Baaghi TV

Tag: Supreme court

  • وزیرخزانہ اسحاق ڈار کی تمام  سیاسی جماعتوں کو میثاق معیشت کی دعوت

    وزیرخزانہ اسحاق ڈار کی تمام سیاسی جماعتوں کو میثاق معیشت کی دعوت

    اسلام آباد: وفاقی حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ طے شدہ ایک کھرب 70 ارب روپے کے منی بجٹ کے تحت نئے ٹیکسز نافذ کرنا شروع کر دیے ہیں۔

    باغی ٹی وی:وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی میں منی بجٹ پیش کردیا،وزیرخزانہ اسحاق ڈار کی تمام سیاسی جماعتوں کو میثاق معیشت کی دعوت دی –

    ایف بی آر نے جی ایس ٹی کی شرح 17 سے بڑھا کر 18 فیصد کر دی ہے، اسی طرح جنرل سیلز ٹیکس کی شرح 17 فیصد سے بڑھ کر 18 فیصد کر دی گئی ہے جب کہ منی بجٹ کے لیے حکومت نے سیکڑوں پُر تعیش اشیاء پر 25 فیصد جی ایس ٹی لگانے کی بھی منظوری دے دی ہے۔

    وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی جانب سے پیش کئے گئے منی بجٹ کے مطابق موبائل فونز پر بھی ٹیکس میں اضافے کی تجویز شامل ہےسیمنٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی 2روپے فی کلوگرام کردی گئی سگریٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح بڑھائی جارہی ہے-

    اسحاق ڈار نے بتایا کہ شادی کی تقریبات کےبلوں پر10 فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس لگادیا گیا ہےایئرٹکٹ پر 20 فیصد ٹیکس لگایاگیا ہے ،لگژری آئٹم پر ٹیکس 17 فیصد سے25 فیصد کردیا گیا ہے،بینظیر انکم اسپورٹ پروگرام کیلئے 40ارب روپے مزید مختص کیے جارہے ہیں،بینظیر انکم اسپورٹ پروگرام کابجٹ 360ارب سے بڑھا کر400ارب روپ کیاجارہا ہے،کسان پیکج میں جون 2023تک کیلئے1819ارب روپے رکھے گئے ہیںفضائی ٹیکس پر بھی ایڈوانس ٹیکس عائدکیاجارہا ہے-

    اسحاق ڈار نے کہا کہ پی ٹی آئی دور میں ناقص پالیسیوں کی وجہ سے 26ارب ڈالرکاقرضہ بڑھا،پی ٹی آئی کے 4سالوں میں ملکی قرضوں میں ہوشربااضافہ ہوا، ن لیگ دور میں جی ڈی پی میں 112ارب ڈالرکااضافہ ہوا،معاشی تنزلی کی وجوہات جاننےکیلئےقومی کمیشن تشکیل دیاجائے، 2018 میں مسلم لیگ ن کے دور میں معیشت ترقی کررہی تھی،آئی ایم ایف معاہدہ کسی حکومت کا نہیں بلکہ ریاست کامعاہدہ ہوتا ہے،منی بجٹ پر ایوان کو اعتماد میں لینا چاہتا ہوں،پی ٹی آئی حکومت کی وجہ سے معیشت کمزور ہوئی،2018میں ن لیگ دور میں پاکستان دنیا کی 24ویں معیشت بن چکا تھا-

  • آئین ہر صورت 90 دن میں انتخابات کروانے کا پابند کرتا ہے،انتخابات کروانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے،عدالت

    آئین ہر صورت 90 دن میں انتخابات کروانے کا پابند کرتا ہے،انتخابات کروانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے،عدالت

    اسلام آباد: سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ آئین ہر صورت 90 دن میں انتخابات کروانے کا پابند کرتا ہے،شفاف انتخابات کروانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے-

    باغی ٹی وی: اسلام آباد سپریم کورٹ میں جسٹس اعجاز الاحسن نے کیس کی سماعت کی،دوران سماعت جسٹس اعجاز الحسن نے ریمارکس دیئے کہ سپریم کورٹ کا حکم تھا پھر بھی سی سی پی او تبدیل کیوں کیا گیا، غلام محمود ڈوگر کو ٹرانسفر کرنے کی اتنی جلدی کیا تھی؟ جس پروکیل پنجاب حکومت نےکہا کہ الیکشن کمیشن کی اجازت سےغلام محمود ڈوگر کو دوسری مرتبہ تبدیل کیا گیا۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئےکہ افسران کی تبدیلی میں الیکشن کمیشن کا کیا کردار ہے۔ جسٹس مظاہر علی اکبر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا کردار انتخابات کے اعلان ہونے کے بعد ہوتا ہے۔

    ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے موقف دیا کہ پنجاب میں کیئر ٹیکر سیٹ اَپ آنے کی وجہ سے الیکشن کمیشن سے اجازت لی گئی، آئین کے مطابق کیئر ٹیکر سیٹ اَپ آنے کے بعد 90 دنوں میں انتخابات ہونا ہیں۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ تو پھر بتائیں الیکشن ہیں کہاں؟ جسٹس مظاہر علی نےریمارکس دیئےکہ آدھے پنجاب کو ٹرانسفر کر دیا ہے۔ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ریمارکس دیئے کہ کیا پنجاب میں ایسا کوئی ضلع ہے جہاں ٹرانسفر نہ ہوئی ہو۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ کیا الیکشن کمیشن کو سپریم کورٹ کے حکم کا علم نہیں تھا؟ الیکشن کمیشن اپنے کام کے علاوہ باقی سارے کام کر رہا ہے۔

