Baaghi TV

Tag: salman khan

  • راکھی ساونت کی ماں کے علاج کے لئے پیسے کون دے رہا ہے؟‌

    راکھی ساونت کی ماں کے علاج کے لئے پیسے کون دے رہا ہے؟‌

    بالی وڈ‌اداکارہ اور رقاصہ راکھی ساونت پہلے اپنی شادی کی وجہ سے کافی سرخیوں میں رہیں ، ان کے شوہر ان کے ساتھ اپنی شادی کو نہیں مان رہے تھے لیکن انہوں نے آخر کار اپنی شادی کو تسلیم کر ہی لیا اور راکھی ساونت نے سکھ کا سانس لیا. لیکن پریشانیاں راکھی کا در چھوڑنے کو نہیں ہیں تیار کیونکہ ان کی والدہ کی طبیعت دن بہ دن خراب ہوتی جا رہی ہے. راکھی ساونت کی والدہ کینسر جیسے مرض سے لڑ رہی ہیں. راکھی ساونت کا کہنا ہے کہ کینسر ان کی والدہ کے پورے جسم میں پھیل چکا ہے اور ان کی حالت بہت خراب ہے. وہ نہ کسی کو پہچان رہی ہیں اور نہ

    ہی وہ کچھ کھا پی رہی ہیں. راکھی کہتی ہیں کہ میری والدہ کا علاج مکیش امبانی کروا رہے ہیں ، وہ اس مشکل وقت میں میری بہت زیادہ مدد کررے ہیں جس کے لئے میں ان کی شکر گزار ہوں. راکھی ساونت مزید کہتی ہیں کہ میری والدہ ہی میرا حوصلہ ہیں ان کو اس ھالت میں دیکھ کر مجھے سمجھ میں نہیں آرہی کہ میں کیا کروں کدھر جائوں. میں اپنی زندگی میں اب خوش ہوں لیکن میری والدہ کا بیمار پڑ جانا اور کینسر جیسے مرض میں مبتلا ہوجانا میری زندگی کا اس وقت سب سے بڑا دکھ ہے.

  • ہاجرہ مسرور: برانٹی سسٹر کا یوم پیدائش

    ہاجرہ مسرور: برانٹی سسٹر کا یوم پیدائش

    17 جنوری۔۔یومِ پیدائش۔
    ہاجرہ مسرور
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    نامور ادبی خانوادہ کی رکن، برانٹی سسٹر کے نام سے شہرت پانے والی معروف ادیبہ ہاجرہ مسرور کا آبائی تعلق لکھنئو سے تھا۔ جہاں وہ 17جنوری 1929ء کو پیدا ہوئیں۔ ان کے والد تہور احمد خان برطانوی فوج میں ڈاکٹر تھے۔ہاجرہ مسرور کے بچپن میں ہی، ان کے والد انتقال کرگئے اور خاندان کی ذمہ داری اُن کی والدہ کے کاندھوں پر آگئی۔ والد کے انتقال کے بعد ان کا گھرانا نامساعد حالات کا شکار ہوا اور انہوں نے سخت حالات میں پرورش پائی۔ ہاجرہ کی والدہ کٹھن وقت میں نہایت باہمت خاتون ثابت ہوئیں۔ انہوں نے اپنے بچوں کی تربیت اور پرورش نہایت اچھے انداز میں کی۔ ہاجرہ مسرور کی بہنیں خدیجہ مستور اور اختر جمال بھی اُردو کی معروف ادیب تھیں۔ ان کے ایک بھائی توصیف احمد صحافت سے وابستہ رہے جب کہ ایک اور بھائی خالد احمد کا شمار ممتاز شعرا میں ہوتا ہے۔

