Baaghi TV

Tag: study visa

  • مرزا یاس یگانہ چنگیزی برصغیر کے معروف شاعر

    مرزا یاس یگانہ چنگیزی برصغیر کے معروف شاعر

    گناہ گن کے میں کیوں اپنے دل کو چھوٹا کروں
    سنا ہے تیرے کرم کا کوئی حساب نہیں

    مرزا یاس یگانہ چنگیزی اپنے معاصرین میں اپنی شاعری کے نئے رنگوں اور دکھ درد کی بے شمار صورتوں میں لپٹی ہوئی زندگی کے سبب سب سے الگ نظر آتے ہیں۔ یگانہ کا نام مرزا واجد حسین تھا پہلے یاس تخلص کرتے تھے بعد میں یگانہ تخلص اختیار کیا۔ ان کی پیدائش 17 اکتوبر 1884ء کو محلہ مغلپورہ عظیم آباد میں ہوئی۔

    1903 میں کلکتہ یونیورسٹی سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ تنگیِ حالات کے سبب تعلیمی سلسلہ جاری نہیں رکھ سکے۔ 1904ء میں واجد علی شاہ کے نواسے شہزادہ میرزا محمد مقمیم بہادر کے انگریزی کے اتالیق مقرر ہوئے۔ مگر یہاں کی آب وہوا یگانہ کو راس نہیں آئی اور وہ عظیم آباد لوٹ آئے۔

    عظیم آباد میں بھی ان کی بیماری کا سلسلہ جاری رہا اس لئے تبدیلی آب وہوا کے لئے 1905ء میں انھوں نے لکھنؤ کا رخ کیا۔ یہاں کی آب وہوا اور اس شہر کی رنگا رنگ دلچسپیوں نے یگانہ کو کچھ ایسا متأثر کیا کہ پھریہیں کے ہورہے، یہیں شادی کی اور یہیں اپنی زندگی کی آخری سانسیں لیں۔ تلاش معاش کیلئے لاہور اور حیدرآباد گئے بھی گئے لیکن لوٹ کر لکھنؤ ہی آئے۔

    ابتدائی کچھ برسوں تک تو یگانہ کے تعلقات لکھنؤ کے شعراء وادباء کے ساتھ خوشگوار رہے، انہیں مشاعروں میں بلایا جاتا اور یگانہ اپنی تہہ دار شاعری اور خوش الحانی کی بنا پر خوب داد وصول کرتے لیکن دھیرے دھیرے یگانہ کی مقبولیت لکھنوی شعراء کو کھلنے لگی۔ وہ یہ کیسے برداشت کر سکتے تھے کہ کوئی غیرلکھنوی لکھنؤ کے ادبی معاشرے میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جانے لگے۔ اس لیے یگانہ کے خلاف سازشیں شروع ہوگئیں۔ ان کے لیے معاشی مشکلیں پیدا کی جانے لگیں۔ اس دشمنی کی انتہا تو اس وقت ہوئی جب یگا نہ نے اپنی زندگی کے آخری برسوں میں کچھ ایسی رباعیاں کہہ دی تھیں جن کی وجہ سے سخت مذہبی خیالات رکھنے والوں کو تکلیف ہوئی۔

    اس موقع کا فائدہ اٹھا کریگانہ کے مخالفین نے ان کے خلاف ایسی فضا تیار کی کہ مذہبی جوش وجنون رکھنے والے یگانہ کو لکھنؤ کی گلیوں میں کھیچ لائے، چہرے پر سیاہی پوت کران کا جلوس نکالا اور طرح طرح کی غیرانسانی حرکتیں کیں۔لکھنؤ کے اس ادبی معاشرے میں یگانہ کیلئے سب سے بڑا مسئلہ اس سوچ کے خلاف لڑنا تھا جس کے تحت کوئی فرد یا گروہ زبان وادب اور علم کو اپنی جاگیر سمجھنے لگتا ہے۔

    یگانہ کی شاعری کی داستان لکھنؤ میں کی جانے والی ایک ایسی شاعری کی داستان ہے جو وہاں کی گھسی پٹی اور روایتی شاعری کو رد کرکے فکر وخیال اور زبان کے نئے ذا ئقوں کو قائم کرنے کی طرف مائل تھی۔ لکھنؤ میں یگانہ کے معاصرین ایک خاص انداز اور ایک خاص روایت کی شاعری کی نقل اڑانے میں لگے ہوئے تھے۔ ان کے یہاں نہ کوئی نیا خیال تھا اور نہ ہی زبان کا کوئی نیا ذائقہ وہ داغ و مصحفی کی بنائی ہوئی لکیروں پر چل رہے تھے۔

    لکھنؤ میں یگانہ کی آمد نے وہاں کے ادبی معاشرے میں ایک ہلچل سی پیدا کردی۔ یہ ہلچل صرف شاعری کی سطح پر ہی نہیں تھی بلکہ یگانہ نے اس وقت میں رائج بہت سے ادبی تصورات ومزعومات پر بھی ضرب لگائی اور ساتھ ہی لکھنو کے اہلِ زبان ہونے کے روایتی تصور کو بھی رد کیا۔ غالب کی شاعری پر یگا نہ کے سخت ترین اعتراضات بھی اس وقت کے ادبی ماحول میں حد سے بڑھی ہوئی غالب پرستی کا نتیجہ تھے۔