    چیف الیکشن کمشنر کو طلب کیے جانے کے بعد غلام محمود ڈوگر تبادلہ کیس کی وقفے کے بعد دوبارہ سماعت ہوئی تو ججز نے استفسار کیا کہ کیا چیف الیکشن کمشنر پہنچ گئے ہیں؟ جس پر عدالتی عملے نے بتایا کہ ابھی تک سرکاری وکلاء واپس آئے اور نہ چیف الیکشن کمشنر۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ معمول کے مقدمات ختم ہوچکے اس لیے چیف الیکشن کمشنر پہنچیں تو آگاہ کیا جائے، جس کے بعد چیف الیکشن کمشنر کے پہنچنے تک سماعت ملتوی کی گئی۔

    چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ سپریم کورٹ پہنچ گئے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کے سپریم کورٹ پہنچنے کے بعد سماعت دوبار شروع ہوئی۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ آئین ہر صورت 90 دن میں انتخابات کروانے کا پابند کرتا ہے اور انتخابات کروانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، مقررہ وقت میں انتخابات نہ ہوئے تو آئین کی خلاف ورزی ہوگی 90 دن میں انتخابات کے حوالے سے آئین میں کوئی ابہام نہیں نگراں حکومت تقرر و تبادلے نہیں کر سکتی اور نگراں حکومت کو تبادلہ مقصود ہو تو ٹھوس وجوہات کے ساتھ درخواست دے گی، الیکشن کمیشن وجوہات کا جائزہ لے کر مناسب حکم جاری کرنے کا پابند ہے۔

    چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ عدالت حکم دے تو تبادلے روک دیں گے، الیکشن کی تاریخ خود دیں تو آئین کی خلاف ورزی ہوگی۔ مجھے موقع ملا ہے تو کچھ باتیں عدالت کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔

    سلندر سلطان راجہ نے عدالت کو بتایا کہ الیکشن کمیشن نے یکساں پالیسی کے تحت پورے صوبے میں تقرری وتبادلوں کی اجازت نہیں دی، کچھ کمشنر، ڈی سی، آر پی او وغیرہ کا ٹرانسفر ضروری تھا،مجھے اپنے اختیارات اور آئینی تقاضے پر عمل کرنے سے روکا جا رہا ہے آرمی سے سیکیورٹی مانگی تو انکار کر دیا گیا، عدلیہ سے آر اوز مانگے تو انہوں نے انکار کر دیا اور انتخابات کے لیے پیسہ مانگا اس سے بھی انکار کر دیا گیا۔ میرے اختیارات کو کم کیا جا رہا ہے، ایسے حالات میں کس طرح فری فیئر الیکشن کروائے جائیں۔ اگر عدالت ٹرانسفرز کو فری الیکشن میں رکاوٹ سمجھتی ہے تو نہیں کریں گے۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ آپ نے اس مسئلے پر حکومت سے رابطہ کیا ہے؟چیف الیکشن کمشنرنے جواب دیا کہ حکومت کو اپنے تمام ترمسائل سے آگاہ کیا ہے۔

    جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کو صوبےکی بات پر من وعن عمل نہیں کرنا ہوتا، الیکشن کمیشن نے تقرری و تبادلے میں دیکھنا ہوتاہےکہ ٹھوس وجوہات ہیں یا نہیں چیف الیکشن کمشنر کاکہناتھا کہ تفصیلی اجلاس میں صوبوں کوتقرری وتبادلےکی گائیڈ لائنزجاری کی ہیں۔

    چیف الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ اگر چند کمشنرز، ڈی سی، آر پی او، ڈی پی اوز کے تبادلے نہ ہوئے تو انتخابات شفاف نہیں ہوں گے، عدالت حکم دے دےگی تو تبادلے نہیں کرنے دیں گے۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئےکہ آپ تفصیلی رپورٹ دیں جائزہ لیں گےکہ کیا مشکلات ہیں لیکن 37 اضلاع ہیں سب میں ٹرانسفرز کردو یہ نہیں ہوگا، الیکشن کا اعلان کیا نہیں اور ٹرانسفرز کر دیں، 90 روز میں الیکشن آئین کی منشا ہے۔

    جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ عدالت ایسا کوئی حکم نہیں دے رہی، آئین کا ایک ایک لفظ ہمیں پابند کرتا ہے،الیکشن کمیشن نے انتخابات کا معاملہ ہوا میں اڑا دیا مگر تقرری و تبادلےکی گائیڈ لائنز بنانا یاد ہے۔

    چیف الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن انتخابات کا اعلان نہیں کرسکتا، اس پر جسٹس مظاہرنقوی نے سوال کیا کہ کس قانون کے تحت الیکشن کمیشن انتخابات کا اعلان نہیں کرسکتا؟

    چیف الیکشن کمشنر نےکہا کہ گورنر یا صدر انتخابات کا اعلان کرسکتے ہیں، آئین کے آرٹیکل105 کے تحت الیکشن کمیشن انتخابات کی تاریخ نہیں دے سکتا۔

    سپریم کورٹ نےالیکشن کی راہ میں حائل رکاوٹوں پر الیکشن کمیشن سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔

    اٹارنی جنرل نے موقف اپنایا کہ مناسب ہوگا عدالت لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کا انتظار کرے کیونکہ عدالت نے دیکھنا ہے کہ اپیل آنے پر انتخابات کا کیس سنے گی یا اسی کیس میں۔

    جسٹس مظاہر نقوی نے ریمارکس دیئے کہ سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تبادلہ کیا گیا اور غلام محمود ڈوگر کا الیکشن کمیشن کے کہنے پر ہی تبادلہ ہوا، ایسے پیش نہیں ہوتے تو ہم نوٹس دے کر بھی طلب کر سکتے ہیں۔

