Baaghi TV

Tag: Syria

  • ترکیہ و شام زلزلہ: ماہر موسمیات نے سوشل میڈیا پر 3 دن قبل ہی خبردار کردیا تھا

    ترکیہ و شام زلزلہ: ماہر موسمیات نے سوشل میڈیا پر 3 دن قبل ہی خبردار کردیا تھا

    موسمیات اور زلزلے سے متعلق ریسرچ کرنے والے ایک ماہر نے سوشل میڈیا پر 3 فروری کو ہی پیشنگوئی کردی تھی کہ ترکیہ اور شام کسی بھی وقت تباہ کن زلزلے کی لپیٹ میں آسکتے ہیں۔

    باغی ٹی وی: ترکیہ اور شام میں آج دو انتہائی تباہ کن زلزلے آئے جس کے نتیجے میں درجنوں عمارتیں زمین بوس ہو گئیں اور 2200 سے زائد افراد لقمہ اجل بن گئے جبکہ ہزاروں افراد زخمی ہیں جب کہ تاحال دونوں ممالک میں عمارتوں کے ملبے سے لاشیں ملنے کا سلسلہ جا ری ہے۔

    ترکیہ اور شام میں آنے والے پہلے زلزلے کی شدت 7 اعشاریہ 8 ریکارڈ کی گئی جبکہ کچھ گھنٹوں بعد ترکیہ ک علاقے البستان میں 7 اعشاریہ 5 شدت کا ایک اور زلزلہ بھی ریکارڈ کیا گیا ترک صدر رجب طیب اردوان نے اسے 1939 کے بعد سے بدترین زلزلہ قرار دیا ہے۔

    کہا جاتا ہے کہ بارش اور طوفان سے تو پیشگی آگاہ کیا جا سکتا ہے لیکن زلزلے کے بارے میں پیشن گوئی کرنا تقریباً ناممکن ہے لیکن حیران کن طور پر سوشل میڈیا پر 3 روز قبل کی گئی زلزلے کی پیشن گوئی آج درست ثابت ہوگئی۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق نیدرلینڈ سے تعلق رکھنے والے تحقیق کار فرینک ہوگر بیٹس نے سوشل میڈیا پر اپنی ٹوئٹ میں کچھ روز پہلے ہی اس خطے میں بڑے زلزلے کی پیشگوئی کر دی تھی۔


    فرینک ہوگر بیٹس نے 3 فروری کو ایک ٹوئٹ کی جس میں انہوں نے بتایا کہ جلد یا بدیر 4 سے 6 فروری کے درمیان جنوبی وسطی ترکیہ، اردن، شام اور لبنان میں 7 اعشاریہ 5 شدت کا زلزلہ آئے گا، یعنی جانی و مالی نقصان کے اعتبار سے یہ کافی خطرناک زلزلہ ثابت ہوگا ان کی زلزلے سے متعلق پیشگوئی 3 روز بعد ہی سچ ثابت ہوئی۔

    فرینک ہوگر بیٹس نے اپنی ریسرچ ایجنسی کی پوسٹ کو بھی ری ٹوئٹ کیا جس میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ پہلے زلزلے کے بعد ایک اور بڑا جھٹکا آئے گا، ان کی یہ پیشگوئی بھی سچ ثابت ہوئی۔


    ان ٹوئٹس کے عین مطابق زلزلے کے دو جھٹکے آئے پہلا ترکیہ اور شام کا تھا جس کی شدت 7.8 تھی جس میں بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہوئیں جب کہ اس کے بعد ایک اور زلزلہ ترکیہ کے علاقے البستان میں آیا جس کی شدت 7.5 ریکارڈ کی گئی جس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    نیدر لینڈ کے ریسرچر نے زلزلے کے حوالے سے اپنی پیشگوئی درست ثابت ہونے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا وسطی ترکیہ میں آنے والے زلزلے سے متاثرہ ہونے والے ہر فرد کے لیے میرا دل بہت دکھی ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل ماہرین بھی ترکیہ میں بڑے پیمانے پر زلزلے میں استنبول شہر کی تباہی کا خدشہ ظاہر کرچکے ہیں دسمبر 2022 میں بھی ایک سائنسدان نے اسی علاقےمیں بڑے زلزلے سے خبردار کیا تھا۔

    ترکیہ اور شام میں تباہ کن زلزلہ : ماہرین نے پاکستان اوربھارت کو بھی خبردار کر دیا

