Baaghi TV

Tag: strike

  • کیا ریسٹورنٹ میں اسی طرح کھلےعام  اپنے بچوں کو مارنا چا ہئیے؟

    کیا ریسٹورنٹ میں اسی طرح کھلےعام اپنے بچوں کو مارنا چا ہئیے؟

    کیا ریسٹورنٹ میں اسی طرح کھلےعام اپنے بچوں کو مارنا چا ہئیے؟

    کیا آنٹی نے ٹھیک کام کیا؟

    مظفرگڑھ: گھرسے تعلیم حاصل کرنے کیلئے جانیوالی لڑکی دوست کے ساتھ ریسٹورنٹ میں چلی گئی
    لڑکی کی والدہ پیچھا کرتے ہوئے ریسٹورانٹ میں پہنچ گئی، بیٹی اورلڑکے کی سرعام چھترول کرڈالیخاتون نے اپنی بیٹی اوراس کے دوست لڑکے کی جوتوں سے خوب پٹائی کرڈالی،ریسٹورانٹ میں موجود دیگرلوگ اورعملہ تماشا دیکھتے رہے ، ویڈیو وائرل ہوگئی

  • مایہ ناز باکسر عامر خان کا کرتارپور راہداری، گوردوارہ دربار صاحب کا دورہ

    مایہ ناز باکسر عامر خان کا کرتارپور راہداری، گوردوارہ دربار صاحب کا دورہ

    مایہ ناز باکسر عامر خان کا کرتارپور راہداری، گوردوارہ دربار صاحب کا دورہ،کرتارپور راہداری کے دورے کے بعد باکسر عامر خان کا اظہار خیال

    عامر خان نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آج کرتارپور کا دورہ، گوردوارہ دربار صاحب پر حاضری خوشگوار تجربہ رہا، عاکرتارپور میں بہترین میزبانی پر شکر گزار ہوں، گوردوارہ دربار صاحب بین المذاہب ہم آہنگی کا حقیقی استعارہ ہے،

    پاکستان نے تمام اقلیتوں کو حقیقی مذہبی آزادی دی، بھارت، پاکستان کے برعکس اقلیتوں کے خلاف اقدامات کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر، بابری مسجد ہو یا سکھ کمیونٹی، بھارت ہر روز اقلیتوں کیخلاف اقدامات کر رہا ہے ، باکسر عامر خان نے درخواست کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی حکومت سکھوں کیلئے گیٹ کھولے، کرتارپور آنے دے،

  • گیارہ جماعتوں کی پی ڈی ایم ایک” جلسی” نہ کرسکی

    گیارہ جماعتوں کی پی ڈی ایم ایک” جلسی” نہ کرسکی

    وزیر اعلیٰ پنجاب کے معاون خصوصی سردار تنویر الیاس خان کا بیان
    گیارہ جماعتوں کی پی ڈی ایم ایک” جلسی” کرسکی
    لاہور میں پی ڈی ایم ملک بھر سے صرف چند ہزار لوگ اکٹھے کرپائے،یہ لوگ 35 سالہ دورِ اقتدار میں ایک ایسا اسپتال نہ بنا سکےجہاں اپنا علاج کروا سکیں،اشرافیہ کو طعنہ دینے والے خود باہر علاج کے لیے جاتے ہیں،یہ ہمیشہ معصوم شہریوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالتے رہے ہیں،کرونا کے مریضوں میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے،عوام کے سامنے ان کا اصل چہرہ بے نقاب ہوچکا ہے،عوام اپوزیشن کے کسی جھانسے میں نہیں آئیں گے،

  • وزیراعظم پورٹل سے رجوع کرنا لیڈی ہیلتھ وزیٹر کو مہنگا پڑگیا

    وزیراعظم پورٹل سے رجوع کرنا لیڈی ہیلتھ وزیٹر کو مہنگا پڑگیا

    وزیراعظم پورٹل سے رجوع کرنے پر لیڈی ہلیتھ وزیٹر کی سزا۔لاہور ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس فیصل زمان کا نوٹس ۔ عدالت نے پرنسپل نرسنگ سکول 28 جنوری کو ریکارڈ سمیت طلب کر لیا ۔
    عدالت نے کرونا کی بنا پر درخواست گزار کی روکی گئی 5 ماہ کی تنخواہیں فوری جاری کرنے کا حکم دے دیا ۔

