Baaghi TV

Tag: PTI Government

  • کپتان Vs اپوزیشن تحریر:ضیاء عبدالصمد

    کپتان Vs اپوزیشن تحریر:ضیاء عبدالصمد

    18 اگست 2018 پاکستان کی تاریخ کا وہ دن تھا کہ جب کرکٹ کی دنیا کا نامور کھلاڑی اور 1992 کے ورلڈ کپ کا فاتح کپتان یعنی عمران خان نے وزیراعظم پاکستان کا حلف اٹھایا.یوں اگر دیکھا جاۓ تو وزیراعظم بنانا اتنا اسان تو نہ تھا تقریباً بائیس سال کی جدوجہد کے بعد اس مقام کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوۓ کہ وزیراعظم پاکستان کا حلف اٹھا سکیں.

    حکومت میں آتے ہی عمران خان نے سو دن کی کارکردگی کا حدف اپنی نو منتخب کابینہ کو سونپ دیا۔جس میں مختلف طرح کے حدف مقرر کیے گے۔ جن میں سے کچھ حدف مکمل کرلیے اور بعض رہ گئے. سو روز مکمل ہوتے ہی حکومت کو اپوزیشن نے ٹف ٹائم دینا شروع کردیا ۔اور ساتھ ہی ساتھ اپوزیشن کو عدالتوں اور نیب کی جانب سے مختلف کیسوں کو سامنا کرنا پڑھ گیا۔ اپوزیشن کی ایک بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف بیٹی مریم نواز ، بیٹے حسن نواز اور حسین نواز ،بھائی شہباز شریف بھتیجے حمزہ شہباز یوں کہیں تو ن لیگ کی مرکزی قیادت مختلف کیسیز کا شکار ہوگئ

    اسی کے ساتھ اپوزیشن کی دوسری بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی مرکزی قیادت جن میں سرفہرست سابق صدر پاکستان عاصف علی زرداری کو نیب ریفرنسز کا سامنا کرنا پڑا. خیر وقت کا پہیہ گھماتا رہا اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں کے رہنماؤں کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے جانا پڑا۔

    کیونکہ آدھی سے زیادہ اپوزیشن تو جیل میں تھی حکومت کو کچھ سکون کا سانس آیا مگر اسی دوان مہنگائی کا جن بے قابو ہوگیا۔ ڈالر کا ریت آسمان سے باتیں کرنے لگا ہر چیز عوام کی پہنچ سے دور ہوتی گئی کبھی آٹا کا بہران اور کبھی چینی کا بہران پیدا ہوجاتا۔ حکومت ایک مشکل سے نکلتی اور دوسری مشکل میں پھنس جاتی۔رہی صحیحی کثر covid-19 نے نکال دی پوری دنیا کو کرونا نے اپنی لپیٹ میں لے لیا اور پوری دنیا کا نظام درہم برہم ہوگیا.
    پاکستان میں بھی لاک ڈاون لگادیا گا۔حکومت کے لیے مشکل وقت تھا۔ لیکن اس وقت عمران خان نے ثابت کردیا کہ وہ واقعی ایک لیڈر ہیں انکو نے سمارٹ لاک ڈاؤن لگانے کا فیصلہ کیا جہاں جہاں وبا تشویشناک حد تک پھیل جاتی صرف اسی علاقہ میں 7 سے 14 روز کا لاک ڈاؤن لاگیا جاتا.
    اور ساتھ میں ہی احساس پروگرام سے ذرائع پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا پروگرام چلایا گیا جس میں حکومت پاکستان کی جانب سے مستحق خاندانوں کو 12 ہزار ہوۓ دیے گئے تاکہ انکے گھر کا نظام چل سکے۔ عمران خان کے انہی فیصلوں کو دنیا بھر میں سہرایا گیا.اور یہی وجہ تھی کے خطہ میں سب سے کم متاثر ہونے والا ملک پاکستان تھا۔

    اب بات کرتے ہیں جرنل اسمبلی میں وزیراعظم پاکستان عمران خان کے خطاب کی جہاں پہلی دفعہ اسلام و فوبیا کے خلاف آواز اٹھائی یوں کہیں تو مسلمانوں کے دلوں کی آواز بلند کی گئی۔ کہ ہمیں اپنے آخری نبی صلی الله عليه و آلہ وسلم کی ناموس سے بڑھ کی کوئی چیز عزیر نہیں ہے گستاخانہ خاکوں کو روکا جاۓ۔جرنل اسمبلی میں حقیقی معنوں میں مسلمانوں کے لیے اور ہمارے آخری نبی صلی الله عليه و آلہ وسلم کی ناموس کی خاطر کسی نے آواز اٹھائی ہے تو وہ فرد واحد عمران خان ہیں

