Baaghi TV

Tag: study visa

  • زمین جیسا سیارہ دریافت

    زمین جیسا سیارہ دریافت

    واشنگٹن: ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے اپنا پہلا سیارہ دریافت کر لیا اور اس چٹانی سیارے کا حجم تقریباً ہماری زمین جیسا ہی ہے۔

    باغی ٹی وی : LHS 475 b نامی یہ ایگزو پلینٹ 99 فیصد زمین کے قطر کے برابر ہےتاہم، زمینی سطح ہونے کے باوجود سائنسدانوں کو یہ نہیں معلوم کہ آیا اس کا کوئی ماحول ہے کہ نہیں۔ ایگزو پلینٹ ان سیاروں کو کہا جاتا ہے جو نظامِ شمسی سے باہر موجود ہوتے ہیں۔

    شُترمُرغ کے 4000 سال قدیم انڈے دریافت


    اگرچہ ماہرین کی ٹیم یہ نہیں بتاسکتی کہ وہاں کیاموجودہےلیکن اس بات کی نشاندہی ضرورکرسکتی ہےکہ وہاں کیاموجودنہیں ہے سائنسدانوں نے اس سیارے میں میتھین کی موٹی تہہ کی موجودگی نہ ہونے کے امکانات ظاہر کیے ہیں۔


    زمین سے 41 نوری سال کے فاصلے پر موجود اس سیارے کا درجہ حرارت زمین کے مقابلے میں کچھ سو ڈگری زیادہ ہے اور یہ اپنے مرکزی ستارے کے گرد دو دن میں چکر مکمل کر لیتا ہے۔


    ایسے ایگزو پلینٹ خلائی دور بینوں سے اب تک چھپے ہوئے تھے لیکن اس کی دریافت کے بعد یہ بات ایک بار پھر ثابت ہوگئی کہ جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کی ٹیکنالوجی کتنی جاندار ہے۔

    تین سیکنڈ میں آواز نقل کرنے ولا سوفٹ ویئر


    واشنگٹن میں ناسا ہیڈکوارٹرز کے آسٹروفزکس ڈویژن کے ڈائریکٹر مارک کلیمپِن نے ایک بیان میں کہا کہ زمین کے حجم کے چٹانی سیارے سے ملنے والے ان ابتدائی مشاہداتی نتائج سے مستقبل میں جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کے ذریعے چٹانی سیاروں کے ماحول کے مطالعے کے متعدد امکانات کا باب کھلتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ یہ ٹیلی اسکوپ ہمیں ہمارے نظامِ شمسی سے باہر موجود زمین کے جیسے سیاروں کے متعلق نئے فہم سے قریب سے قریب تر لے جارہی ہے، زمین کے سائز کے، چٹانی سیارے کے یہ پہلے مشاہداتی نتائج ویب کے ساتھ چٹانی سیارے کے ماحول کا مطالعہ کرنے کے لیے مستقبل کے بہت سے امکانات کے دروازے کھولتے ہیں ویب ہمیں ہمارے نظام شمسی سے باہر زمین جیسی دنیا کی نئی تفہیم کے قریب اور قریب لا رہا ہے، اور مشن ابھی ابھی شروع ہو رہا ہے۔

    جیمز ویب ٹیلی سکوپ نے کائنات کے ابتدائی دور میں بنتے ستاروں کی تصویر جاری کردی

  • سو کمار سین بنگالی زبان کے مشہور ماہر لسانیات اور ادبی تاریخ داں

    سو کمار سین بنگالی زبان کے مشہور ماہر لسانیات اور ادبی تاریخ داں

    سو کمار سین (16 جنوری 1900ء-3 مارچ 1992ء) بنگالی زبان کے مشہور ماہر لسانیات اور ادبی تاریخ داں ہیں۔ بنگالی زبان کی طرح وہ پالی، پراکرت اور سنسکرت میں یکساں طور پر مقبول ہیں۔

    تعارف
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سو کمار سین کی ولادت 1900ء میں ہوئی۔ ان کے والد ہریندر ناتھ سین ایک وکیل تھے اور والدہ کا نام نبانالینی دیوی تھا۔ ان کا تعلق مشرقی بردھامن ضلع سے ہے۔ ان کی ابتدائی تعلیم بردھامن میونسپل ہائی اسکول ہوئی۔ انہوں نے 1917ء میں ہائی اسکول کا امتحان پاس کیا۔ اس کے بعد ایف اے کی ڈگری 1919ء میں بردھامن راج کالج سے حاصل کی اور بعد ازاں کلکتہ یونیورسٹی سے ملحق ہو گئے۔