    قیامِ پاکستان کے بعد ہاجرہ مسرور اپنے اہل ِ خانہ کے ساتھ پاکستان آگئیں اور لاہور میں سکونت اختیار کر لی۔ اُس زمانے میں لاہور پاکستان کی ادبی سرگرمیوں کا مرکز تھا اورخود ہاجرہ بطور کہانی و افسانہ نگار اپنا عہد شروع کر چکی تھیں ۔ان کی کہانیوں کو ادبی حلقوں میں ابتدا سے ہی بہت پذیرائی حاصل رہی تھی۔انیس سو اڑتالیس میں انہوں نے معروف ادیب احمد ندیم قاسمی کے ساتھ مل کر ادبی جریدہ ‘نقوش’ شائع کرنا شروع کیا۔ہاجرہ مسرور کی شادی معروف صحافی احمد علی خان سے ہوئی تھی ۔ جو روزنامہ پاکستان ٹائمز اور روزنامہ ڈان کے ایڈیٹر رہے۔
    ہاجرہ مسرور کے افسانوں اور مختصر کہانیوں کے کم ازکم سات مجموعے شائع ہوئے، ان میں ‘چاند کے دوسری طرف’، ‘تیسری منزل’، ‘اندھیرے اُجالے’، ‘چوری چھپے’، ‘ ہائے اللہ’، ‘چرکے’ اور ڈراموں کا مجموعہ ‘وہ لوگ’ شامل ہیں ۔ ان کے افسانوں کا مجموعہ 1991ء میں لاہور کے ایک ناشر نے ‘ سب افسانے میرے’ کے عنوان سے شائع کیا۔ افسانوں اور مختصر کہانیوں کے علاوہ انہوں نے ڈرامے بھی لکھے تھے۔چند سال قبل آکسفرڈ یونی ورسٹی پریس نے بچوں کے لیے لکھی گئی اُن کی کئی کہانیاں کتابی شکل میں شائع کیں۔ انھیں ادبی خدمات کے اعتراف میں متعدد اعزازات سے نوازا گیا۔ حکومتِ پاکستان نے ادب کے شعبے میں ان کی نمایاں خدمات پر 1995ء میں تمغہ حُسنِ کارکردگی’ دیا۔ 2005ء میں انہیں ‘عالمی فروغِ اُردو ادب ایوارڈ’ سے بھی نوازا گیا۔

    ہاجرہ مسرور نے پاکستانی فلمی صنعت کے اچھے دنوں میں کئی فلموں کے اسکرپٹ بھی لکھے۔ ان کے ایک اسکرپٹ پر پاکستانی فلمی صنعت کا سب سے بڑا اعزاز ‘نگار ایوارڈ’ بھی دیا گیا۔انہوں نے 1965ء میں بننے والی پاکستانی فلم ‘آخری اسٹیشن’ کی کہانی بھی لکھی۔ یہ فلم سرور بارہ بنکوی نے بنائی۔ ہاجرہ مسرور کا انتقال 15 ستمبر 2012 ء کو کراچی میں ہوا اور وہ ڈیفنس سوسائٹی کے قبرستان میں آسودہ خاک ہوئیں۔

  • یوں توگوہرکومیسرہیں ہزاروں شوہرہاں پسند اس کوایک بھی نہیں اکبرکےسوا:-گلوکارہ،شاعرہ گوہرجان کایوم وفات

    یوں توگوہرکومیسرہیں ہزاروں شوہرہاں پسند اس کوایک بھی نہیں اکبرکےسوا:-گلوکارہ،شاعرہ گوہرجان کایوم وفات

    یوںیوں تو گوہر کو میسر ہیں ہزاروں شوہر
    ہاں پسند اس کو ایک بھی نہیں اکبر کے سوا

