Baaghi TV

Tag: study visa Australia

  • عثمانی شہزادی، ایک خاتون دیوان شاعرہ عدیلہ سلطان

    عثمانی شہزادی، ایک خاتون دیوان شاعرہ عدیلہ سلطان

    عدیلہ سلطان (عثمانی ترکی زبان: عدیلہ سلطان ; 23 مئی 1826 – 12 فروری 1899) ایک عثمانی شہزادی، ایک خاتون دیوان شاعرہ اور مخیر حضرات تھیں۔ وہ سلطان محمود دوم کی بیٹی اور سلطان عبدالمجید اول اور عبدالعزیز کی بہن تھیں۔

    ابتدائی زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    عدیلہ سلطان 23 مئی 1826 کو پیدا ہوئے۔ اس کے والد کا نام سلطان محمود دوم تھا اور اس کی والدہ زرنیگر حنیم تھیں۔ 1830 میں اپنی والدہ کی موت کے بعد، جب وہ چار سال کی تھیں، انہیں اپنے والد کی سینئر ساتھی، نیوفیدان کدن کی دیکھ بھال سونپ دی گئی۔

    عدیلہ کی تعلیم محل میں ہوئی تھی۔ اس نے قرآن، عربی، فارسی، موسیقی اور خطاطی کے اسباق لیے۔ اس نے خطاطی کے اسباق ابوبکر ممتاز افندی کے ساتھ حاصل کیے، جو اس دور کے سب سے مشہور خطاط تھے۔ اس نے حاصل کردہ تعلیم کے ساتھ، اپنی حساس شخصیت کے ساتھ مل کر، اس نے نظمیں لکھیں، ایسا کرنے والی واحد شہزادی بن گئی۔

    1839ء میں اس کے والد کی وفات کے بعد، جب وہ تیرہ سال کی تھیں، اس کے بڑے سوتیلے بھائی، نئے سلطان عبدالمجید اول نے اسے اپنی سرپرستی میں لے لیا۔

    شادی
    ۔۔۔۔۔
    1845ء میں، اس کے بھائی سلطان عبدالمجید نے اس کی شادی دامت مہمت علی پاشا سے کرائی، جو شاہی اسلحہ خانے میں بطور مشیر خدمات انجام دے رہے تھے۔ ہیمسین میں پیدا ہوا، وہ گلتا کے چیف آغا، ہاکی عمر آغا کا بیٹا تھا۔ وہ بہت چھوٹی عمر میں استنبول آیا، جہاں اس نے اپنا بچپن اینڈرون میں گزارا۔

    شادی کی تیاریاں 24 مارچ 1845ء کو شروع ہوئیںاور شادی کا معاہدہ 28 اپریل کو مقدس آثار کے اپارٹمنٹ، توپکاپی پیلس میں مکمل ہوا۔ تقریب کی انجام دہی کے بعد، طوطے کو دارصاد آغا لایا گیا جہاں سے اسے توفانی گلی سے کران محل لے جایا گیا۔ شادی کی تقریبات اگلی گرمیوں تک موخر کر دی گئیں۔ یہ شادی فروری 1846ء میں ہوئی اور پورا ہفتہ چلی۔ تقریبات کے آخری دن، عدیلہ کو دفتردربار میں واقع نیستا آباد محل لے جایا گیا۔ یہ محل کسی زمانے میں سلطان مصطفٰی ثالث کی بیٹی ہاتیس سلطان کا تھا۔

    شادی کے بعد، محمد علی پاشا بحری بیڑے کا کمانڈر بن گیا، اور پانچ مرتبہ اس عہدے پر فائز رہا، اور اس کے بعد ایک مختصر عرصہ تک اس عہدے پر فائز رہا۔ گرینڈ وزیر اپنے بھائی سلطان عبدالمجید کو۔ دونوں کے ایک ساتھ چار بچے تھے، ایک بیٹا سلطان زادے اسماعیل بے، اور تین بیٹیاں، حیریئے حنِمسلطان، سِدیکا حنِمسلطان، اور ع لیے حنِمسلطان۔ اس کا انتقال 1868 میں اپنے چھوٹے سوتیلے بھائی سلطان عبدالعزیز کے دور حکومت میں ہوا۔ ان کی زندہ بچ جانے والی اکلوتی بیٹی، ہیری 1846 میں پیدا ہوئی، جو اپنے والد کے ایک سال بعد 1869 میں انتقال کر گئی۔
    مذہب
    ۔۔۔۔۔۔۔
    عدیلہ سلطان ایک مذہبی خاتون تھیں۔ تقریباً 1845ء میں، وہ شیخ شمنولو علی آفندی کی پیروکار بن گئیں اور نقشبندی صوفی حکم کی رکن بن گئیں۔ اس نے نیست آباد محل میں شیخوں اور درویشوں کی میٹنگیں منعقد کیں، جو غریب لوگوں کے لیے ایک قسم کے ایپلیکیشن بیورو کے طور پر کام کرتی تھیں جو ان کی ضروریات شہزادی کو بتاتی تھیں۔
    موت
    ۔۔۔۔۔
    عدیلہ سلطان کا انتقال 12 فروری 1899 کو تریپن سال کی عمر میں ہوا، جو محمود کا آخری زندہ بچ جانے والا بچہ تھا۔ انہیں ایوپ، استنبول میں اپنے شوہر کے مقبرے میں سپرد خاک کیا گیا۔