    1921ء میں گورنمنٹ سنسکرت کالج سے سنسکرت میں اول درجہ سے کامیابی حاصل کی اور انہیں اسکالرشپ ملی۔ انہوں نے فلولوجی کا تقابلی مطالعہ کیا اور اس کی ڈگری لی۔ انہوں نے 1923ء میں امتیازی نمبرات سے کامیابی حاصل کی ان کے استاد مشہور ماہر لسانیات سنیتی کمار چٹرجی اور ایراچ جہانگیر سوربجی تراپوریوالا تھے۔ انہیں پریم چند رائے چند فیلوشپ ملی اور پی ایچ ڈی کی ڈگری سے بھی نوازا گیا۔ وہ 1964ء میں یونیورسٹی سے فارغ ہوئے۔

    کیرئر
    ۔۔۔۔۔
    وہ 1930ء میں یونیورسٹی آف کلکتہ میں بحیثت معلم مقرر ہوئے اور یہاں وہ 34 برس تک تدریسی خدمت انجام دیتے رہے۔ 1954ء میں سنیتی کمار چٹرجی کے بعد اور فلولوجی کے دوسرے پروفیسر بنے۔ سین اپنی کتاب میں قدیم ہند آریائی زبان کا حوالہ دینے والے پہلے مصنف ہیں۔ انہوں نے یوز آف کیسی ان ویدک پروز (1958ء) اور بدھشٹ ہائیبرڈ سنسکرت (1928ء) میں اس مضمون پر مفصل بحث کی ہے۔ انہوں نے وسطی ہند آریائی زبانوں کا مطالعہ کیا اس کا مفصل تجزیہ لکھا۔ انہوں نے بنگالی زبان میں ادبی تخلیقات بھی دی ہیں اور بالخصوص دیو مالائی کہانی اور پران کو موضوع سخن بنایا ہے۔

    اعزازات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    1984ء میں لندن ایشیاٹک سوسائٹی نے انہیں گولڈن جوبلی میڈل سے نوازا۔ وہ اس اعزاز کے حاصل کرنے والے پہلے ایشائی تھے۔ 1963ء میں رابندر پرسکار، 1966ء اور 1984ء میں آنند پرسکار، 1981ء میں ودیاساگر پرسکار، 1982ء میں دیسی کوٹم اور 1990ء میں پدم بھوشن اعزاز سے نوازا گیا۔ ایشیاٹک سوسائٹی کولکاتا نے انہیں جدوناتھ سرکار میڈل سے نوازا۔ 1973ء میں انہیں ساہتیہ اکیڈمی فیلوشپ کے لیے بھی منتخب کیا گیا۔

  • ہرفرد موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات کی روک تھام کیلئے کردار ادا کرسکتا ہے،بل گیٹس

    مائیکرو سافٹ کے شریک بانی بل گیٹس نے پیشگوئی کی ہے کہ ہر فرد موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات کی روک تھام کے لیے کردار ادا کرسکتا ہے-

    باغی ٹی وی : 2015 میں پیرس میں ہونے والے ماحولیاتی معاہدے میں دنیا بھر کے رہنماؤں نے عالمی درجہ حرارت میں اضافے کو 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک محدود رکھنے پر اتفاق کیا تھا تاہم اب بل گیٹس نے پیشگوئی کی ہے کہ دنیا درجہ حرارت میں اضافے کو 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک محدود رکھنے کے ہدف کو حاصل نہیں کرسکے گی۔

    سمندری سیپی سے تیار ماحول دوست ہیلمٹ


    یہ پیشگوئی بل گیٹس نے سوشل میڈیا سائٹ ریڈیٹ میں بات کرتے ہوئے کی تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس حوالے سے ہونے والے کام میں کافی تیزی آئی ہے موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے ناقص کوششوں کی وجہ سے انسانی حالات میں بہتری کے لیے ہونے والی پیشرفت بھی سست رفتار ہوگئی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ دنیا کے کچھ حصوں میں 10 فیصد سے زیادہ بچے 5 سال کی عمر سے پہلے ہلاک ہوجاتے ہیں جبکہ 30 فیصد سے زیادہ افراد کو مناسب مقدار میں خوراک دستیاب نہیں تمام تر حالات کے باوجود مجھے اب بھی یقین ہے کہ ہم بھیانک نتائج سے بچ سکتے ہیں-

