Baaghi TV

Tag: Saudi Arabia

  • معروف  فٹبالر کی منفرد گھڑی توجہ کا مرکز بن گئی

    معروف فٹبالر کی منفرد گھڑی توجہ کا مرکز بن گئی

    معروف فٹبالر کی منفرد گھڑی توجہ کا مرکز بن گئی

    اسٹار فٹبالررونالڈو اورسعودی کلب النصر کے مابین معاہدہ ہوتے ہی دنیا بھرکی کی توجہ ریاض اور رونالڈو پرمرکوز ہے، کھیل کے میدان سے باہر بھی رونالڈو کی سرگرمیوں پر خصوصی نظر رکھی جارہی ۔ پرتگالی اسٹار نے جب پہلی مرتبہ النصر کلب کی شرٹ پہنی تو مارسول پارک اسٹیڈیم میں سبھی انہیں دیکھنے کے لیے بےتاب تھے، رونالڈوکا کہنا تھا کہ ’النصر کلب کا وژن متاثر کن ہے-

    یہ میچ نہ کھیلنے والے رونالڈو عالمی کھلاڑیوں کے ساتھ اسٹیڈیم پہنچنے والے پہلے شخص تھے، انہوں نے اپنی ٹیم کی تربیتی شرٹ میں ملبوس شائقین کے ساتھ تصویریں کھنچوائیں اور شیئربھی کیں تو رونالڈو کی کلائی پر بندھی گھڑی بھی سب کی نظرمیں آئی اور بڑے پیمانے پر توجہ حاصل کی۔ رونالڈو جہاں جاتے ہیں وہاں سے ہم آہنگی کا بھی خاص خیال رکھتے ہیں، سعودی عرب میں بھی انہوں نے ایک منفرد گھڑی کا انتخاب کیا جس میں عربی ہندسے بھی موجود ہیں۔

    العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگومیں ’’ورلڈ آف واچز‘‘ سے تعلق رکھنے والے ایک ماہر نے بتایا کہ رونالڈو نے ”رولیکس“ برانڈ کی ’’کوسمو گراف ڈیٹونا‘‘ گھڑی پہنی جس بیگویٹ ڈیزائن میں ہیرے جڑے ہوئے ہیں۔ یہ ڈیزائن زیورات میں عام ہے اور انگوٹھیوں اور گھڑیوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ گھڑی کے اس ڈیزائن کا نام مشہور فرانسیسی بریڈ کے نام پررکھا گیا۔ اس ڈیزائن میں ایک چھوٹا ہیرا مستطیل یا مربع شکل کا ہوتا ہے جس کے سیدھے یا نوکیلے کنارے اور لمبے اطراف ہوتے ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    لیپ ٹاپ گم ہونے پر گاہک نےغصے میں اپنی کار ہوٹل پر دے ماری
    نادیہ خان 38 ہزار ڈالرز گنوا بیٹھیں. اداکارہ نے دلچسپ واقعہ سنا کر حیران کر دیا
    گھڑی کی قیمت کا تخمنیہ 6 لاکھ 50 ہزار سعودی ریال ہے، اس کا باقاعدہ پہلا ورژن 1963 میں آیا تھا۔ گھڑی کا ڈیزائن پروفیشنل ریسنگ کار ڈرائیورز کی ضروریات کو پورا کرتا ہے۔ اس کی اعلیٰ کارکردگی، ایک ٹیکی میٹرک سکیل اور ڈائل کے تین کاؤنٹرز کی وجہ سے یہ گھڑی صارف کو گزرے وقت کی درست پیمائش کی سہولت فراہم کرتے ہوئے اپنی نوعیت کی ایک منفرد گھڑی ہے۔ گھڑی کاسٹین لیس سٹیل کا فریم خراشوں سے پاک رہتا ہے جبکہ یہ سورج کی شعاعوں کے خلاف بھی بھرپور مزاحمت رکھتا ہے۔ گھڑی پر سونے یا پلاٹینم کی پتلی تہہ لگائی جاتی ہے۔

  • ایران نے توسیع پسندی کی روش نا بدلی تو انجام کا زمہ دار خود ہوگا، کنگ سلمان کی دھمکی

    ایران کے توسیع پسندانہ عزائم کی وجہ سے خطہ عدم استحکام کا شکار ہوا، ایران کی توسیع پسندی کی یہ خواہش خود ایران کیلئے خطرناک ثابت ہوگی. ان خیالات کا اظہار کنگ سلمان نے ایک تقریب سے گفتگو کے دوران کیا.

