Baaghi TV

Tag: saday 14 aug

  • ڈرامہ انڈسٹری میں جگہ بنانا آسان نہیں ہے جناح کا کردار کرنے والے حمزہ طارق جمیل

    ڈرامہ انڈسٹری میں جگہ بنانا آسان نہیں ہے جناح کا کردار کرنے والے حمزہ طارق جمیل

    انور مقصود جو کہ کسی تعارف کا محتاج نہیں ہیں انہوں نے جب جب بھی لکھا اسے بہت زیادہ سراہا گیا. انور مقصود کے قلم سے نکلنے والی تحریر نے ہمیشہ لوگوں کے زہنوں میں سوال چھوڑے کہ آخر ایسا کیوں ہوتا ہے اور ویسا کیوں‌ہوتا ہے. ساڑھے 14 اگست میں‌محمد علی جناح کا کردار کرنے والے حمزہ طارق سہیل کا کہنا ہے کہ میں نے بہت سال تک تھیٹر کیا اور خوب نام کمایا ، ٹی وی ڈراموں میں بھی کام کیا حبس میں ، میرا کردار کافی اہم تھا. لیکن ڈراموں میں کام ھاصل کرنے کے لئے ایک بہت لمبی لائن میں‌لگنا پڑتا ہے لہذا میں‌نے سوچ لیا ہے کہ جب کام ملا کرے گا

    کر لیا کروں گا ورنہ سٹیج پلیز پر تو توجہ ہے ہی . انہوں نے کہا کہ قائد اعظم محمد علی جناح کا کردار کرنا آسان نہیں ہے لیکن میں نے اسکو چیلنج سمجھ کر قبول کیا ہے . مجھے بہت خوشی ہے کہ مجھ سے سینئرز نے بھی میرے کام کیا تعریف کی اور تعریف وہی ہے جو آپ سے سیئنرز کھڑے ہو کر آپ کے منہ پہ کرے. واضح رہے کہ ساڑھے 14 اگست ، 14 اگست کی سیریز کا آخری سٹیج پلے ہے. اس کے بعد اس سیریز کا کوئی بھی ڈرامہ نہیں آئے گا.

  • لاہور میں پہلی بار سٹیج پلے کرنے آیا ہوں ساجد حسن

    لاہور میں پہلی بار سٹیج پلے کرنے آیا ہوں ساجد حسن

    سینئر اداکار ساجد حسن جوکہ آج کل لاہور میں ہیں اور لاہور میں ہیں انور مقصود کے سٹیج پلے ساڑھے 14 اگست کے لئے . اس ڈرامے میں انہوں نے ایک اہم کردار ادا کیا ہے. اداکار ساجد حسن نے اس موقع پر انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ میں لاہور میں‌پہلی بار کوئی سٹیج پلے کرنے کے لئے آیا ہوں اس سے پہلے میں نے کبھی بھی لاہور میں اس طرح سے پرفارم نہیں کیا. ساجد حسن کے کہا کہ لاہور کے لوگ ہمیشہ ہی بہت زیادہ پیار دیتے ہیں ، میں یہاں آیا ہوں اور بہت زیادہ پرجوش ہوں ، یہاں نوجوانوں کا جوش و جذبہ دیکھ کر کافی دل خوش ہوا ہے. انہوں نے مزید کہا کہ انور مقصود کے ساتھ میرا بہت پرانا تعلق ہے ہم نے ایک ساتھ بہت زیادہ کام کیا ہے. اور جب بھی کام کیا ہے وہ

    یادگار ہی رہا ہے. میں ساڑھے 14 اگست کے لئے بہت زیادہ پرجوش ہوں. ساجد حسن نے مزید کہا کہ انور مقصود اس ملک کا اثاثہ ہیں ، انہوں نے جب اورجو بھی لکھا اس نے دیکھنے پڑھنے اور سننے والوں کو سوچنے پر مجبور کر دیا . میں یہاں اپنی اہلیہ کے ساتھ آیا ہوں امید ہے کہ یہاں‌ سٹیج پر کام کرنے کا تےتجربہ بہت اچھا رہے گا .