    یگانہ کی شاعری آپ پڑھیں گے تو اندازہ ہوگا کہ وہ زبان اور خیالات کی سطح پر شاعری کو کن نئے تجربوں سے گزار رہے تھے۔ یگانہ نے بیسوی صدی کے تمام تر تہذیبی، سماجی اور فرد کے اپنے داخلی مسائل کوجس انداز میں چھوا اور ایک بڑے سیاق میں جس طور پرغزل کا حصہ بنایا، اس طرح ان کے عہد کے کسی اور شاعرکے یہاں نظر نہیں آتا۔ یہی تجربات آگے چل کر جدید اردو غزل کا پیش خیمہ بنے۔

    یگانہ کی کتابیں : شعری مجموعے : نشتر یاس، آیات وجدانی، ترانہ، گنجینہ۔ دیگر : چراغ سخن، غالب شکن۔

    اشعار
    ۔۔۔۔۔
    گناہ گن کے میں کیوں اپنے دل کو چھوٹا کروں
    سنا ہے تیرے کرم کا کوئی حساب نہیں

    مصیبت کا پہاڑ آخر کسی دن کٹ ہی جائے گا
    مجھے سر مار کر تیشے سے مر جانا نہیں آتا

    کشش لکھنؤ ارے توبہ
    پھر وہی ہم وہی امین آباد

    درد ہو تو دوا بھی ممکن ہے
    وہم کی کیا دوا کرے کوئی

    کسی کے ہو رہو اچھی نہیں یہ آزادی
    کسی کی زلف سے لازم ہے سلسلہ دل کا

    موت مانگی تھی خدائی تو نہیں مانگی تھی
    لے دعا کر چکے اب ترک دعا کرتے ہیں

    واعظ کی آنکھیں کھل گئیں پیتے ہی ساقیا
    یہ جام مے تھا یا کوئی دریائے نور تھا

    سب ترے سوا کافر آخر اس کا مطلب کیا
    سر پھرا دے انساں کا ایسا خبط مذہب کیا

    خودی کا نشہ چڑھا آپ میں رہا نہ گیا
    خدا بنے تھے یگانہؔ مگر بنا نہ گیا

    وہی ساقی وہی ساغر وہی شیشہ وہی بادہ
    مگر لازم نہیں ہر ایک پر یکساں اثر ہونا

    خدا جانے اجل کو پہلے کس پر رحم آئے گا
    گرفتار قفس پر یا گرفتار نشیمن پر

    دیوانہ وار دوڑ کے کوئی لپٹ نہ جائے
    آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے دیکھا نہ کیجئے

    پہاڑ کاٹنے والے زمیں سے ہار گئے
    اسی زمین میں دریا سمائے ہیں کیا کیا

    شربت کا گھونٹ جان کے پیتا ہوں خون دل
    غم کھاتے کھاتے منہ کا مزہ تک بگڑ گیا
    جیسے دوزخ کی ہوا کھا کے ابھی آیا ہو
    کس قدر واعظ مکار ڈراتا ہے مجھے

    پکارتا رہا کس کس کو ڈوبنے والا
    خدا تھے اتنے مگر کوئی آڑے آ نہ گیا

    بتوں کو دیکھ کے سب نے خدا کو پہچانا
    خدا کے گھر تو کوئی بندۂ خدا نہ گیا

    کیوں کسی سے وفا کرے کوئی
    دل نہ مانے تو کیا کرے کوئی

    پہنچی یہاں بھی شیخ و برہمن کی کشمکش
    اب مے کدہ بھی سیر کے قابل نہیں رہا

    غالب اور میرزا یگانہؔ کا
    آج کیا فیصلہ کرے کوئی

    مفلسی میں مزاج شاہانہ
    کس مرض کی دوا کرے کوئی

    کعبہ نہیں کہ ساری خدائی کو دخل ہو
    دل میں سوائے یار کسی کا گزر نہیں

    نہ دین کے ہوئے محسن ہم اور نہ دنیا کے
    بتوں سے ہم نہ ملے اور ہمیں خدا نہ ملا

    مجھے دل کی خطا پر یاسؔ شرمانا نہیں آتا
    پرایا جرم اپنے نام لکھوانا نہیں آتا

    جھانکنے تاکنے کا وقت گیا
    اب وہ ہم ہیں نہ وہ زمانہ ہے

    پیام زیر لب ایسا کہ کچھ سنا نہ گیا
    اشارہ پاتے ہی انگڑائی لی رہا نہ گیا

    آ رہی ہے یہ صدا کان میں ویرانوں سے
    کل کی ہے بات کہ آباد تھے دیوانوں سے

    خدا ہی جانے یگانہؔ میں کون ہوں کیا ہوں
    خود اپنی ذات پہ شک دل میں آئے ہیں کیا کیا

    صبر کرنا سخت مشکل ہے تڑپنا سہل ہے
    اپنے بس کا کام کر لیتا ہوں آساں دیکھ کر

    دیر و حرم بھی ڈھ گئے جب دل نہیں رہا
    سب دیکھتے ہی دیکھتے ویرانہ ہو گیا

    مجھے اے ناخدا آخر کسی کو منہ دکھانا ہے
    بہانہ کر کے تنہا پار اتر جانا نہیں آتا