    گوہر جان

    منفرد گلوکارہ رقاصہ اور شاعرہ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تاریخ پیدائش 20 جون 1879
    تاریخ وفات 17 جنوری 1930
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    برصغیر کی منفرد گلوکارہ رقاصہ اور شاعرہ گوہر جان 20 جون 1873 کو اعظم گڑھ میں پیدا ہوٸیں۔ وہ آرمینیاٸی نسل کی عیساٸی خاتون تھیں۔ ان کا اصل نام انجلینا ان کے والد کا نام ولیم رابرٹ اور والدہ کا نام وکٹوریہ ہمنگز تھا۔ گوہر جان کے والدین کے مابین علیحدگی ہونے کے بعد ان کی ماں اعظم گڑھ سے بنارس چلی آٸی بیٹی بھی ان کے ہمراہ تھی ۔ یہاں خورشید خان نامی ایک نیک دل مسلمان نے ان کو رہاٸش دی اور ہر طرح کی مدد بھی کی جس سے متاثر ہو کر دونوں ماں بیٹیاں مسلمان ہو گٸیں ۔ وکٹریہ کا اسلامی نم ملکہ جان اور انجلینا کا اسلامی نام گوہر جان رکھا گیا۔ گوہر جان نے 15سال کی عمر میں دربھنگا میں اپنے فن گاٸیکی کا پہلا عملی مظاہرہ کیا انہوں نے اپنے وقت کے بڑےاساتذہ سے موسیقی کی تربیت حاصل کی ان کی خوب صورت آواز اور رقص کی وجہ سے شہرت دور دور تک پھیل گٸی یہاں تک ان کو ملکہ برطانیہ تک پذیراٸی مل گٸی۔ گوہر جان گاٸیکی اور رقص کے علاوہ شاعری میں بھی کمال رکھتی تھیں شاعری میں وہ ہمدم تخلص استعمال کرتی تھیں ان کی زیادہ تر گاٸی ہوٸی غزلیں اپنی ہی تھیں تاہم وہ اپنے دور کے نامور شعراء کا کلام بھی بڑے شوق سے گاتی تھں اور شعراء کا بڑا احترام کرتی تھیں ۔

    گاٸیکی میں وہ دادرا ٹھمری سمیت مختلف راگ اور راگنیوں پر عبور رکھتی تھیں ۔ وہ بڑے رکھ رکھاٶ اور شوق و ذوق رکھنے والی خاتون تھیں وہ گھڑ سواری کی ماہر تھیں ۔ گوہر جان کوبرصغیر کی موسیقی کی تاریخ میں یہ منفرد اور قابل فخر اعزاز حاصل ہوا ہے کہ ہندوستان میں گرامو فون پر سب سے پہلے ان کو اپنی گاٸیکی ریکارڈ کرانے کا اعزاز دیا گیا۔ گراموفون پر سب سے پہلی ان کی آواز گونجی جس کےبول تھے ماٸی نیم از گوہر جان ۔ گوہر جان نے سید غلام عباس نامی ایک شخص کےساتھ شادی کی مگرکچھ عرصہ بعد ہی ان کے مابین علیحدگی ہو گٸی ۔ گوہرجان کو مال و دولت اور شہرت سب کچھ حاصل تھا مگر وہ ازدواجی زندگی کی دولت سے محروم تھیں یہی وجہ تھی کہ جب اردو کےعظیم مزاحیہ شاعر اکبر الہ آبادی اور گوہر جان کےمابین پہلی ملاقات ہوٸی تو گوہرجان نے اکبر الہ آبادی سے ایک شعر سنانے کی فرماٸش کی جس پر اکبرالہ آبادی نے گوہر کے حالات کے تناظر میں یہ شعر کہا

    خوش نصیب آج بھلا کون ہے گوہر کے سوا
    اللہ نے سب کچھ دے رکھا ہے شوہر کے سوا

    گوہر نےبھی اس کے جواب میں برجستہ شعر کہہ دیا

    یوں تو گوہر کو میسر ہیں ہزاروں شوہر
    ہاں پسند اس کو ایک بھی نہیں اکبر کے سوا

  • ملالہ آسکرز کیلئےنامزد ہالی ووڈ فلم کی شریک پروڈیوسر بن گئیں

    ملالہ آسکرز کیلئےنامزد ہالی ووڈ فلم کی شریک پروڈیوسر بن گئیں

    نیویارک: نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی آسکرز کیلئے نامزد ہالی ووڈ فلم ’اسٹرینجر ایٹ دی گیٹ‘ کی شریک پروڈیوسر بن گئیں۔