    مسٹر جسٹس فیصل زمان نے ضائمہ کومل کی درخواست پر سماعت کی ۔درخواست گزار کی طرف سے زبیر خالد ایڈووکیٹ پیش ہوئے ۔وکیل درخواستگزار نے کہا کہ درخواستگزار کو دوران ڈیوٹی کرونا ہو گیا ۔درخواستگزار ائسولئشن میں چلی گئی ۔پرنسپل نرسنگ سکول نے درخواست گزار کی چھٹی نامنظور کرتے ہوئے ڈیوٹی پر انے کے احکامات جاری کیے ۔درخواستگزار نے وزیراعظم پورٹل پر کمپلینٹ کر دی ۔

    پرنسپل نرسنگ سکول نے انتقامی کاروائی کرتے ہوئے درخواستگزار کو ریگولر ملازم سے کنٹریکٹ پر کر دیا ۔درخواستگزار کی جولائی سے تنخواہیں روک لیں ۔تم نے وزیر اعظم پورٹل پر شکایت کرنے کی جرات کیسے کی۔پرنسپل کی درخواست گزار کو دھمکی ۔عدالت اسکو کنٹریکٹ پر کرنے کا حکم کالعدم قرار دے استدعا ۔عدالت اسکو تنخواہوں کی ادائیگی کا حکم دے استدعا

  • اینٹی نارکوٹکس فورس نے منشیات اسمگلنگ کی روک تھام کیلیے اہم فیصلے کر لیے

    اینٹی نارکوٹکس فورس نے منشیات اسمگلنگ کی روک تھام کیلیے اہم فیصلے کر لیے

    اینٹی نارکوٹکس فورس کے زیر اہتمام تیرھویں انٹر ایجنسی ٹاسک فورس کا اجلاس
    منشیات کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا جبکہ اِسکی اسمگلنگ پرقابو پانے کے لئے مربوط قومی لائحہ عمل ترتیب دینے کی اہمیت پر زور دیا گیا ملک کے تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کی انٹرایجنسی ٹاسک فورس(IATF) کا اعلیٰ سطحی اجلاس اینٹی نارکوٹکس فورس ہیڈ کوارٹر، راولپنڈی میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت چیئرمین IATF ڈائریکٹر جنرل اے این ایف میجر جنرل محمد عارف ملک، ہلال ِامتیاز(ملٹری)نے کی۔

    اجلاس میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو، پاکستان کوسٹ گارڈ، ایئرپورٹ سکیورٹی فورس، فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی، پاکستان میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی، خیبرپختونخوا سیکرٹریٹ، پاکستان رینجرز (پنجاب)، پاکستان رینجرز (سندھ)، فرنٹیئر کورپس خیبرپختونخوا، فرنٹیئر کورپس بلوچستان، نیشنل ہائی وے اینڈ موٹروے پولیس، اسلام آباد پولیس، آزاد جموں و کشمیر پولیس، پاکستان ریلویز پولیس، پنجاب پولیس، سندھ پولیس، خیبرپختونخوا پولیس، بلوچستان پولیس، گلگت بلتستان پولیس، نارکوٹکس کنٹرول پنجاب، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن سندھ، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن خیبر پختونخوا، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن بلوچستان، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن گلگت بلتستان، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آزاد کشمیر،افغان ریفیوجیز کمشنریٹ پشاور، ملاکنڈ لیویز خیبرپختونخوا، بلوچستان لیویزکوئٹہ، نیشنل لاجسٹک سیل اور سول ایوی ایشن اتھارٹی کے عہدیداران نے شرکت کی۔ ڈی جی اے این ایف نے تمام شرکاء کو خوش آمدید کہا۔

