Baaghi TV

Tag: #SindhNews

  • میرپورخاص سول ہسپتال: سیکیورٹی اور بھرتیوں پر سنگین سوالات، شفاف انکوائری کا مطالبہ

    میرپورخاص سول ہسپتال: سیکیورٹی اور بھرتیوں پر سنگین سوالات، شفاف انکوائری کا مطالبہ

    میرپورخاص سول ہسپتال: سیکیورٹی یا سازش؟ عوامی جان و مال داؤ پر!میرپورخاص (رپورٹ سید شاہزیب شاہ ): کیا عوام کی جان و مال کی حفاظت کے لیے مامور اسٹاف اب خود ایک سوالیہ نشان بن چکی ہے؟ میرپورخاص کا سول ہسپتال، جسے تحفظ اور علاج کی علامت ہونا چاہیے تھا، اب سنگین الزامات اور شکوک و شبہات کی زد میں ہے۔ڈاکٹر اسٹاف اور اکاونٹ انچارج پر سنگین الزامات سول ہسپتال میرپورخاص کے اکاونٹ انچارج کے خلاف سنگین شکایات کے سامنے آئی ہیں۔ عوامی حلقوں اور ملازمین کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات نے ہسپتال انتظامیہ کی کارکردگی پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی ہے:بغیر تصدیق بھرتیاں کے : الزام ہے کہ ہسپتال میں اسٹاف کو بغیر کسی پولیس ویریفکیشن اور شناختی کارڈز کی مکمل جانچ پڑتال کے بھرتی کیا گیا ہے۔ کیا کسی بھی شخص کو بغیر کسی کولیفکشن اور بغیر تجربہ کے ڈیوٹی پر رکھنا عوام کی زندگیوں سے کھیلنا نہیں ہے؟اقربا پروری (نیپوٹزم): میرٹ کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے ایک ہی برادری کے افراد کو بڑی تعداد میں بھرتی کرنے کے الزامات ہیں۔ کیا یہ تعیناتیاں قابلیت کی بنیاد پر کی گئیں یا "اپنوں کو نوازنے” کی پالیسی اپنائی گئی اور عوام کی زندگی سے کھیلنا کھاں کا انصاف ھے یہ نہ صرف بدانتظامی ہے بلکہ کھلی ناانصافی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
    حساس ذمہ داری اور انتظامی خاموشیسوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایسے شخص کو اکاؤنٹنٹ کی حساس ذمہ داری سونپی جانی چاہیے جس پر اتنے سنگین الزامات ہوں؟ کیا انتظامیہ کسی بڑے حادثے کا انتظار کر رہی ہے؟ بے چینی اور انتظامیہ کی خاموشی کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔مطالبات: شفاف انکوائری کا وقت تعین کیا جاےعوامی حلقوں اور متاثرہ عوام کی جانب سے درج ذیل مطالبات سامنے آئے ہیں:
    ایس ایس پی میرپورخاص فوری طور پر ان الزامات کی شفاف انکوائری کا حکم دیں۔اگر الزامات ثابت ہو جاتے ہیں، تو ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔یہ محض ایک انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ ہزاروں مریضوں اور شہریوں کے زندگی کے تحفظ کا سوال ہے۔ اب خاموشی اختیار کرنا مزید خطرات کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ سچ کا سامنے آنا اور انصاف ہونا ناگزیر ہے!

  • کندھ کوٹ سول ہسپتال میں بدترین کرپشن: سرکاری ادویات کی چوری، مریضوں کی جانوں کو خطرہ

    کندھ کوٹ سول ہسپتال میں بدترین کرپشن: سرکاری ادویات کی چوری، مریضوں کی جانوں کو خطرہ

    کشمور (بیورو چیف) – کندھ کوٹ کے سول ہسپتال میں سرکاری ادویات کی بدترین چوری اور کرپشن مافیا کے بے لگام اقدامات سے غریب مریض خطرے میں ہیں۔ علاقہ مکینوں کے مطابق ہسپتال اب علاج گاہ نہیں بلکہ ظلم و ناانصافی کا مرکز بن چکا ہے، جہاں نہ ڈاکٹرز کی کوئی پرواہ ہے اور نہ ہی مریضوں کی جان کی کوئی قیمت۔
    شہریوں کا کہنا ہے کہ تعلقہ اسٹور انچارج جی ایم سومرو اور ضلع اسٹور انچارج توحید سومرو سرکاری ادویات کی مبینہ طور پر نجی اسٹورز پر فروخت میں ملوث ہیں، جبکہ ڈی ایچ او اور آفس سپرنٹنڈنٹ کی سرپرستی کے بغیر یہ کرپشن ممکن نہیں۔
    گمشدہ اور مبینہ طور پر بازار میں فروخت ہونے والی ادویات میں شامل ہیں:
    سیفٹریاکسون،میروپینم،وینکومائسن،انسولین،اینوکساپیرن،اومیپرازول،پیراسیٹامول انفیوژن،ہماکسل،انسولین 70/30،اسپیرٹ،پائیوڈین،وٹامن ڈی انجیکشن،پیناڈول سیرپ،سیفٹو انجیکشن.شہریوں نے وزیر اعلیٰ سندھ، وزیر صحت، ڈپٹی کمشنر کشمور اور متعلقہ حکام سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ڈی ایچ او، آفس سپرنٹنڈنٹ، تعلقہ اسٹور انچارج جی ایم سومرو اور ضلع اسٹور انچارج توحید سومرو سمیت تمام ملوث افراد کو گرفتار کر کے سخت سزا دی جا سکے اور ہسپتال کو لٹیروں کے قبضے سے آزاد کرایا جا سکے۔