  • سجاد علی نے اپنی اہلیہ اور بیٹی کے ساتھ انور مقصود کا سٹیج پلے دیکھا

    سجاد علی نے اپنی اہلیہ اور بیٹی کے ساتھ انور مقصود کا سٹیج پلے دیکھا

    معروف گلوکار سجاد علی کو الحمراء میں دیکھ کر لوگ حیران رہ گئے جب وہ وہاں انور مقصود کا سٹیج ڈرامہ دیکھنے کے لئے پائے گئے. سجاد علی کے ساتھ ان کی اہلیہ اور بیٹی بھی تھیں. اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سجاد علی نے کہا کہ میں‌اپنی زندگی میں پہلی بار کسی سٹیج پلے کو دیکھنے کےلئے آیا ہوں. چونکہ میرا انور مقصود کے ساتھ بہت اچھا تعلق ہے اور ان کے کام کا میں کیا ساری دنیا دیوانی ہے وہ جب بھی کچھ لکھتے ہیں وہ سبق آموز ہوتا ہے اسلئے آج میں خاص کر یہ ڈرامہ دیکھنے کے لئے آیا ہوں. سجاد علی نے کہا کہ انور مقصود نے جب مجھے کہا کہ آپ یہ ڈرامہ دیکھنے آئیں تو مجھے لگا

    کہ یقینا اس میں کچھ الگ ہی بات ہو گی ، میں نے سٹیج ڈرامہ دیکھا ہے بہت اچھا ہے جس طرح سے ڈرامے کو سٹیج کیا گیا ہے وہ قابل ستائش ہے ، ڈرامے کے تمام کرداروں نے بہت محنت کی ہے. سجاد علی نے کہا کہ سبق آموز سٹیج پلیز نوجوان نسل کو دکھائے جانا وقت کی اہم ضرورت ہے . میں نے کبھی سٹیج پلے دیکھا نہیں تھا لیکن آج دیکھا ہے تو بہت مزا آیا ہے. ڈرامہ دیکھتے ہوئے بہت بار ایسا ہوا کہ زہن اُن وقتوں میں چلا گیا جب تقسیم ہند ہو رہی تھی .

  • انور مقصود کا ساڑھے 14 اگست کا لاہور میں میڈیا شو

    انور مقصود کا ساڑھے 14 اگست کا لاہور میں میڈیا شو

    معروف رائٹر انور مقصود کا سٹیج پلے ساڑھے 14 اگست کا لاہور میں گزشتہ شب میڈیا شو کیا گیا.اس میں سجاد علی ، تجزیہ نگار امتیاز عالم ، ساجد حسن اور انکی اہلیہ، ڈاکٹر یونس ملک و دیگر نے شرکت کی ، ڈرامے کو دیکھنے کےلئے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد آئی. ساڑھے 14 اگست میں گاندھی اور محمد علی جناح کے آپسی مکالموں اور اُس وقت کے دور کو دکھایا گیا جب تقسیم ہو رہی تھی. ڈرامے کے ڈائیلاگز کمال مہارت کے ساتھ لکھے گئے ہیں ، ہر مکالمہ سننے والوں کے لئے ایک سبق ہے. ڈرامے میں جناح اور گاندھی کے خوبصورت مکالموں کو سن کو تقسیم ہند کے وقت کی یاد بخوبی آتی ہے اور آنکھوں کے سامنے وہ منظر دوڑ جاتا ہے اور محسوس ہوتا ہے کہ شاید ہم

    اسی دور میں بیٹھے ہوئے ہیں جب یہ سب ہو رہا تھا. ڈرامے میں جناح اور گاندھی کا کردار نوجوان لڑکوں نے ادا کیا ہے. ساڑھے 14 اگست لاہور سے پہلے کراچی اور اسلام آباد میں پیش کیا گیا جہاں یہ ڈرامہ کئی ماہ تک چلا . لاہور میں یہ ڈرامہ تین سے چار ہفتے تک جاری رہے گا. بہت عرصے کے بعد کسی سٹیج پلے کو شائقین کی ایک بڑی تعداد دیکھنے کےلئے الحمراء کا رخ کررہی ہے.