Baaghi TV

Tag: punjab police

  • عمران خان سمیت 11 زخمیوں کے پولی گراف ٹیسٹ ،کیس کی سماعت ملتوی

    عمران خان سمیت 11 زخمیوں کے پولی گراف ٹیسٹ ،کیس کی سماعت ملتوی

    عمران خان سمیت 11 زخمیوں کے پولی گراف ٹیسٹ ،کیس کی سماعت ملتوی

    گوجرانوالہ، انسداد دہشت گردی میں عمران خان فائرنگ حملہ کیس میں متفرق درخواستوں پر سماعت ہوئی

    سپیشل جج رانا زاہد نے عمران خان سمیت 11 زخمیوں کے پولی گراف ٹیسٹ کرانے اور موبائل فونز کے فرانزک کی درخواستوں پر سماعت کی ،ملزم نوید نے میاں دائود ایڈووکیٹ کی وساطت سے متفرق درخواستیں دائر کر رکھی ہیں ،سرکاری وکلاء نے درخواستوں کے قابل سماعت ہونے پر اعتراض اٹھا دیا، سرکاری وکیل نے کہا کہ عدالت مہلت دے، آئندہ سماعت پر حتمی بحث کر دیں گے،ملزم نوید کے وکلاء نے بھی عدالت سے التواء کی استدعا کی، اختر علی چشتی ایڈوکیٹ نے کہا کہ سینئر وکیل مصروفیت کی وجہ سے آج پیش نہیں ہو سکتے،عدالت نے متفرق درخواستوں پر سماعت 20 جنوری تک ملتوی کر دی

    عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس نقطے پر مطمئن کریں کہ کیا یہ درخواستیں قابل سماعت ہیں، ملزم نوید نے وکلاء کی وساطت سے 6 متفرق درخواستیں دائر کر رکھی ہیں درخواستوں میں تمام زخمیوں کے پولی گراف ٹیسٹ کرانے اور موبائل فونز فرانزک کیلئے شامل تفتیش کرنے کی استدعا کی گئی ہے درخواستوں میں عمران خان سمیت تمام زخمیوں کی میڈیکل رپورٹس فراہم کرنے کی بھی استدعا کی گئی ہے۔

    ویڈیو:عمران خان پر حملہ کرنیوالا ملزم گرفتار،عمران خان کیسے آئے باہر؟

     عمران خان کو پتہ تھا کہ انہیں ہٹانے کی منصوبہ بندی جاری ہے،

    شوکت خانم میں عمران خان کا علاج جاری ہے،میڈیکل رپورٹس تسلی بخش قرار دے دی 

    شوکت خانم کے باہر سے مشکوک شخص گرفتار

    جس کو پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کہتا تھا اسے ڈاکو کی وزارت اعلیٰ کے نیچے عمران خان پر حملہ ہوا

    قاتلانہ حملے کا ڈرامہ لانگ مارچ کی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے کیا گیا,،ملزم نوید کے وکیل کی پریس کانفرنس

    واضح رہے کہ عمران خان کے لانگ مارچ کے دوران وزیر آباد میں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا جس میں عمران خان زخمی ہوئے، ایک شخص کی موت ہوئی، اللہ والا چوک میں استقبالیہ کیمپ میں فائرنگ کی گئی جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور بھگدڑ مچ گئی جب کہ موقع پر موجود سکیورٹی اہلکاروں نے حملہ آور کو فوری طور پر حراست میں لے لیا، ملزم نوید نے اعتراف جرم کر لیا اور کہا تھا کہ عمران خان لوگوں کو گمراہ کر رہے تھے، اسلئے فائرنگ کی،

  • بینک کیش وین میں دو کروڑ ڈکیتی کا مبینہ ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک

    بینک کیش وین میں دو کروڑ ڈکیتی کا مبینہ ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک

    راولپنڈی ،نصیرآباد کے علاقہ نیو چاکرہ میں رات گئے موٹر سائیکل سوار ڈاکؤوں نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کی،
    فائرنگ کے دوران بینک کیش وین ڈکیتی میں ملوث ایک ڈاکو ہلاک، باقی ڈاکو فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہو گئے،

    ہلاک ڈاکو کی شناخت ایاز کے نام سے ہوئی، زیر استعمال موٹر سائیکل اور اسلحہ برآمد کر لیا گیا، ہلاک ڈاکو نے ساتھیوں کے ساتھ مل کر اڑھائی ماہ قبل بینک کیش وین ڈکیتی کے دوران فائرنگ کرکے سیکیورٹی گارڈ عبدالوحید کو قتل کر دیا تھا اور 02 کروڑ 12 لاکھ روپے کی رقم بھی چھینی تھی، ہلاک ڈاکو ایاز قبل ازیں کراچی اور صوابی میں بینک ڈکیتی کے مقدمات میں ریکارڈ یافتہ جبکہ جڑواں شہروں میں کیش وین ڈکیتی کی وارداتوں میں مطلوب تھا، واقعہ کی اطلاع پر سینئر پولیس افسران موقع پر پہنچ گئے،

