Baaghi TV

Tag: Supreme court

  • نوازشریف کی بیٹی قوم کے سامنے کھڑی ہے لیکن عمران خان کی بیٹی کہاں ہے. مریم نواز شریف

    نوازشریف کی بیٹی قوم کے سامنے کھڑی ہے لیکن عمران خان کی بیٹی کہاں ہے. مریم نواز شریف

    نوازشریف کی بیٹی قوم کے سامنے کھڑی ہے لیکن عمران خان کی بیٹی کہاں ہے. مریم نواز شریف

    مسلم لیگ ن کی سینئر نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ نوازشریف کی بیٹی قوم کے سامنے کھڑی ہے، تمہاری بیٹی کہاں ہے، جو اپنی بیٹی کو تسلیم نہیں کرتا وہ عوام کا خیال کیا رکھے گا۔ گوجرانوالہ میں تنظیمی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کی چیف آرگنائزر مریم نواز کا کہنا تھا کہ 2018 میں الیکشن آر ٹی ایس بٹھا کرچوری کیا گیا تھا، لیکن اس وقت بھی سب سے بڑے فتنے، فراڈ، نو سر باز، گھڑی چور کو گوجرانوالہ نے پہچان لیا تھا، اور 2018 میں گوجرانوالہ نے مسلم لیگ ن کو جتوایا تھا۔

    مریم نواز نے کہا کہ جو کہتے ہیں نوجوان ن لیگ کے ساتھ نہیں وہ اس کنونشن کو دیکھ لیں، گوجرانوالہ والو کیا بات ہے،آج تم ٹرک بھرکر لے آئے ہو، فواد چوہدری کی آڈیو سنی ہے، عدالت کے آگے ٹرک کھڑا کردیا تھا، اب یہ نہ کہہ دینا ٹرک مریم نواز چلا رہی تھی، اب مجھے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں، ٹرک چلتا دیکھ کر لوگ خود سمجھ جائیں گے۔

    لیگی چیف آگنائزر نے کہا کہ مریم نوازشیشہ دکھاتی ہے تو توہین عدالت ہوجاتی ہے، اور نواز شریف کو اقامہ رکھنے اور بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر نکالا جاتا ہے، تم نے اپنی جائیداد اور بیٹی چھپائی، اسی جھوٹ کے ساتھ تم نے 4 الیکشن لڑے، نواز شریف کی بیٹی قوم کے سامنےکھڑی ہے، تمہاری بیٹی کہاں ہیں، جو اپنی بیٹی کو تسلیم نہیں کرتا وہ عوام کا خیال کیا رکھے گا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    معلوم نہیں عمران خان کی ٹانگ خراب ہے یا دماغ،اسحاق ڈار پھٹ پڑے
    میاں نے پستول تو بیوی نے اٹھائی کلاشنکوف،براہ راست فائرنگ،دونوں کی موت
    صحافیوں کے حقوق،مجوزہ قانون سازی کا ڈرافٹ تیار کرنے کیلئے پانچ رکنی کمیٹی تشکیل
    آج کی نسل سیکھی سکھائی ہے سینئرز کو ان سے سیکھنا چاہیے ڈاکٹر یونس بٹ
    مریم نواز کا کہنا تھا کہ سابق وزیراعظم نوازشریف کو ایک ویزے پر نکالا گیا، وہ اپنی بیوی کوبسترمرگ پر چھوڑ کر آیا، اور عدالتوں میں کہا جاتا ہے کہ نوازشریف ایک گھنٹے میں پیش ہو، جب کہ ان کو بلایا جاتا ہے تو یہ بلستر دکھا دیتے ہیں، یہ وہی لوگ ہیں جو نوازشریف کی بیوی کی بیماری کا مذاق اڑاتے تھے۔

  • پنجاب، خیبر پختونخواہ انتخابات ازخود نوٹس کا فیصلہ آج سنایا جائے گا

    پنجاب، خیبر پختونخواہ انتخابات ازخود نوٹس کا فیصلہ آج سنایا جائے گا

    سپریم کورٹ نے پنجاب، خیبر پختونخواہ انتخابات تاخیر ازخود نوٹس کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا۔ فیصلہ آج 11 بجے سنایا جائے گا۔

    باغی ٹی وی: گزشتہ روز چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں قائم سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ نے ازخود نوٹس میں فریقین کے وکلا کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔

    از خود نوٹس کیس کی سماعت کرنے والے عدالت عظمیٰ کے 5 رکنی بینچ میں چیف جسٹس کے علاوہ جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس محمد علی مظہر شامل تھے۔

    ابتدائی طور پر 22 فروری کو چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ کی درخواست پر پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات میں تاخیر کے معاملے پر از خود نوٹس لیتے ہوئے معاملے کی سماعت کے لیے 9 رکنی لارجربینچ تشکیل دے دیا تھا تاہم 24 فروری کو 9 رکنی لارجربینچ سے 4 اراکین کے خود الگ ہونے کے بعد 5 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت مکمل کی۔

    جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس مظاہر اکبر نقوی اور جسٹس اطہر من اللہ کی جانب سے سماعت سے معذرت کرلی تھی۔

    عدالت عظمیٰ کا آج سامنے آنے والا فیصلہ طے کرے گا کہ صوبائی اسمبلیوں کے تحلیل ہونے کی صورت میں صدر مملکت، گورنر، یا الیکشن کمیشن آف پاکستان میں سے کس آئینی ادارے کو انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرنا چاہیے۔

    گزشتہ روز پورے دن جاری رہنے والی سماعت کے بعد بینچ نے تقریباً 5 بج کر 15 منٹ پر مختصر حکم سنانے کا اعلان کیا، تاہم بعد ازاں فیصلہ آج بروز بدھ تک محفوظ رکھنے کا فیصلہ کیا گیا

