Baaghi TV

Tag: study visa Australia

  • ہیکرز کا ایف بی آئی کے نیویارک آفس میں سائبر اٹیک

    ہیکرز کا ایف بی آئی کے نیویارک آفس میں سائبر اٹیک

    ہیکرز نے فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) کے نیویارک آفس میں ایک پراسرار سائبر اٹیک کر دیا-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق روس اور چین کے ساتھ مغربی تناؤ کے درمیان ہیکرز نے ایف بی آئی کے سب سے بڑے دفتر کے کمپیوٹرز کو نشانہ بنا ڈالا ہے حکام نے اطلاع دی کہ دفتر سائبر اٹیک پر قابو پانے کےلیے کام کررہا ہےحملے سے گزشتہ دنوں کمپیوٹر نیٹ ورک کا ایک حصہ متاثر ہوا ہے۔

    انٹرنیٹ کے بارے ایلون مسک کی ماضی میں کی گئی پیشگوئی درست ثابت

    سی این این کے مطابق کے مطابق ایف بی آئی حکام کاخیال ہےکہ یہ واقعہ بچوں کےجنسی استحصال کی تصاویراورنیٹ ورکس کی تحقیقات میں استعمال ہونے والے کمپیوٹر سسٹم سے متعلق ہے۔

    رپورٹ کے مطابق ایف بی آئی نے تصدیق کی ہے کہ وہ اس واقعہ سے آگاہ ہے اور اضافی معلومات حاصل کرنے کے لیے کام کر رہی ہے ایف بی آئی نے اپنے بیان میں زور دیا کہ یہ واقعہ ایک الگ تھلگ واقعہ ہے سائبر اٹیک کی تفصیلات جاننے کے لیے مزید تحقیقات جاری ہیں۔

    بھارت نے جنوری میں ریکارڈ مقدار میں روس سے سستا پیٹرول درآمد کیا

    واضح رہے دفتر نے خود 2021 کے نومبر میں ایک ہیکنگ کا واقعہ بھی دیکھا تھا جس میں ایک پارٹی نے ایف بی آئی کے ذریعے استعمال ہونے والے ای میل ایڈریس کو امریکہ میں سرکاری اور مقامی قانون نافذ کرنے والے حکام سے بات چیت کرنے کے لیے استعمال کیا تھا۔

    ہزاروں تنظیموں کو جعلی ای میلز بھیجی گئی تھیں اور ان ای میلز کے ذریعے بھیجے گئے مبینہ خط میں بتایا گیا تھا کہ کوئی خطرہ ہے۔ اس وقت ایف بی آئی نے مشتبہ شخص کا اعلان کیے بغیر اس واقعے کو سافٹ ویئر کی کمزوری سے منسوب کیا تھا۔

    رجیم چینج سے متعلق امریکا پر الزامات میں کوئی حقیقت نہیں،امریکا

  • برازیل میں 6 سینٹی میٹر طویل دُم والی پچی کی پیدائش

    برازیل میں 6 سینٹی میٹر طویل دُم والی پچی کی پیدائش

    برازیل میں 6 سینٹی میٹر طویل دُم والی پچی کی پیدائش ہوئی، یہ واقعہ لگ بھگ تین برس قبل پیش آیا۔

    باغی ٹی وی: جرنل آف پیڈیاٹرک سرجری کیس رپورٹس نے سرجری سے پہلے اور بعد کی ناقابل یقین تصاویر شائع کی ہیں ان تصاویر میں لڑکی کو زندگی بدلنے والے آپریشن کے 3 سال بعد دکھایا گیا ہےدم جلد سے ڈھکی ہوئی تھی اور پیٹھ سے باہر نکلی ہوئی تھی سرجن اس دُم کو جسم سے الگ کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

    ترکیہ زلزلہ: 12 روز بعد ملبے سے بچے سمیت 3 افراد کو زندہ نکال لیاگیا

    سرجنوں کی رپورٹس میں اس لڑکی کی شناخت نہیں بتائی گئی اس لڑکی کی پیدائش سپائنا بیفیڈا کےساتھ ہوئی تھی، یہ ریڑھ کی ہڈی میں ایک نادر پیدائشی نقص ہے جو رحم میں پیدا ہوتا ہے اور اس کی وجہ سے ریڑھ کی ہڈی میں خلا پیدا ہوجاتا ہے۔

    یہ حالت نیورل ٹیوب کی خرابی کی ایک قسم ہے ترقی پذیر جنین میں ایک ایسا ڈھانچہ ہوتا ہے جو بالآخر بچے کے دماغ، ریڑھ کی ہڈی کے اطرف ٹشو کی صورت اختیار کر جاتا ہے۔

