Baaghi TV

Tag: study visa Australia

  • وزیردفاع خواجہ آصف اورڈی جی آئی ایس آئی اہم دورے پرکابل پہنچ گئے

    وزیردفاع خواجہ آصف اورڈی جی آئی ایس آئی اہم دورے پرکابل پہنچ گئے

    کابل:وزیردفاع خواجہ آصف اورڈی جی آئی ایس آئی اہم دورے پرکابل پہنچ گئے، یہ بھی اطلاعات ہیں کہ اس اہم دورے پرڈی جی آئی ایس آئی جنرل ندیم انجم بھی ان کے ہمراہ ہیں ، اس کے علاوہ وزارت خارجہ کے کچھ افسران بھی اس دورے پرکابل میں انکے ساتھ ہیں‌

     

    asif nadeem

    کابل پہنچنے پران کا افغان حکومت کے اعلیٰ حکام نے استقبال کیا ہے

    پاکستانی وزارت خارجہ کی طرف سے اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ اس وقت وزیر دفاع خواجہ آصف افغانستان کے سرکاری دورے پر ہیں، وزیر دفاع کی کابل میں افغان قیادت سے ملاقاتیں ہوئی جس میں دوطرفہ معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا، ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم بھی ہمراہ ان کے ہمراہ ہیں

    ذرائع کے مطابق ان مذاکرات میں پاکستان میں ٹی ٹی پی کی اینٹی پاکستان سرگرمیوں پر بھی بات چیت ہوگی ، اطلاعات کے مطابق افغانستان کی سرحد کی طرف سے پاکستان کے سکیورٹی دستوں ، چیک پوسٹوں اوردیگراہم تنصیبات پردہشت گردوں کے حملوں پرپاکستان کے تحفظات سے آگاہ کیا جائے گا

    کابل سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ یہ وفد اس وقت افغان طالبان سے باہمی معاملات کے ساتھ ساتھ دونوں ملکوں کے درمیان پیدا ہونے والی دوریوں کو بھی ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کرے گا

  • سعودی عرب میں نیوم کے بعد ایک اور حیرت انگیز تعمیراتی منصوبے کا اعلان

    سعودی عرب میں نیوم کے بعد ایک اور حیرت انگیز تعمیراتی منصوبے کا اعلان

    سعودی عرب میں نیوم کے تعمیراتی منصوبے پر کام جاری ہے تاہم اب دارالحکومت ریاض کو ایک سائنس فکشن شہر میں بدلنے کا منصوبہ سامنے آیا ہے۔

    باغی ٹی وی :عرب میڈیا کے مطابق سعودی عرب کے بحیرہ احمر میں زیر تعمیر 500 بلین ڈالر کے میگا پروجیکٹ نیوم شہر میں سرمایہ کاری کے مواقع کو فروغ دینے کے لیے جدہ میں "ڈسکور نیوم ٹور” کا آغاز کیا گيا۔

    نیوم منصوبہ تعمیراتی مرحلے میں داخل ہوچکا ہے اور اس کی پہلی منزل – سندالہ جزیرہ – 2024 تک مکمل ہوجائے گا۔

    یہ ایونٹ، جو کہ سعودی عرب کے مختلف شہروں میں منعقد ہوگا، نیوم کے مجتلف منصوبوں اور علاقوں بشمول دا لائن ، اوکساگون ، سندالہ جزیرہ اور ٹروجینا میں ہونے والی تیز رفتار پیش رفت کو اجاگر کرنے کے لیے جاری کوششوں کا حصہ ہے۔

    سعودی عرب کے دوسرے بڑے شہر جدہ میں ڈسکور نیوم ٹور کے آغاز میں متعدد صنعتی کاروباری شخصیات نے شرکت کی۔

    نیوم میں سیاحتی منصوبوں پر بھی توجہ مرکوز کی گئی بالخصوص نیا لگژری جزیرہ سندالہ جو موناکو اور ایتھنز جیسے عالمی سیاحتی مقامات کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔

    یہ جزیرہ 2024 کے اوائل میں سیاحوں کے لیے کھول دیا جائے گا، نئے لگژری سیاحتی مقام پر ایک عالمی معیار کا مرینا اور یاٹ کلب تعمیر کیا جارہا ہے جو بین الاقوامی یاٹنگ سیزن میں ایک نیا اضافہ شمار ہوگا۔

    بحیرہ احمر کا مرکزی دروازہ یہ جزیرہ تقریباً 2,000 مختلف نایاب سمندری انواع کا گھر ہے جو دنیا میں کہیں اور نہیں پائی جاتیں۔

    جہاں نیوم شہر کے تعمیراتی منصوبے پر کام جارہ ہے وہیں دارالحکومت ریاض کو ایک سائنس فکشن شہر میں بدلنے کا منصوبہ سامنے آیا ہے۔

