Baaghi TV

Tag: Speaker Assembly

  • نوجوانوں کی تعلیم و تربیت اولین ترجیح ہے. اسپیکر قومی اسمبلی کا سمر انٹرن شپ پروگرام سے خطاب

    نوجوانوں کی تعلیم و تربیت اولین ترجیح ہے. اسپیکر قومی اسمبلی کا سمر انٹرن شپ پروگرام سے خطاب

    اسپیکر قومی اسمبلی کا پارلیمنٹ ہاؤس میں سمر انٹرن شپ پروگرام کے اختتامی اجلاس کے شرکاء سے خطاب میں کہنا تھا کہ نوجوان قوم کے مستقبل کے معمار ہیں ان کی بہترین تعلیم و تربیت اولین ترجیح ہے، جبکہ اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے مزید کہا کہ نوجوان قوم کے مستقبل کے معمار ہیں۔قوم کو اپنے مستقبل کے ان معماروں سے بہت زیادہ توقعات وابستہ ہیں۔قوم کی توقعات پر پورا اترنے اور ملک کو ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے بھرپور محنت کی ضرورت ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے تقریباً گزشتہ دو ماہ سے جاری پارلیمنٹ ہاؤس میں سکول اور کالجز کے طلباء کے لیے سمر انٹرن شپ پروگرام کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

    ترجمان قومی اسمبلی کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی نے انٹرن شپ پروگرام میں حصہ لینے والے طلباء و طالبات سے کہا کہ ان کی اولین ترجیح پاکستان ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ آج کے نوجوان خوش قسمت ہین کہ انہیں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی جدید سہولیات میسر ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے ملک مستقبل کو تابناک بنانے کے لیے کردار ادا کریں۔انہوں نے فرضی (موک) پارلیمنٹ میں نوجوان انٹرن کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ نوجوان انٹرن نے انتہائی احسن طریقے سے موک پارلیمنٹ کی کارروائی چلائی اور بحث میں حصہ لیا جو انتہائی متاثر کن تھی اور حقیقت پارلیمنٹ کی کارروائی محسوس ہو رہا تھا۔انہوں نے کہا کہ سمر انٹرن شپ پروگرام کا مقصد نوجوانوں کو اپنے ملک کی پارلیمان سے متعلق معلومات اور آگاہی فراہم کرنا تھا۔انہوں نے کہا کہ کل آپ نے اس ملک کی قیادت کو سنبھالنا ہے اور اسی باہمی احترام کے جذبے اور صبرو تحمل کا مظاہرہ آج اس موک پارلیمنٹ میں کیا گیا سے ملک کو ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنا ہے۔انہوں نے انٹرن شپ پروگرام کے شرکاء کو ملک کے مثبت تشخیص کو اجاگر کرنے اور ملک کے حق میں جو بات آئے اسے بھرپور انداز میں دوسروں تک پہچانے اور ملکی قوانین، آئین اور پارلیمان کا احترام کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے موک پارلیمنٹ میں بچوں کے حقوق سے متعلق پیش کی گئی قرارداد کی حمایت کی۔

    جبکہ قبل ازیں سمر انٹرن شپ پروگرام کے شرکاء نے ایک موک پارلیمنٹ کے اجلاس کا اہتمام کیا جس میں انٹرنز نے اسپیکر، وزیراعظم، وفاقی وزراء وزیر قانون، اپوزیشن لیڈر کے طور پر کردار ادا کیا۔اجلاس میں بچوں کے مسائل اور قانون سازی سے متعلق امور کو زیر بحث لایا گیا۔اس فرضی (موک) پارلیمنٹ کی مشق کا مقصد نوجوانوں میں پارلیمان سے متعلق شعور کو اجاگر کرنا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    توشہ خانہ کا ٹرائل روکنے کا کیس، فیصلہ آج، عمران خان کی نیب،پولیس میں طلبی بھی آج
    توشہ خانہ کیس، آج کا وقت دیا تھا الیکشن کمیشن اپنے دلائل دے ،جج ہمایوں دلاور
    علی امین گنڈا پور کے گھر چھاپہ،غلیل،ڈنڈے،سیلاب ریلیف کا سامان برآمد
    تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی انتخاب ،الیکشن کمیشن میں سماعت ملتوی
    زیادہ بھیک کے لئے سفاک باپ نے کمسن بچی کو جلا دیا
    ترجمان نے بتایا کہ تقریب میں صدارتی ایوارڈ یافتہ سینئر صحافی حافظ طاہر خلیل نے بھی شرکت کی جو 1975 سے پارلیمنٹ کی کاروائی کو کور کرتے رہے ہیں اور پریس گیلری کے سب سے پرانے ممبر ہیں۔اسپیکر قومی اسمبلی نے پارلیمان کیلئے ان کی صحافتی خدمات کے اعتراف میں یادگاری شیلڈ پیش کی۔تقریب کے آخر میں اسپیکر قومی اسمبلی نے سمر انٹرن شپ پروگرام کے شرکاء کو سرٹیفیکیٹ بھی دیے۔اسپیکر قومی اسمبلی نے سمر انٹرن شپ پروگرام کے منتظمین خصوصاً خصوصی اقدامات ونگ کی کاوشوں کو سراہا اور اس اعتماد کا اظہار کیا کہ سمر انٹرن شپ سمیت اس طرح کے دیگر پروگرام خصوصاً نوجوانوں میں پارلیمان اور قانون سازی سے متعلق آگاہی میں معاون ثابت ہونگے۔

