Baaghi TV

Tag: salman khan

  • مالنی اوستھی:ہندوستانی لوک گلوکارہ

    مالنی اوستھی:ہندوستانی لوک گلوکارہ

    مالنی اوستھی (پیدائش: 11 فروری 1967) ایک ہندوستانی لوک گلوکارہ ہے۔ وہ ہندی اور متعلقہ زبانوں جیسے اودھی، بندیل کھنڈی اور بھوجپوری میں گاتی ہیں۔ وہ ٹھمری اور کجری میں بھی پیش کرتی ہیں۔ حکومت ہند نے انہیں 2016 میں پدم شری کے شہری اعزاز سے نوازا۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    Malini Awasthi (born 11 February 1967) is an Indian folk singer.
    She sings in Hindi and related languages such as Awadhi, Bundelkhandi and Bhojpuri.
    She also presents in Thumri and Kajri.
    The Government of India awarded her the civilian

  • امجد اسلام امجد کی وفات سے5 دن قبل روضۂ رسولﷺ پرحاضری،ویڈیووائرل

    امجد اسلام امجد کی وفات سے5 دن قبل روضۂ رسولﷺ پرحاضری،ویڈیووائرل

    لاہور:معروف شاعر، ادیب اور ڈرامہ نویس امجد اسلام امجد جمعے کے روز 78 سال کی عمر میں دل کا دورہ پڑنے کے سبب انتقال کرگئے تھے جس سے قبل انہوں نے روضۂ رسول ﷺ پر حاضری کی سعادت حاصل کی تھی۔

    امجد اسلام امجد نے وفات سے پانچ دن پہلے روضۂ رسول ﷺ پر حاضری کی سعادت حاصل کی تھی اور مسجد نبوی میں اپنا کلام بھی پیش کیا تھا۔مرحوم کی یادگار ویڈیو مدینہ منورہ کے سابق او پی ڈی منیجر ڈاکٹر خالد عباس نے اپنے فیس بک اکاؤنٹ سے شیئر کی جو اب سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے۔

    ڈاکٹر خالد نے ویڈیو کے کیپشن میں لکھا ‘آخری سفر سے پہلے مدینہ منورہ میں آخری بھرپور اور پرنم حاضری امجد اسلام امجد کی’۔انہوں نے مزید لکھا کہ ‘ریاض الجنہ میں ان کی حاضری میں حضوری کا گہرا رنگ تھا اور اپنی نظم لبیک مدینہ منورہ میں” میں حاضر ہوں میں حاضر ہوں” سناتے سناتے اپنے رب کے حضور ہمیشہ رہنے کے لیے چلے گئے، اے میرے رب مدینہ منورہ میں میرے آخری مہمان کی مغفرت فر ما’۔

    امجد اسلام امجد 4 اگست 1944 کو لاہور میں پیدا ہوئے، انھوں نے 1967 میں پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے (اردو) کیا، 1968 تا 1975 ایم اے او کالج لاہور کے شعبہ اردو میں استاد رہے اور اگست 1975 میں امجد اسلام امجد کو پنجاب آرٹ کونسل کا ڈپٹی ڈائریکٹر مقرر کیاگیا۔

     

    امجد اسلام امجد کو ستارہ امتیاز، صدارتی تمغہ حسن کارکردگی سمیت کئی ایوارڈ سے نوازاگیا ۔معروف شاعر، ادیب اور ڈرامہ نویس امجد اسلام امجد 78 سال کی عمر میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگئےتھے

     

    امجد اسلام امجد کےاہل خانہ نے ان کے انتقال کی تصدیق کردی ہے، اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ان کا انتقال دل کا دورہ پڑنے سے ہوا۔

    معروف شاعر ، دانشور اورڈرامہ نگار امجد اسلام امجد کو لاہور کے میانی صاحب قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا۔امجد اسلام امجد کی نماز جنازہ ڈیفنس فیز 1 کی جامع مسجد میں ادا کی گئی جس میں مرحوم کے عزیز و اقارب ، ادبی حلقوں کی شخصیات اور اہل علاقہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