  • شام زلزلہ:ملبے تلے پیدا ہونیوالی نومولود بچی کو اسے بچانے والے نے گود لے لیا

    شام زلزلہ:ملبے تلے پیدا ہونیوالی نومولود بچی کو اسے بچانے والے نے گود لے لیا

    شام میں پیر کے روز آنے والے خوفناک زلزلے کے بعد ملبے تلے معجزانہ طور پر پیدا ہونے والی بچی کو ملبے سے نکالنے والے شامی شخص نے گود لے لیا۔

    باغی ٹی وی:"بی بی سی” کے مطابق معجزاتی طور پر شامی نومولود بچی کو اس کے رشتہ دار نے ملبے کے نیچے سے زندہ نکال لیا تھا۔ بچی کے والدین اور چار بہن بھائی زلزلہ میں جاں بحق ہوچکے ہیں-

    ترکیہ اور شام میں تباہ کن زلزلے سے اموات کی تعداد 20 ہزار سے تجاوز کرگئی

    ہزاروں افراد نے اس بچی کو گود لینے کی پیشکش کی ہے جو پیر کے زلزلے کے بعد شمال مغربی شام میں منہدم ہونے والی عمارت کے ملبے تلے پیدا ہوئی تھی اس کی ماں، باپ اور اس کے چاروں بہن بھائیوں کی موت زلزلے کے بعد جنڈیریس قصبے میں ہوئی تھی۔

    بچی کو ملبے سے نکالنے والے صلاح البدران نامی شخص نے گود لیا ہے جو بچی کو اسپتال سے ڈسچارج ہونے کے بعد اپنے ساتھ لے جاسکیں گے۔

    اس کی دیکھ بھال کرنے والی ماہر اطفال ہانی معروف نے کہا، "وہ پیر کو اتنی بری حالت میں پہنچی، اس کے گلے پر زخم تھے، وہ ٹھنڈی تھی اور بمشکل سانس لے رہی تھی وہ اب مستحکم حالت میں ہے۔

    آیا کے بچاؤ کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئیں۔ فوٹیج میں ایک شخص کو عمارت کے منہدم ہونے والے ملبے سے دوڑتے ہوئے دکھایا گیا، جس میں ایک بچے کو مٹی میں لپٹا ہوا تھا۔

    حکومتی امدادی کارروائیوں پر تنقید، ترکیہ میں ٹوئٹر سروس بند

    اس بچی کو زندہ نکالنے والے شامی نے بتایا کہ انہوں نے بچی کا نام ‘آیاہ’ رکھا ہے جس کے معنی ہیں ‘اللہ کی جانب سے بھیجی گئی نشانی’-

    بچی کو نکالنے والے اس کے رشتہ دار نے کہا کہ وہ اسے گود لے گا اور اپنے بچوں کے ساتھ اس کی پرورش کرے گا یہ بچی ابھی ہسپتال میں داخل ہے اور صحت یاب ہو رہی ہے میں نے اسے اپنی والدہ عفرا کا نام دیا ہے تاکہ یہ مرحوم کے خاندان کے لیے یادگار رہے۔

    مذکورہ شخص نے مزید بتایا کہ زلزلے کے نتیجے میں ان کا گھر بار سب تباہ ہوگیا، وہ اپنے اہلخانہ کے ہمراہ ایک ٹینٹ میں فی الحال رہ رہے ہیں۔

    قبل ازیں خاندان کے ایک رشتہ دار خلیل السواد نےکہا تھا کہ وہ ابو ردینہ اور اس کے اہلخانہ کو تلاش کر رہے تھے، انہوں نے پہلے ابو ردینہ کی بہن کو تلاش کیا، پھر ام ردینہ کو تلاش کیا اور اس کے قریب ہی اس کی نومولود بچی مل گئی ۔

    ترکیہ اور شام میں تباہ کن زلزلے سے اموات کی تعداد 15 ہزار سے تجاوز

  • سطح زمین سے 161 کلو میٹر نیچے ایک نئی پرت دریافت

    سطح زمین سے 161 کلو میٹر نیچے ایک نئی پرت دریافت

    سائنس دانوں نے سطح زمین سے 161 کلو میٹر نیچے ایک نئی تہہ دریافت کی ہے جس سے سیارے کا تقریباً 44 فیصد حصہ ڈھکا ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی: ماہرین کے مطابق پگھلی ہوئی چٹانوں کا یہ خطہ، جس کے متعلق پہلے کچھ معلوم نہیں تھا، ایستھینواسفیئر کا حصہ ہے جو ٹیکٹونک پلیٹوں کے نیچے اور مینٹل کے اوپری حصے میں موجود ہے۔ یہ خطہ نرم سرحد تشکیل دیتا ہے جس کے سبب ٹھوس چٹانوں کی سلیں حرکت کرتی ہیں۔