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا ہے کہ عدالت کے علاوہ کسی کو انتخابی مدت بڑھانے کا اختیار نہیں، ٹھوس وجوہات کا جائزہ لیکر ہی عدالت حکم دے سکتی ہے، الیکشن بروقت نہ ہوئے تو استحکام نہیں آئے گا، حکومت کی نیک نیتی پر کوئی سوال نہیں اٹھا رہے، پہلی بار ایسی صورتحال ہے کہ کنٹینر کھڑے ہیں لیکن زرمبادلہ نہیں ہے۔

    اٹارنی جنرل نے روسٹرم پر آکر کہا کہ میں دلائل دینے کے لیے تیار ہوں ۔ اور اعتراض اٹھایا کہ عدالتی حکم میں سے سپریم کورٹ بار کے صدر کا نام نکال دیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کو ادارے کے طور پر جانتے ہیں۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ جو عدالت میں لکھوایا جاتا ہے وہ عدالتی حکمنامہ نہیں ہوتا۔ جب ججز دستخط کردیں تو وہ حکمنامہ بنتا ہے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ بار کے صدر عابد زبیری نے دلائل شروع کیے تو جسٹس منیب اختر نے کہا کہ نوے دن کا وقت اسمبلی تحلیل کیساتھ شروع ہو جاتا ہے۔ جسٹس منیب اختر نے سوال اٹھایا کہ اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد وقت ضائع کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کیا نگران وزیراعلی الیکشن کی تاریخ دینے کی ایڈوائس گورنر کو دے سکتا ہے؟ کیا گورنر نگران حکومت کی ایڈوائس مسترد کر سکتا ہے۔

    وکیل عابد زبیری نے کہا کہ الیکشن کی تاریخ دینے کا اختیار گورنر کا ہے وزیر اعلی کا نہیں۔ اٹارنی جنرل نے اعتراض اٹھایا کہ عابد زبیری درخواست گذار کے وکیل ہیں بار کی نمائندگی نہیں کرسکتے، جس پر عابد زبیری نے جواب دیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ بار کا وکیل ہوں کسی سیاسی جماعت کا نہیں، سپریم کورٹ ماضی میں قرار دے چکی ہے انتخابات 90 روز میں ہی ہونے ہیں،

    عابد زبیری وکیل اسلام آباد ہائیکورٹ بار نے کہا کہ سیف اللہ کیس میں 12 ججز نے انتخاب کے عمل کو لازمی قرار دیا۔ جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ آرٹیکل 48 کہتا ہے کہ صدر کا ہر عمل اور اقدام حکومت کی سفارش پر ہوگا، آیا موجودہ حکومت یا سابقہ حکومت انتخابات کے اعلان کا کہے گی؟۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اس کے مطابق الیکشن کی تاریخ دینا ایڈوائس پر ہوگا۔

    عابد زبیری نے کہا کہ آئین میں اسمبلی کی تحلیل کے چار طریقے بتائے گئے ہیں۔ جسٹس منیب نے کہا کہ نگران حکومت تو 7 روز بعد بنتی ہے، آئین کی مختلف شقوں کی آپس میں ہم آہنگی ہونا ضروری ہے۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ پنجاب کے کیس میں وزارت قانون نے نوٹیفکیشن جاری کیا گورنر نے نہیں۔ عابد زبیری نے کہا آئین کے آرٹیکل 112 کے مطابق عدم اعتماد ایڈوائس پر یا پھر 48 گھنٹوں میں حکومت ختم ہوسکتی ہے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آئین کے مطابق آج بھی حکومت گورنر سے انتخاب کا کہہ سکتی ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اگر حکومت کی تاریخ کے حوالے سے ایڈوائس آجائے تو گورنر کیسے انکار کرسکتا ہے۔

    عابد زبیری نے کہا کہ پنجاب میں 22 جنوری کو نگران حکومت آئی تھی، نگران حکومت کا اختیار روزمرہ کے امور چلانا ہیں۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ صدر اور گورنر معاملہ میں کابینہ کی ایڈوائس کے پابند ہیں، کیا الیکشن کی تاریخ صدر اور گورنرز اپنے طور پر دے سکتے ہیں؟۔ چیف جسٹس نے کہا کہ نگران حکومت کی تعیناتی اور الیکشن کی تاریخ پر گورنر کسی کی ایڈوائس کا پابند نہیں۔ جسٹس محمد علی مظہر بولے کہ جہاں صوابدیدی اختیار ہو وہاں کسی ایڈوائس کی ضرورت نہیں۔ چیف جسٹس نے سوال اٹھایا کہ اسمبلی تحلیل کا نوٹیفکیشن کون کرے گا؟

    عابد زبیری نے بتایا کہ پنجاب اسمبلی تحلیل کا نوٹیفکیشن سیکرٹری قانون نے جاری کیا۔ جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ بنیادی سوال یہ بھی ہے کہ گورنر کہہ رہا ہے کہ اسمبلی میں نے تحلیل نہیں کی۔ عابد زبیری نے موقف اپنایا کہ تاریخ دینے کی بات کا ذکر صرف آئین کے آرٹیکل 105 (3) میں ہے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ حکومت کے انتخاب کی تاریخ دینے پر کوئی پابندی نہیں۔ عابد زبیری نے کہا کہ اتنے دنوں سے اعلان نہیں کیا گیا۔

    چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا آپ کہہ رہے ہیں حکومت آئینی ذمہ داری پوری نہیں کررہی؟ نوے روز میں الیکشن کرانا آئین کی روح ہے، اٹارنی جنرل سے کہیں گے آئینی نکات پر معاونت کریں۔ عابد زبیری نے دلائل دیے کہ وقت کے دبائو میں اگر اسمبلی ٹوٹ جائے تو صدر مملکت تاریخ دے گا، میرا موقف ہے کہ انتخاب کی تاریخ دینا صدر مملکت کا اختیار ہے۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ مشاورت میں وسائل اور حالات کا جائزہ لیا جائے گا۔ اگر الیکشن کمیشن انتحابات کرانے سے معذوری ظاہر کرے کیا پھر بھی گورنر تاریخ دینے کا پابند ہے۔ عابد زبیری نے کہا کہ گورنر ہر صورت تاریخ دینے کا پابند ہے۔ جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ گورنر کے پاس تاریخ نہ دینے کا کوئی اختیار نہیں، گورنر الیکشن کمشن کے انتطامات مدنظر رکھ کر تاریخ دے گا۔ جسٹس منصور علی شاہ بولے کیا صدر کابینہ کی ایڈوائس کے بغیر کوئی فیصلہ کرسکتا ہے؟۔

    جسٹس جمال خان نے کہا کہ صدر کے اختیارات آئین میں واضح ہیں۔ صدر ہر کام کے لیے ایڈوائس کا پابند ہے۔ عابد زبیری نے موقف اپنایا کہ صدر مملکت ہر کام کے لیے ایڈوائس کے پابند نہیں۔ صدر ہر وہ اختیار استعمال کرسکتے ہیں جو قانون میں دیا ہوا ہو۔ انتحابات کی تاریخ پر صدر اور گورنر صرف الیکشن کمیشن سے مشاورت کے پابند ہیں۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ صدر بطور سربراہ مملکت ایڈوائس پر ہی فیصلے کرسکتے ہیں۔ جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ گورنر جب بھی تاریخ دے گا 52 دنوں کا مارجن رکھا جائے گا۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ صدر کے اختیارات برارہ راست آئین نے نہیں بتائے، آئین میں اختیارات نہیں تو پھر قانون کے تحت اقدام ہوگا، قانون بھی تو آئین کے تحت ہی ہوگا۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اب تو آپ ہم سے پوچھنے لگ گئے ہیں کہ کرنا کیا ہے، صدر مملکت کس قانون کے تحت چٹھیاں لکھ رہے ہیں؟۔

    عابد زبیری نے جواب دیا کہ صدر مملکت نے مشاورت کیلئے خط لکھے ہیں۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آئین میں تو کہیں مشاورت کا ذکر نہیں۔ جسٹس جمال مندوخیل بولے کہ اگر مان لیا قانون صدر مملکت کو اجازت دیتا ہے پھر صدر ایڈوائس کا پابند ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ نگران حکومت بھی تاریخ دینے کا کہہ سکتی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ دوسرے فریق کو سن کر فیصلہ کریں گے صدر کو مشاورت کی ضرورت ہے یا نہیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ انتخابات 90 روز سے آگے کون لیکر جا سکتا ہے یہ الگ بات ہے۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے سوال اٹھایا کہ کیا الیکشن کمشن گورنر کی تاریخ کو آگے بڑھا سکتا ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ گورنر اگر 85 ویں دن الیکشن کا کہے تو الیکشن کمیشن 89 دن کا کہہ سکتا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ گورنر کو اسی وجہ سے الیکشن کمیشن سے مشاورت کا پابند کیا گیا ہے، صدر ہو یا گورنر سب ہی آئین اور قانون کے پابند ہیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ صدر الیکشن کی تاریخ صرف قومی اسمبلی تحلیل ہونے پر دے سکتے ہیں، دوسری صورت میں ملک بھر میں انتخابات ہوں تو ہی صدر تاریخ دے سکتے ہیں۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ صدر کے صوابدیدی اور ایڈوائس پر استعمال کرنے والے اختیارات میں فرق ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ گورنر اسمبلی تحلیل کے اگلے دن انتخابات کا کہہ دے تو الیکشن کمیشن نہیں مانے گا۔ جسٹس منیب اختر بولے کہ گورنر نے الیکشن ایکٹ کو بھی مدنظر رکھنا ہے۔ اٹارنی جنرل نے عدالت میں موقف اپنایا کہا الیکشن 90 روز میں ہی ہونے چاہئے اور الیکشنز کو 90 روز سے آگے نہیں لیکر جانا چاہیے، گورنر پنجاب کا موقف ہے الیکشن کمیشن خود تاریخ دے، گورنر نے انٹرا کورٹ اپیل میں کہا ہے کہ ان سے مشاورت کی ضرورت نہیں اور الیکشن کمیشن کا موقف ہے کہ وہ ازخود تاریخ کیسے دے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ سمجھ نہیں آتا ہائیکورٹ میں 14 دن کا وقت کیوں مانگا گیا؟۔ بطور اٹارنی جنرل آپ کیس شروع ہوتے ہی مکمل تیار تھے، ایسے کون سے نکات تھے جس کی تیاری کیلئے وکلا کو 14 دن درکار تھے، ہائیکورٹ میں تو مقدمہ روزانہ کی بنیاد پر چلنا چاہیے تھا۔ جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ صدر نے الیکشن ایکٹ کی سیکشن 57 ون کا استعمال کیا ہے اگر صدر کا اختیار نہیں تو سیکشن 57 ون غیر موثر ہے،اگر سیکشن 57 ون غیر موثر ہے تو قانون سے نکال دیں-

    اٹارنی جنرل نے موقف اپنایا کہ میرے حساب سے الیکشن کمیشن انتخابات کی تاریخ دے سکتا ہے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ دو یا چار دن اوپر ہونے پر آرٹیکل 254 لگ سکتا ہے،جسٹس منصور علی شاہ استفسار کیا کہالیکشن کمیشن کی انتخابات کی تیاری کیا ہے جسٹس منیب اختر نے کہا کہ کیا انتخابی مہم کا دورانیہ کم نہیں کیا جاسکتا،وکیل الیکشن کمیشن نے عدالت کوبتایا کہ بیلٹ پیپرز کی چھپائی کیلئے وقت درکار ہوتا،انتخابی مہم کا دورانیہ دو ہفتے تک کیا جاسکتا ہے-