    وکیل عابد زبیری نے عدالت کو بتایا کہ غلام محمود ڈوگر کو الیکشن کمیشن کے زبانی حکم پر تبدیل کیا گیا، جس پر جسٹس مظاہر نقوی نے استفسار کیا کہ کیا زبانی احکامات پر تبادلے کی بات درست ہے؟

    چیف الیکشن کمشنر نے بتایا کہ چیف سیکریٹری نے 23 جنوری کو فون کرکے تبادلے کے متعلق کہا تھا اور تحریری درخواست آنے پر 6 فروری کو باضابطہ اجازت نامہ دیا۔

    جسٹس مظاہر نقوی نے استفسار کیا کہ کیا آپ کو سپریم کورٹ کے احکامات کا علم نہیں تھا؟ چیف الیکشن کمشنر نے جواب دیا کہ جو ریکارڈ ملا اس میں سپریم کورٹ احکامات کا ذکر نہیں تھا، تبادلوں کے حوالے سے صوبائی حکومتوں کو گائیڈ لائنز جاری کی ہیں۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریماریس دیئے کہ آپ صرف آئین اور قانون کے پابند ہیں اپنی پالیسیوں کے نہیں۔

    دوران سماعت بار بار سر ہلانے پر سیکریٹری الیکشن کمیشن کی سرزنش کر دی جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ آپ کون ہیں اور کیوں روسٹم پر کھڑے ہو کر سر ہلا رہے ہیں؟ عمر حمید خان نے بتایا کہ میں سیکریٹری الیکشن کمیشن ہوں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ جو بھی ہیں نشست پر بیٹھیں۔

    اٹارنی جنرل نے استدعا کی اگرضروری نہیں تو الیکشن کمشنرکل پیش نہ ہوں چیف الیکشن کمشنر کا بھی کہنا تھا کہ عدالت اجازت دے تو میری جگہ سیکرٹری یا سینیئر افسر کل پیش ہوجائےگاجسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ ادارے کے سربراہ ہیں آپ خود پیش ہوں، سکون سے سنیں گے۔

    سپریم کورٹ نے سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر کے تبادلے سمیت پنجاب میں تمام افسران کا ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی سپریم کورٹ نے چیف الیکشن کمشنر کو بھی کل پھر طلب کرلیا۔

  • عدالت نے شیخ رشید کی ضمانت منظورکرتے ہوئے رہائی کا حکم دیدیا

    عدالت نے شیخ رشید کی ضمانت منظورکرتے ہوئے رہائی کا حکم دیدیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیر داخلہ شیخ رشید کی درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے رہائی کا حکم دے دیا-

    باغی ٹی وی: اسلام آباد ہائیکورٹ میں شیخ رشید کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی جس میں سابق وزیر کے وکیل سلمان اکرم راجا، ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد جہانگیر جدون اور ایس ایچ او آبپارہ عدالت میں پیش ہوئے۔

    سابق وزیرداخلہ شیخ رشید احمد کی درخواست ضمانت پرسماعت کا آغاز ہوا تووکیل سلمان اکرم راجا روسٹرم پر آ گئےاس موقع پر ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد جہانگیر خان جدون، ایس ایچ او آبپارہ بھی عدالت میں پیش ہوگئے۔

    شیخ رشید کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئےکہا کہ ضمانت بعد ازگرفتاری کی درخواست ہے، ایڈیشنل سیشن جج نے ایک الزام کی بنا پرضمانت خارج کی، اس پر عدالت نے استفسار کیا کہ الزام کیا لگایا گیا ہے؟ سلمان اکرم نےکہا کہ نیوز چینل پر بیان دکھایاگیا جس کی بنا پر مقدمہ درج کیا گیا، شیخ رشید اس وقت جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں قید ہیں۔

    عدالت نے پوچھا کہ شیخ رشیدنے الزام کیا لگایا ہے؟ کسی نیوز چینل پر بیان ہے؟ اس پر شیخ رشید کے وکیل نے کہا کہ جی انہوں نے ایک بیان دیا جو نیوز چینلز پر نشر ہوا لیکن شواہد میں ایسا کچھ نہیں کہ بیان سے پی ٹی آئی اورپیپلزپارٹی کے درمیان تصادم ہوا۔

    دورانِ سماعت ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد جہانگیر جدون نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ شیخ رشید سینئر سیاستدان ہیں، ان کی گفتگو پارلیمانی ہونی چاہیے اس پر عدالت نے کہا کہ سب ایک ہی قسم کی گفتگو کرتے ہیں، سب پارلیمانی ہے، جج کے ریمارکس پرعدالت میں قہقہے لگ گئے۔

    وکیل کے دلائل مکمل ہونے پر عدالت نے استفسار کیا کہ دورانِ تفتیش آپ کو کیا معلومات ملی ہیں، جس پر ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے بتایا کہ شیخ رشید اپنے بیان سے انکاری نہیں ہیں، اب بھی وہ بیان دہرا رہے ہیں۔ 8 مرتبہ رکن قومی اسمبلی بنے لیکن ایسے بیانات کی ان سے توقع نہیں کی جا سکتی۔ آپ ایسے بیانات دے دیتے ہیں تو اس کی کچھ حدود و قیود ہیں۔

    ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت میں کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں میں سینئر ہُوں اور کہہ رہے ہیں آصف زرداری نے دہشت گردوں کی خدمات حاصل کر لیں،جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ سب لوگ پارلیمانی زبان ہی استعمال کر رہے ہوتے ہیں۔جو حکومت میں ہوتا ہے وہ اور زبان ہوتی ہے، اپوزیشن میں زبان بدل جاتی ہے۔