    خیال رہے کہ بل گیٹس نے ایک جوہری کمپنی ٹیرا پاور کی بنیاد رکھی ہے جبکہ بریک تھرو انرجی نامی کمپنی کے ذریعے موسمیاتی تبدیلیوں کی روک تھام کے لیے متعدد جدید ٹیکنالوجیز میں سرمایہ کاری کی ہے جبکہ موسمیاتی تبدیلیوں پر ایک کتاب بھی تحریر کی ہے،علاوہ ازیں بل گیٹس نے مصنوعی گوشت کی تیاری کے لیے بھی متعدد کمپنیوں کو سرمایہ فراہم کیا ہے۔

    واٹس ایپ نےصارفین کی آسانی کیلئےتصاویر اورویڈیوزکا نیافیچرمتعارف کرا دیا

    انہوں نے بتایا کہ مصنوعی گوشت سے تیار ہونے والی مصنوعات کا شیئر تو ابھی نہ ہونے کے برابر ہے مگر یہ گوشت کے متبادل ہونے کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی بہتری کے لیے اہم ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ موسمیاتی حالات کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ماحول دوست مصنوعات سستی ہوں، یہی واحد راستہ ہے جس سے ہم دنیا بھر کے ممالک سےتبدیلی لانےکا مطالبہ کرسکتے ہیں، اگر ان مصنوعات کی لاگت زیادہ ہوتوہم کامیاب نہیں ہوسکتےہر فرد موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات کی روک تھام کے لیے کردار ادا کرسکتا ہے آپ ایک ووٹر، خریدار اور ایک ورکر ہیں، ان تمام کرداروں میں آپ اس حوالے سے مددگار ثابت ہوسکتے ہیں-

    انہوں نے بتایا کہ میرے پاس امریکہ میں 1/4000 سے بھی کم کھیتی ہے۔ میں نے ان فارموں میں سرمایہ کاری کی ہے تاکہ انہیں مزید پیداواری بنایا جا سکے اور مزید ملازمتیں پیدا کی جا سکیں۔ اس میں کوئی بڑی اسکیم شامل نہیں ہے – درحقیقت یہ تمام فیصلے پیشہ ورانہ سرمایہ کاری ٹیم کے ذریعے کیے جاتے ہیں۔

    جرمنی کا پاکستان کو 2 کروڑ 80 لاکھ یورو کی امداد فراہم کرنے کا اعلان

    بہت امیر لوگوں کو میرے خیال میں انہیں بہت زیادہ ٹیکس ادا کرنا چاہئے اور انہیں وقت کے ساتھ ساتھ اپنی دولت کو چھوڑ دینا چاہئے۔ یہ میرے لیے بہت پورا کرنے والا رہا ہے اور یہ میرا کل وقتی کام ہے مجھے حیرت ہے کہ ٹیکس میں مزید اضافہ نہیں کیا گیا۔ مثال کے طور پر کیپیٹل گین کی شرحیں عام آمدنی کی شرح کے برابر ہوسکتی ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ بہت سارے لوگوں کے لیے چیزیں مشکل ہیں۔

    واضح رہے کہ بل گیٹس سے قبل اکتوبر 2022 میں اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کیجانب سے جاری ایک رپورٹ میں بھی کہا گیا تھا کہ درجہ حرارت میں اضافے کو 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک محدود رکھنے کا ہدف حاصل کرنا لگ بھگ ناممکن ہے۔

    واٹس ایپ نے اپنے صارفین کی سہولت کے لیے یا فیچر متعارف کرا دیا

  • 7,500، 15,000، 25,000 اور 40,000 روپے مالیت کے پرائز بانڈز بارے اچھی خبر

    7,500، 15,000، 25,000 اور 40,000 روپے مالیت کے پرائز بانڈز بارے اچھی خبر

    7,500، 15,000، 25,000 اور 40,000 روپے مالیت کے پرائز بانڈز بارے اچھی خبر

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 7,500، 15,000، 25,000 اور 40,000 روپے مالیت کے پرائز بانڈز کیش کرانے کی آخری تاریخ میں توسیع کردی ہے۔ اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وفاقی حکومت نے عوام الناس کی سہولت کے لیے 7,500 روپے، 15,000 روپے، 25,000 روپے اور 40,000 روپے مالیت کے پرائز بانڈز کا تبادلہ /نقد کرانے کا ایک اور موقع فراہم کرتے ہوئے اس کی تاریخ میں 30 جون 2023ء تک توسیع کر دی ہے۔

