Baaghi TV

Tag: Singer

  • ہنی سنگھ ہوئے فارش شفیع کے دیوانے

    ہنی سنگھ ہوئے فارش شفیع کے دیوانے

    میشا شفیع کے بھائی فارس شعیع کے دیوانے پاکستان میں ہی نہیں‌بلکہ انڈیا میں بھی موجود ہیں، انڈیا کا معروف سنگر ہنی سنگھ بھی ہے فارس شفیع کا دیوانہ. انہوں نے حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ کی ہے جس میں‌انہوں نے کہا ہے کہ فارش شفیع غیر معمولی سنگر ہے میں اس کے کام سے بے حد متاثر ہوں، پاکستان میں بہت ہی باصلاحیت فنکار موجود ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ ہم سب اگر مل کر کام کریں تو دنیا کو فتح کر سکتے ہیں.

    انڈیا میں‌ فارس کے بہت مداح ہیں، میری خواہش ہے کہ میں اور فارس مل کر میوزک کے ھوالے سے کوئی کام کریں . انہوں نے کہا کہ ”فارس شفیع جیسا ریپر میں نے آج تک کم ہی دیکھا ہے”. یاد رہے کہ فارس شفیع نے گزشتہ برس ریلیز ہونے والی فلم دا لیجنڈ آف مولا جٹ میں ایک اہم کردار کیا ، ان کے کردار اور اداکاری کو بے حد سراہا گیا. فارس نے اپنی بہن کی طرح اداکاری اور میوزک میں ایک جیسا نام بنایا ہے.

     

     

  • حمیرا ارشد بھی ٹک ٹاک پر

    حمیرا ارشد بھی ٹک ٹاک پر

    گلوکارہ حمیرا ارشد جو کہ سوشل میڈیا پر بہت ہی زیادہ متحرک رہتی ہیں وہ اکثر مزاحیہ وڈیوز بنا کر اپلوڈ کرتی ہوئی نظر آتی ہیں، ان پر بھی چڑھ گیا ہے ٹک ٹاک کا جنون ، گلوکارہ ٹک ٹاک پر باقاعدگی سے وڈیوز بناتی ہوئی نظر آرہی ہیں، ان کے مداح ان کو ٹک ٹاک کی وڈیوز میں بہت زیادہ پسند کررہے ہیں. ”حمیرا اکثر ڈائیلاگز پر مبنی ٹک ٹاک وڈیوز بناتی ہیںٔٔ” ، گلوکارہ چاہیے ملک میں‌ہوں یا ملک سے باہر وہ وڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر اپلوڈ کرنا نہیں بھولتیں. گلوکارہ نے کبھی بھی ایسی وڈیوز نہیں‌ بنائیں‌ جن پر اعتراض کیا جائے نہ ہی اس حوالے سے وہ ابھی تک کسی کنٹرورسی میں پڑی ہیں.

    یاد رہے کہ حمیرا ارشد نے گائیکی کا آغاز نوے کی دہائی میں کیا، میڈم نور جہاں کا گیت سدا ہوں اپنے پیار کی ، سے انہیں گائیکی کی دنیا میں ویلکم کیا اس کے بعد انہوں نے متعدد گانے گائے. ان کے مداح ان کو آج تک پسند کرتے ہیں. حمیرا ارشد کو ایکٹنگ کی آفرز آتی رہیں لیکن انہوں نے اپنی تمام تر توجہ گائیکی پر ہی مرکوز رکھی. ان کی زندگی میں بہت زیادہ اتار چڑھائو بھی آئے لیکن انہوں نے با ہمت خاتون ہونے کا ثبوت دیا.