    اب آتے ہیں موجودہ سیاسی صورتحال کی جانب اس وقت اپوزیشن کی تمام جماعتوں وزیراعظم کے خلاف اتحاد کرلیا ہے۔ اپوزیشن وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد لانا چاہتی ہے موجودہ وزیراعظم کسی نہ کسی طرح اتارنا چاہتی ہے۔ اپوزیشن حکومتی اتحادیوں اور منحرف تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی کے ساتھ مسلسل رابطہ میں ہے۔

    دیکھا جاۓ تو حکومتی جماعت بھی دو واضع گروپ میں تقسیم ہوچکی ایک ترین گروپ اور دوسرا گروپ تحریک انصاف کے منحرف اراکین ھیں۔ترین گروپ کی جانب سے یہ اعلان کیا گیا ہے اگر وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اپنی کرسی سے استعفیٰ دیتے ہیں۔ تبھی ترین گروپ وزیراعظم کو عدم اعتماد میں ووٹ دے گا۔دوسری جانب تحریک انصاف کے منحرف اراکین کی سندھ ہاوس میں قیام کرنے کی خیریں بھی منظر عام پر آگئیں سندھ حکومت کی جانب سے مکمل سہولت منحرف اراکین کو سپورٹ کی جارہی ہے۔ اپوزیشن کی مسلسل کوشش ہے کسی طرح عدم اعتماد کامیاب ہوجاۓ دوسری جانب اپوزیشن کی جانب سے اگر تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوجاتی ہے تو صدر اور وزیراعظم کون ہوں گے انکے ناموں کا علان بھی کردیا گیا یے۔ حکومت کے اہم اتحادی "ق لیگ” اور ” ایم کیو ایم ” سے بھی اپوزیشن کے مسلسل رابطے میں ہیں.

    عمران خان نے اس صورت حال اور عدم اعتماد کو ناکام بنانے کے لیے عوام میں جانے کا فیصلہ کیا اور فل فور عوامی رابطہ مہم یعنی جلسوں ریلیوں کا آغاز کردیا. کپتان اپنے کھلاڑیوں کے ساتھ شہر در شہر جارہے ہیں اور دیکھ رہیں اگر عدم اعتماد کامیاب ہوتی ہے تو کیا عوام ان کے ساتھ ہے کے نہیں ؟؟
    کپتان ابھی تک تقریباً دس شہروں میں جلسے کرچکے ہیں یہ ماننا ہوگا کہ عوام اب بھی عمران خان پر اعتماد کرتی ہے۔

    اگر دیکھا جاۓ تو پوزیشن نے یہ سوچ کر وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد لاۓ ہوں گے. کہ وہ عوام میں انکی مقبولیت ختم ہوچکی ہے. مہنگائی آٹا چینی اور کھاد کا بہران ہے اب انکو وزیراعظم کی کرسی سے ہٹانا آسان ہوگا۔میرے تجزیہ کے مطالبق اپوزیشن نے عمران خان کے لیے اگلے الیکشنز میں کامیابی کا رستہ ہموار کردیا ہے۔ کیونکہ اس وقت مہنگائی کا جن بے قابو تھا۔ملک معاشی حالات سے دوچار تھا عمران خان اور انکی حکومت اس وقت ایک گہرے گڑھے میں پھنسل چکے تھے انکے لیے الکیش جیتنا اور دوبارہ حکومت بنانا ناممکن تھا لیکن اپوزیشن اسے ممکن بناتی نظر آرہی ہے۔

    کہا جاۓ تو اس وقت عمران خان کو کسی معجزہ کا انتظار تھا کہ وہ کسی طرح عوام میں اپنی قبولیت تو دوبارہ بحال کرلیں جو ہوگیا عمران خان نے فائدہ اٹھایا اور عوامی رابطہ مہم کا آغاز کردیا دیکھا جاۓ تو عمران خان دوبارہ اپنے عروج پر پہنچ چکے ہیں اسلام آباد کے کامیاب جلسے نے یہ ثابت کردیا.