    جسٹس منیب نے کہا کہ آئین پر عمل کرنا زیادہ ضروری ہے اٹارنی جنرل نے کہااگر انتخابات 90 دن میں ہی ہونا لازمی ہیں تو 1988 کا الیکشن مشکوک ہوگا؟2008کا الیکشن بھی مقررہ مدت کے بعد ہوا تھا، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ پہلا سوال تو یہ ہے کہ تاریخ دے گا کون؟الیکشن کمیشن کی تاریخ آنے پر ہی باقی بات ہوگی-

    جسٹس منیب اختر نے کہاآپ بطور اٹارنی جنرل قانون کا دفاع کرنے کی بجائے اس کے خلاف بول رہے ہیںجسٹس محمد علی مظہر بولے کہ سیکشن 57 ون ختم کردیں تو الیکشن ہو ہی نہیں سکے گا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں الیکشن کمیشن انتخاب تاریخ کا اعلان کرے الیکشن کمیشن کہہ سکتا ہے 14 اپریل تک الیکشن ممکن نہیں،ٹھوس وجوہات کے ساتھ الیکشن کمیشن فیصلہ کرنے کا مجاز ہے کسی نے ابھی تک تاریخ ہی نہیں دی سب کچھ ہوا میں ہے۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے پاس 90 روز سے تاخیر کا اختیار کہاں سے آیا؟ جھگڑا ہی سارا 90 روز کے اندر الیکشنز کرانے کا ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ٹھوس وجوہات پر آرٹیکل 254 کا سہارا لیا جاسکتا ہے۔ جسٹس محمد علی مظہر نے سوال اٹھایا کہ تاریخ کا اعلان کئے بغیر آرٹیکل 254 کا سہارا کیسے لئے جاسکتا ہے۔

    چیف جسٹس نے کہا قانون واضح نہیں تو کیسے کہیں الیکشن کمشن غلطی کررہا ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ نوے دن سے تاخیر پر عدالت اجازت دے سکتی ہے۔ چیف جسٹس نے واضح کیا کہ یہ نہ سمجھیں عدالت کسی غیر آئینی کام کی توسیع کرے گی، آرٹیکل 254 کا جہاں اطلاق بنتا ہوا وہاں ہی کریں گے۔سپریم کورٹ میں ایک موقع پر سیاسی جماعتوں کو الیکشن کی تاریخ پر مشاورت کیلئے بھی کہا گیا۔ چیف جسٹس نے شیری رحمن اور فواد چودھری کو روسٹرم پر بھی بلایا اور استفسار کیا کہ کیا ان کی جماعتیں مشاورت پر تیار ہیں۔

    واضح رہے کہ 20 فروری کو صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے پنجاب اور خیبر پختونخوا میں 9 اپریل کو انتخابات کی تاریخ کا اعلان کیا تھا۔

    یاد رہے کہ 12 جنوری کو وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی نے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد صوبائی اسمبلی تحلیل کرنے کے لیے سمری پر دستخط کر دیے تھے گورنر پنجاب بلیغ الرحمٰن نے وزیراعلیٰ کی جانب سے ارسال کی گئی سمری پر دستخط نہیں کیے تھے، جس کے بعد صوبائی اسمبلی 48 گھنٹوں میں از خود تحلیل ہوگئی تھی۔

    بعدازاں 18 جنوری کو گورنر خیبر پختونخوا حاجی غلام علی نے وزیر اعلیٰ محمود خان کی جانب سے اسمبلی تحلیل کرنے سے متعلق ارسال کی گئی سمری پر دستخط کیے تھے دونوں اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد پی ٹی آئی کی جانب سے نئے انتخابات کے لیے تاریخ دینے کا مطالبہ کیا تھا۔

    پی ٹی آئی نے 27 جنوری کو پنجاب میں الیکشن کی تاریخ دینے کے لیے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا، لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب اسمبلی کے انتخابات کے لیے پی ٹی آئی کی درخواست منظور کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو تاریخ کا فوری اعلان کرنے کا حکم دیا تھا۔

    بعد ازاں الیکشن کمیشن نے گورنر پنجاب بلیغ الرحمٰن سے صوبائی اسمبلی کے عام انتخابات کے لیے مشاورت کی تھی تاہم اجلاس بے نتیجہ ختم ہوگیا تھا، گورنر پنجاب نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے پر اپیل دائر کی تھی اور اس کے بعد الیکشن کمیشن نے بھی انٹراکورٹ اپیل دائر کر دی تھی۔

    دوسری جانب پشاور ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن آف پاکستان اور گورنر خیبر پختونخوا کو صوبائی اسمبلی کے انتخابات کی تاریخ طے کرنے کا حکم دینے سے متعلق درخواستوں پر ای سی پی سے الیکشن شیڈول طلب کرلیا تھا۔

  • مریم نواز کیخلاف خلاف توہین عدالت کی درخواست قابل سماعت ہونے پر دلائل طلب

    مریم نواز کیخلاف خلاف توہین عدالت کی درخواست قابل سماعت ہونے پر دلائل طلب

    لاہور ہائیکورٹ میں مریم نواز کے خلاف خلاف توہین عدالت کی درخواست پر سماعت ہوئی

    لاہور ہائیکورٹ نے توہین عدالت سے متعلق درخواست گزاروں کو عدالتی فیصلے پیش کرنے کی ہدایت کر دی، لاہور ہائیکورٹ نے درخواست گزار کے وکیل کو کل مزید دلائل کے لیے طلب کرلیا،لاہور ہائیکورٹ نے درخواست گزار کو درخواست کے قابل سماعت ہونے پر دلائل دینے کی ہدایت کر دی، عدالت نے دوران سماعت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کے پاس کس طرح براہ راست توہین عدالت کی کارروائی کا اختیار ہے،کیا یہ عدالت سپریم کورٹ کے جج کی توہین کے بیان پر کارروائی کا اختیار رکھتی ہے؟کس آرڈر کی توہین ہوئی،کس قانون کے تحت آپ نے توہین عدالت کی درخواست دائر کی ؟