    نعش کو پوسٹ مارٹم کے لئے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے، فرار ڈاکؤوں کی گرفتاری کے لئے علاقہ میں سرچ آپریشن کیا گیا، ڈاکؤوں کی فائرنگ کے باوجود دلیری سے مقابلہ کرنے پر سی پی او سید شہزاد ندیم بخاری نے ایس پی پوٹھوہار، ایس ڈی پی او کینٹ اور نصیر آباد پولیس کو شاباش دی،اور کہا کہ شہریوں کے جان و مال اور پولیس پر حملہ کرنے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا،

    امیرلڑکے سے شادی کا انکار کیا تو گھر میں بند کر دیا گیا،25 سالہ لڑکی کی تحفظ کی اپیل

    نو سالہ بچے سے زیادتی کرنیوالا پولیس اہلکار،خاتون سے زیادتی کرنیوالا گرفتار

    عثمان مرزا کی جانب سے لڑکی اور لڑکے پر تشدد کے بعد نوجوان جوڑے نے ایسا کام کیا کہ پولیس بھی دیکھتی رہ گئی

    نوجوان جوڑے پر تشدد کیس، پانچویں ملزم کو کس بنیاد پر گرفتار کیا؟ عدالت کا تفتیشی سے سوال

    دوسری جانب ایس ایچ او سیکرٹریٹ کی دبنگ کارروائی،اسلام آباد کے تین تھانوں میں درج مختلف مقدمات کااشتہاری ملزم گرفتار کر لیا گیا، سیکرٹریٹ پولیس نے ایس ایچ او طاہر ندیم کی خصوصی ہدایت پر سیف الرحمن کو مشکوک جانتے ہوئے پڑتال کریمنل ریکارڈ کی گئی تو ملزم سیف الرحمن ولد سلیم حیدر سکنہ صادق آباد راولپنڈی جو کہ تھانہ بہارہ کہو مقدمہ نمبر 495/18 بجرم 489F کا اشتہاری جبکہ تھانہ سبزی منڈی میں درج مقدمہ نمبر13/18 بجرم 489F کاعدالتی اشتہاری جبکہ تھانہ رمنا میں درج مقدمہ نمبر36/10بجرم 406 کا عدم گرفتار پایا گیا سیکرٹریٹ پولیس نے ملزم کو گرفتار کر کے متعلقہ پولیس کے حوالے کردیا،واضح رہے کے ملزم سیف الرحمن کیخلاف تھانہ نیو ٹاؤن اور تھانہ صادق آباد راولپنڈی میں بھی اسی نوعیت کے مقدمات درج ہیں

  • قتل میں ملوث مفرور ملزم گرفتار، مغویہ بازیاب

    قتل میں ملوث مفرور ملزم گرفتار، مغویہ بازیاب

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شہر قائد کراچی میں جرائم پیشہ عناصر کیخلاف پولیس کی کاروائیاں جاری ہیں،

    انوسٹی گیشن ڈسٹرکٹ کیماڑی ساؤتھ زون کراچی نے کاروائی کی ہے اور قتل میں ملوث مفرور ملزم گرفتار اور دوسرے مقدمہ کی مغویہ بازیاب کروا لی،پہلی کاروائی میں تفتیشی ٹیم تھانہ پاک کالونی نے عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے قتل میں ملوث مفرور ملزم کو گرفتارکر لیا ،گرفتار ملزم محمد حنیف ولد لعل محمد نے عبدالاحد کو فائرنگ کرکے شدید زخمی کردیا تھا جو بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگیا تھا واقعہ کا مقدمہ الزام نمبر 491/2022 بجرم دفعہ 324/109/302 ت پ تھانہ موچکو میں درج کیا گیا تھا ملزم واقعہ کے بعد سے روپوش تھا جسے تکنیکی و انٹیلیجنس ذرائع کی مدد سے گرفتار کیا گیا

    دوسری کاروائی میں تفتیشی ٹیم تھانہ پاک کالونی نے مغویہ مسمات فاطمہ دختر خدا بخش کو بازیاب کر لیا ،فاطمہ کے اغواء کا مقدمہ الزام نمبر 03/2023 بجرم دفعہ 365B درج تھا بازیاب مغویہ کو بیان قلمبندی کے لئے متعلقہ عدالت میں پیش کیا جائے گا

