Baaghi TV

Tag: study visa Australia

  • بیرونی امداد پر انحصارنہیں  اور نہ ہی افغانستان معاشی مشکلات کے باعث زوال پذیرہوگا، ذبیح اللہ مجاہد

    بیرونی امداد پر انحصارنہیں اور نہ ہی افغانستان معاشی مشکلات کے باعث زوال پذیرہوگا، ذبیح اللہ مجاہد

    کابل: افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ افغانستان معاشی مشکلات کے باعث زوال پذیر نہیں ہوگا-

    باغی ٹی وی: افغانستان کی حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ افغانستان معاشی مشکلات کے باعث زوال پذیر نہیں ہوگا کیونکہ افغانستان کا انحصار غیرملکی امداد پر نہیں ہے۔

    ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ بیرونی امداد پر انحصار ہے اور نہ معاشی مشکلات زوال کا سبب بنیں گی دنیا کے کسی بھی ملک میں اتنے طویل عرصے تک جنگ اور بیرونی جارحیت رہی ہو تو اسے کچھ عرصے کے لیے معاشی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    ذبیح اللہ نے کہا کہ اقوام متحدہ کے ہیومینیٹرین افئیرز ایجنسی کا معاشی مشکلات کے باعث افغان نظام کے منہدم ہونے کا بیان درست نہیں ہے-

    اقوام متحدہ کی ایجنسی نے اپنی رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا تھا کہ افغانستان کا نظام معیشت کی خراب حالت کی وجہ سے منہدم ہوسکتا ہے۔

  • مصر می‌ نو عمر لڑکے کی ممی سے سونے کا دل دریافت

    مصر می‌ نو عمر لڑکے کی ممی سے سونے کا دل دریافت

    قاہرہ: قدیم مصری تہذیب سے دریافت شدہ ایک ممی کو کھولے بغیر معلوم ہوا ہے کہ اسے 49 قیمتی تعویز گنڈوں سے سجایا گیا تھا-

    باغی ٹی وی: نوعمر لڑکے کو 2300 سال قبل ممی میں ڈھالا گیا تھا 1916 میں دریافت ہونے والی یہ ممی قاہرہ کے عجائب گھر میں کھلے بغیر رکھی تھی اور 300 قبل مسیح میں بطلیموسی عہد میں بنائی گئی تھی-

    اب جامعہ قاہرہ کی سحرسلیم اورانکےساتھیوں نے اسے ڈجیٹل انداز میں پرت در پرت کھولا ہےاس میں ایکسرے، سی ٹی (کمپیوٹر ٹوموگرافی) کے ساتھ ساتھ ہائی ریزولوشن کے سینکڑوں ایکسرے لئے گئے تو معلوم ہوا کہ 21 اقسام کے 49 قیمتی تعویز اور گنڈے بھی جسم میں لگائے گئے ہیں۔

    ایرانی جوہری تنصیبات پر حملے کی تیاری

    Mummy gold
    ممی کوایکسرے اور دیگر آلات سے دیکھا گیا ہے چونکہ مصری، بلیوں کی طرح بھنوروں کو بھی مقدس تصور کرتے تھے اور اسی وجہ سے ایک سونے کا بھنورا بنا کر اسے دل کے قریب لگایا گیا ہے اسے غالباً دوسرے دل کے طور پر نصب کیا گیا ہے۔

    لڑکے کے سینے کے جوف میں تین سینٹی میٹر سونے کا دل لگایا گیا تھاالٹی ران میں ایک چیرا لگا کر دو انگلیوں کی شکل کا ایک اور تعویز بھی رکھا گیا ہےجبکہ جسم کے دیگر مقامات پر سونے، قیمتی پتھر اور نیم قیمتی معدنیات وغیرہ کی بنی اشیا بھی موجود ہیں۔

    سبز دم دار ستارہ زمین کے قریب سے 50 ہزار سال بعد دوبارہ گزرے گا

    پروفیسر سحر کے مطابق دل اور دیگر اشیا کو دوسری دنیا کے سفر اور تحفظ کے لیے پہنائے گئے ہیں اس لڑکے کے اہلِ خانہ نے لڑکے کے تحفظ کے لیے بہت خرچ کیا ہوگا اسے قیمتی سینڈل بھی پہنائے گئے ہیں تاکہ یہ تابوت سے باہرآکر بحفاظت سفر کرسکے۔