    سی این این کے مطابق سعودی پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کی جانب سے ریاض میں دنیا کا سب سے بڑا شہری مرکز تعمیر کرنے کا اعلان کیا گیا ہے اس کے خودمختار دولت فنڈ کا اعلان جمعہ کو کیا گیا ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان (MBS) کی سربراہی میں جسے نیو مربع پراجیکٹ کا نام دیا گیا ہےاس منصوبے کےتحت ریاض شہر کو 19 اسکوائر کلومیٹر تک توسیع دی جائے گی اور لاکھوں افراد وہاں رہائش اختیار کر سکیں گے۔


    اس منصوبے کا مرکز مکعب نامی عمارت ہوگی جو 400 میٹر اونچی، 400 میٹر چوڑی اور 400 میٹر لمبی ہوگی یہ عمارت اتنی بڑی ہوگی کہ امریکا کی ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ جتنی 20 عمارات اس میں سما سکیں گی اس عمارت میں ہولوگرافک ٹیکنالوجی استعمال کی جائے گی جو لوگوں کو خریداری اور کھانے پینے کا ایک نیا تجربہ فراہم کرے گی۔

    اسی طرح اسپیس پوڈز، تیرتی ہوئی چٹانیں اور دیگر عجیب و غریب مناظر ہولوگرافک ٹیکنالوجی کے نتیجے میں نظر آئیں گےاس کے ساتھ ساتھ رہائشی مراکز، ہوٹلوں اور دیگر سہولیات سے بھی لیس ہوگی،نیو مربع پراجیکٹ میں ہر جگہ تک رسائی 15 منٹ پیدل چل کر ممکن ہوگی اور اس کا اپنا اندرونی ٹرانسپورٹ سسٹم ہوگا۔

    اس منصوبے کو 2030 تک مکمل کیا جائے گا مگر اس کی لاگت کے حوالے سے فی الحال تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔

    واضح رہے کہ سعودی حکومت کی جانب سے پہلے ہی آئندہ دہائی میں دارالحکومت کے حجم میں دوگنا اضافے کے لیے 800 ارب ڈالرز کے منصوبے پر کام کیا جا رہا ہے جس کا مقصد ریاض کو خطے کا ثقافتی اور صنعتی ہب بنانا ہے۔

  • ترکیہ، شام سرحد پر ایک مرتبہ پھر زلزلہ؛ شدت 6.3 ریکارڈ

    ترکیہ، شام سرحد پر ایک مرتبہ پھر زلزلہ؛ شدت 6.3 ریکارڈ

    ترکیہ، شام سرحد پر ایک مرتبہ پھر زلزلہ؛ شدت 6.3 ریکارڈ

    ترکیہ اور شام کے سرحدی علاقے میں ایک مرتبہ پھر زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں جن کی شدت 6.3 ریکارڈ کی گئی ہے۔ جبکہ عالمی ادارے کے مطابق یورپی بحیرہ روم کے زلزلہ پیما مرکز ای ایم ایس سی (EMSC) نے اس حوالے سے بتایا ہے کہ پیر کو ترکی اور شام کے سرحدی علاقے میں دو کلومیٹر (1.2 میل) کی گہرائی میں 6.3 شدت کا زلزلہ آیا۔

    خیال رہے کہ دو ہفتے قبل ترکیے اور شام میں زلزلے کے شدید جھٹکے آئے تھے جس سے ہزاروں افراد کی اموات ہو چکی ہے اور بہت بڑی تعداد میں لوگ زخمی ہیں جب کہ سینکڑوں عمارات ملبے کا ڈھیر بن گئی ہیں۔جبکہ رطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز نے دو عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا ہے کہ انہوں نے وسطی انطاکیہ میں ایک زوردار زلزلے اور عمارتوں کو مزید نقصان پہنچنے کی اطلاع دی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    طالبان کا امریکی فوجی اڈوں کو اکنامک زونز میں تبدیل کرنے کا فیصلہ
    چیٹ جی پی ٹی نے نریندر مودی کودنیا کی متنازع ترین شخصیات میں سے ایک قرار دیا
    کھمبے سے باندھ کر لوہے کی راڈ گرم کرکے جسم کے مختلف حصوں میں لگانے کی ویڈیو وائرل
    امریکی سائفر کی تحقیقات کیلئے دائر درخواستیں سماعت کیلئے مقرر
    عدالت نے عمران خان کی دوسری درخواست نمٹا دی
    دو گھنٹے گاڑی میں بیٹھنے کے بعد عمران خان عدالت پیش، پانچ منٹ کی سماعت، عدالت نے درخواست ضمانت پر فیصلہ سنا دیا
    خبر رساں ایجنسی کے مطابق عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ تازہ ترین زلزلے کے بعد ترکیے کی امدادی ٹیمیں فوری طور پر متحرک ہو گئی ہیں اور لوگوں کو چیک بھی کر رہی ہیں کہ کوئی نقصان تو نہیں ہوا ہے۔ علاوہ ازیں رہائشی خاتون مونا العمر کے حوالے سے خبر رساں ایجنسی نے بتایا ہے کہ جب زلزلہ آیا تو وہ وسطی انطاکیہ کے ایک پارک میں نصب خیمے میں تھیں تو مجھے ایسا لگا کہ میرے پیروں کے نیچے سے زمین کھسک رہی ہے۔ انہوں نے تقریباً چیخ کر روتے ہوئے اپنے سات سالہ بیٹے کو بازوؤں میں بھینچا اور پھردریافت کیا کہ کیا مزید آفٹر شاکس تو اب نہیں آئیں گے؟