    باغی ٹی وی: آسکرز کیلئے نامزد پاکستانی فیچر فلم ’جوائے لینڈ‘ کے بعد ملالہ یوسفزئی کو امریکی دستاویزی فلم ’اسٹرینجر ایٹ دی گیٹ‘ کی ٹیم میں بطور ایگزیکٹیو پروڈیوسر شامل کر لیا گیا ہے۔

    زنس کے اعتبار سے ہالی اور لالی وڈ کی 2022 کی بہترین فلمیں


    اس حوالے سے ایک انٹرویو میں ملالہ کا کہنا تھا کہ جب انہوں نے یہ فلم دیکھی تو ان کا نظریہ ہی بدل گیا یہ فلم ایک مضبوط سچی کہانی پر مبنی ہے انہیں امید ہے یہ فلم ناظرین کو چیلنج کرے گی کہ وہ اپنے مفروضوں پر سوال اُٹھائیں اور ہر اس شخص کے ساتھ رحم دلی کا مظاہرہ کریں جس سے وہ ملتے ہیں۔

    پلان تبدیل ، کرن جوہر نہیں اب کریں گی بگ باس فرح خان ہوسٹ

    اپنی ٹوئٹ میں ملالہ نے لکھا کہ جب میں نے پہلی بار یہ فلم دیکھی تو اس نے میرا ذہن کھول دیا اور میرا نقطہ نظر بدل دیا۔ مجھے امریکی ہدایتکار جوشوا سیفٹیل کی’اسٹرینجر ایٹ دی گیٹ‘ کی حمایت کرنے پر فخر ہے، یہ نجات کے بارے میں ایک طاقتور اور سچی کہانی ہے۔

    واضح رہے کہ اس شارٹ ڈاکیومنٹری کی کہانی ایک ایسے امریکی میرین افسر پر مبنی ہے جومسلمانوں کی عبادت گاہ مسجد کو بم سے اُڑانے کا منصوبہ بناتا ہے تاہم اس منصوبہ بندی کے دوران کئی مرتبہ مسجد جانے اور مسلمانوں سے متاثر ہو کر اس کا دل بدل جاتا ہے اور وہ مسجد کو بم سے اُڑانے کے بجائے اسلام قبول کر کے مسلمان ہوجاتا ہے امریکی میرین افسر رچرڈ میک کینی اب مذکورہ مسجد کے صدر ہیں اور عبادت میں مشغول رہتے ہیں۔

    دا گریٹ گاما کسے ڈائریکٹ کرنی چاہیے ناصر ادیب نے بتا دیا

  • دیدار کوانڈین فلم میں کام کی آفر، اپنی شرط رکھ دی

    دیدار کوانڈین فلم میں کام کی آفر، اپنی شرط رکھ دی

    سٹیج اور فلموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھانے والی اداکارہ دیدار نے ھال ہی میں اپنے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ مجھے متعدد مرتبہ انڈیا سے کام کی آفر ہوئی لیکن کسی نہ کسی وجہ سے وہ آفر قابل عمل نہ ہو سکی ، ابھی بھی میرے پاس ایک آفر ہے لیکن مجھے لگ رہا ہے کہ میں شاید اس فلم میں کام نہیں‌کروں گی ، مجھے ایک اعتراض ہے وہ اعتراض یہ ہے کہ اس فلم کا ہیرو مجھے پسند نہیں ہے وہ ایک گلوکار ہے اگر اسکو تبدیل کر دیا گیا تو ہو سکتا ہے میں فلم کر بھی لوں. دیدار نے مزید کہا کہ ویسے تو انڈین فلمیں میری دلچپسی نہیں ہیں لیکن اگر کوئی اچھی آفر ہو اور میری شرائط پر مجھے فلم ملے تو یقینا کر لوں گی. یاد رہے کہ دیدار سٹیج و فلم اداکارہ نرگس کی چھوٹی بہن ہیں. دونوں نے سٹیج کی دنیا

