Baaghi TV

Tag: strike

  • مرید عباس قتل کیس ،CCTVکی فرانزک رپورٹ طلب کر لی گئی

    مرید عباس قتل کیس ،CCTVکی فرانزک رپورٹ طلب کر لی گئی

    ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ساؤتھ نے اینکر مرید عباس قتل کیس میں مدعیہ کی درخواست پر پولیس اور سندھ حکومت سے وقوعہ کی سی سی ٹی وی کی فرانزک رپورٹ طلب کرلی۔

    جیل میں قائم ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ساؤتھ کی عدالت میں اینکر مرید عباس قتل کیس کی سماعت ہوئی، پولیس کی جانب سے کیس کے مرکزی ملزم عاطف زمان کو عدالت میں پیش کیا گیا۔

    مدعیہ مقدمہ کی جانب سے وقوعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی فرانزک رپورٹ کو بھی کیس کا حصہ بنایا جائے درخواست دائر کر دی، درخواست میں کہا کہ مرید عباس کے قتل کے وقت سی سی ٹی وی فوٹیج پولیس کے پاس موجود ہے،سی سی ٹی وی فوٹیج کی فرانزک رپورٹ کو بھی کیس کا حصہ بنایا جائے۔

    عدالت نے مدعیہ کے درخواست پر پولیس اور سندھ حکومت سے وقوعہ کی سی سی ٹی وی کی فرانزک رپورٹ طلب کرلی۔

    کیس کے مفرور ملزم عادل زمان کو اشتہاری قرار دینے سے متعلق پیش رفت رپورٹ عدالت میں پیش کردی، رپورٹ میں بتایا کہ ملزم عادل زمان سے متعلق اخبارات میں اشتہارات شائع کردیے ہیں ملزم عادل زمان کی جائیداد سے متعلق تفصیلات تاحال بورڈ آف ریونیو سے موصول نہیں ہوئی جس پر عدالت نے 19 دسمبر کو ملزم عادل زمان کی جائیدادوں کی تفصیلات بھی طلب کرلیں

  • پی ڈی ایم جلسہ ،راجہ بشارت نے رہنماؤں کے ناشتے پر اعتراض اٹھا دیا

    پی ڈی ایم جلسہ ،راجہ بشارت نے رہنماؤں کے ناشتے پر اعتراض اٹھا دیا

    وزیرقانون پنجاب راجہ بشارت کا پی ڈی ایم راہنماؤں پر تبصرہ,،عوام پی ڈی ایم راہنماؤں کی قوم سے دردمندی کا مشاہدہ کر لیں ،کارکنوں کو سڑکوں پر بلا کر خود فائیو سٹار ہوٹلوں میں ناشتے کر رہے ہیں،عوام کو سردی اور بیماری کے حوالے کر کے قائدین ایاز صادق کے گھر لاہوری کھابے اڑا رہے ہیں،اپنے بچے باہر بٹھا کر غریب کے بچے کوموت کے حوالے کر دیا ہے،ان ماؤں اور بہنوں کا کیاحال ہوگا جن کے بیٹے اور بھائی جلسے میں کورونا کا شکار ہوں گے

    پی ڈی ایم کا آج سیاسی پاور شو آج، مینار پاکستان میں بڑے اجتماع کی تیاریاں مکمل ہو گئیں۔ 120 فٹ لمبا 12 فٹ چوڑا سٹیج تیار، ساؤنڈ سسٹم نصب،40 ہزار سے زائد کرسیاں لگا دی گئیں۔ سیاسی قائدین کی قد آور فلیکسز اور بڑی سکرینیں نصب ہیں۔ مختلف جماعتوں کے کارکنوں کی آمد جاری ہے۔

    جے یو آئی کے 5 ہزار رضا کاروں نے سکیورٹی انتظامات سنبھال لیے۔ دوپہر ڈیڑھ بجے ایازصادق کی رہائش گاہ پر پی ڈی ایم رہنماؤں کا اجلاس طلب کر لیا گیا۔ قائدین قافلے کی شکل میں مینار پاکستان کیلئے نکلیں گے، ضلعی انتظامیہ کی جانب سے سکیورٹی کیمرے نصب کر دئیے گئے۔

    آج کے جلسے میں تحریک کے اگلے مراحل کے اعلان کیا جائے گا، جلسے میں پی ڈی ایم کے اتحاد میں شامل جماعتوں کی قیادت اور مرکزی رہنما شریک ہوں گے، جلسے سے مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نواز شریف بذریعہ ویڈیو لنک خطاب کریں گے، حکومت نے پی ڈی ایم کو جلسے کی باضابطہ اجازت نہیں دی اور اسی تناظر میں امن و امان کو قابو میں رکھنے کیلئے تیاریاں مکمل اپوزیشن کی گیارہ جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کی تحریک کے پہلے مرحلے کا آخری جلسہ آج مینار پاکستان پر منعقد ہوگا جس کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں

  • اسلام آباد افسوسناک واقعہ،ماں کے تشدد سے بچہ جاں بحق

    اسلام آباد افسوسناک واقعہ،ماں کے تشدد سے بچہ جاں بحق

    تھانہ رمنا کے علاقہ میرا آبادی میں 6سالہ بچے کے قتل کا معاملہ6سالہ مقتول مزمل عباس کو پیدائش کے بعد اس کے والد نے اپنے بھائی کی اولاد نہ ہونے پر اس کے حوالے کیا تھا،حوالگی کے 5سال بعد بچے کی والدہ نے بچے کی واپسی کے لئے کورٹ میں کیس دائر کیا

    عدالت نے بچے کو اپنی حقیقی والدہ کے حوالے کردیا
    بچہ اپنی حقیقی والدہ کے ساتھ نہ رہنا چاہتا تھا جس سے اس کی والدہ اس پر تشدد کرتی تھی
    تشدد سے آج بچے کی موت واقع ہوگئی جبکہ اس کی والدہ ملزمہ نسیم بی بی گھر سے فرار ہوگئی
    پولیس نے اطلاع ملتے ہی بروقت کارروائی کی اور ملزمہ کو گرفتار کرلیا،بچے کا پوسٹمارٹم کے بعد مزید قانونی کارروائی کی جارہی ہے۔

  • نواز شریف جلسے میں کیا کرنے والے ہیں؟مریم نواز نے بتا دیا

    نواز شریف جلسے میں کیا کرنے والے ہیں؟مریم نواز نے بتا دیا

    مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کی مینار پاکستان پہ میڈیا سے گفتگو

    جس طرح ملتان کے جلسے میں رکاوٹیں ڈالیں اسی طرح لاہور میں بھی ڈالی جارہی ہیں ،پنجاب حکومت کی خوف کی نشانی ہے کہ راستے بند کیے جا رہے ہیں ،عوام ساری رکاوٹیں توڑ کر مینار پاکستان پہنچیں گے،انشااللہ بلاول بھٹو کے ساتھ مینار پاکستان کےلئے نکلوں گی ،عمران خان کسی بھی شکل میں اب این آر او مانگ رہاہے لیکن اب نوازشریف این آر او نہیں دے گاکل نوازشریف پی ڈی ایم کے جلسے میں جو بات کریں گے سب کو پتہ چل جائےگا

    سرکاری ملازمین، مزدور اور ریڑھی والے شہری سے گزارش کرتی ہوں کہ حکومت کو آخری دھکا دینے کےلئے مینار پاکستان ضرور آئیں ،ابھی کچھ نہیں بتائوں گی کہ کل کیا سرپرائز ہوگا

    شیخ رشید کے متعلق کوئی بات نہیں کرنا چاہتی
    سارے سرکاری ملازمین تاجر دوکاندار یا ریڑھی بان اور عوام سے گزارش کرتی ہوں کہ حکومتی کی نالائقی کا شکار ہیں اس حکومت کو گرانے کےلئے ضرور آئیں ،عزم مضبوط ہوتو سب کچھ ہو سکتا ہے جلسہ کل ضرور ہوگا

    مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے مزید کہا کہ
    ملتان میں بھی یہ کیا، یہ ان کے خوف کی نشانی ہے
    پی ڈی ایم نواز شریف اور مسلم لیگ نون اب عمران خان کو این۔ آر او نہیں دے گا ،سرکاری ملازمین تاجروں اور عوام سے گزارش ہے کہ وہ کل کے جلسے میں ضرور آئیں،نواز شریف جلسے سےخطاب کریں گے آپ خود ہی سن لیں نا وہ کیا کہتے ہیں

  • بلاول بھٹو کس روٹ سے کل جلسہ گاہ پہنچیں گے،خبر آگئی

    بلاول بھٹو کس روٹ سے کل جلسہ گاہ پہنچیں گے،خبر آگئی

    چئیرمین بلاول بھٹو زرداری کے استقبالی جلوس کا روٹ..