    حکومت نے ان پرائز بانڈز کو نقد کرانے کے لیے 30 جون 2022 کی تاریخ مقرر کی تھی۔
    7,500، 15,000، 25,000 اور 40,000 روپے مالیت کے پرائز بانڈز رکھنے والے افراد ان بانڈز کے بدلے نقد رقم حاصل کرسکتے ہیں۔ ان بانڈز کی 25,000 روپے یا 40,000 روپے کے پریمیم پرائز بانڈز (رجسٹرڈ) میں منتقلی ہوسکتی ہے، اس کے علاوہ انہیں اسپیشل سیونگز سرٹیفکیٹس یا ڈیفنس سیونگ سرٹیفکیٹس میں بدلا بھی جاسکتا ہے۔

    ان پرائز بانڈز کا تبادلہ ملک بھر میں اسٹیٹ بینک بینکنگ سروسز کارپوریشن کے دفاتر اور کمرشل بینکوں کی برانچوں سے 30 جون 2023 تک کیا جا سکتا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق کمرشل بینکوں کو توسیع شدہ تاریخ تک پرائز بانڈز نقد کرانے یا ان کا تبادلہ کرنے کی درخواستیں قبول کرنے کے حوالے سے ضروری ہدایات بھی جاری کر دی گئی ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    کنگ عبدالعزیز سٹریٹ دنیا کی سب سے طویل خطاطی والی دیوار بن گئی
    سعودی عرب میں افراطِ زرکی شرح 3.3 فی صد؛ مکانات کی وجہ سے مہنگائی میں اضافہ
    کراچی کے بلدیاتی انتخابات کے نتائج میں تاخیر ،پیپلز پارٹی آگے
    پیپلز پارٹی اور الیکشن کمیشن نے دھاندلی کے سارے ریکارڈ توڑے ہیں: مسرت جمشید
    مرکزی بینک نے مزید کہا ہے کہ بانڈز کو رکھنے والے افراد آخری موقع سے فائدہ اٹھائیں اور اپنی بچت کو 30 جون 2023 سے قبل دوسری شکل میں تبدیل کرا لیں۔ اس توسیع شدہ ڈیڈ لائن کی میعاد ختم ہونے کے بعد مذکورہ پرائز بانڈز کو نقد یا ان کا تبادلہ نہیں کرایا جا سکے گا،اور یہ قابل استعمال نہیں رہیں گے۔

  • 2023 کی سب سے محفوظ اور کم از کم محفوظ ایئر لائنز

    2023 کی سب سے محفوظ اور کم از کم محفوظ ایئر لائنز

    2023 کی سب سے محفوظ اور کم از کم محفوظ ایئر لائنز

    ریڈرز ڈائی جسٹ کے مطابق 2023 میں امریکی بڑے پیمانے پر بیرون ملک سفر کرنے کا منصوبہ بنا رہے جبکہ ٹریول ایجنٹ سینٹرل کے مطابق، 2023 کے لیے خریدے گئے بیمہ شدہ سفر کا 90% سے زیادہ بین الاقوامی مقامات کے لیے ہے جو آخرکار وبائی امراض سے پہلے کی سطحوں سے مماثل ہے۔ سی این بی سی کے ماہرین اسے "انتقام کا سفر” قرار دے رہے ہیں، ایک ایسا رجحان جو کووڈ-19 کے خلاف احتیاطی تدابیر سے پیدا ہونے والی ہلچل کے پاگل پن سے ہوا ہے۔ اور سب سے زیادہ حوالہ دیے جانے والے مقامات میں یورپ کی سائٹیں شامل ہیں، اور ایشیا کے سفر میں گزشتہ سال کے مقابلے میں مجموعی طور پر 8% اضافہ ہوا ہے۔ ہم شرط لگاتے ہیں کہ آپ شاید اپنے بالٹی لسٹ کے دوروں پر بھی سوچ بچار کر رہے ہیں۔

    ریڈرز ڈائی جسٹ نے لکھا ہے کہ اس طرح کے دلچسپ آنے والے دوروں کے ساتھ، بہت سے ہوشیار مسافر اپنے ہوائی سفر کی حفاظت کے بارے میں سوچ رہے ہیں، یہاں تک کہ اس کی لاگت سے بھی زیادہ اور خوش قسمتی سے، Airline Ratings، سیکڑوں ایئر لائنز کی حفاظت کی نگرانی کے لیے وقف ایک سائٹ نے ابھی 2023 میں سب سے محفوظ ایئر لائنز کے بارے میں اپنی سالانہ رپورٹ جاری کی ہے تاکہ قارئین محفوظ ترین پروازوں کی بکنگ میں اعتماد محسوس کر سکیں۔