    میں بہت نام کمایا ان پر سٹیج پر فحش رقص کرنے کے الزامات بھی لگے. نرگس تو شوبز کی چکا چوند چھوڑ کر اپنے بیوٹی پارلر میں مصروف ہو چکی ہیں تاہم دیدار بھی انہی کے نقش قدم پر چلتی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں. دونوں بہنوں نے سٹیج پر بہت عروج دیکھا. اس دوران ان کے کئی سکینڈلز بھی بنے لیکن ان دونوں نے کبھی بھی کسی سکینڈل پر پریشانی کا اظہار نہیں کیا.

  • سینل شیٹی کی بیٹی کی شادی کی تقریبات ان کے فارم ہائوس پر ہوں گی

    سینل شیٹی کی بیٹی کی شادی کی تقریبات ان کے فارم ہائوس پر ہوں گی

    نوے کی دہائی میں‌بالی وڈ میں بطور ایکشن ہیرو قدم رکھنے والے سنیل شیٹی کی بیٹی اتھیا شیٹی جو کہ 17 برس کی ہیں وہ 23 جنوری کو شادی کے بندھن میں بندھنے جا رہی ہیں. شادی کی تقریبات زورو شور سے جاری ہیں.اتھیا شیٹی اپنے دیرینہ دوست کے ساتھ شادی کے بندھن میں بندھ رہی ہیں. کہا جا رہا ہے کہ شادی کی تقریبات سنیل شیٹی کے فارم ہائوس پر ہوں گی اس ھوالے سے تمام تر تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں، تاہم اتھیا اپنے لیول پر کچھ خصوصی تیاریوں میں بھی مصروف ہیں. کہا جا رہا ہےکہ اس شادی میں سنیل شیٹی کے قریبی رشتہ دار اور دوست شامل ہوں گے اور اتھیا بھی اپنی بہت ہی قریبی دوستوں کو شادی میں‌مدعو کریں گی. یاد رہے کہ اتھیا شیٹی کی شادی کے حوالے سے جب سینل شیٹی سے ایک بار سوال

    ہوا تھا تو انہوں نے کہا تھا کہ اتھیا کو آزادی ہے وہ جس کو پسند کریگی اسکو شادی کی اجازت ہو گی میں اسکی خوشی میں خوش ہوں گا اور مجھے امید ہے کہ اس نے جسکو بھی اپنا جیون ساتھی چنا ہے وہ بہت خوش رہے گی اور وہ اپنے فیصلے پرکبھی پچھتائے گی نہیں . یاد رہے کہ سنیل شیٹی کی بیٹی نے بالی وڈ میں کام کیا ہے لیکن بہت کم ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بالی وڈ‌کی فلمیں اتھیا کی منزل نہیں ہیں .

