Baaghi TV

Tag: salman khan

  • ملک میں تعلیم کو کیوں‌ پنپنے نہیں دیا گیا؟‌ انور مقصود نے بتا دیا

    ملک میں تعلیم کو کیوں‌ پنپنے نہیں دیا گیا؟‌ انور مقصود نے بتا دیا

    انور مقصود نے کہا ہے کہ ملک کے حالات جیسے بھی ہوں ادبی سرگرمیاں جاری رہنی چاہیں اور والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں کو بچپن سے ہی ایسا ماحول دیں کہ جس میں انہیں‌ یہ باور کروایا جائے کتابیں پڑھنا ضروری ہوتا ہے. انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں تعلیم کو پنپنے نہیں دیا گیا کیونکہ اگر ایسا ہوا ہوتا تو تعلیم یافتہ بچےالیکشن میں ووٹ نہ دیتے. انہوں نے کہا کہ ہمارے نوجوان بہت ذہین ہیں،عقلمند اور سمجھداربھی ہیں مجھے ان کو دیکھ کر خوشی ہوتی ہے. انہوں نے کہا کہ ہماری عمر کے لوگ بہت ڈھیٹ ہیں جو اس دور میں بھی زندہ ہیں. ہمارے تو گھر میں بچپن میں ہی ماحول ایسا تھا کہ کتابیں پڑھنے کا رجحان خود بخود ہی پیدا ہو گیا. ہمارے گھر میں باقاعدہ لائبریری ہوتی تھی. انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک کے

    جو حالات ہیں ان کو دیکھ کر دکھ ہوتا ہے. اس لئے دل ہی نہیں کرتا کہ ملک کی سیاسی صورتحال پر بات کی جائے. ہم تو خاموش ہیں اور دیکھ رہے ہیں کہ کیا ہو رہا ہے اور شاید یہی بہتر ہے. انور مقصود نے یہ بھی کہا کہ میرے نام سے سوشل میڈیا اکائونٹس چلانے والوں‌کو منت سماجت کرچکا ہوں کہ میرے نام سے غلط پوسٹیں نہ کریں لیکن وہ باز ہی نہیں آتے. شرم کا مقام ہے.

  • پاکستان لٹریچر فیسٹیول کا میلہ کل  سے لاہور الحمراء میں سجے گا

    پاکستان لٹریچر فیسٹیول کا میلہ کل سے لاہور الحمراء میں سجے گا

    تین روزہ پاکستان لٹریچر فیسٹیول کل سے لاہور میں شروع ہونے جا رہا ہے، ایونٹ کا افتتاح جمعہ 10 فروری شام 3 بجے الحمرا آرٹس کونسل لاہور میں نگراں وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی اور وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علیٰ شاہ کریں گے جب کہ پنجاب کے وزیر اطلاعات و ثقافت عامر میر اور سندھ کے وزیر ثقافت اور تعلیم سید سردار شاہ بھی شرکت کریں گے۔ فیسٹیول کے 50سے زائد سیشن ہوں گے جس میں تفریح، مزاح،موسیقی ، ڈانس کے علاوہ ادب،تعلیم، معیشت، کتابوں کی تقریب رونمائی،ملک کے معروف دانشوروں اور فن کاروں کے ساتھ گفتگو اور دیگر سنجیدہ سیشن بھی ہوں گے۔ صدر آرٹس کونسل پاکستان کراچی احمد شاہ کا کہنا ہے کہ آج ہمارے ملک کے دشمن زیادہ ہو گئے ہیں پاکستان میں یکجہتی کی بہت ضرورت ہے۔ کلچر اور ادب کے ذریعے ملک کی تمام اکائیوں کو جوڑا جا سکتا ہے۔ پاکستان لٹریچر فیسٹیول لاہور سے شروع ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ انور مقصود کی مشاورت سے پاکستان اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان لٹریچر فیسٹیول کا انعقاد کرنے جا رہے ہیں فیسٹیول کا افتتاح لاہور