    عثمان مرزا کی جانب سے لڑکی اور لڑکے پر تشدد کے بعد نوجوان جوڑے نے ایسا کام کیا کہ پولیس بھی دیکھتی رہ گئی

    نوجوان جوڑے پر تشدد کیس، پانچویں ملزم کو کس بنیاد پر گرفتار کیا؟ عدالت کا تفتیشی سے سوال

    لڑکی کو برہنہ کرنے کی ویڈیو، وزیراعظم عمران خان کا نوٹس، بڑا حکم دے دیا

    قبل ازیں پولیس نے ایک اور کیس میں کاروائی کرتے ہوئے اپنے بہنوئی اویس کو فائرنگ کر کے قتل کرنے والے 2 سگے بھائی ساتھی سمیت گرفتار کر لئے گئے. گرفتار ملزمان میں عبدالرزاق عرف بابا، اشفاق اور شفاقت شامل ہیں ملزمان چند روز قبل اپنے بہنوئی کو ساتھی کی مدد سے قتل کرنے کے بعد موقع سے فرار ہو گئے تھے،مقتول اویس نے ملزمان کی بہن سے پسند کی شادی کر لی تھی جس کا انہیں رنج تھا،مقتول اویس ایک سال سے اپنی بیوی کے ساتھ روپوش ہو کر زندگی بسر کر رہا تھا ،

    چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے سانحہ کارساز کے شہدا کوخراجِ عقیدت پیش کیا ہے

    عمران خان کی حرکتیں بچگانہ، اپنی پارٹی کو ڈبوتے جا رہے ہیں،وزیراعلیٰ سندھ

  • شہر قائد،گلے میں پھندا،لاش شہر کے معروف پل پر لٹکا دی گئی

    شہر قائد،گلے میں پھندا،لاش شہر کے معروف پل پر لٹکا دی گئی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شہر قائد کراچی میں امن و امان کی صورتحال انتہائی مخدوش ہو چکی ہے، سٹریٹ کرائم میں اضافہ ہو چکا ہے

    کراچی کے علاقے لیاری میراں ناکہ کے قریب لیاری ایکسپریس کے پل سے لٹکی لاش ملی ہے، پل سے لٹکی لاش ملنے پر علاقہ بھر میں خوف و ہراس پھیل گیا، پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی پولیس کا کہنا ہے کہ نامعلوم شخص کو گلے میں پھندا کر قتل کیے جانے کا شبہ ہے،حلیہ سے مقتول منشیات کا عادی معلوم ہوتا ہے،شبہ ہے کہ قتل منشیات کے عادی یا منشیات فروشوں میں جھگڑے کا نتیجہ ہے،مقتول کی فوری طور پر شناخت نہیں ہوسکی ہے،لاش کو قانونی کارروائی ے لیئے سول اسپتال منتقل کر دیا گیا،

    دوسری جانب رضویہ سوسائٹی پولیس نے خفیہ اطلاع پر کاروائی کرتے ہوئے قتل پولیس مقابلہ سمیت منشیات فروشی میں ملوث روپوش ملزم گرفتار کر لیا،گرفتار ملزم کی شناخت عمر خان عرف گل خان ولد عصمت اللہ کے نام سے ہوئی گرفتار ملزم سے دورانِ گرفتاری 1 کلو 140 گرام چرس اور نقد رقم برآمد ہوئی گرفتار ملزم قتل، پولیس مقابلے سمیت منشیات کے مقدمات میں مفرور اور کورٹ سے اشتہاری تھا ملزم تھانہ رضویہ سوسائٹی کے مقدمات 538/2021 دفعہ 302 ت پ اور 539/2021 دفعہ 553/324/34 ت پ میں مفرور تھا جبکہ گرفتار ملزم 30/2017 اور 05/2021 دفعہ 6/9B میں کورٹ سے اشتہاری اور روپوش تھا گرفتار ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر کے تفتیش کا آغاز کردیا گیا ہے

    لاک ڈاؤن ختم کیا جائے، شوہر کے دن رات ہمبستری سے تنگ خاتون کا مطالبہ

    لاک ڈاؤن، فاقوں سے تنگ بھارتی شہریوں نے ترنگے کو پاؤں تلے روند ڈالا

    بیرون ملک سے لڑکی کی جسم فروشی کے لئے پاکستان سمگلنگ،عدالت نے کس کو کیا طلب؟

     پاکستان کی اہم خاتون کو جسم فروشی کی پیشکش کی گئی ہے جس پر خاتون نے کھری کھری سنا دیں

