Baaghi TV

Tag: shehbaz sharif

  • سابق وزیر اعظم کی نواز شریف سے  ملاقات متوقع

    سابق وزیر اعظم کی نواز شریف سے ملاقات متوقع

    مسلم لیگ نواز کے صدر اور سابق وزیر اعظم شہباز شریف لندن پہنچ گئے اور وہاں قائد مسلم لیگ میاں نواز شریف سے ملاقات اور ان کی وطن واپسی کے حوالے سے مشاورت کے لئے سابق وزیر اعظم شہباز شریف لندن پہنچ گئے جبکہ ذرائع کے مطابق نوازشریف نے پارٹی کے دیگر رہنماؤں کو بھی لندن طلب کیا ہے جو آئندہ دنوں میں پہنچیں گے۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ لندن میں قائدین کی ملاقات میں نواز شریف کی وطن واپسی سمیت دیگر ملکی سیاسی امور پرتبادلہ خیال کیا جائے گا اور آئندہ انتخابات میں اتحادی جماعتوں کے حوالے سے بھی مشاورت کی جائے گی۔

    پاکستان مسلم لیگ لیگ ن کے صدر و سابق وزیراعظم میاں شہباز شریف پرائیوٹ ائیر لائن کے ذریعےلندن چلے تھے شہباز شریف کی نواز شریف سے آج رات لندن میں ملاقات متوقع ہے۔ جبکہ اس سے قبل نجی ٹی وی نے فیملی ذرائع کے مطابق دعویٰ کیا تھا کہ ان کے اہل خانہ میں سلیمان شہباز بھی شامل ہیں، سابق وزیراعظم شہباز شریف براستہ قطر لندن روانہ ہوئے ہیں۔

    فیملی ذرائع نے ہم انویسٹی گیشن ٹیم کو تصدیق کرائی ہے کہ سابق وزیراعظم ستمبرکے وسط تک برطانیہ میں قیام کرینگے۔ علاوہ ازیں سابق وزیراعظم شہبازشریف اپنے اوراہلیہ کےعلاج کیلئے لندن جارہے ہیں، شہباز شریف لندن میں اپنا پہلے سے شیڈول چیک اپ کرائیں گے، شہباز شریف لندن قیام کے دوران پارٹی کی معمول کی سیاسی سرگرمیاں بھی دیکھیں گے۔

    پارٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ پاکستان میں سینئر نائب صدر ن لیگ مریم نواز پارٹی کی سیاسی مہم جاری رکھیں گی، نوازشریف کی وطن واپسی کا فیصلہ شہباز شریف اور سینئرقیادت ستمبر کے پہلے ہفتے میں کریگی۔ جبکہ نواز شریف کی وطن واپسی تک مریم نواز پارٹی کی انتخابی مہم چلائیں گی، ستمبر کے پہلے ہفتے میں ن لیگ کی سینئر رہنما بھی نواز شریف سے ملنے لندن روانہ ہونگے۔ ذرائع کے مطابق احسن اقبال، اسحاق ڈار، خواجہ آصف، عطاتارڑ اور ایاز صادق کی لندن روانگی متوقع ہے۔

  • نگران وزیراعظم کیلئے نوازشریف منظوری نہ دیتے تو شہباز شریف دستخط نہ کرتے. رانا ثناء

    نگران وزیراعظم کیلئے نوازشریف منظوری نہ دیتے تو شہباز شریف دستخط نہ کرتے. رانا ثناء

    مسلم لیگ نواز کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر رانا ثناء اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ نگران وزیر اعظم کے نام کی منظوری قائد مسلم لیگ ن، میاں محمد نواز شریف نے دی ہے۔ جبکہ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اگر نوازشریف نگران وزیراعظم کی منظوری نہ دیتے تو شہباز شریف کبھی بھی اس سمری پر دستخط نہ کرتے۔

    سابق وفاقی وزیر رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ نگران وزیر اعظم کے لئے زیر غور دیگر نام زیادہ معتبر اور پسندیدہ تھے مگر کسی وجہ سے ایک غیر اہم نام پہلے درجے پر آگیا۔ تاہم خیال رہے کہ نگران وزیراعظم کے تقررکا فیصلہ سابق وزیراعظم شہباز شریف اور اپوزیشن لیڈر راجا ریاض کے درمیان ملاقات میں کیا گیا تھا اور دونوں رہنماؤں نے نگران وزیراعظم کے لیے انوار الحق کاکڑ کے نام پراتفاق کیا تھا۔

    دوسری جانب بتایا جارہا ہے کہ مسلم لیگ ( نواز ) کے صدر اور سابق وزیر اعظم شہباز شریف رواں ہفتے لندن روانہ ہوں گے۔ جبکہ قائد مسلم لیگ ( ن ) نواز شریف کی وطن واپسی کا پلان ترتیب دے دیا گیا ہے جبکہ اسی سلسلے میں شہباز شریف آئندہ تین روز میں لندن روانہ ہوں گے جہاں ان کی نواز شریف سے اہم ملاقاتیں ہوں گی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پی سی بی کی جانب سے یومِ آزادی پر جاری کی گئی ویڈیو نے صارفین کو مشتعل کر دیا
    ایشیا کپ 2023: ٹکٹوں کی آن لائن بکنگ ،قیمتوں کی تفصیلات سامنے آگئیں
    الیکشن کمیشن نے انتخابی ضابطہ اخلاق مزید سخت کر دیا
    انگلش کرکٹرکرس ووکس آئی سی سی مینزپلیئر آف دی منتھ قرار

    ذرائع کے مطابق ملاقاتوں میں نواز شریف کی واپسی اور پارٹی ٹکٹوں کے حوالے سے اہم مشاورت کے بعد فیصلے کیے جائیں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے شریف خاندان کے وکلا سیاسی رفقا نے نواز شریف کے دورہ متحدہ عرب امارات ( یو اے ای )، سعودی عرب اور یورپ کے فوراً بعد وطن واپس آنے کا مشورہ دیا تھا جبکہ پارٹی کے بعض رہنماؤں نے ستمبر کے وسط میں آنے پراصرار کیا ہے۔ علاوہ ازیں ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف سے ملاقات کے لئے آئندہ تین ہفتوں میں رانا ثناء اللّٰہ، خواجہ آصف، پرویزرشید و دیگر بھی لندن جائیں گے۔