    ایئر لائن ریٹنگز نے حفاظت کا تعین کیسے کیا تھا؟

    ایئر لائن ریٹنگ کا حفاظتی درجہ بندی کا معیار گزشتہ پانچ سالوں سے مختلف حفاظتی میٹرکس کا استعمال کرتے ہوئے 385 مختلف ایئر لائنز کا جائزہ لیا گیا. جس میں ایئر لائن کی کورونا تعمیل، پائلٹ کے تربیتی پروگرام، بحری بیڑے کی عمر اور بین الاقوامی سول ایوی ایشن آرگنائزیشن (ICAO) اور انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن (IATA) کے آڈٹ پر ڈیٹا شامل ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    کنگ عبدالعزیز سٹریٹ دنیا کی سب سے طویل خطاطی والی دیوار بن گئی
    سعودی عرب میں افراطِ زرکی شرح 3.3 فی صد؛ مکانات کی وجہ سے مہنگائی میں اضافہ
    کراچی کے بلدیاتی انتخابات کے نتائج میں تاخیر ،پیپلز پارٹی آگے
    پیپلز پارٹی اور الیکشن کمیشن نے دھاندلی کے سارے ریکارڈ توڑے ہیں: مسرت جمشید
    رپورٹ کے مطابق ہر ایئرلائن کو اپنی پرعزم حفاظت کے لیے سات ستارے تک کمانے کا موقع ہوگا اور ایئر لائن کی درجہ بندی کے مطابق کوئی بھی ایسا واقعہ جس میں پائلٹ یا ایئر لائن کی غلطی نہ ہونے کا عزم ہو اسے حفاظتی درجہ بندی میں شامل نہیں کیا جاتا ہے۔ جبکہ ایڈیٹر انچیف جیوفری تھومس کے مطابق تمام ایئر لائنز میں ہر روز واقعات ہوتے ہیں جبکہ بہت سے ہوائی جہاز کے انجن کی تیاری کے دوران مسائل پائے جاتے ہیں لہذا پرواز کا عملہ ٹریننگ سے ان واقعات کو قابو کرنے میں مدد فراہم کرتے جو ایک غیر محفوظ ایئر لائن سے اچھی ایئر لائن کا تعین کرتا ہے۔

  • پیٹرولیم مصنوعات کی خریداری؛ روسی وزیر توانائی کل پاکستان پہنچیں گے

    پیٹرولیم مصنوعات کی خریداری؛ روسی وزیر توانائی کل پاکستان پہنچیں گے

    پیٹرولیم مصنوعات کی خریداری؛ روسی وزیر توانائی کل پاکستان پہنچیں گے

     روس سے خام تیل، پیٹرولیم مصنوعات اور گیس کی خریداری سے متعلق روسی وزیر توانائی کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی وفد کل پاکستان پہنچے گا۔ روس اور پاکستان کے مابین 18 تا 20 جنوری فیصلہ کن اجلاس اسلام آباد میں طے ہے۔ وفد میں توانائی، ریلوے، کمیونیکیشن، صنعت و تجارت کے افسران اور ماہرین شامل ہوں گے۔

    ذرائع کے مطابق روس سے فوری طور پر 30فیصد رعایت پر خام تیل اور دیگر توانائی مصنوعات طے کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ روس سے سستی پیٹرولیم مصنوعات ملنے کی صورت میں سالانہ 2ارب ڈالر زرمبادلہ کی بچت ہوسکے گی۔ پاکستانی ریفائنریوں نے روسی خام تیل سے پیٹرولیم مصنوعات کی پیداوار ممکن قرار دی ہے۔ انٹر گورنمنٹ کمیشن کے اجلاس کے دوران ادائیگیوں اور شپنگ کا طریقہ کار بھی طے کیا جائے گا۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    کنگ عبدالعزیز سٹریٹ دنیا کی سب سے طویل خطاطی والی دیوار بن گئی
    سعودی عرب میں افراطِ زرکی شرح 3.3 فی صد؛ مکانات کی وجہ سے مہنگائی میں اضافہ
    کراچی کے بلدیاتی انتخابات کے نتائج میں تاخیر ،پیپلز پارٹی آگے
    پیپلز پارٹی اور الیکشن کمیشن نے دھاندلی کے سارے ریکارڈ توڑے ہیں: مسرت جمشید

    یاد رہے کہ وزیر مملکت برائے پیٹرولیم مصدق ملک نے روس سے سستا تیل خریدنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان میں آنے والے وقت میں توانائی کی قیمت کو کم کرنے میں روسی خام تیل کا بہت بڑا کردار ہوگا۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مصدق ملک نے کہا تھا کہ روس کی تیل کمپنیوں سے کم قیمت پر تیل خریدنے کی بات ہوئی اور تیل کمپنیوں کی ٹیم کے پاکستان آنے پر پیٹرول اور ڈیزل بھی کم قیمت پر خریدا جائے گا۔

