چارسدہ ( ) اسلامی جمعیت طلبہ چارسدہ کی تنظیم نو مکمل،نسیم الرحمٰن ناظم منتخب
اسلامی جمعیت طلبہ چارسدہ کی اجتماع ارکان برائے انتخاب ناظم مقام گزشتہ روز منعقد ہوا جس میں اراکین کے علاوہ ناظم اسلامی جمعیت طلبہ خیبرپختونخواہ کلیم اللہ نے حصوصی شرکت کی
اس موقع پر ناظم اسلامی جمعیت طلبہ خیبرپختونخواہ نے اراکینِ چارسدہ جمعیت سے استصواب رائے کے بعد سیشن 2022-23 کے لیے چارسدہ کالج کے طالب علم نسیم الرحمٰن کو ناظم منتخب کیا اور ان سے اپنے ذمہ داری کا حلف لیا
اسی طرح ناظم اسلامی جمعیت طلبہ چارسدہ نسیم الرحمٰن نے اراکین سے مشاورت کے بعد فیصل خان کو انچارج شعبہ تنظیم و ترتیب و اہتمام دفتر، محمد اشفاق کو ناظم علاقہ کالجز، ذاکر اللہ کو ناظم علاقہ وسطی، مصباح اللہ کو ناظم علاقہ شمالی، ملک عبید کو ناظم تنگی سرکل جبکہ وحید اللہ کو صدر بزم شاہین مقرر کرکے ان سے ان کی زمہ داریوں کا حلف لیا
اس موقع پر محمد اشفاق، ذاکر اللہ اور مصباح اللہ پر مشتمل 3 رکنی پلاننگ کمیٹی بنائی گئی جو چارسدہ میں جمیعت کے کام کے وسعت کے حوالے سے احباب اور ماہرین سے ملاقات کریگی
ناظم اسلامی جمعیت طلبہ چارسدہ نسیم الرحمٰن نے اس موقع پر کہا کہ ضلع چارسدہ میں اسلامی جمعیت طلبہ کو حقیقی معنوں میں طلباء کا ہراول دستہ بنائیں گے
Tag: Students

اسلامی جمعیت طلبہ چارسدہ کی تنظیم نو مکمل،نسیم الرحمٰن ناظم منتخب
چارسدہ میں یوم حیاء منایا گیا۔
چارسدہ : اسلامی جمیعت طلبہ چارسدہ کالج کے زیر اہتمام حیاء واک کا اہتمام کیاگیا۔
واک کی قیادت ناظم اسلامی جمعیت طلبہ علاقہ کالجز محمد اشفاق نے کی۔
واک سے خطاب کرتے ہوئے ناظم اسلامی جمیعت طلبہ علاقہ کالجز محمد اشفاق کا کہنا تھا کہ حیاء ایمان کا شعبہ ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اسلامی جمعیت طلبہ اس دور جدیدیت میں طلبا کے فکری اصلاح میں مگن ہے۔
اسلامی جمعیت طلبہ چارسدہ کی تنظیم نو مکمل، نسیم الرحمن ناظم منتخب
چارسدہ ( ) ناظم اسلامی جمعیت طلبہ خیبرپختونخواہ کلیم اللہ نے اراکین چارسدہ جمعیت سے استصواب کے بعد نسیم الرحمن کو سیشن 2021-22 کیلئے ناظم مقرر کیا۔
اسی طرح نو منتحب ناظم نسیم الرحمن نے اراکین کے ساتھ مشاورت کے بعد درج ذیل ساتھیوں فیصل خان کو متعمد مقام، حمزہ فرمان کو صدر بزم شاہین، جبکہ محمد خطاب، محمد اشفاق اور ذاکر اللہ کو بالترتیب ناظم علاقہ سٹی، کالجز اور عمرزئی مقرر کیا۔

اسلامی جمیعت طلبہ نے تعلیمی ریفرنڈم کا انعقاد کیا
چارسدہ : اسلامی جمیعت طلبہ چارسدہ نے گورنمنٹ کالج چارسدہ اور گورنمنٹ عبدالعلی خان ڈگری کالج میں تعلیمی ریفرنڈم کا انعقاد کیا۔
اس ریفرنڈم میں طلبہ کی کثیر تعداد نے اپنا بیلٹ کاسٹ کئیں، بیلٹ پر ارباب احتیار سے محتلف قسم کے مطالبے درج تھے، جس میں طلبہ یونین کی بحالی، فیسوں میں کمی، ایٹا/پی ایم سی کی بحالی وغیرہ شامل تھے۔
اس موقع پر جمیعت کے ناظم ذاکر اللہ شاہین کا کہنا تھا کہ جمیعت ہر سال طلبہ کے مسائل کے حل کیلئے تعلیمی ریفرنڈم کا انعقاد کرتی ہیں، جس میں طلبہ کے مسائل کو اجاگر کیا جاتا ہیں ۔