    سمندروں کی بلند ہوتی سطح 90 کروڑ افراد کے لیے انتہائی خطرے کا سبب ہے

    ساؤ پالو کے گرینڈاک چلڈرن ہسپتال کے ڈاکٹروں نے انکشاف کیا کہ دم ’’لمبوسکرال‘‘ علاقے سے پھیلتی ہے۔ یہ وہ علاقہ ہے جو ریڑھ کی ہڈی کو شرونی سے جوڑتا ہے۔ ٹیم نے اس اضافی ٹشو کو "جھوٹی انسانی دم” کے طور پر بھی تشخیص کیا۔

    واضح رہے اب تک اس رجحان کے 200 سے کم کیسز ریکارڈ کیے گئے ہیں، یہ حمل کے دوران ایک غیر معمولی حالت ہے۔

    انٹرنیٹ کے بارے ایلون مسک کی ماضی میں کی گئی پیشگوئی درست ثابت

  • ترکیہ زلزلہ:  گھانا کے انٹرنیشنل فٹبالر کی لاش 12 روز بعد ملبے سے مل گئی

    ترکیہ زلزلہ: گھانا کے انٹرنیشنل فٹبالر کی لاش 12 روز بعد ملبے سے مل گئی

    ترکیہ میں زلزلے کے بعد لاپتہ ہونے والے گھانا کے انٹرنیشنل فٹبالر کرسٹیان آتسو کی لاش 12 روز بعد ملبے سے مل گئی۔

    باغی ٹی وی: رپورٹس کے مطابق گھانا کے انٹرنیشنل فٹبالر کرسٹیان آتسو زلزلے کے وقت ترک صوبے حاطے کے شہر انطاکیہ کے 12 منزلہ لگژری اپارٹمنٹ میں رہائش پذیر تھے۔

    معاشی مشکلات کے باوجود ترکیہ کے بہن بھائیوں کی بھرپور مدد کریں گے

    زلزلے کے بعد سے فٹبالر کا رابطہ منقطع تھا تاہم اب ان کی لاش ملبے سے نکال لی گئی ہے اور ان کے ترک ایجنٹ نے ان کی موت کی تصدیق کردی ہے انہوں نے بتایا کہ فٹبالر کا موبائل فون بھی لاش کے پاس سے ملا ہے۔

    گھانا کے فٹبالر نے گزشتہ سال مقامی ترک کلب میں شمولیت اختیار کی تھی اور ترک سپر لیگ میں شرکت کیلئے انطاکیہ میں موجود تھے۔

    کرسٹیان آتسو نے 2012 سے 2019 تک 65 انٹرنیشنل میچز میں گھانا کی نمائندگی کی اور 10 گول کیے، اس کے علاوہ انہوں نے چیلسیا، نیو کاسل یونائیٹڈ اور دیگر کلبز کی نمائندگی بھی کی۔

    ترکیہ زلزلہ: 12 روز بعد ملبے سے بچے سمیت 3 افراد کو زندہ نکال لیاگیا

    واضح رہے کہ ترکیہ میں 6 فروری کو آنے والے دو بڑے زلزلوں میں ہلاکتوں کی تعداد 40 ہزار سے تجاوز کرگئی اور ہزاروں افراد زخمی ہیں جبکہ ہزاروں گھر تباہ ہوچکے ہیں،ترک ڈیزاسٹر منیجمنٹ ایجنسی کےمطابق ترکیہ میں زلزلےسےہلاکتوں کی مجموعی تعداد 40642 ہوگئی،زلزلے کے بعد سے متاثرہ علاقوں میں 5700 آفٹرشاکس آچکے ہیں۔

    ترکیہ میں زلزلے سے بچ جانے والا خاندان دوسرے گھر میں آتشزدگی سے جاں بحق

  • بھارت نے جنوری میں ریکارڈ مقدار میں روس سے سستا پیٹرول درآمد کیا

    بھارت نے جنوری میں ریکارڈ مقدار میں روس سے سستا پیٹرول درآمد کیا

    نئی دہلی: بھارت اب روس سے پیٹرول خریدنے والا ایک بڑا ملک بن گیا ہے-

    باغی ٹی وی :عالمی خبر رساں ادارے "روئٹرز” کے مطابق بھارت نے گزشتہ ماہ جنوری میں ریکارڈ مقدار میں روس سے پیٹرول درآمد کیا جو اس کی مجموعی ضرورت کا 27 فیصد تھا جنوری میں روسی تیل کی درآمدات 1.4 ملین بیرل یومیہ تک پہنچ گئی جو دسمبر کے مقابلے میں 9.2 فیصد زیادہ ہے ماسکو اب بھی نئی دہلی کو سب سے زیادہ ماہانہ تیل بیچنے والا ملک ہے، اس کے بعد عراق اور سعودی عرب ہیں-