    انہوں نے کہا تھا کہ روسی تیل کمپنیوں سے ملاقات کے بعد یہ طے کریں گے کہ دنیا میں جو قیمت چل رہی ہے اس سے بھی کم قیمت پر ڈیزل اور آئل دیا جائے، اسی طرح توانائی کی قیمت کم ہوگی اور پھر ہر چیز کی پیداواری قیمت بھی کم ہوگی۔

  • برسبین ون ڈے؛ آسٹریلیا کی پاکستان کو 8 وکٹوں سے شکست

    برسبین ون ڈے؛ آسٹریلیا کی پاکستان کو 8 وکٹوں سے شکست

    برسبین ون ڈے؛ آسٹریلیا کی پاکستان کو 8 وکٹوں سے شکست

     آسٹریلیا ویمن کرکٹ ٹیم نے پہلے ون ڈے میں ڈک ورتھ لوئس طریقہ کے تحت پاکستان ویمن ٹیم کو 8 وکٹوں سے شکست دے دی۔ برسبین میں کھیلے گئے پہلے ون ڈے کو بارش کے باعث 40 اوورز تک محدود کیا گیا۔ پاکستان ویمن ٹیم پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 8 وکٹوں کے نقصان پر 160 رنز بنا سکی۔ قومی ٹیم کی جانب سے ندا ڈار 59 رنز بنا کر نمایاں رہیں۔

    میزبان آسٹریلیا نے دو وکٹوں کے نقصان پر 161 رنز کا ہدف 29ویں اوور کی پانچویں گیند پر حاصل کر لیا۔ فوبی لیچ فیلڈ نے 78 رنز اور کپتان میگ لیننگ نے 67 رنز کی اننگز کھیلی۔ تین میچز پر مشتمل سیریز کا دوسرا ون ڈے 18 جنوری کو برسبین میں ہی کھیلا جائے گا جبکہ تیسرا ون ڈے 21 جنوری کو سڈنی میں ہوگا۔ ٹی ٹوئنٹی سیریز 24 جنوری سے شروع ہوگی۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    کنگ عبدالعزیز سٹریٹ دنیا کی سب سے طویل خطاطی والی دیوار بن گئی
    سعودی عرب میں افراطِ زرکی شرح 3.3 فی صد؛ مکانات کی وجہ سے مہنگائی میں اضافہ
    کراچی کے بلدیاتی انتخابات کے نتائج میں تاخیر ،پیپلز پارٹی آگے
    پیپلز پارٹی اور الیکشن کمیشن نے دھاندلی کے سارے ریکارڈ توڑے ہیں: مسرت جمشید

    جبکہ خیال رہے کہ اس سے قبل گزشتہ دنوں نیوزی لینڈ نے بلے بازوں کی ذمہ دارانہ کارکردگی کی بدولت پاکستان کو تین میچوں کی سیریز کے تیسرے اور فیصلہ کن میچ میں 2 وکٹوں سے شکست دے میچ کے ساتھ ساتھ سیریز بھی 1-2 سے اپنے نام کرلی۔ اس سے قبل پاکستان نے فخر زمان کی سنچری اور محمد رضوان کی نصف سنچری کی بدولت نیوزی لینڈ کے خلاف مقررہ 50 اوورز میں 9 وکٹوں پر 280 رنز بنائے تھے۔

    کراچی میں کھیلے گئے سیریز کے تیسرے اور فیصلہ کن ون ڈے میچ میں پاکستان نے ٹاس جیت کر نیوزی لینڈ کو باؤلنگ کی دعوت دی۔ ٹاس کے موقع پر بابر اعظم نے کہا کہ وکٹ بیٹنگ کے لیے سازگار لگ رہی ہے اس لیے ہم زیادہ سے زیادہ رنز بنانے کی کوشش کریں گے۔

    پاکستانی اوپنرز نے ایک مرتبہ پھر ناقص آغاز فراہم کیا، اس دفعہ سیریز میں اپنا پہلا میچ کھیلنے والے شان مسعود دوسرے اوور میں صفر پر فرگوسن کی وکٹ بن گئے۔ کپتان بابر اعظم بھی جلدی آؤٹ ہوئے، کیوی باؤلر بریسویل نے میزبان ٹیم کے کپتان کو ساتویں اوور میں اس وقت آؤٹ کیا جب ٹیم کا اسکور محض 21 رنز تھا اور انہوں نے صرف 4 رنز بنائے تھے۔