    دوسری جانب پی ٹی آئی نے شہباز شریف اور مریم نواز کی بریت سپریم کورٹ میں چیلنج کر دی ، تحریک انصاف کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ شہباز شریف اور مریم نواز کی بریت کیخلاف درخواست دائر کر دی ہے،درخواست میں شہباز شریف اور مریم نواز کی بریت کے فیصلےکو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی ، درخواست سیکریٹری جنرل پی ٹی آئی اعظم سواتی نے سپریم کورٹ میں دائر کی نیب بریت کے خلاف اپیل فائل نہیں کررہا اس لیے پی ٹی آئی اپیل فائل کررہی ہے،

  • ملزم عمران خان پیش ہو کر حاضری لگا دیں گے، دلائل کا آغاز کریں،عدالت کی وکیل کو ہدایت

    ملزم عمران خان پیش ہو کر حاضری لگا دیں گے، دلائل کا آغاز کریں،عدالت کی وکیل کو ہدایت

    ملزم عمران خان پیش ہو کر حاضری لگا دیں گے، دلائل کا آغاز کریں،عدالت کی وکیل کو ہدایت

    بینکنگ کورٹ اسلام آباد،فارن ایکسچینج ایکٹ کے تحت درج ممنوعہ فنڈنگ کیس کی سماعت ہوئی

    عمران خان کے وکیل سلمان صفدربینکنگ کورٹ اسلام آباد میں پیش ہوئے،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملزم کی حاضری پیش ہونے پر لگا لیں گے آپ دلائل کا آغاز کریں ،وکیل سلمان صفدرنے کہا کہ مجھے کچھ ٹائم درکار ہے کیس کا ریکارڈ لے کر آؤں، عمران خان کے وکیل نے ایک گھنٹے کا وقت مانگ لیا

    جج رخشندہ شاہین نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ دلائل کا آغاز کریں ،پراسیکیوٹر نے کہا کہ کیا عدالت نے بھی کبھی کسی ملزم کا انتظار کیا ہے؟ وکیل نے کہا کہ عمران خان کو عدالت سے 8 بار حاضری سے استثنیٰ ملا،عمران خان ابھی پہنچے نہیں، کچھ ہی دیر میں عدالت پہنچ جائیں گے،عمران خان کی جانب سے عدالت کے مناسب موقع دینے کو سراہتا ہوںعمران خان کی میڈیکل رپورٹ پر ہر سماعت میں اعتراض اٹھایا جاتا رہا، عمران خان کی میڈیکل رپورٹس پر سوالات اٹھائے گئے، عمران خان کی عمر 71 برس ہے اس عمر میں ریکوری کا پروسس سست ہوتا ہے الزام لگایا گیا کہ عمران خان اپنے پرائیویٹ اسپتال کی رپورٹ پیش کرتے ہیں،شوکت خانم عمران خان کا اسپتال نہیں ہے، انہوں نے کئی سال پہلے وہ بنایا تھا،

  • پشاور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن شیڈول سے متعلق رپورٹ طلب کرلی

    پشاور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن شیڈول سے متعلق رپورٹ طلب کرلی

    پشاورہائیکورٹ میں خیبرپختونخوا اسمبلی انتخابات کیس کی سماعت 2 مارچ تک ملتوی کر دی گئی

    پشاور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن شیڈول سے متعلق رپورٹ طلب کرلی ،عدالت نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا کام انتخابات کرانا ہے ،جس نے نہیں کرانا وہ جواب دیں،ہم سپریم کورٹ کے آبزرویشن پر بات نہیں کر ینگے ،ہوسکتا ہے سپریم کورٹ میں کیس آج فیصلہ ہوجائے ،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ رپورٹ تیار ہے،عدالت کہیں تو آج ہی جمع کردینگے،عدالت نے کہا کہ ہم نے اپنی تسلی کیلئے کیس کو سننا ہے،سب کو سنے بغیر فیصلہ نہیں دے سکتے،

    واضح رہے کہ خیبر پختونخوا اسمبلی تحلیل کی جا چکی ہے، نگران حکومت بھی بن چکی ہے، تا ہم ابھی تک الیکشن کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا ، تحریک انصاف نے الیکشن کا وقت لینے کے لئے عدالت سے رجوع کیا ہے،سپریم کورٹ میں بھی درخواست زیر سماعت ہے، آج بھی عدالت عظمیٰ کیس کی سماعت کر رہی ہے، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا ہے کہ آج ہی درخواست پر فیصلہ دیں گے

  • شہباز گل کا نام ای سی ایل سے نکلوانے کی درخواست،فل بینچ بنانے کی سفارش

    شہباز گل کا نام ای سی ایل سے نکلوانے کی درخواست،فل بینچ بنانے کی سفارش

    لاہور ہائیکورٹ،شہباز گل کا نام ای سی ایل سے نکلوانے کی درخواست پر سماعت ہوئی

    لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس جواد حسن نے معاملے پر فل بینچ بنانے کی سفارش کر دی ،کیس کی فائل چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کو ارسال کر دی گئی شہباز گل نے نام ای سی ایل سے نکلوانے کی درخواست دائر کر رکھی ہے

    درخواست گزار کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ شہباز گل پاکستانی شہری ہیں ان کے خلاف کوئی مقدمہ نہیں ہے عدالتوں نے مقدمات خارج کیے لیکن وزارت داخلہ نے ان کا نام غیر قانونی طور پر ای سی ایل میں ڈالا اس اقدام نے ان کے مؤکل کے انسانی حقوق کو روک دیا ہے شہری آزادیوں کا حق آئین کے تحت محفوظ ہے