  • جنگل کے بادشاہ شیر کی گھاس کھانے کی ویڈٰیو وائرل

    جنگل کے بادشاہ شیر کی گھاس کھانے کی ویڈٰیو وائرل

    سوڈان کے دارالحکومت خرطوم میں مویشیوں کے ایک باڑے میں ایک شیر کی گھاس کھانےکی ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے-

    باغی ٹی وی : ویڈیو سوشل میڈیا پر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی ہے ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ شیر مویشیوں کے ایک باڑے میں بیٹھا گھاس چررہا ہے لوگ ویڈیو دیکھ کر حیران ہیں کہ جنگل کا بادشاہ گوشت کے بجائے گھاس کیوں کھا رہا ہے؟-

    سوڈان وائلڈ لائف پارک نے اعتراف کیا کہ یہ منظر عجیب اور غیر فطری لگتا ہے، لیکن سچ یہ ہے کہ شیر وقتاً فوقتاً گھاس اور پتے کھاتے ہیں۔


    پارک انتظامیہ نے اپنے فیس بک پیج پر اس غیر معمولی رویے کی وضاحت کی کہا کہ جڑی بوٹیاں شیروں کی خوراک کا لازمی جزو نہیں ہیں، لیکن بعد میں انہیں کھانے کا سہارا لیا جاتا ہے کیونکہ یہ ان کے پیٹ کے امراض کو پرسکون کرنے میں مدد دیتی ہیں۔

    وضاحت میں کہا گیا کہ آج دوپہر کا کھانا کھانے کے بعد وہ بیٹھ گیا اور کچھ گھاس پر چبانے لگا جی ہاں، شیر گھاس کھاتے ہیں، تاہم، گھاس کو خوراک کے قدرتی حصے کے طور پر نہیں کھایا جاتا ہےاس کے بجائے،شیر گھاس کھاتے ہیں کیونکہ یہ انہیں پیٹ کےکیڑےکو پرسکون کرنے میں مدد کرتا ہے۔ ان کے گھاس کھانے کی ایک اور وجہ یہ ہے کہ گھاس معدنیات، وٹامنز اور فائبر کا قدرتی ذریعہ ہے، جو ان کی صحت کو سہارا دیتی ہے اور ہاضمے میں مدد دیتی ہے۔

    شیر گھاس کھاتے ہیں، اگرچہ یہ عجیب اور غیر فطری لگتا ہے، وہ وقتاً فوقتاً گھاس کھاتے رہتے ہیں درحقیقت، بلی کے تمام ارکان میں یہ ایک عام رویہ ہے۔ شیرچیتے اور گھریلو بلیا ں کبھی کبھار گھاس چباتے ہیں،پھر بھی، کوئی بھی جانور گھاس نہیں کھائے گا کیونکہ وہ گھاس کے ذائقے سے لطف اندوز ہوتے ہیں یا اس لیے کہ گھاس ان کی عام خوراک کا حصہ ہے۔

    دوسرے لفظوں میں شیر مختلف حالتوں میں جڑی بوٹی کو پیٹ کی ایک قسم کی دوا کے طور پر استعمال کرتے ہیں

  • ہندوستانی ناول نگارانیتا نائر

    ہندوستانی ناول نگارانیتا نائر

    انیتا نائر کی پیدائش 26 جنوری 1966 کو ہوئی۔وہ ایک ہندستانی ناول نگار ہیں جو اپنی کتابیں انگریزی زبان میں لکھتی ہیں۔

    ابتدائی زندگی
    نائر کیرالہ کے پلوکاد ضلع کے شورانور میں پیدا ہوئیں۔ نائر نے کیرالہ واپس آنے سے پہلے چنئی (مدراس) میں تعلیم حاصل کی جہاں انھوں نے انگریزی زبان و ادب میں بی اے کی تعلیم حاصل کی۔ وہ اپنے شوہر سریش پرم باتھ اور ایک بیٹے کے ساتھ بنگلور میں رہتی ہیں۔