  • سیسا نے زلزلہ زدگان کے نام پر تنخواہوں میں کٹوتی چیلنج کردی

    سیسا نے زلزلہ زدگان کے نام پر تنخواہوں میں کٹوتی چیلنج کردی

    سیسا نے زلزلہ زدگان کے نام پر تنخواہوں میں کٹوتی چیلنج کردی

    سیسا بلوچستان نے ترکیہ و شام زلزلہ زدگان کے نام پر تنخواہوں میں کٹوتی کو عدالت میں چیلنج کردیا، کیس کی سماعت کل بلوچستان ہائیکورٹ میں ہوگی۔ جبکہ سیسا (سینئر ایجوکیشنل اسٹاف ایسوسی ایشن) بلوچستان کے مطابق ترک اور شام کے بھائیوں کے غم میں ہم تمام ملازمین برابر کے شریک ہیں اور ان کی مالی امداد کرنے کو تیار بھی ہیں لیکن ناانصافی کی بنیاد پر جو فیصلہ کیا گیا ہے، اس اقدام کی سیسا بلوچستان بھرپور مخالفت کرتی ہے۔

    انہوں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ایک ہی ملک میں دو اصول اپنائے جارہے ہیں، وفاقی حکومت ملازمین سے تنخواہ میں ایک دن کی کٹوتی کا نوٹیفکیشن جاری کرتی ہے جبکہ بلوچستان حکومت 50 فیصد بنیادی تنخواہ کی کٹوتی کرتی ہے جو کہ انسانی و اخلاقی حقوق کے برخلاف ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    طالبان کا امریکی فوجی اڈوں کو اکنامک زونز میں تبدیل کرنے کا فیصلہ
    چیٹ جی پی ٹی نے نریندر مودی کودنیا کی متنازع ترین شخصیات میں سے ایک قرار دیا
    کھمبے سے باندھ کر لوہے کی راڈ گرم کرکے جسم کے مختلف حصوں میں لگانے کی ویڈیو وائرل
    امریکی سائفر کی تحقیقات کیلئے دائر درخواستیں سماعت کیلئے مقرر
    عدالت نے عمران خان کی دوسری درخواست نمٹا دی
    دو گھنٹے گاڑی میں بیٹھنے کے بعد عمران خان عدالت پیش، پانچ منٹ کی سماعت، عدالت نے درخواست ضمانت پر فیصلہ سنا دیا

    سیسا بلوچستان کے وکیل علی احمد کاکڑ نے سماء سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے ترکیہ و شام زلزلہ زدگان کے نام پر محکمہ تعلیم کے 20 سے لے کر 22 گریڈ کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کٹوتی کو چیلنج کیا گیا ہے۔ بلوچستان ہائیکورٹ میں تنخواہوں میں کٹوتی سے متعلق کیس کی سماعت کل ہوگی۔

  • طالبان کا امریکی فوجی اڈوں کو اکنامک زونز میں تبدیل کرنے کا فیصلہ

    طالبان کا امریکی فوجی اڈوں کو اکنامک زونز میں تبدیل کرنے کا فیصلہ

    کابل: طالبان کے نائب وزیراعظم ملا عبدالغنی برادر نے کہا ہے کہ ملک بھر میں سابق غیر ملکی فوجی اڈوں کو’’ اسپیشل اکنامک زونز‘‘میں تبدیل کرنے کا منصوبہ تیار کر رہے ہیں۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق طالبان حکومت کےنائب وزیراعظم ملا عبدالغنی برادرنےکہا ہےکہ طویل مشاورت کے بعد وزارت صنعت و تجارت کو امریکا سمیت غیرملکی فوجی اڈوں کی جگہ ’’اکنامک اسپیشل زونز‘‘ کی تعمیر کی اجازت دیدی گئی۔

    نائب وزیراعظم ملا عبد الغنی برادر نے کہا کہ دارالحکومت کابل اور شمالی صوبہ بلخ میں فوجی اڈوں کو تبدیل کرنے کا ایک پائلٹ منصوبہ جلد ہی شروع کیا جائے گا جس سے افغان معیشت کو استحکام ملے گا۔

    نائب وزیر اقتصادی امور نے بتایا کہ اس حوالے سے ایک کمیٹی دسمبر میں بنائی گئی تھی-

    خیال رہے کہ 2021 میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے افغانستان کے عالمی فنڈز منجمد ہیں جس کے باعث 20 سال سے جنگ کے شکار ملک کی معیشت زبوں حالی کا شکار ہے اور غربت نے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں اس وقت حکومت کی تمام تر توجہ تجارت اور سرمایہ کاری کے ذریعے معاشی خود کفالت کو بڑھانے پر مرکوز ہےملک میں دو دہائیوں سے غیر ملکی فوجی دستے موجود تھے۔

