Baaghi TV

Tag: salman khan

  • وقت بدلہ تو ڈرامے کے انداز بھی بدلے جو کہ غلط نہیں منور سعید

    وقت بدلہ تو ڈرامے کے انداز بھی بدلے جو کہ غلط نہیں منور سعید

    سینئر اداکار منور سعید جو کافی عرصےکے بعد لاہور میں منعقد ہونے والے پاکستان لٹریچر فیسٹیول میں شریک ہوئے انہوں نے اس موقع پر کہا کہ آج کل جو ڈرامے بن رہے ہیں وہ اچھے ہیں اور آج کے دور کے مطابق ہیں. پی ٹی وی کا دور گزر گیا ہے اور جو گزر چکا ہو اسکا حال سے مقابلہ نہیں‌ کیا جا سکتا. انہوں نے کہا کہ میں آج کل ایک ڈرامے کی شوٹنگ کررہا ہوں اب میں اپنے مداحوں کو نظر آیا کروں گا. انہوں نے کہا کہ آج بہت زیادہ چینلز ہیں اور سال میں بہت بڑی تعداد میں ڈرامہ بنتا ہے. لہذا کام زرا تیز ہو گیا ہے. پہلے تو ریہرسلز ہوتی تھیں اور کئی کئی دن تک چلتی

    تھیں پھر جا کر کہیں شوٹنگ ہوتی تھی. اب ریہرسلز کا تصور ختم ہو گیا ہے. پہلے ایک چینل ہوتا تھا رات کو آٹھ سے نو بجے تک ڈرامہ لگتا تھا لہذا بہت زیادہ ڈرامہ کوئی بنتا نہیں تھا. کسی آرٹسٹ کا کسی ڈرامے میں ایک بھی سین آجاتا تو اسکے لئے بہت غنیمت ہوتی تھی. منور سعید نے کہا کہ لیکن میں یہ ضرور کہتا ہوں کہ ڈرامہ بنانا جن کا کام ہے وہی بنائیں. اور کہانیوں میں یکسانیت نہیں‌ہونی چاہیے. مجھے اچھے کردار ملتے رہے تو میں ضرور کروں گا.

  • تین سال سے ڈرامہ کیوں نہیں کررہی صنم سعید نے وجہ بتا دی

    تین سال سے ڈرامہ کیوں نہیں کررہی صنم سعید نے وجہ بتا دی

    ٹی وی اور فلم کی معروف اداکارہ صنم سعید نے لاہور میں‌ ہونے والے پاکستان لٹریچر فیسٹیول میں کہا ہے کہ میں تین سال سے ڈرامے نہیں کررہی، ڈرامے نہ کرنے کی بڑی وجہ یہ ہےکہ جس طرح کی کہانیاں لکھی جا رہی ہیں ان میں مجھے بالکل بھی دلچپسی نہیں ہے. صنم سعید نے کہا کہ مجھے جب تک کہانی اور کردار پسند نہ آئے میں سائن نہیں کرتی. میرے پاس پچھلے تین سال میں بہت ساری کہانیاں آئیں لیکن مجھے پسند نہیں آئیں. ساری کہانیاں تھوڑے بہت فرق کے ساتھ تقریبا ایک جیسی تھی.صنم سعید نے کہا کہ میں نے ہمیشہ یہ سوچ کر کے کوئی بھی ڈرامہ سائن کیا کہ اس کے زریعے ہم سوسائٹی کو کیا پیغام دے رہے ہیں. میں اس نسل کی نمائندہ فنکارہ ہوں لیکن جیسی کہانیاں بن رہی ہیں میں ان کے حق میں

    نہیں ہوں. صنم نے کہا کہ فلموں میں بھی کام کیا اچھا تجربہ رہا لیکن یہ بات طے ہے کہ میرا جب دل کرتا ہے میں کام کرتی ہوں . انہوں نے کہا کہ چاہے تھوڑا کم کام کر لیں لیکن معیار کو ضرور مد نظر رکھیں. یاد رہے کہ صنم سعید فواد خان کے ساتھ ایک بار پھر نظر آرہی ہیں اور اس بار وہ ایک ویب سیریز میں نظر آئیں گی.