    نمازجنازہ کے بعد امجد اسلام امجد کا جسد خاکی تدفین کیلئے میانی صاحب لایا گیا، تدفین کے وقت بھی امجد اسلام امجد کے چاہنے والے بڑی تعداد میں موجود تھے ۔واضح رہے کہ امجد اسلام امجد کو گزشتہ روز ہارٹ اٹیک ہوا تھا جو جاں لیو ثابت ہوا، ان کی عمر 78 برس تھی۔

  • سزائیں دیتی ہے مکر و فریب کی دنیا صداقتوں کا ہے اظہار اک خطا کی طرح:سیدہ فرحت کی بولتی شاعری

    سزائیں دیتی ہے مکر و فریب کی دنیا صداقتوں کا ہے اظہار اک خطا کی طرح:سیدہ فرحت کی بولتی شاعری

    سزائیں دیتی ہے مکر و فریب کی دنیا
    صداقتوں کا ہے اظہار اک خطا کی طرح

    سیدہ فرحت

    یوم وفات: 11؍فروری 2003

    اصل نام کرامت فاطمہ اور تخلص سیدہ فرحت تھا۔
    یکم؍اپریل 1938ء کو بھوپال مدھ پردیش میں پیدا ہوئیں۔ آٹھویں کلاس تک بھوپال میی سلطانیہ اسکول میں تعلیم پائی جہاں ان کے والد محکمہ پولیس کی ملازمت کے سلسلے میں مقیم تھے۔ ان کے انتقال کے بعد اپنے ماموں ڈاکٹر عابد حسین کے پاس جامعہ ملیہ اسلامیہ، دہلی آگئیں اور ان کی نگرانی میں گھر پر ہی تعلیم حاصل کی۔ بارہ سال کی عمر سے شاعری شروع کی، جعفر علی خاں اثر سے کلام پر کچھ عرصے تک اصلاح لی۔ ان کا کلام ماہنامہ ’’شاہراہ‘‘، ’’نئ روشنی‘‘، ’’آجکل‘‘ آور دیگر رسائل میں شائع یوتا رہا۔
    جب جامعہ ملیہ میں انجمن ترقی پسند مصنفین کی شاخ قائم ہوئ تو اس کی ممبر بنیں۔ شادی کے بعد علی گڑھ منتقل ہوگئیں۔ وہاں 1962ء میں خواتین کی ادبی انمجمن ’’بزم ادب‘‘ قائم کی جو آج بھی فعال ہے۔ فلاحی کاموں میں بھی سرگرم رہیں۔
    11؍فروری 2003ء کو علی گڑھ میں انتقال کر گئیں۔
    ان کے دو شعری مجموعے ’’بزم خیال‘‘ اور’’سازحیات‘‘ ہیں اور بچوں کے لئے نظموں کی کتاب ’’بچوں کی مسکان‘‘ہے۔ ان کی بیٹی نے سن 2016ء میں’’کلیات سیدہ فرحت‘‘ شائع کی۔

    بحوالہ ریختہ ڈاٹ کام

    سیدہ فرحتؔ صاحبہ کی شاعری سے انتخاب

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    بحر ہستی میں تلاطم کبھی ایسا تو نہ تھا
    خیر و شر کا یہ تصادم کبھی ایسا تو نہ تھا

    کھوجتا رہتا تھا انسان وہ گم گشتہ بہشت
    خود بناتا ہے جہنم کبھی ایسا تو نہ تھا

    بھیجے ہر دور میں جس نے کہ پیمبر اپنے
    وہ خدا ذہنوں سے گم ہے کبھی ایسا تو نہ تھا

    ساز دل جو کبھی نغمات طرب گاتا تھا
    اب ہے محروم ترنم کبھی ایسا تو نہ تھا

    علم کے گوہر نایاب جو دیتا تھا کبھی
    اب ہے خوناب وہ قلزم کبھی ایسا تو نہ تھا

    قتل انسان تو اب روز کا معمول ہوا
    دل سے مفقود ترحم کبھی ایسا تو نہ تھا

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    نہ فرش خاک پہ ٹھہریں گے نقش پا کی طرح
    رواں دواں ہیں فضاؤں میں ہم ہوا کی طرح