    بھارت کے روس سے سستا پیٹرول خریدنے کے باعث اب اس کی خلیجی ممالک سے خام تیل کی خریداری میں 84 فیصد تک کمی آئی ہے گزشتہ ماہ بھارت کی طرف سے درآمد کیے گئے 5 ملین بی پی ڈی خام تیل کا تقریباً 27 فیصد حصہ روسی تیل کا تھا،جو کہ دنیا کا تیسرا سب سے بڑا تیل درآمد کرنے والا اور صارف ہے۔

    1.4 بلین آبادی والا بھارت اس وقت تیل کی درآمدات میں دنیا کا تیسرا بڑا ملک ہے یہی وجہ ہے کہ خلیجی ممالک سمیت پیٹرول برآمد کرنے والے دیگر ممالک بھارت کو خصوصی توجہ بھی دیتے ہیں۔

    بھارت کی تیل کی درآمدات عام طور پر دسمبر اور جنوری میں بڑھ جاتی ہیں کیونکہ سرکاری ریفائنرز حکومت کی طرف سے مقرر کردہ اپنے سالانہ پیداواری اہداف کو پورا کرنے کے لیے پہلی سہ ماہی میں دیکھ بھال کے بند ہونے سے گریز کرتے ہیں۔

    بھارت میں ریفائنرز، جو مہنگی لاجسٹکس کی وجہ سے شاذ و نادر ہی روسی تیل خریدتے تھے، روس کے کلیدی آئل کلائنٹ کے طور پر ابھرے ہیں، جس نے گزشتہ فروری میں یوکرین پر حملے کے بعد سے مغربی ممالک کی طرف سے رعایتی خام تیل کو چھین لیا ہے۔

    اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ پچھلے مہینے روسی سوکول خام تیل کی بھارت کی درآمدات اب تک سب سے زیادہ 100,900 بی پی ڈی تھی، کیونکہ Sakhalin 1 فیلڈ سے پیداوار ایک نئے روسی آپریٹر کے تحت دوبارہ شروع ہوئی، ڈیٹا نے ظاہر کیا۔

    جنوری میں، بھارت کی کینیڈا سے تیل کی درآمدات بڑھ کر 314,000 بی پی ڈی تک پہنچ گئیں کیونکہ ریلائنس انڈسٹریز نےطویل فاصلے کے خام تیل کی خریداری میں اضافہ کیا، اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے۔

    اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے بعد جنوری میں کینیڈا بھارت کو پانچویں سب سے بڑا سپلائر بن کر ابھرا جنوری میں بھارت کی عراقی تیل کی درآمد 983,000 بی پی ڈی کی سات ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جو دسمبر سے 11 فیصد زیادہ ہے۔

    اپریل سے جنوری کے دوران، اس مالی سال کے پہلے دس مہینوں کے دوران، عراق ہندوستان کو تیل فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک رہا، جبکہ روس دوسرا سب سے بڑا سپلائر بن گیا، جس نے سعودی عرب کی جگہ لے لی جو اب تیسرے نمبر پر ہے۔

    اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ روسی تیل کی زیادہ خریداری نے مشرق وسطیٰ سے بھارتی درآمدات کو 48 فیصد کی اب تک کی کم ترین سطح پر گھسیٹا اور پیٹرولیم برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم (OPEC) کے رکن ممالک کی شرح اب تک کی کم ترین سطح پر آ گئی۔

    یوکرین پر حملے کے نتیجے میں عالمی قوتوں نے روس پر اقتصادی اور معاشی پابندیاں عائد کی تھیں جس میں خام تیل کی برآمدات بھی شامل ہے تاہم بھارت نے شروع دن سے ہی پابندی کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے خام تیل کی خریداری کی۔

    یورپی ممالک میں پابندیوں کے شکار روس کو بھی اپنے تیل کی فروخت کے لیے ایک بڑی مارکیٹ درکار تھی جو اسے بھارت کی شکل میں مل گئی اور بھارت کو قدرے سستا پیٹرول ملنے لگا۔

    خیال رہے کہ موجودہ پاکستانی حکومت نے بھی روس سے پیٹرول خریدنے کے لیے بات چیت کی ہے تاہم ابھی اس میں مزید لگ سکتا ہے۔

  • ترکیہ زلزلہ: 12 روز بعد ملبے سے بچے سمیت 3 افراد کو زندہ نکال لیاگیا

    ترکیہ زلزلہ: 12 روز بعد ملبے سے بچے سمیت 3 افراد کو زندہ نکال لیاگیا

    ترکیہ کے شہر انطاکیہ میں زلزلے کے 296 گھنٹے تقریباً (12 روز) بعد ملبے سے بچے سمیت 3 افراد کو زندہ نکال لیاگیا۔

