Baaghi TV

Tag: PTV

  • نعمان مسعود نے کراچی کیوں‌ چھوڑا؟ اداکار نے بتا دیا

    نعمان مسعود نے کراچی کیوں‌ چھوڑا؟ اداکار نے بتا دیا

    معروف ڈرامہ آرٹسٹ نعمان مسعود نے حال ہی میں‌سماء ٹی وی کے شو میں‌شرکت کی .اس میں‌انہوں نے بتایا کہ انہوں نے کراچی کیوں چھوڑا؟ انہوں نے کہا کہ میری والدہ کا جب انتقال ہوا تو کراچی رہنے کو دل ہی نہیں کیا . میں نے اس شہر کو ہی چھوڑ دیا کیونکہ ان کی گنت یادیں میرا پیچھا نہیں چھوڑتیں. انہوں نے کہا کہ میری والدہ مجھے ایسا لگتا ہے کہ آج بھی زندہ ہیں اور میرے اردگرد ہی کہیں رہتی ہیں. میں ان کی قبر پر بھی جاتا ہوں لیکن دل نہیں مانتا کہ ماں دنیا میں نہیں رہی. انہوں نے کہاکہ میری والدہ نے انتقال سے قبل بہت تکلیف دہ وقت دیکھا.

    ”ان کو کینسر تھا اور کینسر بھی آخری سٹیج کا تھا،” میں جب بھی ان کو ہسپتال ملنے کےلئے جاتا تھا تو کبھی ان کی گردن میں‌پائپ لگا ہوتا تھا اور کبھی ان کے گردوں میں. میری ماں نے جتنا مشکل وقت گزارا میں تو ایک رات ویسی نہیں گزار سکتا. دوران شو نعمان مسعود اپنی والدہ کو یاد کرکے رو پڑے. انہوں نے کہا کہ میری والدہ میری جان اور میری دوست تھیں ان کے جانے کے بعد خود کو کافی اکیلا محسوس کرتا ہوں. خدا سب کی مائوں کو سلامت رکھے. ماں کے جانے کا دکھ کوئی مجھ سے پوچھے.

    سلمان خان اوران کی بہنیں اپنےگھرمیں باقاعدگی سےمیرابیان سنتی ہیں،مولانا طارق جمیل

    پنجاب بھر کے تھیٹرز بند لیکن گجرات اور راولپنڈی میں تھیٹر پر ڈراموں کی نمائش …

  • بھارتی وزیراعظم کا نام غلط لیا تو مجھے پی ٹی وی نے 15 دن کے لئے معطل کر دیا  صبا فیصل

    بھارتی وزیراعظم کا نام غلط لیا تو مجھے پی ٹی وی نے 15 دن کے لئے معطل کر دیا صبا فیصل

    سینئر اداکارہ صبا فیصل جن کے بارے میں سب جانتے ہیں کہ وہ پہلے نیوز کاسٹر تھیں اور پی ٹی وی میں خبریں پڑھا کرتی تھیں ، اس کے بعد انہوں نے اداکاری میں نام بنایا. صبا فیصل نے اپنے حالیہ انٹرویو میں‌ بتایا ہے کہ جب میں پی ٹی وی میں خبریں‌پڑھا کرتی تھی تو اس وقت بہت سختی ہوتی تھی ایک لفظ بھی غلط نہیں بول سکتے تھے اگر بول دیتے تو سینئرز سے شدید ڈانٹ پڑتی تھی. انہوں نے کہا کہ ایک بار ایسا ہواکہ مجھے 15 دن کے لئے معطل کر دیا گیا. انہوں نے معطل کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ ایک مرتبہ انڈیا کے وزیراعظم دورے پر پاکستان آئے ہوئے تھے۔

    اپنے 3 دن کے دورے کے دوران انہوں نے بادشاہی مسجد سمیت کئی ایک تاریخی مقامات پر جانا تھا۔ تو اس دورے کی خبر پڑھتے ہوئے میں نے پوری خبر میں ایک مرتبہ نہیں بلکہ 17 مرتبہ ان کا نام غلط لے لیا۔ حقیقت میں ان کا نام اندر کمار گجرال تھا پر میں نے انہیں انور کمال گجرال کہہ ڈالا۔” اس دوران مجھے زرا بھی احساس نہیں ہوا کہ اتنی بڑی غلطی ہو گئی ہے. ”لیکن جب مجھے معطل ہونے کا نوٹس ملا تو پتہ چلا کہ مجھ سے تو بڑی غلطی ہو گئی ہے.