    باز آ ساحل پہ غوطے کھانے والے باز آ
    ڈوب مرنے کا مزہ دریائے بے ساحل میں ہے

    دور سے دیکھنے کا یاسؔ گنہ گار ہوں میں
    آشنا تک نہ ہوئے لب کبھی پیمانے سے

    دنیا کے ساتھ دین کی بیگار الاماں
    انسان آدمی نہ ہوا جانور ہوا

    مرتے دم تک تری تلوار کا دم بھرتے رہے
    حق ادا ہو نہ سکا پھر بھی وفاداروں سے

    نہ سنگ میل نہ نقش قدم نہ بانگ جرس
    بھٹک نہ جائیں مسافر عدم کی منزل کے

    دنیا سے یاسؔ جانے کو جی چاہتا نہیں
    اللہ رے حسن گلشن ناپائیدار کا

    رنگ بدلا پھر ہوا کا مے کشوں کے دن پھرے
    پھر چلی باد صبا پھر مے کدے کا در کھلا

    کارگاہ دنیا کی نیستی بھی ہستی ہے
    اک طرف اجڑتی ہے ایک سمت بستی ہے

    حسن ذاتی بھی چھپائے سے کہیں چھپتا ہے
    سات پردوں سے عیاں شاہد معنی ہوگا

    یگانہؔ وہی فاتح لکھنؤ ہیں
    دل سنگ و آہن میں گھر کرنے والے

    پردۂ ہجر وہی ہستئ موہوم تھی یاسؔ
    سچ ہے پہلے نہیں معلوم تھا یہ راز مجھے

    ساقی میں دیکھتا ہوں زمیں آسماں کا فرق
    عرش بریں میں اور ترے آستانے میں

    فردا کو دور ہی سے ہمارا سلام ہے
    دل اپنا شام ہی سے چراغ سحر ہوا

    یاسؔ اس چرخ زمانہ ساز کا کیا اعتبار
    مہرباں ہے آج کل نا مہرباں ہو جائے گا

    ہاتھ الجھا ہے گریباں میں تو گھبراؤ نہ یاسؔ
    بیڑیاں کیونکر کٹیں زنداں کا در کیونکر کھلا

    بے دھڑک پچھلے پہر نالہ و شیون نہ کریں
    کہہ دے اتنا تو کوئی تازہ گرفتاروں سے

    یکساں کبھی کسی کی نہ گزری زمانے میں
    یادش بخیر بیٹھے تھے کل آشیانے میں

    امتیاز صورت و معنی سے بیگانہ ہوا
    آئنے کو آئنہ حیراں کو حیراں دیکھ کر

  • بھارتی فوج اور خفیہ ایجنسی  را منشیات  اسمگلنگ میں بھی ملوث نکلی،پاکستانی ایجنسیوں نے ہندوستانی ایجنسیوں کا منصوبہ ناکام بنا دیا

    بھارتی فوج اور خفیہ ایجنسی را منشیات اسمگلنگ میں بھی ملوث نکلی،پاکستانی ایجنسیوں نے ہندوستانی ایجنسیوں کا منصوبہ ناکام بنا دیا

    بھارتی فوج اور خفیہ ایجنسی را منشیات اسمگلنگ میں بھی ملوث نکلی،پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے ہندوستانی ایجنسیوں کا منصوبہ ناکام بنا دیا-

    باغی ٹی وی: بھارتی فوج اور خفیہ ایجنسی را منشیات اسمگلنگ میں بھی ملوث نکلی ،بھارتی فوج اپنی ہی عوام کو چونا لگانے میں پیش پیش ہے،بھارتی فوج اپنے ہی سینئر افسران کو دھوکہ دینے لگی،جھوٹ، جعلی مقابلے اور ماورائے عدالت قتل ہندوستانی فوج کی پہچان ہے-

    بھارتی فوج، را اورمقبوضہ جموں کشمیر پولیس میں مودی سرکار کے سامنے نمبر بنانے کامقابلہ جاری ہے ،بھارتی فوج مودی سرکار کی خوشامد کے چکر میں ہتھیار اسمگل کر کے آزادی پسندوں کے سر منڈھنے لگی-

    ابتدائی طور پر اسلحہٰ اور منشیات کی چھوٹی کھیپ کو کشمیر پولیس سے خفیہ رکھ کر سمگل کیا جاتا۔ کامیابی کی صورت میں ایک بڑی کھیپ) 50 رائفل، 30 پستول، 20 دستی بم، 50 کلوگرام منشیات (کا آزاد کشمیر سے سمگلنگ کا ڈرامہ رچایا جاتا)۔


    بھارتی فوجی افسران پروموشن، تمغوں اور رپورٹ کے چکر میں کشمیریوں کے خون سے کھیلنے لگ گئے،منصوبے کے مطابق مجبور کشمیریوں کو پیسے کا لالچ دے کر اسمگلنگ پر آمادہ کیا جاتا،موقع ملنے پر بے خبر ’اسمگلر‘ کو جعلی آپریشن میں مار دیا جاتا-

    آپریشن کارنگ دے کر ذاتی تشہیرکی جاتی اور الزام پاکستان کے سر تھوپ دیا جاتا،اسلحہٰ اور منشیات کی چھوٹی کھیپ کو کشمیر پولیس سے خفیہ رکھ کر اسمگل کیا جاتا،آزاد کشمیر سےا سمگلنگ کا ڈرامہ رچایا جاتا،جعلی اسمگلرزکوبھارتی فوج کےہاتھوں مروا دیاجاتا،آپریشن میں ملوث افسران کو انعام کے طور پر ہتھیار اور آوٹ اسٹینڈنگ رپورٹ سے نوازا جاتا-