    سعودی عرب میں نبطی دور کی حنوط شدہ خاتون کا چہرہ بحال

    یہ نئی دریافت عرصے سے رکھے جانے والے ان نظریات کو غلط ثابت کرتی ہے کہ پگھلی ہوئی چٹانیں ایستھینواسفیئر کے گاڑھے پن کو متاثر کرتی ہیں۔

    محققین نے حیرت کا اظہار کیا ہے کہ کون سے عوامل asthenosphere کو نرم بناتے ہیں اور پگھلی ہوئی چٹانوں کو اس کا حصہسمجھتے ہیں۔ اگرچہ زمین کا اندرونی حصہ زیادہ تر ٹھوس ہے، چٹانیں وقت کے ساتھ ساتھ آہستہ آہستہ منتقل اور حرکت کر سکتی ہیں۔

    جیونلن ہوا، آسٹن کی یونیورسٹی آف ٹیکساس کے جیکسن اسکول آف جیو سائنسز میں پوسٹ ڈاکٹریٹ فیلو، اپنی ڈاکٹریٹ کی تحقیق کے لیے ترکی کے نیچے واقع زمین کے پردے کی زلزلہ کی تصاویر کا مطالعہ کر رہے تھے جب انھوں نے جزوی طور پر پگھلی ہوئی چٹان کے آثار دیکھے۔ اس نے اپنا کام 2020 میں شروع کیا جب وہ براؤن یونیورسٹی میں ڈاکٹریٹ کے طالب علم تھے۔

    50 ہزار سال بعد پہلی بار زمین کے قریب سے گزرنے والا سبز دم دار ستارہ آج آسمان پر…

    جیونلِن ہوا کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ جب ہم کسی چیز کے پگھلنے کے متعلق سوچتے ہیں تو ہم خود بخود یہ سوچنے لگ جاتے ہیں کہ یہ مائع مادے کے گاڑھے ہونے میں بڑا کردار ادا کرتا ہوگا۔ لیکن ہمیں یہ معلوم ہوا کہ جہاں پر پگھلا ہوا مادہ زیادہ مقدار میں بھی تھا وہاں بھی مینٹل کے بہاؤ پر انتہائی معمولی اثر ڈال رہا تھا۔

    سائنسدانوں نے پہلے اس چٹان کی تہہ کے کچھ حصوں کو دیکھا تھا اور سوچا تھا کہ یہ ایک بے ضابطگی ہے، لیکن جیونلن اور اس کے ساتھی محققین کو اس بات کا ثبوت ملا کہ اس کی وسیع تر موجودگی تھی۔

    تحقیقی ٹیم نے اس بات کی تصدیق کی کہ asthenosphere ٹھوس اور پگھلی ہوئی چٹان دونوں پر مشتمل ہے اور اگرچہ یہ چٹان بعد میں جزوی طور پر پگھلی ہوئی ہے، لیکن یہ پلیٹوں کی نقل و حرکت میں حصہ نہیں ڈالتی اور نہ ہی ان کے لیے حرکت کرنا آسان بناتی ہے۔

    اس سے قبل یہ نظریہ تھا کہ ان ٹیکٹونک پلیٹوں کی حرکات ان پگھلی ہوئی چٹانوں سے منتقل ہونے والی تپش کے سبب ہوتی ہے۔ لیکن یہ نئی دریافت واضح کرے گی کہ ٹھوس چٹانوں کی سلیں سطح کے نیچے کس طرح بآسانی حرکت کرتی ہیں۔

    زمین کی مقناطیسی میدان میں خلل پرندوں کو ان کی منزل سے بھٹکاسکتا ہے،تحقیق

  • امریکا نےایران کی پیٹروکیمیکل اور دیگر کمپنیوں پر پابندیاں عائد کردیں

    امریکا نےایران کی پیٹروکیمیکل اور دیگر کمپنیوں پر پابندیاں عائد کردیں

    امریکا نے ایران پر نئی پابندیوں کے تحت ایران کی پیٹروکیمیکل اور دیگر کمپنیوں پر پابندیاں عائد کردیں۔

    باغی ٹی وی: امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ایران کی 6 پیٹرو کیمیکل کمپنیوں، ان کی ذیلی کمپنیوں،ملائیشیا اور سنگاپور میں تین کمپنیوں پر پابندیاں لگائی ہیں۔