    شادی کب کررہی ہیں؟ تمنا بھاٹیہ اس سوال پر برہم ہو گئیں

    دھرمیندر نے جوان کے لئے شاہ رخ خان کو نیک تمنائوں کا پیغام بھیج دیا

    بولڈ مناظر شوٹ کروانے کےلئے میرے کپڑے تک پھاڑ دئیے گئے عرفی جاوید کا دعوی

  • پی ٹی وی میں‌کام کرکے جو سیکھا وہ بعد کے کیرئیر میں بہت کام آیا ماریہ واسطی

    پی ٹی وی میں‌کام کرکے جو سیکھا وہ بعد کے کیرئیر میں بہت کام آیا ماریہ واسطی

    اداکارہ ماریہ واسطی نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کامیابی کیسے حاصل ہوتی ہے اس پر کھل کر بات کی ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ نام اور مقام پلیٹ میں رکھ کر نہیں ملتا بلکہ بہت محنت کرکے حاصل کرنا پڑتا ہے۔ یاور حیات فرخ بشیر جیسے لوگ ملے،انہوں نے آگے بڑھنے میں بہت مدد کی۔ ہمارے دور میں سینئیر جونئیرز کی بہت زیادہ رہنمائی کیا کرتے تھے۔ سکھایا کرتے تھے ، غلطیوں پر ڈانٹ پڑتی تھی لیکن اس ڈانٹ میں بھی پیار اور اپنا پن ہوتا تھا۔ ہمارے دور میں کام کے سخت قاعدے ہوتے تھے،وقت پر سیٹ پر جانا، اپنے ڈائیلاگز یاد کرنے، ریہرسلز میں شرکت کو یقینی بنانا۔

    مجھے یاد ہے کہ ہمارے سینئرز بھی کام کے تمام قاعدے اور قوانین کی پاسداری کرتے تھے . سخت ڈسپلن ہوتا تھا۔جو کچھ ہم نے پی ٹی وی کے دور میں کام کرکے سیکھا وہ بعد میں بہت کام آیا . انہوں نے کہا کہ میں‌نے ہمیشہ معیار کا خیال رکھا ہے کبھی بھی کام اس لئے نہیں کیا کہ بس نظر آنا ہے میری ترجیح اچھے کردار رہے ہیں اور رہیں گے. یاد رہے کہ ماریہ واسطی نے پی ٹی وی لاہور سنٹر سے اپنے کیرئیر کا آغاز کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے شوبز کی دنیا میں چھا گئیں۔

  • دعا ہے پاکستان کو مخلص لیڈر شپ نصیب ہوجائے بشری انصاری

    دعا ہے پاکستان کو مخلص لیڈر شپ نصیب ہوجائے بشری انصاری

    سینئر اداکارہ بشری انصاری نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ پاکستان کو مخلص لیڈر شپ کی ضرورت ہے ایسی لیڈر شپ کی ضرورت ہے جو پاکستان کو ترقی کی راہوں پر لیکر جائے. 76 سال اس ملک کو بنے ہوئے ہو گئے ہیں لیکن آج تک پاکستان ترقی اور خوشحالی کی طرف نہیں بڑھ سکا. انہوں نے کہا کہ پاکستان بنانے کے لئے ہمارے آباﺅ اجداد نے جو قربانیاں دی ہیں وہ آج اپنے خون کا حق مانگ رہی ہیں اور یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب ہم پاکستان کو دنیا کے ان ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا کریں گے جن کی مثالیں دی جاتی ہیں ۔

    انہوں نے مزید یہ بھی کہا کہ ”ہمارے ساتھ بھارت آزاد ہوا تھا آج وہ کہاں سے کہاں پہنچ چکا ہے” اور ہم اندرونی لڑائی جھگڑوں میں‌پڑے ہوئے ہیں. انہوں نے کہا کہ ہم اگر آج بہت سارے ملکوں سے پیچھے ہیں تو اس میں‌ہماری اپنی غلطی اور کوتاہیاں ہیں ہم نے کبھی اس ملک کا سوچا ہی نہیں ہے، دعا ہے کہ جلد اس ملک کو کوئی مخلص لیڈر شپ نصیب ہوجائے. ہم تو نہیں‌دیکھ سکے دعا ہے کہ ہماری آنے والی نسلیں ایک خوشحال ملک دیک سکے.