    پکار وقت کی نزدیک تھی مگر ہم نے
    سنا ہے دور سے آتی ہوئی صدا کی طرح

    سزائیں دیتی ہے مکر و فریب کی دنیا
    صداقتوں کا ہے اظہار اک خطا کی طرح

    خدا کرے تجھے احساس درد و غم نہ رہے
    دعائے خیر وہ دیتے ہیں بد دعا کی طرح

    نہ ہو سخن میں جو شان پیمبری ممکن
    خموش رہ کے بھی دیکھیں ذرا خدا کی طرح

    جھلک دکھائے کہیں تو امید کا سورج
    ہجوم یاس ہے امڈی ہوئی گھٹا کی طرح

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    سوز دل پاس وفا درد جگر ہے کہ نہیں
    جو تھا مسجود ملائک وہ بشر ہے کہ نہیں

    فرش گیتی سے سر عرش پہنچنے والے
    کوچۂ دل سے تری راہ گزر ہے کہ نہیں

    گرم بازار ہے ہر سمت ہوس خیزی کا
    جذبۂ عشق کا بھی دل پہ اثر ہے کہ نہیں

    جس میں ہو جلوہ فگن کون و مکاں کی وسعت
    اہل دانش میں وہ انداز نظر ہے کہ نہیں

  • خیبرپختونخوا:سیاحتی مقامات پر برفباری دیکھنےکے لیے8لاکھ سےزائد سیاحوں کی آمد

    خیبرپختونخوا:سیاحتی مقامات پر برفباری دیکھنےکے لیے8لاکھ سےزائد سیاحوں کی آمد

    پشاور: رواں سال موسم سرما کی برفباری دیکھنے کیلیے 8 لاکھ سے زائد ملکی اور غیر ملکی سیاحوں نے خیبرپختونخوا کے سیاحتی مقامات کا رخ کیا۔برف پوش پہاڑ دیکھنے کے لیے خیبرپختونخوا کے سیاحتی مقامات پہنچے، سب سے زیادہ 5 لاکھ سیاح مالم جبہ پہنچے، ملکی اور غیر ملکی سیاح خیبرپختونخوا کے برف پوش پہاڑوں کے اسیر بن گئے۔

    ایک ماہ کے دوران 8 لاکھ سے زائد ملکی اور غیر ملکی سیاحوں نے خیبرپختونخوا کے بالائی سیاحتی مقامات کا رخ کیا۔ محکمہ سیاحت کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ پانچ لاکھ 52 ہزار 785 سیاحوں نے مالم جبہ کا رخ کیا جس میں 17 غیر ملکی سیاح بھی شامل ہیں جبکہ2لاکھ33ہزار666 سیاحوں نے گلیات کا رخ کیا۔رپورٹ کے مطابق کاغان ناران میں 79ہزار548 سیاح برفباری کے مزے لینے پہنچے، دور دراز مقام اپر و لوئر چترال میں 23ہزار711 ملکی اور 31غیر ملکی سیاحوں نے سیر کی، 1ہزار سے زائد ملکی اور غیر ملکی سیاحوں نے اپر دیر کا رخ کیا۔

    خیبرپختونخوا کے محکمہ سیاحت اتھارٹی کے ترجمان محمد سعد کا کہنا ہے کہ سیاحوں کی سہولت کیلئے ٹورازم پولیس اور عملہ تمام سیاحتی مقامات پر تعینات ہے، جہاں مستعد اہلکار سیاحوں کی مشکلات کے ازالے کے لیے خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ سیاحوں کو آرام دہ سفر کے لیے سڑکوں پر بروقت برف ہٹائی گئیں اور اب بھی مقامی انتظامیہ کے ساتھ ملکر سیاحوں کو بہتر سہولیات دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔

    واضح رہے کہ رواں سال سیلاب کے بعد مالاکنڈ ڈویژن کی وادی سوات میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی تھی، جس کے بعد حکومت، انتظامیہ اور پاک فوج نے سیاحت کو بحال کرنے کے لیے مواصلاتی اور رہائشی نظام کو ہنگامی بنیادوں پر بحال کیا۔

  • لاہور:تین روزہ پاکستان لٹریچر فیسٹیول کا رنگارنگ آغاز

    لاہور:تین روزہ پاکستان لٹریچر فیسٹیول کا رنگارنگ آغاز

    لاہور: آرٹس کونسل کراچی کے زیر اہتمام تین روزہ پاکستان لٹریچر فیسٹیول کا آغاز جمعہ کی دوپہر الحمرا آرٹس کونسل لاہور میں ہو گیا جو اتوار کی رات تک جاری رہے گا۔ سندھ کے صوبائی وزیر تعلیم و ثقافت سید سردار شاہ نے فیسٹیول کا افتتاح کیاجبکہ انور مقصود، افتخار عارف، حامد میر، نیئرعلی دادا، کامران لاشاری، جسٹس (ر) ناصرہ اقبال، کشور ناہید، ظفر مسعود، میاں فقیر اعجاز الدین، فتح محمد ملک، پیرزادہ قاسم رضا صدیقی رضی احمد و دیگر بھی افتتاحی تقریب میں موجود تھے۔

    الحمراء کے ہال نمبر 1 میں جگہ نہ ہونے کے باعث ہزاروں افراد نے باہر اسکرین پر افتتاحی تقریب میں شرکت کی جبکہ تقریب سے قبل لاہور شہر کی بڑی سڑکوں اور چوراہوں پر بینرز اور پوسٹر آویزاں کیے گئے، الحمراء آرٹس کونسل کو جھنڈیوں، پوسٹروں اور بینرز سے سجایا گیا اور کتابوں کے اسٹال بھی لگائے گے۔فیسٹیول کے لیے پہلے روز تقریباً دس ہزار افراد نے الحمراء کا دورہ کیا جن میں اکثریت نوجوانوں کی تھی جنہوں نے انور مقصود اور حامد میر اور احمد شاہ کا پرجوش استقبال کیا۔

    اجلاس سے قبل امجد اسلام امجد کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی جنہوں نے اس فیسٹیول میں شامل ہونا تھا لیکن آج صبح اچانک ان کا انتقال ہوگیا، امجد اسلام امجد کی خالی کرسی پر ان کی تصویر رکھی گئی۔ آرٹس کونسل کراچی کے ڈائریکٹر ایڈمن شکیل خان نے امجد اسلام امجد کے لیے دعائے مغفرت کی جبکہ افتخار عارف اور کشور ناہید نے امجد اسلام امجد کی خدمات پر اظہارِ خیال کیا۔

    سندھ کے صوبائی وزیر تعلیم و ثقافت سید سردار علی شاہ نے کہا کہ ہم بہت کچھ کھو چکے اب ہمارے پاس کھونے کو کچھ نہیں رہا، سچل سرمست، لعل شہباز قلندر اور بھلے شاہ کی شاعری میں جو پیغام ہے اس کو عام کرنے کی ضرورت ہے، پنجاب حکومت ایسے لوگوں کی سرپرستی کرے جو صوفیائے کرام کے امن کے پیغام کو عام کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