    سے کر رہے ہیں، لاہور ادبی و تہذیبی مرکز رہا ہے، یہ شہر اس ریجن میں سب سے بڑا ثقافتی مرکز تھا، دلی اور چندی گڑھ سے لوگ یہاں پڑھنے آتے تھے. فیسٹیول میں میوزک،ڈانس، اردو ادب، ادبی نشستیں شامل ہیں، جبکہ تعلیم،معیشت ، شاعری پر مختلف سیشنز ہیں، معاشرے میں سب مرغے لڑا رہے ہیں، دانشور ختم ہوتے جا رہے ہیں، شاعر ادیب کا حکومت سے رشتہ نہیں رہا. ہم نوجوان نسل کو آپس میں جوڑ رہے ہیں، لاہور کے بعد گوادر،مظفر آباد،گلگت،پشاور، اسلام آباداور کراچی میں اس فیسٹیول کا انعقاد ہو گا،اس کے بعد امریکہ کے چار مختلف شہروں میں جائیں گے، ہیوسٹن، نیویارک، شکاگو سلیکان ویلی، ڈیلس اور ٹورنٹو میں پاکستان لیٹریچر فیسٹیول کا انعقاد کیا جائے گا.

  • پاکستان لٹریچر فیسٹیول کے حوالے پریس کانفرنس

    پاکستان لٹریچر فیسٹیول کے حوالے پریس کانفرنس

    آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی جانب سے دس تا بارہ فروری الحمراء آرٹس کونسل لاہور میں منعقد ہونے والے پاکستان لٹریچر فیسٹیول کی پریس کانفرنس کا آج لاہور میں انعقاد ہوا. پریس کانفرنس میں صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ ،صوبائی وزیر اطلاعات و ثقافت عامر میر نے شرکت کی۔ معروف ادیب و دانشور انور مقصود اور ذوالفقار زلفی نے میڈیا کو سہہ روزہ اس ایونٹ کی بریفنگ دی.صدر آرٹس کونسل کراچی محمد احمد شاہ نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ ہم لوگوں کو ادب سے قریب رکھیں چاہے حالات کچھ بھی ہوں.انہوں نے کہا کہ میں وزیر ثقافت و اطلاعات جناب عامر میر کا شکر گزار ہوں یہ میری درخواست پر یہاں تشریف لائے ہیں۔ادب کی خدمات کے لئے اس طرح‌ کی تقریبات میں گزشتہ سولہ برس سے کررہا

    ہوں.پاکستان میں کلچر کے فرغ کے لئے اس طرح‌کے ایونٹس کا انعقاد بے حد ضروری ہے. انور مقصود نے کہا کہ میں نے احمد شاہ سے پوچھا کہ پاکستان میں جو حالات ہیں ایسے میں اسطرح‌ کے ایونٹس کے انعقاد کا حوصلہ کہاں سے لاتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا کہ جس ملک میں ادب زندہ رہتا ہے وہ کہیں نہیں جاتا۔انور مقصود نے کہا کہ لاہور نہ ہوتا تو پاکستان میں اردو نہ ہوتی۔ ہر آدمی کا حق ہے کہ کہ اس کا آنے والا دن اچھا ہو۔حالات برے ہیں لیکن ہمیں اچھے کی امید رکھنی چاہیے. نوجوان ہمارا مستقبل ہیں.

  • دراز کے بعد  ڈزنی کا بھی 7 ہزار ملازمین کو فارغ کرنے کا فیصلہ

    دراز کے بعد ڈزنی کا بھی 7 ہزار ملازمین کو فارغ کرنے کا فیصلہ

    ای کامرس پلیٹ فارم درازکے بعد معروف انٹرٹینمنٹ کمپنی ڈزنی نے 7 ہزار ملازمتوں کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی: برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق انٹرٹینمنٹ سے بھر پور ڈزنی نے بھی اپنے 7 ہزار ملازمین کو فارغ کرنے کا کہہ دیا ہے ملازمین کی تعداد میں کمی ڈزنی اسٹریمنگ سروس کو منافع بخش بنانے اور بھاری رقم بچانے کے منصوبے کا حصہ ہے۔

    رپورٹس کے مطابق کمپنی کی جانب سے یہ فیصلہ گزشتہ سال کے آخری تین مہینوں میں ہونے والی مالی رپورٹ کو دیکھتے ہوئے کیا گیا ہے، ان برطرفیوں سے دنیا بھر میں ڈزنی کی ورک فورس کا حجم 3.6 فیصد کم ہوگا-

    میڈیا رپورٹس کے مطابق 2019 میں ڈزنی ویڈیو اسٹریمنگ سروس کے لانچ ہونے کے بعد ڈزنی کے سبسکرائبر میں پہلے سے کمی آئی ہے۔