    بھارت میں ویلنٹائنز ڈے "گائے کو گلے لگانے” کے دن کے طور پر منایا جائے…

    ان کمپنیوں پر الزام ہے کہ وہ امریکی پابندیوں کے خلاف ایشیا میں ایرانی پیٹرو کیمیکل اور پیٹرولیم کے خریداروں کو پیداوار، فروخت اور ترسیل کا کام کر رہی ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق سنگاپور اور ملائیشیا کی کمپنیوں پر کروڑوں ڈالر مالیت کے ایرانی پیٹرو کیمیکل، پیٹرولیم پیداوار، فروخت اور ترسیل میں ملوث ہونے پر پابندیاں لگائی گئی ہیں پابندیوں میں شامل کمپنیوں پر امریکی کمپنیوں سے کاروبار کرنے پر پابندی اور ان کمپنیوں کے امریکا میں موجود اثاثے بھی ضبط کیے جا سکتے ہیں۔

    امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا کہ جمعرات کو محکمہ خزانہ کی جانب سے ایران پر عائد پابندیوں کا مقصد پیٹرو کیمیکلز اور پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت سے متعلق امریکی پابندیوں کو "تباہ” کرنے کی تہران کی کوششوں کو روکنا ہے واشنگٹن ایسے اقدامات کرتا رہے گا۔

    ایک غلطی نے گوگل کی پیرنٹ کمپنی الفابیٹ کو 100 ارب ڈالرز سے محروم کردیا

    بلنکن کے بیانات امریکی ٹریژری کی جانب سے ان کمپنیوں پر پابندیوں کے اعلان کے چند گھنٹے بعد سامنے آئے ہیں جن پر ایشیا میں ایرانی پیٹرو کیمیکلز اور تیل کی خریداروں کو پیداوار، فروخت اور ترسیل میں حساس کردار ادا کرنے کا الزام ہے امریکہ کا یہ اقدام تہران پر دباؤ بڑھانے کی واشنگٹن کی کوششوں کے ایک حصے کے طور پر کیا گیا ہے۔

    ایرانی تیل کی سمگلنگ کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے کا تازہ ترین امریکی اقدام 2015 کےایران جوہری معاہدے کو بحال کرنے کی کوششوں کے دوران سامنے آیا ہے۔ اس دوران ایران اور مغرب کے درمیان تعلقات مزید کشیدہ ہو گئے ہیں کیونکہ ایران میں حکومت مخالف مظاہرے جاری ہیں۔

    امریکی انڈر سیکرٹری برائے خزانہ برائن نیلسن نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ایران امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مشرقی ایشیا میں اپنی پیٹرو کیمیکل اور تیل کی مصنوعات فروخت کرنے کے لیے تیزی سے خریداروں کی طرف رجوع کر رہا ہے۔

    ترکیہ اور شام میں تباہ کن زلزلے سے اموات کی تعداد 15 ہزار سے تجاوز

    نیلسن نے مزید کہا کہ امریکہ کی توجہ تہران کے غیر قانونی آمدنی کے ذرائع کو نشانہ بنانے پر مرکوز ہے اور وہ ان لوگوں کے خلاف پابندیاں لگاتا رہے گا جو جان بوجھ کر اس تجارت کو سہولت فراہم کرتے ہیں۔

  • ترکیہ اور شام میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 22 ہزار سے تجاوز

    ترکیہ اور شام میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 22 ہزار سے تجاوز

    رواں ہفتے کے آغاز پر ترکیہ اور شام میں آنے والے زلزلے کے باعث اموات کی تعداد 22 ہزار سے تجاوز کرگئی، ریسکیو کے کام میں مصروف حکام کا کہنا ہے کہ یہ وقتی تعداد ہے جس میں ہر گھنٹے بعد نیا اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

    باغی ٹی وی : زمین کی ہولناک لرزش کو4 روز گزرنے کے بعد ملبےسے بچوں سمیت کئی افراد کو زندہ نکال لیاگیا جب کہ گزرتے وقت کے ساتھ مزید افراد کے زندہ نکلنے کی امیدیں دم توڑنے لگی ہیں ریسکیو عملہ مسلسل خون جما دینے والےموسم میں انسانی جانیں بچانے کی تگ و دو میں مصروف ہے۔

    ہر گذرتے لمحے کے بعد شام اور ترکیہ کے تباہ کن زلزلے اور اس کے بعد آنے والے آفٹر شاکس کو دیکھتے ہوئے متاثرہ علاقوں میں کسی بھی فرد کے زندہ بچنے کی امیدیں دم توڑتی جا رہی ہیں۔

    گذشتہ سوموار کی صبح ترکی اور شام میں آنے والا زلزلہ جس میں ہزاروں عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں کو کئی دہائیوں میں آنے والے سب سے زیادہ خونی زلزلے کا نام دیا جا رہا ہے۔

    اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوگوتیریس کا کہنا ہےکہ امدادی پروگرام کےسربراہ ترکیہ، شام کا دورہ کریں گے، زلزلہ زدہ علاقوں میں لوگوں کومرنےسےبچانے کے لیے ہرممکن مدد کی ضرورت ہے۔

  • ’ ڈیتھ آف دی سیلز مین‘ کے مصنف آرتھر ملر

    ’ ڈیتھ آف دی سیلز مین‘ کے مصنف آرتھر ملر

    17 اکتوبر 1915ء کو پیدا ہونے والے آرتھر ملر بیسویں صدی کے چند مشہور ترین امریکی مصنفین میں سے تھے جو اپنی تحریروں کے ذریعے امریکی اسٹیبلشمنٹ پر کڑی تنقید کرتے تھے۔

    آرتھر ملر17 اکتوبر 1915ء میں نیو یارک میں پیدا ہوئے اور ان کے والد اگرچہ ایک کپڑوں کی فیکٹری کے مالک تھے لیکن 1929 میں امریکی معیشت میں آنے والی بدحالی سے متاثر ہوئے۔

    آرتھر ملر نے ذاتی محنت سے صحافت کے شعبے میں اپنی تعلیم کے اخراجات برداشت کیے اور وہ ایک ریڈیکل مصنف کے طور پر ابھر کر سامنے آئے۔ وہ اپنے لبرل خیالات کی وجہ سے جلد ہی امریکی اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے ملک میں شروع کی جانے والی کمیونسٹ مخالف مہم میں زیر اعتاب آئے لیکن تفتیش کے دوران اپنے کمیونسٹ دوستوں کے نام ظاہر کرنے سے انکار کر دیا۔

    ان کی شہرت کی ایک اور وجہ 1956 میں مشہور امریکی اداکارہ مارلن منرو سے ان کی شادی بھی تھی۔ ایک سنجیدہ دانشور اور مصنف کے ایک فلمسٹار کے ساتھ اس ملاپ پر کئی لوگوں کو بہت حیرانی بھی ہوئی تھی آرتھر ملر کو 1949 میں تینتیس برس کی عمر میں ’ ڈیتھ آف دی سیلز مین‘ لکھنے پر ادب کا پلٹزر انعام ملا تھا۔

    آرتھر ملر کے دیگر مشہور ڈراموں میں ’ اے ویو فرام اے برج‘ اور ’دی لاسٹ یانکی‘ شامل ہیں 10فروری 2005 کو ان کا انتقال ہوا۔ آرتھر ملر کی اسسٹنٹ جولیا بولس کے مطابق ان کا انتقال کنکٹیکٹ میں ان کی رہائشگاہ پر ہوا۔ ان کی موت کی وجہ دل کا دورہ بتائی گئی۔

  • ترکیہ اور شام میں تباہ کن زلزلے سے اموات کی تعداد 20 ہزار سے تجاوز کرگئی

    ترکیہ اور شام میں تباہ کن زلزلے سے اموات کی تعداد 20 ہزار سے تجاوز کرگئی

    استنبول:ترکیہ اور شام میں تباہ کن زلزلے سے اموات کی تعداد 20 ہزار سے تجاوز کر گئی،ذرائع کے مطابق ترکیہ میں 17 ہزار 134 اور شام میں 3 ہزار 277 افراد ہلاک ہوئے، دونوں ملکوں میں 40 ہزار اموات کا خدشہ ہے، ترکیہ اور شام میں تباہ کن زلزلے سے اموات کی تعداد 20 ہزار سے تجاوز کرگئی، ترکیہ میں 17 ہزار 134 اور شام میں 3 ہزار 277 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق پیر کو آنے والے 7.8 شدت کے زلزلے کے بعد 7.6 شدت کا ایک اور زلزلہ آیا، جس نے مزید تباہی پھیلائی۔زلزلے کے جھٹکے قبرص، یونان، شام، اردن،لبنان اور فلسطین میں بھی محسوس کیےگئے جب کہ قیامت خیز تباہی کے بعد 300 سے زیادہ آفٹر شاکس آچکے ہیں۔

    ملبے تلے اب بھی متعدد افراد کے پھنسے ہونےکا خدشہ ہے، انہیں نکالنےکے لیے دن رات ریسکیو آپریشن جاری ہے تاہم شدید سردی اور بعض علاقوں میں برفباری کے باعث متاثرین کو کٹھن حالات کا سامنا ہے اور امدادی کارروائیوں میں بھی مشکلات پیش آرہی ہیں، ترکیہ میں عمارتوں کےملبوں سے8 ہزار سے زائد افراد کو نکالا جا چکاہے۔ترک وزیر صحت کے مطابق زلزلے سے 32 ہزار کے قریب افراد زخمی ہیں اور متاثرہ علاقوں میں 5 ہزار 775 عمارتیں تباہ ہوچکی ہیں، زلزلے میں مرنے والوں میں57 فلسطینی بھی شامل ہیں۔