    کیرئیر بنانے کے چکر میں 9 ویں جماعت میں‌ فیل ہو گئی

     

    میمو چکرابورتھی کی پہلی‌ فلم‌ کی‌ ناکامی‌ پر‌والد‌ین متھن‌ رو‌ پڑے

  • شاہد کپور کے کس بیان پر ان کے مداح ہو گئے ہیں ناراض

    شاہد کپور کے کس بیان پر ان کے مداح ہو گئے ہیں ناراض

    بالی وڈ اداکار شاہد کپور اکثر رہتے ہیں چرچا میں ، حال ہی میں انہوں نے ایک انٹرویو دیا جس میں ا نہوں نے کہا ہے کہ شادی کے بعد خاتون مرد کی بے ترتیب زندگی میں سدھار لاتی ہے۔ شادی سے پہلے مرد بے ترتیب ہوتا ہے ، بیوی اس کی زندگی میں بہتری لاتی ہے، انہوں نے مزید وضاھت دیتے ہوئے کہا کہ پوری شادی ایک ہی چیز پر منحصر ہے کہ مرد شادی سے پہلے بے ترتیب ہوتا ہے اور شادی کے بعد عورت اس میں سدھار لاتی ہے تو پوری زندگی ایسی ہی چلتی ہے اور یوں ایک مرد مہذب شخص بن جاتا ہے۔شاہد کپور کی یہ بات ان کے مداحوں کو بالکل پسند نہیں آئی اور ان کا کہنا ہے کہ مردوں کو بے ترتیب کہنا مناسب نہیں ہے بہت سارے مرد ہیں جو اپنے سارے کام خود کرتے ہیں وہ گھر باہر کو مینج کرتے ہیں ۔ یوں شاہد کپور پھنس گئے ہیں ایک نئی کنٹرورسی میں۔ یاد رہے کہ

    کنٹرورسی میں گھرے رہنا شاہد کپور کے لئے کوئی نئی بات نہیں ہے ، شادی سے قبل اپنے افئیرز کی وجہ سے بھی وہ ہر وقت کنٹرورسی میں گھرے رہتے تھے ، شاہد کپور نے 2015میں میرا کے ساتھ شادی کی ان دونوں کے دو بچے ہیں اور دونوں ہی ایک خوشگوار شادی شدہ زندگی بسر کررہے ہیں۔ لیکن شاہد کپور کسی بھی قسم کی کنٹرورسی سے نہیں گھبراتے۔ شاہد کپور کافی عرصے سے کم کم کام کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ اب وہ صرف معیاری کا م کریں گے چاہے دو سال میں ایک فلم ہی کیوں نہ ملے۔

  • آج مہدی حسن کی 13برسی منائی جا رہی ہے

    آج مہدی حسن کی 13برسی منائی جا رہی ہے

    شہنشاہ غزل کہلائے جانے والے مہدی حسن کو ہم سے بچھڑے ہوئے 13سال بیت گئے ہیں لیکن ان کے گیت ان کی غزلیں آج بھی شائقین شوق سے سنتے ہیں اور رہتی دنیا تک سنتے رہیں گے، میوزک کی دنیا میں برصغیر میں جو مقام مہدی حسن کو حاصل ہے وہ شاید ہی کسی دوسرے گلوکار کو حاصل ہو۔مہدی حسن نے موسیقی کی تربیت اپنے والد استاد عظیم خان اور اپنے چچا استاد اسماعیل خان سے حاصل کی، جو کلاسیکل موسیقار تھے۔ مہدی حسن نے گلوکاری کا آغاز ریڈیو پاکستان سے کیا ۔ اس کے بعد انہوںنے فلموں کا رخ کیا فلم فرنگی

    میں غزل گائی اس کے بعد پھر ان کے کیرئیر کی گاڑ نکل پڑی ۔ مہدی حسن نے لا تعداد گانے اور غزلیں گائیں ۔ مہدی حسن کو حکومت پاکستان کی جانب سے تمغہ حسن کارکردگی اور ہلال امتیاز سمیت تمام نمایاں قومی سطح کے ایوارڈ سے نوازا گیا۔گائیکی کے میدان میں بام عروج پر پہنچنے کی طویل جدوجہد کے بعد مہدی حسن فالج، سینے اور سانس کی مختلف بیماریوں کا شکار ہوگئے اور طویل علالت کے بعد 13 جون 2012 کو کراچی میں اس دنیا سے رخصت ہوگئے، مہدی حسن خودتو اس دنیا سے چلے گئے لیکن ان کا فن آج بھی زندہ ہے اور آج بھی ان کو یاد کیا جاتا ہے ۔ ان کی گائیکی نئے آنے والوں کے لئے مشعل راہ ہے۔ مہدی حسن کے پرستار پاکستان اور انڈیا سمیت پوری دنیا میں پائے جاتے ہیں۔