    سفاک دیور نے بھابھی کو ہی جسم فروشی کے دھندے میں لگا دیا

  • پی ٹی وی ،پارلیمنٹ حملہ کیس کی سماعت ملتوی، نئی درخواست دائر

    پی ٹی وی ،پارلیمنٹ حملہ کیس کی سماعت ملتوی، نئی درخواست دائر

    اے ٹی سی اسلام آباد میں پی ٹی وی ،پارلیمنٹ حملہ کیس کی سماعت 26 جنوری تک ملتوی کر دی گئی

    عدالت نے پراسیکیوش کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر دلائل طلب کر لیے، درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ پی ٹی وی پارلیمنٹ حملہ کیس سیاسی بنیادوں پر بنایا گیا،عدالت کا کیس نہیں بنتا متعلقہ عدالت کو منتقل کیا جائے،شریک ملزم مرز اعدیل بیگ کی جانب سے متفرق درخواست دائر کی گئی، جس میں موقف اپنایا گیا کہ پی ٹی وی پارلیمنٹ حملہ کیس سیاسی بنیادوں پر بنایا گیا ،درخواست ملزم مرزا عدیل بیگ کے وکیل نعیم پنجوتھا کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں دہشتگردی عدالت کے دائرہ اختیار بھی چیلنج کیا گیا ،وکیل نعیم پنجوتھا نے کہا کہ دہشتگردی عدالت کا کیس نہیں بنتا متعلقہ عدالت کو منتقل کیا جائے،احتجاج آئینی دھارے میں رہتے ہوئے کیا گیا تھا

    عدالت نے پراسیکیشن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر دلائل طلب کر لیے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو مستقل حاضری سے استثنیٰ حاصل ہے کیس کی سماعت انسداد دہشتگری عدالت کے جج راجہ جواد عباس حسن نے کی عدالت نے کیس کی سماعت 26 جنوری تک ملتوی کر دی

    واضح رہے کہ اگست 2014 میں تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک نے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف دھرنا دیا تھا جس کے دوران دونوں جماعتوں کے کارکنان نے پولیس رکاوٹیں توڑ کر وزیراعظم ہاؤس میں گھسنے کی کوشش کی تھی اور مبینہ طور پر پی ٹی وی پر حملہ کیا۔ اس دوران شاہراہِ دستور پر تعینات پولیس اہلکاروں اور مظاہرین میں جھڑپ ہوئی اور پی ٹی آئی اور پی اے ٹی کے 50 مظاہرین نے مبینہ طور پر سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس عصمت اللہ جونیجو کو حملہ کر کے زخمی کیا تھا۔

    پارلیمنٹ حملہ کیس، وزیراعظم کی بریت پر عدالت کا بڑا فیصلہ آ‌گیا

    پی ٹی وی پارلیمنٹ حملہ کیس کی سماعت کرنیوالے جج کو او ایس ڈٰی بنا دیا گیا

    پی ٹی وی،پارلیمنٹ حملہ کیس،پارلیمنٹ کا جنگلہ کیوں توڑا گیا تھا؟ وکیل نے بتا دیا

    اسلام آباد پولیس نے ان تمام واقعات کے مقدمات عمران خان، طاہر القادری، عارف علوی، اسد عمر، شاہ محمود قریشی، شفقت محمود اور راجہ خرم نواز گنڈاپور کے خلاف درج کئے جن میں انسداد دہشت گردی کی دفعات بھی شامل کی گئیں

    صدر عارف علوی اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سمیت پی ٹی آئی کی سینئر لیڈرشپ پارلیمنٹ حملہ کیس میں بری ہوگئی۔ جبکہ مقدمہ 30 اگست 2014 کو تھانہ سیکرٹریٹ میں درج کیا گیا تھا