    ترک میڈیا کے مطابق ملبے تلے دبے زلزلہ متاثرین موبائل فون سے ویڈیوز، وائس نوٹس اور لائیو لوکیشن بھیج رہے ہیں۔شام میں ملبے تلے دبی ایک خاتون بچےکو جنم دے کر زندگی ہارگئی، لوگ دل تھام کر بیٹھ گئے جب کہ سوشل میڈیا پر ایک اور ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ملبے میں دبی شامی بچی کو خود سے زیادہ ننھے بھائی کی فکر ہے، شام میں مدد کے منتظر دو بچوں کی وائرل ویڈیو نے دل پگھلادیے، شامی شہر ادلب میں ایک خاندان کو چالیس گھنٹوں بعد ملبے سے نکالے جانے پر جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے۔عالمی ادارہ صحت نے دونوں ملکوں میں 40 ہزار اموات اور 2 کروڑ 30 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہونےکا خدشہ ہے جن میں 14 لاکھ بچے بھی شامل ہیں۔

    خبر ایجنسی کے مطابق ترکیہ میں 3 لاکھ 80 ہزار زلزلہ متاثرین کو شیلٹرز میں منتقل کردیا گیا، ترکیہ میں زلزلے سے ایک کروڑ 30 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر ہوئے ہیں۔ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں 3 ماہ کے لیے ہنگامی حالت نافذ کردی ہے۔

    ترک صدر نے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں 3 ماہ کیلئے ہنگامی حالت نافذ کردی اس حوالے سے انقرہ میں خطاب سے ترک صدر کا کہنا تھاکہ ہولناک زلزلے کے باعث نقصانات سے امدادی کاموں میں دشواری ہے۔انہوں نے اعلان کیا کہ جنوبی ترکیہ میں زلزلے کا شکار 10 شہروں کو آفت زدہ قرار دے دیا گیا ہے اور ان متاثرہ علاقوں میں 3 ماہ کے لیے ہنگامی حالت نافذ کردی گئی جبکہ امدادی کاموں کے لیے 5 ارب ڈالرز مختص کیے ہیں۔

    ترک صدر کا کہنا تھاکہ بے گھر ہونے والے افراد کے لیے 45 ہزار پناہ گاہیں جنگی بنیادوں پر تعمیرہوں گی جب کہ زلزلہ زدگان کو اناطولیہ کے ہوٹلوں میں عارضی طور رکھنے پرغور کیا جارہا ہے۔ان کا کہنا تھاکہ ترکیہ اس وقت دنیا کے سب سے بڑے سانحہ سے گزر رہا ہے، 70 سے زائد ممالک نے امداد اور امدادی کارروائیوں میں تعاون کی پیشکش کی ہے۔

  • گندم 4000 ہزار روپے فی من:سرکاری قیمت مقررکردی گئی

    گندم 4000 ہزار روپے فی من:سرکاری قیمت مقررکردی گئی

    کراچی: سندھ کابینہ نے گندم کی فصل( 23-2022 )کی خریداری کا ہدف1.4 ایم ایم ٹی 4 ہزار روپے فی 40 کلو گرام مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اطلاعات کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت وزیراعلیٰ ہاؤس میں اجلاس ہوا جس میں صوبائی وزراء، مشیران، معاونین خصوصی، چیف سیکریٹری سہیل راجپوت، چیئرمین پی اینڈ ڈی حسن نقوی، وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری فیاض جتوئی اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔

    الیکشن کمیشن نے انتخابی نشانات کےلیے درخواستیں طلب کرلیں

    وزیر خوراک مکیش چاولہ نے کابینہ کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اس سال 4 ملین ٹن گندم کی کاشت ہوئی جو کہ شدید بارشوں اور سیلابی تباہ کاریوں کے باوجود فصل کی اچھی کاشت ہے۔ مکیش چاولہ نے کہا کہ حکومت نے پہلے ہی 4000 روپے فی 40 کلو گرام سپورٹ پرائس مقرر کر رکھی ہے لیکن کابینہ کو خریداری کا ہدف مقرر کرنا ہے تاکہ مراکز پر خریداری رواں ماہ فروری 2023 کے دوسرے ہفتے سے شروع کی جا سکے۔

    لاہور:جرائم پیشہ افراد کےخلاف کارروائیاں جاری،خطرناک مجرم گرفتار

    کابینہ نے تفصیلی غور کے بعد 1.4 ایم ایم ٹی خریداری کا ہدف مقرر کرنے کا فیصلہ کیا اور محکمہ کو ہدف حاصل کرنے کی ہدایت کی۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ خریداری براہ راست کاشتکاروں سے شروع کی جانی چاہیے تاکہ حکومت کی طرف سے دی جانے والی اچھی قیمت کا فائدہ کسانوں تک پہنچ سکے۔