    ورلڈ بینک کا بھی کہنا ہے کہ افغانستان میں برآمدات میں اضافہ ہوا ہے اور طالبان انتظامیہ 2022 میں محصولات کو بڑی حد تک مستحکم رکھنے میں کامیاب رہی ہے۔

    سنگاپور کے ایس راجارتنم اسکول آف انٹرنیشنل اسٹڈیز سے تعلق رکھنے والے محمد فیضل بن عبدالرحمن نے بی بی سی کو بتایا کہ طالبان کو اپنے خزانے میں اضافہ کرنے کی اشد ضرورت ہے اگر وہ بہتر حکومت کرنا چاہتے ہیں اور کچھ ملکی قانونی حیثیت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

    زیادہ اہم بات یہ ہےکہ، طالبان کو اقتصادی منصوبہ بندی کے لیے اپنی وابستگی کو ثابت کرنے کی ضرورت ہے۔ اس میں چینی جیسے ممکنہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے دارالحکومت اور سرحدوں کے قریب محفوظ زونز کا قیام اور پڑوسی ممالک کے ساتھ علاقائی تجارت کو بحال کرنا شامل ہے۔

    ایک اندازے کے مطابق افغانستان قدرتی وسائل پر بیٹھا ہے – بشمول قدرتی گیس، کاپر اور نایاب زمین – جس کی مالیت $1tn (£831.5bn) سے زیادہ ہے تاہم، ملک میں کئی دہائیوں کے ہنگاموں کی وجہ سے ان میں سے زیادہ تر ذخائر استعمال نہیں کیے جا رہے ہیں۔

    اگست 2021 میں، آخری امریکی فوجی پرواز نے کابل ہوائی اڈے سے روانہ کیا، جو افغانستان میں 20 سالہ موجودگی اور امریکہ کی طویل ترین جنگ کے خاتمے کی علامت ہے اس تنازعے میں دسیوں ہزار افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہوئے ہیں۔

    غیر ملکی فوجی دستوں کے انخلا کے بعد سے افغانستان کے مالی معاملات کئی دوسرے بڑے مسائل کی زد میں ہیں۔ حکومت کے ارکان پر پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں، مرکزی بینک کے بیرون ملک اثاثے منجمد کر دیے گئے ہیں، اور زیادہ تر غیر ملکی امداد – جو پہلے اس کی معیشت کو سہارا دیتی تھی – کو معطل کر دیا گیا ہے۔

    اس سال کے شروع میں، طالبان نے کہا تھا کہ اس نے شمالی افغانستان میں تیل کی کھدائی کے لیے ایک چینی فرم کے ساتھ معاہدہ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے 25 سالہ معاہدہ خطے میں چین کی اقتصادی شمولیت کو واضح کرتا ہے۔

    بیجنگ نے افغانستان کی طالبان انتظامیہ کو باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا ہے لیکن اس کے ملک میں اہم مفادات ہیں، جو چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کے لیے اہم خطے کے مرکز میں ہے۔

    Xi Jinping کی طرف سے 2013 میں شروع کیا گیا، یہ اقدام ابھرتے ہوئے ممالک کو بندرگاہوں، سڑکوں اور پلوں جیسے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے لیے مالی اعانت فراہم کی-

  • چیٹ جی پی ٹی نے نریندر مودی کودنیا کی متنازع ترین شخصیات میں سے ایک قرار دیا

    چیٹ جی پی ٹی نے نریندر مودی کودنیا کی متنازع ترین شخصیات میں سے ایک قرار دیا

    آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹیکنالوجی پر مبنی چیٹ جی پی ٹی نے بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کو دنیا کی متنازع ترین شخصیات میں سے ایک قرار دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : ایک ٹوئٹر صارف کی جانب سے اس اے آئی ٹیکنالوجی پر مبنی چیٹ بوٹ سے دنیا کی متنازع شخصیات کی فہرست مرتب کرنے کا کہا گیا تھا۔

    چیٹ جی پی ٹی کی تیار کردہ فہرست میں بھارتی وزیراعظم کے ساتھ ساتھ ایلون مسک، ڈونلڈ ٹرمپ، روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن، شمالی کورین صدر کم جونگ اُن، سابق برطانوی وزیراعظم بورس جانسن اور کم کارڈیشین سمیت دیگر نام شامل تھے۔

    چیٹ جی پی ٹی کا کہنا تھا کہ ان شخصیات کے ساتھ ‘خصوصی انداز’ سے سلوک کیا جانا چاہیے اس فہرست کو ٹوئٹر پر شیئر کیا گیا تو ایلون مسک نے اپنا ردعمل !! لکھ کر دیا۔