    جہانگیر جدون نے کہا کہ شیخ رشید نےوزیرداخلہ اور بلاول بھٹو کو گالیاں دیں،اس پرسلمان اکرم نےکہا کہ یہ کیس ہی نہیں ہےجو ایڈووکیٹ جنرل بیان کررہے ہیں۔

    اس موقع پر تفتیشی افسر نے عدالت کو بیان دیا کہ شیخ رشید کے بیان کی تفصیلات پیمرا سے حاصل کی گئیں، انہوں نے بیان دیا کہ انہوں نے عمران خان سے یہ انفارمیشن لی، آصف زرداری کی عمران خان کے خلاف مبینہ سازش کے شواہد شیخ رشید سے نہیں ملے۔

    شیخ رشید کے وکیل نے کہا کہ اس میں کوئی ایسا امکان نہیں کہ یہ بیان دہرایا جائے، جس پر ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ اگر تو یہ جرم نہیں دہراتے اور انڈرٹیکنگ دیتے ہیں تو عدالت دیکھ لے۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ ہمیں پرائمری اسکول کے نصاب ہی سے تربیت شروع کرنی پڑے گی۔

    عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد شیخ رشید کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کرلیا بعد ازاں عدالت نے کچھ دیر بعد فیصلہ سناتے ہوئے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کی ضمانت منظور کرلی۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے 50 ہزار روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض شیخ رشید کی رہائی کا حکم جاری کیا۔

  • عمران خان کی حفاظتی ضمانت،عدالت کا عمران خان کو ساڑھے بارہ بجے پیش ہونے کا حکم

    عمران خان کی حفاظتی ضمانت،عدالت کا عمران خان کو ساڑھے بارہ بجے پیش ہونے کا حکم

    لاہور: اسلام آباد کی انسداد دہشتگری عدالت (اے ٹی سی) سے ضمانت مسترد ہونے کے بعد عمران خان کی حفاظتی ضمانت کی درخواست پر لاہور ہائی کورٹ میں سماعت پر وقفہ کردیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی: عمران خان کی حفاظتی ضمانت کے لیے عمران خان کے وکلا عدالت میں پیش ہوئے جسٹس طارق سلیم شیخ نے سماعت کی، ایڈووکیٹ اظہر صدیق نے عمران خان کی جانب سے اپنا وکالت نامہ جمع کرایا۔

    عمران خان چل نہیں سکتے تو ویل چیئر یا اسٹریچر پر عدالت آجائیں

    وکیل عمران خان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹرز سے میٹنگ چل رہی ہے، سکیورٹی پر پارٹی تحفظات ہیں،2 گھنٹے میں پوری کوشش ہےکہ عمران خان کسی طرح پہنچ سکیں۔

    عمران خان کے وکیل کی درخواست پر عدالت نے ساڑھے بارہ بجے تک وقفہ کردیا۔

    خیال رہےکہ گزشتہ روز انسداد دہشت گردی عدالت کے جج جواد عباس نے الیکشن کمیشن کے باہر احتجاج سے متعلق کیس میں عمران خان کی استثنیٰ کی درخواست خارج کردی تھی ہائیکورٹ کے جسٹس طارق سلیم شیخ نے عمران خان کو عدالت میں پیش ہونے کے لیے گزشتہ رات 8بجے تک کا وقت دیا تھا تاہم عمران خان عدالت میں پیش نہ ہوئے ہیں۔

    رجیم چینج سے متعلق امریکا پر الزامات میں کوئی حقیقت نہیں،امریکا

    عدالت نے گزشتہ روز رات کو سوا آٹھ بجے دوبارہ کیس کی سماعت کی جس میں عمران خا ن کے وکیل نے ہائیکورٹ میں موقف اختیار کیا کہ عمران خان کو ڈاکٹر نے چلنے سے منع کیا ہے جس کی وجہ سے وہ عدالت میں پیش نہیں ہوسکتے ہیں۔

    عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو روز ٹی وی پر دیکھتے ہیں۔ ہم نے عمران خان کو چلنے کے لیے نہیں کہا ہے۔ اگر عمران خان چل نہیں سکتے ہیں تو سٹریچر پر عدالت آجائیں۔ اور ایمبولینس تو انکی اپنی ہے۔ اس موقع پر وکیل کی جانب سے عمران خان کی ویڈیو لنک کے ذریعے پیشی کی بھی درخواست کی گئی جو کہ عدالت کی جانب سے مسترد کردی گئی تھی-

  • وزیراعظم محمد شہباز شریف آج ترکیہ کے دورے پر روانہ ہوں گے

    وزیراعظم محمد شہباز شریف آج ترکیہ کے دورے پر روانہ ہوں گے

    وزیراعظم شہباز شریف ترکیہ میں زلزلے سے جانی و مالی نقصانات پر اظہار یکجہتی کے لئے آج ترکیہ کے دورے پر روانہ ہوں گے۔

    باغی ٹی وی: وزیرخارجہ بلاول بھٹوزرداری سمیت دیگر وفاقی وزراء بھی وزیراعظم کے ساتھ جائیں گےوزیراعظم ترکیہ میں زلزلے سے جانی و مالی نقصانات پر اظہار یکجہتی کریں گے۔

    واضح رہے کہ ترکیہ میں زلزلے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف کے جانب سے ترکیہ کے دورے کے اعلان کیا گیا تھا تاہم بعد میں دورہ منسوخ کر دیا گیا تھا۔