    واضح رہے کہ شہباز گل کے خلاف پاکستان کے کئی شہروں میں مقدمات درج ہوئے تھے اور شہباز گل کو گرفتار بھی کیا گیا تھا تا ہم شہباز گل کو بعد میں ضمانت پر رہائی ملی

    جیلیں تیار کھلاڑی فرار

    شیخوپورہ سے ہمیں اسلام آباد لا کر چھوڑ دیا گیا، خاتون کی دکھ بھری کہانی

    بڑے اسکولز میں کس طرح کے بگڑے بچے پڑھتے ہیں؟

    فاٹا کے جرگوں میں لڑکیوں کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟ 15 لاکھ میں ڈیل ڈن

    مردانہ کمزوری کی حقیقت کیا؟ہم ایسے سوالات کیوں نہیں اٹھاتے؟

  • 27 فروری:آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ:اسکائی ونگزایوی ايشن کا پاک فضائیہ کےشاہینوں کو زبردست خراج تحسین

    27 فروری:آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ:اسکائی ونگزایوی ايشن کا پاک فضائیہ کےشاہینوں کو زبردست خراج تحسین

    کراچی:27 فروری 2019 کو2 بھارتی طیارے گرانے اور ایک پائلٹ کو گرفتار کرنے پر آج کے دن کو آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کے نام سے یاد رکھا جاتا ہے۔اس دن کی مناسبت سےقوم پاک فضائیہ کے شاہینوں کے اس مشن اورشاندارفتح پرسلام اورخراج تحسین پیش کرتی ہے

     

    اس تاریخی دن کے موقع پر پاکستان کی صف اول کی ہوابازی کی بنیادی اور مرکزی درس گاہ اسکائی ونگز ایوی ايشن پاک فضائیہ کے شاہینوں کی طرف سے بھارتی غرور کوخاک میں ملانے اوروطن پاک کی سرحدوں‌کی حفاظت کرنے پر آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کوسرانجام دینے والے غازیوں کو زبردست خراج تحسین پیش کرتی ہے

    27 فروری کے اس یادگاردن کے موقع پراسکائی ونگزایوی ایشن کےچیف ایگزیکٹوآفیسرعمران اسلم خان نے حسب روایت افواج پاکستان بالخصوص پاک فضائیہ کےہیروز کو زبردست خراج پیش کرنے کے لئے ایک بہت ہی منفرد اورقابل رشک اندازاپنایا ہےجس نے 27 فروری 2019 کے دن کی یاد تازہ کردی ہے ، عمران اسلم خان نے سیسنا جہاز کوایسا پینٹ کیا ہےکہ جس سے اس دن کوہونے والے اس واقعہ کا سارا منظرآنکھوں کے سامنے آجاتا ہے

    اس حوالے سے اسکائی ونگز ایوی ایشن کے چیف ایگزیکٹوآفیسرعمران اسلم خان نے سیسنا جہاز پر بھارت کے پکڑے گئے ونگ کمانڈر ابھی نندن کی تصویر بناکر بھارت سے پوچھا ہے کہ ابھی نندن نے آپ کوبتایا ہوگا کہ پاکستان کی چائےکتنی مزیدار اورشاندار تھی

    اس موقع پرصحافی کے ایک سوال کے جواب میں جس میں وہ پوچھتے ہیں کہ آپ نے یہ لکھا ہے کہ ابھی نندن کوجب پاک فضائیہ کی طرف سے بڑے احترام کے ساتھ چائے پیش کی گئی توابھی نندن نے چائے پیتے ہوئے کہا کہ چائے توبہت شاندارہے

     

    مگرجوآپ نے یہ لکھا ہے کہ شاندارچائے کا”ایک کپ اور”تواس کا کیا مطلب ہے؟

    اس پراسکائی ونگز ایوی ایشن کے چیف ایگزیکٹوآفیسرعمران اسلم خان کا کہنا تھاکہ وہ ابھی نندن اوربھارتی فضائیہ کویہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ اگردوبارہ ایسی غلطی کی توپھرمنہ توڑجواب ملے گا اورپھرابھی نندن کی طرح شاندارچائے کے اور کپ بھی پیش کیے جائیں‌گے ،ہم اپنے دشمن کے ساتھ بھی بڑے احترام کے ساتھ پیش آتے ہیں مگرپاکستان کے دشمنوں کو ایسی حرکتوں سے باز رہنا چاہیے، اس پراسکائی ونگز ایوی ایشن کے چیف ایگزیکٹوآفیسرعمران اسلم خان کا انٹریولینے والے صحافی نے اس بات کی توثیق کرتے ہوئے اعلیٰ ظرفی کوبہت پسند کیا

    اسکائی ونگز ایوی ایشن چیف ایگزیکٹوآفیسرعمران اسلم خان نے 27 فروری کے دن کی مناسبت کے‌حوالے سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک سیسنا جہاز کو ایک بار کینوس میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ طیارہ 27 فروری 2019 کے پاک بھارت تنازعے کی تصویر کشی کرتا ہے

    27 فروری 2019 کے دن کی اس تاریخی فتح کے بارے میں عمران اسلم خان کا کہنا تھا کہ اس دن وطن پاک کے شاہینوں اورہمارے محافظوں نے دو ہندوستانی لڑاکا طیاروں کو اس وقت مار گرایاجب بھارتی ایئرفورس کےان جنگی طیاروں نے پاکستان کی فضائی حدود میں گھسنے کی کوشش کی۔