    چئیرمین بلاول بھٹو زرداری 12 بجے بلاول ہاؤس لاہور سے روانہ ہونگے جہاں سے جمیل منج انکا استقبال کریں گے۔۔بذریعہ رنگ روڈ گجومتہ پہنچیں گے۔جہاں ثمینہ گھرکی انکا استقبال کریں گی۔ یوحنا آباد عمران اٹھوال انکا استقبال کریں گے۔پاک عرب سوسائٹی پر شیخ مقبول انکا استقبال کریں گے  اسماعیل نگر پر عاصم بھٹی انکااستقبال کریں گے۔
    ۔ لبرٹی چوک حاجی عزیز الرحمن چن انکااستقبال کریں گے ظفر علی روڈ پر ایاز صادق کے گھر مریم نواز انہیں ظہرانہ دیں گی جس کے بعد وہ جلسہ گاہ پہنچیں  گے۔

    چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری پی ڈی ایم کے 13 دسمبر کے جلسے کے سلسلے میں لاہور میں موجودہیں جہاں پاکستان پیپلزپارٹی کے سرکردہ رہنما غلام محی الدین نے ایک استقبالیہ دیا جس میں پارٹی عہدیداروں اور کارکنوں کی ایک بہت بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ لاہور کے جیالے پاکستان کے وہ سیاسی کارکن ہیں جنہوں نے ایوبی آمریت کو شکست فاش دی اور جمہوریت کی راہ میں آمر جنرل ضیاءکے کوڑے کھائے اور جمہوریت کے لئے شہادتیں قبول کیں۔ پاکستان کی جمہوری جدوجہد میں لاہور کے پیپلزپارٹی کے جیالوں کا خون شامل ہے۔ یہ کارکن اچھی طرح جان چکے ہیں کہ آمریت کا مقابلہ کیسے کیا جاتا ہے، لانگ مارچ کیسے کیا جاتا ہے، ٹرین مارچ کیسے کیا جاتا اور بڑی بڑی قوتوں کو شکست کیسے دی جاتے ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہم پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے اپنے سیاسی مخالفین کے ساتھ مل کر پاکستان کی عوام کے لئے فیصلہ کن جمہوری جدوجہد کر رہے ہیں۔ جس کے بعد انشااللہ ہم پاکستان میں حقیقی جمہوریت بحال کریں گے۔ ہم لاہور کے مزدوروں اور غریب عوام کو آواز مہیا کریں گے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کر سکیں کہ اس ملک کی معاشی پالیسی کیا ہوگی اور اس ملک کا حکمران کون ہوگا۔ ہم اس سلیکٹڈ حکومت کو ہٹا کر ایک عوام حکومت بنائیں گے جو بھٹو شہید کا کیا ہوا ہر وعدہ پورا کرے گی۔ ہم اپنے اصولوں پر کھڑے ہوئے ہیں کہ اسلام ہمارا دین ہے، جمہوریت ہماری سیاست ہے، اسلامی مساوات ہماری معیشت ہے اور طاقت کا سرچشمہ عوام ہے۔ اب سب یہ مان چکے ہیں کہ طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں۔ انہوں نے کہ جیت اور حکومت جیالوں کی ہوگی اس کے لئے آپ کو اپنی جدوجہد جاری رکھنا پڑے گی۔ جمہوریت ہی وہ واحد راستہ ہے جس سے عوام کے مسائل حل کئے جا سکتے ہیں۔ جب جیالے جنوری میں اپنا لانگ مارچ شروع کریں گے تو عمران خان اور اس کی حکومت بھاگ جائے گی۔ کل آپ سب نے مینار پاکستان پہنچنا ہے مینار پاکستان پر پی ڈی ایم کی قیادت آئندہ کا لائحہ عمل طے کرے گی اور اس جدوجہد کا دوسرا مرحلہ شروع جائے گا۔ 

  • رنگ برنگی پتنگوں کی آڑ میں خطرناک کاروبار،ملزم گرفتار

    رنگ برنگی پتنگوں کی آڑ میں خطرناک کاروبار،ملزم گرفتار

    شاہدرہ .سٹی ڈویژن پولیس شاہدرہ کا رنگ برنگی پتنگوں کی آڑ میں موت کا سامان فروخت کرنے والوں کے گرد گھیرا تنگ

    شاہدرہ ایس پی سٹی فراز احمد کی سربراہی میں شاہدرہ ٹاؤن پولیس کی پتنگ فروشی کے حوالہ سے بڑی کاروائی تین پتنگ فروش گرفتار 450 تیار پتنگیں برآمد ملزمان لاہور کے مختلف مقامات پر پتنگوں کی سپلائی کرتےتھےملزمان کو خفیہ اطلاع ملنے پر فوری کاروائی کرتے گرفتار کیا گرفتار ملزمان میں سلمان, ناظم اور تنویر شامل مقدمات درج انسداد پتنگ فروشی کے حوالہ سے بہتر کاروائی کرنے پر ڈی ایس پی عثمان حیدر ,ایس ایچ او شاہدرہ ٹاؤن عامر شہزاد اور انکی ٹیم کو شاباش. (ایس پی سٹی ) پتنگ بازی جیسے خونی کھیل کے انسداد کے لیے بلا امتیاز کاروائیاں کی جا رہی ہیں (ایس پی سٹی فراز احمد دوسری طرف شہریوں نے ایس پی سٹی سی اپیل کی ہے کہ شاہدرہ اور دوسرے شہروں میں أے روز ڈکتیوں چوریوں میں اضافہ ہو رہا شہری غیر محفوظ ہیں شاہدرہ میں موٹر ساٸیکلیں چھننیں کی وارداتوں نے عوام کا جینا حرام کر رکھا ہے اس پر کنٹرول کروایا جاے ان واداتوں کی وجہ پولیس بہ بس ہے