    ترکیہ میں اتنے شدید زلزلے کیوں آتے ہیں؟

    ترکیہ دنیا کے سب سے زیادہ فعال زلزلہ زون میں واقع ہے کیونکہ اس مقام پر کئی ٹیکٹونک پلیٹس آپس میں مل رہی ہیں اور حرکت بھی کر رہی ہیں ترکیہ اناتولین ٹیکٹونک پلیٹ پر واقع ہے جس کے گرد عربین پلیٹ، یوریشین پلیٹ اور افریقن پلیٹ موجود ہیں اور یہ پلیٹس مکمل طور پر حرکت کر رہی اور فعال ہیں جس کے باعث ہر مہینے زیر زمین ہزاروں زلزلے آتے ہیں۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل ترکیہ کو 1939 میں بدترین زلزلے کا سامنا کرنا پڑا ہے جب ارزنکان صوبے میں 7.8 شدت کا زلزلہ آیا تھا اور 33 ہزار افراد لقمہ اجل بن گئے، اس زلزلے میں ہزاروں افراد زخمی بھی ہوئے۔

    اس کے بعد ترکیہ نے 1999 میں ایک اور شدید زلزلے کا سامنا کیا جس کی شدت 7.4 ریکارڈ کی گئی تھی اور اس زلزلے میں 17 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ زلزلے کے باعث سیکڑوں عمارتیں گرگئیں تھیں۔

    ترکی میں زلزلہ، وزیراعظم کا ترک صدر سے رابطہ

  • بیروت میں‌ حوا کی  بیٹی پر کیا گزر رہی، اسپیشل رپورٹ پڑھنا نہ بھولیے

    بیروت میں‌ حوا کی بیٹی پر کیا گزر رہی، اسپیشل رپورٹ پڑھنا نہ بھولیے

    حالات کی ستائی بنت حوا ظلم در ظلم کا شکار.شام سے ہجرت پر مجبور ہو کر پناہ لینےوالی لڑکیاں جنسی استحسال کا شکار.

    باغی ٹی وی رپورٹ: انٹر نیشنل ٹی وی چینل الجزیرہ نے روح فرسا رپورٹ دی ہے کہ شام کی ظلم و ستم کی ستائی غموں سے نڈھال اپنے باپ اور بھائی کے سائے سے محروم لڑکیاں بہت بڑی تعداد میں جنسی ہراسگی اور ریپ کا شکار ہور ہی ہیں.رپورٹ کے مطابق شام میں تباہی کے بعد لبنان میں پناہ لینے والی لڑکیاں جن کے سر پرکسی بھائی اور باپ کا سایہ نہیں ہے ان کو مسلسل جنسی تشدد اور ہراسمنٹ کا سامنا ہے.

    انٹرنیشنل ہیومن ڈیلپمنٹ کی ایک رونگٹھے کھڑے کر دینے والے رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ صرف ایک دن میں 400 لڑکیوں کی عزت و عصمت کو پامال کیا گیا ان کی عمریں 10 سے 19 سال کے درمیان تھیں متاثرہ لڑکیوں نے اپنی یہ درد بھری کہانی اس تنظیم کو سنائی.اب جو اس سروے میں نہیں آ سکیں وہ نہ جانے کتنی ہیں.70 فیصد بچ جانے والی لڑکیوں نے کہا کہ وہ خود بہت غیر محفوظ تصور کرتی ہیں.90 فیصد رات کی تاریکی اور اندھیروں بہت ڈرتی ہیں کہ ناجانے کوئی انسانی درندہ ان کو آ کر نوچ نہ لے.

    اپنی مشکلات اور ستم کو بیان کرتے ہوئے ان لڑکیوں کا کہنا ہے ’’ہم باہر تنہا جانے سے بھی ڈرتی ہیں اور ہر طرف نشہ میں دھت لوگ ہمیں پریشان کرتے ہیں اور جو شراب نہیں پیتے وہ بھی اپنی حرکتوں سے باز نہیں آتے‘‘۔ہر کوئی ہمارا پیچھا کرتا ہے.ہمیں ہوس بھری نطروں سے دیکھا جاتا ہے اور گناہ اور ظلم پر مجبور کیا جاتا ہے. اپنے یہ حالات بیان کرتے کرتے متاثرہ لڑکیا بے زارو قطار روتی رہیں.

    یہ اعداد و شمار بعض نتظیمیں شائع کر ہی ہیں تاکہ دنیا کے مختلف ممالک کی حکومتوں، اقوام متحدہ اور لبنان کی سول سوسائٹیز اور انسانی حقوق کی تنظیموں تک ان بچیوں کی آواز پہنچائی جا سکے۔
    واضح رہے کہ یہ اعداد و شمار صرف ایک کیمپ کے ہیں شام سے در بدر ہونےوالی لاکھوں حوا کی بیٹیاں اور مسلم بچیاں دنیا کے بے درد ، پتھر دل اور حرص و ہوس کے پچاری مردوں کے ظلم کا شکار ہو رہی ہیں.امت مسلمہ ،عالمی برادری اور دنیا کے انصاف پسند انسانیت کا درد رکھنے والوں کے لیے یہ سب شب و روز کی میڈیا رپورٹس اور کہانیاں ہیں جن کو وہ ایسے نطر سے اوجھل کر دیتےہیں.