Baaghi TV

Tag: science Technology

  • مصنوعی ذہانت؛  افرادی قوت میں موجود تقریبا نصف مہارتیں  دو سال بعد ختم. تحقیق میں انکشاف

    مصنوعی ذہانت؛ افرادی قوت میں موجود تقریبا نصف مہارتیں دو سال بعد ختم. تحقیق میں انکشاف

    ایگزیکٹوز کا خیال ہے کہ مصنوعی ذہانت کی بدولت آج کی افرادی قوت میں موجود تقریبا نصف مہارتیں اب سے صرف دو سال بعد متعلقہ نہیں ہوں گی۔ اور اس میں سے بہت کچھ ان کی اپنی مہارتوں میں شامل ہے. یہ چونکا دینے والا اعلان ایک آن لائن تعلیمی پلیٹ فارم ایڈ ایکس کی جانب سے جاری کردہ 800 ایگزیکٹوز اور 800 ملازمین کے حالیہ سروے کے بعد سے سامنے آیا ہے۔

    فوربز کے مطابق ایگزیکٹوز کا اندازہ ہے کہ آج ان کی افرادی قوت میں موجود تقریبا نصف (49 فیصد) مہارتیں 2025 میں متعلقہ نہیں ہوں گی۔ یہی تعداد، 47 فیصد، کا ماننا ہے کہ ان کی افرادی قوت مستقبل کے کام کی جگہ کے لئے تیار نہیں ہے. تعلیمی پلیٹ فارم فراہم کرنے والے کی طرف سے مہارت کی کمی کی نشاندہی کرنا کوئی حیرت انگیز نتیجہ نہیں ہے ، لیکن مختصر وقت آنکھیں کھولنے والا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پاکستان کا غزہ میں انسانی امداد بھیجنے کا فیصلہ
    سابق کر کٹر وسیم اکرم قومی ٹیم کے فٹنس کے حوالے سے پریشان
    پیٹرول کی قیمت کم ہونے کا فائدہ عام آدمی کو پہنچائیں گے. عامر میر
    آسٹریلیا نے دو کٹوں‌کے نقصان پر 39 رنز بنا لیئے
    نگران وزیرِ اعظم انوار الحق کاکڑ دورہ چین کیلئے بیجنگ پہنچ گئے
    جبکہ سروے میں شامل ایگزیکٹوز کا اندازہ ہے کہ اگلے پانچ سالوں میں، ان کی تنظیمیں مصنوعی ذہانت کی وجہ سے انٹری لیول نالج ورکر کے کردار کے نصف سے زیادہ (56 فیصد) کو ختم کردیں گی۔ مزید یہ کہ ، 79٪ ایگزیکٹوز نے پیش گوئی کی ہے کہ انٹری لیول نالج ورکر کی نوکریاں اب موجود نہیں ہوں گی کیونکہ مصنوعی ذہانت افرادی قوت میں داخل ہونے والے ملازمین کے لئے مکمل طور پر نیا کردار تخلیق کرتی ہے۔ اس کے علاوہ، 56٪ کا کہنا ہے کہ ان کے اپنے کردار "مکمل طور پر” یا "جزوی طور پر” مصنوعی ذہانت سے تبدیل ہوجائیں گے.

    تاہم واضح رہے کہ صنعت کے رہنما ایسے بھی ہیں جو اس طرح کی بھاری بھرکم تباہی کی پیشگوئیوں پر شکوک و شبہات کا شکار ہیں۔ ایچ سی ایل سافٹ ویئر کے ایگزیکٹو نائب صدر اور جنرل منیجر رچرڈ جیفٹس کہتے ہیں کہ "میرے خیال میں کیریئر کے اہداف پر مصنوعی ذہانت کا فوری اثر کم سے کم ہونے کا امکان ہے۔ اگرچہ بہت سی کمپنیاں مصنوعی ذہانت سے فائدہ اٹھانے کا دعویٰ کرتی ہیں ، لیکن حقیقت یہ ہے کہ زیادہ تر ابھی بھی اپنانے کے ابتدائی مراحل میں ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کے پختہ ہونے کے ساتھ کیریئر پر طویل مدتی اثرات کی توقع ہے۔

  • 15 اگست تک جی میل   ٹرانسلیشن فیچر تمام صارفین استعمال کرسکیں گے

    15 اگست تک جی میل ٹرانسلیشن فیچر تمام صارفین استعمال کرسکیں گے

    گوگل کے مطابق جی میل کی ایپلی کیشن میںٹرانسلیشن کے فیچر کو پیش کردیا گیا ہے لیکن ترتیب وار تمام صارفین کو اس تک رسائی دے دی جائے گی۔ گوگل نے اپنے ایک مضمون میں بتایا کہ اینڈرائیڈ صارفین کے موبائلز پر 15 اگست تک مذکورہ فیچر نظر آنے لگے گا جب کہ آئی او ایس صارفین کے موبائلز میں 21 اگست تک فیچر شامل ہوجائے گا۔