  • 4 ماہ سے تنخواہ کے منتظرمعروف فیکٹری کے ملازمین سڑکوں پر نکل آئے

    4 ماہ سے تنخواہ کے منتظرمعروف فیکٹری کے ملازمین سڑکوں پر نکل آئے

    شاہدرہ .رستم سہراب فیکٹری شاہدرہ میں لیبر یونین کے صدر رانا اصغر کی قیادت میں ملازمین نے گزشتہ 4 ماہ سے تنخواہ کی ادائیگی نا ہونے پر سراپا احتجاج بن گے

    شاہدرہ مزدوروں کا مطالبہ ہے انکی چار ماہ سے تنخواہوں نہیں دی جارہی ہمیں واجبات کی ادائیگی جلد از جلد کی جاۓ چار ماہ سے تنخواہ بلاوجہ ادا نہیں کی گی سب غریب اور دہاری دار طبقہ ہیں ان کے گھروں کا گزر بسر اسی تنخواہ سے ہوتا ہے چار ماہ سے تنخواہ کی ادائیگی نا ہونے کی وجہ سے قرضوں کے نیچے دب گے ہیں ہمارے گھروں کے چوہلے ٹھنڈے پڑ گیے ہیں گھروں کا کرایہ نہیں ادا کر پارہے بجلی بل گیس کا بل جاٸیں تو جاٸیں کہاں ایک طرف طرف مہنگاٸ کا جن بہ قابو ہو گیا ہےاور اس جن نے غریبوں کی کمر توڑ ڈالی ہے مزدور خود کشی کرنے پر مجبور ہو جاٸیں گے خدارا ان مزدوروں کا سوچا جاۓ اگر تنخواہوں ادا نہ کی گٸی توں گھر تباہ برباد ہو جاٸیں گے جنکی تمام زمیداری فیکٹری مالکان پر پڑے گی احتجاج کرنے والوں نے بینر اور پلے کارڈ اوٹھا رکھے تھےاور مر گے پوکھے مر گے سار نعارے لگارہے تھے چور لٹرے یہ ہیں سارے