  • کیارا اڈیوانی اور سدھارتھ کی شادی کے وینیو کی سجاوٹ پر کتنا خرچ آئیگا

    کیارا اڈیوانی اور سدھارتھ کی شادی کے وینیو کی سجاوٹ پر کتنا خرچ آئیگا

    کیارا ایڈوانی اور سدھارتھ ملہوترا بالی وڈ کی سب سے زیادہ پسند کی جانے والی جوڑیوں میں سے ایک ہے. گزشتہ برس ان دونوں کی شادی کی خبریں گردش کرتی رہیں لیکن اس سال یہ دونوں شادی کے بندھن میں بندھ رہے ہیں. اگلے ماہ کی 6 تاریخ کو دونوں شادی کررہے ہیں اور شادی کی تقریبات راجھستھان کے رائل ہوٹل میں‌ ہوں گی. کہا جا رہا ہے کہ خالی اس وینیو کی سجاوٹ میں پچیس لاکھ روپے خرچ کئے جائیں گے. یہ وہی ہوٹل ہے جس میں‌کترینہ کیف اور وکی کوشل نے شادی کی تھی. کہا جا رہا ہے کہ 65 ایکٹر رقبے پر بنے اس ہوٹل میں جدید سہولیات ہیں ، یہ وینیو کیارا کو 90 لاکھ میں‌ملا ہے. اس میں دو بڑی جھلیں بھی ہیں‌، گارڈنز اور ڈانس فلوار کے علاوہ اوپن ایریاز اور بڑے ڈائننگ ایریاز بھی ہیں. کہا جا رہا ہے

    کہ کیارا اپنی شادی کو یادگار بنانے کے لئے کوئی بھی کسر نہیں چھوڑ رہی ہیں. یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ کیارا اور سدھارتھ کی شادی یادگار اس لئے بھی ہو گی کیونکہ اس میں ہونے والے انتظامات سپنوں جیسے ہیں. کترینہ اور وکی کوشل کے بعد کیارا اور سدھارتھ اپنی شادی کو اس جگہ پر یادگار بنانے جا رہے ہیں.

  • امریکہ میں بھائی کا انتقال ہوا میں جنازے میں شریک نہ ہو سکی صرحا اصغر

    امریکہ میں بھائی کا انتقال ہوا میں جنازے میں شریک نہ ہو سکی صرحا اصغر

    چھوٹی سکرین کی معروف اداکارہ صرحا اصغر نے حال ہی میں ایک انٹرویو دیا ہے اس میں انہوں نے اپنے بھائی کے ساتھ ہونے والی ٹریجڈی کو بیان کیا ہے. انہوں نے کہا کہ میرا بھائی جو کہ امریکہ میں‌رہتا تھا اور امریکہ کی آرمی میں‌کام کرتا تھا اس نے امریکن آرمی کے لئے کئی سال تک کام کیا، اسکی ڈیوٹی آفغانستان میں لگی تھی ، وہ اپنے کیمپ میں‌موجود تھا کہ اس کیمپ پر حملہ کردیا گیا اس حملے کے نتیجے میں‌میرے بھائی اللہ کو پیارے ہوگئے. میرے بھائی کو امریکہ میں ہی دفن کیا گیا میں اس کے جنازے میں شریک نہ کو سکی ، میرے یہاں اے لیولز کے پیپرز تھے جن کو میں مس نہیں‌کر سکتی تھی کیونکہ میرا بھائی بہت شوق اے میری فیس بھرتا تھا. صرحا نے کہا کہ مجھے کوئی پچھتاوا نہیں ہے لیکن یقینا

    افسوس ہے کہ بھائی کے جنازے میں شریک نہ ہو سکی. صرحا نے کہا کہ میں کسی کے بھی جنازے میں ویسے ہی شریک نہیں‌ہو سکتی ، مجھ میں جنازہ اٹینڈ کرنے کا حوصلہ اورہمت ہی نہیں ہے. یوں صرحا نے بتایا کہ وہ کتنی کمزور دل ہیں کہ دنیا سے چلے جانے والے کسی بھی انسان کے جنازے میں شریک نہیں‌ہو سکتیں.