  • چین میں کورونا وائرس سے نو سو ملین لوگ متاثر

    چین میں کورونا وائرس سے نو سو ملین لوگ متاثر

    چین میں کورونا وائرس سے نو سو ملین لوگ متاثر

    چین میں محکمہ صحت کے حکام نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے باعث ملک میں تقریباً 60 ہزار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔‘ فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق چین کی حکومت نے دسمبر میں کورونا وائرس کے حوالے سے پابندیاں ہٹانے کے بعد پہلی مرتبہ اموات کی تعداد بتائی ہے. نیشنل ہیلتھ کمیشن میں بیورو آف میڈیکل ایڈمنسٹریشن کے سربراہ جیاؤ یاہوی نے سنیچر کو پریس کانفرنس میں بتایا کہ ’8 دسمبر 2022 سے 12 جنوری 2023 تک 59 ہزار 938 افراد ہلاک ہوئے. جبکہ ممکمل طور 9 سو ملین لوگ متاثر ہوئے ہیں.

    جبکہ اس میں کچھ تعداد سرکاری ہسپتالوں میں ہلاک ہونے والے افراد کی ہے اور یہ تعداد اس سے زیادہ ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان میں سے پانچ ہزار 503 اموات براہ راست کورونا وائرس کی وجہ سے اور 54 ہزار 435 اموات کورونا اور دیگر بیماریوں کی وجہ سے ہوئیں۔ گذشتہ برس دسمبر میں کورونا پابندیاں ختم کرنے کے بعد چین پر الزام لگایا جاتا رہا تھا کہ اس نے اموات کی درست تعداد نہیں بتائی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    کنگ عبدالعزیز سٹریٹ دنیا کی سب سے طویل خطاطی والی دیوار بن گئی
    سعودی عرب میں افراطِ زرکی شرح 3.3 فی صد؛ مکانات کی وجہ سے مہنگائی میں اضافہ
    کراچی کے بلدیاتی انتخابات کے نتائج میں تاخیر ،پیپلز پارٹی آگے
    پیپلز پارٹی اور الیکشن کمیشن نے دھاندلی کے سارے ریکارڈ توڑے ہیں: مسرت جمشید
    چین نے اس سے قبل کورونا کی وجہ سے ہونے والی اموات کی کیٹیگری تبدیل کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’وہ صرف انہی افراد کی ہلاکت کو شمار کرے گا جو کورونا کی وجہ سانس کی تکلیف میں مبتلا ہو کر ہلاک ہوں گے۔ تاہم عالمی ادارہ صحت نے اس پر تنقید کی تھی۔ ڈبلیو ایچ او کے سربراہ ٹیڈروس ایڈہانم نے کہا تھا کہ ’ان کا ادارہ چین سے کورونا کی وجہ سے ہونے والی ہلاکتوں اور ہسپتالوں میں داخل ہونے والے مریضوں کا قابل اعتبار ڈیٹا فراہم کرنے کا کہہ رہا ہے۔

    چینی محکمہ صحت کے حکام نے سنیچر کو کہا کہ ’ہلاک ہونے والے افراد کی اوسط عمر 80.3 برس ہے جن میں سے 90 فیصد افراد ایسے تھے جن کی عمر 65 برس سے زیادہ تھی۔ واضح رہے کہ چین میں 60 برس سے زائد عمر کے لاکھوں افراد کو ویکسین نہیں لگائی گئی۔

  • روزا لکسمبرگ:فلسفی، ماہر معاشیات

    روزا لکسمبرگ:فلسفی، ماہر معاشیات

    پیدائش:05 مارچ 1871ء
    زاموسک
    وفات:15 جنوری 1919ء
    برلن
    وجۂ وفات:شوٹ
    طرز وفات:قتل
    شہریت:جرمنی
    سلطنت روس
    مادر علمی:جامعہ زیورخ
    زبان:جرمن

    روزا لکسمبرگ، جن کا مکمل نام روزالہ لکسمبرگ تھا، 5 مارچ 1871ء کو پیدا ہوئیں۔ آپ مارکس کے نظریہ سے متاثر تھیں اور ایک فلسفی، ماہر معاشیات اور پولینڈ کی یہودی تحریکوں کی کارکن تھیں، جو بعد میں ایک جرمن شہری بھی رہیں۔ روزا لکسمبرگ پولینڈ اور لیتھویانا کی سماجی جمہوریت، جرمن سماجی و جمہوری پارٹی، جرمنی کی سماج و جمہور پارٹی اور جرمنی کی کمیونسٹ پارٹی کی کارکن رہیں۔