    تھیٹر کی اداکارائیں ملتان ، رحیم یار خان، لاہور اور فیصل آباد کے عاملوں اور …

    لیلی کی سینئر اداکارائوں پر ڈھکے چھپے الفاظ میں تنقید

    میرا دوسرا شوہر بہت اچھا ہے عائشہ جہانزیب کی دکھ بھری داستان

  • پی ٹی وی کو اسکے اپنے نے برباد کیا ہے عرفان کھوسٹ

    پی ٹی وی کو اسکے اپنے نے برباد کیا ہے عرفان کھوسٹ

    سینئر اداکار عرفان کھوسٹ نے اپنے حالیہ انٹرویو میں‌کہا ہے کہ ہم نے پی ٹی وی کا وہ دور دیکھا ہے جب ڈرامہ لگنا ہوتا تھا تو سڑکیں اور شاہراہیں سنسان ہوجایا کرتی تھیں. اس کے بعد ایک ایسا وقت بھی آیا کہ پی ٹی وی نے ڈرامے بنانا ہی بند کر دئیے. انہوں نے کہا کہ جس طرح فلم انڈسٹری کو فلم والوں نے تباہ کیا اسی طرح سے پی ٹی وی کو اسکے اپنوں نے اس نہج پر پہنچا دیا ہے کہ آج وہاں ایک ڈرامہ نہیں بن رہا. عرفان کھوسٹ نے مزید کہا کہ آج یہ عالم ہے کہ کوئی بھی پی ٹی وی کے لئے اپنا کام چھوڑ کر آنے کو تیار نہیں ہو گا، کیونکہ اب حالات ہی ایسے بن گئے ہیں کہ کوئی پی ٹی وی میں آکر کام کرنے کو تیار نہیں ہے.

    انہوں نے کہا کہ” ابھی بھی وقت ہے پی ٹی وی کو بہتر کر لیا جائے اور اسکو اسکے اپنے ہی بچائیں” ، یہاں بھی رونقیں بحال ہو سکتی ہیں. انہوں نے کہا کہ ایسے ایسے شاہکار ڈرامے پی ٹی وی نے بنائے جو کہ آج بھی اپی مثال آپ ہیں یہ سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکتا ہے اگر چاہیں تو.

     

    اپنی ذاتی زندگی کو سوشل میڈیا پر نہ لائیں ہانیہ عامر کی مداحوں کو نصیحت

    عمرہ کرنے اپنے پیسوں سے آئے ہو یا کسی نے دئیے؟ فہد مصطفی سے ایسا …

    ماہرہ خان کی شادی کی افواہیں

  • فنکار نذیر کوخراج عقیدت پیش کرنے کے لئے  PTV میں پروگرام کی ریکارڈنگ

    فنکار نذیر کوخراج عقیدت پیش کرنے کے لئے PTV میں پروگرام کی ریکارڈنگ

    برصغیر پاک و ہند فلم انڈسٹری کے معمار فنکار نذیر کوخراج عقیدت پیش کرنے کےلئے خواجہ نجم الحسن صاحب نے پی ٹی وی کے لئے خصوصی پروگرام ریکارڈ کیا، مادام یاسمین شوکت حسین رضوی، مادام زریں پنا، سید نور صاحب اور خاور نعیم ہاشمی کے تاثرات بھی ریکارڈ کئے گئے، یہ پروگرام وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کی خصوصی ہدایت پر تیار کیا گیا ہے. اس پروگرام کو ریکارڈ کرنے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک تصویر جاری کی گئی جس میں‌ سید نور اور خاور نعیم ہاشمی کے درمیان نذیر کے صاحبزادے اختر نذیر ککی بھی دیکھے جا سکتے ہیں.

    ”سید نور کا کہنا ہے کہ اس طرح کے پروگرامز کا انعقاد ہوتے رہنا چاہیے” ، ہماری ہاں ایسی ایسی شخصیات موجود ہیں یا گزری ہیں جن کا کام برصغیر پاک و ہند کا بہترین کام ہے. ہمیں ایسے ہیروز کو یاد رکھنا چاہیے اور اپنی نوجوان نسل کو یاد دہانی کرواتے رہنا چاہیے کہ ہمارے پاس کیسے کیسے فنکار موجود تھے یا ہیں. خاور نعیم ہاشمی نے اس پروگرام کے حوالے سے کہا کہ خواجہ نجم الحسن نے ہمیشہ ہی تاریخ ساز پروگرام کئے ہیں انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن کو شاہکار پروگرام دئیے اور یہ سلسلہ آج بھی جاری و ساری ہے.