    کیریئر
    نائر بنگلور میں ایک اشتہاری ایجنسی کے تخلیقی ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کر رہی تھیں جب انہوں نے اپنی پہلی کتاب ”سب وے کے ستیر“ نامی مختصر کہانیوں کا ایک مجموعہ لکھا جسے انہوں نے ہار آنند پریس کو فروخت کیا۔ اس کتاب نے ورجینیا سینٹر برائے تخلیقی فنون کی رفاقت حاصل کی۔

    نائر کی دوسری کتاب پینگوئن انڈیا نے شائع کی تھی اور یہ کسی ہندستانی مصنف کی پہلی کتاب تھی جوپیکاڈر امریکہ کے ذریعہ شائع ہوئی تھی۔ افسانہ نگار اور شاعری کے لیے بہترین فروخت ہونے والی مصنف نائر کے ناولوں دی بیٹر مین اور لیڈیز کوپ کا 21 زبانوں میں ترجمہ کیا گیا ہے۔ نائر کا ناول دی بیٹر مین (2000) یورپ اور امریکہ میں بھی شائع ہوا ہے۔

    2002 میں ، ملیبار منڈ کی نظموں کا مجموعہ شائع ہوا۔ 2001 سے انیتا کا دوسرا ناول لیڈیز کوپ اب تک ہندستان سے باہر 15 ممالک جن میں امریکہ , ترکی ، پولینڈ , پرتگال بھی شامل ہیں ناقدین اور قارئین دونوں میں بہت پسند کیا گیا۔ کوپ ناول مردانہ غلبہ پانے والے معاشرے میں خواتین کے حالات کے بارے میں ہے جسے بڑی بصیرت، یکجہتی اور مزاح کے ساتھ لکھا گیا ہے۔

    لیڈیز کوپ 2002 کی پہلی پانچ کتابوں میں سے ایک قرار دی گئی تھی اور اسے دنیا بھر کی پچیس سے زیادہ زبانوں میں ترجمہ کیا گیا تھا۔ انھوں نے کچھ دوسری کتابیں بھی لکھی ہیں جیسے مسٹریس (2003) ، ایڈونچرز آف نونو، اسکیٹنگ اسکوائرل (2006)، لیونگ نیکسٹ ڈور ٹو ایلیس (2007) اور میجیکل انڈین میتھس (2008)۔ نائر کے کاموں میں بہت سارے سفری مقامات بھی شامل ہیں نائن فیکس آف بائیننگ ڈرامے کے ساتھ ، سب سے زیادہ فروخت ہونے والی مصنف انیتا نائر ڈرامہ نگار بھی بن گئی ہیں۔

  • جرمنی  نے یوکرین کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس لیپرڈ 2 ٹینک فراہم کرنے کی منظوری دے دی

    جرمنی نے یوکرین کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس لیپرڈ 2 ٹینک فراہم کرنے کی منظوری دے دی

    جرمنی نے یوکرین کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس لیپرڈ 2 ٹینکوں سے مسلح کرنے کی منظور دے دی ہے۔

    باغی ٹی وی: جرمنی کے حکومتی ترجمان اسٹیفن ہیبسٹریٹ نے کہا کہ جرمن حکومت کی جانب سے ٹینکوں کی پارٹنر ممالک سے ری ایکسپورٹ کی بھی منظور دی گئی ہے۔

    یوکرین کے کئی اعلیٰ عہدے داروں نے استفعے دے دئیے

    یوکرینی صدر زیلنسکی نے جرمن چانسلر اولاف شولز کا شکریہ ادا کیا اور کیف کو روس کے ساتھ جاری جنگ میں ٹینکوں سے لیس کرنے کے فیصلے کو انتہائی اہم اور بروقت فیصلہ قرار دیا۔

    دوسری جانب اپنے رد عمل میں روس نے جرمنی کی جانب سے یوکرین کو لیپرڈ 2 ٹینک فراہم کرنے کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے اسے مغرب کی اشتعال انگیزی قرار دے دیا۔

    2019 میں پاکستان اوربھارت جوہری جنگ کے قریب تھے،امریکی مداخلت نے کشدگی کو…

    روس کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے ثابت ہوتا ہے کہ جرمنی دوسری عالمی جنگ کے دوران نازی جرائم کے بعد خود پر عائد ہونے والی تاریخی ذمہ داری کو بھول چکا ہے یوکرین کو بھاری اسلحہ فراہم کرنے سے ثابت ہوتا ہے کہ مغرب جنگ کو بھڑکا رہا ہے۔