    ان کا کہنا تھا کہ تیل کی ترسیل سے متعلق پالیسی کا مقصد خطے میں تیل کی سپلائی کو محفوظ بنانا ہے. وژن 2030 سعودیہ کیلئے مزید ترقی کا زریعہ ثابت ہوگا. انہوں نے کہا کہ ہم مسئلہ فلسطین پر اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ ہیں، اور انکے قدم سے قدم ملا کر کھڑے رہیں‌ گے.

    انہوں نے کہا کہ سعودیہ پر 286 میزائل جبکہ 289 ڈرون حملے ہوئے ہیں. جنکی بڑی وجہ ایران کے توسیع پسندانہ عزائم ہیں. انکا کہنا تھا کہ ایران کے یہ عزائم سعودیہ کی سلامتی کیلئے بڑا خطرہ ہیں. ایران کو متنبہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران کو یہ یاد رکھنا چاہئے جو وہ بوئے گا وہی کاٹے گا.انکا مزید کہنا تھا کہ امن ہماری خواہش ہے لیکن اگر کوئی ہماری خود مختاری کو چیلنج کرے گا تو اسکے لیے ہم کسی بھی حد سے گریز نہیں کریں گے.

    اس حوالے سے مزید جانیں

    سعودیہ کا یمن کے متحارب گروپوں کے درمیان امن معاہدہ خطے میں امن لا سکے گا؟

    ایران کی کس پیشکش کو سعودیہ نے سستی سوداگری قرار دے دیا

    آرامکو حملوں کا جواب دینے کے کئ آپشن موجود ہیں. سعودیہ

     

  • رواں سال کتنے سعودی قیدیوں کو حج کرایا گیا؟ جانئے

    رواں سال کتنے سعودی قیدیوں کو حج کرایا گیا؟ جانئے

    مکہ (اے پی پی) رواں سال 50 سعودی قیدیوں کو حج کرایا گیا.

    تفصیلات کے مطابق سعودی محکمہ جیل خانہ جات نے اس سال قیدیوں کے حوالے سے نئی روایت قائم کی ہے۔ پہلی مرتبہ 50 سعودی قیدیوں اور ان کے32 اہل خانہ کو حج کا موقع دیا گیا۔ سعودی محکمہ جیل خانہ جات نے جیل حکام اور قیدیوں کے درمیان اعتماد کا رشتہ بحال کرنے کے لئے ایک ادارہ ’ثقہ‘ کے نام سے قائم کیا ہے۔ اس کے تحت قیدیوں کو حج کرایا گیا۔ سعودی میڈیا کے مطابق حج کرنے والے قیدی فوجداری یا بدامنی کے مقدمات کے مجرم تھے۔ انہیں عام حاجیوں کی طرح حج کے تمام کام انجام دینے کا موقع فراہم کیا گیا۔ انہیں عصری سہولتوں سے آراستہ مکانات میں ٹہرایا گیا۔

    دوسری جانب قیدیوں کو اعلی درجے کی سہولتیں مہیا کی گئیں۔ جدیدترین ایئر کنڈیشنڈ بسوں سے سفر کرایا گیا۔ نگرانی کے لئے محکمہ جیل خانہ جات کے چند اہلکاروں کو بھی ان کے ہمراہ رکھا گیا تھا.