  • تھوہا محرم خان میں طالبات کا استحصال

    تھوہا محرم خان میں طالبات کا استحصال

    تھوہا محرم خان میں طالبات کا استحصال

    ہر حکومت نے اپنے دور میں مفت اور معیاری تعلیم کا نعرہ لگایا ہے لیکن تعلیم محض پانچ جماعتیں پڑھنے کا نام تو نہیں (UPE)یونیورسل پرائمری ایجوکیشن کے نعرے دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے کہ مصداق پر کشش تو ہیں لیکن کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی۔ آج کل کے دور کا تقاضا محض پرائمری تعلیم نہیں بلکہ دور حاضر کی جدت ہم سے ہر شعبہ زندگی کی طرح تعلیم میں بھی Do Moreکا مطالبہ کرتی ہے۔مقابلے کی اس فضا میں جب ملک میں ایم اے لوگ تو کسی گنتی میں نہیں ایم فل اور پی ایچ ڈی بھی تگ و دو کا شکار ہیں کیسے اس بات کو جوا ز مہیا کیا جا سکتا ہے کہ حکومت پرائمری تک تعلیم دے کر بری الذمہ ہے؟پھر اس میں بھی ایک تلخ خقیقت یہ ہے کہ پرائمری ایجوکیشن میں تمام زور لڑکوں کے لیے ادارے بنانے میں ہے۔
    تھوہا محرم خان میں بھی یہ امتیازی سلوک روا رکھا گیا ہے 30سے زائد سکولوں میں لڑکیوں کے سکول پانچ یا چھ ہوں گے۔لاوہ تحصیل کے بعد موضع تھوہا محرم خان ایشیاء کا دوسرا بڑا قصبہ ہونے کا اعزاز رکھتا ہے۔اس کا رقبہ اورآبادی دونوں غیر معمولی ہیں۔ ضلع چکوال میں یہ شائدواحد گاؤں ہے جہاں نہ صرف دو یونین کونسلز ہیں بلکہ 30سے زائد سرکاری سکول بھی کام کر رہے ہیں۔ بادی النظر میں تو ایک گاؤں میں 30سکول کافی سے زیادہ ہیں لیکن یہاں حقائق انتہائی تلخ ہیں۔مرکزی شہر تھوہا محرم خان کے ساتھ ملحق کئی ڈھوکیں ایسی ہیں جہاں نہ صرف لوگ زندگی کی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں بلکہ ان کے لیے تعلیم خاص طور پر لڑکیوں کی تعلیم ایک سراب کی حیثیت رکھتی ہے۔ تھوہا محرم خان سے ڈھرنال کی جانب جانے والے پختہ راستہ پر دو موڑ ایسے ہیں جہاں سے راستہ آپ کو لیجاتا ہے ان آبادیوں میں جہاں بجلی کسی حد تک 2020میں مہیا کر دی گئی ہے لیکن دیگر ضروریات زندگی سے کوسوں دور،تعلیم اور صحت کی بنیادی سہولیات سے محروم کئی چھوٹی چھوٹی بستیاں کسی مسیحا کی منتظر ہیں۔ ڈھوک کنڈ میاں محمد،ڈھوک تلہ جابہ،ڈھوک دابڑ ڈھبہ یہ تین علاقے تھوہامحرم خان کی یونین کونسل 58میں شامل ہیں یہاں ہر ڈھوک پر ایک ایک بوائز پرائمری سکول موجود ہے۔ ڈھوک ڈابڑ ڈھبہ سکول میں طلباء کی تعداد 95ہے جس میں لڑکیاں 49ہیں۔ گورنمنٹ پرائمری سکول کنڈ میاں محمد میں طلباء کی تعداد 175ہے جس میں 70 سے زائد لڑکیاں زیر تعلیم ہیں۔ جبکہ گورنمنٹ پرائمری سکول تلہ جابہ میں تعدادطلباء 94ہیں ان میں لڑکیوں کی تعداد42ہے۔کل مِلا کر ان تین سکولوں میں لڑکیوں کی تعداد 161ہے۔لیکن اسی علاقے میں تین سکولوں کے UPEسروے میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ درجنوں لڑکیوں کے والدین گرلز سکول نہ ہونے کی وجہ سے بچیوں کو مدارس میں بھیج رہے ہیں یا پھر گھر بٹھا رکھا ہے۔یعنی بنیادی تعلیم تک بھی لڑکیوں کی رسائی 100فی صد نہیں ہے جبکہ حادثے سے بڑا سانحہ یہ ہواکے مصداق المیہ صرف یہ نہیں بلکہ اس سے آگے یعنی ایلمنٹری ایجوکیشن تک رسائی تمام طالبات کے لیے نہایت مشکل ہے۔ نہ تو والدین کے معاشی وسائل اتنے ہیں کہ وہ لڑکیوں کے لیے ٹرانسپورٹ کا انتظام کرسکیں اور نہ ہی علاقہ کا محل وقوع اجازت دیتا ہے کہ لڑکیاں اکیلی گھر سے دور روزانہ آئیں جائیں۔ان علاقوں میں عام طور پر پنجم جماعت کے بعد لڑکیوں کی تعلیم کا فی تصور کرتے ہوئے ان کو گھر بٹھا لیا جاتا ہے۔ علاقہ کا نزدیک ترین گرلز پرائمری سکول ڈھبہ ہرمل ہے جہاں کسی حد تک ڈھوک دابڑ ڈھبہ کی آبادی کو اس کا فائدہ ہے لیکن اس کا دائرہ کار چند نزدیکی گھروں تک محددود ہے۔