  • حسن أحمد عبد الرحمن محمد البنا الساعاتي :مصر کے ممتاز مذہبی رہنما

    حسن أحمد عبد الرحمن محمد البنا الساعاتي :مصر کے ممتاز مذہبی رہنما

    پیدائش:14 اکتوبر 1906ء
    قاہرہ
    وفات:12 فروری 1949ء
    قاہرہ
    وجۂ وفات:قتلِ ارادی
    طرز وفات:قتل
    شہریت:مصر
    مذہب:اسلام
    جماعت:اخوان المسلمون
    مادر علمی:جامعہ الازہر
    تلمیذ خاص:یوسف قرضاوی
    پیشہ:سیاست داں، الٰہیات داں، مصنف
    زبان:عربی
    مؤثر:جمال الدین افغانی
    بانی تحریک اخوان المسلمون
    مدت منصب
    1928 – 1949
    صدر:تحریک اخوان المسلمون

    حسن أحمد عبد الرحمن محمد البنا الساعاتي (14 اکتوبر 1906 – 12 فروری 1949) (1324ھ – 1368ھ) مصر کے ممتاز مذہبی رہنما اور عظیم اسلامی تحریک اخوان المسلمون کے بانی تھے۔ 1923 میں تصوف کے شاذلی طریقہ سے منسوب ہوئے اور شيخ عبد الوہاب حصافی کی خدمت میں تکمیل کی، اسی لیے حسن البنا کی شخصیت سازی میں شيخ عبد الوہاب حصافی کا بہت گہرے اثرات مرتب ہوئے۔ 1927 میں دار العلوم (مصر) سے فارغ ہوئے اور شہر اسماعیلیہ میں مدرس کی حیثیت سے تقرر ہوا۔ 1928 میں اخوان المسلمون کا قیام عمل میں آیا۔ 1949 میں حسن البنا ایک بھرپور تحریکی زندگی گذارنے کے بعد 43 سال کی عمر میں قاہرہ میں گولی مار کر شہید کر دیے گئے۔
    پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔
    وہ 1906ء میں مصر کی بستی محمودیہ کے ایک علم دوست اور دیندار گھرانے میں پیدا ہوئے۔
    تعلیم
    ۔۔۔۔۔
    انہوں نے بچپن میں ہی قرآن حفظ کر لیا اور ابتدائی تعلیم اپنے گھر پر ہی حاصل کی۔ سولہ سال کی عمر میں وہ قاہرہ کے دار العلوم میں داخل ہوئے جہاں سے انہوں نے 1927ء میں سند حاصل کی۔
    اخوان المسلمون کا قیام
    ۔۔۔۔۔۔۔
    دیہاتی علاقوں کی نسبت شہروں میں اخلاقی انحطاط زیادہ ہوتا ہے، قاہرہ کی بھی یہی صورت تھی۔ حسن البنا جب اپنے قصبہ سے قاہرہ پہنچے تو ان کی حساس طبیعت پر شہر کے غیر اسلامی رحجانات نے گہرا اثر کیا۔ انہوں نے دیکھا کہ مصر کو یورپ کا حصہ بنایا جا رہا ہے اور فرعون کے دور کی طرف پلٹنے کی دعوت دی جا رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی محسوس کیا کہ علما اگرچہ غیر اسلامی نظریات کے خلاف وعظ و نصیحت تو کرتے رہتے ہیں لیکن ان برائیوں کو ختم کرنے کے لیے کوئی تحریک موجود نہیں تو انہوں نے 1928ء میں شہر اسماعیلیہ میں، جہاں وہ تعلیمی سند حاصل کرنے کے بعد استاد مقرر ہو گئے تھے، اخوان المسلمون کے نام سے ایک تنظیم کی بنیاد ڈالی۔ 1933ء میں اخوان کا صدر دفتر اسماعیلیہ سے قاہرہ منتقل کر دیا گیا۔
    تحریکی زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    حسن البنا نے اعلان کیا کہ اسلام کا پیغام عالمگیر ہے اور یہ ایک مکمل نظام زندگی ہے۔ اخوان المسلمون کی تنظیم کے ذریعے انہوں نے اپنے اسی نصب العین کو عملی جامہ پہنانے کا کام شروع کر دیا۔ جلد ہی مصر کے طول و عرض میں اخوان المسلمون کی شاخیں قائم کردی گئیں۔ طلبہ اور مزدوروں کو منظم کیا گیا اور عورتوں کی تنظیم کے لیے "اخوات المسلمین” کے نام سے علاحدہ شعبہ قائم کیا گیا۔ اخوان نے مدرسے بھی قائم کیے اور رفاہ عامہ کے کاموں میں بھی حصہ لیا۔ انہوں نے ایک ایسا نظام تربیت قائم کیا جس کے تحت اخوان کے کارکن بہترین قسم کے مسلمان بن سکیں۔