    تاہم واضح رہے کہ گوگل جی میل پر ترجمے کی سہولت فراہم کرتا ہے جب کہ گوگل ٹرانسلیشن دنیا کی 100 سے زائد زبانوں میں بھی دستیاب ہے۔ گوگل ٹرانسلیشن کو جی میل بھی شامل کیا جا چکا ہے جب کہ ڈیسک ٹاپ پر اسے استعمال کرنے والے افراد گزشتہ کئی سالوں سے اس سہولت سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نگران حکومت کو ہر صورت مہنگائی کو قابو کرنا ہو گا ، راجہ ریاض
    نو مئی یوم سیاہ کے طورپر، آج رات اسمبلی تحلیل کی سمری بھیجوں گا، وزیراعظم
    ایشیا کپ اورافغانستان سیریز کیلئے 18 رکنی اسکواڈ کا اعلان
    نواز شریف بہت جلد واپس آرہے، مریم نواز شریف نے عندیہ دے دیا
    روپے کی قدر میں بحالی

    کمپنی کے مطابق ترجمے کا فیچر ای میل کے ٹاپ پر نظر آئے گا، صرف ایک کلک پر صارفین موصول ہونے والی ای میل کو مطلوبہ زبان میں پڑھ سکیں گے۔ اس ضمن میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر کسی صارف کو آئندہ 15 دن کے اندر ای میل کے ٹاپ پر ترجمے کا فیچر نظر نہ آئے تو ایسے صارفین کو جی میل کی سیٹنگ میں جا کر ٹرانسلیشن کے فیچر کو آن کرنا پڑے گا۔ کمپنی کے مطابق ٹرانسلیشن کے آپشن کو ڈسمس کیے جانے کے بعد دوبارہ بھی مذکورہ فیچر ای میل کے ٹاپ پر نطر آئے گا لیکن اگر کوئی صارف ترجمے کے فیچر کو ہمیشہ کے لیے سیٹنگ میں جا کر بلاک کرے گا تو اس سے دوبارہ ترجمے کی اجازت دینا نہیں پوچھا جائے گا۔

  • روسی سائنسدان نے تحقیق کیلئےاپنے دماغ کی خود ہی سرجری کرڈالی

    روسی سائنسدان نے تحقیق کیلئےاپنے دماغ کی خود ہی سرجری کرڈالی

    ماسکو سے تعلق رکھنے والے سائنسدان نے اپنے گھر کے کمرے میں اپنے ہی دماغ کی سرجری کرڈالی۔

    باغی ٹی وی : روسی میڈیا رپورٹس نے 40 سالہ سائنسدان مائیکل راڈوگا کے حوالے سے بتایاگیا ہے کہ انہوں نے اپنے خوابوں کو کنٹرول کرنے کے لیے اپنے دماغ کی سرجری کرکے الیکٹروڈ نصب کردیا ہے۔

    مائیکل راڈوگا ایک روسی محقق ہیں جن کے پاس نیورو سرجری کی کوئی تعلیمی اسناد نہیں، انہوں نے مبینہ طور پرگزشتہ ماہ اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال دیا کیونکہ وہ قازقستان میں ا اپنے گھر میں دماغ کی سرجری کی اور اس دوران ان کا ایک لیٹر سے زیادہ خون ضائع ہوا-

    3 ماہ تک سمندر میں کچی مچھلی کھا کر اور بارش کا پانی پی کر …

    مائیکل راڈوگا کا ماننا ہے کہ ان کے دماغ میں الیکٹروڈ نصب کرنے سے وہ خوابوں کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت پیدا کرلیں گے،راڈوگا اگزچہ کوئی ڈاکٹر نہیں لیکن وہ ریسرچ سینٹر اور ایک تنظیم کے بانی ہیں جو دعویٰ کرتی ہے کہ نیند کے فالج (sleep paralysis)، جسم سے باہر کے تجربات اور ایسٹرل پروجیکشن کا تجربہ کرنا ممکن ہے انہوں نے اپنے انتہائی خطرناک تجربے کا موازنہ فلم آف انسیپشن سے کیا – یہ دعویٰ کیا کہ اس کے ‘الیکٹروڈ’ میں روشن خوابوں کا رخ بدلنے کی صلاحیت ہے۔

    سعودی عرب میں موسلا دھار بارشیں، صحرائی اور پہاڑی وادیاں پانی سے بھر گئیں

    سرجری کے حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ وہ خوش ہیں کہ وہ زندہ ہیں لیکن سرجری کے دوران اپنا خون ضائع ہوتا دیکھ کر وہ مرنے کےلئے بھی ذہنی طور پر تیار تھے روس میں مائیکل کے کافی فالوور ہیں جو اس واقعے کے بعد اس بات کی تعریف کررہے ہیں کہ مائیکل نے اپنے مقاصد کے حصول کیلئے تمام حدود پار کرلیں۔


    تاہم دوسری جانب نیورو سرجنز نے انتباہ جاری کیا ہے کہ یہ انتہائی خطرناک عمل ہے جو کسی بھی ناخوشگوار حادثے میں تبدیل ہوسکتا ہے جان لیوا مطالعہ کسی بھی ہم مرتبہ نظرثانی شدہ جرائد میں شائع نہیں ہوا ہے اور نہ ہی اسے کسی یونیورسٹی کی حمایت حاصل ہے، لیکن مسٹر راڈوگا نے دعویٰ کیا کہ انہیں اپنے لیے ایسا کرنے کی ضرورت ہے۔

    ساحل پر سمندر سے بہہ کر آنیوالا پراسرار دھاتی سلنڈرمعمہ بن گیا