    ایک سوال کے جواب میں مکیش چاولہ نے کہا کہ محکمہ خوراک کے پاس کیری اوور باردانہ 0.40 ایم ایم ٹی کی حد تک دستیاب ہے۔ اس پر وزیراعلیٰ سندھ نے انہیں ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ میرپورخاص اور حیدرآباد کےعلاقے جہاں جلد فصل کی کاشت کی جاتی ہے باردانہ کی خریداری کے لیے استعمال میں لایا جائے۔ وزیر خوراک نے کہا کہ 1.4 ایم ایم ٹی گندم کے ہدف کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے 10 لاکھ پی پی بیگس خریدے جائیں گے۔

    پیراسٹامول سیرپ اور گولی کی قیمت میں اضافے کی سمری تیار

    وزیر اعلیٰ سندھ نے محکمہ خوراک کو گندم کی خریداری کے حوالے سے پالیسی گائیڈ لائنز دیتے ہوئے کہا کہ گندم کاشتکاروں سے پہلے آئیے پہلے پائیے کی بنیاد پر خریدی جائے۔ کاشتکاروں کو باردانہ فراہم کیا جائے۔ انہوں نے محکمے کو واضح طور پر بتایا کہ جو فیلڈ اسٹاف غبن/قلت یا پھرخورد برد میں ملوث ہے اسے خریداری مراکز کے انچارج کے طور پر تعینات نہیں کیا جائے گا۔

    مراد علی شاہ نے محکمہ کو یہ بھی ہدایت کی کہ دوسرے صوبوں سے گندم کی آمد اور سندھ سے گندم کے اخراج کو ضرور چیک کیا جائے جس کے لیے انہوں نے ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ وہ اس مقصد کے لیے محکمہ کے ساتھ تعاون کریں۔

    وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر برائے موسمیاتی تبدیلی کے مطابق زراعت اور واٹر مینجمنٹ منظور وسان نے کابینہ کو موسمیاتی تبدیلی کے پیش نظر زراعت اور واٹر مینجمنٹ کے ساتھ سندھ طاس کو تبدیل کرنے کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد موسمیاتی ردعمل کے سبب ادارہ جاتی اور ریگولیٹری سسٹم کو مضبوط بنانا ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے لوگوں کو معلومات فراہم کی جائیں اور اس کی روشنی میں اقدامات کیے جائیں۔ منظور وسان نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے معلومات فراہم کرنے سے موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے فیصلے کیےجاسکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے خطرات اور ان میں کمی کے حوالے سے کسانوں میں آگاہی پیداکرنے کے ساتھ ساتھ ان میں اس حوالے سے صلاحیت کو بھی فروغ دیاجائے گا۔

    ٹھٹھہ : پولیس کی کارروائی ،3 گٹکہ ماواسپلائی کرنے والے گرفتار

    منظور وسان نےمزید کہا کہ یہ 3.4 بلین روپے کا منصوبہ ہے جس کا آغاز فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (ایف اے او) کے تعاون سے کیا جا رہا ہے۔ کابینہ نے منصوبے کی منظوری دیتے ہوئے محکمہ زراعت کو ہدایت کی کہ وہ اس منصوبے کے فوائد کے بارے میں اراکین اسمبلی کو آگاہ کریں اور اضلاع میں ورکشاپس کا انعقاد شروع کریں۔

    کابینہ نے محکمہ صحت کی درخواست پر تاپا لانڈھی ضلع کورنگی میں جدید ترین سندھ انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکولر ڈیزیز کی تعمیر کے لیے 40 ایکڑ اراضی الاٹ کی۔کابینہ نے امتیاز علی شاہ کی بطور منیجنگ ڈائریکٹر سندھ انرجی ایفیشنسی اینڈ کنزرویشن ایجنسی تقرری کی منظوری دی۔

    وزیر توانائی امتیاز شیخ نے کابینہ کو بتایا کہ امتیاز شاہ کو نو امیدواروں میں سے منتخب کیا گیا ہے جنہوں نے اس عہدے کے لیے درخواست بھی دی تھی۔ کابینہ نے ڈاکٹر نذیر کلہوڑو، ڈی جی سندھ انسٹی ٹیوٹ آف انیمل ہیلتھ کی موجودہ مدت کے لیے پاکستان ویٹرنری میڈیکل کونسل (پی وی ایم سی) کے رکن کی نامزدگی کی منظوری بھی دے دی۔

  • فرانس:چارلی ہیبڈو اسلامو فوبیا سے بازنہ آیا،زلزلےسے ہزاروں اموات کا مذاق بنا دیا

    فرانس:چارلی ہیبڈو اسلامو فوبیا سے بازنہ آیا،زلزلےسے ہزاروں اموات کا مذاق بنا دیا

    پیرس: فرانسیسی میگزین چارلی ہیبڈو نے ایک مرتبہ پھر متنازع کارٹون شائع کیا ہے جس میں ترکیہ اور شام کے زلزلہ متاثرین کا مذاق بنایا گیا ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے الجزیرہ کے مطابق آرٹسٹ پیئرک جوئن کی ڈرائنگ میں ملبے کے ڈھیر کے درمیان منہدم عمارتوں کو دکھاتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ یہاں ’’ٹینکس بھیجنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘

    ڈی آئی خان : 3 مسلح ڈاکوؤں نے صحافی کو گولی مارکرزخمی کردیا اور موٹرسائیکل بھی…

    چارلی ہیبڈو کی جانب سے جاری کیے گئے کارٹون پر سوشل میڈیا صارفین پر غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ صارفین نے فرانسیسی میگزین کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

    سوشل میڈیا صارفین کا کہنا تھا کہ کارٹون نے اس سانحے کا مذاق اڑایا جس نے دو ممالک کے لاکھوں لوگوں کو متاثر کیا ہے۔ انہوں نے اس ڈرائنگ کو ’’قابل نفرت‘‘، ’’شرمناک‘‘، بغاوت اور نفرت انگیز تقریر کے مترادف قرار دیا ہے۔

     

    ایک خاتون صارف نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ میگزین کے لیے اپنی حمایت واپس لے رہی ہے۔ ایک صارف نے کہا کہ کارٹون میں چارلی ہیبڈو کی ’’حقیقی روح‘‘ کو دکھایا گیا ہے جبکہ دوسرے نے کہا کہ ’’اس اخبار کی آمدنی کا واحد ذریعہ اسلامو فوبیا ہی ہے۔‘‘امریکی مسلمان اسکالر عمر سلیمان نے کہا کہ ’’ہزاروں مسلمانوں کی موت کا مذاق اڑانا اس بات کی انتہا ہے کہ کس طرح فرانس نے ہمیں ہر طرح سے غیر انسانی تصور کیا ہے۔‘‘

    قصوراورشیخوپورہ میں پیٹرول کے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف گرینڈ آپریشن کروڑوں روپے…

    واضح رہے کہ ترکیہ اور شام میں آنے والے 7.8 شدت کے زلزلے سے اب تک جاں بحق افراد کی تعداد 16ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ ترکیہ میں جاں بحق افراد کی تعداد 12ہزار 873 اور شام میں مرنے والوں کی تعداد 3ہزار162 تک پہنچ گئی ہے۔

  • ایک غلطی نے گوگل کی  پیرنٹ کمپنی الفابیٹ کو 100 ارب ڈالرز سے محروم کردیا

    ایک غلطی نے گوگل کی پیرنٹ کمپنی الفابیٹ کو 100 ارب ڈالرز سے محروم کردیا

    آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹیکنالوجی پر مبنی چیٹ بوٹ بارڈ کی ایک غلطی نے گوگل کی سرپرست کمپنی الفابیٹ کو 100 ارب ڈالرز سے محروم کردیا۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی میڈیا کے مطابق گوگل کی جانب سے اس نئی ٹیکنالوجی کی تشہیر کے لیے ٹوئٹر پر ایک ویڈیو پوسٹ کی گئی تھی اس ویڈیو میں چیٹ بوٹ سے کہا گیا کہ وہ ایک 9 سالہ بچے کو جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کی کامیابیوں کے بارے میں بتائے۔

    بارڈ نے اپنے جواب میں کہا کہ جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے سب سے پہلے نظام شمسی سے باہر موجود ایک سیارے کی تصویر کھینچی تھی، مگر یہ جواب غلط تھا کیونکہ ایسا ایک یورپی ٹیلی اسکوپ نے کیا تھا۔


    گوگل کے چیٹ بوٹ کی جانب سے دیا جانے والے غلط جواب اب بھی بلاگ پوسٹ پر موجود ہے اس غلط جواب کے نتیجے میں الفابیٹ کے حصص کی قیمتوں میں 9 فیصد کمی آئی جبکہ مارکیٹ ویلیو سے 100 ارب ڈالرز کم ہوگئے۔

    واضح رہے کہ چیٹ جی پی ٹی کو نومبر 2022 میں متعارف کرایا گیا تھا اور اس کے بعد دنیا بھر میں بہت زیادہ مقبول ہوا اس کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے گوگل نے بارڈ کو 6 فروری کو چیٹ جی پی ٹی کے مقابلے پر متعارف کرایا تھا جبکہ ویب براؤزر ایج میں بھی اسے شامل کیا گیا ہے۔

    گوگل کی اس سروس کا مقصد صارفین کو مختلف موضوعات پر تفصیلات آڈیو، ویڈیو، تصاویر اور دیگر ذرائع سے پیش کرنا ہے اس چیٹ بوٹ کو متعارف کراتے ہوئے گوگل کے سی ای او سندر پچائی نے ایک بلاگ پوسٹ میں جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ سے پوچھے گئے سوال کا حوالہ بھی دیا تھا۔