    سی آئی ڈی کشمیر کا جموں و کشمیر پولیس کے سر براہ کو مراسلہ منظر عام پر۔مراسلے میں سی آئی ڈی کشمیر کا سربراہ جموں و کشمیر پولیس کے سربراہ کو منصوبے سے آگاہ کرتے ہوئے اسے نظر اندازکرنے کی ہدایات دے رہا ہےمراسلے میں 3راجپوت کے حاجی پیر سیکٹر، 12جاٹ کے اڑی سیکٹر اور لیفٹیننٹ کرنل اکشنت کا ضلع کپواڑہ میں جعلی آپریشن کا ذکر ہے۔

    ایک اورمراسلے میں CID ‘K’فورس کا اہلکار کمانڈنگ آفیسر کے غیر آمادہ رویے کو مبینہ طور پرایس پی بارہ مولا اور 12جاٹ رجمنٹ کے درمیان ہونے والے آپریشن کی ناکامی کی وجہ بتا رہا ہے۔ مراسلے میں مزید یہ بھی کہا گیا کہ کمانڈنگ آفیسر کے چھٹی جانے کی صورت میں سیکنڈ ان کمانڈ اس جعلی آپریشن پر رضا مند ہے۔

    بھارت تحریکِ آذادی کے کشمیر کو دبانے اور پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے پہلے بھی یہ حربے آزما چکا ہے۔ 26 فروری 2019 کو بی جے پی کی انتخابات میں جیت یقینی بنانے کیلئے جعلی سرجیکل سٹرائیک کا ڈرامہ رچایا گیا۔

    16جنوری2021کو "دی وائر” کی رپورٹ میں ارناب گوسوامی کی لیک واٹس ایپ چیٹ کے مطابق پلوامہ حملے میں مودی سرکار خود ملوث تھی 18 جولائی 2020 کو بھارتی فوج نے تین کشمیریوں کو دہشت گرد قرار دے کر شہید کر ڈالا۔شور مچنے پر نام نہاد انصاف کا پرچار کیا۔لیکن جنوری 2021میں اسی واقعے میں ملوث بریگیڈیر کٹوچ کو ’یدھ سیوا میڈل‘ سے نوازا گیا۔

    3 فروری 2022کو بھارتی فوج نے شبیر احمد کو چند گیر، بانڈی پورہ سے اسلحہ سمیت گرفتار کیا جبکہ کشمیرسی آئی ڈی کے مطابق شبیر احمد 19 جنوری سے زیرِ حراست تھا2010 میں مچھل میں تین نوجوانوں کو جعلی مقابلوں میں شہید کر ڈالا 14مارچ 2022کو جعلی مقابلے میں ابرار نامی شخص کو اسلحہ سمیت زخمی حالت میں گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا۔

    28نومبر 2022 کو بھارتی فوج نے ضلع کپواڑہ کے گاؤں پنج ترن میں ایک گھر کے نزدیک اسلحہ چھپایا۔ جسے مکان مکین نے فون میں ریکارڈ کر لیا ویڈیومیں بھارتی فوجیوں کو اسلحہ چھپاتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے30نومبر کو بھارتی فوج نے چھاپہ مار کر وہی ہتھیار برآمد کرلیے اور الزام پاکستان پر لگا دیا۔

    ہندوستانی فوج کے افسران، سینئر افسران کی چاپلوسی کے لئے منشیات اور اسلحہ اسمگل کررہے ہیں کشمیر میں 1279 دن کے غیر قانون محاصر ے کے باوجود بہادر کشمیری آج بھی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں کشمیریوں کی تحریک آزادی سے توجہ ہٹانے اور2023 میں 9 ریاستوں کے انتخابات جیتنے کے لئے، ہندوستانی فوج ان ہتھکنڈوں کا استعمال کررہی ہے۔

    باراک اوباما نے اپنی کتاب، The Promised Land میں لکھا تھا کہ پاکستان مخالف موقف پر ہندوستانی انتخابات جیتتا ہےعالمی میڈیا کئی بار ان جعلی مقابلوں پر آواز اٹھا چکا ہے۔

    2010 اور 2015میں بی بی سی نے کشمیر میں ہونے والے جعلی مقابلوں پر سوال اٹھایا تھا۔ رپورٹ کے مطابق 25مارچ 2020کو کابل میں سِکھ گُردوارے پر حملے میں بھی بھارتی دہشتگرد ملوث تھے اور بھارتی قوانین ایسے جرائم میں ملوث فوجیوں کا تحفظ بھی کرتے ہیں۔

    امریکی جریدے فارن پالیسی نے بھی بھارتی دہشت گردی کے حوالے سے بھارت کو بے نقاب کیا تھا جس میں داعش اور بھارتی روابط کو دُنیا کے سامنے لایا گیاتھا اور اس گٹھ جوڑ کو عالمی اور علاقائی خطرہ قرار دیا گیا جبکہ 30دسمبر 2020 کوٹی آر ٹی ورلڈ نے بھی بھارتی جعلی مقابلوں کا پردہ چاک کیا تھا۔

    سکھ یاتریوں کی بھارت میں ہی مودی کے خلاف نعرے بازی

    بھارتی ہٹ دھرمی، ایک بار پھرپاکستان آنیوالے سکھ یاتریوں کوروک دیا گیا

    خالصتانی ہوں،حکومت مودی کے دباؤ کا شکارہے، گوپال سنگھ چاولہ کی باغی ٹی وی سے گفتگو