    یاد رہے کہ ترکیہ اور شام میں زلزلے سے اموات 41 کی تعداد ہزار سے تجاوز کر گئی ہے،جب کہ دونوں ملکوں میں زلزلے سے 84 ارب ڈالر نقصان کا تخمینہ لگایا جارہا ہے ماہرین کے مطابق وقت گزرنے کے ساتھ ملبے تلے دبے ہوئے افراد کے زندہ بچ پانے کی امیدیں کم ہوتی جا رہی ہیں۔

    ترک حکام کا کہنا ہے کہ ترکیہ میں حالیہ زلزلے سے ساڑھے 13 ملین لوگ متاثر ہوئے ہیں۔

    اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کے اعداد و شمار کے تحت ترکیہ میں 4.6 ملین اور شام میں 2.5 ملین بچے متاثر ہوئے ہیں جن میں کچھ جاں بحق، زیادہ تر یتیم اور کئی بے گھر ہوگئے جب کہ دودھ اور کھانے پینے کی اشیا کی کمی کا بھی سامنا ہے۔

    ترکیہ اورشام میں 7.8 شدت کے قیامت خیز زلزلے سے متاثر ہزاروں افراد شدید سردی میں کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پرمجبورہوگئے ہیں۔ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں کھانے پینے کی اشیا کی قلت ہوگئی ہے۔

    ترکیہ کے نائب صدر نے بیان میں کہا کہ کلیس اور شانلی اورفا صوبوں میں ریسکیو اور تلاش کا کام مکمل ہو گیا ہے جبکہ دیار بکر، عدنہ اور عثمانیہ کے علاقوں میں بھی بڑے پیمانے پر تلاش اور ریسکیو کی کارروائیاں مکمل ہو چکی ہیں۔ دونوں ممالک کے حکام نے اموات میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

    اُدھر اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ ترکیہ اور شام میں زلزلے کی تباہی کی تصویر اب تک غیر واضح ہے اور اموات کا درست تعین بھی تاحال نہیں ہوسکا-

  • عمران خان چل نہیں سکتے تو ویل چیئر یا اسٹریچر پر عدالت آجائیں

    عمران خان چل نہیں سکتے تو ویل چیئر یا اسٹریچر پر عدالت آجائیں

    لاہور: ماہر قانون جسٹس ریٹائرڈ شائق عثمانی نے کہا ہے کہ اگرعمران خان چل نہیں سکتے تو ویل چیئر یا اسٹریچر پر عدالت آسکتے ہیں۔

    باغی ٹی وی : ایک بیان میں جسٹس ریٹائرڈ شائق عثمانی نے کہا کہ عمران خان کی عدالت میں حاضری لازمی ہے، ورنہ انہیں ضمانت نہیں مل سکتی قانون سب کیلئے برابر ہوتا ہے، عمران خان اپنے اصولوں کے خلاف جا رہے ہیں۔

    جسٹس ریٹائرڈ شائق عثمانی کا کہنا تھا کہ اس کیس میں انہیں خود عدالت آنا چاہیے، اب عمران خان کیلئے کوئی بچت نہیں ہے۔

    واضح رہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کو پیشی کے بغیر حفاظتی ضمانت دینے سے انکار کردیا تھا۔

    عمران خان کے وکیل نے عدالت میں موقف اختیار کیا تھا کہ عمران خان متعلقہ عدالت میں پیش ہونا چاہتےہیں، میڈیکل کے مطابق تین ہفتے تک عمران خان چل پھر نہیں سکتے لہٰذا میڈیکل گراؤنڈ پرحفاظتی ضمانت دےدیں۔

    عدالت نے استفسار کیا کہ حفاظتی ضمانت کا قانون کیا ہے؟حفاظتی ضمانت میں ملزم کی پیشی ضروری ہے، زیادہ مسئلہ ہے تو ایمبولینس میں آ جائیں، قانون سب کیلئے برابر ہے، اصولی طورپر مجھے یہ درخواست خارج کردینی چاہیے لیکن رعایت دے رہا ہوں۔

    لاہور ہائیکورٹ نے عبوری ضمانت کے لیے عمران خان کو آج صبح 9 بجے تک عدالت میں پیش ہونے کی مہلت دے دی ہے۔ اس سے قبل ہائیکورٹ کے جسٹس طارق سلیم شیخ نے عمران خان کو عدالت میں پیش ہونے کے لیے گزشتہ رات 8بجے تک کا وقت دیا تھا تاہم عمران خان عدالت میں پیش نہ ہوئے ہیں۔

    عدالت نے گزشتہ روز رات کو سوا آٹھ بجے دوبارہ کیس کی سماعت کی جس میں عمران خا ن کے وکیل نے ہائیکورٹ میں موقف اختیار کیا کہ عمران خان کو ڈاکٹر نے چلنے سے منع کیا ہے جس کی وجہ سے وہ عدالت میں پیش نہیں ہوسکتے ہیں۔

    عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو روز ٹی وی پر دیکھتے ہیں۔ ہم نے عمران خان کو چلنے کے لیے نہیں کہا ہے۔ اگر عمران خان چل نہیں سکتے ہیں تو سٹریچر پر عدالت آجائیں۔ اور ایمبولینس تو انکی اپنی ہے۔ اس موقع پر وکیل کی جانب سے عمران خان کی ویڈیو لنک کے ذریعے پیشی کی بھی درخواست کی گئی جو کہ عدالت کی جانب سے مسترد کردی گئی۔

    عدالت میں عمران خان کے دیگر وکلا میں اظہر صدیق ایڈووکیٹ بھی پیش ہوئے اور بولنا چاہا تو ان کو جسٹس طارق سلیم شیخ نے روک دیا اور کہا کہ یہ ٹاک شو نہیں ہے اور عمران خان کی جانب سے پیش ہونے والے دیگر وکلا کو حکم دیا کہ آپ قانون پیش کریں۔