    خوشبو کی محفل تھیٹر میں شوبز شخصیات کے ہمراہ پریس کانفرنس

    سجل اور بلال عباس کو شادی کے مشورہ کس نے دیا؟‌

    ‘کون بنے گا کروڑپتی’ کا نیا سیزن 14 اگست سے شروع ہوگا

  • میں‌آج جو بھی ہوں پی ٹی وی کی وجہ سے ہوں صبا پرویز

    میں‌آج جو بھی ہوں پی ٹی وی کی وجہ سے ہوں صبا پرویز

    سینئر اداکارہ صبا پرویز جنہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن سے اپنا کیرئیر شروع کیا . ان کا شمار منجھی ہوئی اداکارائوں میں ہوتا ہے ، اگر یہ کہا جائے کہ صبا اپنی ذات میں اداکاری کا انسٹیٹیوٹ ہیں تو بے جانہ ہو گا. اداکارہ نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ میں نے پاکستان ٹیلی ویژن سے اداکاری کا آغاز کیا اور آج جو کچھ بھی ہوں اسی کی وجہ سے ہوں . مجھے پی ٹی وی میں بہت اچھے پرڈیوسرز ملے انہوں نے میری بہت مدد کی ، مجھے اداکاری سکھائی جہاں اٹک جاتی تھی مجھے سمجھایا جاتا تھا اورمیں بھی سیکھنے میں بہت زیادہ دلچسپی رکھتی تھی. انہوں نے کہا کہ اگر

    سکھانے والے مل جائیں تو سیکھنے والا کہاں سے کہاں‌پہنچ جاتا ہے لیکن شرط یہ ہے کہ سیکھنے والے میں سیکھنے کا جذبہ ہونا چاہیے. صبا قمر نے کہا کہ پی ٹی وی سے میری بہت ساری یادیں وابستہ ہیں ، ہم نے پی ٹی وی کے سنہرے دور میں کام کیا ، اور آج تک اس کی یادیں دل میں ہیں. صبا قمر نے کہا کہ میں کم کم اس لئے کام کرتی ہوں کیونکہ مجھے جب تک کوئی سکرپٹ اچھا نہ لگے میں‌ ہاں نہیں کرتی.مجھے جب تسلی ہو کہ میرا کردار اچھا ہے اور مضبوط ہے تو ہی میں ہاں کرتی ہوں.

  • خالد عباس ڈار کی ٹی وی پر واپسی

    خالد عباس ڈار کی ٹی وی پر واپسی

    سینئر اداکار خالد عباس ڈار نے کئی برس کے بعد ٹی وی کا رخ کر لیا ہے اور اس بار وہ پاکستان ٹیلی ویژن سے اداکاری میں واپسی کررہے ہیں، جی ہاں خالد عباس ڈار نے پی ٹی وی پر اپنی واپسی کر لی ہے اور لاہور سٹیشن سے وہ ڈار اور ڈارلنگ کے نام سے ایک شو کررہے ہیں ، پروگرام کو بہت زیادہ پذیرائی مل رہی ہے جس پر اداکار کافی خوش ہیں۔ انہوں نے اس پروگرام کے حوالے سے بات کرتے ہوئے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ میں بہت خوش ہوں کہ میری ٹی وی پر واپسی ہوئی ہے اور پی ٹی وی جہاں کام کرکے میں نے شہرت حاصل کی آج کئی برسوں کے بعد وہیں دوبارہ کام

    شروع کرکے مجھے بہر اچھا لگ رہا ہے میں سمجھتا ہوں کہ پی ٹی وی کی رونقیں بحال ہو سکتی ہیں لیکن اس کے لئے یہاں سینئرز کو واپسی کرنی ہو گی ، انہوں نے کہا کہ مجھے انداہ نہیں تھا کہ میرے پروگرام کو اتنی پذیرائی ملے گی۔ میرے پروگرام کے پرڈیوسر آغا قیصر ہیں ان کے ساتھ کام کرکے بہت اچھا لگ رہا ہے۔ خالد عباس ڈارنے کہا کہ میں نے معیار پر کبھی بھی سمجھوتہ نہیں کیا ، میں ڈار اور ڈارلنگ پروگرام کے لئے مطمئن ہوا تو میں نے اسکو کرنے کےلئے حامی بھری اور میں سمجھتا ہوں کہ میرا یہ فیصلہ اچھا ہے۔