  • امریکی کمپنی کا ایشیا کےامیر ترین شخص گوتم اڈانی پر فراڈ ،ہیرا پھیری کرنے سمیت متعدد سنگین الزامات عائد

    امریکی کمپنی کا ایشیا کےامیر ترین شخص گوتم اڈانی پر فراڈ ،ہیرا پھیری کرنے سمیت متعدد سنگین الزامات عائد

    ایک امریکی کمپنی نے ایشیا کے امیر ترین شخص گوتم اڈانی کی کمپنیوں کو اکاؤنٹنگ فراڈ اور اسٹاک کی ہیرا پھیری میں ملوث قرار دیا ہے۔

    باغی ٹی وی: اڈانی گروپ کی کمپنیوں میں حصص اس وقت گرے جب امریکی سرمایہ کار ہندنبرگ ریسرچ نے کہا کہ وہ اس گروپ کے اسٹاک کو کم کر رہی ہے اور ایشیا کے سب سے امیر آدمی کی ملکیت والی فرموں پر اکاؤنٹنگ فراڈ اور اسٹاک کی ہیرا پھیری کا لازما لگا رہی ہے-


    اڈانی سے متعلقہ اداروں کے بانڈز اور حصص اس وقت گر گئےجب ہندن برگ، جو کہ مختصر فروخت میں مہارت رکھتی ہے، ایک امریکی سرمایہ کاری ریسرچ فرم نے ٹائیکون کی کمپنیوں کے بارے میں دو سال کی تحقیقات کے بعد مبینہ کارپوریٹ بدعنوانی کے وسیع پیمانے پر الزامات لگائے۔


    امریکا کی شارٹ سیلنگ کمپنی ہندن برگ کی جانب سے اس حوالے سے اپنی ویب سائٹ پر ایک جامع رپورٹ جاری کی ہے،رپورٹ میں کہا گیا کہ ہم اپنی 2 سالہ تحقیقات کے نتائج کو جاری کررہے ہیں اورایسے شواہد پیش کیے جارہے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ 17.8 ٹریلین (218 ارب امریکی ڈالرز) مالیت کا اڈانی گروپ دہائیوں سے اسٹاک کی ہیرا پھیری اور اکاؤنٹنگ فراڈ اسکیم میں ملوث ہے۔


    اڈانی پورٹ کے ساتھ اڈانی سے وابستہ اسٹاک گر گئے 5 فیصد سے زیادہ کا نقصان۔ اڈانی پاورکے حصص کی قیمت 4.5 فیصد سے زیادہ گر گئی اور اڈانی ٹرانسمیشن بھی تقریبا 5 فیصد کم ہو گیا-


    رپورٹ میں تو گوتم اڈانی کے گروپ آف کمپنیز کے لیے کارپوریٹ تاریخ کے سب سے بڑے دھوکے باز کے الفاظ بھی استعمال کیے گئے۔


    رپورٹ میں الزام عائد کیا گیا کہ سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا نے اڈانی گروپ کے آف شور فنڈز کے حوالے سے امریکی کمپنی کی تحقیقات میں رکاوٹ ڈالی اوران ضوابط کو نافذ کرنے میں سستی کا مظاہرہ کر رہا ہے جس کی وجہ سے اڈانی کمپنیوں کو ڈی لسٹ کرنا پڑے گا۔

    رپورٹ میں متحدہ عرب امارات سمیت کئی ممالک میں اڈانی خاندان کی آف شور کمپنیوں کی تفصیلات بھی دی گئیں اور دعویٰ کیا گیا کہ ان کمپنیوں کو کرپشن، منی لانڈرنگ اور ٹیکسوں کی چوری کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔


    دوسری جانب اڈانی گروپ نے ہندنبرگ کی رپورٹ کو "منتخب غلط معلومات کا بدنیتی پر مبنی مجموعہ” قرار دیا اور مزید کہا کہ یہ "ہمیشہ تمام قوانین کی تعمیل کرتی رہی ہے۔

    گروپ کے چیف فنانشل آفس جوگیشندر سنگھ نے غیر ملکی خبررساں ادارے سی این بی سی کو ایک بیان میں کہا کہ رپورٹ کی اشاعت کا مقصد واضح طور پر اڈانی گروپ کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کا ہے ہنڈن برگ نےہم سےرابطہ کرنے یاحقائق پرمبنی میٹرکس کی تصدیق کرنے کی کوئی کوشش کیے بغیر” اپنی رپورٹ شائع کی۔