    باب ایگرکا کہنا ہےکہ ہم کمپنی میں تخلیقی صلاحیت کو ابھارنے کے لیےکام کر رہے ہیں، ہمیں یقین ہے کہ ہم اپنے ارادوں میں کامیاب ہوں گے اخراجات کم کرنا ہمارے کاروبار کے لیے پائیدار ترقی اور منافع کا باعث بنے گا، ہمارے لیے بہتر ہے کہ ہم مستقبل کے خلل اور عالمی اقتصادی چیلنجوں سے نمٹنے سکیں اور شیئر ہولڈرز کے لیے ساز گار ماحول پیدا کریں۔

    قبل ازیں ای کامرس پلیٹ فارم دراز نے بھی اپنے ملازمین کی تعداد کم کرتے ہوئے چھانٹی کر دی ہے علی بابا گروپ کے ذیلی ادارے دراز گروپ نے اپنے ملازمین کی تعداد کم کرتے ہوئے 11 فیصد کو فارغ کر دیا۔

    دراز گروپ کے سی ای او بجارک مکلسن نے کہا کہ مارکیٹ کے مشکل ماحول، یورپ میں جنگ، سپلائی چین میں حائل رکاوٹوں، بڑھتی مہنگائی اور بڑھتے ٹیکس کی وجہ سے ملازمین میں کمی کرنے کا فیصلہ کیاانہوں نے کمپنی کی ویب سائٹ پر جاری کردہ خط کے ذریعے ملازمین کو فارغ کرنے کا اعلان کیا۔

    واضح رہے کہ ای کامرس پلیٹ فارم دراز گروپ پاکستان، بنگلہ دیش، سری لنکا اور نیپال میں کام کرتا ہے۔

  • اہل شام کی مدد کیجیئے،عالمی برادری شام پرانسانیت کیخاطرپابندیاں ختم کردے:مبشرلقمان

    اہل شام کی مدد کیجیئے،عالمی برادری شام پرانسانیت کیخاطرپابندیاں ختم کردے:مبشرلقمان

    لاہور:اہل شام کی مدد کیجیئے،عالمی برادری شام پرانسانیت کیخاطرپابندیاں ختم کردے:مبشرلقمان نے دکھی دل کے ساتھ عالمی برادری کواہل شام کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی اپیل کردی ہے، مبشرلقمان کا کہنا تھاکہ شام والے توپہلے ہی مشکلات اورسانحات میں گھرے ہوئے ہیں اوپر سے یہ زلزلہ آگیا ہے ، ان حالات میں انکی کیفیت اور صورتحال بہت پریشان کن اورقابل رحم ہے

    مبشرلقمان نے اہل پاکستان اور دنیا بھرمقیم پاکستانیوں سے اپیل کی ہےکہ وہ وہاں کی حکومتوں کواس بات پر مجبور کریں کہ وہ شام کے معاملے پرخاموشی کا مظاہرہ نہ کریں یہ مجرمانہ خاموشی انسانیت کوتہس نہس کردے گی ،ان کا کہنا تھاکہ پاکستانی اور دیگران کے دوست ان حکومتوں کو اس بات پر مجبور کریں کہ وہ شام جیسے قابل رحم ملک پرعائد پابندیاں‌ ختم کرنے کےلیے دباو ڈالیں اور شام میں گھرے لوگوں کی مدد کو پہنچا جائے

     

    https://www.tiktok.com/@realmubasherlucman/video/7197839033395957018?is_from_webapp=1&web_id=7195158896805103105

    ان کا کہنا تھا کہ شام اور ترکی میں آنے والے شدید زلزلے کے نتیجے میں ہزاروں انسانی جانیں ضائع ہوگئی ہیں اور اب تو صورت حال اس قدر خراب ہے کہ زلزلے سے تباہ ہونے والے مکانات کے نیچے شامی بے بسی سے چیخ وپکار کررہے ہیں لیکن کوئی ان کی آواز نہیں سن رہا اس کی بڑی وجہ عالمی برادری کی طرف سے شام پر پابندیوں نے دنیا کوشام کی مدد سے محروم کردیا ہے ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ تمام پاکستانیوں کو دل کھول کرشامیوں کی مدد کرنی چاہیے ، ان کے لیے خوراک ، ادویات اوردیگرضروریات کی حامل اشیا جلد از جلد اہل شام کےلیے روانہ کردینے چاہیں اورعالمی برادری انسانیت کی‌خدمت کے اس جزبے کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے اپنی مدد پیش کرے