    مطالبہ نفاذِ قوانین اسلامی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    حسن البنا نے اسلامی حکومت کے قیام اور اسلامی قوانین کے نفاذ کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ 50 سال سے مصر میں غیر اسلامی آئین آزمائے جا رہے ہیں اور وہ سخت ناکام ہوئے ہیں لہٰذا اب اسلامی شریعت کا تجربہ کیا جانا چاہیے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مصر کے موجودہ دستور اور قانون کے ماخذ کتاب و سنت نہیں بلکہ یورپ کے ممالک کے دستور اور قوانین ہیں جو اسلام سے متصادم ہیں۔ حسن البنا نے مصریوں میں جہاد کی روح بھی پھونکی اور اس موضوع پر ایک مستقل رسالہ لکھا اور بتایا کہ مصر ہی کے ایک عالم امام بدر الدین عینی شارح بخاری ایک سال جہاد کرتے تھے اور ایک سال تعلیم و تدریس میں مصروف رہتے تھے اور ایک سال حج کرتے تھے۔
    اخوان اور ذرائع ابلاغ
    ۔۔۔۔۔۔۔
    اخوان نے اخبار اور رسالوں کی طرف بھی توجہ دی۔ 1935ء میں رشید رضا کے انتقال کے بعد حسن البنا نے ان کے رسالے "المنار” کی ادارت سنبھال۔ اخوان نے خود بھی ایک روزنامہ، ایک ہفت روزہ اور ایک ماہنامہ جاری کیا۔ روزنامہ اخوان المسلمون مصر کے صف اول کے اخبارات میں شمار ہوتا تھا۔ ان مطبوعات اور چھوٹے چھوٹے کتابوں کے ذریعے اخوان نے اپنے اغراض و مقاصد کی پر زور تبلیغ کی اور بتایا کہ اسلام کس طرح زندگی کے مختلف شعبہ جات میں دنیا کی رہنمائی کر سکتا ہے۔
    اخوان اور دور ابتلا
    ۔۔۔۔۔۔۔
    دوسری جنگ عظیم کے آغاز تک اخوان کی دعوت مشرق کے بیشتر عرب ممالک میں جڑ پکڑ چکی تھی لیکن اخوان کا سب سے مضبوط مرکز مصر ہی تھا۔ جنگ کے بعد اخوان نے عوامی پیمانے پر سیاسی مسائل میں حصہ لینا شروع کیا۔ انہوں نے 1948ء میں فلسطین سے برطانیہ کے انخلاء کے بعد جہاد فلسطین میں عملی حصہ لیا اور اخوان رضا کاروں نے سرکاری افواج کے مقابلے میں زیادہ شجاعت کا مظاہرہ کیا۔ اس کے علاوہ دوران جنگ انگریزوں نے آزادی مصر کا جو اعلان کیا تھا اسے اخوان نے فوری طور پر پورا کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس سے اخوان کی مقبولیت میں بے انتہا اضافہ ہوا اور دو سال کے اندر اندر اخوان کے ارکان کی تعداد پانچ لاکھ تک پہنچ گئی۔ ہمدردوں کی تعداد اس سے دو گنی تھی۔ اخوان کی روز بروز مقبولیت سے اگر ایک طرف شاہ فاروق اول کو خطرہ محسوس کرنے لگا تو دوسری طرف برطانیہ نے مصر پر دباؤ ڈالنا شروع کیا کہ اخوان پر پابندی لگائی جائے چنانچہ 9 دسمبر 1948ء کو مصری حکومت نے اخوان المسلمون کو خلاف قانون قرار دے دیا اور کئی ہزار اخوان کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا۔
    شہادت
    ۔۔۔۔۔۔۔
    تین ہفتے بعد وزیر اعظم نقراشی پاشا کو ایک نوجوان نے قتل کر دیا۔ حسن البنا کو آخر تک گرفتار نہیں کیا گیا اور 12 فروری 1949ء کی شب قاہرہ میں اس عظیم رہنما کو ایک سازش کے تحت رات کی تاریکی میں گولی مار کر شہید کر دیا گیا۔ شہادت کے وقت ان کی عمر صرف 43 سال تھی۔
    تصانیف
    ۔۔۔۔۔۔۔
    المراۃ المسلمۃ
    تحديد النسل
    مباحث في علوم الحديث
    السلام في الإسلام
    قضيتنا
    الرسائل
    رسالۃ المتھج
    رسالۃ الانتخابات
    مقاصد القرآن الکريم