    بلومبرگ بلینیئرز انڈیکس کے مطابق، 2008 میں ارب پتی بننے کے بعد سے، اڈانی اب 119 بلین ڈالر کی دولت کے ساتھ دنیا کے امیر ترین لوگوں میں سے ایک ہیں اگست میں، کمپنی نے ہندوستانی میڈیا گروپ NDTV کے مخالفانہ قبضے کی کوشش کی، جس نے ایک فائلنگ میں کہا کہ یہ اقدام اس کے بانیوں سے "بغیر کسی رضامندی کے” کیا گیا تھا۔

  • طالبان کی حکمرانی میں تعلیم سے محروم افغانستان

    طالبان کی حکمرانی میں تعلیم سے محروم افغانستان

    طالبان کی حکمرانی میں تعلیم سے محروم افغانستان

    اسامہ بن لادن کا بہانہ بنا کر امریکہ نے افغانستان میں طالبان کے خلاف جنگ شروع کی تو افغانستان طالبان نے بھی ان کا مقابلہ کیا لیکن بالآخر آپس میں امریکہ اور طالبان نے ایک معاہدہ کرلیا اور یوں امریکہ تو افغانستان نے بھاگ گیا لیکن اس سال افغانستان میں رہنے کے باوجود امریکہ نے ایک بھی کوئی ایسا انسٹیوٹ نہیں بنایا جو ان کے جانے کے بعد قابل زکر ہو. لہذا ایک طرف ظالم طالبان جنہیں افغانستان پر حکومت کا لالچ تھا تو دوسری طرف امریکہ بھی مفاد پرست تھا جس نے اپنے مفاد کی تکمل کے بعد اس عظیم ملک کو کھنڈرات بنا کر چھوڑ گیا.

    لیکن اس کے نکلنے کے بعد طالبان نے بھی وہی رویہ اپنایا اور اپنے احکامات جاری کرتے ہوئے سب سے پہلے خواتین کے حصول تعلیم اور کام کرنے پر پابندی لگا دی جو محض جہالت کے سوا کچھ بھی نہیں کیونکہ اگر ایسا ہوتا اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو وہی اتاری جس میں لفظ اقراء نمایاں تھا لہذا اگر تعلیم کی اسلام میں ممانعت ہوتی تو ایسا نہ ہوتا مگر انہوں اپنی جہالت کو اسلام کا نام دی کر بچیوں کی تعلیم پر پابندی لگا دی.
    https://twitter.com/ShabbirTuri/status/1435185504790540294
    صرف یہی نہیں بلکہ طالبان نے افغان خواتین بارے یہ بھی ہدایت جاری کیں ہیں کہ انہیں بازار یا گھر سے باہر نکلتے وقت کسی مرد کا ہمراہ ہونا لازمی قرار دیا گیا. جبکہ اس حوالے گزشتہ دنوں ایسا جاہلانہ قانون فالو نہ کرنے پر خواتین کو سرعام سزا بھی دی گئی تھی. افغان میڈیا کے مطابق افغان طالبان افغانستان کے ایک علاقہ میں خواتین پر تشدد کرتے نظر آئے کیونکہ ان کا جرم صرف یہ تھا کہ بازار میں جاتے وقت اپنے قریبی مرد کو ہمراہ لے کر نہیں گئی تھی۔


    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    اپنے دور میں مخالفین کو گرفتار کروانے والے اب خود کی گرفتاریوں پر چیخ کیوں رہے؟
    سرکاری ملازمین کی تنخواہیں، وزارتوں کے اخراجات اور وزرا کی تعداد کم کرنےکی تجاویز
    گیس کے چولہے پر کھانا بنانا صحت کیلئے آلودہ شہر میں رہنے سے زیادہ نقصان دہ ہے
    https://twitter.com/salah_salarzai/status/1435567790040170496
    جبکہ ایک صحافی پر تو اس لیئے تشدد کیا گیا کیونکہ انہوں نے خواتین کا احتجاج کی کوریج کی تھی جس میں طالبان نے خواتین پر ان کے خلاف احتجاج کیا تھا لیکن جہاں یہ سب مظالم ہیں وہی دوسری طرف کچھ اچھے فیصلے بھی ہوئے جس میں کچھ ایسے لوگوں کو پھانسی لگا کر سرعام لٹکا دیا گیا کیونکہ ان پر بچیوں سے زیادتی کا جرم ثابت ہوا تھا. لہذا افغانستان میں جہاں چند فیصد یہ اچھے کام ہوئے تو دوسری طرف وہ بے انتہاء مظالم بھی ہیں جس میں خواتین سے تعلیم کا حق چھینا گیا اور انہیں ظالم قوانین نہ ماننے کے جرم تشدد کا نشانہ بنایا گیا.