  • آئین کے راستے سے آئے تھے، اسی راستے سے واپس جا رہے. وزیراعظم

    آئین کے راستے سے آئے تھے، اسی راستے سے واپس جا رہے. وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ ہم آئین کے راستے سے آئے تھے اور اسی راستے سے واپس جا رہے ہیں، قوم کے اختیارات، وسائل کی امانت میں کوئی خیانت نہیں کی ہے، 16 ماہ کا سفر کانٹوں اور انگاروں کا سفر تھا، اور اپنی سیاست قربان کرکے ریاست کو بچایا ہے۔ جبکہ قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا تھا کہ آئینی راستے سے اقتدار میں آئے اسی راستے سے واپس جارہے ہیں، آئینی طریقے سے نگراں وزیراعظم کے نام پر اتفاق ہوا ہے ملک کی باگ دوڑ نگراں وزیراعظم کے حوالے کررہا ہوں اور نگراں وزیراعظم کا تعلق ملک کے عظیم صوبے سے ہے۔

    شہبازشریف نے مزید کہا کہ ارض پاک اور عوام کی نگہبانی کی، 16 ماہ کا سفر بہت کٹھن تھا، 16 ماہ کانٹوں اور انگاروں کا سفر تھا، الحمد اللہ قوم کی امانت میں کوئی خیانت نہ کی، مختصر مدت میں ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا، قومی مفاد پر کوئی آنچ نہ آنے دی۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے عظیم دوستوں نے مشکل وقت میں ساتھ دیا، سیاست قربان کرکے ریاست کو بچایا، مہنگائی اس رفتار سے کم نہ ہوئی جس کی توقع تھی، قرض لینا کوئی کامیابی نہیں ہے۔

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سابق حکومت نے آئی ایم ایف سے معاہدہ توڑا، سابق حکومت ڈیفالٹ کی شکل میں مشکل سرنگ بچھا کرگئی، ملک ڈیفالٹ کر جاتا تو ایک تباہ کن صورتحال ہوتی۔ اپنے خطاب میں وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ میڈیا کی آزادی اور ورکرز کو حقوق دیے، 9 مئی کا سیاہ دن قوم کبھی نہیں بھلا سکتی، 5 ہزارمیگا واڑ بجلی نیئشنل گرڈ میں شامل کی، 2 ہزار ارب کا رمضان پیکج دیا، نواجوانوں کو 80 ارب کا وزیراعظم پیکج مہیا کیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    لاہور:سفاک شوہر نے اپنی امریکن نیشنل اہلیہ کو تشدد کرکے قتل کردیا
    ون ویلرز اور ہلڑبازی کرنے والوں کےخلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ
    76 ویں یوم آزادی: پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں آزادی پریڈ کا انعقاد
    گریٹر پارک میں یوم آزادی کی تقریب ،آتشبازی اور میوزیکل پروگرام کا انعقاد
    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ دانش اسکول کا دائرہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا تک بڑھا رہے ہیں، سرکاری ملازمین کی تنخواہ اور پینش میں اضافہ کیا، صنعت اور زراعت کی ترقی کے لیے اربوں روپے خرچ کیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ افواج پاکستان کا ہرافسراورسپاہی ہمارے لیے فخر ہے، آنے والے وقت میں اربوں روپے کے غیرملکی منصوبے شروع ہونے والے ہیں، محنت اور دیانت سے مشکل سے نکل سکتے ہیں۔ تاہم اپنے خطاب میں وزیراعظم شہباز شریف کا یہ بھی کہنا تھا کہ معدنی خزانوں سے ملک کی تقدیربدلیں گے، پاکستان دنیا میں کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرے گا، قرضوں کی دلدل سے نکل کر خود انحصاری کی جانب جانا ہوگا۔

  • صدر مملکت  خط؛  12 اگست تک نگران وزیرِ اعظم کا نام مانگ لیا

    صدر مملکت خط؛ 12 اگست تک نگران وزیرِ اعظم کا نام مانگ لیا

    صدر مملکت خط؛ 12 اگست تک نگران وزیرِ اعظم کا نام مانگ لیا

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے وزیرِ اعظم اور قائدِ حزبِ اختلاف کو 12 اگست تک نگران وزیرِ اعظم کا نام دینے کا کہہ دیا جبکہ صدر مملکت کا وزیراعظم میاں محمد شہبار شریف اور تحلیل شدہ قومی اسمبلی کے قائدِ حزبِ اختلاف راجہ ریاض احمد کو خط میں صدر مملکت کا کہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 224 ایک اے کے تحت صدر مملکت وزیراعظم اور قائدِحزب ِاختلاف کے مشورے سے نگران وزیرِ اعظم کی تعیناتی کرتے ہیں.


    جاری اعلامیہ کے مطابق خط میں کہا گیا ہے کہ آئین کے تحت قومی اسمبلی کی تحلیل کے 3 دن کے اندر وزیرِ اعظم اور قائدِحزب اختلاف کو نگران وزیرِ اعظم کا نام تجویز کرنا ہوتا ہے۔

    صدرمملکت کا خط میں کہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 224 ایک اے کے تحت صدر مملکت وزیراعظم اور قائدِحزب ِاختلاف کے مشورے سے نگران وزیرِ اعظم کی تعیناتی کرتے ہیں، اور آئین کے تحت وزیرِ اعظم اور قائدِحزب اختلاف کو قومی اسمبلی کی تحلیل کے 3 دن کے اندر نگران وزیرِ اعظم کا نام تجویز کرنا ہوتا ہے.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نمایاں تیزی
    صادق سنجرانی سب سے آگے،بڑا گھر بھی مان گیا، سلیم صافی کا دعویٰ
    سابق آئی جی کے پی کے بھائی کو اغوا کے بعد کیا گیا قتل
    غیرقانونی کاموں پر جواب دینا پڑتا ہے. عطاءاللہ تارڑ
    ایران اور امریکا کے درمیان منجمد فنڈز کی بحالی کا معاہدہ
    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نمایاں تیزی
    جبکہ صدر مملکت نے کہا کہ میں نے وزیراعظم کی ایڈوائس منظور کی ، 9 اگست کو قومی اسمبلی تحلیل کر دی ہے اور وزیرِ اعظم اور قائد حزبِ اختلاف 12 اگست تک موزوں نگران وزیر اعظم کا نام تجویز کریں.