    سکھ برادی کا خالصتان بارے ریفرنڈم 2020، وینا ملک نے بڑا اعلان کر دیا

    آسٹریلوی حکومت نے میلبرن میں خالصتان ریفرنڈم رکوانے سے انکار کردیا۔

     علیحدگی پسند گروپ سکھس فار جسٹس (SFJ) نے میلبورن آسٹریلیا میں خالصتان ریفرنڈم مہم کا آغاز کیا ج

    انٹرپول نے خالصتان کے رہنما کے ریڈ وارنٹ جاری کرنے کی بھارت کی درخواست مسترد کردی

    ٹورنٹو:کینیڈا میں خالصتان ریفرنڈم کے حوالے سے تاریخ رقم ، خالصتان ریفرنڈم میں ایک لاکھ 10 ہزار سکھوں نے ووٹ کاسٹ کی

  • تین سالہ بچی سے اجتماعی زیادتی

    تین سالہ بچی سے اجتماعی زیادتی

    بھارت میں دو افراد نے تین سالہ بچی کو مبینہ طور پر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنادیا۔

    باغی ٹی وی: بھارتی میڈیا کے مطابق دارالحکومت نئی دہلی کے جنوبی علاقے میں دو ملزمان نے جنگل میں لے جا کر تین سالہ بچی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا، واقعہ کا مقدمہ بھی درج کرلیا گیا ہے۔

    دنیا کے امیر ترین افراد ، 20 ویں نمبر کی فہرست سے بھی اڈانی غائب

    پولیس کا کہنا ہےکہ واقعے میں ملوث دونوں ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا ہے جن کی شناخت 27 سالہ رام نیواس مشرا اور 22 سالہ شکتی مان سنگھ کے نام سے ہوئی جبکہ دونوں ملزمان مدھیا پردیش کے رہائشی ہیں دونوں ملزمان نئی دہلی کا کچرا اٹھانے والی مقامی کمپنی میں ہیلپر ہیں جبکہ دونوں ملزمان شادی شدہ ہیں۔

    پولیس حکام کا کہنا ہےکہ واقعے کی اطلاع بچی کی ماں نے دی جو متاثرہ بچی کے ساتھ پولیس اسٹیشن پہنچی اور شکایت درج کرائی۔

    عراق میں 5 ہزار سال پرانا انوکھا فریج دریافت کرلیا گیا

    خاتون نے اپنی شکایت میں بتایا کہ اس کی تین سالہ بچی صبح سے لاپتا تھی اور اس نے جب بچی کی تلاش شروع کی تو اس کے پڑوسی نے بچی کو جنگل کی طرف دیکھے جانے کی اطلاع دی، جنگل میں بچی کی تلاش کے بعد وہ وہاں روتی ہوئی پائی گئی وہ بچے کو فوراً تھانے لے گئے۔ اسے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز، یا ایمس لے جایا گیا، جہاں اس کا علاج کیا جا رہا ہے۔

  • تھرڈ امپائر کو غلطی کا احساس ہوا تو فیصلہ فیلڈنگ کرنے والی ٹیم کے حق میں دیا

    تھرڈ امپائر کو غلطی کا احساس ہوا تو فیصلہ فیلڈنگ کرنے والی ٹیم کے حق میں دیا

    تھرڈ امپائر کو غلطی کا احساس ہوا تو فیصلہ فیلڈنگ کرنے والی ٹیم کے حق میں دیا

    آسٹریلیا کی بگ بیش لیگ (بی بی ایل) میں وکٹ کیپر نے تھرڈ امپائر کو فیصلہ تبدیل کرنے پر مجبور کردیا۔ سڈنی سکسرز کی اننگز کے دوران بیٹر جوش فلپ نے میٹ ککنمان کی گیند پر سوئیپ شاٹ کھیلا جس پر برسبین ہیٹ کے وکٹ کیپر جمی پیرسن نے کیچ کی زوردار اپیل کردی، جسے امپائر نے مسترد کیا تو ریویو لیا گیا۔ اسنیکو میٹر سے گیند واضح طور پر گلوز کو چھوتی ہوئی دکھائی دی لیکن تھرڈ امپائر نے ناٹ آؤٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔


    وکٹ کیپر نے گیند بولر کو دینے کے بجائے گلوز میں تھامے رکھی اور فیلڈ امپائر سے دوبارہ چیک کرنے کو کہا، اس بار غور سے دیکھنے کے بعد تھرڈامپائر کو غلطی کا احساس ہوگیا اور فیصلہ فیلڈنگ کرنے والی ٹیم کے حق میں آیا۔

    مزید یہ بھی پڑھیں
    طویل عرصہ بعد اپنے مالک کو دیکھتے ہی اونٹ جذباتی ہوگیا
    کراچی میں مقیم غیرقانونی باشندوں کے خلاف کریک ڈاؤن، 11 گرفتار
    ایف بی آئی کی امریکی صدر جو بائیڈن کے گھر 4 گھنٹے تلاشی
    امریکا جانے والا ایک شخص لاپتہ ہوگیا
    شیخ رشید کی رہائش گاہ لال حویلی کو سیل کردیا گیا
    بجلی بریک ڈاؤن پر نئی رپورٹ نے حکومتی بیانات کا بھانڈا پھوڑ دیا
    ہماری طرف آئیں ہم اچھے میزبان ہیں آپ کو دکھائیں گےکہ ہم کیسے نظر آتے ہیں،عدنان صدیقی کا بھارتی فلم ’مشن مجنوں‘ پر ردعمل
    عدالت نے مونس الہٰی کی اہلیہ کے وکیل کو جواب جمع کروانے کیلئے وقت دے دی
    واضح رہے کہ دوسری جانب خبریں آئیں تھی کہ افغانستان میں طالبان حکومت کی خواتین اور لڑکیوں پر پابندیوں کی بنا پر آسٹریلیا نے مارچ میں افغانستان کے خلاف مینز ون ڈے سیریز کھیلنے سے انکار کیا ہے۔ تین میچوں کی یہ سیریز متحدہ عرب امارات میں کھیلی جانی تھی۔ کرکٹ آسٹریلیا نے کہا کہ اس نے یہ فیصلہ تمام متعلقہ سٹیک ہولڈرز بشمول آسٹریلوی حکومت سے مشاورت کے بعد کیا۔