  • اب توہین پارلیمنٹ پر سزا ہوگی

    اب توہین پارلیمنٹ پر سزا ہوگی

    سینیٹ نے توہین پارلیمنٹ بل متفقہ طور پر منظور کرلیا ہے جبکہ اب پارلیمنٹ، کمیٹی اور رکن پارلیمنٹ کا استحقاق مجروح کرنے پر سزا اور جرمانہ ہوگا۔ سینیٹ اجلاس کے دوران توہین پارلیمنٹ بل سینیٹر کہدہ بابر نے پیش کیا جبکہ سینیٹ نے توہین پارلیمنٹ بل متفقہ طور پر منظور کرلیا۔

    بل کے مطابق پارلیمنٹ، کمیٹی اور رکن پارلیمنٹ کا استحقاق مجروح کرنے پر سزا اور جرمانہ ہوگا۔ جبکہ خیال رہے کہ اس سے قبل قومی اسمبلی نے توہین پارلیمنٹ بل 2023 منظور کیا تھا اور اسپیکر راجہ پرویز اشرف کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا تھا جس میں رانا قاسم نون نے توہین پارلیمنٹ بل 2023 منظوری کے لیے ایوان میں پیش کیا تھا۔

    تاہم خیال رہے کہ بل کے تحت کسی بھی ادارے یا شخص کی جانب توہین کا معاملہ استحاق کمیٹی کے سامنے رکھا جائے گا، استحقاق کمیٹی 60 روز کے اندر اپنی سفارشات قومی اسمبلی اور سینٹ میں پیش کریں گی جبکہ کمیٹی سفارشات پر ایوان معاملہ توہین کمیٹی کے سپردکیا جائے، بل کے مطابق تحقیر کمیٹی 5 ممبران پر مشتمل ہوگی، 3 ممبران قومی اسمبلی اور 2 سینیٹ سے ہوں گے۔ ایک ممبر اسپیکر قومی اسمبلی، 2 وزیراعظم اور اپوزیشن کے تجویز کردہ ہوں گے۔

    سینیٹ سے قائد ایوان اور اپوزیشن لیڈر کے تجویز کردہ 2 ارکان بھی تحقیر کمیٹی کا حصہ ہوں گے اور بل کے محرک رانا قاسم نون نے آج کے دن کو تاریخی قرار دے دیا ہے۔ علاوہ ازیں یہ بھی کہا گیا تھا کہ کمیٹی کو سول جج کو سول جج کے اختیارات حاصل ہوں گے، کمیٹی کو کسی بھی ادارے شخص کیمٹی کے سامنے عدم پیشی پر سمن اور وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کا اختیار ہوگا جبکہ وارنٹ گرفتاری کی منظوری اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ سے لی جائے گی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں 0.39 فیصد تنزلی ریکارڈ
    اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپو رمیں منشیات کی مبینہ خرید و فروخت،انکوائری کمیٹی تشکیل
    عمران خان کی بہنوں سمیت تحریک انصاف کے رہنما اشتہاری قرار
    ارکان پارلیمان نے توہین پارلیمنٹ بل کو ایوان کی تاریخی فتح قرار دیا تھا اور بتایا گیا تھا پارلیمنٹ ، قومی اسمبلی، سینیٹ اور ارکین پارلیمنٹ کی توہین قابل سزا جرم ہوگا، سزا کے خلاف اپیل چیئرمین سینیٹ اور اسپیکر قومی اسمبلی کے سامنے دائر کی جائے گی۔ اسپیکر اور چیئرمین سینیٹ پر مشتمل 2 رکنی کمیٹی سزا کے خلاف اپیل سننے اور اس پرفیصلہ کرنے کے مجاز ہوں گے۔ بل میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ تحقیر کمیٹی کا کوئی دستاویز بطور ثبوت کسی عدالت میں پیش نہیں کیا جا سکے گا۔ جبکہ توہین ثابت ہونے پر 6 ماہ قید اور 10 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔ سزا پر ملزم 30 دن میں فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرسکے گا۔