تلہ جابہ سے گرلز سکول ڈھبہ ہرمل کا فاصلہ 8کلومیڑ جبکہ کنڈ میاں محمد سے یہ فاصلہ12کلومیٹر ہے۔ یہ فاصلہ ایک سکول تا دوسرے سکول ماپ کر لکھا گیا ہے۔ اصل مسائل ہر سکول سے ملحق آبادیوں کے لیے ہیں۔ جو ان سکولوں کا فیڈنگ ایریا تصور کی جاتی ہیں۔ڈھوک کنڈ میاں محمد پرائمری سکول میں بچے اور بچیاں ڈھوک سڑیا،ڈھوک گوچھڑشمالی حصہ، ڈھوک چھوئی مجید ڈھوک، گلی،ڈھوک ولاوئیں، ڈھوک کنڈ،ڈھوک ککڑ،ڈھو ک ڈ نگا گاٹا سے پڑھنے کے لیے ایک تا چار کلومیٹر جبکہ بعض دور کی ڈھوکوں سے پانچ تا چھ کلومیڑ تک پیدل چل کر آتے ہیں۔ تلہ جابہ پرائمری سکول میں بھی صورتحال یہی ہے ڈھوک گوچھڑ کاجنوبی حصہ، ڈھوک وچھوال، ڈھوک لیٹاں، ڈھوک ڈانڈا، ڈھوک پٹیاں، ڈھوک مہلی، ڈھوک کاچھل، سے بچے ایک تا چھ کلومیٹر پیدل سفر کرکے سکول پڑھنے آتے ہیں۔ان تما م علاقوں کو لڑکیوں کی پنجم سے آگے تعلیم کے لیے دو سکول میسر ہیں ایک کا ذکر پہلے کیا جاچکا ہے یعنی گرلز ایلمنٹری سکول ڈھبہ ہرمل جس کا فاصلہ ان ڈھوکوں سے 10کلومیٹر سے کم نہیں، جبکہ دوسرا سکول ان علاقوں سے پندہ کلومیٹر دور تھوہا محرم خان گرلز ہائی سکول ہے۔علاقے کی جغرافیائی ساخت سے نا واقف معزز قارئین کو ممکنہ طور پر بیان کیا گیا فاصلہ کم محسوس ہو لیکن واقفانِ حال جانتے ہیں یہ نیم پہاڑی علاقہ ہے جس کے75فیصد راستے محض ٹریکٹر یا جانوروں اور موٹر سائیکل سواروں کی گزر گاہ ہیں۔علاقے کو ایک نیم پختہ سڑک تھوہا محرم خان سے ملاتی ہے لیکن اس پر پبلک ٹرانسپورٹ بالکل نہیں چلتی علی الصبح چند گاڑیاں تلہ گنگ جاتی ہیں جو شام ڈھلے گاؤں کا رخ کرتی ہیں۔اس طرح طلبہ کو علاقائی ٹرانسپورٹ کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ پرائمری پاس لڑکے تو موٹر سائیکل، سپیشل گاڑیوں پر (اکثر چھتوں پر یا سائیڈ پر لٹک کر) تھوہا محرم خان بوائز ہائی سکول یا کھوڑ بوائز ایلمنٹری سکول تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں لیکن ان کا بہت سا وقت اور توانائی آنے جانے میں صرف ہو جاتی ہے۔اس پر مرے کو ماریں شاہ مدار کے مصداق زرعی پس منظر کی وجہ سے سکول سے واپسی پر کافی وقت کھیتی باڑی اور مال مویشی سنبھالنے میں گزر جاتا ہے۔جبکہ لڑکیاں تو 5یا 10سے زیادہ پنجم سے آگے پڑھنے بھیجی ہی نہیں جاتیں۔ان 5یا10میں سے بھی کئی ایک کو 8جماعتیں پوری ہونے سے پہلے سکول سے نکلوا لیا جاتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ کنڈ میاں محمد پرائمری سکول کو نہ صرف اپ گریڈ کر کے ایلمنٹری کیا جائے بلکہ علاقے میں لڑکیوں کا ایک ایلیمنٹری سکول بھی بنایا جائے جس کو داخلے کا رجحان اور نتائج سے مشروط کر کے ہائی کرنے کی بھی امید دلائی جائے۔اہل علاقہ پر یہ حکومت وقت،سیاسی معززین اور سرکردہ شخصیات کا ایک ایسا احسان ہو گا جس کا ثمر ان کو اللہ کے ہاں تو ملے گا ہی ان شا اللہ آنے والی نسلوں تک دنیا میں بھی اس اہم ترین کاوش کو یاد رکھا جائے گا۔ قارئین آنے والا ہر دن ہمیں اس طرف لیجا رہا ہے جب انسان وہی کامیاب اور دولت مند ہو گا جس کے پاس علم ہو گا۔عالمی اداروں میں پیشہ وارانہ مہارتوں کو جس شرح سے ترجیح دی جا رہی ہے آنے والے چند سالوں میں تعلیم سے بڑا نہ تو کوئی خزانہ ہو گا اور نہ اس کا کوئی نعم البدل ہوگا۔تھوہا محرم خان ضلع چکوال کے ان چنیدہ علاقوں سے ہے جہاں ٹیلنٹ کی بہتات ہے لیکن یہ تمام تر ہونہار،ذہین اور قابل طلبہ و طالبات مناسب مواقع نہ ملنے کی وجہ سے دن بدن ضائع ہو رہے ہیں۔یہ تحریر تھوہا محرم خان کے خواص و عوام کے منجمد احساسات و خیالات کی جھیل پر پہلا کنکر ہے۔ان شاللہ علاقہ میں بچوں کا مستقبل محفوظ بن جانے تک ہر سماجی،سیاسی اور معاشرتی دہلیز پر بذریعہ قلم دستک جاری رہے گی کیوں کہ ہم صبح پرستوں کی یہ ریت پرانی ہے ہاتھوں میں قلم رکھنا یا ہاتھ قلم رکھنا۔