    1915ء میں جب جمہور پارٹی نے جرمنی کی جنگ عظیم دوم میں شرکت کی حمایت کی تو روزا لکسمبرگ نے جنگ کے خلاف ایک اتحاد سپارتیس لیگ کے نام سے تشکیل دیا۔ یکم جنوری 1919ء کو یہ لیگ جرمنی کے کمیونسٹ پارٹی میں تبدیل کر دیا گیا۔ نومبر 1918ء میں جب جرمنی میں انقلاب برپا ہوا تو روزا لکسمبرگ نے سرخ جھنڈا کے نام سے ایک تحریک شروع کی جو سارتیس لیگ کی جدوجہد کا ہی حصہ تھی۔
    15 جنوری 1919ء کو ان کی وفات ہوئی۔

  • مارٹن لوتھر کنگ: یکساں  شہری حقوق کا داعی

    مارٹن لوتھر کنگ: یکساں شہری حقوق کا داعی

    مارٹن لوتھر کنگ

    15 جنوری : یوم وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    امریکی پادری مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کالے امریکیوں کیلئے یکساں شہری حقوق کی تحریک کے اہم رہنما تھے۔ وہ اٹلانٹا، جارجیا میں 15 جنوری 1929ء کو پیدا ہوئے اور دوسرے سیاہ فاموں کی طرح تعصب کا نشانہ بنتے رہے۔

    انہوں نے 1955ء کے منٹگمری بس بائیکاٹ کی قیادت کی ۔۔۔ بس بائیکاٹ کی یہ تحریک یکم دسمبر 1955ء کو منٹگمری، الاباما میں روزا پارکس کے بس ڈرائیور کے اس حکم کو ماننے سے انکار پر چلائی گئی تھی کہ وہ سیاہ فاموں کے لیے مختص بس کے حصے میں اپنی سیٹ سفید فام مسافر کیلئے چھوڑ دیں۔امریکی کانگریس نے بعد میں روزا پارکس کو ” شہری حقوق کی خاتون اول” اور ” تحریک آزادی کی ماں” قرار دیا تھا۔
    کنگ کی کوششوں کے نتیجے میں 1963ء میں واشنگٹن کی جانب مارچ کیا گیا، جہاں کنگ نے اپنی شہرۂ آفاق تقریر "میرا ایک خواب ہے” کی اور امریکا کی تاریخ کے عظیم ترین مقررین میں سے ایک کہلائے۔۔ ملاحظہ ہو اقتباس :
    I have a dream that one day this nation will rise up and live out the true meaning of its creed “We hold these truths to be self-evident, that all men are created equal.”

    I have a dream that one day on the red hills of Georgia , the sons of former slaves and the sons of former slave owners will be able to sit down together at the table of brotherhood.

    I have a dream that my four little children will one day live in a nation where they will not be judged by the color of their skin but by the content of their character.

    I have a dream that one day right there in Alabama little black boys and black girls will be able to join hands with little white boys and white girls as sisters and brothers.

    شہری حقوق کی مہم کے حوالے سے عوامی شعور اجاگر کرنے اور 1964 میں نسلی تفریق اور امتیاز کےخلاف شہری نافرمانی کی تحریک چلانے اور پرامن انداز احتجاج اپنانے پر لوتھر کنگ کو نوبل امن انعام سے نوازا گیا۔ وہ اس اعزاز کو حاصل کرنے والے سب سے کم عمر شخص تھے۔ 1968ء میں اپنے قتل سے پہلے غربت کے خاتمے اور جنگ ویت نام کی مخالفت کے لیے کوششیں کیں۔ 4 اپریل 1968ء کو میمفس، ٹینیسی میں لوتھر کنگ کو قتل کردیا گیا۔
    ان کے کچھہ اقوال:

    ۔۔ ستارے صرف تاریکی میں نظر آتے ہیں۔

    ۔۔۔ میں نے محبت کا ساتھہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ نفرت کا بوجھہ اتنا زیادہ ہے کہ نہیں اٹھا سکتا۔

    ۔۔۔ جو فرد کسی مقصد کے لیے مر نہیں سکتا وہ زندہ رہنے کے لیے موزوں نہیں۔

    ۔۔۔ ہماری زندگی اس دن ختم ہونا شروع ہوتی ہے جب ہم ، اہم معاملات پر خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔

    ۔۔۔ معاف کرنا وقتی عمل نہیں، ایک مستقل رویہ ہے۔

    ۔۔۔ ہم تاریخ بناتے ہیں، مگر تاریخ بھی ہمیں بناتی ہے۔

    ۔۔۔ محبت ہی وہ طاقت ہے جو دشمنی کو دوستی میں بدل سکتی ہے۔

    ۔۔۔ جو معاف کرنے کے قابل نہیں وہ محبت کرنے کے بھی قابل نہیں۔