    اجلاس کا اہم مقصدمنشیات سے متعلق درپیش چیلنجوں پر غور کرنا، انسدادِ منشیات کی کاروائیوں میں تیزی لانااور منشیات کی موثرروک تھام کے لئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی محکمانہ عملداری کی وسا طت سے زیادہ سے زیادہ استفادہ حاصل کرنے کے لئے ان کے درمیان باہمی ہم آہنگی اور تعاون کو فروغ دینا تھا۔ اجلاس کے دوران تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کی منشیات کی روک تھام سے متعلق گزشتہ برس کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا اور اس سلسلے میں اداروں کی صلاحیت بڑھانے کی غرض سے تمام اداروں سے تجاویز بھی طلب کی گئیں۔ فورم کو اے این ایف کی سال 2020 کی کارکردگی سے آگاہ کیا گیا جس کو تمام شرکاء کی جانب سے سراہاگیا۔
    اجلاس کے دوران، منشیات پر قابو پانے کے لئے مشترکہ اور مربوط نوعیت کا نظام قائم کرنے اور باہمی تعاون کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ دوران اجلاس سرحدی علاقوں میں مشترکہ نظام کی ترویج، معلومات کے تبادلے، منشیات کے نقصانات سے آگاہی کی مہمات، انٹر ایجنسی ٹاسک فورس کو قانونی شکل دے کر ہیڈ کوارٹر اے این ایف کو اسکا مرکزی دفتر بنانے، انٹر ایجنسی ٹاسک فورس کے رکن اداروں کے افسران کو اے این ایف اکیڈمی میں تربیت دینے، منشیات کے ابھرتے ہوئے رحجانات، قانونی امور اور قانون نافذ کر نے والے اداروں کی استعداد بڑھانے سے متعلق امورزیرغور لائے گئے۔

    اجلاس کے اختتام پر ڈی جی اے این ایف میجر جنرل محمد عارف ملک، ہلال امتیاز (ملٹری) نے تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کو محدود وسائل و استعداد کے باوجود اعلیٰ کارکردگی پرانہیں خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے اجلاس میں موجود قانون نافذ کرنے والے اداروں کی سرگرم شرکت کو سراہا اور صوبائی و وفاقی سطح پر تعاون بڑھانے کے لئے ہدایات جاری کیں۔

  • بچو ں نے اپنے قیمتی لہو سے محفوظ اورپرامن پاکستان کی تاریخ لکھی۔عثمان بزدار

    بچو ں نے اپنے قیمتی لہو سے محفوظ اورپرامن پاکستان کی تاریخ لکھی۔عثمان بزدار

    وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے آرمی پبلک سکول پشاور کے شہداء کی برسی پر پیغام دیتے ہوئے کہا کہ 16دسمبر کا دن آرمی پبلک سکول کے شہداء کی عظیم قربانیوں کی یاد ہمیشہ تازہ کرتارہے گا۔قوم آرمی پبلک سکول کے بچوں اوراساتذہ کی لازوال قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔بچو ں نے اپنے قیمتی لہو سے محفوظ اورپرامن پاکستان کی تاریخ لکھی۔

    عثمان بزدار نے مزید کہا کہ محفوظ اور پر امن پاکستان کی بنیادوں میں بچوں کا خون شامل ہے
    ننھے پھولوں نے عظیم مقصد کیلئے اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔شہداء کی عظیم قربانیوں کے طفیل دہشت گردی کیخلاف جنگ میں پوری قوم کا مثالی اتحاد اوراتفاق سامنے آیا۔شہید بچوں کی عظیم قربانیوں نے قوم کو نیا حوصلہ اورعزم دیا۔سفاک دشمن کو شکست ہوئی اور پاکستان امن کا گہوارہ بنا۔شہید بچے اور اساتذہ پوری قوم کے ہیرو ہیں اور ان کے خاندانوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔
    ہم شہدائے اے پی ایس کے خاندانوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔

    عثمان بزدار نے مزید کہا کہعظیم شہداء کے خون کا ایک ایک قطرہ اس مٹی پر قر ض ہے۔
    قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے پاکستان میں دہشت گردی اورانتہا پسندی کی قعطاً گنجائش نہیں۔
    برداشت اورمیانہ روی پر مبنی معاشرے کے قیام کاعظیم مقصد ضرور حاصل کریں گے۔
    پوری قوم آج آرمی پبلک سکول پشاورکے عظیم شہداء کی لازوال قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کررہی ہے۔ہمیں آج اسی اتحاد کو برقرار رکھنے کے عزم کی تجدید کرنا ہے جس کی خاطر معصوم بچوں نے اپنی جانیں قربان کیں۔

  • سقوط ڈھاکہ۔۔۔۔۔۔ ایک جائزہ از قلم خلیل احمد تھند

    سقوط ڈھاکہ۔۔۔۔۔۔ ایک جائزہ از قلم خلیل احمد تھند

    سقوط ڈھاکہ۔۔۔۔۔۔ ایک جائزہ

    سیاست کا المیہ نظام نہیں مفاد پرستی ہے ہمارے نزدیک سیاست کو مفاد پرستوں کے قبضے سے آزادی دلا کر وولینٹئرز سیاسی لیڈر شپ کے حوالے کرنے کا عمل اہم ترین مشن کا درجہ رکھتا ہے۔
    ہم سمجھتے ہیں کہ نظام اچھا ہو یا برا اسے چلانا بہرحال انسانوں نے ہی ہوتا ہے سیاست اور اختیار جن ہاتھوں میں ہو ان کا کردار اچھے یا برے نتائج پیدا کرتا ہے اچھے لیڈرز برے نظام میں بھی اچھا پرفارم کر لیتے ہیں جبکہ مفاد پرست لیڈرز اچھے نظام میں بھی اپنے مفاد کو ترجیح پر رکھنے کی وجہ سے برے نتائج دیتے ہیں لہذا ملک بچانے ، اسے مستحکم رکھنے اور عوامی حقوق یقینی بنانے کے لئے ملک کا اختیار بے لوث ، مخلص اور باصلاحیت قیادت کے ہاتھوں میں منتقل کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا حل نہیں ہے۔
    بانیان پاکستان نے مسلمانوں کی آزادی عمل کے لئے الگ وطن حاصل کرنے کے مشن کے لئے اپنا مستقبل ، اپنی جائیداد ، اپنا کیریئر ، اپنی خانگی زندگی سب کچھ نثار کردیا قائد اعظم محمد علی جناح ، محترمہ فاطمہ جناح ، نواب لیاقت علی خان ، سردار عبدالرب نشتر سمیت دیگر ہیروز قربانی کی داستانیں رقم کر کے لازوال ہوگئے ہمارےان بے لوث ہیروز کے سیاسی منظر سے ہٹتے ہی مفاد پرست اقتدار پر قابض ہو گئے جنہوں نے اپنی ہوس اقتدار کی خاطر ملک کو تختہ مشق بنا ڈالا بانیان پاکستان کے برعکس سول اور فوجی بیورو کریٹس غلام محمد ، سکندر مرزا ، جنرل ایوب خان ، جنرل یحیی’ خان نے ملک کو ڈی ٹریک کیا ، اپنے اقتدار کی خاطر قومی یکجہتی کی جگہ انتشار کو پروان چڑھا کر نفرتوں کی جانب دھکیل دیا انکے خود غرض ، مفاد پرست اور اخلاقیات سے عاری طرز عمل نے ملک کے دو بازووں میں سے ایک کو کاٹ ڈالنے میں اہم کردار ادا کیا۔
    16 دسمبر 1971 کے سانحے کے اصل محرک بھی دراصل یہی مفاد پرست کردار ہیں جنہوں نے مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بننے کی راہ ہموار کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی لیکن اس گناہ عظیم کے باوجود وہ پوتر کے پوتر ہی ہیں۔
    ہوشیار اور طاقتور سول و فوجی بیورو کریٹس نے بہت صفائی سے پاکستان توڑنے کا سارا ملبہ سول سیاسی لیڈر ذولفقار علی بھٹو جیسے چھوٹے مجرم پرڈال کر خود کو اس الزام سے بری الذمہ کر لیا۔
    سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان محض بھٹو سے منسوب ” ادھر ہم ادھر تم” کے تحقیق طلب بیان کی وجہ سے ٹوٹ گیا ؟ کیا کبھی ایسا ہوا کہ کسی شخص کے ایک بیان کی بنیاد پر اچانک ملک دولخت ہوگئے ہوں؟ تاریخ کا سبق یہ ہے کہ ملکوں کے ٹوٹنے میں سالہا سال کے منفی روئیے اور عوامل کارفرما ہوتے ہیں ایک وقت ایسا آتا ہے جب پس پردہ پنپنے والا نفرتوں کا لاوا پک کر اچانک پھٹ پڑتا ہے اور پھر ملک ٹوٹ جاتے ہیں۔
    پاکستان سے بنگلہ دیش بننے کاجرم بھٹو کی گلے منڈھ دیا جائے یا انڈین مداخلت کو جواز بنا کر دل کی تسلی کا سامان کرلیا جائے کیا کبھی مشرقی پاکستان کے باسیوں کے دلوں میں پروان چڑھنے والی نفرتوں کے اندرونی اسباب کو بھی تلاش کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
    جمہوری طریقے سے قائم ہونے والے ملک سول یا فوجی ڈکٹیٹر شپ کے جبری اقتدار کی وجہ سے یکجا اور مستحکم نہیں رہ سکتے دونوں کے خمیر میں اپنے اقتدار کا مفاد رچا بسا ہوتا ہے جس سے حق داروں کے حقوق غصب ہوتے ہیں جو نفرتوں کو جنم دیتے ہیں۔
    مشرقی اور مغربی پاکستان کے شہریوں کے معیار زندگی ، سیاسی ، سماجی اور معاشی حقوق میں عدم مساوات کو پاکستان ٹوٹنے کے عوامل سے کسی بھی طرح الگ نہیں کیا جا سکتا بالکل اسی طرح جیسے متحدہ ہندوستان میں مسلمانوں کے حقوق کو لاحق خطرات کو جواز بنا کر الگ وطن کی ضرورت محسوس کی گئی تھی۔
    1970 کے الیکشن میں محترمہ فاطمہ جناح کی جمہوریت کی بحالی کی تحریک کے سپاہی اور مشرقی پاکستان کے عوام کی محرومیوں کی زبان بن کر ابھرنے والے شیخ مجیب کی سیاسی بالا دستی کو جنرل ایوب خان کے جانشین جنرل یحیی خان نے تسلیم نہیں کیا بلکہ الٹا قوم کی محسنہ محترمہ فاطمہ جناح کی طرح محب وطن شیخ مجیب کو بھی غدار وطن کے منصب تک پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ایسا دوسری مرتبہ ہورہا تھا جب عوام کی مرضی کے خلاف اقتدار پر قابض ہونے والے محب وطن اور عوام کی رائے سے منتخب ہوکر ابھرنے والے سیاسی لیڈر غدار ٹھہرائے گئے۔
    کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ جس سرزمین پر حصول پاکستان کی تحریک کی بناء پڑی ہو اسی سرزمین کے لوگ بلاوجہ اپنے حاصل کردہ وطن کو توڑنے کے گناہ میں شریک ہو جائیں؟
    ناانصافی اور محرومیاں نفرتوں کو جنم دیتی ہیں پھر ان پر آواز بلند کرنے والے مجرم ٹھہرائے جاتے ہیں کیا مشرقی پاکستان پر لشکر کشی کرنے اور انکا ساتھ دینے والے کرداروں کو ان پہلووں پر غور کرکے اپنے طرز عمل پر ندامت کا احساس ہو سکے گا؟
    کیا موجودہ پاکستان سے وہ عوامل جن کی وجہ سے پہلے ملک دولخت ہوا کا تدارک ہو گیا ہے ؟ کیا مفاد پرست عناصر سے ملک محفوظ ہو گیا ہے؟ کیا ملک کے تمام علاقوں کا معیار زندگی برابر ہو گیا ہے؟ کیا ملک سے ناانصافی اور محرومیاں ختم ہو گئی ہیں؟ کیا ملک کے تمام شہریوں کو آئین کے مطابق انسانی احترام ، تعلیم ،علاج ،روزگار، تحفظ اور سیاسی مساوی حقوق حاصل ہوگئے ہیں؟
    اگر ایسا نہیں ہے تو کیا ایک مرتبہ پھر نانصافیوں کے خلاف آواز بلند کرنے والوں اور آئین میں دئے گئے حقوق مانگنے والوں کو غدار ٹھرایا جائے گا اور ان پر لشکر کشی کی جائے گی؟
    غور طلب پہلو یہ ہے کہ کیا صرف مشرقی پاکستان کے لوگ ہی غلط اور غدار تھے اور موجودہ پاکستان کے کرتا دھرتا درست اور محب وطن؟
    سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنے ماضی سے کچھ سبق حاصل کر پائیں گے یا اسی ڈگر پر چلتے رہیں گے #
    (خلیل احمد تھند )