    اسکائی ونگز ایوی ایشن کے چیف ایگزیکٹوآفیسرعمران اسلم خان کا کہنا تھا کہ اسکائی ونگز کا سیسنا 152 ٹرینر ہوائی جہاز جس کو تربیت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے قوم کے اس عزم کو ظاہر کرتا ہے کہ دشمن کوہمیشہ منہ توڑ جواب دیا جائے گا اوراس ملک کی سرحدوں کی حفاظت کےلیے کسی قسم کی قربانی سے بھی دریغ نہیں کیا جائے گا

     

    عمران اسلم خان نے اس موقع پر پاک فضائیہ اورپاک فوج کے تمام شاہینوں کوخراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنے ہیروز کی عزت کرتے ہیں اوردنیا کوبتا دینا چاہتے ہیں کہ پوری قوم ان کے پیچھے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑی ہے۔

    اسکائی ونگز ایوی ایشن کے چیف ایگزیکٹوآفیسرنے آج کے اس تاریخی دن کی مناسبت سے سیسنا جہازکوایک خاص رنگ اورایک خاص جہت دینے کے حوالے سے بتایا کہ جہاز پر ایم ایم عالم اور حسن صدیقی کی تصاویر پینٹ کی گئی ہیں،جہاز پر بنی پینٹنگ میں 1965اور2019 میں ہندوستانی فضائیہ کے طیاروں کو مار گرانے کے دو واقعات کی علامتی عکاسی کی گئی ہے۔

    عمران اسلم خان نے بتایا کہ جہاز پر کشمیر کی وادیوں کو پاکستان اور کشمیر دونوں کے جھنڈوں کے ساتھ دکھایا گیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ اس دن کی مناسبت کے‌حوالےسے یہ بات عالمی برادری کوگوش گزارکرنا چاہتا ہوں کہ مسئلہ کشمیر کا پُرامن حل نکالا جائےاورخطے کوکسی بھی تنازعے سے دوررکھا جائے

    اسکائی ونگز ایوی ایشن کے چیف ایگزیکٹوآفیسرعمران اسلم خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی طرف سے پرامن کوششوں کے باوجود کشمیر پر استصواب رائے کے لیے اقوام متحدہ کی 05 جنوری 1949 کی قرارداد پر عمل تاحال زیر التوا ہے،جس سے کشمیریوں‌ کی بے چینی میں‌مسلسل اضافہ ہورہا ہے اورخطے میں دوجوہری طاقتیں تصادم کی طرف بڑھ رہی ہیں

    ان کا کہنا تھا کہ عالمی برادری نے دوہرامعیاراپنا رکھا ہے ، کشمیرپرمجرمانہ خاموشی ہے جبکہ دوسری طرف مشرقی تیمور کے بارے میں اقوام متحدہ کی سپریم کورٹ کی 1999 کی قرارداد 1264 پر بہت تیزی سے عملدرآمد کیا گیا اوردیکھتے ہی دیکھتے مشرقی تیمور کو سوڈان سے الگ کردیا گیا

     

     

    https://twitter.com/ResptectAlways/status/1630103983779110912

    اسکائی ونگز ایوی ایشن کے چیف ایگزیکٹوآفیسرعمران اسلم خان نے آخر میں سیسنا طیارے پر کیئے گئے پینٹ کو امن اور محبت کا نام اورپیغام قرار دیا ہے اور یہ بھی پیغام دیا کہ ہم توامن وبھائی چارے کے خواہاں ہیں اورہمیشہ یہی مقصد رہا ہے بھارت بھی پاکستان کی امن کی کوششوں سے فائدہ اٹھائے اورخطے کوکسی بھی حادثے سے بچانے کےلیے ذمہ داری کا مظاہرہ کرے ، ان کا کہنا تھا کہ اسکائی ونگز کے سیسنا طیارے پر دونوں علامتیں پینٹ کی گئی ہیں یہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا مظہرہیں کہ پاکستان امن اورخطے میں سلامتی کا خواہاں ہے ،

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگربھارت اپنی حرکتوں سے باز نہ آیا توپھر پاکستان کی طرف سے پہلے سے بھی زیادہ سخت جواب آئے گا ، ابھی نندن سے پوچھیئے کہ پاکستان کے خلاف جارحیت پرکیسا جواب ملا ، ابھی نندن سے یہ بھی پوچھیئے گا کہ باوجود پاکستان کے خلاف جارحیت کے پاکستان نے کس طرح ابھی نندن سے سلوک کیا کہ وہ ابھی تک پاکستان کی چائے نہیں بھولا

    یاد رہےکہ اسکائی ونگز کے اس ہوائی جہاز کو پینٹ مشہور ٹرک آرٹسٹ حیدر علی نے کیا ہے،

  • کراچی میں صبح 8 سے رات 10 بجے تک گیس کے پریشر میں کمی ہوگی

    کراچی میں صبح 8 سے رات 10 بجے تک گیس کے پریشر میں کمی ہوگی

    کراچی میں سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) کے انفرا اسٹرکچر کی اَپ گریڈیشن کے سبب ضلع شرقی اور ملیر کے متعدد علاقوں میں آج گیس بند رہے گی۔ ترجمان ایس ایس جی سی کے مطابق اتوار کی صبح کراچی ٹرمینل پر گیس انفرا اسٹرکچر کی اپ گریڈیشن کے سبب بحالی کی سرگرمی کے دوران شہر کے مختلف علاقوں میں صبح 8 بجے سے رات 10 بجے تک گیس کے پریشر میں کمی ہوگی یا گیس کی فراہمی بند ہو جائے گی۔

    شہر کے جو علاقے اس دوران متاثر ہوں گے ان میں گلشن بلاک 3، 4، 6 اور 7، ابوالاصفہانی روڈ، میٹروول 3، ملک سوسائٹی، کنیز فاطمہ سوسائٹی، کے ڈی اے سوسائٹی، الآصف اسکوائر، کوئٹہ ٹاؤن، ایف بی ایریا انڈسٹریل ایریا، سہراب گوٹھ اور فیڈرل بی ایریا کے 14 سے 21 بلاک شامل ہیں۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    راجن پور: این اے 193 میں ضمنی الیکشن کیلئے پولنگ کا وقت ختم
    یہ وہی بینچ ہے جس نے عمران خان کےخلاف فیصلہ دیا،پھرشورشرابہ کیوں؟پرویز الہٰی

