Baaghi TV

Tag: shahrukh khan

  • والد رنگیلا گھر میں استاد کی طرح پیش آتے تھے فرح دیبا

    والد رنگیلا گھر میں استاد کی طرح پیش آتے تھے فرح دیبا

    مشہور کامیڈین اور ورسٹائل اداکار رنگیلا جنہوں نے کئی دہائیوں تک فلم انڈسٹری پر راج کیا ، انہوں نے لوگوں کے چہروں‌پر مسکراہٹیں بکھیریں. ان کی بیٹی فرح دیبا جو کہ سیاست میں ہیں اور انہوں نے مسلم لیگ ق جوائن کر رکھی ہے، انہوں نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ میرے والد نہایت ہی سنجیدہ اور شفیق انسان تھے وہ ہمارے ساتھ گھر میں استادوں کی طرح پیش آتے تھے. جب ہم چھوٹے تھے تو ہمارے گھر میں شوٹنگز ہوتی تھیں لیکن جیسے جیسے ہم بڑے ہونا شروع ہوئے تو ابو نے گھر میں شوٹنگز کرنا بند کر دیں. فرح دیبا نے کہا کہ میں جب بھی اداس

    ہوتی ہوں تو اپنے والد کی فلمیں دیکھتی ہوں ڈائیلاگز سنتی ہوں. آپ بھی جب اداس ہوں تو ان کی فلمیں دیکھا کریں انکی کامیڈی انجوائے کیا کریں. فرح دیبا نے کہا کہ مجھے کبھی بھی اداکاری کا شوق نہیں تھا ہوتا بھی تو شاید والد صاحب اجازت نہ دیتے.انہوں نے کہا کہ میرے والد دوسروں کی بہت زیادہ مدد کرتے تھے، آپ بھی دوسروں کی مدد کر کے دیکھیں آپ کو بہت زیادہ سکون ملے گا. انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک کے جو حالات ہیں ہم سب کو مل کر اسے ٹھیک کرنا ہو گا.

  • سلمی نے وحید مراد کے بعد شادی کیوں نہیں کی ؟‌

    سلمی نے وحید مراد کے بعد شادی کیوں نہیں کی ؟‌

    سلمی مراد جو کہ چاکلیٹی ہیرو وحید مراد کی اہلیہ ہیں، ان کا بیگم نوازش علی کے ساتھ انٹرویو کا ایک کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے، اس میں وہ بتا رہی ہیں کہ وحید مراد کے انتقال کے بعد مجھے بہت سارے موقع ملے لیکن میں نے شادی نہیں کی، کیونکہ میں شادی کرنا ہی نہیں چاہتی تھی. وحید مراد کے انتقال کے بعد میں بہت اکیلی ہو گئی تھی لیکن میں نے بہت سارے کاموں میں خود کو انوالو کر لیا. انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ میں نے وحید مراد کو بہت زیادہ آزادی دے رکھی تھی اور کوشش کرتی تھی کہ میری وجہ سے وہ اپ سیٹ نہ ہو. انہوں

    نے بھی مجھے میری مرضی کے مطابق ہر کام کرنے کی آزادی دے رکھی تھی. انہوں نے کہا کہ وحید مراد بہت اچھے انسان تھے وہ اپنے شوبز کو سٹوڈیو کی حد تک رکھتے تھے. سلمی مراد نے یہ بھی کہا کہ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میں نے اداکارہ بننا ہے، مجھے اداکاری کا شوق ہی نہیں تھا. انہوں نے کہا کہ وحید مراد نے بہت ساری ہیروئنز کے ساتھ کام کیا ،سب کے ساتھ اچھے لگتے تھے لیکن زیبا کے ساتھ ان کی جوڑی بہت اچھی لگتی تھی جب یہ جوڑی ٹوٹی تو لوگ بہت دکھی ہوئے تھے.