    صدر آرٹس کونسل کراچی محمد احمد شاہ نے خطبہ استقبالہ میں کہا کہ جس قوم کی ثقافت مر جاتی ہے وہ قوم زندہ نہیں رہ سکتی، ہمارے معاشرے میں بہت نفرتیں اور لڑائیاں ہیں، ہمیں ان نفرتوں کو ادب اور ثقافت کو ترقی دے کر ختم کرنا ہے اور ہم تمام اکائیوں میں بھائی چارہ، امن اور دوستی کا پیغام لے کر لاہور آئے ہیں تاکہ پاکستان کے نوجوانوں کو ادب اور ثقافت کے ساتھ جوڑیں۔انہوں نے کہا کہ لاہور،ملتان اور سندھ ایک ہی انڈس تہذیب کا حصہ ہیں تاہم لاہور قدیم ثقافتی شہر ہے جس کی اپنی تاریخی و تہذیب ہے، لاہور کے دوستوں کا اصرار تھا کہ عالمی اردو کانفرنس کی طرز پر لاہور میں بھی ایک کانفرنس منعقد کی جائے، ہم نے پاکستان لٹریچر فیسٹیول متعارف کرایا جس کو ہم پورے پاکستان کی اکائیوں میں لے کر جارہے ہیں۔اس موقع پر معروف دانشور انور مقصود، حامد میر، فقیر اعجاز الدین اور ذوالفقار زلفی نے بھی اظہارِ خیال کیا۔

  • امجد اسلام امجد اچھے دوست تھے مبشر لقمان

    امجد اسلام امجد اچھے دوست تھے مبشر لقمان

    شاعر، ڈرامہ نگار اور نقاد امجد اسلام امجد آج لاہور میں انتقال کر گئے ہیں، ان کے انتقال پر گہرے رنج اور دکھ کا اظہار کیا جا ر ہا ہے. معروف صحافی مبشر لقمان نے امجد اسلام امجد کے انتقال پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امجد میرے بہت اچھے دوست تھے وہ ایک زندہ دل آدمی تھے ، ہمیشہ چہرے پر مسکراہٹ سجائے رکھتے اور ملتے تو بہت ہی پرجوش انداز میں ملتے. انہوں نے کہا کہ ویسے تو ان کے ساتھ بہت زیادہ ملاقاتیں رہیں لیکن آخری بار وہ ہمارے گھر اس وقت آئے جب وہ بیرون ملک سے کسی دورے سے وطن واپس آئے تھے ، میں ان کی آمد پر کافی خوش تھا ان کی محفل میں کیسے وقت گزرتا تھا نہیں پتہ چلتا تھا. ان کے ساتھ آخری ملاقات میں ہمارے بہت سارے دوست تھے. مجھے ان کے

    انتقال کا دھچکا لگا ہے. مبشر لقمان نے کہا کہ ادب کے لئے ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رہے گا. مبشر لقمان نے کہا کہ امجد اسلام نے اپنے قلم سے لوگوں کے دلوں پر راج کیا. ان کا لکھا ہوا آنے والی نسلوں کے لئے مشعل راہ رہے گا. واضح رہے کہ امجد اسلام امجد لاہور میں آج سے شروع ہونے والے پاکستان لٹریچر فیسٹیول کے دوسرے روز شرکت کرنے والے تھے. ان کے اس فیسٹیول میں مختلف سیشنز رکھے گئے تھے.

  • امجد اسلام امجد انتقال کر گئے

    امجد اسلام امجد انتقال کر گئے

    معروف شاعر ، ڈرامہ نگار، کالمسٹ امجد اسلام امجد انتقال کر گئے ہیں.امجد اسلام امجد کا شمار اردو کے بہترین اساتذہ میں ہوتا ہے ۔ امجد اسلام امجد اور عطا الحق قاسمی دونوں ہی ایم اے او کالج میں اردو پڑھاتے رہے ہیں۔ان کی خدمات کے عوض انہیں ایوارڈز سے بھی نوازا گیا. 80 کی دہائی میں انہیں حکومت پاکستان کی طرف سے تمغہ حسن کارکردگی سے نوازا گیا۔امجد اسلام امجد نے پنجاب یونیورسٹی سے فرسٹ ڈویژن میں ایم اے (اردو) کیا۔ ایم او کالج میں درس و تدریس کے شعبہ سے بھی منسلک رہے. 70 کی دہائی میں پنجاب آرٹ کونسل کے ڈپٹی ڈائریکٹر مقرر ہوئے۔نوے کی دہائی میں وہ دوبارہ ایم اے او کالج میں ہی شعبہ درس و تدریس سے منسلک ہو گئے۔ یہاں سے ان کی تعیناتی بطور ڈائریکٹر چلڈرن کمپلکس ہوئی اور وہیں سے انہوں نے ریٹائرمنٹ لی۔ امجد اسلام امجد ڈرامہ نگاری کی طرف بھی آئے اور یہاں بھی اپنے قلم کا لوہا منوایا. 1975ء