  • نگراں وزیراعظم کیلئے اب تک کوئی نام فائنل نہیں ہوا. قمر زمان کائرہ

    نگراں وزیراعظم کیلئے اب تک کوئی نام فائنل نہیں ہوا. قمر زمان کائرہ

    وزیراعظم کے مشیر امور کشمیر قمر زمان کائرہ کا کہنا ہے کہ نگراں حکومت کی کوئی مدت نہیں ہوتی کیونکہ انتخابات ہونے تک نگراں حکومت رہتی ہے اور حلقہ بندیوں میں کسی صوبے کی نشستیں کم زیادہ نہیں ہوں گی جبکہ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے کہا تھا کہ اداروں کو اپنے آئینی دائرہ کار میں رہنا چاہیئے اور سوسائٹی بیلنس ہوگی تو ہم آگے بڑھ سکیں گے، 30 سال تک ملک میں آمریت رہی ہے جبکہ جمہوری ادوار میں بھی کام نہیں کرنے دیا گیا، ہمیں حقیقت کو تسلیم کرنا چاہیئے، بلاول بھٹو نے بات حکومت کی جانب سے کہی۔

    قمر زمان کائرہ نے مزید کہا کہ کوئی شک نہیں ہم مہنگائی اور بیروزگاری پر قابو نہیں پاسکے ہیں لیکن حکومت کی مدت ختم ہونے سے پہلے پیٹرول مہنگا کیا گیا مگر ذرا سوچیں کہ پیٹرول کی قیمت میں 20 روپے اضافہ کرنا کیا آسان فیصلہ تھا۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ حکومت کو ریاست کے لیے مشکل فیصلے کرنے پڑے، بلاول بھٹو کے بیان پر میں تبصرہ نہیں کرسکتا، پیمرا ایکٹ میں ترامیم کرکے بل دوبارہ پیش کیا گیا، اس کا مطلب ہے کسی کے کہنے پر ٹھپے نہیں لگ رہے، تیز رفتار قانون سازی سے گریز کرنا چاہیئے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ حکومتی ارکان مزے کررہے ہیں، جہاں ضرورت ہوتی ہے ایوان میں اعتراض اٹھایا جاتا ہے، جمہوریت کے لیے ہم ایک قدم آگے اور 2 قدم پیچھے جاتے ہیں، جمہوریت کے لیے جدوجہد میں ہم پیچھے ہی گئے ہیں۔ علاوہ ازیں انتخابات سے متعلق سوال پر قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ انتخابات آئینی ضرورت ہیں، 90 دن میں ہوتے نظر نہیں آرہے، سی سی آئی نے 2017 کی مردم شماری کو مشکوک قرار دیا، 2022 میں نئی مردم شماری کا آغاز ہوا تھا، مردم شماری پر ایم کیوایم کو شدید تحفظات تھے، سی سی آئی نے متفقہ طور پر مردم شماری کی منظوری دی، مردم شماری کے نتائج پر تمام جماعتیں متفق ہوگئیں، مردم شماری کے تحت حلقہ بندیاں ہونا قومی تقاضہ ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نگران حکومت کو ہر صورت مہنگائی کو قابو کرنا ہو گا ، راجہ ریاض
    نو مئی یوم سیاہ کے طورپر، آج رات اسمبلی تحلیل کی سمری بھیجوں گا، وزیراعظم
    ایشیا کپ اورافغانستان سیریز کیلئے 18 رکنی اسکواڈ کا اعلان
    نواز شریف بہت جلد واپس آرہے، مریم نواز شریف نے عندیہ دے دیا
    روپے کی قدر میں بحالی
    پیپلز پارٹی کے رہنما نے کہا کہ نگراں حکومت کی کوئی مدت نہیں ہوتی، نگراں وزیراعلیٰ کی سی سی آئی میں شرکت پر کوئی قدغن نہیں، انتخابات ہونے تک نگراں حکومت رہتی ہے، نگراں حکومت 90 دن میں ختم نہیں ہوتی، حکومت سازی میں مزید 15 دن لگتے ہیں، نگراں حکومت رہتی ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ حلقہ بندیوں میں پنجاب کی کوئی نشست کم نہیں ہوگی، اور حلقہ بندیوں کے لیے اب آئینی ترمیم کی ضرورت نہیں رہی ہے لہذا حلقہ بندیوں میں کسی صوبے کی نشستیں کم یا زیادہ نہیں ہوں گی۔ علاوہ ازیں وفاقی وزیر قمر زمان کائرہ نےکہا کہ نگراں وزیراعظم کے لیے اب تک کوئی نام فائنل نہیں ہوا ہے اور وزیراعظم و اپوزیشن لیڈر اس پر کل مشاورت کریں گے جبکہ الیکشن کمیشن کو حلقہ بندیوں کے لیے 4 ماہ چاہئیں لہذا الیکشن کمیشن کو چاہیئے کہ 3 ماہ میں حلقہ بندیاں مکمل کرلے جبکہ آئین پر جلد از جلد عملدرآمد کرنے کی کوشش کی جانی چاہیئے۔

  • نیشنل ایرو اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک کا افتتاح کردیا گیا

    نیشنل ایرو اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک کا افتتاح کردیا گیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے نیشنل ایرو اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک کا افتتاح کردیا ہے جبکہ راولپنڈی میں نیشنل ایرو اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاک فضائیہ کے سربراہ کی کاوشوں سے یہ منصوبہ ریکارڈ مدت میں مکمل کیا گیا ہے اور منصوبہ پاکستان میں تکنیکی ترقی کی حوصلہ افزائی کرنے کے ارادے سے بنایا گیا ہے.