  • پی ایس ایل سیزن 8 کا ترانہ بھی شائقین کو متاثر کرنے میں ناکام

    پی ایس ایل سیزن 8 کا ترانہ بھی شائقین کو متاثر کرنے میں ناکام

    پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے 8 ویں ایڈیشن کا آفیشل گانا جاری کردیا گیا ہے جسے سوشل میڈیا پر ملے جلے ردعمل کا سامنا ہے-

    باغی ٹی وی: پی ایس ایل کا گانا ’سب ستارے ہمارے‘ کو عبداللہ صدیقی نےپروڈیوس کیا ہے اور اس میں عاصم اظہر، شائےگل اور فارس شفیع نے آواز کا جادو جگایا ہے یہ گیت 3 منٹ 21 سیکنڈ پر مشتمل ہے۔ گانے میں قومی کرکٹرز نے بھی پرفارم کیا ہے۔


    پی ایس ایل کے اس ترانے کو بھی ہمیشہ کی طرح سوشل میڈیا پر ملے جلے ردعمل کا سامنا کرنا پڑا پی ایس ایل سیزن 8 کا گانا آتے ہی مداحوں نے اس بار بھی ناصرف علی ظفر بلکہ گلوکارہ نصیبو لال کو بھی یاد کیا یہاں تک کہ گروو میرا ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ کر رہا ہے-


    https://twitter.com/Raheelmanj467/status/1624641261616472064?s=20&t=YqR9AvEdO2qW8vK9u6hAXQ


    https://twitter.com/DaniyalSardar10/status/1624688760813154306?s=20&t=YqR9AvEdO2qW8vK9u6hAXQ
    واضح رہے کہ نصیبو لال نے آئمہ بیگ کے ہمراہ پی ایس ایل سیزن 6 کا گانا ‘گروو میرا’گایا تھا، جس کے آتے ہی لوگوں نے اسے سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا کئی لوگ جنہوں نے’گروو میرا’ پر تنقید کی تھی، وہ اب اس کی تعریف کر رہے ہیں،جبکہ کئی صارفین نے گلوکار علی ظفر کے پی ایس ایل کے شروع کے تین سیزن کے گانوں کو بہترین قرار دیا۔


    https://twitter.com/KhazranSays/status/1624462147190419456?s=20&t=YqR9AvEdO2qW8vK9u6hAXQ
    https://twitter.com/KhazranSays/status/1624461186392805379?s=20&t=YqR9AvEdO2qW8vK9u6hAXQ