  • شاباش سعودی حکومت: حاجیوں کو اب تک کی بہترین سہولت دیدی گئی

    مکہ (اے پی پی) سعودی عرب میں راستہ بھولنے والے حاجیوں کیلئے رہنما نقشہ جاری کردیا گیا ہے.

    تفصیلات کے مطابق مکہ ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے گمشدہ حاجیوں کی رہنمائی کے لئے منیٰ ، مزدلفہ اور عرفات میں رہنما مراکز قائم کر دیئے۔ جہاں رہنما نقشے جاری کئے گئے ہیں جو راستہ بھولنے والے حجاج کو اپنے کیمپوں تک پہنچنے میں مدد دیں گے ۔ واضح رہے کہ حج مقامات کے نئے نقشوں میں خیموں کا محل وقوع متعین کیا گیا ہے جبکہ منیٰ ، مزدلفہ اور عرفات کے اہم مقامات کو بھی نمایاں اجاگر کیا گیا ہے۔ حاجیوں کو رہنما نقشہ جاری کرنا بلاشبہ ایک بہترین قدم ہے جس سے اب کوئی حاجی راستہ بھول بھی جائے تو اپنے کیمپوں تک پہنچ سکے گا.

  • سعودی عرب :حرم مکی کے ستونوں کی تاریخ کی دلچسپ کہانی

    سعودی عرب :حرم مکی کے ستونوں کی تاریخ کی دلچسپ کہانی

    حرم مکی جہاں روزانہ ہزاروں لوگ زیارت کے شوق سے جاتے ہیں اور وہاں گزرے ہوئے تمام لمحات ان کی زندگی کی تاریخ کا حصہ بن جاتے ہیں .لیکن اس کے باوجود اس حرم کی زیارت کرنے والے اس کے خوبصورت ستونوں کی تاریخ سے شاید واقف نہیں .ان ستونوں کی تاریخ سے متعلق مورخ کیا لکھتے ہیں ذرا ملاحظہ فرمائیں

    عباسی اور ترک دور کے رواقوں کی’مطاف توسیعی پراجیکٹ‘ کے تحت اب دوبارہ بحالی کا کام مکمل ہو چکا ہے۔ سابق سعودی فرما نروا شاہ عبداللہ کے دور میں شروع ہونے والی مسجد الحرام کی توسیع کے بعد اب یہ سعودی قیادت کے زیر اہتمام عالم اسلام کا مشترکہ ورثہ ہے۔مورخین کے مطابق بارہ سو سال پہلے قدیم دالانوں کی تعمیر کے لیے ٹنوں وزنی سنگ مرمر کے ستونوں کو عراق و شام سے مکہ مکرمہ تک لایا گیا لیکن یہ نا قابل یقین اور پراسرار لگتی ہے۔مکہ کے سابق مشیر اور معروف پاکستانی آرکیٹکٹ سلیم بخاری نے اردو نیوز کو بتایا کہ رواقوں کی دوبارہ بحالی کے کام میں سنگ مر مر اور پتھر کے سینکڑوں برس پرانے ستونوں کو نئی تعمیر میں دوبارہ استعمال کیا گیا ہے۔ قدیم مطاف کے دالانوں کی تعمیر کے لیے استعمال ہونے والے ستونوں کی تعداد دوس سے تین سو جبکہ ان کی اونچائی لگ بھگ پانچ میٹر تھی۔ نئی تعمیر میں ستونوں کا ڈیزائن اور اونچائی تبدیل کی گئی ہے۔ یہ اونچائی عباسی اور ترک دور سے زیادہ ہے۔ ہر ستون کے نیچے ایک بڑا بیس بھی تعمیر کیا گیا ہے تاہم قدیم اور نئے رواقوں کے ڈیزائن میں کوئی خاص فرق نہیں۔