    باغی ٹی وی: ترک میڈیا رپورٹس کے مطابق ترکیہ میں 6 فروری کو آنے والے دو بڑے زلزلوں میں ہلاکتوں کی تعداد 40 ہزار سے تجاوز کرگئی اور ہزاروں افراد زخمی ہیں جبکہ ہزاروں گھر تباہ ہوچکے ہیں۔

    معاشی مشکلات کے باوجود ترکیہ کے بہن بھائیوں کی بھرپور مدد کریں گے

    ترک ڈیزاسٹر منیجمنٹ ایجنسی کےمطابق ترکیہ میں زلزلےسےہلاکتوں کی مجموعی تعداد 40642 ہوگئی،زلزلے کے بعد سے متاثرہ علاقوں میں 5700 آفٹرشاکس آچکے ہیں۔

    دوسری جانب شام میں ہلاکتوں کی تعداد 5800 ہوگئی اور یوں مجموعی طور پر اموات 46 ہزار 442 ہوگئیں۔

    ترکیہ میں زلزلوں کے 12 روز بعد بھی ملبے تلے زندگی کے آثار موجود ہیں اور ترک صوبے حاطے کے شہر انطاکیہ میں جاری سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کے دوران ٹیموں نے بچے سمیت 3 افراد کو ملبے سے زندہ نکال لیا ریسکیو ٹیموں نے ملبے سے نکالے جانے والے افراد کو طبی امداد کیلئے اسپتال منتقل کردیا ہے۔

    دریں اثنا ترک صدررجب طیب اردوان نے قہرمان ماراش میں ملبے سے زندہ نکالے جانے والی 17 سالہ لڑکی کی ٹیلی فون پر ہمت بندھائی۔

    دوسری جا نب تر کیہ میں لگ بھگ 200 متاثرہ مقامات پر امدادی سرگرمیاں جاری ہیں اور ترکیہ نے زلزلے سے تباہ شدہ گھروں کی ایک سال کے اندر اندر دوبارہ تعمیر کے عزم کے اظہار کیا ہے۔

    زلزلے سے متاثرہ عمارتوں کو منہدم کرنے کا کام جاری ہے اور 7 ہزار سے زائد ماہرین نقصانات کا جائزہ لے رہے ہیں، 6 لاکھ 84 ہزار سے زائد گھروں اور عمارتوں کا معائنہ مکمل کرلیاگیا ہے۔

    اس حوالے سے ترک اربانائزیشن وزیر کا کہناہےکہ تعمیر نو کا کام مارچ میں شروع کیا جائے گا اور کوئی عمارت تین سے چار منزلہ سے بلند نہیں ہوگی۔

    اُدھر ترک میڈيا کو انٹرویو میں وزیراعظم شہباز شریف نےکہاکہ ہماری توجہ سردیوں کےخیمےزیادہ سےزیادہ ترکیہ بھیجنےپر ہے، پاکستان میں سردیوں کے خیمے تیار کرنے والی کمپنیوں کا ہنگامی اجلاس بلایا ہے۔

    کوئٹہ سے مبینہ خود کش بمبار خاتون گرفتار

  • ترکیہ میں زلزلے سے بچ جانے والا خاندان دوسرے گھر میں آتشزدگی سے جاں بحق

    ترکیہ میں زلزلے سے بچ جانے والا خاندان دوسرے گھر میں آتشزدگی سے جاں بحق

    انقرہ: ترکیہ میں زلزلے میں محفوظ رہنے والے خاندان نے جس دوسرے گھر میں پناہ لی تھی وہاں خوفناک آتشزدگی کے نتیجے میں ایک بچی کے سوا سب جل کر جاں بحق ہوگئے۔

    امریکا؛ مسلح شخص کی فائرنگ سےخاتون سمیت 6 افراد ہلاک

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ خاندان ترکیہ کے شہر نورداگی میں رہائش پذیر تھا۔ ان کا گھر زلزلے میں تباہ ہوگیا تھا جس پر یہ جنوب مشرقی شہر کونیہ منتقل ہوگئے تھے اور ایک گھر میں پناہ لی۔

    بدقسمتی سے اُس گھر میں اچانک آگ بھڑک اُٹھی۔ آگ اتنی تیزی سے پھیلی کسی کو نکلنے کا موقع نہیں مل سکا۔ صرف ایک بچی کو کھڑکی سے باہر نکالا جا سکا۔افسوسناک واقعے میں والدین اور چار بچے جاں بحق ہوگئے۔ یہ خاندان شامی تھا اور خانہ جنگی کی وجہ سے ترکیہ منتقل ہوا تھا۔ گھر میں آتشزدگی کی وجہ کا تعین نہیں ہوسکا۔