  • صاحب ثروت لوگ مستحق لوگوں کی مدد کریں رابی پیرزادہ

    صاحب ثروت لوگ مستحق لوگوں کی مدد کریں رابی پیرزادہ

    شوبز کو چھوڑکر دین اسلام کی طرف راغب ہونے والی رابی پیرزادہ نے ایک فاﺅنڈیشن بنا رکھی ہے جس کے تحت وہ غریب لوگوں کی مدد کرتی ہیں۔ اسی حوالے سے انہوں نے ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ میں بہت خوش ہوں کہ میں غریب اور مستحق لوگوں کی مددکر رہی ہوں اور خدا کی ذات مجھ سے یہ کام لے رہی ہے۔ ہمارا دین بھلائی اور رحم کا درس دیتاہے ، لیکن کچھ لوگوں نے ہمارے دین کو بہت مشکل بنا دیا ہے۔ اللہ تعالی نے ہر معاملے میں آسانی رکھی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دین کی راہ پر چلنے میں ہی عافیت ہے اور یہی ہماری نجات کا بھی زریعہ ہے ، دنیا چار دن کی ہے اس کے بعداصل امتحان شروع ہوتا ہے اس لئے ہمیں دنیا میں ایسے کام کرنے چاہیں جو آخرت میں

    ہماری نجات کا زریعہ بنیں۔ میرے پاس بہت ساری ایسی خواتین آتی ہیں جن پر ظلم کے پہاڑ صرف اسلئے توڑے جاتے ہیں کیونکہ انہوں نے لڑکیوں کو جنم دیا، اسلام نے تو بیٹی کا درجہ بہت بلند رکھا ہے اس سے منہ موڑنے والے اپنی ذمہ اریوں سے بھاگنے والے یقینا خداکے مجرم ہیں۔ ہمارے نبی اپنی بیٹی سے بے حد محبت کرتے تھے تو ہم کیسے بیٹی کی اہمیت سے انکاری ہو سکتے ہیں، انہوں نے کہا کہ ہم سب کو چاہیے کہ ہم ایک دوسرے کی مدد کریں اور ایک دوسرے کے دکھ درد میں ساتھ کھڑے ہوں۔

  • ایک واقعہ نے میری زندگی بدل دی رابی پیرزادہ

    ایک واقعہ نے میری زندگی بدل دی رابی پیرزادہ

    اداکاری اور گلوکاری کو خیرباد کہنے والی رابی پیرزادہ نے اپنے حالیہ انٹرویو میں‌کہا ہے کہ میری زندگی میں‌ایک ایسا واقعہ ہوا کہ جس نے میری زندگی بدل کر رکھ دی. اگر وہ واقعہ نہ ہوتا تو شاید میں اللہ کی طرف اس طرح سے رجوع نہ کرتی جیسے اب ہے اور شاید میں شوبز بھی نہ چھوڑتی. رابی پیرادہ نے کہاکہ میں اپنے اس نئے حلیے اور نئی زندگی سے بہت زیادہ مطمئن ہوں. میں کہنا چاہتی ہوں سب کو کہ آپ اپنا آپ اللہ کے حوالے کردیں خدا آپ کی مشکلیں خود اپنے زمہ لے لے گا. رابی پیرزادہ نے کہا کہ اللہ کی طرف رجوع کرنے میں جو سکون اور اطمینان

    ہے وہ کسی اور چیز میں نہیں ہے، میں نے باقاعدہ کیلی گرافی نہیں سیکھی، لیکن میں بچوں کو کیلی گرافی اور پینٹنگ سکھا رہی ہوں. مجھے بہت اچھا لگتا ہے لوگوں کی مدد کرکے. میرے پاس ایسی ایسی خواتین آتی ہیں جن کا کوئی نہیں ہے اور ان شوہروں نے صرف ان کو اس لئے چھوڑ دیا کیونکہ ان کے گھر میں بیٹیاں پیدا ہوئیں. رابی نے کہا کہ اب میں پیچھے مڑ کر دیکھتی ہوں تو ایسا لگتا ہے کہ جیسے کچھ مسنگ تھا لیکن اب میں اپنی ذات اور اپنے حالات سے بے حد مطمئن ہوں.