    حرم مکی کی مختلف ادوار میں کئی مرتبہ توسیع کی گئی۔ مطاف کی بڑی توسیع عباسی خلیفہ مہدی کے دور میں کی گئی۔ ترکوں کے دور میں اس توسیع کے اوپر چھت ڈالی گئی، گنبد اور محراب بنائے گئے۔ اسی لیے حرم کے قدیم دالانوں کو ترکوں سے منسوب کیا جاتا رہا ہے۔ بعد ازاں شاہ سعود اور شاہ فہد کے دور میں توسیع ہوئی لیکن سارا توسیعی کام ترکوں اور بنو عباس کے قدیم دالانوں کے باہر کیا گیا تاہم شاہ عبداللہ کے دور میں مطاف کی توسیع کے لیے قدیم دالانوں کو منہدم کرکے دوبارہ بنایا گیا ہے۔عباسی خلیفہ المہدی نے مطاف کے دالانوں کی تعمیر شروع کی۔ اس کے بیٹے موسی الہادی نے اسے مکمل کیا۔ دالانوں کی تعمیر کے لیے شام اور عراق سے سنگ مر مر کے ستون منگوائے گئے۔ ان پر لکڑی کی بیموں کی چھت ڈالی گئی جو تقریباً 800 سال برقرار رہی۔ 1570ء میں لکڑی کی چھت میں آگ لگنے سے سنگ مرمر کے کئی ستون گر گئے اور کچھ چٹخ گئے۔ترک سلطان سلیم دوئم کے حکم پر ٹوٹے ہوئے ستونوں کی جگہ پتھر کے ستون لگائے گئے اور جو ستون چٹخ گئے تھے ان کی مرمت کرتے ہوئے انہیں لوہے کی پتریوں سے باندھا گیا جبکہ کچھ کو پلستر کر کے جوڑا گیا۔
    ایک اندازے کے مطابق قدیم دالانوں میں ہر چار میں سے ایک ستون کی مرمت کی گئی یا اسے پتھر کے ستون سے تبدیل کیا گیا۔ قدیم دلانوں میں عباسی دور کے ستون نصب ہیں تاہم لکڑی کی چھت گرنے کے بعد پکی چھت اور گنبد ترکوں کا کام ہے۔ اس کے لیے لال پتھر وادی فاطمہ سے لائے گئے تھے جو شمیسی کے قریب پہاڑی سلسلے میں واقع ہے۔ اس طرح کے کچھ پتھر اب بھی موجود ہیں۔

    مطاف کے دلانوں میں نصب ستون کتنے پرانے ہیں اور کہاں سے لائے گئے، اس کے پیچھے بھی ایک دلچسپ کہانی ہے۔ پہلے خیال تھا کہ یہ ستون شام اور مصر سے لائے گئے ہوں گے لیکن اب ماہرین کا تحقیق کے بعد اس بات پر اتفاق ہے کہ بیشتر ستون غالباً عراق سے لائے گئے کیونکہ شام یا مصر سے ان ستونوں کا مکہ لانا مشکل تھا۔ کوفہ سے ان ستونوں کو بحری راستے سے لایا جا سکتا ہے کیونکہ کوفہ دریا کے قریب ہے۔ کشتی میں ستون لاد کر سمندر کے راستے سعودی بندرگاہ الشعیبہ تک لایا جانا ممکن لگتا ہے۔ بہ نسبت دمشق یا حلب سے کیونکہ ساحلی پٹی بحیرہ احمر کی طرف ہے۔ یا تو ستونوں کو بحری جہاز پر لاد کر پہلے عقبہ کی بندرگاہ بھی لے جایا جاتا اور وہاں سے جدہ کی بندرگاہ لایا جاتا لیکن تاریخ میں اس راستے کا کوئی ذکر نہیں۔ شام سے زمین کے راستے بھی یہ کام ممکن نہیں تھا۔ غالب امکان یہی ہے کہ ستونوں کو بصرہ سے خلیج عرب کے راستے عمان، حضر موت اور یمن سے ہوتے ہوئے الشعیبہ بندرگاہ لایا گیا ہوگا۔ اس زمانے میں الشعیبہ ماہی گیروں کی چھوٹی سی بستی تھی۔