  • نتاشا علی کی والدہ نے ان سے دو سال بات کیوں‌ نہیں کی

    نتاشا علی کی والدہ نے ان سے دو سال بات کیوں‌ نہیں کی

    اداکارہ نتاشا علی نے کہا ہے کہ میں نے جب شوبز انڈسٹری جوائن کر لی تو دو سال تک میری ماں نے مجھ سے بات نہیں کی تھی، وہ نہیں‌چاہتی تھیں کہ میں شوبز میں آئوں. ان کو غصہ تھا کہ میں نے ان کی بات نہیں‌مانی. دو سال تک تو یہ سلسلہ رہا کہ میں جب بھی گھر جاتی اور امی کھانا کھا رہی ہوتیں تو وہ کھانا کھا کر جلدی سے اٹھ کر اپنے کمرے میں چلی جاتیں اور مجھ سے بات ہی نہ کرتیں ، پھر جب میں کراچی شفٹ ہوئی اور انہوں نے دیکھا کہ یہ اپنے گھر میں اکیلی رہتی ہے اس کے باوجود اسکی شکایت نہیں آتی تو اسکا مطلب یہ ہے کہ میری بیٹی کوئی غلط کام نہیں کرتی نہ ہی کسی ایسے کام میں پڑی ہے. انہوں‌نے کہا کہ اس کے بعد میری ماں میرے ساتھ کچھ ٹھیک ہونا

    شروع ہوئیں ، میں نے امی کو سونے کے کنگن بنا کر دئیے. انہوں نے کہا کہ اگر شوٹ ہو تو روزانہ گھر سے باہر نکلنا پڑتا ہے لیکن اگر شوٹ نہ ہوتو پھر میں‌گھر پر رہنے کو ترجیح دیتی ہوں، ٹی وی دیکھنا ، الماری ٹھیک کرنا ، کھانا کھانا ، یہ سب کرنے میں بہت مزا آتا ہےحالانکہ بہت سارے لوگ یہ کہتے ہیں‌کہ ہم تو گھر بیٹھ ہی نہیں سکتے لیکن میں ایسا نہیں کہتی بلکہ میں تو گھر پر رہنا ہی پسند کرتی ہوں.

  • ریڈیو ہے تو میں ہوں ساحر لودھی

    ریڈیو ہے تو میں ہوں ساحر لودھی

    ساحر لودھی جو گانا بھی گاتے ہیں، ایکٹنگ بھی کرتے ہیں ، ہوسٹنگ بھی کرتے ہیں اور ریڈیو بھی کرتے ہیں، ساحر لودھی کم مگر معیاری کام کرنے کو ترجیح دیتے ہیں، انہوں نے حال ہی میں ایک ٹی وی شو میں شرکت کی اور اس میں ان سے سوال ہوا کہ آپ ایکٹنگ ہوسٹنگ میں وقفہ ضرور لیتے ہیں‌ لیکن ریڈیو پر کام کرنے کا وقفہ نہیں لیتے. اس کی کیا وجہ ہے، اس کا جواب دیتے ہوئے ساحر لودھی نے کہا کہ ریڈیو میری جان ہے میری روح ہے، اگر ریڈیو نہیں ہو گا تو میں بھی نہیں ہوں گا.ریڈیو پر میں جو دو گھنٹے گزارتا ہوں وہ میرے ہوتے ہیں، صرف میرے ، اس میں‌

    کسی کا کوئی دخل نہیں ہوتا ، جو دل میں آتا ہے بات کرتا ہوں لوگ سنتے ہیں سراہتے ہیں. انہوں نے کہا کہ میں نے بولنے کےلئے کبھی سکرپٹ کا استعمال نہیں کیا بلکہ جو دل میں‌آئے بول دیتا ہوں اور یہ اللہ کی دین ہے. انہوں نے کہا کہ میں نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ میں کیسا نظر آتا ہوں، میں نے کیسے کپڑے پہنے ہیں ، کیسا بولا ہے بس جو بول دیا سو بول دیا. لہذا ریڈیو میری زندگی کے ساتھ ساتھ چل رہا ہے اور چلتا رہے گا.