    علاوہ ازیں ان کا کہناتھا کہ اس منصوبے سے آنے والی نسلوں کو ایک پلیٹ فارم ملے گا اور پاکستان کی خود انحصاری کے سفر میں بھی یہ منصوبہ اہم سنگ میل کی حثیت رکھے گا جبکہ راولپنڈی میں قائم کیا جانے والا نیشنل ایرو اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک انڈسٹری اور اکیڈمیا کے درمیان روابط قائم کرے گا اور منصوبہ ایوی ایشن، اسپیس اور سائبر کے تحت ضروری عناصر کا ایکو سسٹم بھی فراہم کرے گا۔


    دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے سلام پاکستان برانڈ اور ای پورٹل کا بھی افتتاح کردیا گیا ہے اور تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان سیاحوں کے لیے ایک بے مثال ملک ہے، پاکستان میں سیاحت، ثقافت اور تاریخی ورثہ کے فروغ کے وسیع مواقع دستیاب ہیں، ای پورٹل دنیا بھر سے سیاحوں کی پاکستان میں دلچسپی بڑھانے میں معاون و مددگار ثابت ہوگا۔ شہباز شریف نے مزید کہا کہ پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے بے پناہ قدرتی وسائل اور خوبصورت مناظر سے نوازا ہے، پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال ملک ہے، خصوصاً ملک کے شمالی علاقہ جات میں سیاحتی مقامات کو سیاحت کے فروغ کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    توشہ خانہ کا ٹرائل روکنے کا کیس، فیصلہ آج، عمران خان کی نیب،پولیس میں طلبی بھی آج
    توشہ خانہ کیس، آج کا وقت دیا تھا الیکشن کمیشن اپنے دلائل دے ،جج ہمایوں دلاور
    علی امین گنڈا پور کے گھر چھاپہ،غلیل،ڈنڈے،سیلاب ریلیف کا سامان برآمد
    تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی انتخاب ،الیکشن کمیشن میں سماعت ملتوی
    زیادہ بھیک کے لئے سفاک باپ نے کمسن بچی کو جلا دیا
    وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ ملک میں سیاحت کے شعبہ کی ترقی اور فروغ کے لیے مشیر وزیراعظم عون چوہدری اور ان کی ٹیم کی کاوشیں قابل قدر ہیں، برادر اسلامی ممالک سمیت دنیا کے کئی دیگر ممالک نے ثقافت، دستکاریوں اور سیاحت کے شعبہ میں نمایاں ترقی کی ہے۔ جبکہ خیال رہے کہ افتتاحی تقریب میں مسلح افواج کے سربراہان اور وفاقی وزراء سمیت اعلیٰ سول و ملٹری حکام بھی شریک ہوئے ہیں، ایران کے وزیر ثقافت، تاریخی ورثہ، سیاحت و دستکاری سید عزت اللہ زرغامی اور ایران کے سفیررضا میری سمیت سفارتی برادری اور اعلیٰ حکام بھی تقریب میں شریک تھے۔

  • مردم شماری میں بے ضابطگیاں؛ حافظ نعیم الرحمان نے وزیراعظم کو خط لکھ دیا

    مردم شماری میں بے ضابطگیاں؛ حافظ نعیم الرحمان نے وزیراعظم کو خط لکھ دیا

    کراچی میں مردم شماری میں بے ضابطگیوں پر امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے وزیراعظم کو خط لکھ دیا جس میں انہوں نے کراچی کی گنتی کو پوری اور حلقہ بندیاں صحیح اعداد و شمار کے مطابق کرنے کا مطالبہ کردیا ہے، جبکہ مردم شماری میں بے ضابطگیوں پر امیر جماعت اسلامی نے وزیراعظم کو خط لکھا کہ کراچی کی آبادی کو 2017 کی مردم شماری میں آدھا کردیا گیا تھا، حالیہ مردم شماری میں کراچی میں 63 فیصد اضافہ ظاہر کیا گیا جبکہ لاہور اور اسلام آباد میں 113 اور 90 فیصد آبادی میں اضافہ دکھایا گیا ہے۔

    علاوہ ازیں خط میں حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ مردم شماری کے عمل میں حکومت سندھ کا کردار منفی رہا ہے، اور پیپلزپارٹی نہیں چاہتی کہ کراچی کی آبادی میں درست اضافہ ہو سکے، وزیراعظم کو لکھے گئے خط میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ کراچی کی گنتی پوری کی جائے، حلقہ بندیاں صحیح اعداد و شمار کے مطابق کی جائیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    حکومت کی مدت کے آخری دن، قومی اسمبلی میں مزید قوانین منظور
    اعجاز چوہدری کو جیل میں بی کلاس کی فراہمی کی درخواست پر سماعت ملتوی
    میڈیا ملازمین کی کم سے کم تنخواہ حکومت کی مقررکردہ ہوگی،مریم اورنگزیب
    عمر فاروق ظہور نامی شخص سے کبھی ملا اور نہ ہی فون پر بات کی،شہزاد اکبر
    خیال رہے کہ گزشتہ مئی میں ادارہ شماریات کے مطابق 22 مئی کے بعد تصدیق کا عمل شروع ہوگا جو 31 مئی تک جاری رہے گا جبکہ ملک بھر میں جاری ساتویں ڈیجیٹل خانہ و مردم شماری میں 4 روز کے وقفے کے بعد ایک بار پھر توسیع کردی گئی تھی. مردم شماری کا عمل صوبہ بلوچستان کے علاوہ ملک کے مختلف 66 اضلاع میں 22 مئی تک جاری رہنے کا کہا گیا تھا، جبکہ اب تک کے اعداد و شمار کے مطابق سندھ کی آبادی 5 کروڑ 75 لاکھ جبکہ کراچی ڈویژن کی ایک کروڑ 90 لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے۔