    ڈٹ کے کھڑا ہے اب کپتان
    ٹھیک کرے گا سب کپتان

    الله پاک اس وطن عزیز کو اپنی حفاظت میں رکھے آمین

    کالم نگار: ضیاء عبدالصمد
    جی میل: ziaabdulsamad18@gmail.com
    ٹویٹر اکاؤنٹ :@ZiaAbdulSamad

  • عمران خان کو غریب آدمی خصوصاً کرائے کے مکانات میں رہنے والوں کی بہت فکر ہے۔ فرخ حبیب

    عمران خان کو غریب آدمی خصوصاً کرائے کے مکانات میں رہنے والوں کی بہت فکر ہے۔ فرخ حبیب

    فیصل آباد(عثمان صادق) وزیر مملکت اطلاعات و نشریات فرخ حبیب نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان دن رات عوام کی فلاح و بہبود کیلئے کام کررہے ہیں اورآئندہ چند روز میں کم آمدنی والے افراد کیلئے بہت بڑے فوڈ سپورٹ پروگرام کا اعلان ہونیوالا ہے جس کے تحت ہیلتھ کارڈ، کسان کارڈ، سوشل سکیورٹی کارڈاور لیبر کارڈ کی طرح راشن کارڈ کے ذریعے غریب افراد کوفوڈ سپورٹ پروگرام کے تحت اربوں روپے کی ٹارگٹڈ سبسڈی دی جائے گی جس سے وہ روزمرہ استعمال کی اشیائے خوردونوش سستے داموں خرید سکیں گے۔فرخ حبیب نے 7کروڑ روپے کی لاگت سے اپنے حلقہ این اے108 فیصل آباد کے علاقہ فیکٹری ایریا و سرسید ٹاؤن میں مختلف ترقیاتی منصوبوں کے افتتاح،گورنمنٹ سول ڈسپنسری فیکٹری ایریا کی دوبارہ تعمیر،سیوریج لائن گنیش مل روڈتا شفیع چوک اور گیان ملز،عزیز کالونی و لال ملز چوک کی سڑکات کی کارپٹنگ اور پی سی سی گلیوں کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب کے موقع پر اظہار خیال کررہے تھے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کو غریب آدمی خصوصاً کرائے کے مکانات میں رہنے والوں کا بیحد خیال ہے جن کا نہ مکان اپنا نہ زمین اپنی نہ چھت اپنی ہے لہٰذا عمران خان نے ملکی تاریخ میں پہلی بار بینکوں کو پابند کیا کہ جس طرح وہ بڑے بڑے بزنس مینوں، سرمایہ کاروں، صنعتکاروں اور دیگر شعبہ جات کو قرض دیتے ہیں اسی طرح وہ اپنے گھر کی تعمیر کیلئے کم آمدنی والے افراد کو بھی قرضے دیں جس پر تمام بینکوں نے قرضوں کی فراہمی شروع کردی ہے اور اس ضمن میں اب تک 200 ارب روپے کے قرضوں کیلئے 57 ہزار درخواستیں وصول ہوچکی ہیں جن میں سے 180 ارب روپے کے قرضے منظور اور 19 ارب روپے کے قرضے جاری بھی ہوچکے ہیں اس طرح اب لاکھوں بے گھر لوگوں کا اپنا گھر اپنی زمین اپنی چھت کا خواب شرمندہ تعبیر ہوگا۔انہوں نے کہا کہ دوسرا بڑا مسئلہ صحت کیلئے وسائل کی فراہمی کا ہے کیونکہ بہت سے غریب افراد علاج کی سکت نہ ہونے سے اللہ کو پیارے ہوجاتے تھے لیکن اب ایسا نہیں ہوگا کیونکہ جس طرح کے پی کے میں ہر گھرانے کو صحت کارڈ جاری ہوچکا ہے اسی طرح اگلے ماہ دسمبر کے آخر تک پنجاب کی تمام آبادی اور ہر گھرانے کو ہیلتھ کارڈ جاری کردیا جا ئے گا جس سے وہ سالانہ 10 لاکھ روپے تک اپنا اور اپنے اہل خانہ کا پسند کے ہسپتال میں پسند کے ڈاکٹر سے علاج کرواسکے گا اور اب کسی کا پیارا بغیر علاج اللہ کو پیارا نہیں ہوگا۔