  • عمران عباس کی آواز نے مداحوں کا دل جیت لیا

    عمران عباس کی آواز نے مداحوں کا دل جیت لیا

    اداکارعمران عباس بہت اچھی طرح جانتے ہیں‌کہ انہوں نے سوشل میڈیا پر کس طرح سے لوگوں کی توجہ ھاصل کرنی ہے. وہ اکثر اپنے ڈراموں کی شوٹنگ کے دوران بھی ایسی چیزیں ریکارڈ کرتے ہیں جن کو وہ سوشل میڈیا پر شئیر کرکے مداحوں کی توجہ حاصل کر لیتےہیں.انہوں نے حال ہی میں‌بھی ایسا کیا اور مداحوں کی توجہ ھاصل کر لی. یہ توہ م سب جانتے ہیں کہ اداکار عمران عباس نہ صرف ایک اچھے اداکار ہیں بلکہ انکی آواز بھی کسی سے کم نہیں ہے۔ عمران عباس آج کل بیرون ملک سیروتفریح میں مصروف ہیں جہاں سے خوبصورت ویڈیوز اور تصاویر

    اپنے چاہنے والوں کے ساتھ شیئر کر رہے ہیں۔عمران عباس نے اس بار انسٹاگرام کا رخ کرتے ہوئے اپنی دلکش ویڈیو شیئر کردی جس میں انہیں ٹھنڈے موسم میں ساحل کنارے بیٹھے اپنی خوبصورت آواز میں لتا منگیشکر اور کشور کمار کا گانا ساگر کنارے گنگناتے دیکھا گیا۔ عمران عباس کی اس گائیکی کو مداحوں نے خوب سراہا۔یاد رہے کہ عمران عباس نے کچھ عرصہ پہلے بھی صبا قمر کے ساتھ مجھے تم نظر سے گرا تو رہے ہو گانے پر وڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر شئیر کی جس کے بعد انہیں بہت زیادہ پذیرائی ملی.

  • راحت فتح علی خان کے گانے آنکھیں نے 100 ملین ویوز حاصل کر لئے

    راحت فتح علی خان کے گانے آنکھیں نے 100 ملین ویوز حاصل کر لئے

    ڈرامہ سیریل کابلی پلاؤ کے او ایس ٹی آنکھیں نےڈیجیٹل پلیٹ فارم پر 100ملین ویوز حاصل کر لئے ہیں. آنکھیں کی مسحورکن کمپوزیشن کے خالق اور گلوکار راحت فتح علی خان ہیں جبکہ گانے کے بول عمران رضا نے تحریر کئے ہیں. OST آنکھیں نے نہ صرف لاکھوں ناظرین کے دل جیت لئے ہیں بلکہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر دھوم مچادی ہے۔ ٹوئیٹر پر اس کی دلکش میلوڈی اور نغمے کے بولوں پر اس کے پرستاروں نے نغمے کے لئے محنت کرنے والے باصلاحیت فنکاروں کے بارے میں تعریفوں کے پل باندھ دئیے ہیں۔

    اسی طرح انسٹاگرام اور ٹک ٹاک پر بھی تخلیقی ریلیز کا تنوع نظر آرہا ہے جہاں پرستاروں نے گانے کے بول خود بھی گنگنانا شرو ع کردئیے ہیں.یاد رہے کہ کابلی پلاؤ کی کہانی ظفر معراج نے لکھی ہے او ڈائریکشن کاشف نثار کی ہیں.کابلی پلائو کے پروڈیوسر قیصر علی اور ایگزیکٹیو پروڈیوسر عمران رضا ہیں۔ کیو اینڈ کے پروڈکشنز اور ملٹی ورس انٹر ٹینمنٹ کے اشتراک سے یہ شاندار پروجیکٹ پیش کیا جارہا ہے جس میں انتہائی باصلاحیت افراد کی ٹیم نے اپنی مہارت اور تخلیقی صلاحیتوں سے کام کیا ہے۔