  • معروف بلوچ لوک گلوکار محمد بشیر بلوچ انتقال کرگئے

    معروف بلوچ لوک گلوکار محمد بشیر بلوچ انتقال کرگئے

    کوئٹہ: معروف بلوچ لوک گلوکار محمد بشیر بلوچ انتقال کرگئے۔

    باغی ٹی وی : بلوچی سمیت مختلف زبانوں میں لوک گیت گانے والے صدارتی ایوارڈ یافتہ گلوکار محمد بشیر بلوچ گردوں کے عارضے میں مبتلا تھے۔

    بشری انصاری نے بی گل سے کیا کہا؟‌

    لوک گلوکار کے بیٹے محمد رضا نے والد کے انتقال کی تصدیق کی ہے محمد رضا کا کہنا ہےکہ والد کو آج دوپہر کلی دیبہ کے قریب اخوند بابا قبرستان میں سپرد خاک کیا جائےگا۔

    وزیرِ اعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو نے لوک گلوکار بشیر بلوچ کے انتقال پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

    اداکاری کرنا بہت مشکل کام ہے وسیم اکرم

    وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ بشیر بلوچ نے اپنی محنت و لگن سے بلوچی گلوکاری میں نمایاں مقام حاصل کیا، صدارتی ایوارڈ یافتہ گلوکار بشیر بلوچ دنیا بھر میں پاکستان کی پہچان تھے عبدالقدوس بزنجو نے مرحوم بشیر بلوچ کی مغفرت اور لواحقین کے لیے صبرِ جمیل کی دعا بھی کی ہے۔

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بھی معروف بلوچی گلوکار بشیر بلوچ کے انتقال پر اظہار افسوس کرتے ہوئے دعا کی ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔

    پاکستان لٹریچر فیسٹیول میں یوکرینی گلوکارہ کمالیہ، علی ظفر، وہاب بگٹی اور ایکما دی بینڈ کی شاندار…

  • کام  کے لئے میں نے لاہور نہیں چھوڑا نہ چھوڑوں گا کاشف نثار

    کام کے لئے میں نے لاہور نہیں چھوڑا نہ چھوڑوں گا کاشف نثار

    نوجوان نسل کے نمائندہ ڈائریکٹر کاشف نثار نے پاکستان لٹریچر فیسٹیول میں کہا ہے کہ میں نے لاہور نہیں چھوڑا نہ ہی میرا لاہور چھوڑنے کا ارادہ ہے اور کام کے لئے لاہور کو چھوڑ کر تو میں کبھی بھی کراچی نہیں گیا. ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں یہاں اپنے انداز سے کام کررہا ہوںا اور میں بہت مطمئن ہوں ٹھیک ہے جو لوگ کراچی میں بیٹھ کر کام کررہے ہیں وہ اس سے مطمئن ہیں میں یہاں کام کرکے مطمئن ہوں . انہوں نے کہا کہ بات کہیں رہنے یا نہ رہنے کی نہیں ہوتی بس کام اچھا ہونا چاہیے ہر کوئی ہر جگہ رہ کر اگر کام اچھا کررہا ہے تو اچھی بات ہے. جہاں

    تک آج اور کل کے ڈرامے کی بات ہے تو میں اس بحث میں نہیں پڑتا. یاد رہے کہ کاشف نثار نے بس رانجھا رانجھا کردی جیسے ڈرامے تخلیق کئے ہیں اور ایوارڈ بھی حاصل کر چکے ہیں. انہوں نے ابھی تک جتنا بھی کام کیا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے انکی ڈائریکشن کا انداز دوسروں سے یکسر مختلف ہے، کاشف نثار کی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ وہ اپنی شرائط پر کام کرتے ہیں. کاشف نثار نے باری سٹوڈیو میں اپنا ایک دفتر بھی کھول رکھا ہے اور زیادہ تر وہیں وقت گزارتے ہیں.