  • خلیجی ممالک کی کمپنیاں ایمازون ، ٹویٹراورگوگل سےفارغ ہونیوالےباصلاحیت ماہرین کواپنےہاں لانےکیلئےکوشاں

    خلیجی ممالک کی کمپنیاں ایمازون ، ٹویٹراورگوگل سےفارغ ہونیوالےباصلاحیت ماہرین کواپنےہاں لانےکیلئےکوشاں

    خلیجی ممالک میں بڑی تجارتی کمپنیوں کے لیے بین الاقوامی سطح کےانتہائی اہم اداروں میں کام کر چکے افراد فراہم کرنے کے لیے کوشاں ذمہ داروں نے انکشاف کیا ہے کہ کمپنیاں ایمازون ، ٹویٹر اور گوگل سے فارغ ہونے والے بہترین اور باصلاحیت ماہرین کو اپنے ہاں لانے کے لیے کوشاں ہیں۔

    باغی ٹی وی : واضح رہے بڑی بین الاقوامی کمپنیوں جن میں ایمازون ، گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ وغیرہ نے حالیہ ہفتوں اور مہینوں کے دوران اپنے کارکنوں کی بہت بڑی تعداد کو فارغ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    اسپاٹی فائی کا دنیا بھرمیں 6 فیصد ملازمین کو نکالنے کا اعلان

    العربیہ کے مطابق بہترین تجربے کے ٹیلنٹ کو نئی کمپنیوں میں کھپانے کے لیے مارکیٹ میں کئی ریکروٹمنٹ کمپنیاں سرگرم ہو گئی ہیں۔ جو ان کارکنوں اور خلیجی اور سعودی کمپنیوں کے درمیان پل کا کام کر رہی ہیں۔

    ریکروٹمنٹ کمپنی کلاؤڈ سورس کےمینجنگ ڈائریکٹر جیمز ٹوفیری اس سلسلے میں خوب متحرک ہیں جیمز ٹوفیری کے مطابق اس صورت حال نے ٹیلنٹ کی ایک نئی مارکیٹ کا دروازہ کھول دیا ہے اس لیے یہ موقع ہے کہ مختلف کمپنیاں اس تجربہ کار ٹیلنٹ سے فائدہ اٹھالیں۔

    واضح رہے کہ واشنگٹن میں مائیکرو سافٹ نے اپنے سٹاف میں کمی کا فیصلہ کیا ہے 2022 میں یہ ادارہ دو بار اپنے کارکنوں کی تعداد میں کمی کر چکا ہے ایمازون نے جنوری سے اپنے 18000 کارکناوں کو فارغ کرنے کا اعلان کیا ہے اسی طرح گوگل کی ‘ پیرنٹ کمپنی الفا بیٹ ‘ نے 12000 کارکنوں کو فارغ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا 6 فیصد ملازمین کو برطرف کرنے کا فیصلہ

  • سانس لینے کی پُراسرار بیماری، شمالی کوریا کے دارالحکومت میں 5 دن کا لاک ڈاؤن نافذ

    سانس لینے کی پُراسرار بیماری، شمالی کوریا کے دارالحکومت میں 5 دن کا لاک ڈاؤن نافذ

    پیانگ یانگ: شمالی کوریا کے دارالحکومت میں سانس لینے کی پُراسرار بیماری کے باعث 5 دن کے لیے لاک ڈاؤن لگا دیا گیا۔

    باغی ٹی وی: این کے نیوز کے مطابق، شمالی کوریا نے سانس کی غیر متعینہ بیماری کے بڑھتے ہوئے معاملات کے درمیان دارالحکومت پیانگ یانگ کو پانچ دن کے لاک ڈاؤن کا حکم دیا ہے۔