  • وزیر اعظم شہباز شریف نے الیکشن نئی مردم شماری کے بعد کرانے کا اعلان کردیا

    وزیر اعظم شہباز شریف نے الیکشن نئی مردم شماری کے بعد کرانے کا اعلان کردیا

    شہباز شریف نے الیکشن نئی مردم شماری کے بعد کرانے کا اعلان کر دیا

    وزیر اعظم شہبا زشریف نے انتخابات نئی مردم شماری کے تحت کرانے کا اعلان کردیا ہے جبکہ اس حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف کاکہنا ہےکہ نئی مردم شماری کے تحت ہی انتخابات میں جانا چاہیئے اور مردم شماری ہوئی ہے تو اسی پر انتخابات ہونے چاہئیں، الیکشن کمیشن کی ذمےداری ہے کہ وہ انتخابات کرائیں گے، مردم شماری کے نتائج مکمل ہونے پر مشترکہ مفادات کونسل میں جائیں گے۔

    علاوہ ازیں وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ 12 اگست کو حکومت کی مدت مکمل ہو رہی ہے، نئی مردم شماری کے تحت ہی انتخابات میں جانا ہے، جبکہ عوامی مینڈیٹ سے لیس حکومت 5 سال حکومت کرےگی۔ تاہم نگران سیٹ اپ کے حوالے سے نواز شریف سے مشاورت مکمل ہوگئی ہے ، قائد حزب اختلاف سے مشاورت کروں گا، پاکستان کی معاشی صورتحال کو آگے لے کر جائیں گے، اپوزیشن لیڈر سے مشاورت آئین کا تقاضہ ہے، پر امید ہوں اپوزیشن لیڈر مل کر نگران سیٹ اپ کا فیصلہ کریں گے، الیکشن میں مسلم لیگ ن کا امیدوار نوازشریف ہے۔

    جبکہ شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ9 مئی کو دوست نما دشمن بن کر یہ حرکت کی گئی، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مجبوراً اضافہ کرنا پڑا،دو تین ماہ میں کئی بار پیٹرول کی قیمتیں کم ہوئیں ایک دوبار قیمت بڑھائی،پیٹرول کی قیمت کا دار و مدار عالمی مارکیٹ میں قیمتوں پر ہے، پیٹرول کی قیمت میرے کنٹرول میں نہیں عالمی منڈی میں کروڈ آئل کی قیمت پر دارو مدار ہے،بدقسمتی سے اس مرتبہ پیٹرول کی قیمت عالمی منڈی میں آسمان پر چلی گئی۔

  • جو دوپٹے پہن کر گئے، اب اتار کر پارٹیاں بنارہے. وزیر اعظم

    جو دوپٹے پہن کر گئے، اب اتار کر پارٹیاں بنارہے. وزیر اعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ملٹری تنصیبات پر حملہ کرنے والوں کے مقدمات فوجی عدالتوں میں چلیں گے جبکہ وزیراعظم نے کہا کہ نو مئی کے واقعات فوج میں بغاوت کی گھناؤنی سازش تھی جس کے سرغنہ چیئرمین پی ٹی آئی ہیں۔ فوجی تنصیبات پر حملہ کرنے والوں کے مقدمات فوجی عدالتوں میں ہی چلیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی چھوڑ کر جانے والے واپس آ جائیں، راستہ بھولنے والوں کا خیر مقدم کریں گے، امید ہے الیکشن وقت پرہوں گے۔ دوبارہ موقع ملا تو ملک کی حالت بدل دیں گے۔

    نجی ٹی وی کو انٹرویو میں شہباز شریف نے مزید یہ بھی کہا کہ ماضی میں جنوبی پنجاب میں دوپٹے کس کو پہنائے گئے؟ جہازوں میں بھر کر لوگوں کو بنی گالا لایا گیا؟ جو دوپٹے پہن کر گئے۔ اب اتار کر پارٹیاں بنارہے ہیں۔ جبکہ دانش سکولوں کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ وڈیروں کوگوارانہیں کہ غریب کےبچےپڑھ لکھ جائیں، اس لیے وہ دانش اسکولوں کی مخالفت کرتے رہے، دانش اسکول کاوژن عرصہ سے میرے ذہن میں تھا، یہ وژن جلا وطنی کے دوران آیا اور 2008ء میں حکومت میں آ کر اس پر عمل کیا۔ 50ہزار کے قریب بچے اس پروگرام سے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

    ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ صوبوں کےحوالےسے مختلف قسم کی ذمہ داریاں ہیں، ہمیں مشکل ترین حالات میں نظام کو سنبھالنا پڑا، چیئرمین پی ٹی آئی نے سیاست چمکانے کیلئے نظام کو برباد کیا، نوازشریف کی حمایت کے بعد سب نےفیصلہ کیا سیاست جاتی ہے تو جائے ریاست بچانی ہے، اس وقت تاریخ کا سب سے بڑا سیلاب آ چکا تھا، وفاق نے سیلاب کے دوران 100ارب روپے سے زائد خرچ کیے، صوبوں نے ساتھ مل کر بے پناہ کاوشیں کیں۔ شہباز شریف نے کہا کہ بین الاقوامی برادری سے بھی امداد ملی، دنیا بھرمیں تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی تھی، یوکرین جنگ کی وجہ سے چیزوں کی قیمتیں آسمان پر پہنچ چکی تھیں، ہمیں مہنگائی اورسیلاب کاسامناتھا، سابق حکومت نے تباہی ہماری جھولی میں ڈالی تھی، تباہی سےنمٹنےکیلئےہم سب کو مل کر کام کرنا تھا، تحریک عدم اعتماد پر آئی ایم ایف معاہدےکی روگردانی کی گئی، آئی ایم ایف معاہدے سے روگردانی پر قیمتیں بڑھائی گئیں۔

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ نوازشریف کی رہنمائی میں آئی ایم ایف پروگرام منظورکرایا، سب سوال اٹھاتےتھےان حالات میں حکومت کیوں لی، سب کہتےہیں سارا گند چیئرمین پی ٹی آئی کو اٹھانے دیتے، یہ حب الوطنی کاتقاضاتھا، چیئرمین پی ٹی آئی نے بین الاقوامی سے تعلقات خراب کیے، ایک شخص نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کو تباہ کر دیا تھا، چین، سعودی عرب، قطر، یو اے ای سے تعلقات پستی کی نچلی سطح پر تھے، آئی ایم ایف سے کیے گئے معاہدےکی دھجیاں اڑادی گئیں۔