  • سعدیہ امام کس اداکار کی دیوانی ہیں؟‌

    سعدیہ امام کس اداکار کی دیوانی ہیں؟‌

    سعدیہ امام نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ میں ایک ڈرامے میں‌ساھر لودھی کے ساتھ کام کررہی تھی ، میں نے محسوس کیا کہ ان کی آواز بہت خوبصورت ہے، میں نے ان سے ایک دن کہا کہ بات سنیں آپ کی آواز اتنی خوبصورت ہے تو آپ ریڈیو پر کام کیوں نہیں کرتے؟ اس پر انہوں نے کہا کہ میں ریڈیو پر کام کرتا ہوں، میرا ایک پروگرام آتا ہے، تم نے سنا نہیں ، تو میں نے کہا کہ نہیں تو پھر ساحر نے کہا کہ آج سننا، مجھے یاد ہے کہ میں نے ان سے کہا کہ میں آپ کے پروگرام میں کال کروں گی ، میں نے ان کے پروگرام میں‌کال کی اور کہا کہ آپ کی آواز بہت سحر انگیز ہے. سعدیہ امام نے کہا کہ میں‌پی ٹی وی پر کام کیا کرتی تھی تو میں‌سکرپٹ سے نکل جایا کرتی تھی

    خود سے بول لیا کرتی تھی ، تو کاظم پاشا مجھے کہا کرتے تھے کہ تم اچھا ایڈ کرتی ہوں اوکے کر ، سعدیہ امام نے بتایا کہ خلیل الرحمان قمر کا ایک ڈرامہ آدھا کرکے چھوڑ دیا تھا کیونکہ وہ کہتے تھے کہ سکرپٹ سے باہر نہیں نکلنا ، وہ کہتے تھے کہ میرے لکھے ہوئے کا زیر بھی نہ ہلے تو میں‌کہتی تھی کہ زیر کیا میں تو زبر کا بھی دھیان نہیں‌رکھ سکتی .

  • بوڑھے ہونے پر نانی دادی کے کردار کریںگی ، ماہ نور بلوچ سے سوال

    بوڑھے ہونے پر نانی دادی کے کردار کریںگی ، ماہ نور بلوچ سے سوال

    اداکارہ ماہ نور بلوچ کی تصاویر دیکھ کر اکثر ان کے مداح حیران رہ جاتے ہیں کیونکہ وہ بوڑھی نہیں لگتیں، وہ آج سے بیس سال پہلے جیسی لگتی تھیں ابھی بھی ویسی ہی لگتی ہیں. ہر کوئی ماہ نور بلوچ سے بہت متاثر نظر آتا ہے. حال ہی میں اداکارہ ماہ نور بلوچ ایک ٹی وی شو میں شرکت کی، اور اس میں ان سے سوال کیا گیا کہ آپ اگر خدانخواستہ بوڑھی ہو گئیں تو کیا نانی اور دادی کے رولز کریں گی تو اس پر ماہ نور بلوچ نے کہا کہ یہاں عمر کو لیکر بہت عجیب سا وریہ ہے کہ ہمیں کہنا پڑتا ہے کہ خدا نخواستہ اگر آپ بوڑھی ہو گئیں تو، بھئی کیوں ہے

    ایسا،ہمارے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ جو کردار میں نے ستائیس سال کی عمر میں کیا تھا وہی مجھے بار بار آفر ہو گا ، کیونکہ ایک کردر کرلیں تو پھر اس کا ٹھپہ لگ جتا ہے کہ اچھا اس نے یہ کیا تھا اب اسکو یہی کردار پھر سے آفر کرو کیوں بھئی ؟‌ جہاں تک نانی دادی کے کردار کرنے کی بات ہے تو اگر مجھے لگا کہ کہانیوں میں تبدیلیاں آنی شروع ہو گئیں اور عورتوں کو مضبوط دکھانے کا سلسلہ شروع ہو گیا اور میرے کرنے کے لئے کچھ نیا ہے تو یقینا میں کروںگی . نہ کرنے والی تو اس میں‌کوئی بات ہی نہیں ہو گی .