    قرآن مجید کی بے حرمت: ترک صدر کا سوئیڈن کی نیٹو میں شمولیت کی کسی صورت حمایت نہ کرنے کا اعلان

    ایک سرکاری اعلان کا حوالہ دیتے ہوئے، سیول میں قائم آؤٹ لیٹ، جو شمالی کوریا کے بارے میں رپورٹ کرتا ہے، نے کہا کہ شمالی کوریا کے دارالحکومت پیانگ یانگ میں شہریوں کو دن میں متعدد بار بخار چیک کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے 5 دن کے لیے مکمل لاک ڈاؤن نافذ کردیا گیا۔

    حکومتی حکم نامے میں کورونا وائرس کا نام لیے بغیر کہا گیا ہے کہ سانس لینے میں تکلیف کی ایک بیماری تیزی سے پھیل رہی ہے۔ اس لیے آئندہ پانچ روز تک شہری خود کو اپنے گھروں تک محدود کرلیں۔

    منگل کو، این کے نیوز نے اطلاع دی لاک ڈاؤن کے نفاذ کے اعلان کے بعد ہی شہریوں کی بڑی تعداد نے اشیائے ضروریہ کی خریداری کے لیے بازاروں کا رخ کیا جہاں افراتفری پھیل گئی اور بھیڑ کے باعث شہریوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔

    گھروں میں کھانے پینے کی اشیا کا ذخیرہ کرنے والے شہریوں نے بتایا کہ لاک ڈاؤن میں اضافہ کا امکان بھی ہے اس لیے زیادہ سے زیادہ چیزوں کا ذخیرہ کر رہے ہیں۔

    کرونا وائرس پھیلاؤ کے پیش نظر سی اے اے کی جانب سے نئے احکامات جاری

    سرکاری میڈیا نے فلو سمیت سانس کی بیماریوں سے لڑنے کے لیے انسداد وبائی اقدامات کے بارے میں رپورٹنگ جاری رکھی ہے، لیکن ابھی تک لاک ڈاؤن آرڈر کی اطلاع نہیں دی ہے۔

    این کے نیوز نے نوٹ کیا کہ حالیہ دنوں میں، پیانگ یانگ کے رہائشیوں نے نئے قمری سال کے موقع پر ہونے والی تقریبات میں چہرے کے ماسک پہنے ہوئے تھے، ان میں سے کچھ ڈبل ماسکنگ یا اعلی درجے کے ماسک پہنے ہوئے تھے۔

    منگل کے روز، سرکاری خبر رساں ایجنسی کے سی این اے نے کہا کہ جنوبی کوریا کی سرحد کے قریب واقع شہر کائیسونگ نے عوامی رابطہ مہم کو تیز کر دیا ہے تاکہ "تمام کام کرنے والے لوگ اپنے کام اور زندگی میں رضاکارانہ طور پر انسداد وبا کے ضوابط کا مشاہدہ کریں-

    خیال رہے کہ شمالی کوریا نے کورونا کے آغاز پر ہی اپنی سرحدیں بند کردی تھیں اور خود کو کورونا سے محفوظ بتایا تھا تاہم گزشتہ برس کورونا کے پہلے کیس کی تصدیق کی تھی اور اس وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد کی تصدیق نہیں کی اسی سال اگست میں اس پر قابو پانے کا دعویٰ بھی کیا تھا۔

    عالمی ادارۂ صحت نے پھر کورونا خطرےکی گھنٹی بجا دی

    شمالی کوریا میں میڈیا پر سخت پابندیوں کے باعث کورونا سے متعلق ان معلومات پر کسی نے بھروسہ نہیں کیا تھا اور ماہرین نے کہا تھا کہ جیسا بتایا جا رہا ہے ویسا ممکن ہی نہیں، اصل حقائق کچھ اور ہیں۔

    یاد رہے کہ اسی دوران شمالی کوریا کے حکمراں کم جونگ اُن کافی عرصے کے لیے منظر عام سے غائب ہوگئے تھے اور جب میڈیا کے سامنے آئے تو کافی کمزور دکھائی دے رہے تھے۔ ان کا وزن بھی آدھا ہوگیا تھا۔