    میں ٹی وی ڈراما (خواب جاگتے ہیں ) پر گریجویٹ ایوارڈ ملا۔ انہوں نے بہت سارے ڈرامے لکھے ان کے معروف ڈراموں میں وارث، دن، فشار قابل زکر ہیں ہیں۔ انکے شعری مجموعہ برزخ اور جدید عربی نظموں کے تراجم عکس کے نام سے شائع ہوچکے ہیں جبکہ افریقی شعرا کی نظموں کا ترجمہ کالے لوگوں کی روشن نظمیں کے نام سے لاہور سے شائع ہوچکا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے تنقیدی مضامین کی ایک کتاب (تاثرات) بھی لکھی . ان کے شعری مجموعوں میں .بارش کی آواز.شام سرائےاتنے خواب کہاں رکھوں.نزدیک.یہیں کہیں.ساتواں در.فشار.سحر آثار.ساحلوں کی ہوا.محبت ایسا دریا ہے.برزخ قابل زکر ہیں .امجد اسلام امجد کے انتقال پر گہرے رنج اور افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ امجد اسلام امجد کا انتقال ادب کو ایک بہت بڑا دھچکا ہے.

  • سہیل احمد نے کس اداکار کو اپنا استاد کہہ دیا ؟‌

    سہیل احمد نے کس اداکار کو اپنا استاد کہہ دیا ؟‌

    اداکار سہیل احمد جو عزیزی کے نام سے بھی جانے جاتےہیں انہوں نے گزشتہ روز معروف اینکر کامران شاہد کی فلم ہوئے تم اجنبی کے ٹریلر لانچ میں شرکت کی . چونکہ سہیل احمد اس فلم میں اہم کردار ادا کررہے ہیں انہوں نے کہا کہ میں نے ہمیشہ یہ سوچ کرکے کردار سائن کئے کہ ان میں کچھ مختلف ہو، اور کامران شاہد نے جو مجھے کردار آفر کیا وہ کافی مختلف تھا. انہوں نے کہا کہ فلم میں محمود اسلم نے کمال کی اداکاری ہے میں نے توہمیشہ ہی ان سے بہت کچھ سیکھا ہے. اگر میں یہ کہوں کہ وہ میرے استاد ہیں تو بے جا نہ ہوگا. انہوں نے ہمیشہ ہی ایسا کام کیا ہے جو ان کو دوسروں سے یکسر منفرد بناتا ہے. انہوں نے یہ بھی کہا کہ فلم ہوئے تم اجنبی کو بڑے سکیل پر بہت محنت کے ساتھ بنایا گیا ہے اگران کو کوئی سین

    دوبارہ کرنا پڑا تو انہوں نے کیا. کامران شاہد ایک باصلاحیت ڈائریکٹر ہیں انہوں نے کہانی کے مطابق کاسٹنگ کی ہے اور اپنے والد سے بھی انہوں نے ڈائریکٹر بن کر ہی کام لیا. امید ہے کہ شائقین کو ہم سب کی یہ کوشش ضرور پسند آئیگی. سہیل احمد نے یہ بھی کہا کہ ایسی فلمیں سالوں میں بنتی ہیں اور پاکستان میں ایسی فلمیں کم بنی ہیں جیسی ہوئے تم اجنبی ہے.