    دہشتگردی کےخلاف جنگ میں پاکستان کیساتھ ہیں:امریکا

    واضح رہے کہ 6 فروری کو ترکیہ اور شام میں آنے والے زلزلے میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 45 ہزار سے تجاوز کرگئی جن میں 40 ہزار صرف ترکیہ میں جاں بحق ہوئے۔

  • سمندروں کی بلند ہوتی سطح 90 کروڑ افراد کے لیے انتہائی خطرے کا سبب ہے

    سمندروں کی بلند ہوتی سطح 90 کروڑ افراد کے لیے انتہائی خطرے کا سبب ہے

    اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ سمندروں کی بلند ہوتی سطح بڑے پیمانے پر انسانوں کو نقل مکانی پر مجبور کر سکتی ہے۔

    باغی ٹی وی: نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے سیکیورٹی کونسل میں تقریر کرتے ہوئے انتونیو گوتریس کا کہنا تھا کہ بنگلادیش، چین، بھارت اور نیدرلینڈز جیسے ممالک زیر آب آنےکے خطرات سےدوچار ہیں لیکن مستقبل میں ہر برِ اعظم کے بڑے شہرانتہائی نوعیت کے اثرات کی زد میں آئیں گے۔ان شہروں میں قاہرہ، بینکاک، شینگھائی، کوپن ہیگن، لندن، لاس اینجلس، نیو یارک اور بیونس آئرس شامل ہیں۔

    سیکریٹری جنرل کا کہنا تھا کہ 20 ویں صدی کے بعد سے دنیا بھر کے سمندروں کی سطح تیزی سے بلند ہوئی ہے اور یہ مسئلہ ساحلی علاقوں پر رہنے والے تقریباً 90 کروڑ افراد کے لیے انتہائی خطرے کا سبب ہے۔

    انتونیو گوتریس کا کہنا تھا کہ اس کے ممکنہ نتائج ناقابلِ تصور ہیں۔ پست علاقوں میں رہنے والی آبادیاں اورممالک ہمیشہ کے لیے صفحہ ہستی سے مٹ سکتے ہیں۔ ہم بڑے پیمانے پر آبادیوں کو نقل مکانی کرتا دیکھیں گے۔

  • انٹرنیٹ کے بارے ایلون مسک کی ماضی میں کی گئی پیشگوئی درست ثابت

    انٹرنیٹ کے بارے ایلون مسک کی ماضی میں کی گئی پیشگوئی درست ثابت

    ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے بانی اور ٹوئتر کے نئے مالک ایلون مسک کا ماضی میں دیا گیا ایک انٹرویو کلپ وائرل ہورہا ہے جس میں انہوں نے انٹرنیٹ سے متعلق پیشگوئی کی تھی جو سچ ثابت ہوئی-

    باغی ٹی وی : ایلون مسک کی مذکورہ ویڈیو ٹیسلا اونرز سیلیکون ویلی کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے جاری کی گئی جس پر درج تھا کہ ماضی میں ایلون مسک انٹرنیٹ سے متعلق بتارہے ہیں، انہوں نے کہا کہ انٹرنیٹ تمام میڈیا کا ایک سیٹ ہے۔


    ویڈیو میں مسک بتارہے ہیں کہ کس طرح مستقبل میں انٹرنیٹ دنیا پر راج کرے گا اور اس میں رابطے کے دیگر طریقے ضم ہوجائیں گے، یعنی ایک انٹرنیٹ کے ذریعے ہی لوگ رابطہ قائم کریں گے۔

    ویڈیو میں ایلون کہہ رہے ہیں کہ مستقبل قریب میں ہم دیکھیں گے کہ پرنٹ، براڈکاسٹ، ریڈیو سمیت بنیادی طور پر تمام میڈیا انٹرنیٹ کے اندر آجائے گا انٹرنیٹ لوگوں کو یہ سہولت فراہم کرتا ہے کہ وہ جو چاہیں دیکھ سکیں، میرے خیال میں مستقبل یہ تمام روایتی میڈیا میں انقلاب برپا کر دے گا’۔

    ایلون مسک کی اس ویڈیو پرجہاں ہزاروں صارفین ردعمل دیا، وہیں مسک نے خود اس پوسٹ پر تبصرہ کیا اور پرانے انٹرویو کے وائرل ہونے پر حیرانی کا اظہار کیا۔


    انہوں نے ویڈیو پر سوال کیا کہ یہ کب کی ویڈیو ہے، جس پر ٹیسلا اونرز سیلیکون ویلی کے اکاؤنٹ سے جواب دیا گیا ‘1998’۔