    بعد ازاں کم جونگ اُن میڈیا کے سامنے جب بھی آئے، اپنی بہن کو ساتھ لاتے تھے جس سے اس بات کو تقویت ملی کہ شاید اقتدار کا تاج بہن کے سر سجے گا تاہم بعد میں وہ اپنی صاحبزادی کو ساتھ لانے لگے۔

  • کتابیں طالبعلموں کے اخلاق کو خراب کر رہی ہیں،سوڈانی یونیورسٹی نے لائبریری بند کر دی

    کتابیں طالبعلموں کے اخلاق کو خراب کر رہی ہیں،سوڈانی یونیورسٹی نے لائبریری بند کر دی

    مشرقی سوڈان میں واقع جامعہ بحر احمر (یونیورسٹی آف دی ریڈ سی) کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں قائم ایک لائبریری غیر مفید اور طالبعلموں کے اخلاق کو خراب کرنے والی کتابوں کی موجودگی کے باعث بند کر دی۔

    باغی ٹی وی : العربیہ ڈاٹ نیٹ کو دیئے گئے ایک بیان میں لائبریری کے کلچرل فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر جنرل اور ناول نگار مہند الدابی نے یونیورسٹی انتظامیہ کے کچھ اہلکاروں پر لائبریری کی نگرانی کرنے کا الزام لگایا ہے اور کہا کہ ناقص حیلے بہانے کر کے لائبریری کے قیام کے ایک سال بعد اسے بند کردیا گیا۔

    مہند الدابی نے کہا کہ یونیورسٹی نے انہیں مذکورہ جگہ کی پیشکش کی ہم نے رسمی ضابطوں کے تحت اس جگہ لائبریری قائم کی تھی۔ یہاں گزشتہ سال جنوری میں لائبریری کی افتتاحی تقریب بھی منعقد ہوئی تھی۔

    انہوں نے بتایا کہ پورا ایک سال گزر جانے کے بعد، ہمیں یونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سے ایک خط موصول ہوا جس میں کہا گیا تھا کہ یونیورسٹی میں مکتبات کے نگران کیمپس میں ایک لائبریری کی موجودگی سے حیران ہیں جو ان کی نہیں ہے۔

    مہند کے مطابق ہم نے جواب دیا کہ ہمارے پاس پانچ سال تک اس جگہ کو استعمال کرنے کے حق کے لیے قانونی خط و کتابت موجود ہے۔ تاہم جب میں نے خود یونیورسٹی حکام سے رابطہ کیا، تو انہوں نے کہا کہ مکتبات کے نگران لائبریری کے موجودگی سے مطمئن نہیں ہیں، کیونکہ اس میں مخرب الاخلاق کتابیں موجود ہیں-

    قرآن مجید کی بے حرمت: ترک صدر کا سوئیڈن کی نیٹو میں شمولیت کی کسی صورت حمایت نہ کرنے کا اعلان

    مہند الدابی نے بتایا کہ لائبریری میں مختلف علوم کے ایک ہزار سے زائد موضوعات پرکتابیں موجود ہیں اوریہ لائبریری عربی اور انگریزی دونوں زبانوں میں عملی اور ادبی حوالوں کے تنوع، کتب کی فراوانی ، نادر سوڈانی اور بین الاقوامی تصنیفات کی وجہ سے منفرد ہے۔ یہاں طلباء کے لیے موسیقی اور فنون کے مختلف تخلیقی نمونے بھی موجود ہیں۔

    دوسری جانب "ریڈ سی یونیورسٹی” سے اندرونی ذرائع نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ لائبریری کی بندش کا سبب بننے والے 70 فیصد اندرونی عوامل یونیورسٹی خود سے متعلق ہیں۔جن کو ابھی ظاہر نہیں کیا جا سکتا،لائبریری کے مخالف گروپوں نے یونیورسٹی انتظامیہ اور ثقافتی ادارے کے درمیان معاہدے میں موجود خامیوں کا فائدہ اٹھایا ہے۔

    تاہم ذرائع نے کہا کہ محرکات کچھ بھی ہوں، لائبریری کو بند کرنا اور اس کے قیام کی مخالفت کرنے والے پروفیسرز کی موجودگی ایک انتہائی تشویشناک بات ہے جس پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔

    درختوں سے جنگلی حیات کا ڈی این اے جمع کرنے والا ڈرون