فرخ حبیب نے کہا کہ حکومت کو مہنگائی کے حوالے سے عوام کی پریشانی کا بیحد احساس ہے مگر چونکہ عالمی سطح پر گزشتہ50 سالہ مہنگائی کے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں اور پٹرول کی جو قیمت 40 ڈالر فی بیرل تھی وہ اب بڑھ کر 85 ڈالر فی بیرل ہوگئی ہے اسی طرح پہلے خوردنی تیل کا جو کنٹینر 500 ڈالر کا تھا وہ 1200 ڈالر کا ہوگیا ہے اسی طرح باقی امپورٹڈ اشیا کے ریٹ بھی کورونا کی وجہ سے طلب و رسد میں فرق کے باعث بڑھے مگر پھر بھی ہم نے کم سے کم بوجھ عوام پر پاس آن کیا۔انہوں نے کہا کہ ہم اسحاق ڈار کی طرح پٹرول پر 50 روپے فی لٹر ٹیکس نہیں لے رہے بلکہ ہم نے اپنے ریونیو اور ٹیکسز میں حتی الامکان کمی کرکے عوام کو ریلیف دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ انشااللہ وزیراعظم کے فوڈ سپورٹ پروگرام کے اعلان سے کم آمدن والے گھرانوں اور غریب افراد کو زبردست ریلیف ملے گاکیونکہ انہیں سبسڈی کا حامل راشن کارڈ ملنے جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ آج اپوزیشن حکومت پر تنقید کررہی ہے لیکن کل یہی لوگ ملک کو قرضوں کی دلدل میں دھکیل کر اور ڈیفالٹ کے قریب کرنے سمیت اس کی جڑیں کھوکھلی کرکے گئے تھے اسلئے ان کو چاہیے کہ اگر انہیں عوام کا اتنا ہی درد ہے تو یہ ملک و قوم کا لوٹا ہوا اربوں روپے کا سرمایہ غیر ممالک سے واپس پاکستان لائیں تاکہ یہاں کے عوام کو مناسب ریلیف مل سکے۔ وزیر مملکت اطلاعات و نشریات نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں پاکستان کے مانچسٹر اور ٹیکسٹائل حب فیصل آباد کو ٹیکسٹائل و پاورلومز کا قبرستان بنادیا گیا تھا لیکن ہماری حکومت کی حکمت عملی سے اب یہ دوبارہ ٹیکسٹائل کا گڑھ بن رہا ہے اور یہاں اندسٹری کا پہیہ چلنے سمیت ایکسپورٹ میں اضافہ اور ریکارڈ ٹیکس بھی جمع ہورہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اب ہماری کوششوں سے کسان خوشحال ہورہا ہے اور اسے رواں سال 1100 ارب روپے اضافی ملے ہیں نیز اس بار ہماری گنے کی فصل بھی انتہائی شاندار ہوئی ہے جس سے رواں ماہ نومبر میں شوگر ملز چلنے اور کرشنگ سیزن کے آغاز سے کئی گنا اضافی چینی پیدا ہوگی اور چینی کے نرخ بھی کم ہوں گے۔فرخ حبیب نے کہا کہ کاٹن کی فصل 6 ملین سے بڑھ کر ساڑھے 9 ملین گانٹھ تک پہنچ گئی ہے،مکئی کی پیداوار میں 18 فیصد، چاول کی پیداوار میں 19 فیصداضافہ ہوا ہے اسی طرح پہلی بار اولو آئل کیلئے درخت لگائے جارہے ہیں جس کیلئے ایک ارب روپے کی رقم رکھی گئی ہے جس میں مزید اضافہ بھی کیا جا ئے گا۔انہوں نے کہا کہ ہم اس بار نہ صرف گندم کی شاندار پیداوار لیکر خود کفیل ہوں گے بلکہ اس کی برآمد کے ذریعے زرمبادلہ بھی کمائیں گے۔انہوں نے کہا کہ 1967 کے بعد ملک میں کوئی بڑا ڈیم نہیں بنا بلکہ سابق چور و لٹیرے حکمرانوں نے مہنگی ترین بجلی کے ایسے معاہدے کئے کہ بجلی بنے نہ بنے، عوام بجلی لیں یا نہ لیں ہم نے ان کو کپیسٹی پیمنٹ کرنی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگلے سال تک ان مہنگے بجلی گھروں کی کپیسٹی پیمنٹ 1500 ارب روپے ہوجا ئے گی جو عوام پر بوجھ ہے لیکن اس کے برعکس ہماری حکومت تربیلا کے بعد پہلی بار دیامر بھا شا ڈیم، داسو ڈیم اورمہمند ڈیم سمیت 10 نئے ڈیم تعمیر کررہی ہے جن کی تکمیل سے 10 ہزار میگا واٹ سستی بجلی پیدا ہوگی۔