  • امریکی شاعرہ اور کہانی نویس الزبتھ بشپ

    امریکی شاعرہ اور کہانی نویس الزبتھ بشپ

    امریکی شاعرہ اور کہانی نویس الزبتھ بشپ
    (Elizabeth Bishop)
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    پیدائش: 8 فروری 1911
    وفات: 6 اکتوبر 1979

    امریکی شاعرہ اور کہانی نویس الزبتھ بشپ امریکہ کی ریاست میسا چیوسیس کے چھوٹے سے شہر ورکرسٹر Worcester میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد ایک کنٹریکٹر تھے جب ان کی عمر آٹھ سال تھی تو ان کے والد کا انتقال ہوگیا تھا اور ان کی والدہ صدمے سے ذہنی مریضہ بن گئی۔

    ان کی شاعری پر میریں مور Marianne Moore کے لبرل خیالات کا گہرا اثر رہا۔ انھوں نے نیویارک کے وارسر کالج سے 1934 میں بیچلر کی ڈگری حاصل کی۔ بشپ کی نظمیں” ایک ادبی جریدے ٹرائیل بیلنس” میں شائع ہو چکی ہیں۔

    1949-1950 کے دوران وہ واشنگٹن میں شعبہ شاعری کی مشیر رھی۔

    ان کی شاعری کا اسلوب منفرد نوعیت کا ہے۔ وہ اپنی شاعری میں اپنے آپ کو” تسخیر”کرنا چاہتی ہیں۔ اور الزبتھ بشپ ” آبلہ فریبی” سے فاصلہ رکھے ہوئی ہیں۔

    ان کے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ” لزبن "ہم جنس نسواں” تھی۔ یہ غلط تاثر ہے۔ ان کا کہنا ہے وہ عورتوں کی شاعری کرتی ہیں۔ بقول ان کے "عورتوں کی زیادہ تر شاعری فطرتا نیلے رنگ کے گیت ہوتے ہیں جس میں آہ و زاری کی جاتی ہے اور درد کا شکار ہوکر سادیت کے گیت لکھتی ہے۔

    1956 میں انھیں پولینٹرز انعام مل چکا ہے۔ ان کی زندگی پر بابرا ھوکر نے ایک فلم This House on Elizabeth Bishop کے نام سے بنائی۔

    بشپ کی تحریروں کی عمدہ اور شاندار خصوصیات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ان کو صدیوں پرانے شعری رویوں سے آگہی اور اس کی کلیوں کو وہ سمتیں ہیں جن کو بڑی ہی مہارت سے اپنی شاعری میں سمودینے کی تخلیقی ہنر مندی ان کو آتی ہے۔ وہ اپنے جذباتی شعری اظہار کو اعتدال کے ساتھ کنٹرول کر لیتی ہیں۔ وہ اپنے جذباتی اور حساس کو بڑی مہارت سے شعری پیکر اور اس کو جمالیاتی طور پر تشکیل دے لیتی ہیں۔ جب قاری ان کے جذبوں سے آگاہ ہوتا ہے تو وہ "بلبلاتا ” بھی ہے۔ دراصل ان کے شعری فن میں یہ بات تو ہے کہ وہ اپنے ” زخموں” کو کمال ہوشیاری سے چھپا بھی لیتی ہیں۔ مگر وہ اپنی ذاتی واردات اور زخموں کو بے نقاب کرنے کے لیے اساطیری فکریات اور ڈھانچے سے اسلوبیاتی اور اپنا شعری بیانیہ ترتیب دیتی ہیں۔