    پی ٹی وی،پارلیمنٹ حملہ کیس کا فیصلہ محفوظ

    پارلیمنٹ حملہ کیس،صدر مملکت عدالت پیش،کیا بیان دیا؟ سب دنگ رہ گئے

  • شہباز گل پر کل فرد جرم عائد کرنے کی کاروائی روکنے کی استدعا مسترد

    شہباز گل پر کل فرد جرم عائد کرنے کی کاروائی روکنے کی استدعا مسترد

    شہباز گل کے خلاف بغاوت پر اکسانے کے مقدمہ میں سپیشل پراسیکیوٹر تعینات کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے شہباز گل کی درخواست پر استفسارکیا کہ سپیشل پراسیکیوٹر کا قانون کیا ہے؟ راجہ علیم عباسی ایڈوکیٹ نے کہا کہ ملزم کو اپنی مرضی کا وکیل کرنے کا حق ہے، مرضی کا پراسیکیوٹر منتخب کرنے کا نہیں؟ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ سپیشل پراسیکیوٹر کی تعیناتی کا اختیار بھی نہیں،وکیل نے کہاکہ وفاقی حکومت نے قانون کے مطابق سپیشل پراسیکیوٹر تعینات کیا ہے، فرد جرم عائد کرنے کے لیے کل کی تاریخ مقرر ہے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کہ درخواست گزار کا کہنا ہے جہاں حکومت کے ایشوز ہیں وہاں پرائیویٹ وکیل نہیں کر سکتے،شہباز گل کے وکیل نے استدعا کی کہ عدالت سپیشل پراسیکیوٹر کو عارضی طور پر کام سے روک دے، عدالت سے استدعا ہے کہ کل فرد جرم عائد کرنے کی کارروائی پر حکم امتناع جاری کرے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے مسکراتے ہوئے استفسار کیا کہ کل فرد جرم لگ جائے گی؟ آپ نے ابھی تک فرد جرم عائد نہیں ہونے دی، پبلک پراسیکیوٹر اگر چارج فریم کراتا ہے تو اس پر تو آپ کو کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے،ابھی تو فرد جرم عائد نہیں ہوئی، ٹرائل بھی شروع نہیں ہوا، فرد جرم عائد ہونے کے بعد شہادتوں کا مرحلہ آئے گا، اس کیس کو زیادہ لمبا نہیں کر رہے، آئندہ ہفتے کے لیے رکھ رہے ہیں،

    عدالت نے سپیشل پراسیکیوٹر کی تعیناتی کے قانونی نکتے پر معاونت کے لیے تیاری کی مہلت دے دی عدالت نے کیس کی مزید سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی ،شہباز گل پر کل فرد جرم عائد کرنے کی کارروائی روکنے کی استدعا مسترد کر دی گئی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے حکم امتناع کی استدعا مسترد کی شہباز گل کے وکیل نے ٹرائل کورٹ میں کل فرد جرم کی کارروائی روکنے کی استدعا کی تھی

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے شہباز گل ضمانت کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    واضح رہے کہ شہباز گل اداروں میں بغاوت پر اکسانے کے کیس میں ضمانت پر ہیں۔ خیال رہے اس سے قبل  پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شہباز گل کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں شامل کرلیا گیا تھا ۔ ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی رہنما شہباز گل کا نام کابینہ کی منظوری کے بعد ای سی ایل میں شامل کیا گیا تھا۔ اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے شہباز گل کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی سفارش کی تھی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخر
    پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے
    ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو سچ بولنے سے نہیں روک سکتا
    اسلام آباد ہائی کورٹ نے رواں سال ستمبرمیں بغاوت پر اکسانے کے مقدمے میں شہباز گل کی ضمانت کی درخواست منظور کرتے ہوئے رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔ یاد رہے کہ شہباز گل کو اشتعال انگیز تقاریرکے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور وہ ایک ماہ جیل میں رہے تھے۔ شہباز گل کی ضمانت کے خلاف اکتوبر میں سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی.

  • درآمدات کی بندش سے25 فیصد دوا ساز کمپنیاں بند:15 دن کا خام مال موجود

    درآمدات کی بندش سے25 فیصد دوا ساز کمپنیاں بند:15 دن کا خام مال موجود

    کراچی: پاکستان فارماسوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے چیئر مین فاروق بخاری نے کہا کہ ملک میں 25 فیصد دوا ساز اداروں کے غیر فعال ہونے کی نوبت آگئی ہے جبکہ دیگر کمپنیوں کے پاس پندرہ دن کا خام مال رہ گیا ہے،اگر کمپنیوں کو بروقت خام مال کی ادائیگی نہ کی گئی تو مزید کمپنیاں بند ہو جائیں گی اور دوا ساز اداروں کے سیکڑوں ملازمین بے روزگار ہو جائیں گے۔

    تاریخی مسجد شاہ جہاں کے محافظ چور بن گئے ،مسجد اجڑنے لگی

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز کراچی پریس کلب میں دوران پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (بی پی ایم اے)نے حکومت سے پرزور اپیل کی کہ وہ ادویات کی تیاری میں استعمال ہونے والے خام مال اور جان بچانے والے طبی ساز و سامان کی درآمد کو دوباره شروع کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات کریں تاکہ ملک میں مریضوں کے بلا تعطل علاج کے لیے ادویات اور جان بچانے والے طبی آلات فراہمی کو یقینی بنایا جاسکے۔