  • اپنے بیٹے کو پنجابی سکھانے پر میری اہلیہ بھڑک اٹھیں

    اپنے بیٹے کو پنجابی سکھانے پر میری اہلیہ بھڑک اٹھیں

    اداکار کاشف محمود نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا ہےکہ میں نہ صرف پاکستانی ہوں بلکہ پاکستان سے بہت زیادہ محبت بھی کرتا ہوں. مجھے اردو اور پنجابی بولنے میں کوئی عار نہیں ہے. اور میں ان والدین میں سے نہیں ہوں جو یہ سوچیں کہ ان کے بچے نے پنجابی بولی تو پتہ نہیں کیا طوفان آجائیگا. یا سٹیٹس میں کمی آجائیگی. کاشف محمود نے کہا کہ ایک بار میں نے اپنے بیٹے سے کہا کہ اس رنگ کو کیا کہتے ہیں تو اس نے کہا کہ وائٹ ، میں نے اس سے کہا کہ اب اردو میں بتائو وائٹ کو کیا کہتے ہیں تو اس نے کہا کہ پاپا وائٹ کو اردو میں سفید کہتے ہیں، اس

    کے بعد میں نے اپنے بیٹے سے کہا کہ یہ بتائو کہ سفید کو پنجابی میں کیا کہتے ہیں تو اس کو نہیں پتہ تھا میں نے اسکو بتایا کہ سفید کو پنجابی میں چٹا کہتے ہیں، یہ بات میری بیوی نے سنی تو وہ بھڑک گئی اور بولی کیا کررہے ہو اسکو پنجابی کیوں سکھا رہے ہو، مت کرو ایسا، اسکی ٹیچر کیا کہے گی تو میں نے اسکی ٹیچر کو کال کی اور پوچھا کہ میرا بیٹا اگر پنجابی میں چٹا کہے تو آپکو مسئلہ ہو گا تو وہ کہنے لگی نہیں پنجابی ہماری زبان ہے بچوں‌کو آنی چاہیے.

  • ریمبو نے بیٹے اور بیٹی کا فرق بتا دیا

    ریمبو نے بیٹے اور بیٹی کا فرق بتا دیا

    اداکار ریمبو اورصاھبہ نے ایک انٹرویو میں‌ بیٹیوں اور بیٹوں پر بات کی، ریمبو نے کہا کہ میں نے یہ دیکھا ہے کہ بیٹے تب تک ماں باپ کا احساس کرتے ہیں جب تک ان کی بیویاں نہیں آجاتی، جیسے ہی ان کی بیویاں آتی ہیں وہ ماں باپ سے دوری اختیار کر لیتے ہیں، جبکہ بیٹیاں ایسی ہوتی ہیں کہ وہ پرائے گھر کی بھی ہوجائیں تو مرتے دم تک پرائے گھر میں رہ کر بھی وہ اپنے ماں باپ کا احساس کرتی ہیں. ریمبو نے کہا کہ بیٹیوں کی قدر کرنی چاہیے وہ ہی اصل میں‌ماں باپ سے پیار کرتی ہیں. ریمبو نے کہا کہ میری بھانجی اور بھتیجیاں ہیں جنہیں‌ میں‌اپنی بیٹیاں سمجھتا ہوں اور ان کو میں ایک ایک ماہ کے لئے اپنے گھر میں رہنے کے لئے بلواتا ہوں اور ہم سب بہت انجوائے کرتے

    ہیں، میری اپنی بیٹی کوئی نہیں لیکن میرے بہن بھائیوں کی بیٹیاں میری بیٹیاں ہیں، مجھے ان سے اور انہیں‌مجھ سے بہت محبت ہے اور اس محبت میں کوئی بھی کمی نہیں لا سکتا. ریمبو نے کہا کہ میں بیٹیوں کو سلام پیش کرتا ہوں کیونکہ انہی کے دم سے ساری بہاریں ہیں. اسی انٹرویو میں صاھبہ نے کہا کہ بیٹیوں سے نہیں ان کے نصیبوں سے ڈر لگتا ہے.