جامعہ سرگودہا میں یکجہتی کشمیر کے حوالے سے واک کی گئی طلباء و اساتذہ کی شرکت
پاکستان بھر کی طرح سرگودھا میں بھی آج کا دن بطور یوم یکجہتی کشمیر منایا جا رہا ہے، اس سلسلہ میں جامعہ سرگودھا میں واک اور سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں شرکاء نے قابض بھارت کی جانب سے نہتے کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی بھرپور مذمت کی
https://youtu.be/58am0jMWUOM
واک میں یونیورسٹی فیکلٹی ممبران، سٹاف اور طلبا و طالبات کی بڑی تعداد نے شرکت کی، واک کے شرکاء نے انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنا کر کشمیری بہنوں اور بھائیوں سے اظہار یکجہتی کیا۔ کشمیریوں پر بھارتی ظلم و جبر کی مذمت کیلئے جامعہ سرگودھا کے کلاس رومز میں طلبہ نے ایک منٹ کی خاموشی بھی اختیار کی۔ حق آزادی اور کشمیری عوام کے موضوع پر منعقدہ سیمینار میں ڈائریکٹر ریاض شاد ہم نصابی فورم ڈاکٹرمحمد منیر، چیئرمین شعبہ سیاسیات و بین الاقوامی تعلقات ڈاکٹر محمد اعظم نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ امن پسند کشمیریوں پر بھارت کی جانب سے ڈھائے جانے والے مظالم کو روکا جائے اور کشمیر ی عوام کو بھارت کے ناجائز قبضہ سے نجات دلائی جائی۔ کشمیری بہنوں اور بھائیوں سے اظہار یکجہتی کیلئے طلبہ میں تقرریری اور شاعری کے مقابلے بھی منعقد کیے گئے۔
پاکستانی بچوں کی سوچ شاہینوں جیسی میٹرک کے طالب علم نے اپنی تحریر سے سب کو خوش کردیا
ناکامیوں سے کم نہ ہو ٸ دل کی آرزو
ٹھوکر لگی تو اور بڑھی منزل کی آرزو
میرے مارکس کیوں کم آئے؟
زیادہ نمبر لینا اور اچھی پوزیشن سے پاس ہونا کسی بھی طالب علم کی سب سے بڑی خواہش ہوتی ہے، اور زمانے کا ٹرینڈ بھی یہی ہے، اس لیے ہر امتحان دینے والا طالب علم کو یہی درد سر لاحق ہوتا ہے. اس سال مجھے بھی پہلی دفعہ بورڈ میں پیپر دینے کی "سعادت” نصیب ہوئی. نمبروں کے حوالے سے میں نے اپنے ذہن میں ایک ٹارگٹ تیار کر رکھا تھا اور اسی کے مطابق میں نے محنت بھی کی تھی. (میری محنت اور سبق کے ساتھ میری دلچسپی کا میرے اساتذہ اور والدین شاہد ہیں) جنتی میری استطاعت تھی، میرا قوی تھا، میری صلاحیت تھی میں نے سب کچھ لگایا، رائٹنگ کا مسئلہ بھی گزشتہ سال ایک ماہر خطاط کی شاگردی میں سخت مشقت سے کام لیتے ہوئے حل کر لیا تھا، مگر جب رزلٹ اوٹ ہوئے تو مارکس میری توقع اور امید سے کافی …… بلکہ بہت ہی…… کم آئے. اب آپ سے کیا چھپاوں، میں نے سوچا تھا 500 سے اوپر کا مگر آئے 423….(پریکٹیکل والے سر کی "کرم فرمائی” تو میں زندگی بھر نہیں بھولوں گا، البتہ بددعا ہرگز نہیں دوں گا)
بہر حال یہ حالت دیکھ کر میری حالت غیر ہوگئی، دل دھڑکنے لگا، دماغ میں ہلچل سی پیدا ہوگئی، رنجیدہ و شرمندہ ہو کر کمرے میں گھس کر کمبل اوڑھ کر سونے کی ناکام کوشش کی، مگر جب دل و دماغ میں ہلچل مچی ہو تو نیند کہاں سے آئے….