    26گینگ کے65ارکان سمیت363ملزمان کو گرفتار

    پی پی ایم اے کے مرکزی چیئرمین سید فاروق بخاری نے اپنی ایسوسی ایشن کے دیگر عہدیداران کے ہمراہ کہا کہ زرمبادلہ کے موجودہ بحران نے ملک میں ادویات کی پیداوار کو بری طرح متاثر کیا ہے۔دوا ساز اداروں کے پاس ملک میں جان بچانے والی ادویات کی مقامی پیداوار کے لیے ضروری وسائل ختم ہو چکے ہیں، حکومت کو چاہیے کہ فارماسوٹیکل کمپنیوں کو اہمیت دے۔ بینکوں کے پاس ڈالر کی عدم دستیابی کی وجہ سے خام مال اور طبی ساز و سامان کی درآمد میں مسلسل رکاوٹ آرہی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ دوا ساز ادروں کو جنگ کے وقت بھی اپنی پیداوار جاری رکھنی چاہے، ملک میں 770 کے قریب ادویات تیار کرنے والے سنگین بحران کا سامنا کر رہے ہیں کیونکہ انہیں ملک میں مریضوں کو درکار 90 فیصد ادویات کی تیاری کے لیے درکار خام اور پیکیجنگ میٹریل کی ضروری درآمدات نہیں مل رہیں۔

    بولان میں گیس پائپ لائن کو دھماکا خیزمواد سےاڑا دیا گیا

    چیئرمین پی پی ایم اے نے کہا کہ ملک میں مقامی طور پر تیار کی جانے والی ادویات کو درآمد کرنے کے لیے 150 بلین امریکی ڈالر کی خطیر رقم درکار ہوگی، اگر یہ بحران مزید جاری رہا ملک میں ہنگامی صورتحال پیدا ہوجائے گی، ضروری جراحی اور طبی آلات کی درآمدات معاشی بحران کی وجہ سے روک دی گئی ہیں۔جس کی وجہ سے شدید بیمار مریضوں کے علاج میں بے پناہ مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔

    پی پی ایم اے کے چیئرمین نے حکومت پر زور دیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ ملک میں امریکی ڈالر دستیاب رہیں تاکہ ادویات کی تیاری اور حراحی آلات کی درآمد کے لیے ضروری خام مال کی دستیابی کو یقینی بنایا جا سکے۔ پاکستان کی فارماسوٹیکل کمپنیوں کو ڈالر کی عدم دستیابی کی وجہ سے پیدا ہونے مریض سمیت طبی ماہرین اور متعلقہ ادارے بھی پریشانی میں مبتلا ہیں،ملک میں 25 فیصد دوا ساز اداروں کے غیر فعال ہونے کی نوبت آگئی ہے،جبکہ دیگر کمپنیوں کے پاس پندرہ دن کا خام مال اسٹاک ہے،اگر کمپنیوں کو خام نہ ملا تو مزید کمپنیاں بند ہو جائیں گی اور دوا ساز اداروں کے سیکڑوں ملازمین بے روزگار ہو جائیں گے۔

  • کراچی میں 24 گھنٹوں کےدوران اسٹریٹ کرائمزکی 117 وارداتیں : پولیس رپورٹ

    کراچی میں 24 گھنٹوں کےدوران اسٹریٹ کرائمزکی 117 وارداتیں : پولیس رپورٹ

    کراچی: ڈاکوؤں نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران شہر قائد میں بسنے والے 117 شہریوں کو قیمتی اشیاء سے محروم کردیا، اسٹریٹ کرائم کی وارداتیں شہر کے ساتوں اضلاع میں رونما ہوئی۔پولیس کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران شہر کے 7 اضلاع میں اسٹریٹ کرائم کی 117 وارداتیں رپورٹ ہوئیں, ایک روز کے دوران ہونے والی کرائم کی وارداتوں کے حوالے سے ایڈیشنل آئی جی کراچی جاوید عالم اوڈھو نے بدھ کو وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو رپورٹ بھیجی۔

    26گینگ کے65ارکان سمیت363ملزمان کو گرفتار

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شہر میں اسٹریٹ کرائم کے 117 واقعات رونما ہوئے جن میں 44 وارداتوں میں موبائل فون اور نقدی چھینی گئی، ایک کار چوری اور پانچ کاروں سمیت 55 موٹرسائیکلیں چوری ہوئیں۔رپورٹ کے مطابق ڈکیتی کے دوران اسٹریٹ کرمنلز نے مزاحمت پر چار افراد کو زخمی کیا جن میں ایک شان ولد اسلم کو بوٹ بیسن ضلع جنوبی، دوسرا دانش ولد عابد کو شاہراہ نورجہاں ضلع وسطی، تیسر ایس آئی شکیل اور ایس آئی جاوید کو ضلع وسطی میں جب کہ چوتھے رفاقت ولد منور کو عوامی کالونی ضلع کورنگی میں نشانہ بنایا گیا۔