    اس پر ردعمل دیتے ہوئے افغان سپنر راشد خان نے کہا ہے کہ وہ آسٹریلیا کی ٹی ٹوئنٹی لیگ بِگ بیش (بی بی ایل) سے نکلنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ انھوں نے اس حوالے سے تنبیہ جاری کر دی ہے۔ ایڈیلیڈ سٹرائیکرز کے بولر نے کہا کہ ’مجھے اپنے ملک کی نمائندگی کرنے پر فخر ہے اور ہم نے عالمی سطح پر بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

  • واٹس ایپ کا ایک ماہ میں 36 لاکھ 77 ہزار اکاؤنٹ معطل کرنے کا دعویٰ

    واٹس ایپ کا ایک ماہ میں 36 لاکھ 77 ہزار اکاؤنٹ معطل کرنے کا دعویٰ

    واٹس ایپ کا ایک ماہ میں 36 لاکھ 77 ہزار اکاؤنٹ معطل کرنے کا دعویٰ

    انسٹنٹ میسیجنگ ایپ واٹس ایپ نے ایک ماہ میں بھارت بھر میں 36 لاکھ 77 ہزار سے زائد اکاؤنٹ بلاک کردیئے ہیں۔ 36 لاکھ سے زائد اکاؤنٹس بلاک کرنے کی تصدیق خود واٹس ایپ نے اپنی ایک رپورٹ میں کی ہے۔ یہ اکاؤنٹس صرف دسمبر 2021 میں بلاک کئے گئے ہیں۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت میں اس ایپ کو 40 کروڑ سے زائد سارفین استعمال کرتے ہیں۔

    دسمبر 2022 میں واٹس ایپ کو ملک میں ایک ہزار607 شکایت موصول ہوئیں، جن میں سے 166 پر کارروائی عمل مں لائی گئی. معطل کئے گئے اکاؤنٹس میں سے 13 لاکھ 89 ہزار کو دیگر صارفین کی شکایات پر بند کیا گیا۔ ان اکاؤنٹس کی پہلے ہی ضوابط کی خلاف ورزی کے باعث نگرانی کی جارہی تھی۔ دوسری جانب واٹس ایپ ویب کے مطابق صارفین مندرجہ ذیل تجاویز پر عمل کر کے اپنے WhatsApp اکاؤنٹ کی بہتر طریقے سے حفاظت کر سکتے ہیں جن میں سب سے اول کبھی بھی دوسروں کے ساتھ اپنا رجسٹریشن کوڈ یا دو قدمی توثیق کا PIN شیئر نہ کریں۔ جبکہ دوسرا دو قدمی توثیق فعال کریں اور ای میل پتہ فراہم کریں تاکہ PIN بھول جانے کی صورت میں آپ کے کام آ سکے۔ اسی طرح آلے کا کوڈ سیٹ کریں۔

    ویب کے مطابق محتاط رہیں کہ کس کو آپ کے فون تک جسمانی طور پر رسائی حاصل ہے۔ اگر کسی کو آپ کے فون تک جسمانی طور پر رسائی حاصل ہے تو وہ آپ کی اجازت کے بغیر آپ کا WhatsApp اکاؤنٹ استعمال کر سکتا ہے۔ واٹس ایپ کے مطابق ہم تجویز کرتے ہیں کہ آپ یہ مشورہ اپنے دوستوں اور فیملی کے ساتھ شیئر کریں تاکہ ان کو WhatsApp اکاؤنٹس کو محفوظ رکھنے میں مدد مل سکے۔

  • گوانتاناموبےجیل میں قید پاکستانی قیدی ماجد خان کوبالآخررہا کردیا گیا

    گوانتاناموبےجیل میں قید پاکستانی قیدی ماجد خان کوبالآخررہا کردیا گیا

    نیویارک :امریکی حکومت نے گوانتاناموبے جیل میں قید پاکستانی قیدی ماجد خان کو رہا کر دیا، ماجد خان کو القاعدہ کے لیے کام کرنے پر امریکی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی ( سی آئی اے ) نے مارچ 2003 میں گرفتار کیا تھا۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق 42 سالہ ماجد خان کو امریکا کا ہائی ویلیو قیدی سمجھا جاتا تھا جنہیں نائن الیون کے حملوں کے بعد گرفتار کیا گیا، انہیں 2003 میں گرفتاری کے 3 سال بعد گوانتاناموبے جیل لے جایا گیا جبکہ ایک معاہدے کے تحت انہیں 2022 میں رہا کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔

    رہائی کے بعد ماجد خان نے کہا کہ آج مجھے ایسا لگتا ہے جیسے میں دوبارہ پیدا ہوا ہوں اور میں نے دنیا میں دوبارہ قدم رکھا ہے، مجھے زندگی میں دوسرا موقع دیا گیا ہے اور میں اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کا ارادہ رکھتا ہوں، بیس سالوں میں دنیا بہت بدل گئی ہے اور میں بھی بہت بدل گیا ہوں۔

    انہوں نے کہا کہ میں تھوڑا سا حیرانگی میں ہوں کیونکہ میں آزاد ہونے کا بہت طویل عرصے سے انتظار کر رہا تھا ، قید کے دوران میں ایک چلتا پھرتا مردہ آدمی تھا، سی آئی اے چاہتی تھی کہ میں ہمیشہ اسی طرح رہوں، درحقیقت جب مجھے تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا تھا میں دہشت اور درد سے بچنے کے لیے اکثر موت کی تمنا کرتا تھا۔

    دوسری جانب رہائی کے بعد ماجد خان کو کیریبین اور وسطی امریکی ملک بیلیز بھیج دیا گیا ہے جس کا بیلیز کی کابینہ کی جانب سے خیر مقدم کیا گیا ہے، بیلیز کے وزیر خارجہ ایمون کورٹنے نے کہا کہ خان دہشت گرد نہیں ہیں اور اگر وہ چاہیں تو رہائی پانے کے بعد اپنی باقی زندگی یہاں گزارنے کے لیے آزاد ہیں۔

    واضح رہے کہ گوانتاناموبے حراستی مرکز 2002 میں ’’ دہشت گردی کے خلاف جنگ ‘‘ کے دوران پکڑے گئے قیدیوں کے لیے کھولا گیا تھا۔

  • کمرہ امتحان میں 500 لڑکیاں اکیلا لڑکا غش کھا کر گر پڑا

    کمرہ امتحان میں 500 لڑکیاں اکیلا لڑکا غش کھا کر گر پڑا

    بھارتی ریاست بہار میں بارہویں جماعت کا طالب علم بورڈ کے امتحان میں ایک کمرے میں 500 لڑکیاں دیکھ کر بے ہوش ہو گیا۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بہار میں 12ویں جماعت کا ایک طالب علم مبینہ طور پر اس وقت بے ہوش ہو گیا جب وہ 500 لڑکیوں سے بھرے امتحانی مرکز میں داخل ہوا۔


    بہار کے علامہ اقبال کالج کا طالب علم منی شنکر بریلینٹ اسکول میں انٹرمیڈیٹ کا امتحان دینے گیا تو اسے ایسے کمرے میں بھیجا گیا جہاں وہ ایک ہی لڑکا تھا اور وہاں 500 لڑکیاں تھیں منیش شنکر امتحان کی ٹینشن کے بجائے لڑکیوں کے بیچ ہونے کی ٹینشن لیتا رہا اور پھر بے ہوش ہوگیا جسے بعدازاں اسپتال لے جایا گیا۔

    منیش شنکر کی آنٹی نے بھارتی میڈیا سے گفتگو کے دوران تصدیق کی کہ شنکر کو جب احساس ہوا کہ وہ 500 لڑکیوں میں اکیلا لڑکا ہے تو وہ گھبراہٹ کا شکار ہوا اور پھر زمین پر گر پڑا وہ بخار میں مبتلا ہے اور اسپتال میں زیر علاج ہے بے ہوشی سے گرنے کے باعث منیش کا ہاتھ بھی فریکچر ہوگیا ہے۔

  • پاکستان گیس پائپ لائن مارچ تک مکمل کرلےیا18ارب ڈالرزجرمانہ دینےکا بندوبست کرلے:ایران کی دھمکی

    پاکستان گیس پائپ لائن مارچ تک مکمل کرلےیا18ارب ڈالرزجرمانہ دینےکا بندوبست کرلے:ایران کی دھمکی

    تہران:پاکستان گیس پائپ لائن مکمل کرےیا 18 ارب ڈالرز جرمانہ دینے کا بندوبست کرلے:ایران کی دھمکی،اطلاعات کے مطابق پاکستانی میڈیا کا کہنا ہے کہ تہران نے اسلام آباد کو خبردار کیا ہے کہ وہ مارچ 2024 تک ایران پاکستان گیس پائپ لائن کے اپنے حصے کی تعمیر کرے یا 18 بلین ڈالر کا جرمانہ ادا کرے۔پاکستان کی وزارت توانائی کے ایک سینئر اہلکار نے میڈیا کو بتایا کہ ایرانی حکام نے تقریباً تین ہفتے قبل پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے وفد کو یہ پیغام پہنچایا ہے۔

    پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایران نے کہا ہے کہ تہران پر امریکی پابندیاں غیر قانونی ہیں اور پاکستان فروری تا مارچ 2024 تک اپنے حصے میں 780 کلومیٹر طویل پائپ لائن تعمیر کرنے کا پابند ہے۔اسلامی جمہوریہ نے پہلے ہی اپنے علاقے میں پائپ لائن کا کچھ حصہ مغرب میں گیس فیلڈ سے مشرق میں پاکستان کی سرحد تک مکمل کر لیا ہے۔

    پاکستان کو پائپ لائن کے ذریعے ایران کی قدرتی گیس برآمد کرنے کا 25 سالہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان 2009 میں ہوا تھا اور اس پر 2015 تک عملدرآمد ہونا تھا لیکن ایران کے خلاف بین الاقوامی اور امریکی پابندیوں اور اسلام آباد پر واشنگٹن کے دباؤ کے باعث اب تک اس پر عمل درآمد نہیں ہو سکا۔ .

