب سے خالد مقبول صدیقی کو یقین دہانیاں کراتے ہوئے مل بیٹھ کر تمام مسائل حل کرنے کی پیشکش کی ہے۔ پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے بھی خالد مقبول صدیقی سے ٹیلیفونک رابطہ کرتے ہوئے خالد مقبول صدیقی کو صبر سے کام لینے کا مشورہ دیا ہے۔

    بلدیاتی انتخابات شیڈول کے مطابق ہوں گے. ترجمان الیکشن کمیشن سندھ

    علاوہ ازیں خالد مقبول صدیقی بہادر آباد مرکز سے روانہ ہوگئے، اس موقع پر انہوں نے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آصف زرداری سے رابطہ ہوا ہے، انہوں نےکہا ہمیں آپ کی مشکلات کا اندازہ ہے۔خالدمقبول صدیقی نے کہا کہ مطالبات پورے نہ ہونےکی صورت میں دو گھنٹے بعد دوبارہ بیٹھیں گے،انتخابات ملتوی کرنے کیلئے دو آپشن حکومت کے پاس موجود ہیں۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ گورنر سندھ کا بھی آصف زرداری اور خالدمقبول صدیقی سے ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے۔

  • ایم کیو ایم کاحکومت سےعلیحدگی پرغور،2 وزراء ایک معاون خصوصی نےاستعفے جمع کرادیے

    ایم کیو ایم کاحکومت سےعلیحدگی پرغور،2 وزراء ایک معاون خصوصی نےاستعفے جمع کرادیے

    کراچی :متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کی رابطہ کمیٹی نے اپنے ارکان قومی اسمبلی سے استعفے طلب کرلیے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بہادرآباد میں ہونے والے رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں ایم کیو ایم نے وفاقی کابینہ اور حکومت سے علیحدگی اور دیگر آپشنز پر غور کیا۔

    بلوچستان کے42پارلیمنٹرینزنےاپنےاوراہلخانہ کےاثاثوں کی تفصیلات الیکشن کمیشن کوجمع…

    ذرائع کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کی جانب سے 24 گھنٹوں میں اہم اعلان متوقع ہے، متحدہ نے کل پی آئی بی گراؤنڈ میں جنرل ورکرز اجلاس بھی بُلایا ہے۔ ایم کیوایم کے 2 وفاقی وزراء اور ایک معاون خصوصی نے استعفے ایم کیوایم رابطہ کمیٹی کوجمع کرادیے ہیں۔ وفاقی وزراء امین الحق اور فیصل سبزواری کی جانب سے استعفے رابطہ کمیٹی کو جمع کروائے گئے ہیں۔

    بلوچستان کے42پارلیمنٹرینزنےاپنےاوراہلخانہ کےاثاثوں کی تفصیلات الیکشن کمیشن کوجمع…

    ایم کیو ایم رہنما خواجہ اظہار الحسن کا کہنا ہے کہ رابطہ کمیٹی کے بعض ارکان کی رائے ہے15 جنوری کو بلدیاتی الیکشن ہو تو حکومت سے علیحدہ ہوجائیں، حتمی فیصلہ کل ایم کیوایم کے جنرل ورکرز اجلاس میں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ 15 جنوری کوالیکشن ہوپائیں گے، آئینی تشریح کی ضرورت ہے جس کیلئے عدالتوں سے رجوع کرنا پڑے گا، الیکشن کمیشن کل حلقہ بندیاں ٹھیک کروادے پرسوں ہم الیکشن میں حصہ لیں گے، ایم این ایزکی نشستیں پارٹی کی امانت ہوتی ہیں، پہلےدن ہی استعفیٰ پارٹی کو دے دیتے ہیں۔

    یکم فروری تک پارٹی الیکشن نہ ہوئے تو انتخابی نشان واپس لے لیں گے،الیکشن کمیشن

    خواجہ اظہار نے کہا کہ کراچی میں جماعت اسلامی ایم کیوایم کے مقابلے میں کبھی الیکشن نہیں جیتی، ایم کیوایم کے بائیکاٹ کے بعد جماعت اسلامی کے نمائندے کراچی میں جیتے۔خیال رہے کہ گزشتہ روز دھڑوں کے یکجا ہونے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا تھا کہ وفاقی و صوبائی حکومتوں سے باہر نکل آئيں، شارع فیصل پر دھرنا دیں دیکھتے ہیں کیسے 15 جنوری کو بلدیاتی الیکشن ہوتاہے۔

  • کراچی الیکشن، ایم کیو ایم کا تاخیر کا مطالبہ، کب ہوں گے کچھ نہیں کہہ سکتا، شرجیل میمن

    کراچی الیکشن، ایم کیو ایم کا تاخیر کا مطالبہ، کب ہوں گے کچھ نہیں کہہ سکتا، شرجیل میمن

    کراچی الیکشن، ایم کیو ایم کا تاخیر کا مطالبہ، کب ہوں گے کچھ نہیں کہہ سکتا، شرجیل میمن

    ایم کیو ایم کے رہنما، سابق وفاقی وزیر فروغ نسیم نے کہا ہے کہ سندھ حکومت نے نئی یوسیز بنائی ہیں سندھ حکومت کی بنائی گئی یوسیز کی آبادی صحیح نہیں ہے