    واضح رہے کہ گزرے برسوں میں مستقبل کے بارے میں متعدد پیشگوئیاں بھی کی ہیں جن میں سے کچھ تو حیران کن حد تک درست ثابت ہوئیں جبکہ کچھ وقت کی دھول میں گم ہوگئیں،2014 میں ایلون مسک نے اے آئی ٹیکنالوجی کو انسانیت کے لیے لاحق سب سے بڑا خطرہ قرار دیا تھا،ان کی پیشگوئی تھی کہ یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں جوہری ہتھیاروں سے بھی زیادہ جان لیوا ثابت ہوگی۔

    ایلون مسک نے 2016 میں پیشگوئی کی تھی کہ ایسا وقت جلد آئے گا جب امریکا میں کسی بھی جگہ لوگ گاڑیوں کو بلا سکیں گے یا یوں کہہ لیں کہ ان کے اردگرد ہمیشہ ایک گاڑی موجود ہوگی، 2016 میں ہی ایلون مسک نے یہ پیشگوئی بھی کی تھی کہ خام ایندھن کا استعمال بتدریج کم ہوتا جائے گا اور 2040 کی دہائی سے صرف الیکٹرک گاڑیوں کا راج ہوگا۔

    ایلون مسک نے 2016 میں ایک کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ انسان حقیقی دنیا کی بجائے کسی simulation یا ورچوئل دنیا میں رہ رہے ہیں مگر انہوں نے وضاحت نہیں کی کہ یہ نتیجہ انہوں نے کیسے نکالا۔

    ایلون مسک نے 2021 میں ایک ٹوئٹ میں پیشگوئی کی تھی کہ ٹیسلا بتدریج ایپل سے بھی زیادہ بڑی کمپنی بن جائے گی اور بظاہر ایسا ہوتا نظر بھی آ رہا ہے ایلون مسک نے 2021 میں ایک کانفرنس کے دوران پیشگوئی کی تھی کہ کرپٹو کرنسی کو ختم کرنا ممکن نہیں اور یہ ہمارے ساتھ رہنے والی ہے۔

    2022 میں ایک انٹرویو کے دوران انہوں نے کہا کہ انسانیت 2030 کے قریب اے آئی ٹیکنالوجی کے خطرات کو دیکھے گی۔

    نیورالنک ایلون مسک کا ایک بہت بڑا پراجیکٹ ہےاس پراجیکٹ کے تحت ایسی کمپیوٹر میموری چپ پر کام کیا جا رہا ہے جو لوگوں کے دماغ میں نصب کی جائے گی جس کی مدد سے وہ اپنی یادداشت تصاویر کی طرح کمپیوٹر میں محفوظ کرسکیں گے۔

    اس بارے میں ایلون مسک کی پیشگوئی ہے کہ اس کمپیوٹر چپ سے انسانوں کے لیے ٹیلی پیتھی یا خیال خوانی ممکن ہوجائے گی جبکہ معذور افراد ایک بار پھر چل سکیں گے۔

    ایلون مسک نے یہ پیشگوئی بھی کی ہوئی ہے کہ آنے والے برسوں میں خلائی سیاحت عام ہو جائے گی اور یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ اس میں سب سے بڑا ہاتھ ان کی کمپنی اسپیس ایکس کا ہی ہوگا جو 2023 میں ایک جاپانی ارب پتی کو چاند پر بھیجنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔

    ایلون مسک نے کچھ سال پہلے پیشگوئی کی تھی کہ 2025 تک انسان مریخ پر پہنچ جائیں گے، مگر فروری 2023 میں انہوں نے کہا کہ ایسا ایک دہائی کے اندر (یعنی 2033 تک یا اس سے پہلے) ممکن ہوگاایلون مسک کی یہ پیشگوئی بھی ہے کہ 2060 تک سرخ سیارے کی سطح پر 10 لاکھ انسان موجود ہوں گے۔

    دوسری جانب حال ہی میں دبئی میں ایک ایونٹ سے آن لائن خطاب کے دوران ایلون مسک نے آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹیکنالوجی کو انسانیت کے لیے سب سے بڑے خطرات میں سے ایک قرار دے دیا کہا کہ چیٹ جی پی ٹی سے ثابت ہوتا ہے کہ اے آئی ٹیکنالوجی بہت زیادہ ایڈوانس ہوچکی ہے اور اس پر ہمیں فکرمند ہونا چاہیے۔

    انہوں نے کہا کہ مستقبل کے انسانوں کے لیے اے آئی چند بڑے خطرات میں سے ایک ہے اے آئی ٹیکنالوجی یقیناً اچھی پیشرفت ہے جس سے مستقبل میں مواقع پیدا ہوں گے مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ ایک بہت بڑا خطرہ بھی ہے۔