  • دا  گریٹ گاما کسے ڈائریکٹ کرنی چاہیے ناصر ادیب نے بتا دیا

    دا گریٹ گاما کسے ڈائریکٹ کرنی چاہیے ناصر ادیب نے بتا دیا

    ناصر ادیب اور بلال لاشاری کی جوڑی نے دا لیجنڈ آف مولا جٹ جیسا شاہکار بنا کر شائقین کے دل جیت لئے ہیں. اس فلم نے کامیابی کے وہ ریکارڈز قائم کئے ہیں جس کا سوچا بھی نہیں‌جا سکتا تھا. اس فلم میں جس جس نے جو جو بھی کام کیا ہے اس سے اب مزید بہت بہتر بلکہ بہترین کام کی توقع کی جا رہی ہے. دا لیجنڈ آف مولا جٹ کے بعد ناصر ادیب کو بہت سارے فلمسازوں نے بطور رائٹر سائن کر لیا ہے. تاہم ناصر ادیب کا ابھی تک کا سب سے زیادہ ایکسٹائٹنگ پراجیکٹ دا گریٍٹ گاما ہے. شائقین کو اس فلم کا بے چینی سے انتظار ہے ، اس فلم کی کاسٹ کیا ہو گی کون مرکزی کردار کرے گا اس کی مکمل تفصیلات سامنے آنے والی ہیں. اس فلم کے لئے ابھی ڈاریکٹر کا انتخاب بھی نہیں‌کیا گیا ، لہذا ناصر ادیب کا کہنا ہے

    کہ دا گریٹ‌گاما بہت بڑے بجٹ کے ساتھ فلم بننے جا رہی ہے ، اس کی ڈائریکشن کلاسک ہونی چاہیے اور اس فلم کو بلال لاشاری یا حسن عسکری جیسے ڈائریکٹر کو بھی ڈائریکٹ کرنا چاہیے تب جا کر بات بنے گی. یہ فلم جتنی بڑی ہے اتنا ہی بڑا اور تجربہ کار ڈائریکٹر درکار ہے اور بلال لاشاری حسن عسکری اس کےلئے بہترین چوائس ہیں . یاد رہے کہ فلم کے ڈائریکٹر کا انتخاب تاحال نہیں‌ہوا اب دیکھنا یہ ہے کہ بلال لاشاری ، حسن عسکری یا کوئی اور اس فلم کو ڈائریکٹ کرتاہے.

  • پلان تبدیل ، کرن جوہر نہیں اب کریں گی بگ باس فرح خان ہوسٹ

    پلان تبدیل ، کرن جوہر نہیں اب کریں گی بگ باس فرح خان ہوسٹ

    رئیلٹی شو بگ باس جس کو اس بار چار ہفتے بڑھا دیا گیا ہے لیکن سلمان خان ، ساجد خان اور عبداللہ کو شو چھوڑنا پڑا کیونکہ بگ باس کے ساتھ جو کنٹریکٹ طے پایا تھا وہ انہیں‌ہر حال میں ختم کرنا تھا کیونکہ ان کو آگے بھی شوٹنگ کرنی تھی اور وہ ڈیٹس دے چکے تھے. سلمان خان کے چلے جانے کے بعد کہا جا رہا تھا فلم میکر کرن جوہر بگ باس کی چار ہفتوں‌کی ہوسٹنگ کریں گے لیکن اب پلان میں‌تبدیلی آگئی ہے اب کرن جوہر نہیں‌بلکہ ساجد خان کی بہن فرح‌خآن بگ باس کی ہوسٹنگ کریں گی. کرن جوہر اس شو کی ہوسٹنگ کیوں نہیں‌کررہے اسکی تٍفصیلات سامنے نہیں آ سکیں. لیکن یہ کنفرم ہو چکا ہے کہ فرح‌خان بگ باس کی ہوسٹنگ کرنے جا رہی ہیں. یاد رہے کہ سلمان خان گزشتہ 13 برس سے بگ باس

    کی ہوسٹنگ کررہے ہیں ان کے علاوہ کبھی بھی کسی نے بگ باس کی ہوسٹنگ کی تو انہیں‌پسند نہیں‌کیا گیا، فرح‌خآن پہلے بھی مختصر عرصے کے لئے بگ باس کی ہوسٹنگ کر چکی ہیں دیکھنا یہ ہے کہ سلمان کے بعد ان کی ہوسٹنگ کو پسند کیا جاتا ہے یا نہیں . بگ باس بھارت کا سب سے بڑا ا ور مقبول ترین رئیلٹی شو ہے.