  • خاتون کو گن پوائنٹ پر یرغمال بنانے کی کوشش ناکام

    خاتون کو گن پوائنٹ پر یرغمال بنانے کی کوشش ناکام

    خاتون کو گن پوائنٹ پر یرغمال بنانے کی کوشش ناکام

    ڈولفن ٹیم نے 15 کی کال پر ریسپانڈ کرتے ہوئے خاتون کو اغواء ہونے سے بچا لیا، رکشہ سوار خاتون کو 4 مسلح ملزمان نے گن پوائنٹ پر اغواء کیا، ڈولفن ٹیم کے پہنچنے پر ملزمان نے ڈولفن پر فائرنگ کردی، کراس فائرنگ کے تبادلے میں ملزم موقع پر ہلاک ہوگیا۔ہلاک ہونے والا ملزم ریکارڈ یافتہ ہےجس کے خلاف ہوائی فائرنگ وشراب نوشی کے متعدد مقدمات درج ہیں۔

    ہلاک ملزم کے دیگر ساتھی فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے،
    ہلاک ملزم کی شناخت جہانگیر کے نام ہوئی، ڈیڈ باڈی کو جناح ہسپتال منتقل کردیا گیا۔
    ملزمان ممتاز نامی خاتون کو اغواء کرکے ساتھ لے جانا چاہ رہے تھے۔رکشہ ڈرائیور کا بیان چاروں ملزمان کے پاس اسلحہ تھا اور نشے میں دھت تھے۔رکشہ ڈرائیور عادل ۔
    ڈولفن ٹیم نے خاتون کو اپنی تحویل میں لیکر تھانہ لیاقت آباد منتقل کردیا۔

  • سینیٹر رحمان ملک نے حکومت سے ایسا مطالبہ کردیا کہ بھارت کے ہوش اڑ جائیں

    سینیٹر رحمان ملک نے حکومت سے ایسا مطالبہ کردیا کہ بھارت کے ہوش اڑ جائیں

    چئیرمین سینیٹ قائمہ کمیٹی داخلہ سینیٹر رحمان ملک کا وزیراعظم عمران خان کو خط اور ‏ای یو ڈس انفو لیب انکشافات کی بنیاد پر بھارت کیخلاف انٹر ٹرپول عالمی، عدالت انصاف و اقوام متحدہ میں جانے کا مطالبہ کیا

    ای یو ڈس انفو لیب انکشافات کی بنیاد پر بھارت کیخلاف انٹر ٹرپول عالمی، عدالت انصاف و اقوام متحدہ میں جانے کا مطالبہ کیا ہے،مذموم مقاصد کے لئے بھارت نے اقوام متحدہ، یوروپین یونین سمیت سو سے زائد ممالک کی سرزمین کو غلط استعمال کیا،بھارت نے پاکستان کی خودمختاری پر بہت سنگین حملہ کیا ہے فقط ایک سادہ احتجاج کافی نہیں ہوگا،پاکستان انٹرپول سے بھارت، مودی اور اجیت ڈول کیخلاف انٹرپول کمیشن بنانے کا مطالبہ کرے،