بہت کوشش کی اور بار بار یہ کہہ کر نیند کو پکارا اور غیرت دلائی کہ:
اب درد شش بھی سانس کی کوشش میں ہے شریک
اب کیا ہو، اب تو نیند کو آجانا چاہیےمگر مجال ہے کہ نیند آتی، اور میں کچھ دیر غم دوران … بلکہ غم امتحان…. کو بھولنے کی "سعی لاحاصل” کرتا…
جب نیند سے مایوس ہوا تو سوچنے لگا کہ آخر میرے کم مارکس آئے کیوں؟ کیا میری محنت اور تیاری میں کوئی کسر رہ گئی تھی؟ کیا میں محنت کے ساتھ ساتھ دعاوں سے کام نہیں لیا تھا؟ محنت تو میں نے بھر پور کی تھی، البتہ تیاری دوسری چیز ہے، اس میں کسر رہ گئی ہو تو میں کچھ نہیں کہہ سکتا. ہاں اپنی سی کوشش کے ساتھ میں ہر نماز کے بعد بالخصوص رمضان المبارک میں دعائیں بھی خوب مانگی تھیں…. پھر اللّہ کا وعدہ بھی ہے کہ وہ کسی کی محنت کو رائیگان نہیں جانے دیتا……
پھر سوچنے لگا کہ آخر وجہ کیا ہے؟ بہت سوچنے اور سوچ سوچ کر پاگل ہونے والا تھا کہ اچانک میرے دماغ کے دریچے کھل گئے اور بات میری سمجھ میں آنے لگی… ہم انسان کتنے جلد باز ہوتے ہیں، اور کتنی جلدی میں اپنی محنت کی برکت کو دیکھنا چاہتے ہیں…؟
یقینا اللہ تعالی کسی کی محنت کو ضائع نہیں کرتا، اور اپنی حکمت کے مطابق صحیح وقت اور صحیح موقع پر اپنی مہربانی کرتا ہے… میں نے یہ بھی سوچا کہ ہوسکتا ہے کہ اللّہ تعالی کسی انسان سے کوئی اور کام لینا چاہتا ہے، مگر وہ سماج کے trend کے مطابق ڈاکٹر یا انجنئیر بننا چاہتا ہے، (جو کہ بہت چھوٹی خواہشیں ہیں) اور اللہ تعالی اپنے اس بندے کو اپنے فیصلہ والے کام تک لے جانے اور ڈاکٹر یا انجنئیر بننے سے بچانے کے لیے مطلوبہ معیار سے کم نمبروں سے پاس کرتا ہے… میں سوچنے لگا کہ شاید یہی وجہ ہو اور اللّہ تعالی مجھ سے کوئی اور کام لینا چاہتا ہو، اور اسی وجہ سے میرے مارکس کم آئے ہوں، یہ سوچتے ہوئے میرے دل کو اطمینان ہونے لگا اور پریشانی دور ہونے لگی…. پھر اللہ تعالی کا یہ ارشاد بھی میری پریشانی دور کرنے اور اطمینان حاصل کرنے کا باعث ہوا کہ:
"بہت ساری چیزیں ایسی ہیں کہ جو تمھیں پسند نہیں، مگر اس میں تمھارے لیے خیر ہوتی ہے اور بہت ساری چیزیں ایسی ہیں کہ جو تمھیں اچھی لگتی ہیں مگر درحقیقت اس میں تمھارے لیے نقصان ہوتا ہے”
یہ آیت کریمہ یاد آتے ہی میرا غم خوشی میں اور پریشانی مسرت میں بدل گئی.. میں سوچنے لگا کہ ضرور میرے کم نمبر لینے میں قدرت کاملہ کی کوئی خاص حکمت پوشیدہ ہے… اور میں مطمئن ہونے لگا.
لہذا میں اپنے ان تمام دوستوں سے گزارش کروں گا، جن کے حصے میں محنت کے مقابلے میں کم نمبر آئے ہیں، وہ اللّہ تعالی کی اس ارشاد پر غور کرکے خود کو مطمئن کرنے کی کوشش کریں. اور یہ بات بھی ذہن میں رکھیں کہ ہوسکتا ہے اللہ تعالی آپ سے آپ کے ذہن میں بسا ٹارگٹ سے بڑا کام لینا چاہتا ہے… اور یہ تو مسلم ہے اور ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالی مطلوبہ اصولوں اور طریقہ کار کے مطابق محنت کرنے والوں کو ان کی محنت کا صلہ ضرور دیتا ہے…. مگر کب دیتا ہے، یہ اس کی حکمت پر موقوف ہے… لہذا ہمیں نتائج کے لیے جلدی نہیں کرنی چاہیے…
رپورٹ : نسیم اللہ شاہین