  • آئمہ بیگ امریکہ میں‌ کیا کرتی تھیں ؟‌

    آئمہ بیگ امریکہ میں‌ کیا کرتی تھیں ؟‌

    گلوکارہ آئمہ بیگ جنہوں نے اپنے کیرئیر کاآغاز نجی چینل کے مزاحیہ پروگرام سے کیا تھا، اس کے بعد انہوں نے گلوکاری کو بطور پروفیشن مکمل طور پر اپنا لیا. دیکھتے ہی دیکھتے آئمہ گائیکی کے افق پر چھا گئیں اور ان کی آواز میں گانے پاکستان کی نامور ہیروئنز پر پکچرائز ہوئے. آئمہ بیگ نے اپنے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا ہے کہ وہ جب سولہ سال کی تھیں تو امریکہ میں رہتی تھیں اور وہاں پر وہ ایک کال سینٹر میں کام کرتی تھیں تاکہ کچھ اضافی رقم جوڑ سکیں اور وہ لوگوں کو امریکا میں کیبل کنیکشن فروخت کیا کرتی تھیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ اس دوران میرا آمنا سامنا بہت سارے لوگوں کے ساتھ ہوتا تھا ، ایک بار جب میں‌امریکی ریاست اوہایو میں رہائش پذیر تھی تو

    مجھے ایک 72 سالہ بوڑھے شخص کی کال آئی اس نےمجھے ناشتے پر پائن ایپل پین کیکس پر ڈیٹ کرنے کی دعوت دی۔ گلوکارہ نے کہا کہ کام کے دوران ایسے واقعات پیش آتے رہتے ہیں لہذا ان سے پریشان ہونے کی بجائے ہمیں ان سے ڈیل کرنا چاہیے. اگر لڑکی گھبرا جائے تو دنیا تو مزید پریشان کرتی ہے اس لئے گھبرانے کی ضرورت نہیں، لڑکیوں میں اتنی پاور ہوتی ہے کہ وہ مسائل سے پازیٹیو طریقے سے نمٹ لیتی ہیں.

  • عنایت حسین بھٹی کی آج 24 برسی

    عنایت حسین بھٹی کی آج 24 برسی

    عیانت حسین بھٹی ایک ورسٹائل فنکار تھے،گلوکاری ، کمپئرنگ ، اداکاری تمام شعبوں میں‌اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے. گلوکاری کا شوق انہی فلمی صنعت میں لے آیا.1953 میں انہوں نے فلم شہری بابو میں ایک سائیں کا کردار کیا اور ساتھ ہی ساتھ اس میں‌گلوکاری بھی کی، ان کی اداکاری اور گلوکاری دونوں‌کو بے حد پسند کیا گیا. 1955 میں شباب کیرانوی نے اپنی فلم جلن میں انہیں مرکزی کردار ادا کرنے کی پیشکش کی۔ اس کے بعد انکی اداکاری کا کیرئیر چل پڑا ، انہوں نے متعدد فلمیں بھی ڈائریکٹ‌کیں.انہوں نے اردو پنجابی فلموں میں کام کیا اور بنائیں بھی،

    انکی آخری فلم عشق دا روگ 1989 میں‌ سینما گھروں کی زینت بنی.عنایت حسین بھٹی نے 1985ء کے عام انتخابات میں قومی اسمبلی کی ایک نشست پر انتخاب لڑا تھا مگر کامیاب نہ ہو سکے تھے۔ پاکستان کے مشہور فلمی اداکار کیفی ان کے بھائی، ٹیلی وژن کے مشہور فن کار وسیم عباس ان کے صاحبزادے اور ٹیلی وژن ہی کے ایک اور اداکار آغا سکندر ان کے داماد تھے۔عنایت حسین بھٹی کا انتقال فلم اور میوزک انڈسٹری کو ایک بڑا دھچکہ تھی ان کا خلاء کوئی نہ پورا کر سکا ہے اور نہ ہی کر سکے گا. ان کے گیت آج بھی کانوں میں رس گھولتے ہیں.