    بولان میں گیس پائپ لائن کو دھماکا خیزمواد سےاڑا دیا گیا

    وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ پولیس نےاسٹریٹ کرمنلز کے ساتھ پانچ انکاؤنٹر کیے جس میں 13 اسٹریٹ کرمنلز/ چور زخمی حالت میں گرفتار کیے گئے اور 13 ملزمان کو رنگے ہاتھوں پکڑا گیا۔پولیس نے شہر بھر میں 24 گھنٹوں کے دوران 110 ملزمان کو گرفتار کیا گیا جن میں 38 اسٹریٹ کرمنلز/چور، 22 ملزمان کو غیر قانونی اسلحہ رکھنے پر، ایک بھتہ خوری، 9 منشیات فروشی جب کہ 34 دیگر جرائم میں ملوث ملزمان شامل ہیں۔

    تاریخی مسجد شاہ جہاں کے محافظ چور بن گئے ،مسجد اجڑنے لگی

    وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ کراچی پولیس نے دن بھر میں 6 کار لفٹرز کو گرفتار کیا، ایڈیشنل آئی جی کراچی نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ سرچ آپریشن کے دوران 22 غیر قانونی پستول، دو کلو گرام چرس، پانچ چھینے گئے موبائل فون، 15 مسروقہ گاڑیاں جس میں ایک کار اور 14 موٹر سائیکلیں برآمد کی گئیں۔وزیراعلیٰ سندھ نے سٹی پولیس کو کومبنگ آپریشن جاری رکھنے اوراسٹریٹ کرائم کو کنٹرول میں لانے کی ہدایت کی۔

  • دہشتگردوں کی فہرست میں نام، عبدالرحمان مکی نے خاموشی توڑ دی

    دہشتگردوں کی فہرست میں نام، عبدالرحمان مکی نے خاموشی توڑ دی

    جماعۃالدعوۃ پاکستان کے مرکزی رہنما پروفیسر حافظ عبدالرحمن مکی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کمیٹی 1267 کے طرف سے اپنا نام دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیے جانے کی شدید مذمت کی ہے اور اس حوالے سے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رپورٹ میں دی گئی معلومات کو سراسرحقائق کے منافی قرار دیا ہے۔

    اپنے بیان میں انہوں نے کہاکہ میں نے اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں کبھی تعلیم حاصل نہیں کی اور نہ ہی ایک دن کے لیے بھی وہاں بطور معلم ملازمت اختیار کی ہے۔ میری القاعدہ کے ایمن الظواہری، اسامہ بن لادن یا عبداللہ عزام سے بھی کبھی کوئی ملاقات نہیں ہوئی اور نہ ہی میرا ان سے کسی قسم کا رابطہ رہا ہے ۔ اسی طرح میں نے اسلامی سیاست میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل نہیں کی بلکہ سعودی عرب کی ام القریٰ یونیورسٹی میں علم حدیث میں ڈاکٹریٹ کیا ہے۔بی بی سی کی رپورٹ میں لکھی گئی یہ ساری باتیں غلط ہیں اور بی بی سی جیسے ادارے کی طرف سے اپنی رپورٹ میں ایسی باتیں شائع کرنے سے میرے جذبات کو سخت ٹھیس پہنچی ہے۔

    عبدالرحمن مکی نے کہاکہ دہشت گردی کے حوالے سے میراموقف شروع دن سے بالکل واضح ہے اورمیں نے اپنی پوری زندگی میں ان تینوں شخصیات کے نظریات کی کبھی حمایت نہیں کی ۔انہوں نے کہاکہ یواین کی سلامتی کمیٹی کی طرف سے میرا موقف سنے بغیر محض بھارت سرکار کے پروپیگنڈے پر دہشت گردوں کی فہرست میں نام شامل کرنا بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ہم یواین کی سلامتی کمیٹی کے اس فیصلے کے خلاف ڈی لسٹنگ کے لیے جلد اپیل دائر کریں گے۔ سلامتی کمیٹی کو چاہیے کہ وہ انصاف پسندی سے کام لیتے ہوئے اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے اور اس حوالے سے ہمارا موقف بھی سنا جانا چاہیے تاکہ صحیح حقائق دنیا پر واضح ہو سکیں۔انہوںنے کہاکہ بھارت اپنے مذموم سیاسی مقاصد کے لیے جھوٹ پر مبنی معلوما ت کی بنیاد پر عالمی اداروں کو گمراہ کر رہا ہے۔ میرا القاعدہ یا داعش جیسی کسی تنظیم سے کبھی کوئی تعلق نہیں رہا ۔جہاں تک کشمیر کی بات ہے تو ہم اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مظلوم کشمیری مسلمانوں کی تحریک آزادی کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔یہ پاکستان کا قومی ایشو ہے اور ہر پاکستانی کی خواہش ہے کہ کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت دیا جائے۔