    اس صارف نے ایک اور ٹوئٹ میں بتایا کہ چیٹ جی پی ٹی نے ممکنہ طور پر متنازع شخصیات کی فہرست میڈیا کوریج کو مدنظر رکھ مرتب کی لہذا بہت سے معاملات میں، خیالات صرف مرکزی دھارے کے میڈیا کے خیالات کی عکاسی کر سکتے ہیں، ضروری نہیں کہ کوئی چیٹ جی پی ٹی پروگرامنگ ہو۔

    صارف نے کہا کہ وضاحت کے طور پر، میں نے کالم ہیڈر بنائے ہیں، لیکن میں نے یہ نہیں بتایا کہ ان کی وضاحت کیسے کی جائے، جیسا کہ اسکرین شاٹس میں سے ایک میں دیکھا جا سکتا ہے۔ بشمول "چیٹ جی پی ٹی کو ایک خاص طریقے سے برتاؤ کرنا چاہیے” (متنازعہ کی نقل، کیونکہ تنازعہ کو ایک خاص انداز میں برتا جانا چاہیے)۔

    خیال رہے کہ چیٹ جی پی ٹی کو نومبر 2022 میں متعارف کرایا گیا تھا اور اس کے بعد سے یہ دنیا بھر میں لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گیا۔یہ چیٹ بوٹ سوالات کے جوابات اور مختلف موضوعات پر تفصیلات فراہم کرتا ہےہر فرد اس اے آئی چیٹ بوٹ کو مفت استعمال کر کے ای میلز یا مضامین تحریر کروا سکتا ہے یا اپنے اسائنمنٹ مکمل کرنے کے لیے مدد حاصل کر سکتا ہے۔

  • امریکی صدرکا یوکرین کاغیراعلانیہ دورہ،500 بلین ڈالرفوجی امداد کا اعلان

    امریکی صدرکا یوکرین کاغیراعلانیہ دورہ،500 بلین ڈالرفوجی امداد کا اعلان

    امریکی صدر جوبائیڈن پیر کے روز یوکرین کے دارالحکومت کیف کے غیر اعلانیہ دورے پر پہنچ گئے۔

    باغی ٹی وی :کیف میں،بائیڈن نے یوکرین کے صدارتی محل میں یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے ساتھ ساتھ خاتون اول اولینا زیلنسکا سے ملاقات کی۔ امریکی صدر روس کے یوکرین پر حملے کی پہلی برسی سے چند دن قبل کیف پہنچے-

    یوکرین پر روس کے حملےکے بعد امریکی صدرکا یہ پہلا دورہ یوکرین ہے امریکی صدر کے دورے کے موقع پر کیف میں فضائی بمباری کے سائرن بھی بجے تاہم خبر ایجنسی کا کہنا ہےکہ کیف میں روسی میزائل یا بمباری کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔

    وائٹ ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق بائیڈن نے یوکرینی صدارتی محل میں صدر ولادیمیر زیلنسکی سے ملاقات کی اور اپنی حمایت کا یقین دلایا صدر بائیڈن کا کہنا تھا کہ ایک سال قبل جب روس نے یوکرین پر حملہ کیا تو پیوٹن کا خیال تھا کہ یوکرین کمزور ہے اور مغرب تقسیم کا شکار ہے اس لیے ہمیں ختم کیا جاسکتا ہے مگر وہ انتہائی غلطی پر تھے۔

    زیلنسکی کے ساتھ مشترکہ ریمارکس میں، بائیڈن نے یوکرین کے لیے500 بلین ڈالر کی امداد کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس پیکج میں مزید فوجی سازوسامان شامل ہوں گے، جن میں توپ خانے کے گولہ بارود، مزید جیولن اور ہووٹزر شامل ہیں۔

    جوبائیڈن کا کہنا تھا کہ یوکرین کو دی جانے والی نئی فوجی امداد میں لائٹ ملٹی پل راکٹ لانچر بھی شامل ہیں۔

    تبصرے میں، بائیڈن نے یوکرائنی مزاحمت کی لچک کے بارے میں بات کی کیونکہ جنگ اپنے دوسرے سال میں داخل ہو رہی ہے بائیڈن نے کہا کہ ایک سال بعد، کیف کھڑا ہے۔ اور یوکرین کھڑا ہے جمہوریت کھڑی ہے۔

    زیلنسکی نے مزید کہا کہ اس نے اور بائیڈن نے "طویل فاصلے کے ہتھیاروں اور ان ہتھیاروں کے بارے میں بات کی جو یوکرین کو اب بھی فراہم کیے جاسکتے ہیں حالانکہ پہلے اس کی فراہمی نہیں کی گئی تھی۔”

    بائیڈن کا دورہ 12 ماہ کے تنازعے کے ایک نازک لمحے پر آیا ہے، جب روس متوقع موسم بہار کے حملے کی تیاری کر رہا ہے اور یوکرین جلد ہی علاقے پر دوبارہ قبضہ کرنے کی امید کر رہا ہے۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور دیگر مغربی ممالک جنگ کی رفتار کو تبدیل کرنے کی امید میں یوکرین کو اسلحہ، ٹینک اور گولہ بارود پہنچا رہے ہیں۔

    یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کا کہنا تھا کہ امریکی صدر سے طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں پر بات ہوئی ہے، جوبائیڈن کا دورہ یوکرین کے شہریوں کے لیے حمایت کی اہم علامت ہے۔

    زیلنسکی نے خود دسمبر میں اوول آفس میں بائیڈن سے ملنے اور کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرنے کے لیے واشنگٹن کا سفر کیا جنگ شروع ہونے کے بعد سے یوکرین سے باہر ان کا پہلا دورہ تھا-

    یوکرین کے رہنما نے ماہ قبل بائیڈن کو کیف کے دورے کی دعوت دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا خیال ہے کہ امریکی رہنما کے لیے صورتحال کو قریب سے دیکھنا ضروری ہے۔

  • دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں،امریکا

    دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں،امریکا

    واشنگٹن: امریکا نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے ساتھ کھڑے ہونے کے عزم کا اظہار کیا ہے-

    باغی ٹی وی: امریکی وزارت خارجہ کے مشیر خاص اور قونصلر ڈیرک شیلٹ نے وائس آف آمریکا کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ پاکستان کو دہشت گردی کی نئی لہر کا سامنا ہے جس پر امریکا پاکستان کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہے کیونکہ امریکا نے دہشت گردی کے نئے خطرے کا اندازہ لگایا ہے۔

    ڈیرک شیلٹ نے مزید کہا کہ ہم یہ سمجھنے اور جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ پاکستان کو دہشت گردی کی اس نئی لہر کا سامنا کیوں ہے اور یہ خطرہ کیوں بڑھتا جا رہا ہے، ایسے واقعات بار بار کیوں ہو رہے ہیں۔

    ڈیرک شیلٹ نے بتایا کہ پشاور اورکراچی پولیس پر حملوں پر ہونے والی پاکستانی تحقیقات سے حاصل معلومات کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں اور اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ان حملوں کو انجام دینے والوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

    ڈیرک شیلٹ نے اس بات کی تصدیق کی کہ انھوں نے اپنے پاکستانی ہم منصبوں سے دہشت گردی کیخلاف جنگ میں ان کی ضروریات اور امریکا کی جانب سے فراہم کی جانے والی مدد سے متعلق بات کی ہے۔

    تاہم انھوں نے افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملے میں مدد سے متعلق سوال کا جواب دینے سے گریز کیا۔

    پانچ ماہ میں دوسری بار پاکستان کا دورہ کرنے والے کاؤنسلر ڈیرک نے اس سوال پر کہا تھا کہ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں معاونت کی نوعیت سے متعلق میں قیاس آرائیوں میں نہیں پڑوں گا کہ ہم کس چیز کی حمایت کریں گے اور کس کی نہیں،عوامی طور پرفرضی حالات میں یہ کس طرح لاگو ہوگا-

    اس کے بجائے، مسٹر چولیٹ نے کہا کہ انہوں نے اپنے پاکستانی ہم منصبوں سے ان کی ضروریات اور واشنگٹن فراہم کی جانے والی مدد کے بارے میں بات کی، انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی اقتصادی صورتحال بھی واشنگٹن کے لیے "پریشان کن” ہے۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان کا چین پر واجب الادا قرض دنیا بھر میں تشویش کا باعث ہے لیکن امریکہ پاکستان سے بیجنگ اور واشنگٹن میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے کو نہیں کہہ رہا ہے۔

    پاکستان کے معاشی بحران، سیاسی عدم استحکام اور سیکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے باوجود مسٹر شیلٹ نے کہا کہ ملک کے ساتھ تعلقات اہم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر اتحادی، پارٹنر برابر نہیں ہوتا، لیکن ہمارے تمام تعلقات اہم ہیں۔

    دوسری جانب محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کراچی میں جمعہ کو ہونے والے حملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کراچی پولیس آفس پر دہشت گردانہ حملے کی شدید مذمت کرتا ہےہم اس دہشت گردانہ حملے میں پاکستانی عوام کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہیں۔ تشدد اس کا جواب نہیں ہے اور اسے رکنا چاہیے۔

  • آئی فون کا آن لائن آرڈر، پیسے نہ ہونے پر نوجوان نے ڈیلیوری بوائے کوقتل کردیا

    آئی فون کا آن لائن آرڈر، پیسے نہ ہونے پر نوجوان نے ڈیلیوری بوائے کوقتل کردیا

    کرناٹک: 20 سالہ نوجوان نے آن لائن آرڈر کیے آئی فون کے لیے رقم نہ ہونے پر مبینہ طور پر ڈیلیوری بوائے کو ہی قتل کر دیا-

    باغی ٹی وی:"انڈیا ٹو ڈے” کے مطابق یہ دل خراش واقعہ بھارتی ریاست کرناٹک کے ہاسن ضلع میں 7 فروری کو پیش آیا جہاں ہیمانت دت نامی نوجوان نے آئی فون آرڈر کیا اور جب ڈیلیوری بوائے اسے دینے آیا تو پیسے نہ ہونے کی وجہ سے اسے قتل کر دیا-

