Baaghi TV

Tag: raveena tnadon

  • مجھے فلموں سے نکلوایا گیا تبو اور کرشمہ کو کاسٹ کروایا جاتا رہا روینہ  ٹنڈن کا انکشاف

    مجھے فلموں سے نکلوایا گیا تبو اور کرشمہ کو کاسٹ کروایا جاتا رہا روینہ ٹنڈن کا انکشاف

    بالی وڈ کی مست مست گرل کا ٹائٹل پانے والی اداکارہ روینہ ٹنڈن اب نوے کی دہائی کے وہ انکشافات کرنے لگی ہیں جو انہوں نے پہلے کبھی نہیں کئے، انہوں نے نوے کی دہائی میں بالی وڈ میں کیا رجحان تھا اس حوالے سے اپنے حالیہ انٹرویو میں کھل کر بات کی . انہوں نے کہا کہ نوے کی دہائی میں سیاست کی انتہا یہ تھی کہ میرے خلاف پراپگینڈا کیا جاتا تھا اور مجھے فلموں سے نکلوایا جاتا تھا، میرا کیرئیر بہت اچھا چل رہا تھا لیکن میں بہت زیادہ سیاست کا شکار رہی . مجھے بہت اچھی اچھی فلمیں آفر ہوئیں لیکن ان سے مجھے بعد ازاں نکال بھی دیا گیا، اور اہم بات یہ ہے کہ ان فلموں میں کرشمہ کپور اور تبو کو کاسٹ کیا جاتا رہا.

    انہوں نے مزید کہا کہ ”میں کسی گروپ کا حصہ نہیں تھی شاید اس لئے بھی مجھے بہت زیادہ تنگ کیا جاتا تھا ”، میں اپنے کام پر فوکس کئے ہوتی تھی . انہوں نے کہا کہ میں ہمیشہ ایک اچھے اور صحت مند مقابلے کو ترجیح دیتی تھی لیکن میری ٹانگیں کھینچنے والے چاہتے ہی نہیں تھے کہ میں انڈسٹری میں‌کام کروں لیکن میں نے سب کا جم کر مقابلہ کیااس سارے سفر میں میرے ساتھ میرے مداحوں کا پیار رہا جس نے مجھے ڈٹ کر کام اور مقابلہ کرنے کا حوصلہ دیا.

    راکھی کی وجہ سے میری شادی نہیں ہوئی تنوشری دتہ کا دعوی

    میں نے 2018 میں ووٹ کاسٹ کیا تھا اب نہیں کروں گا کامران جیلانی

    شاہد کپور نے کس فلم میں‌کام کرنے کا معاوضہ نہیں لیا؟‌

  • 90 کی دہائی میں زرد صحافت عروج پرتھی روینہ ٹنڈن

    90 کی دہائی میں زرد صحافت عروج پرتھی روینہ ٹنڈن

    بالی وڈ کی معروف اداکارہ روینہ ٹنڈن نے لہریں کے ساتھ اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ نوے دہائی میں جو میڈیا تھا ان میں کچھ ایسی خواتین صحافی تھیں جو نہایت ہی بدتمیز تھیں ان کے فلم انڈسٹری میں اپنے کیمپس تھے وہ مجھے بے جا تنقید کا نشانہ بناتی تھیں ، میرے اور میری جسامت کے بارے میں گھٹیا الفاظ لکھتی تھیں۔ یہ خواتین جب حقوق نسواں پر بات کرتی ہیں تو مجھے بہت عجیب لگتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوے کی دہائی کا دور صحافت کے حوالے سے انتہائی خوفناک دور تھا کیونکہ زردصحافت عروج پر تھی۔ اداکارہ نے مزید کہا "اس دور کے زیادہ تر صحافیوں کے پاس کوئی اخلاق، کوئی شکوہ اور کوئی صداقت نہیں تھی۔ خوش قسمتی سے، آج آپ کے پاس سوشل میڈیا ہے جہاں آپ اپنے مداحوں کے سامنے اپنا کیس فوراً رکھ سکتے ہیں۔ آج آپ کا بیان اہمیت رکھتا ہے،”

    ”انہوں نے کہا نوے کی دہائی میں ہم رسائل کے ایڈیٹرز کے رحم و کرم پر ہوتے تھے جن کے اپنے اپنے کیمپس تھے جو ان کے قریب ہوتا تھا ان کے بارے میں اچھی بات لکھ دی جاتی تھی جو نہیں قریب ہوتا تھا اسکے بارے گھٹیا باتیں لکھی جاتی تھیں”۔لیکن آج زرا بہتر ماحول ہے کیونکہ ہر انسان کے پاس اپنا کیس لڑنے کےلئے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز موجود ہیں۔

    عالیہ بھٹ ، نیتو اور ردھیما کپور نے رنبیر کو سالگرہ کی مبارکباد دی

    رنبیر کپور 41 برس کے ہو گئے

    کترینہ کیف کے بالی وڈ میں 20 سال مکمل