    انہوں نے کہا کہ کرپشن کے روز نئے اسکینڈل آتے تھے، چینی، گندم، مالم جبہ، بی آر ٹی جیسے اسکینڈل ملکی جڑیں کاٹ رہے تھے، کیا ہم ان تمام حالات میں خاموش تماشائی بنے رہتے؟ کوئی شک نہیں سیاسی طورپرہماراووٹ بینک بہت متاثرہوا، مطمئن ہوں ریاست بچ گئی،سیاست کوداؤپرلگادیا، چین کےساتھ تعلقات میں بہت زیادہ خلیج آچکی تھی، بہت سےممالک سےتعلقات بحال ہوگئے، چیئرمین پی ٹی آئی نےملک دشمنی کی کوئی کسرنہ چھوڑی، چین کےخلاف بھری میٹنگزمیں بےہودہ الزمات لگاتےتھے، مجھ پرالزام لگایاگیاچینی کمپنیوں سے45فیصدکمیشن لیا، ہم نےآئی ایم ایف سےمعاہدہ کیا،روس سےسستاتیل لائے، کل ہمارےآذربائیجان سےسستی گیس کےایل این جی معاہدےپردستخط ہونگے، اپنی مرضی کے مطابق قدرتی گیس ہم سستے داموں لیں گے، ان حوالوں سے اب رات کو میں بہت سکون سے سوتا ہوں۔ اتحادی حکومت نے اپنی کوششوں سے سنگ میل عبور کیے۔

    شہبازشریف نے کہا کہ 9مئی بدترین ملک دشمنی کاواقعہ تھا، 9مئی واقعات سےبڑی دشمنی ہونہیں سکتی ، ان واقعات کی فروری 2019کےبھارتی حملےکی مماثلت ہے، فرروی 2019ء کوبھارتی طیاروں نےپاکستان میں حملہ کیاتھا، ہم نےبھارتی پائلٹ ابھی نندن کوگرفتارکیا، یہ پاکستان کےاندرسےپاکستان کےخلاف سازش ہوئی ، سرغنہ چیئرمین پی ٹی آئی اوراسکےحواری تھے، فرق وہاں دشمن آیا یہاں چیئر مین پی ٹی آئی اوران کےجتھوں نےحملےکیے،ان واقعات کی بھرپورتیاری کی گئی جوکئی ڈیڑھ سال پرمحیط تھی، 9مئی کے دن پورا ملک اشکبار تھا، یہ کوئی معاملہ واقعہ نہیں بلکہ فوج میں“کو“کی قبیح حرکت تھی، 9 مئی کے واقعات فوج کے خلاف بدترین سازش تھی، اللہ نے اپنے فضل سے سازش کو ناکام بنایا اور پاکستان بچ گیا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ افواج اورعوام ایک تھے، ناصرف مذمت کی بلکہ الگ تھلک رہے، چندجتھوں نے شہداء اورغازیوں کی بے حرمتی کی، 9مئی کے دن شہداء کے اہل خانہ پر گیا گزری ہو گی، یہ چیئرمین پی ٹی آئی کا مکروہ چہرہ اورسازش تھی، ادارے اورحکومت ایک پیج پرتھے،آئینی اورقانونی راستہ اپنانےکافیصلہ کیاگیا، فیصلہ کیا گیا کسی کو بھی رعایت نہیں ملے گی، چیئرمین پی ٹی آئی کا اپرچیمبرخالی ہے، اس کوگا ئیڈاورسپورٹ کرنےکیلئےبےپناہ کوششیں اوروسائل صرف کیےگئے، اس نے اپنے لگانے والوں اور پاکستان کےخلاف بھی سازش کی، فیصلہ ہوا جنہوں نے سویلین مقامات پر حملہ کیا ان کے مقدمات سویلین عدالتوں میں چلیں گے، فیصلہ ہوا ملٹری تنصیبات پر حملہ کرنے والوں کے مقدمات فوجی عدالتوں میں چلیں گے، ایسی سزاؤں کا فیصلہ کیا گیا کہ دوبارہ کوئی ایسی مذموم حرکت کا سوچ بھی نہ سکے۔

    شہباز شریف نے مزید کہا کہ 9ا لیون ہوا تو گونتاناموبے وجود میں آیا، کیپیٹل ہل پرحملہ ہواتوسخت ترین سزائیں دی گئیں، لندن میں حملہ ہوا تو راتوں عدالتیں لگیں، 13سالہ بچی کوبھی سزاملی، یہاں توپاکستان اور افواج کےخلاف سازش کی گئی، کیا 9مئی کے بدلے ان کو لڈو اور پیڑے دیئےجائیں؟بھٹوکوجب پھانسی دی گئی،ایک جج نے خود کہا یہ عدالتی قتل تھا، کیاپیپلزپارٹی نے جلاؤ گھیراؤ اور تشددکےمعاملات کیے؟ بینظیرکوشہیدکیاگیاتوآصف زرداری نےکہاپاکستان کھپے۔ سندھ،پنجاب میں واقعات شروع ہوئے مگرآصف زرداری نےانہیں روکا۔
    ہم پاکستان کیخلاف واقعات نہیں ہونے دیں گے

    اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ کہاگیاصبرکریں ہم پاکستان کےخلاف واقعات نہیں ہونےدیں گے، نوازشریف کےخلاف 2017میں دوبارہ سازش کی گئی، ثاقب نثارنوازشریف کےخلاف سازش کےسرغنہ اور پلیئر تھے، پانامہ میں 400 اور نام بھی تھے لیکن نوازشریف کو نشانہ بنایا گیا، نوازشریف نے 2013 سے 18 تک ملک کی حالت بدل کررکھ دی، نوازشریف نے لوڈشیڈنگ ختم کی، سڑکوں کا جال بچھایاتھا، نوازشریف کو اقتدار سے ہٹانے کا پلان بنایا گیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ نوازشریف100دن بیٹی کےساتھ عدالتوں میں پیش ہوتےرہے، نوازشریف نےملک تودورکی بات کسی فرد کیخلاف بھی نہیں سوچا، میں نے کہا تھا جسے لانا چاہ رہے ہیں بعد میں نوازشریف فرشتہ صفت لگے گا، اب جتنا مرضی احساس ہو، وقت گزر گیا بربادی ہو گئی، قوم کی رگوں میں زہرگھول کر انہیں تقسیم کیا گیا، چیئرمین پی ٹی آئی کے سو اسب کو چور ڈاکو بنانے کا پروپیگنڈا کیا گیا، ایسے واقعات درگزر کرنا مناسب نہیں ہو گا، پورا فریم ورک اور شفاف احتساب کا پلان بننا چاہیے۔