    ایلون مسک نے کہا کہ اے آئی ٹیکنالوجی پہلے ہی کافی پیشرفت کرچکی تھی مگر اس تک عام افراد کو رسائی حاصل نہیں تھی مگر چیٹ جی پی ٹی سے بیشتر افراد کو اس ٹیکنالوجی کو استعمال کرنے موقع ملا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ گاڑیوں، طیاروں اور ادویات کی تیاری میں حفاظتی اصولوں پر عمل کرنا ہوتا ہے مگر اے آئی ٹیکنالوجی کے لیے ابھی کوئی اصول و ضوابط موجود نہیں قوانین سے اے آئی ٹیکنالوجی کی پیشرفت کو کچھ سست کیا جا سکتا ہے جو میرے خیال میں ایک اچھی چیز ہے-

    دلچسپ بات یہ ہے کہ ایلون مسک اوپن اے آئی نامی کمپنی کے شریک بانی ہیں جس نے چیٹ جی پی ٹی کو تیار کیا البتہ ایلون مسک نے 2018 میں اس کمپنی سے علیحدگی اختیار کرلی تھی،جبکہ ایلون مسک عرصے سے انتباہ کر رہے ہیں کہ اے آئی ٹیکنالوجی کی بلا روک ٹوک تیاری انسانیت کے خاتمے کا باعث بن سکتی ہے۔

  • نیل موہن یوٹیوب کے نئے سربراہ مقرر

    نیل موہن یوٹیوب کے نئے سربراہ مقرر

    نیل موہن یوٹیوب کے نئے سربراہ مقرر
    نو سال تک یوٹیوب کی چیف ایگزیکٹو آفیسر رہنے والی سوزن ووجکی کے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کے بعد انڈین نژاد نیل موہن ویڈیو پلیٹ فارم کے چیف ایگزیکٹو آفیسر بن گئے۔ جبکہ مستعفی 54سالہ سوزین کا کہنا ہے کہ وہ اپنی فیملی، صحت اور ذاتی زندگی پر توجہ دینا چاہتی ہیں اور اسی وجہ سے وہ اپنے عہدے سے استعفیٰ دے رہی ہیں۔

    اس خبر پر تبصرہ کرتے ہوئے باغی ٹی وی کے نیوز ایڈیٹر ملک رمضان اسراء نے کہا کہ ہمارے پڑوسی ملک جس نے بیرون ممالک کے ساتھ اسلحہ کے بجائے زیادہ تر آئی ٹی سیکٹر میں سب سے زیادہ معاہدے کیئے اور اپنے لوگوں کو امریکہ سمیت ایسے ترقی یافتہ ممالک بھیجا لہذا یہی وجہ ہے کہ آج گوگل کا سی ا او سندر پچائی بھارتی ہے جب کہ اب یوٹیوب کا سی ای او نیل موہن بھی بھارتی بن گیا.
    https://twitter.com/MalikRamzanIsra/status/1626666559895658498
    ایک عالمی ادارے کے مطابق سوزین نے کہا کہ نو سال قبل جب انھوں نے یوٹیوب میں کام کرنا شروع کیا تھا تو انھوں نے ایک بہترین لیڈرشپ ٹیم بنائی تھی، اور نیل موہن اس ٹیم کا حصہ تھے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں
    اگرعوام کو پی ایس ایل کا ترانہ اچھا نہیں لگا تو بھائی حاضر ہے:علی ظفر
    ڈی آئی خان:کوئٹہ سے پشاور جانے والی مسافر بس کو حادثہ۔،2 خواتین جاں بحق،25 افراد زخمی
    دوسری درخواست ضمانت، عمران خان کو عدالت نے پیر کو طلب کرلیا
    ترکیہ کے صدر اردوان اور وزیراعظم شہبازشریف کے درمیان ملاقات
    کراچی کنگز کو ہوم گراؤنڈ پر مسلسل دوسری شکست، اسلام آباد 4 وکٹوں سے کامیاب


    خیال رہے کہ نیل موہن سٹینفورڈ سے الیکٹریکل انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کر چکے ہیں اور وہ پہلے گوگل میں چیف پروڈکٹ آفیسر کے طور پر بھی کام کر چکے ہیں۔ اس سے پہلے وہ مائیکرو سافٹ میں بھی کام کر چکے ہیں اور بائیو ٹیکنالوجی کے شعبے میں کام کرنے والی کمپنی 23 اینڈ می کے بورڈ میں بھی رہ چکے ہیں۔

    اس بارے میں بھارتی میڈیا کافی خوش ہے اور اس وقت بھارت میں تمام میڈیا بڑی خوشی سے یہی خبر چلا رہا ہے کہ بھارتی نژاد امریکی شہری نیل موہن کو یوٹیوب کا سی ای او بنایا گیا ہے جبکہ اس بارے میں سوشل میڈیا صارفین کہہ رہے ہیں پاکستان کو بھی چاہئے اپنے دشمن ملک بھارت کے اس معاملے مقابلہ کرے تاکہ ملک کا نام روش ہو اور ترقی کرے.