    مجھے لگتا ہے کہ ہمیں بشپ کی شاعری کا مطالعہ اور تجزیہ اسرار اور پر اسرار کے ساتھ کرنا ہے۔ جس طرح ان کی شاعری صرف شاعرہ کو کشف، الہام اور وحی کے بغیر طاقتور، مباحثہ احساسات سے اپنے آپ کو الگ کرتی ہے۔ بشپ نے اس وقت جمالیاتی صوابدید کا ایک راستہ اپنایا جب اس کے بہت سے ہم عصر شعرا ان کی شعری فطانت کا کا تعاقب کررہے تھے. اور ان کی شاعری کے بہت سے ٹکڑوں کو رد و بدل کرنے بعد شائع کرنے والے شعرا کی بھی کمی نہ تھی۔ جس میں بشپ کی شعری فضا اور خوشبو محسوس ہوتی تھی۔ یہ دھوکہ دہی اور پریشانی کا سبسب بھی بنی۔ جس میں جمالیات اور تخلیقی مرکبیات، عمل کیمیائی کے بعد مراقبے کا شکار ہوجاتی ہے۔ جو ان کا حفاظتی حصار تھا۔ وہ التباس کا شکار رہی۔ مگر ان کی یہ تشکیک اور تشویش تو ہے مگر یہ مراقبہ نہیں ہے۔ یہ اصل میں شاعرہ کے نئے شعری اظہار کی تلاش اور جستجو ہے۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ” بلی کی لوری”

    ” میاوں”۔۔۔۔ نیند خواب ہوجاتے ہیں
    اپنی بڑی آنکھوں کو بند کرلو
    ایک مسرت آمیز حیرانگی کے ساتھ
    پیاری ” میاوں” ۔۔۔ اپنی چڑھتی ہوئی تیوری کو گرا دو
    بس تعاون کرو
    ایک بلی کا بچہ نہ ڈوب جائے
    مارکسی حالت میں
    خوشی اور محبت دونوں تمہارے ہوجائیں گے
    ” میاں” ۔۔۔ اداس نہ ہو
    خوشی کے دن جلد آرہے ہیں
    نیند —– اور انھیں آنے دو

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    الزبتھ بشپ کی تصانیف

    North & South (Houghton Mifflin, 1946)
    Poems: North & South. A Cold Spring (Houghton Mifflin, 1955) —winner of the Pulitzer Prize[1]
    A Cold Spring (Houghton Mifflin, 1956)
    Questions of Travel (Farrar, Straus, and Giroux, 1965)
    The Complete Poems (Farrar, Straus, and Giroux, 1969) —winner of the National Book Award[2]
    Geography III (Farrar, Straus, and Giroux, 1976)
    The Complete Poems: 1927–1979 (Farrar, Straus, and Giroux, 1983)
    Edgar Allan Poe & The Juke-Box: Uncollected Poems, Drafts, and Fragments by Elizabeth Bishop ed. Alice Quinn (Farrar, Straus, and Giroux, 2006)
    Poems, Prose and Letters by Elizabeth Bishop, ed. Robert Giroux (Library of America, 2008) ISBN 9781598530179
    Poems (Farrar, Straus, and Giroux, 2011)
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • سورن لتا سے  سعیدہ بانو تک کا سفر

    سورن لتا سے سعیدہ بانو تک کا سفر

    اداکارہ سورن لتا

    یوم وفات : 8 فروری
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    سورن لتا 20 دسمبر 1924ء کو راولپنڈی کے ایک سکھ گھرانے میں پیدا ہوئی تھیں۔ سورن لتا کے فنی کیریئر کا آغاز 1942ء میں رفیق رضوی کی فلم آواز میں ایک ثانوی کردار سے ہوا تھا۔ 1943ء میںوہ نجم نقوی کی فلم تصویر میں پہلی مرتبہ بطور ہیروئن جلوہ گر ہوئیں، اس فلم کے ہیرو نذیر تھے۔نذیر کے ساتھ ان کی اگلی فلم لیلیٰ مجنوں تھی۔ یہی وہ فلم تھی جس کے دوران انہوں نے اسلام قبول کرکے نذیر سے شادی کرلی۔ ان کا اسلامی نام سعیدہ بانو رکھا گیا۔ اس زمانے میں انہوں نے جن فلموں میں کام کیا ان میں رونق، رتن، انصاف، اس پار اور وامق عذرا کے نام سرفہرست ہیں۔ قیام پاکستان کے بعد وہ اپنے شوہر نذیر کے ہمراہ پاکستان آگئیں جہاں انہوں نے اپنے ادارے کے بینر تلے فلم "_سچائی” بنائی۔ اس فلم میں ہیرو اور ہیروئن کا کردار نذیر اور سورن لتا نے ادا کیا۔ اسی سال پاکستان کی پہلی سلور جوبلی فلم” پھیرے” ریلیز ہوئی۔ اس فلم کے فلم ساز ، ہدایت اور ہیرو نذیر تھے جبکہ ہیروئن سورن لتا تھیں۔” پھیرے” کی کامیابی کے بعد نذیر اور سورن لتا کی پنجابی فلم” لارے” اور اردو فلم "انوکھی داستان” ریلیز ہوئیں۔