فرخ حبیب نے کہا کہ زردرای، نواز شریف، شہباز شریف نے قوم کے اربوں روپے لوٹ کے لندن اور دیگر ممالک میں محلات اور جائیدادیں بنائیں لیکن عمران خان نے نہ لندن میں جائیداد بنائی نہ محلات تعمیر کئے بلکہ ان کا جینا مرنا عوام کے ساتھ ہے اور وہ دن رات عوام کیلئے محنت اور کوشش کررہے ہیں کہ پاکستان اور اس کے عوام ترقی کرکے خوشحال ہوسکیں۔انہوں نے کہا کہ عمران کان کا مقصد غریب عوام کو غربت کی لکیر سے اوپر اٹھانا ہے جس کیلئے وہ اپنی تمام صلاحیتیں بروئے کار لارہے ہیں۔فرخ حبیب نے کہا کہ بڑی بڑی امپورٹڈ گاڑیوں، بڑے بڑے مہنگے بیگ اٹھا اور مہنگے ترین لباس پہن کر عوام کا دکھ دور نہیں کیا جاسکتا لہٰذا اگر عوام کے آنسو پونچھنے ہیں تو ان کا لوٹا ہوا سرمایہ واپس کرو تاکہ آ پ کی طرح ان کی حالت بھی بہتر ہوسکے۔فرخ حبیب نے کہا کہ اللہ کے فضل سے آٹو موبیل، سیمنٹ، انجینئرنگ،کنسٹرکشن،انرجی سمیت تمام سیکٹر ترقی کررہے ہیں جس سے معیشت کو استحکام حاصل ہورہا ہے اور ہم معیشت کو سسٹین ایبل گروتھ و ڈویلپمنٹ کی طرف لیکر جارہے ہیں جس سے ملک میں جلد خوشحالی آئے گی۔ وزیر مملکت اطلاعات و نشریات نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت محض زبانی دعوؤں کی بجائے ملکی ترقی،خوشحالی اور عوام کا معیار زندگی بلند کرنے کیلئے عملی اقدامات کر رہی ہے جبکہ ہیلتھ کارڈ،کسان کارڈ اور احساس پروگرام کے تحت 34 پروگراموں سے ہر طبقہ کے عوام کو ریلیف مل رہا ہے اسی طرح نوجوان طبقہ کیلئے کامیاب جوان پروگرام کے تحت قرضہ جات سے نوجوان طبقہ اپنا ذاتی کاروبار شروع کر کے خود کفیل ہو سکے گا۔انہوں نے کہا کہ انشااللہ ہم خدمت کے اس مشن کو پوری محنت، لگن اور جوش و جذبے سے جاری رکھیں گے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان مختلف مافیاز کے خلاف جنگ لڑرہے ہیں جس میں کامیابی حاصل اور ملک و قوم کا نام پوری دنیا میں روشن کیا جا ئے گا۔انہوں نے حلقہ کے حوالے سے کہا کہ میں آپ کے مسائل کو جانتا ہوں اورآپ کے علاقے کی مشکلا ت کو حل کرنا ان کی ترجیحات ہیں۔انہوں نے کہا کہ ریلوے روڈ کا این او سی لیکر روڈ تعمیر کروائیں گے اورایک کروڑ20 لاکھ کی لاگت سے سیوریج لائن مکمل ہوگی۔فرخ حبیب نے کہا کہ این اے 108 کی ہر یونین کونسل میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کیلئے واٹر فلٹریشن پلانٹ لگارہے ہیں جن میں کئی پلانٹ چالو ہوگئے ہیں اور باقی کی تنصیب بھی جلد ہوجائے گی۔انہوں نے کہا کہ ان کا مشن حلقے کو پارکس کا گڑھ بنانا ہے تاکہ لوگوں کو ساف ستھری سیر و تفریح کی سہولیات میسر آسکیں جس کیلئے اقدامات جاری ہیں۔فرخ حبیب نے کہا کہ فیصل آباد کی ترقی کیلئے متعدد اقدامات اٹھائے گئے ہیں جن کے ثمرات جلد آنا شروع ہوجائیں گے۔