    اب پاکستان کے پاس بھارت کیخلاف نا قابل تردید بین الاقوامی ٹھوس ثبوت موجود ہیں،ای یو ڈس انفو لیب نے بھارت کے پاکستان اور چائینہ کیخلاف مذموم عزائم سے پردہ اٹھایا ہے،

    بھارت ایک منظم طریقے سے ہر سال اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے اجلاس کے دوران پاکستان مخالف مہم چلاتی ہیں،بھارت پاکستان کے اندر فرقہ واریت، لسانیت و صوبائیت کو ہوا دیکر بدامنی پھیلانا چاہا،

    بھارت سینکڑون جعلی میڈیا گروپ، این جی اوز و تھنک ٹینکس کے ذریعے پاکستان و چین کیخلاف پروپیگنڈہ کر رہا ہے،بھارت کا مقصد پاکستان کی معشیت کو نقصان پہنچانے کےلئے ایف اے ٹی ایف سے بلیک لسٹ کرنا تھا،بھارت نے زہرالود پروپیگنڈہ کے ذریعے پاکستان و افغانستان و دیگر ممالک کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کی،

    بھارت نے پاکستان کے بارے عالمی اداروں میں جھوٹے پروپیگنڈہ کے ذریعے غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کی،بھارت قابل سزا بین الاقوامی جرائم کا مرتکب ہوا ہے،حکومت کو بھارت کے خلاف اقوام متحدہ و عالمی اداروں میں سخت آواز اٹھانی ہوگی،
    بھارت نے مودی کے مقبوضہ کشمیر میں انسانیت کے خلاف جرائم کو چھپانے کے لئے یہ جعلی سازی کی،

  • چاند نظر نہیں آیا،یکم جُمَادَی الأُوْلٰی جمعرات 17دسمبر کو ہوگی ، مفتی منیب الرحمن

    چاند نظر نہیں آیا،یکم جُمَادَی الأُوْلٰی جمعرات 17دسمبر کو ہوگی ، مفتی منیب الرحمن

    مرکزی رویتِ ہلال کمیٹی پاکستان کے چیرمین مفتی منیب الرحمن نے اعلان کیا ہے کہ ماہِ جُمَادَی الأُوْلٰی کا چاند نظرنہیں آیا ،یکم جُمَادَی الأُوْلٰی 1442؁ھ جمعرات17،دسمبر 2020؁ء کو ہوگی ۔ دریں اثنا آج مرکزی رویتِ ہلال کمیٹی پاکستان کا اجلاس مفتی منیب الرحمن کے زیرِ صدارت دفترمحکمہ موسمیات (میٹ کمپلیکس)، موسمیات چورنگی ، یونیورسٹی روڈ کراچی میں منعقد ہوا۔زونل رویتِ ہلال کمیٹی کراچی سے مولانا حافظ محمد سلفی ،قاری نذیر احمد نعیمی ، قاری محمد اقبال ،مولانا محمد صابر نورانی ،علامہ سید علی کرار نقوی ،ڈائرکٹر اسپیس سائنس سپارکو غلام مرتضیٰ نے شرکت کی اور ڈائرکٹرمحکمہ موسمیات عبدالقیوم بھٹو نے اجلاس کے انعقاد کے لئے تمام سہولتیں فراہم کیں۔

    پاکستان بھر میں صوبائی وضلعی اور زونل رویتِ ہلال کمیٹیوں کے اجلاس ان کے متعلقہ ہیڈکواٹرز پر منعقد ہوئے۔اکثر مقامات پر مطلع ابر آلود تھا یا غبار آلود ، پاکستان بھر میں کسی بھی مقام سے رویت کی شہادت موصول نہیں ہوئی ، محکمہ موسمیات کے تمام مراکزسے بھی عدمِ رویت کی رپورٹ موصول ہوئی ، لہٰذا اتفاقِ رائے سے فیصلہ کیا گیاکہ جُمَادَی الأُوْلٰی 1442؁ء کا چاند نظرنہیں آیا ،یکم جُمَادَی الأُوْلٰی 1442؁ھ جمعرات17دسمبر 2020؁ء کوہو گی15،دسمبر 2020؁