  • ٹام کروز کے گارڈز نے ایچ ایس وائے کے ساتھ کیا سلوک کیا؟‌

    ٹام کروز کے گارڈز نے ایچ ایس وائے کے ساتھ کیا سلوک کیا؟‌

    ہالی وڈ کے مشہور اداکار ٹام کروز جو چار دہائیوں سے دنیا بھر کے مداحوں کے دلوں پر راج کررہے ہیں، ان کی فلم آج بھی سینما گھر میں لگتی ہے تو پوری دنیا میں‌ ان کے مداح سینما گھروں میں ٹوٹ پڑتے ہیں. جہاں دنیا بھر میں ان کے مداح پائے جاتے ہیں وہیں پاکستان میں ان بہت بڑے مداح ہیں جن کا نام ہے ایچ ایس وائے. ایچ وائے ایک مشہور فیشن ڈیزائنر ہیں انہوں نے ھال ہی میں ایک واقعہ شئیر کیا.انہوں نے بتایا کہ نیویارک میں وہ ایک پارک میں جاکنگ کررہےتھے ، کہ اچانک ان کی نظر ٹام کروز پر پڑی کہ وہ بھی وہاں جاگنگ کررہےہیں، ان کو دیکھ کر

    میری خوش کی انتہا نہ رہی اور میں ان کے پیچھے بھاگ پڑا کہ ان کو بتائوں کہ پاکستان میں ان کے کتنے بڑے مداح ہیں ، میں بھاگ رہا تھا ان کے پیچھے گارڈز نے مجھے دھکے دئیے اور آگے جانے سے منع کیا میں نے ان سے کہا کہ میں پاکستانی ہوں اور ان کو بتانا چاہتا ہوں کہ پاکستانی ان سے بہت محبت کرتےہیں لیکن گارڈ نے مجھے ان کے پاس نہیں جانے دیا. یہ واقعہ سناتے ہوئے ایچ ایس وائے خود بھی بہت زیادہ ہنس رہے تھے کہ ان کے ساتھ ہوا کیا.

  • امیتابھ بچن کی زمہ داری تھی تعلق نبھاتا سلیم خان نے ایسا کیوں کہا ؟

    امیتابھ بچن کی زمہ داری تھی تعلق نبھاتا سلیم خان نے ایسا کیوں کہا ؟

    اداکار ارباز خان جو کہ سلمان خان کے بھائی اور سلیم خان کے بیٹے ہیں ، انہوں نے اپنے والد سلیم خان جو کہ بالی وڈ کے معروف رائٹر اور فلم میکر ہیں ان کا انٹرویو کیا ، اس میں انہوں نے پوچھا کہ آپ کی تو امیتابھ بچن کے ساتھ بہت دوستی تھی لیکن اس دوستی کے رنگ پھیکے کیوں‌پڑ گئے ، تو سلیم خان نے کہا کہ امیتابھ بچن جب مشہور ہوا تو اسکی زمہ داری تھی کہ وہ اس تعلق کو نبھاتا کیونکہ جب کوئی مشہور ہوجاتا ہے تو اسکی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے پرانے تعلقات کو نھائے، لیکن امیتابھ بچن ایسا کرنے میں ناکام نظر آیا ، لہذا ہماری دوستی کے رنگ پھیکے

    پڑ گئے، لیکن میں‌ آج بھی مانتا ہوں کہ وہ ایک بڑا اداکار ہے لیکن ہماری دوستی اس وقت ہوئی جب اسکو کوئی بھی نہیں جانتا تھا. یاد رہے کہ سلیم خان اور امیتابھ بچن کی دوستی ستر کی دہائی سے بھی پہلے کی ہے ، سلیم خان نے امیتابھ بچن کی بہت ساری فلمیں لکھیں، ان کے ڈائیلاگز کی وجہ سے امیتابھ کو بہت زیادہ مشہوری بھی ملی. سلیم خان کی جاوید اختر کے ساتھ جوڑی تھی جو کہ بعد ازاں ٹوٹ گئی دونوں نے ایک ساتھ سپر ہٹ فلمیں لکھیں. سلیم خان اپنے ہی مزاج کے بندے رہے ہیں.