    شمالی کوریا کا طویل فاصلے تک مار کرنے والے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا تجربہ

    بھارتی میڈیا کے مطابق ہیمانت نے ڈیلیوری بوائے کی کمر میں چاقو کے وار سے قتل کردیا اور لاش گھر میں چھپا دی بعدازاں اس نے لاش قریبی ریلوے اسٹیشن پر جلا دی اور قتل کا ثبوت ختم کرنا چاہا لیکن ناکام رہا۔

    رپورٹس کے مطابق یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب 11 فروری کو ریلوے اسٹیشن کے قریب سے لاش کے کچھ آثار ملے جس پر پولیس نے کارروائی کا آغاز کیا، مقتول کی شناخت 23 سالہ ہیمانتھ نائیک کے نام سے ہوئی جو ای کارٹ ایکسپریس میں ملازمت کرتا تھااور اس رات وہ سیکنڈ ہینڈ فون ڈیلیور کرنے گیا تھا۔

    22 سالہ لڑکی بچے کو جنم دینے کے بعد ایمبولینس میں بورڈ کا امتحان دینے سینٹر پہنچ…

    تاہم جب وہ ملزم کے گھر پہنچا اور فون کے لیے 46 ہزار روپے کا مطالبہ کیا تو اس نے ہیمانتھ نائیک کو قتل کردیا اور لاش کو ریلوے اسٹیشن کے قریب جلانے سے پہلے چار دن تک اپنے گھر میں چھپائے رکھا۔

    ملزم ایک بیگ میں لاش کو ڈال کر ریلوے اسٹیشن پر لے کر گیا جس کی سی سی ٹی وی بھی سامنے آئی جس کی مدد سے پولیس ملزم تک پہنچی اور اسے گرفتار کیا۔

    متحدہ عرب امارات اور بھارت کے درمیان "جامع اقتصادی شراکت داری” معاہدے…

  • چین میں زیرو کووڈ رولز کے خاتمے کیلئے احتجاج کرنے والے مظاہرین لاپتہ ہونے لگے

    چین میں زیرو کووڈ رولز کے خاتمے کیلئے احتجاج کرنے والے مظاہرین لاپتہ ہونے لگے

    چین میں گزشتہ سال زیرو کووڈ رولز کے خاتمے کیلئے احتجاج کرنے والے مظاہرین لاپتہ ہونے لگے۔

    باغی ٹی وی: برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق چینی حکام کی جانب سے گزشتہ برس نومبر کے مہینے میں چین کی زیرو کووڈ پابندیوں کےخاتمے کیلئے احتجاج کرنے والے مظاہرین کے خلاف خاموشی سے شروع کی گئی کارروائیوں کے بعد کئی لوگ لاپتہ ہو گئے ہیں۔

    اندھیرے میں خالی سفید چادریں اٹھائےہوئےنام نہاد وائٹ پیپر احتجاج میں ہزاروں افراد نے پابندی والی کوویڈ پالیسیوں کےخلاف ریلی نکالی یہ حکمران چینی کمیونسٹ پارٹی اور اس کے رہنما شی جن پنگ پر تنقید کا ایک منفرد مظاہرہ تھا،اس دوران پولیس نے چند گرفتاریاں کیں-

    چینی سماجی کارکنان کا کہنا ہے کہ اب، کئی مہینوں بعد، ان مظاہرین کی تعداد پولیس کی حراست میں ہے، مہینوں گذرجانے کے باجودکئی افراد کے حوالے سے کوئی معلومات میسر نہیں ہو سکی ہے،ایک گروپ کے اندازے کے مطابق 100 سے زیادہ گرفتاریاں ہو چکی ہیں۔

    بی بی سی کے مطابق انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں اوریونیورسٹیوں کی جانب سے بیجنگ، شنگھائی، گوانگژو اور نانجنگ سمیت دیگر شہروں سے حراست میں لیے گئے تمام افراد کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہےالبتہ چینی حکام کی جانب سےلوگوں کے زیر حراست ہونے کے حوالے سے پوچھے گئے سوالات کا جواب دینے سے گریز کیا جا رہا ہے۔

    چینی حکام نے گرفتاریوں سے متعلق سوالات کا جواب نہیں دیا لیکن بی بی سی کی جانب سے کی گئی تحقیقات کے بعد کم از کم ایسے 12 افراد کے نام سامنے آئے ہیں جنہیں جھگڑے اور مسائل پیدا کرنے کے الزام میں بیجنگ سے گرفتار کیا گیا تھا۔

    ان میں سے کم از کم پانچ کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے۔ ان لوگوں میں سے جو اب بھی زیر حراست ہیں، چار خواتین بھی شامل ہیں جنہیں جھگڑے اور مسائل پیدا کرنے کے الزام میں باضابطہ طور پر گرفتار کر لیا گیا ہےیہ ایک مبہم الزام ہے جس میں زیادہ سے زیادہ پانچ سال کی سزا ہے، اور ایک جسے ناقدین کہتے ہیں کہ اکثر اختلاف رائے کو دبانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