    انہوں نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی نےسازش کی، عمران خان بغیرکسی شک9مئی واقعات میں ملوث رہے، چیئرمین پی ٹی آئی کی اپنی ویڈیوزموجودہیں، کہا گیا مجھے کچھ ہوا تو یہ لوگ بدلہ لیں گے میں ذمہ دارنہیں، ان کے چیلے چانٹوں کے میسجز بھی موجود ہیں، قریب ترین چیلے لوگوں کو مختلف مقامات پر بلا رہے تھے، 9 مئی کو وردیاں کس نے لٹکائیں؟ چیئرمین پی ٹی آئی اس سازش کا موجدہے، سب کچھ اسی نے کیا، سابق وزیراعظم ہی سازش کا سب سے بڑا پلانر ہے۔ سویلین والے سویلین، ملٹری والے ملٹری کورٹ میں مقدمات پرسب متفق ہیں، اس معاملےمیں کوئی تمیزنہیں ہونی چاہیے، قانون حرکت میں آئےگا۔

    اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مدت پوری ہونےسےکچھ دن قبل اقتدار عبوری حکومت کے حوالے کرینگے، 75سال گزرنے کے باوجود پاکستان آئی ایم ایف کا مرہون منت ہے، ابھی بھی آئی ایم ایف کی شرائط ہم پرلاگو ہیں، آزاد قوم کا یہ وطیرہ نہیں ہوتا، پاکستان کے ڈیفالٹ ہونے کا خطرہ ختم ہو چکا، ہمارے زر مبادلہ زخائر میں استحکام آ رہا ہے، معیشت کو ترقی اور خوشحالی کے سفر پر لے کر جا رہے ہیں۔

    شہباز شریف نے کہا کہ ملکی ترقی کا پلان بن چکا، ایس آئی ایف سی پاکستان کی معاشی ریکوری کا پلان ہے، ایس آئی ایف سی پروگرام میں زراعت، آئی ٹی و دیگر پروگرام شامل ہیں، ملکی آبادی میں 60 فیصد تعداد نوجوانوں کی ہے، الیکشن کے بعد جسے بھی موقع ملا امید ہے وہ کام کرے گا، موقع ملا تو 5 سال میں پاکستان کی حالت بدل دیں گے، قرضوں سے جان چھڑائیں گے اور اپنے پاؤں پر کھڑے ہوں گے، ہم نے پلان دے دیا اور عملی طور پر کام بھی شروع ہو چکا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ 2018ء میں ن لیگ اورپیپلزپارٹی کوڈس مینٹل کیا گیا، جنوبی پنجاب میں دوپٹے کس کو پہنائے گئے؟ جہازوں میں بھر کر کن کو بنی گالا لایا گیا؟ آرٹی ایس بند کیا گیا تاکہ ن لیگ کی حکومت نہ بنے، 2018ء کے الیکشن میں بدترین دھاندلی کی گئی، شہروں میں نتائج روکے گئے کیونکہ ن لیگ جیت رہی تھی، دوپٹے پہن کر پی ٹی آئی میں جانے والے آج اپنی پارٹیاں بنا رہے ہیں، وہ سیاستدان ہیں ووٹ بینک ہے ان کا حق ہے جہاں مرضی جائیں، راستہ بھولنے والے ہمارے لوگ واپس گھر آئیں تو ویلکم کہیں گے، انہیں زبردستی راستے سے ہٹایا گیا تھا۔

    دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والی حکومت کا احترام کریں گے، وعدہ کرتاہوں پانچ سالہ مینڈیٹ ملاتوسب ملکرپاکستان کی قسمت بدل دیں گے، پاکستان اورترقی اورخوشحالی کے سفر پر گامزن کردیں گے، انشاءاللہ پاکستان 10 سال میں معاشی میدان میں بھارت سے ٹکر لے گا۔

    موٹروےایم3سےمنسلک فیصل آبادستیانہ بائی پاس کاسنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ 2018 میں جھر لو چلا، دھاندلی سے بہروپیے کامیاب کرائے گئے، آپ نےووٹ کی طاقت سےان بہروپیوں کو شکست دینی ہے، مولانا فضل الرحمان سے آئندہ بھی رشتہ چلتا رہے گا، پی ٹی آئی حکومت نےمنصوبوں میں ایک اینٹ کااضافہ نہیں کیا، 4سال پاکستان کےمعاشرےمیں زہر گھولتے رہے، 4سال بے تکے اور بے بنیاد بھونڈے الزامات لگاتے رہے، انہوں نے کہا کہ دوپٹےپہناکرہمارےلوگوں کوزبردستی اس طرف دھکیلاگیا، لوگوں کوجہازوں پربٹھاکرراتوں رات بنی گالہ پہنچایاگیا، پنجاب میں ن لیگ کی حکومت کاراستہ روکا گیا، وفاق میں ہماری سیٹوں کوادھراُدھرکیاگیا، اس شخص نے4سال دن رات چور،ڈاکوکی گردان کی، کہتاتھا3ماہ میں لوٹےہوئے300ارب ڈالرواپس لےآؤں گا، پھر کہا مر جاؤں گا آئی ایم ایف نہیں جاؤں گا،آئی ایم ایف سےمعاہدہ کیااورپھراسےتوڑکربوجھ ہماری حکومت پرڈالا۔