    جس پر عمران خان کے وکیل نے کہا کہ میری درخواست حفاظتی ضمانت کی ہے۔ ڈاکٹر نے عمران خان کو اجازت نہیں دی ہے، وہ زخمی بھی ہیں اور سکیورٹی ایشو بھی ہے۔ جسٹس طارق سلیم شیخ نے کہا کہ اگر آپ اس کو واپس لینا چاہتے ہیں تو لے لیں۔ عدالت نے کہا کہ سکیورٹی میں دلا دیتا ہوں۔

  • بالآخر جمائما گولڈسمتھ نے بھی مان لیا کہ ٹیریان عمران خان کی ناجائز اولاد ہے

    بالآخر جمائما گولڈسمتھ نے بھی مان لیا کہ ٹیریان عمران خان کی ناجائز اولاد ہے

    بالآخر جمائما گولڈسمتھ نے بھی مان لیا کہ ٹیریان عمران خان کی ناجائز اولاد ہے

    آخرکار عمران خان کی سابقہ اہلیہ اور دو بیٹوں کی مان جمائما خان نے ڈیلی میل کو انٹرویو میں مان لیا ہے کہ ٹیریان دراصل عمران خان کی بیٹی ہے جو ان کی ایک گرل فرنڈ سے ہے۔ تاہم اس حوالے سے اب سوشل میڈیا پر عمران خان پر کافی تنقید کی جارہی ہے کہ جمائما کا انٹرویو عمران خان کیلئے کافی ہے جبکہ یہ انٹرویو عمران نیازی پر وزیرآباد حملے کے بعد کا ہے۔

    ڈیلی میل کو انٹرویو دیتے ہوئے سابق وزیر اعظم عمران خان کی سابقہ اہلیہ جمائما خان نے کہا کہ جب ان کو عمران خان پر حملے بارے فون کال پر بتایا گیا تو وہ ان کے بچوں بارے پریشان ہوگئی اور ان کا دھیان قاسم اور سلیمان کے ساتھ اس لڑکی ٹیریان کی طرف بھی گیا جو عمران خان کی ان کی گرل فرینڈ سے ناجائز اولاد ہے.


    تاہم عمران خان کے ناقدین کا خیال ہے کہ جمائما خان کا یہ انٹرویو اس کیس کیلئے بھی کافی ہے جو اس بارے میں اسلام آباد کی عدالت میں چل رہا ہے کہ تاہم اس بارے میں عمران کے حامی یہ دفاع کررہے ہیں کہ یہ انٹرویو جو ہے وہ واقعی جمائما نے دیا مگر ایسی بات انہوں نے نہیں کہی بلکہ اخبار نے ہیڈ لائٹ کے نیچے سب ہیڈ لائن میں لکھی جو بطور تعارف شاید لکھی گئی تھی،
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بچی کی مبینہ خودکشی؛ اسکول کی رجسٹریشن منسوخ کردی گئی ہے
    برطانوی ائیرلائن نے پاکستان کیلئے فضائی آپریشن بند کردیا
    نگران حکومت نے تونسہ شریف کو ضلع بنانے کا نوٹیفکیشن معطل کردیا گیا
    ترکیہ زلزلہ،اسپتال میں نرسوں کی نوزائیدہ بچوں کو بچانے کی ویڈیو وائرل
    ایپ کے ذریعے منگوائی گئی بریڈ کے پیکٹ کے ساتھ زندہ چوہا نکل آیا
    نیب کی سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمدخان بھٹی کے خلاف ناجائز اثاثے بنانے کی انکوائری شروع
    سونے کی فی تولہ قیمت میں 3ہزار300روپے کااضافہ
    لیکن سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ اب اس میں پہلے بھی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ عمران خان کا اس بارے دفاع کیا جائے کیونکہ ان کی ویڈیوز اور آڈیوز بھی اب تو لیک ہوچکی ہیں لہذا اس ناجائز اولاد جس کو عمران تسلیم نہیں کرتے مگر یہ ایک حقیقت ہے.

  • پی ٹی آئی  نے جیل بھرو تحریک کا طریقہ کار مرتب کردیا

    پی ٹی آئی نے جیل بھرو تحریک کا طریقہ کار مرتب کردیا

    پی ٹی آئی نے جیل بھرو تحریک کا طریقہ کار مرتب کر دیا.

    پاکستان تحریک انصاف نے جیل بھرو تحریک کا طریقہ کار مرتب کر لیا ہے اور پی ٹی آئی نے جیل بھرو تحریک کا طریقہ کار مرتب کرتے ہوئے بتایا ہے کہ پہلے مرحلے میں لاہور سے 200 کارکنان اور 5 لیڈر گرفتاریاں دیں گے جبکہ دوسرے مرحلے میں پشاور سے 200 کارکنان اور 5 لیڈرز جیل جائیں گے علاوہ ازیں بڑے شہروں سے کم از کم 3 ہزار کارکنان جیل بھرو تحریک کا حصہ ہوں گے.