    1952ء میں نذیر نے شریف نیر کی ہدایت میں فلم ” بھیگی پلکیں” تیار کی جس میں سورن لتا نے الیاس کاشمیری کے ساتھ ہیروئن کا کردار ادا کیا۔ اس فلم میں نذیر نے ولن کا کردار ادا کیا تھا۔ 1953ء میں سورن لتا کی چار مزید فلمیں ، شہری بابو، خاتون،نوکراور ہیر ، ریلیز ہوئیں۔ اس کے بعد بھی سورن لتا کی کئی اور فلمیں نمائش پذیر ہوئیں جن میں سوتیلی ماں، صابرہ، نور اسلام، شمع، بلو جی اورعظمت اسلام، شامل تھیں۔ عظمت اسلام سورن لتا کی بطور ہیروئن اور نذیر کی بطور فلم ساز اور ہدایت کار آخری فلم تھی۔ اس کے بعد سورن لتا نے چند مزید فلموں میں کریکٹر ایکٹر کردار ادا کئے تاہم چند برس بعد فلمی صنعت سے کنارہ کش ہوگئیں۔ سورن لتا ایک تعلیم یافتہ اداکارہ تھیں ، انہوں نے لاہور میں جناح پبلک گرلز اسکول کی بنیاد رکھی اور آخری وقت تک اس کی روح و رواں اور سربراہ رہیں۔
    8 فروری 2008ء کو برصغیر پاک و ہند کی نامور ہیروئن سورن لتا لاہور میں وفات پاگئیں۔ وہ لاہور میں آسودۂ خاک ہیں۔

  • ہندوستان کے با اثر فنکار اور”غزل کنگ” جگجیت سنگھ

    ہندوستان کے با اثر فنکار اور”غزل کنگ” جگجیت سنگھ

    جگجیت سنگھ جو کہ "غزل کنگ” یا "غزل کے بادشاہ” کے نام سے مشہور ہیں، ایک ہندوستانی غزل گلوکار، موسیقار تھے۔

    8 فروری 1941 میں پیدا ہونے والےجگجیت سنگھ نےمتعدد زبانوں میں گایا اورغزل کےاحیاء اور مقبولیت کا سہرا،ایک ہندوستانی کلاسیکی فن کی شکل ہے، جس نے عوام کے لیے موزوں اشعار کا انتخاب کیا اور انہیں اس انداز میں کمپوز کیا جس میں الفاظ اور راگ کے معنی پر زیادہ زور دیا گیا۔

    انہیں ہندوستانی کلاسیکی موسیقی کے لحاظ سے، ان کی کمپوزنگ کا انداز اور گائیکی (گائیکی) کو بول پردھان سمجھا جاتا ہے، جو الفاظ پر زور دیتا ہے انہوں نے پریم گیت (1981)، آرتھ (1982)، اور ساتھ ساتھ (1982)، اور ٹی وی سیریلز مرزا غالب (1988) اور کہکشاں (1991) جیسی فلموں کے لیے اپنی موسیقی میں اس کو اجاگر کیا۔

    سنگھ کو تنقیدی پذیرائی اور تجارتی کامیابی کے لحاظ سے اب تک کا سب سے کامیاب غزل گائیک اور موسیقار سمجھا جاتا ہے پانچ دہائیوں پر محیط کیریئر اور بہت سے البمز کے ساتھ، اس کے کام کی حد اور وسعت کو صنف کی وضاحت کےطورپرسمجھا جاتا ہےسنگھ کا 1987 کا البم، بیونڈ ٹائم، ہندوستان میں پہلی ڈیجیٹل ریکارڈ شدہ ریلیز تھی ان کا شمار ہندوستان کے بااثر فنکاروں میں ہوتا تھا۔

    ستار بجانے والے روی شنکر اور ہندوستانی کلاسیکی موسیقی اور ادب کی دیگر سرکردہ شخصیات کے ساتھ، سنگھ نے ہندوستان میں فنون اور ثقافت کی سیاست کرنے اور ہندوستان کے روایتی فن کے ماہرین، خاص طور پر لوک فنکاروں اور موسیقاروں کے ذریعہ تعاون کی کمی پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔

    انہوں نے کئی فلاحی کاموں کو فعال تعاون فراہم کیا جیسے سینٹ لوئس میں لائبریری میریز سکول، ممبئی، بمبئی ہسپتال، CRY، سیو دی چلڈرن اور ALMA۔ سنگھ کو حکومت ہند نے 2003 میں پدم بھوشن سے نوازا تھا اور فروری 2014 میں حکومت نے ان کے اعزاز میں دو ڈاک ٹکٹوں کا ایک سیٹ جاری کیا گلوکار 10 اکتوبر 2011 کو انتقال کر گئے-

  • اداکارہ سنبل اقبال کے قابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

    اداکارہ سنبل اقبال کے قابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

    کراچی کی عدالت نے اداکارہ سنبل اقبال کے قابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے۔

    باغی ٹی وی: ایف آئی اے کے مطابق سنبل اقبال نے 2020 میں شکایت درج کرائی تھی جس کے بعد ندیم کیانی و دیگر کے خلاف پاکستان الیکٹرانک کرائم ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہے،اداکارہ کی جانب سے الزام عائد کیا گیا تھا کہ ندیم کیانی و دیگر نے میرے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلائی ہے ۔

    کیسے سینز کرنے سے پہلے روینہ ٹنڈن شرائط رکھتی تھیں؟ اداکارہ نے بتا دیا

    ملزم کے وکیل کے مطابق سنبل اقبال نے ندیم کیانی و دیگر کے خلاف ایف آئی اے میں شکایت درج کرائی تھی اور ندیم کیانی نے کیس میں ضمانت کرارکھی ہے اداکارہ سنبل اقبال گواہی کے لیے عدالت میں پیش نہیں ہورہی۔

    تاہم اب کراچی کے جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت نے گواہی اور شواہد پیش نا کرنے کے معاملے پر اداکارہ کے 10 ہزار روپے مالیت کے قابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں اور انہیں گرفتار کرکے 15 فروری کو پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

    میں نے کبھی عادل پر ہاتھ نہیں اٹھایا اپنے بچائو میں کبھی دھکا دیا ہو گا راکھی ساونت

  • حرا مانی اور نبیل قریشی و دیگر اپنے ساتھ ہوئے حادثے پر شدید پریشان

    حرا مانی اور نبیل قریشی و دیگر اپنے ساتھ ہوئے حادثے پر شدید پریشان

    کراچی میں جمشید کوارٹرز کے علاقے میں حرامانی ، نبیل قریشی و دیگر شوٹنگ کررہے تھے دو دن قبل اسی علاقے کے علاقہ مکینوں نے ڈرامے کے پچاس پر مشتمل کرو کو گھیر لیا اور ان کو شدید مارا پیٹا اور ان سے ان کے موبائل چھین لئے. ان کے جسم پر تشدد کے نشانات موجود ہیں . جمشید کوراٹرز کے قریبی تھانے میں ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے اور ساتھ ایس ایچ او کو بھی معطل کر دیا گیا ہے. کہا جا رہا ہے کہ لوگوں کو ایک ہجوم تھا جو ڈرامے کے پورے کرو پر ٹوٹ پڑا . حرامانی شدید صدمے کی حالت میں ہیں ان سب کا کہنا ہے کہ بھپرے ہوئے ہجوم سے ہمارے

    لئے خود کی جان بچانا مشکل ہو گیا تھا. ہمارے پاس جو پیسے موبائل تھے وہ سب چھین لیا گیا ہے. ہمارے ساتھ یہ سب کیوں کیا گیا ہے ہم سمجھنے سے قاصر ہیں اتنا عرصہ ہو چکا ہے ہمیں شوٹنگ کرتے ہوئے کبھی پہلے ایسا نہیں ہوا جو کچھ اب ہوا ہے. نبیل قریشی نے کہا کہ کیا ہم جنگل میں رہ رہے ہیں جہاں کوئی قانون نہیں ہے. آرٹسٹوں پر اتنا ظلم کیا گیا ہے، اس واقعہ کی سوشل میڈیا پر بہت زیادہ مذمت کی جا رہی ہے.