    شہباز شریف نے کہا کہ ایک سازش کےتحت نوازشریف کو بے بنیاد الزامات میں دھکیلا گیا ، اس سازش میں ثاقب نثار سازشی ٹولے کا سرغنہ تھا، ثاقب نثارکےساتھ دیگرلوگوں نےمل کرنوازشریف کو نااہل کرایا، نواز شریف کوپانامہ سےاقامہ میں نااہل کرایاگیا، افسران سے کہا تھا اس کا مکروہ چہرہ سامنےآئے گا تو نواز شریف فرشتہ نظر آئےگا، ہم نےپاکستان کوڈیفالٹ کےخطرےسےنکال لیا ، اب دوردور تک ڈیفالٹ کا کوئی نام ونشان نہیں،201یونٹ تک بجلی استعمال کرنےوالوں کیلئےکوئی اضافہ نہیں کیاگیا، آئی ایم ایف کی شرط پوری کرناہماری مجبوری تھی۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس شخص نےآئی ایم ایف سےمعاہدہ توڑنےکیلئےسازش کی، ہم نےسیلاب متاثرین کو 100ارب روپےکی امداد پہنچائی، وعدہ کرتاہوں مینڈیٹ ملا تو سب ملکر پاکستان کی قسمت بدل دیں گے، مسلم لیگ ن کوموقع ملاتونوازشریف ہماراوزیراعظم ہوگا، عوام کےووٹوں سےمنتخب ہونےوالی حکومت کااحترام کریں گے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ عوام کےووٹوں سےمنتخب ہونےوالی حکومت کااحترام کریں گے، مسلم لیگ ن کوموقع ملاتونوازشریف ہماراوزیراعظم ہوگا، نوازشریف کی سربراہی میں سب ساتھی کارکن کی طرح دن رات خدمت کریں گے، وعدہ کرتاہوں پانچ سالہ مینڈیٹ ملاتوسب ملکرپاکستان کی قسمت بدل دیں گے، پاکستان اورترقی اورخوشحالی کےسفرپرگامزن کردیں گے، یہ کشکول توڑکراس کےحصےبنی گالہ کےآس پاس بچھادیں گے۔انشاءاللہ پاکستان10سال میں معاشی میدان میں بھارت سےٹکرلےگا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ نوازشریف نےملک میں20،20گھنٹےکی لوڈشیڈنگ ختم کی تھی، نوازشریف نےچین سے30ارب ڈالر کی سرمایہ کاری پاکستان میں کرائی، نوازشریف کےدورمیں مہنگائی کی شرح3.5فیصدتھی، اگلی حکومت ن لیگ کوملی توپاکستان کوکھویاہوامقام دلانےکیلئےجان لڑادیں گے، یہ کشکول توڑکراس کےحصےبنی گالہ کےآس پاس بچھادیں گے، پاکستان کواپنےپیروں پرکھڑاکریں گے،یہ جادوٹونےاورموم بتی،لال ٹین جلانےسےنہیں ہوگا۔

    شہباز شریف نے کہا کہ یہ نوازشریف کی قیادت میں محنت،امانت اوردیانت کےسفرسےہوگا، ملک بھرمیں کروڑوں بچوں اوربچیوں کولیپ ٹاپ دیں گے، معدنیات کی دولت سےپورےپاکستان کوفیض یاب کریں گے، اس طرح نہیں ہوگاکہ190ملین پاؤنڈکافراڈ کرکےچورڈاکوکہتارہے، ایسانہیں ہوگاکہ خانہ کعبہ کےماڈل کی گھڑی بیچ کرچورڈاکوکی گردان کی جائے، یہ پیسےدانش سکول کےبچیوں کو دے دیتا تو میں انہیں سلام کرتا، بتایا جائے یہ 50 ارب روپیہ پاکستان کے خزانے میں کیوں نہیں آیا؟ فیصلہ آپ نے کرنا ہے، انشاءاللہ پاکستان 10 سال میں معاشی میدان میں بھارت سے ٹکر لے گا، گردن میں سریے اور تکبر والے شخص کی بات سننی ہے تو پھر پاکستان کااللہ حافظ۔

  • منی لانڈرنگ کیس کا تحریری فیصلہ جاری

    منی لانڈرنگ کیس کا تحریری فیصلہ جاری

    احتساب عدالت کے جج نے انیس صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا جس میں کہا گیا کہ نیب نے تسلیم کیا ہے کہ شہباز شریف سمیت دیگرکے خلاف کرپشن کے الزامات ثابت نہیں ہوئے۔

    ایسی صورت میں ملزمان کے خلاف کیس ثابت ہونے کے بہت کم امکانات ہیں۔عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ نیب کے مطابق شہباز شریف نے اثاثہ جات کرپشن یا بے نامی دار سے نہیں بنائے۔نیب نےکوئی ثبوت پیش نہیں کیا کہ جائیداد خریدنے کے لیےرقم شہبازشریف نے دی اورنیب کے مطابق شہباز شریف کے اثاثے ان کی آمدن کے مطابق ہی ہیں۔
    زرعی آمدن پر کوئی ٹیکس نہیں لگایا جائے گا،اسحاق ڈار
    ایس ایچ او اورساتھی افسر بھتہ وصول کرنے کے الزام میں رنگے ہاتھوں گرفتار
    آگ لگنے سے 18 سوڈانیوں سمیت 22 افراد زخمی
    تحفے میں ملنے والے جوتوں کا رقم سے زیادہ ٹیکس
    ایس ایچ او اورساتھی افسر بھتہ وصول کرنے کے الزام میں رنگے ہاتھوں گرفتار

    فیصلے میں تحریر کیا گیا ہے کہ نصرت شہباز ، حمزہ شہباز اور رابعہ عمران شہباز شریف کے بے نامی دار نہیں اور یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ شہباز شریف ٹیکس ادا کرتے ہیں ۔نیب کے مطابق شہبازشریف کا ٹی ٹیز سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوا لہذا شہباز شریف ، نصرت شہباز،حمزہ شہباز سمیت دیگر ملزمان کی بریت کی درخواست منظور کی جاتی ہے اوربری ہونے والے تمام افراد کی جائیداد ڈی فریزکی جاتی ہے ۔ عدالت نے رابعہ عمران کے دائمی وارنٹ گرفتاری بھی جاری کر دیئے۔