  • مہنگائی کی وجہ سے پوری دنیا مشکلات کا شکار ہے حکومت مہنگائی پر جلد قابو پالے گی۔ چیئرمین مارکیٹ کمیٹی

    مہنگائی کی وجہ سے پوری دنیا مشکلات کا شکار ہے حکومت مہنگائی پر جلد قابو پالے گی۔ چیئرمین مارکیٹ کمیٹی

    فیصل آباد (عثمان صادق) چیئرمین مارکیٹ کمیٹی چوہدری ابرار رشید ڈھلوں نے کہاہے کہ مہنگائی کی وجہ سے پوری دنیا مشکلات کا شکار ہے تاہم موجودہ حکومت پرامید ہے کہ مہنگائی پر جلد قابو پالیا جائیگا۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان مہنگائی کی روک تھام کے لئے سنجیدہ اقداما ت کر رہے ہیں انہی کاوشوں کی بدولت جلد مہنگائی پر قابو پاکر صارفین کو ریلیف فراہم کریں گے۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن احتجاج کی بجائے ملک و قوم پر رحم کرے،نااہل درباری احتساب کے عمل کو متنازع بنانے کی بھرپور مگر ناکام کوشش میں ہیں،نئے پاکستان میں انصاف کی بدولت کرپشن اور مافیاز کا قلع قمع ممکن ہے،کئی سالوں تک ملک لوٹنے والوں کو عوام کی بات کرنا زیب نہیں دیتا۔انہوں نے کہا کہ نااہلوں کو نہ عوام سے مطلب ہے نہ مہنگائی سے،نااہلوں کی ایک ہی منشا ہے کہ ان سے کرپشن کا سوال نہ پوچھا جائے،عوام کے نام پر پٹی ہوئی سیاست چمکانے کی کوششیں ناکام ہونگی۔انہوں نے مزید کہاکہ تحریک انصاف حکومت نے نااہلوں کی تباہ حال معیشت کو درست سمت دی، تحریک انصاف نے ڈوبتی معیشت کو سنبھالنے کے ساتھ کورونا وبا کا بھی مقابلہ کیا۔کورونا نے پوری دنیا میں تباہی مچائی،اموات کے ساتھ معیشتیں بھی ڈوبیں۔عوامی مسائل کا حل اورریلیف کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے،حکومت عوام کو درپیش مسائل کے حل کے لئے ہر حد تک جا ئے گی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے گزشتہ تین سالوں میں عوام کی ریکارڈ خدمت کی ہے اورایسے فلاحی پروگرام شروع کیے گئے جن سے عام آدمی کا فائدہ ہوا ہے.

  • تحریک انصاف کی حکومت مزید کتنی دیر چلے گی؟ تازہ ترین خبر نے ملکی سیاست میں ہلچل مچادی

    تحریک انصاف کی حکومت مزید کتنی دیر چلے گی؟ تازہ ترین خبر نے ملکی سیاست میں ہلچل مچادی

    سینئر تجزیہ نگار حسن نثار نے پیشن گوئی کی ہے کہ موجودہ حکومت زیادہ دیر تک نہیں چل سکے گی.

    سینکڑوں اساتذہ کی تنخواہ کاٹ لی گئی ، کس وجہ سے کٹوتی کی گئی ، جان کر ہوں‌ گے آپ حیران

    تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے حسن نثار نے پی ٹی آئی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے. حسن نثار نے کہا کہ ڈینگی سے پنجاب کا کوئی حال نہیں رہا، ہر روز 10 لاکھ لوگ شہباز شریف کو یاد کرتے ہیں. انہوں نے کہا کہ میرے جیسا بندہ جو نیوٹرل نہیں ہے، جس نے 22 سال تحریک انصاف کی حمایت کی ہے، وہ کہہ رہا ہے کہ اگر اس حکومت کو چند ماہ اور مل گئے تو کسی کا باپ بھی اس نقصان کا ازالہ نہیں کر سکے گا.”

    ساتھ ہی انہوں نے پیشن گوئی کردی کہ یہ حکومت چند مہینوں سے زیادہ نہیں چل پائے گی. انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ بات قدرت کو منظور ہی نہیں ہوگی کہ یہ حکومت مزید چل سکے.