  • بشری انصاری نے بی گل سے کیا کہا؟‌

    بشری انصاری نے بی گل سے کیا کہا؟‌

    سینئر اداکارہ بشری انصاری جو کہ پاکستان لٹریچر فیسٹیول میں آج موجود تھیں انہوں نے وہاں کہا کہ میں ایک ہی طرح کے کردار کر کر کے تھک گئی ہوں ، میں کچھ مختلف کرنا چاہتی ہوں لیکن ایسا ممکن نظر نہیں آتا کیونکہ ایسا کچھ نیا اور روٹین سے ہٹ کر بن ہی نہیں رہا کہ میں سوچوں کہ ہاں میں کروں . میں ایک سال میں ایک ہی ڈرامہ مشکل سے اب کرتی ہوں وجہ یہی ہے کہ کرداروں میں‌یکسانیت ہے کہانیوں میں یکسانیت ہے. آرٹسٹ کے پاس کرنے کو کچھ نیا نہیں ہے. انہوں نے کہا کہ میں نے آج کی رائٹر بی گل سے کہا ہے کہ میرے لئے کچھ نیا لکھیں میں کچھ الگ

    اور نیا کرنا چاہتی ہوں میں تنگ آ گئی ہوں روٹین کی کہانیوں سے. انہوں نے کہا کہ ایک ڈرامے میں میں نے اپنی بہو کو تھپڑا مارا توجب میں اپنی بیٹی کے پاس کینڈا گئی تو اس نے کہا کہ امی آپ نے ڈرامے میں اپنی بہو کو تھپڑ مارا ، میں اپنی بیٹی کے اس سوال کی وجہ سے بہت شرمندہ ہوئی وہ الگ بات ہے کہ میں نے کہانی اور اپنے کردار کو جسٹیفائی کرنے کے لئے بہت دلیلیں دیں . بشری نے کہا کہ میرے کریڈٹ پر چند ایک کردار ایسے ہیں جن کو لوگ آج بھی پسند کرتے ہیں بس میں انہی کی ٹوکری سر پر اٹھا کر پھرتی ہوں.

  • پاکستان لٹریچر فیسٹیول میں یوکرینی گلوکارہ کمالیہ، علی ظفر، وہاب بگٹی اور ایکما دی بینڈ کی شاندار پرفارمنس

    پاکستان لٹریچر فیسٹیول میں یوکرینی گلوکارہ کمالیہ، علی ظفر، وہاب بگٹی اور ایکما دی بینڈ کی شاندار پرفارمنس

    آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام لاہور میں جاری تین روزہ پاکستان لٹریچر فیسٹیول 2023 کے دوسرے روز کے اختتام پر یوکرینی گلوکارہ کمالیہ، معروف گلوکار علی ظفر، وہاب بگٹی اور ایکما دی بینڈ کی پرفارمنس نے فیسٹیول کو چار چاند لگا دیے جبکہ اہلیان لاہور کی بڑی تعداد نے میوزیکل پروگرام میں شرکت کی، الحمرءآرٹس کونسل لاہور کا لان شہریوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا، یو کرینی گلوکار کے ”دل دل پاکستان“ اور علی ظفر کے ”الے“ اور لیلیٰ او لیلیٰ نے دھوم مچا دی، لاہور کے باسیوں نے پاکستان لٹریچر فیسٹیول میں میوزک کو بھرپور طریقے سے انجوائے کیا، ارمان رحیم، منیب، مصطفی بلوچ سمیت دیگر گلوکاروں نے بھی پرفارم کیا جس کو شہریوں نے بہت پسند کیا۔پاکستان لٹریچر