  • نور الہدی شاہ نے ڈرامہ لکھنا کیوں چھوڑا؟‌

    نور الہدی شاہ نے ڈرامہ لکھنا کیوں چھوڑا؟‌

    سینئر رائٹر نورالھدی شاہ جنہوں نے پی ٹی وی کے سنہرے دور میں شاہکار ڈرامے لکھے. انہوں نے حال ہی میں لاہور میں ہونے والے پاکستان لٹریچر فیسٹیول میں شرکت کی. اس میں ان کے لئے ایک سیشن رکھا گیا جب ان سے پوچھا گیا کہ انہوں نے ڈرامہ لکھنا کیوں چھوڑا ، تو انہوں نے جواب دیا کہ جب ہم سے لکھوانا چھوڑ دیا گیا تو ہم نے بھی لکھنا چھوڑ دیا. ہاں جس طرح کی کہانیاں آج لکھی جا رہی ہیں اور جس طرح سے اس میں مارکیٹنگ ڈیپارٹمنٹ شامل ہوتا ہے وہ چیز ہمارے لئے قابل قبول نہیں ہے. ویسے بھی ہم جو لکھتے ہیں وہ چینلز چلانے میں دلچسپی نہیں

    رکھتے صاف کہہ دیتے ہیں کہ ڈرامہ ایسے نہیں ایسے لکھیں بھئی ہم نے تو موضوعات کو ڈراموں میں ڈسکس کرنا سیکھا اور ہم پیار عشق محبت افئیر اور طلاق کے گرد گھومتی ہوئی کہانیاں‌ نہیں‌ لکھ سکتے. اس کے باوجود ہمیں‌کسی سے کوئی گلہ شکوہ نہیں ، جب ایک کام جو کیا جا رہا ہے وہ ہمیں پسند نہیں‌وہ ہم کیوں‌کریں یا کیوں ناراضگی کااظہار کریں ہم خاموش ہی اچھے. اس لئے ہم خاموش بھی ہیں اور ایک سائیڈ پر بھی ہیں. یاد رہے کہ نورالہدی شاہ کی تحریروں کو شائقین دیوانہ وار پسند کرتے تھے.

  • اصغر ندیم سید آج کے ڈرامہ پر برس پڑے

    اصغر ندیم سید آج کے ڈرامہ پر برس پڑے

    معروف رائٹر اصغر ندیم سید نے کہا ہے کہ جس طرح کی آج کہانیاں بن رہی ہیں وہ ہماری دلچسپی میں نہیں ہیں‌ نہ ہم اس طرح کی کہانیاں لکھ سکتے ہیں. انہوں نے کہا کہ رائٹرز کے ہاتھ بندھے نہیں ہونے چاہیں نہ ہی ان کو انسٹرکٹ کیا جانا چاہیے کہ یہ لکھیں اور یہ نہ لکھیں . انہوں نے مزید کہا کہ آج کل چینلز کا مارکیٹنگ ڈیپارٹمنٹ ڈرامہ بنانے میں بہت زیادہ انوالو ہوتا ہے یہ وہ شعبہ ہے جس کا نام نہیں‌لیا جاتا. یہی طے کرتا ہے کہ کون سے ایکٹرز ہوں گے اور کہانی کیسی ہوگی. انہوں نے کہا کہ اگر کوئی بات کی جائے تو جواب ملتا ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہی کچھ دکھا رہے ہیں بھئی نور الہدی شاہ سے زیادہ سندھ کی خواتین کے مسائل کس کو پتہ ہیں ؟ کیوں ان سے نہیں لکھوایا جا رہا. ہم جو لکھتے ہیں اس کے

    بارے میں‌کہا جاتا ہے کہ یہ پسند نہیں کیا جائےیہ چلے گا. مجھے کسی چینل کے مارکیٹنگ ڈیپارٹمنٹ کے ایک بندے نے کہا کہ میں جیسا کہہ رہا ہوں ویسا لکھ دیں اس کے ہٹ ہونے کی گارنٹی میں دیتا ہوں تومیں نے کہا کہ جو چل رہا ہےاسکو چلانے میں آپ کا کیا کمال ، جو نہیں چل رہا اسکو اگر چلائو تو وہ ہو گا آپ کا کمال . اس بات کے بعد وہ بندہ بول نہ سکا.