    بی بی سی کی خبر کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں سے زیادہ تر افراد سماجی کارکنان نہیں ہیں بلکہ ان میں سے بیشتر لکھاری، صحافی، موسیقار، اساتذہ اور فنانشل انڈسٹری کے پروفیشنلز ، امریکا اور برطانیہ کی یونیورسٹیوں سے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ ہیں جواپنی بیزاری ظاہر کرنے کیلئے ہاتھوں میں سفید کاغذ کا علامتی ٹکڑا اٹھا کر پرامن احتجاج میں شریک ہوئے تھے۔

    ان میں سے بہت سی خواتین ہیں اور رپورٹس کے مطابق پولیس نے ان سے اس بارے میں پوچھ گچھ کی ہے کہ آیا وہ حقوق نسواں کی علمبردار تھیں یا "نسوانی سرگرمیوں” میں ملوث تھیں۔ چینی حکام نے حالیہ برسوں میں خواتین کے حقوق کے کارکنوں پر تیزی سے کریک ڈاؤن کیا ہے یا انہیں سنسر کیا ہے۔

    چینی حکام کی جانب سے حراست میں لیے گئے افراد کے اہل خانہ اور دوستوں کا کہنا تھا کہ لمبے عرصے سے ماحول بہت ہی کشیدہ ہوتا جا رہا تھا، جب وہ احتجاج میں شرکت کیلئے جار ہے تھے تب انہیں معلوم نہیں تھا کہ وہ جس احتجاج میں شریک ہونے جا رہے ہیں وہ ایک تحریک ہے، وہ تو بس اپنے احساسات کے اظہار کیلئے شامل ہوئے تھے۔

    ان کا کہنا تھا احتجاج کے دوران ہم لوگ پرامن تھے، نہ ہم نے پولیس کے ساتھ ٹکراؤ کیا نہ ہی کوئی بنیاد پرستی کی بات کی، اس لیے ہمیں نہیں لگتا کہ یہ اتنی سنجیدہ لینے والی بات تھی۔

    گرفتار لوگوں کے دوستوں نے اصرار کیا کہ اگرچہ یہ گروپ سماجی طور پر باشعور تھا، اور کچھ اراکین نے #MeToo شخصیت Xianzi کی حمایت ظاہر کی تھی، لیکن وہ کارکن نہیں تھے-

    قیدیوں کے ایک دوست نے کہا کہ وہ صرف نوجوانوں کا ایک گروپ ہیں جو معاشرے کے بارے میں فکر مند ہیں… میرے دوست کو نہ صرف خواتین کے حقوق میں، بلکہ انسانی حقوق اور کمزوروں کے حقوق میں بھی دلچسپی ہے۔ اس کا حقوق نسواں سے متعلق سرگرمیوں سے کوئی تعلق نہیں ہے-

    27 نومبر کو، گروپ کی کئی خواتین بیجنگ میں دریائے لیانگما پر ایک عوامی نگرانی میں شامل ہوئیں یہ تقریب اُرمچی میں اپارٹمنٹ میں لگنے والی آگ کے متاثرین کے سوگ کے لیے اُس رات چین بھر میں بے ساختہ منعقد ہونے والے بہت سے لوگوں میں سے ایک تھی جس نے چین کو چونکا دیا تھا – بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ متاثرین کووِڈ کی پابندیوں کی وجہ سے بچ نہیں سکتے، حالانکہ حکام نے اس پر اختلاف کیا۔

    چوکسی ایک پرامن احتجاج میں بدل گئی، لوگوں کے پاس کاغذ کے خالی ٹکڑے تھے جو ان کی مایوسی کی علامت بن گئے ایک اور دوست نے کہا ماحول اتنے عرصے سے اتنا جابرانہ رہا ہے۔ جب وہ گئے تو وہ یہ نہیں سوچتے تھے کہ وہ کسی تحریک میں حصہ لے رہے ہیں۔ ان کا خیال تھا کہ یہ صرف اپنے جذبات کو ہوا دینے کا ایک طریقہ ہے انہوں نے پولیس کے ساتھ جھڑپ نہیں کی اور نہ ہی بنیاد پرستانہ رائے کا اظہار کیا۔ اس لیے وہ اسے سنجیدہ نہیں سمجھتے تھے۔

    خبر کے مطابق تاحال یہ بات واضح نہیں کہ پولیس نے حراست میں لیے گئے افراد کو کس طرح شناخت کیا تاہم خدشہ ہے کہ سرویلینس کیمروں اور فیشل ریکگنیشن سافٹ ویئرز کے ذریعے ان کی شناخت کی گئی اور بعد ازاں ان کے فونز کو تلاش کرنے کے بعد گرفتاریاں عمل میں لائی گئی ہیں۔