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم نے حلقہ بندیوں کو چیلنج کیا،بلدیاتی ایکٹ کے تحت سندھ حکومت نے حلقہ بندیاں بنائی ںمہاجرآبادی کے ووٹ کو تقسیم کرنے کی سازش کی گئی،حلقہ بندیوں کے معاملے پر سپریم کورٹ سے رجوع کیا سپریم کورٹ میں ایم کیو ایم کی بات سنی گئی،ایم کیو ایم نے جب قائل کیا تو سندھ حکومت نے 10دن کاآرڈرپاس کیا،جہاں ہمارا یک ووٹر تھا دوسرے حلقے میں 3ووٹرز تھے،سپریم کورٹ کے کہنے پر سندھ حکومت نے ہمیں قائل کرنے کی کوشش کی،پی ٹی آئی نے ہماری درخواست کو کاپی پیسٹ کیا،ہم کراچی کے حقوق کی بات کررہے ہیں،کچھ لوگوں کو بہت جلدی ہے کہ الیکشن ہوجائیں ،انہیں ایم کیو ایم کے دوبارہ متحد ہونے سے تکلیف ہے،اس جلد بازی سے انہیں بھی کچھ حاصل نہیں ہوگا،یہ چاہتے ہیں کہ کراچی اور حیدر آباد کے شہری مزید 5 سال ان مسائل کوجھیلیں ہم الیکشن سے بھاگ نہیں رہے آپ کو بھگائیں گے یہ ایم کیو ایم کا نہیں کراچی کا مقدمہ ہے ،

    فیصل سبزواری کا کہنا تھا کہ کراچی کی حلقہ بندیاں شفاف نہیں ہیں غلط حلقہ بندیاں کرکے کراچی اور حیدرآبادکاحق مارا گیا،
    ایم کیو ایم کے 51 ایم پی ایز کے علاقوں میں حلقہ بندی قانون کیخلاف کوئی نہیں کھڑا تھا ،2013میں پی ٹی آئی کے4 ایم پی ایز نےحلقہ بندی قانون کے حق میں ووٹ دیا تھا ،پی ٹی آئی آج بلدیاتی الیکشن کے حوالے سے چیمپئن بنی رہی ہے،ایم کیو ایم الیکشن سے نہیں بھاگ رہی،صاف وشفاف انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے،

    فاروق ستار کا کہنا تھا کہ نہ تو ہم نے الیکشن کمیشن کی توہین کی اور نہ عدالت کی ،حلقہ بندیوں کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلےکا کیا کریں گے؟ ہمیں سپریم کورٹ نے ہی دونوں فورم سے رجوع کا حکم دیا تھا ،سندھ حکومت نے غلطی کا اعتراف کیا اور اس پر کمیٹی بنائی ہے الیکشن کمیشن کی جانب سے ایم کیو ایم تو کیاصوبائی حکومت کو بھی نہیں سنا گیا،

    دوسری جانب تحریک انصاف کے رہنما فردوس شمیم نقوی کا کہنا ہے کہ ہمیں الیکشن کمیشن سندھ حکومت کے سامنے بےبس نظر آتا ہےہم انکے آرڈیننس کا انتظار کر رہے ہیں،آرڈیننس رات کے اندھیرے میں آئے گا،ہم ان کےکیخلاف عدالت جائیں گے،یہ پہلے ہی 4 مرتبہ الیکشن ملتوی کرچکے ہیں،آج الیکشن مہم کا آخری دن تھا اورامیدوار تذبذب کا شکار ہیں،

    علاوہ ازیں سندھ کے صوبائی وزیر شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ مجھے نہیں پتہ کہ 15جنوری کو الیکشن ہونگے یا نہیں،الیکشن کے حوالے سے قانونی ماہرین سے مشورہ کرکے رہے ہیں،بلدیاتی انتخابات رکوانے سے متعلق آرڈیننس کے حوالے سے کوئی علم نہیں،

    رمضان شوگر ملز کو این او سی جاری کرنے کے خلاف پنجاب حکومت کی انٹرا کورٹ اپیل مسترد
    آٹا بحران کیس؛ پشاور ہائیکورٹ کا سیکریٹری فوڈ و دیگر کو مارکیٹ کا دورہ کرنیکا حکم
    لیپ ٹاپ گم ہونے پر گاہک نےغصے میں اپنی کار ہوٹل پر دے ماری
    نادیہ خان 38 ہزار ڈالرز گنوا بیٹھیں. اداکارہ نے دلچسپ واقعہ سنا کر حیران کر دیا
    عدلیہ اورنیب کو درخواست کرتا ہوں جھوٹے کیسز ختم کیے جائیں. وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ

    واضح رہے کہ سندھ حکومت نے گزشتہ روز کراچی، حیدر آباد اور دادومیں 15 جنوری کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کا اعلان کیا تھا جبکہ نئی حلقہ بندیوں سے متعلق نوٹیفکیشن بھی واپس لے لیا تھا۔ تا ہم الیکشن کمیشن نے سندھ حکومت کی کراچی اور حیدرآباد میں بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے الیکشن 15 جنوری کو ہی کروانے کا فیصلہ کیا۔ سندھ میں 15 جنوری کو بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے سے متعلق الیکشن کمیشن کے ہنگامی اجلاس میں سندھ حکومت کے اقدام پر برہمی کا اظہارکیا گیا۔