    فیسٹیول کا آج تیسرا اور آخری دن ہے آج بھی مختلف سیشنز اور میوزیکل پرفارمنسز ہوں گی. طالب علم اور نوجوانوں کی بڑی تعداد اس فیسٹیول میں شریک ہو رہے ہیں. اس فیسٹیول کے روح رواں احمد شاہ کا کہنا ہے کہ مجھے بہت خوشی ہے کہ پی ایل ایف کو اہلیان لاہور نے اس قدر عزت بخشی ہے. امید ہے یہ سلسلہ جاری رہے گا. احمد شاہ اس فیسٹیول کو مزید شہروں میں کرنے کا بھی ارادہ رکھتے ہیں .

  • اداکاری کرنا بہت مشکل کام ہے وسیم اکرم

    اداکاری کرنا بہت مشکل کام ہے وسیم اکرم

    معروف کرکٹر وسیم اکرم جن کی عید الفطر پر فلم منی بیگ گارنٹی ریلیز ہو رہی ہے انہوں نے حال ہی میں اس ھوالے سے انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ اداکاری بہت ہی مشکل کام ہے. میں پچھلے تیس پینتیس سال سے کمرشلز میں کام کررہا ہوں اس لئے مجھے کیمرے کے سامنے جانے کا اعتماد تو پہلے سے تھا لیکن اداکاری کے لئے کسی سے میں نے گائیڈ لائن نہیں لی بس جو ڈائریکٹر نے کہا وہ کیا. وسیم اکرم نے کہا کہ ایک پیراگراف کو یاد کرنا اور پھر اداکاری کرنا اتنا مشکل کام ہے یہ پہلے اندازہ نہیں تھا. فیصل قریشی کے ساتھ چونکہ میں پہلے بہت سارے کمرشلز

    کر چکا تھا اس لئے جب اس نے مجھے یہ کردار آفر کیا میں نے حامی بھر لی. انہوں نے یہ بھی کہا کہ میں شاید ہی دوبارہ کوئی فلم کروں گا لیکن اس فلم سے بہت سے نام جڑے ہیں ان کےکیرئیر کے لئے اس فلم کی کامیابی بہت ضروری ہے. وسیم اکرم نے کہا کہ میں نے دیکھا ہے کہ فلم میں تمام اداکاروں نے بہت اچھے سے کام کیا. میں نے 9 دن کی شوٹنگ کروائی . میرا کردار اس میں بہت اہم ہے میرے مداحوں کو میری اداکاری ضرور پسند آئیگی.یاد رہے کہ منی بیگ گارنٹی عید الفطر پر ریلیز ہونے جا رہی ہے اس فلم کے ساتھ کامران شاہد کی فلم ہوئے تم اجنبی بھی سینما گھروں کی زینت بنے گی .

  • ہیری مارٹنسن:سویڈش زبان کے معروف ادیب و شاعر

    ہیری مارٹنسن:سویڈش زبان کے معروف ادیب و شاعر

    پیدائش:06 مئی 1904
    جامشوگ، سویڈن
    وفات:11 فروری 1978ء
    اسٹاک ہوم، سویڈن
    اہم اعزازات:نوبل ادب انعام
    ۔ 1974ء
    ۔ (shared with آیونڈ جوہنسن)
    شریک حیات:Moa Martinson
    ۔ (1929-1940)
    ۔ Ingrid Lindcrantz

    ہیری مارٹنسن(1904 تا 1978 )سویڈش زبان کے معروف ادیب و شاعر تھے۔ ان کی ادبی خدمات کے اعتراف کے طور پر انھیں اورہم وطن آیونڈ جوہنسن کو 1974ء میں نوبل ادب انعام مشترکہ طور پر دیا گیا۔