    دوسری طرف لوگوں کا کہنا ہے کہ گیس بھی اب بجلی کی لوڈ شیڈنگ والا معاملہ کررہا ہے اور گیس بارے اس طرح کہنا عوام کو دھوکہ دینا ہے علاوہ ازیں ناصرف کراچی بلکہ ملک بھر میں یہ مسئلہ بنا ہوا ہے لیکن حکومت کو عوام کی کوئی پرواہ نہیں ہے

  • یہ وہی بینچ ہے جس نے عمران خان کےخلاف فیصلہ دیا،پھرشورشرابہ کیوں؟پرویز الہٰی

    یہ وہی بینچ ہے جس نے عمران خان کےخلاف فیصلہ دیا،پھرشورشرابہ کیوں؟پرویز الہٰی

    لاہور :پاکستان تحریک انصاف کے صدرو سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الہٰی نے کہاہے کہ الیکشن کے حوالے سے قائم بینچ میں وہی ججز ہیں جنہوں نے عمران خاں کے خلاف فیصلہ ، پھراس کے باجود پی ڈی ایم کو سپریم کورٹ وزیراعظم شہبازشریف پر سخت تنقید کی ہے ۔

    ذرائع کے مطابق سابق وزیر اعلی چوہدری پرویز الہٰی سےسابق وفاقی وزیر بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ، سابق چیئرمین شکایات سیل زبیر احمد، ڈاکٹر زین علی بھٹی، فیاض تبسم اور دیگر سیاسی رہنماؤں نے ملاقات کی، ملاقات میں ملکی سیاسی معاملات پر بات چیت کی گئی۔

    چوہدری پرویز الہی نے وزیراعظم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف جیسا مانگنے کا طرہ امتیاز دنیا میں کسی کے پاس نہیں، اس طرہ امتیاز کی وجہ سے ہو سکتا ہے کہ شہباز شریف کو فقیروں کی گینزبُک میں شامل کر دیا جائے۔

    اس موقع پر چوہدری پرویز الہی کا کہنا تھا کہ شہباز شریف نے کابینہ کے اجلاس میں کہا ہے کہ چائے میں چینی اور کھانے کو بسکٹ نہیں ملیں گے، ہر وزیر بجلی کا بل خود ادا کرے گا، آئی ایم ایف شہباز شریف کے فیصلوں پر شادیانے بجا رہا ہے، آئی ایم ایف کہتا ہے کہ اتنا سمجھ دار وزیر اعظم ہم نے دنیا میں نہیں دیکھا۔

    رہنما پی ٹی آئی نے مزید کہا کہ چیف جسٹس سمیت بیشتر جج اسی بینچ میں شامل تھے جس نے عمران خان کے عدم اعتماد پر فیصلہ دیا تھا، اس فیصلے پر تو مریم اور مریم کے ابا جی سمیت رانا ثناء اللہ و دیگر تعریفوں کے پل باندھ رہے تھے۔

  • عمران خان کی بہن علیمہ کی امریکی ایوان نمائندگان میں ملاقاتیں

    عمران خان کی بہن علیمہ کی امریکی ایوان نمائندگان میں ملاقاتیں

    علیمہ خان کی امریکہ کے ایوان نمائندگان کے سپیکر کیون سے ملاقات

    ایک طرف عمران خان اپنی کارکنوں کو گرفتار کروا رہا ہے تاکہ ان کی جیل بھرو تحریک کامیاب جبکہ دوسری طرف ان کی بہن علیمہ خان امریکہ کے نمائندگان سے ملاقاتیں کررہی ہے۔

    صارف شفیق ایڈووکیٹ نے علیمہ خان کی امریکی ایوان نمائندہ کے ساتھ والی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ؛ "نیازی گھر میں چھپ کر بیٹھا ہے اور ووٹر سپورٹر جیلوں میں دھکے کھا رہے ہیں جبکہ ان کی بہن علیمہ باجی نظر بچا کر اپنے بھائی کی حکومت کے خلاف سازش کرنے والے امریکہ کے ایوان نمائندگان کے سپیکر کیون میکارتھی سے ملاقات کررہی ہے۔”

    https://twitter.com/ShafiqAhmadAdv3/status/1629007666969296897?t=c3pdYeDjdny_V8z9w4cDGw&s=08

    اس تصویر پر اکثر صارفین نے عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان تو امریکہ انکی حکومت گرانے کے الزام لگاتے رہے لیکن اندر سے چھپ چھپ کر ان کے خاندان والے امریکی نمائندگان سے ملاقاتیں کررہے ہیں آخر ماجرا کیا ہے۔

    ایک صارف عابد نے کہا عمران خان عوام کے سامنے پھنے خان بننے کی کوشش کرتا اور خود کو بھٹو ثابت کرنے کے کوشش کرتا لیکن اندر سے امریکیوں سے اپنے جھوٹے الزامات پر معافیاں مانگ چکا اور اب حکومت میں آنے کیلئے خود یہ سازشیں کررہا ہے۔

    خیال رہے جبکہ عمران خان کو گزشتہ سال حکومت سے نکالنے جانے کے بعد عمران خان نے ایک جلسہ پرچی لہراتے ہوئے کہا یہ امریکہ کا خطہ ہے اور مجھے اس لیئے نکالا جارہا ہے کہ میں ان کے خلاف ہوں لیکن اس بات کی اب تک تصدیق نہ ہوسکی کہ وہ خط حقیقی تھا جبکہ وہ سائفر معمول کے مطابق تھا۔