  • پاکستانی جنگی طیارے جے ایف 17 اور ایف 16 سعودی عرب پہنچ گئے

    پاکستانی جنگی طیارے جے ایف 17 اور ایف 16 سعودی عرب پہنچ گئے

    ریاض:دشمن کی صلاحیتوں کو سیمولیٹ کرنے والے جارحانہ لڑاکا طیاروں کو بھی شامل کیا گیا،اطلاعات کے مطابق پاک فضائیہ ( PAF ) کی مختلف ممالک کے ہمراہ سعودی عرب میں ہونے والی فضائی مشق اختتام پذیر ہوگئیں۔ مشق میں پاک فضائیہ کے جنگی طیاروں ایف 16 ( F16 ) اور جے ایف 17 ( JF 17 ) نے دیکھنے والوں کو دنگ کردیا۔

    اسپیئرز آف وکٹری، 2023 کے نام سے ہونے والی فضائی مشق ائیر وار سینٹر دھران (شاہ عبدالعزیز ایئر بیس) ایئر بیس پر جاری رہیں۔ مشق میں شامل ہونے والا پاک فضائیہ کا دستہ فخر جے ایف 17 تھنڈر اور ایف-16 طیاروں پر مشتمل تھا۔ مشق میں پاک فضائیہ اور دوست ممالک کے جدید لڑاکا طیاروں اور معاون عملے نے شرکت کی۔

    ائیر مارشل عبدالمعید خان، ڈپٹی چیف آف دی ائیر اسٹاف، (ایئر ڈیفنس) نے مشق کی اختتامی تقریب کا معائنہ کیا۔ ایئر مارشل عبدالمعید خان نے مشق کو کامیاب بنانے پر پاک فضائیہ کے دستے کی کاوشوں کو سراہا۔ ایئر اور گراؤنڈ عملے سے گفتگو میں ایئر مارشل عبدالمعید خان کا کہنا تھا کہ “موجودہ عالمی سلامتی کی صورت حال اور فضائی جنگ کے نئے ابھرتے ہوئے تصورات پاکستان اور دوست ممالک کے درمیان بہتر شراکت داری کے متقاضی ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ عالمی سلامتی کے اس ماحول میں بڑھتی ہوئی پیچیدگی کے ساتھ بین الاقوامی اور علاقائی تزویراتی صورت حال گہری تبدیلیوں سے گزر رہی ہے۔ اس طرح کی مشقیں مشترکا چیلنجز کے مقابلہ میں باہمی تعاون کو بڑھانے کا موقع فراہم کرتی ہیں“۔

    ترجمان پاک فضائیہ کے مطابق اس مشق کا یہ تیسرا ورژن تھا، جو فروری کے پہلے ہفتے میں سعودی عرب کے مشرقی علاقے میں شروع ہوا۔ مشق میں میزبان ملک سعودی عرب سمیت بحرین، یونان، اردن، پاکستان، قطر، برطانیہ اور امریکا کی فضائی افواج نے شرکت کی۔ مشق کا مقصد حصہ لینے والے ممالک کے ساتھ باہمی تعاون کو فروغ دینے کا موقع فراہم کرنا تھا۔

    مشق نے عصر حاضر کے خطرات کے خلاف حکمت عملیوں کی تشکیل و توثیق اور کمبیٹ اینڈ کمبیٹ سپورٹ اثاثہ جات کے مربوط استعمال کے لیئے بہترین پلیٹ فارم فراہم کیا۔ اس مشق میں بڑی تعداد میں جارحانہ اور دفاعی پیچیدگیوں کی حامل تربیتی پروازیں شامل تھیں۔ ان پروازوں میں الیکٹرانک وارفیئر، فضائی دفاعی سسٹمز اور دشمن کی صلاحیتوں کو سیمولیٹ کرنے والے جارحانہ لڑاکا طیاروں کو بھی شامل کیا گیا۔

    مشق نے آپریشنل صلاحیتوں، جہازوں کی فضائی مینوورنگ، مشترکہ کاروائی، دوست ممالک کے درمیان اتحاد سازی اور مشترکہ لائحہ عمل کے ذریعے ائیر اینڈ گراؤنڈ عملے کی جنگی تیاریوں کو بہتر بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