    جبکہ جیل بھرو تحریک کے طریقہ کار کے تحت روزانہ کی بنیاد پر ایک شہر سے گرفتاریاں پیش کی جائیں گی۔ پاکستان کے بڑے شہروں سے کم از کم 3 ہزار کارکنان جیل بھرو تحریک کا حصہ ہوں گے۔ فوکل پرسن جیل بھرو تحریک اعجاز چودھری کا کہنا تھا کہ تمام صوبوں اور اضلاع میں جیل بھرو تحریک کی تیاریوں کا جائزہ لے کر رپورٹ جلد چئیرمن کو پیش کروں گا۔ جیل بھرو تحریک کے سلسلے میں کے پی کے دورے کے بعد سندھ سمیت دیگر صوبوں کا بھی دورہ کروں گا۔ کارکنوں کا جیل بھرو تحریک کے جوش وجذبہ بلند ہے۔

    دوسری جانب پی ٹی آئی رہنما اعجاز چودھری نے ایک بیان میں کہا کہ ماضی میں ججوں کو خریدنے والوں کی اولاد آج دوبارہ عدلیہ کو ہدف بنا رہی ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ 27 مارچ 2022 کو حقیقی آزادی کی شروع کی گئی تحریک کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔ ملک کو آئین کے مطابق آگے بڑھنا ہے۔ آئین کو پامال کرنے کی ہر کوشش کے راستے میں ہم رکاوٹ بنیں گے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بچی کی مبینہ خودکشی؛ اسکول کی رجسٹریشن منسوخ کردی گئی ہے
    برطانوی ائیرلائن نے پاکستان کیلئے فضائی آپریشن بند کردیا
    نگران حکومت نے تونسہ شریف کو ضلع بنانے کا نوٹیفکیشن معطل کردیا گیا
    ترکیہ زلزلہ،اسپتال میں نرسوں کی نوزائیدہ بچوں کو بچانے کی ویڈیو وائرل
    ایپ کے ذریعے منگوائی گئی بریڈ کے پیکٹ کے ساتھ زندہ چوہا نکل آیا
    نیب کی سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمدخان بھٹی کے خلاف ناجائز اثاثے بنانے کی انکوائری شروع
    سونے کی فی تولہ قیمت میں 3ہزار300روپے کااضافہ
    ان کا کہنا تھا کہ جدوجہد کرتے ہوئے ہم کوئی غیر آئینی راستہ نہیں اپنائیں گے۔ ملک میں قانون کی حکمرانی اور پارلیمانی نظام کی بحالی کے لئے جیل بھرو تحریک شروع کر رہے ہیں۔ بجائے اس کے کہ امپورٹڈ حکومت لوگوں پر تشدد اور جھوٹے مقدمےکرے ہم خود پیش ہو رہے ہیں۔ پاکستان میں اس وقت فسطائیت کا راج ہے۔ تمام ملک دشمن قوتوں کے خلاف آئین کے اندر رہتے ہوئے پرامن سیاسی جدوجہد کر رہے ہیں۔

  • جو کچھ رپورٹ ہوا اس پر تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کر رہے ہیں، چیف جسٹس

    جو کچھ رپورٹ ہوا اس پر تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کر رہے ہیں، چیف جسٹس

    اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے کیس کی سماعت میں ریمارکس دیے کہ جو رپورٹ ہوا اس پر تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کررہے ہیں اور جو رپورٹ ہوا وہ ناصرف سیاق و سباق سے ہٹ کر تھا بلکہ جانبدارانہ بھی تھا۔

    باغی ٹی وی : سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی بینچ نے نیب ترامیم کے خلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت کی –

    صدر مملکت سے اسحاق ڈارکی ملاقات،منی بجٹ آرڈیننس پر تبادلہ خیال

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت نے پی ٹی آئی ارکان اسمبلی کی تنخواہوں سے متعلق سوال کیا تھا، قومی اسمبلی کے ایک ممبر کی مجموعی تنخواہ ایک لاکھ 88 ہزار روپے ہے، پی ٹی آئی کے ممبران قومی اسمبلی نے اپریل سے کوئی تنخواہ وصول نہیں کی، پی ٹی آئی کے ممبران نے سفری اخراجات اور لاجز سمیت دیگر مراعات لیں، قومی اسمبلی ان معاملات کو دیکھ رہی ہے۔

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ سوشل میڈیا پر عدالتی ریمارکس کے متعلق ایک خط لکھا ہے، سوشل میڈیا پر ہونے والی غلط رپورٹنگ پر بات کرنا چاہتا ہوں، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ میں نے آپ کا خط پڑھا ہے اور آپ کی کاوش کو سراہتے ہیں۔

    اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ جانتے ہوئے کہ تنقید کا اگلا ہدف بن سکتے ہیں جو مناسب لگا وہ کیا جب کہ مسئلہ الیکٹرانک یا پرنٹ میڈیا کا نہیں ہے بلکہ سوشل میڈیا پر کوئی قوانین لاگو نہیں ہوتے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے سمجھ داری اور ذمہ داری کا ثبوت دیا ہے، عدالتی کارروائی سے کچھ غلط معلومات منسوب کی گئیں، جو رپورٹ ہوا وہ نہ صرف سیاق و سباق سے ہٹ کر تھا بلکہ جانب دارانہ بھی تھا، جو رپورٹ ہوا اس پر تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کر رہا ہوں میڈیا کے دوستوں کو عدالتی ردعمل نہ آنے کو احترام سے دیکھنا چاہیے، سپریم کورٹ کا 2019ء کا فیصلہ میڈیا کنٹرول کی بات کرتا ہے، میں میڈیا کنٹرول پر نہیں، باہمی احترام پر یقین رکھتا ہوں۔

    پنجاب الیکشن: لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کی تشریح کیلئےعدالت سے رجوع کرنےکا فیصلہ

    بعدازاں وفاقی حکومت کے وکیل مخدوم علی خان روسٹرم پر آ گئےچیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ مخدوم صاحب یاددہانی کے لیے کہہ رہا ہوں کہ آپ کے دلائل میں 11 سماعتیں گزر گئیں۔ اس پر مخدوم علی خان بولے کہ دوسرے جانب کے دلائل میں 6 ماہ لگے تھے اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ دوسری طرف کا ریکارڈ مت توڑیے گا۔