    (کاشف شہزاد تبسم،مبشر حسن شاہ)

  • قیام امن کے لئے کورٹ مارشل کا دائرہ کار وسیع کیا جائے، ازقلم غنی محمود قصوری

    قیام امن کے لئے کورٹ مارشل کا دائرہ کار وسیع کیا جائے، ازقلم غنی محمود قصوری

    قیام امن کے لئے کورٹ مارشل کا دائرہ کار وسیع کیا جائے، ازقلم غنی محمود قصوری

    جب تک امن و امان قائم نا ہو قومیں ملک اور معاشرے ترقی نہیں کر سکتے

    انسان خطا کا پتلا ہے اور اس سے کئی طرح کی خطائیں ہوتی رہتی ہیں جن کی اصلاح کیلئے احتسابی نظام بنایا جاتا ہے تاکہ خطاء پر سزا دے کر اصلاح کی جاسکے اور آگے سے دوبارہ خظا نا ہو

    ہمارے معاشرے میں ہر فرد کے احتساب کا قانون موجود ہے جس کے تحت سزائیں و جرمانے کئے جاتے ہیں

    جیسا کہ سویلین کے لئے کئی طرح کی عدالتیں قائم ہیں جن میں مقدمات چلا کر سزائیں دی جاتی ہیں تاہم سب سے مشکل اور کٹھن احتساب فوج کا ہے جسے کورٹ مارشل ( عسکری عدالت) کہتے ہیں جو کہ 1951 کو شروع کیا گیا اور آج بھی موجود ہے اور اسی کے ذریعے فوجی ججوں پر مشتمل عدالت میں مسلح فوج کے افسروں و جوانوں پر جنگی نظم و ضبط کی خلاف ورزی کی صورت میں مقدمات چلا کر سزائیں دی جاتی ہیں تاہم سویلین پر بھی کورٹ مارشل لاگو ہے کیونکہ فوج کے اندر بہت زیادہ سویلین بھی کام کرتے ہیں جیسا کہ ڈاکٹرز ،پیرا میدیکل سٹاف اور دیگر شعبوں میں سویلین تعینات ہیں اس لئے ان کا بھی کورٹ مارشل کیا جاتا ہے جیسا کہ 2018 میں آرمی ہسپتال میں تعینات سویلین ڈاکٹر وسیم اکرم کو آفیسرز سیکرٹ ایکٹ کے تحت سزائے موت کی سزا سنائی گئی اسی طرح بریگیڈیئر راجہ رضوان کو ملک دشمن ایجنسی را سے معاونت پر آفیسرز سیکرٹ ایکٹ کے تحت سزائے موت سنائی گئی

    کورٹ مارشل کا ٹرائل زیادہ تر دو سے چھ دن میں کر دیا جاتا ہے اور دوران ٹرائل ملزم کو اپنے دفاع کا پورا موقع فراہم کیا جاتا ہے

    عسکری عدالت سے سزا یافتہ فوجی دوبارہ ڈیوٹی نہیں کر سکتا اور اس کو مراعات بھی نہیں دی جاتیں اور کریمنل ریکارڈ بنا کر پوری زندگی کسی بھی سرکاری محکمے میں نوکری کرنے سے روک دیا جاتا ہے اور اس کی سزا کو مکمل کئے بغیر ختم نہیں کیا جاتا

    سول اور عسکری احتساب میں کافی فرق ہے جیسا کہ سویلین مقدمے میں سزا پانے والے قیدی کو اپنی سزا پر التجاء کرنے کا حق ہوتا ہے جیسا کہ سزائے موت کا قیدی اپنی سزا کو عمر قید میں یا صدر پاکستان سے رحم کی اپیل کی صورت میں کم کروا سکتا ہے جبکہ عسکری عدالت سے سزا پانے والا قیدی ایسے طریقے سے مستفید نہیں ہو سکتا

    سول گورنمنٹ ملازمین پر کرپشن و بدعنوانی کے مقدمات سول کورٹس و محکموں کی کمیٹیوں میں نمٹائے جاتے ہیں جن کا دائرہ کار بہت لمبا ہوتا ہے بعض دفعہ سالوں سال لگ جاتے ہیں اور جرم ثابت ہونے پر معمولی سزا دی جاتی ہے مگر جبکہ کریمنل ریکارڈ بھی نہیں بنایا جاتا زیادہ تر تو معطل ملازمین کو چند ماہ بعد ہی باعزت بری کر دیا جاتا ہے اور ساری رکی ہوئی مراعات بھی دی جاتی ہیں جس سے ان کرپٹ عناصر کو مذید شہہ ملتی ہے