  • میں رسک لینے سے نہیں ڈرتی نادیہ حسین

    میں رسک لینے سے نہیں ڈرتی نادیہ حسین

    معرف ماڈل اور اداکارہ نادیہ حسین نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ میں کبھی بھی رسک لینے سے نہیں گھبراتی آپ مجھے بہادر کہہ سکتےہیں انہوں نے کہا کہ میں وہ کام کر لیتی ہوں جن کے بارے میں کہا جا رہا ہوتا ہے کہ ایسا کیا تو یہ ہو جائیگا ویسا کیا تو وہ ہوجائیگا. انہوں نے کہا کہ انسان کو زندگی میں رسک لینے چاہیے. انہوں نے کہا کہ میں نے محبت کی شادی کی اس لئے میں بچوں کی محبت کی شادی کے خلاف بالکل بھی نہیں ہوں، میں بچپن میں ٹام بوائے ٹائپ تھی ، گھر کے باہر سائیکل چلاتی ، اور میرے گھر کا ماحول ایسا تھا کہ ہم پر اس طرح کی پابندی نہیں‌لگائی جاتی تھی کہ یہ کرو اور وہ نہ کرو یہ پڑھو اور وہ نہ پڑھو، مجھے میری مرضی کا کیرئیر چننے کی اجازت دی گئی میں نے اپنی

    مرضی سے ماڈلنگ کا آغاز کیا خدا نے مجھے عزت دی. انہوں نے مزید کہا کہ اداکاری جب اچھا کردار ملے تو کرلیتی ہوں نہیں‌تو پھر اپنے بزنس میں لگی رہتی ہوں ، جب مجھے میرے بزنس میں تھوڑا سا بھی نقصان ہوجانے کا خدشہ ہو تو میں گھبرا جاتی ہوں. میں اپنا بزنس بہت دلچپسی سے چلاتی ہوں . میں پاکستان کی خواتین کو بااختیار دیکھنا چاہتی ہوں. میں چاہتی ہوں کہ ان کو ان کی مرضی کے مطابق جینے دیا جائے.

  • بگ باس 16 کی سابق کنٹیسٹینٹ گوری نگوری نے بتا دیا کے فائنل میں ان کا فیورٹ کون ہو گا ؟‌

    بگ باس 16 کی سابق کنٹیسٹینٹ گوری نگوری نے بتا دیا کے فائنل میں ان کا فیورٹ کون ہو گا ؟‌

    بگ باس کا فائنل جیسے جیسے قریب آرہا ہے کون ہو گا شو کا ونر اس ھوالے سے تبصروں کی گونج سوشل میڈیا پر زیادہ سنائی دے رہی ہے. ہر طرف کوئی وڈیو میں اپنا فیورٹ بتا رہا ہے تو کوئی پوسٹ میں لکھ رہا ہےکہ کس کو بگ باس 16 کا ونر ہونا چاہیے. بگ باس کی سابق کنٹسیٹنٹ گوری نگوری کی حال ہی میں ایک وڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں ان کو ائیر پورٹ‌پر دیکھا جا سکتا ہے، میڈیا نے ان سے سوال کیا کہ بگ باس کے گھر میں ان کا فیورٹ کون ہے؟ اور آپ کو کیا لگتا ہے کہ شو کس کو جیتنا چاہیے تو اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایم سی سٹین ، پریانکا

    اور شیو تینوں کے ساتھ میرا اچھا تعلق رہا ہے لہذا میں یہ نہیں کہہ سکتی کہ کون ونر ہو گا یا کس کو ونر ہونا چاہیے . میری دعائیں سب کے ساتھ ہیں. میں بگ باس دیکھتی ہوں لطف اندوز ہوتی ہوں اور میں موجودہ پارٹیسپینٹس سےپیار بھی کرتی ہوں لیکن کسی ایک کو فیورٹ‌بتا کر کسی دوسرے کو ناراض نہیں کر سکتی. یاد رہے کہ بگ باس 16 کے بہت چرچے ہیں اس بار کے کنٹسیٹنس کافی دلچپسپ رہے، اگر سوشل میڈیا پر ہونے والے تبصروں کی مانیں تو پریانکا چوپڑا ونر دکھائی دیتی ہیں.