  • آن لائن کمیٹیاں، فراڈ کرنیوالی باجی کا نام سٹاپ لسٹ میں شامل

    آن لائن کمیٹیاں، فراڈ کرنیوالی باجی کا نام سٹاپ لسٹ میں شامل

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق آن لائن کمیٹی کے ذریعے 42 کروڑ کا فراڈ کرنے والی خاتون کا نام سٹاپ لسٹ میں ڈال دیا گیا ہے

    میڈیا رپورٹس کے مطابق ایف آئی اے کی جانب سے 42 کروڑ کے آن لائن فراڈ کی تحقیقات جاری ہیں، اس ضمن میں ایف آئی اے نے کاروایئ کرتے ہوئے 34 سالہ خاتون کا نام سٹاپ لسٹ میں شامل کروا دیا ہے، باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق خاتون نے آن لائن کمیٹی کا کام شروع کیا جو بڑھتا گیا اور خواتین سمیت دیگر لوگ بھی اس کے پاس کمیٹیوں میں پیسے شامل کرنے لگے، ہر ممبر کو باقاعدہ ادائیگی ہوتی رہی اور ساتھ ساتھ ممبران کی تعداد بھی بڑھتی چلی گئی، تا ہم بعد میں بڑی کمیٹی کا سلسلہ شروع ہوا

    کمیٹیوں کی رقم 42 کروڑ ہوئی تو خاتون نے ممبران کو رقم دینے سے انکار کر دیا ، جس کے بعد متاثرین نے ایف آئی اے میں درخواستیں دیں، ایف آئی اے کاروائی کر رہا ہے،ایف آئی اے سائبر کرائم کراچی نے سدرہ خلیل کا نام سٹاپ لسٹ میں ڈالنے کے لئے 15 دسمبر 2022 کو مراسلہ ارسال کیا تھا

    عمران خان نے کل اداروں کے خلاف زہر اگلا ہے،وزیراعظم

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

    چکوال کے علاقہ چوکی بشارت کی حدود میں انسانیت سوز  واقع پیش آیا جس نے انسانیت کو شرما کر رکھ دیا۔

    50 ہزار میں بچہ فروخت کرنے والی ماں گرفتار

    ایم بی اے کی طالبہ کو ہراساں کرنا ساتھی طالب علم کو مہنگا پڑ گیا

    سدرہ حمید نامی یہ خاتون سوشل میڈیا پر کافی مقبول تھی اور کئی کاروبار بھی چلا رہی تھی وہ گھر کا بنا کھانا آن لائن فروخت کرتی تھی سدرہ حمید نے دستکاری سٹارٹ اپ بھی شروع کر رکھا تھا اس نے سوشل میڈیا کے ذریعے ہی کمیٹیاں ڈالنی شروع کیں سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی کمیٹیوں کی ایسی تشہیر کی کہ سینکڑوں لوگ اس کے پاس کمیٹی ڈالنے لگے سدرہ حمید نے اپنے سوشل میڈیا اکاﺅنٹس کے ذریعے ہی بتایا کہ وہ دیوالیہ ہو چکی ہے اور اب وہ لوگوں کے کمیٹی کے پیسے واپس نہیں کر سکتی،سدرہ نے لکھا کہ میرے پاس کوئی ایسے وسائل نہیں ہیں، جن کے ذریعے میں لوگوں کے پیسے واپس کر سکوں۔“

    سدرہ نے سینکڑوں لوگوں سے کمیٹی کے نام پر پیسے لے رکھے تھے جن کی مجموعی مالیت مبینہ طور پر 42 کروڑ روپے بنتی ہے کمیٹی والی باجی کے اس اعلان کے بعد سینکڑوں متاثرین کی طرف سے اسے سنگین نوعیت کی دھمکیاں ملنی شروع ہو گئی ہیں جس پر اس نے عدالت سے رجوع کر لیا ہے،خاتون نے درخواست میں موقف اپنایا کہ جمع کی گئی رقم کی واپسی کا بندوبست کررہی ہوںسوشل میڈیا کے ذریعے رقم کی واپسی کا اعلان کیا ہے مجھے دھمکی آمیز فون کال موصول ہورہی ہیں میری جان کو خطرہ ہے، حفاظت کے پیش نظر ہمیں دوسری جگہ منتقل ہونا پڑا