    دونوں فریقوں نے ستمبر 2019 میں ایک نظرثانی شدہ معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ اگر پاکستان 2024 تک پائپ لائن کو مکمل کر لے تو ایران نے کسی بین الاقوامی عدالت سے رجوع نہ کرنے پر اتفاق کیا۔اب ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ مارچ 2024 تک صرف ایک مختصر وقت رہ گیا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ اگر پاکستان نے 15 ماہ کے اندر پائپ لائن مکمل نہیں کی تو تہران پاکستانی سرحد تک پائپ لائن بچھانے سے ہونے والے نقصانات کے لیے 18 ارب ڈالر کا معاوضہ طلب کرے گا۔

  • انسانی شریانوں میں پلاسٹک کے ننھے ذرات دریافت

    انسانی شریانوں میں پلاسٹک کے ننھے ذرات دریافت

    سائنسدانوں نے پہلی بار انسانی شریانوں میں پلاسٹک کے ننھے ذرات کو دریافت کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : برطانیہ کی Hull یونیورسٹی اور Hull یورک میڈیکل اسکول کی تحقیق میں فوڈ پیکجنگ اور پینٹ میں استعمال ہونے والے پلاسٹک کے ذرات کو انسانی شریانوں میں دریافت کیا گیا۔

    سعودی عرب آئیندہ 2027 میں ایشیاکپ فٹ بال ٹورنا منٹ کی میزبانی کرے گا. اے ایف سی کا اعلان

    جرنل Plos One میں شائع کردہ اس تحقیق میں بائی پاس سرجری کے عمل سے گزرنے والے مریضوں کی Saphenous شریانوں کے نمونوں کا تجزیہ کیا گیا تھا،محققین نے شریانوں کے ہر گرام ٹشوز میں اوسطاً 5 مختلف اقسام کے پلاسٹک کے 15 ننھے ذرات کو دریافت کیا۔

    انہوں نے بتایا کہ ہم اس دریافت سےحیران رہ گئے، ہم یہ پہلے سےجانتے تھے کہ پلاسٹک کے ننھے ذرات خون میں موجود ہوتے ہیں ابھی یہ واضح نہیں کہ پلاسٹک کے ذرات شریانوں سے گزر کر دیگر ٹشوز تک پہنچ سکتے ہیں یا نہیں، مگر نتائج سے یہی عندیہ ملتا ہے کہ ایسا ممکن ہے۔

    50 ہزار سال بعد پہلی بار زمین کے قریب سے گزرنے والا سبز دم دار ستارہ آج آسمان پر…

    انہوں نے کہا کہ اگرچہ ابھی ہم ان ذرات سے انسانی صحت پر مرتب اثرات کے حوالے سے کچھ نہیں جانتے، مگر لیبارٹری تجربات میں معلوم ہوا کہ اس سے ورم اور تناؤ کا ردعمل بڑھ سکتا ہے محققین کے خیال میں اس سے دل کی صحت پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

  • ٹیکساس میں برفانی طوفان، لاکھوں افراد بجلی سے محروم،2 ہزار سے زائد پروازیں منسوخ

    ٹیکساس میں برفانی طوفان، لاکھوں افراد بجلی سے محروم،2 ہزار سے زائد پروازیں منسوخ

    امریکی ریاست ٹیکساس میں برفانی طوفان کی وجہ سے لاکھوں افراد بجلی سے محروم ہو گئے-

    باغی ٹی وی: غیر ملکی میڈیا کے مطابق شدید برفانی طوفان نے رواں ہفتے امریکا کے جنوبی حصوں کو متاثر کیا جس کی وجہ سے ریاست ٹیکساس میں بجلی کی بندش کا سامنا اور سفری معاملات میں بھی خلل پیدا ہوا 3 لاکھ 40 ہزار افراد بدھ کی شام سے بجلی سے محروم ہیں-


    پاؤر آوٹیج ڈاٹ یو ایس کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ شہر آسٹن اور اس کے ملحقہ علاقوں میں بھی رہائشیوں کو بجلی کی بندش کا سامنا ہے۔


    میڈیا رپورٹس کے مطابق برفانی طوفان کی وجہ سے امریکی ائیر لائنز کی جانب سے 2 ہزار 300 پروازیں منسوخ کی گئیں، فلائٹ آپریشن ڈیلاس اور آسٹن کے ہوائی اڈوں پر سب سے زیادہ متاثر ہوا برفانی طوفان کی وجہ سے درجنوں گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا جبکہ مختلف حادثات میں 6 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔


    محکمہ موسمیات کی جانب سے طوفان کو "طویل اور اہم” برف کے طوفان کا نام دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ طوفان اس وقت جنوبی میدانی علاقوں اور وسط جنوب سے گزر رہا ہے ٹیکساس کے ساتھ ساتھ شہر لوزیانا اور شمالی جارجیا کو شدید بارشوں کی وجہ سے سیلابی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
    https://twitter.com/politicalplayer/status/1620577563465904128?s=20&t=zZ4Bu4oyCfJ0UIe3Dqx_Gw


    https://twitter.com/AlexBFreeman/status/1620900633480990720?s=20&t=zZ4Bu4oyCfJ0UIe3Dqx_Gw