    مخدوم علی خان نے کہا کہ سیاسی معاملات میں برطانیہ سمیت ملکوں میں عدالتی کارروائی لائیو کیمروں میں ریکارڈ ہوتی ہے، لائیو اسٹریمنگ سے آفیشل ریکارڈ رہتا ہے اور ابہام کی کوئی گنجائش نہیں بچتی۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ عدالتی کارروائی کی براہ راست نشریات کا معاملہ ہمارے پاس زیر التوا ہے، جلد ہی فل کورٹ میں عدالتی کارروائی براہ راست دیکھانے کا معاملہ رکھیں گے۔

    وکیل وفاقی حکومت مخدوم علی خان نے کہا کہ اگر 51 فیصد لوگ ووٹ ہی نہ ڈالیں تو بھی اسمبلی میں عوامی نمائندگی ہوگی، جمہوریت ہے ہی نمبرز گیم۔

    گورنر پنجاب نےانتخابات کی تاریخ دینے کے حوالے سے آج اجلاس طلب کرلیا

    اس پر جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ پی ٹی آئی نے قومی اسمبلی سے استعفے کب دیے تھے؟ مخدوم علی خان نے کہا کہ تحریک انصاف کے ایم این ایز نے 11 اپریل کو استعفے دیے تھے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ پی ٹی آئی کے استعفے قسطوں میں منظور کیے گئے، استعفوں کی تصدیق کے حوالے سے عدالتی فیصلے موجود ہیں –

    اس پر مخدوم علی خان نے کہا کہ استعفے منظور ہوچکے تو منظوری کے خلاف پی ٹی آئی عدالت چلی گئی، لاہور ہائی کورٹ نے 44 استعفوں کی منظوری پر حکم امتناع دیا ہے۔

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ نے استعفوں کی منظوری کا اسپیکر کا حکم معطل نہیں کیا، ہائی کورٹ کے مطابق اسپیکر کا فیصلہ درخواست کے ساتھ لگایا ہی نہیں گیا تھا۔

    ویڈیو لیک کیس:سندھ ہائی کورٹ نےدانیہ شاہ کی ضمانت منظور کرلی

    مخدوم علی خان نے کہا کہ تحریک انصاف کے 20 ارکان نے استعفے نہیں دیے تھے وہ اسمبلی کا حصہ ہیں، امریکی تاریخ دان نے کہا تھا کہ سیاسی سوال کبھی قانونی سوال نہیں بن سکتا، امریکا تاریخ دان کی بات پاکستان کے حوالے سے درست نہیں لگتی، امریکی سپریم کورٹ بھی کہہ چکی کہ عدالت سیاسی سوالات میں نہیں پڑے گی۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ پاکستان میں بنیادی حقوق اور آئینی سوالات پر فیصلے ہوتے رہے، سیاسی سوال قانونی تب بنتا ہے جب سیاسی ادارے کمزور ہوجائیں۔

    اس پر مخدوم علی خان نے کہا کہ پی ٹی آئی نے خود ہی آرڈیننس لاکر نیب ترامیم ڈیزائن کی تھیں، اپنی ہی ڈیزائن کردہ ترامیم چیلنج کرنا بدنیتی ہے، سپریم کورٹ وطن پارٹی اور طاہرالقادری کیس نیت اچھی نہ ہونے پر خارج کر چکی۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ تفصیل دیں آئینی خلاف ورزیوں پر نیب قانون کی شقوں کو سپریم کورٹ نے کب کب کالعدم قرار دیا؟ بعدازاں عدالت نے کیس کی سماعت 15 فروری تک ملتوی کردی۔

    شہبازگل نےٹرائل کورٹ سے درخواست بریت مسترد ہونےکا فیصلہ ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا

  • صدر مملکت سے اسحاق ڈارکی ملاقات،منی بجٹ  آرڈیننس پر تبادلہ خیال

    صدر مملکت سے اسحاق ڈارکی ملاقات،منی بجٹ آرڈیننس پر تبادلہ خیال

    اسلام آباد: صدر مملکت عارف علوی سے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے ملاقات کی اور منی بجٹ آرڈیننس کی صورت میں نافذ کرنے پرگفتگو کی۔

    باغی ٹی وی: ذرائع کے مطابق صدر مملکت عارف علوی سے ملاقات میں اسحاق ڈار نے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا،ذرائع کا کہنا ہےکہ ملاقات میں اسحاق ڈار نے آئی ایم ایف سے مذاکرات کے بارے میں صدر مملکت کو آگاہ کیا اور آئی ایم ایف کے مطالبات سے متعلق بھی گفتگو کی۔

    اسحاق ڈار نے صدر مملکت کو میثاق معیشت کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ میثاق معیشت ملک کی معیشت کی بہتری کے لیے ضروری ہے۔ ذرائع نے وزیرخزانہ کی کچھ تعطل کے بعد صدرعلوی سے ملاقات کو غیر معمولی قراردیا۔

    بعدازاں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے عمران خان سے رابطہ کیا اور ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر اہم گفتگو کی,انہوں نے عمران خان سے وزیر خزانہ اسحاق ڈار سے حالیہ ملاقات اور ملک میں عام انتخابات کی ٹائم لائن سے متعلق بھی گفتگو کی

    ذرائع نے بتایا ہےکہ ملاقات میں حکومت کی طرف سے منی بجٹ آرڈیننس کی صورت میں نافذ کرنے پر بھی گفتگو ہوئی منی بجٹ تجاویز آج ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں منظورکیے جانےکا امکان ہے۔

    واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کا اجلاس بھی آج شام 6 بجے طلب کر رکھا ہے ذرائع کے مطابق کابینہ اجلا س میں کورونا بچاؤ انجکشن کی قیمت کا بھی فیصلہ کیا جائے گا-