    اس وقت پاکستان کے محکموں میں کرپشن کی انتہا ہے خاص طور پر محکمہ پولیس میں بغیر رشوت کے کام ایک معجزہ ہی تصور کیا جاتا ہے اور سب سے زیادہ قانون شکنی بھی محکمہ پولیس میں ہوتی ہے حالانکہ آئین پاکستان 1973 کی دفعہ 8 کے تحت پولیس کا کام امن و امان کی بحالی ہے مگر پاکستان کی کل ساڑھے 4 لاکھ پولیس رشوت کا گڑھ اور لوگوں کے لئے خوف کی علامت ہے جبکہ آئے روز پولیس ملازمین کی طرف سے لوگوں سے پیسے لے کر مخالفین کا ماورائے آئین و عدالت قتل کرکے پولیس مقابلہ قرار دیا جاتا ہے

    پولیس کے خلاف مقدمات سول عدالت میں چلتے ہیں کمزور عدالتی نظام اور گواہوں کو ڈرا دھمکا کر یہ صاف بچ نکلتے ہیں زیادہ تر عدالتوں سے مقدمات میں سے بچ نکلنے والے پولیس اہلکاران و افسران مذید دہشت و خوف کی علامت بن جاتے ہیں جیسا کہ سندھ پولیس کا راؤ انوار جعلی پولیس مقابلوں کے باعث خوف کی علامت بنا ہوا ہے اور اسی کمزور نظام کے باعث ہر بار صاف بچ جاتا ہے حالانکہ نقیب اللہ معسود کے قتل کے کافی شوائد بھی اسے سزا نا دلوا سکے

    اس لئے وقت کا تقاضہ ہے کہ سول محکموں خاص طور پر پولیس اصلاحات کیلئے کورٹ مارشل کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے آئین پاکستان 1973 کی دفعہ 8 ،(3) میں ترمیم کی جائے اور پولیس اہلکاران کا کورٹ مارشل کیا جائے تاکہ معطل ملازم دوبارہ بحال نا ہو اور دوسرے اس سے عبرت حاصل کریں

    جس دن پولیس نظام ٹھیک ہو گیا اسی دن ملک پاکستان سنورنا شروع ہو جائے گا کیونکہ جب کسی کی چوری ہوتی ہے تو اسے اپنی ایف آئی آر درج کروانے کیلئے پولیس کو مذید رشوت دینی پڑتی ہے سو مجبوراً وہ بندہ رشوت دیتا ہے اس کی چوری چاہے ملے نا ملے رشوت کے بغیر کام نہیں چلتا سو وہ بندہ اپنی چوری و رشوت کی کمی پوری کرنے کیلئے کسی دوسرے کو مالی نقصان پہنچاتا ہے اگر وہ تاجر ہے تو اپنے دام تیز کر دے گا اگر وہ ملازمت پیشہ ہے تو لوگوں سے جائز کام کے عیوض رشوت لے گا اور اسی طرح آگے سارا نظام خراب ہوتا جائے گا

    موجود حالات کا تقاضہ ہے کہ سی سی پی او لاہور عمر شیخ کی پیش کردہ سمری کے مطابق قیام امن کے لیے کورٹ مارشل کا دائرہ کار وسیع کیا جائے

  • حکومت نے بڑا فیصلہ کر لیا،سیکشن 153 اے کے تحت مقدمہ درج ہو گا

    حکومت نے بڑا فیصلہ کر لیا،سیکشن 153 اے کے تحت مقدمہ درج ہو گا

    ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ نے ریاست کے خلاف بغاوت اور بغاوت پر اکسانے پر فوری کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے بعد ہنگامی بنیادوں پر ترامیم کی منظوری دے دی گئی ہے۔

    ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ سے سرکولیشن کے ذریعے ترامیم کی منظوری لے لی گئی، بغاوت اور بغاوت پر اکسانے پر مقدمہ درج کرنے کا اختیار سیکرٹری داخلہ کو تفویض کیا گیا ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کے سیکشن 196 کے تحت وفاقی حکومت کا اختیار سیکرٹری داخلہ کو دیا گیا، صوبائی حکومتیں بھی ریاست کے خلاف بغاوت کے مقدمات درج کراسکے گی۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ متعلقہ عدالت سیکرٹری داخلہ کی منظوری کے بغیر درج ہونیوالے مقدمے کا ٹرائل نہیں کرے گی۔ سیکشن 153 اے سمیت 5 سیکشن کے تحت مقدمہ سیکرٹری داخلہ کی منظوری سے ہو گا، سیکرٹری داخلہ کے علاوہ صوبائی حکومتوں کی منظوری سےبھی مقدمہ کا اندراج ہوسکے گا