Baaghi TV

Tag: Tariq Aziz

  • شوہر طارق عزیز نے بے اولادی کا کبھی طعنہ نہیں دیا تھا اہلیہ حاجرہ

    شوہر طارق عزیز نے بے اولادی کا کبھی طعنہ نہیں دیا تھا اہلیہ حاجرہ

    معروف فنکار طارق عزیز کی اہلیہ کا کہنا ہے کہ جب سے میرے شوہر کا انتقال ہوا ہے حکومت کی طرف سے مجھ سے کبھی بھی رابطہ نہیں کیا گیا، انہوں نے کہا کہ میرے شوہر اپنی آنکھیں تک عطیہ کرنا چاہتے تھے لیکن ایسا ہو نہ سکا ، مجھے انکی اس خواہش کے بارے میں‌علم نہیں تھا. انہوں نے کہیں یہ نوٹ لکھ رکھا تھا جو مجھے ان کے انتقال کے بعد ملا . انہوں نے کہا کہ میرے شوہر بہت زیادہ حساس تھے وہ لوگوں کی مدد کرتے تھے ، کسی بھی ضرورتمند کو خالی ہاتھ نہیں جانے دیتے تھے . انہوں نے ہمیشہ ملک کی فکر کی اور یہاں کے لوگوں کی فکر کی .

    ”طارق عزیز کی اہلیہ حاجرہ کا مزید کہنا تھا کہ اولاد نہ ہو تو شوہر دوسری شادی کے بارے میں سوچتا ہے لیکن میرے شوہر نے ایسا کبھی بھی نہیں سوچا تھا” اور نہ ہی مجھے کبھی اس چیز کا طعنہ دیا. وہ اسلامی تعلیمات پر کاربند رہے تمام عمر ، بچہ گود لیکر پالنے کے حوالے سے ان کے کچھ تحفظات تھے لہذا انہوں نے ایسا نہ کیا. انہوں نے اپنی زمین جائیداد حکومت کو دیدی تھی . وہ ایک فرشتہ صفت انسان تھے. میں خوش نصیب ہوں کہ میری شادی ان کے ساتھ ہوئی. خوشی ہے کہ انہوں نے ایک بھرپور زندگی بسر کی .

    انجمن نے شبنم بیگم کو ستارہ امتیاز کے لیے نامزد ہونے پر مبارک دی

    شے گل نے نیا گانا میرا سویرا ریلیز کر دیا

    اب ہمارے گھر کر کے نیٹ فلکس پر میری بیوی آئیگی یاسر حسین

  • آج طارق عزیز کی تیسری برسی

    آج طارق عزیز کی تیسری برسی

    نامور صداکار، اداکار اور شاعر طرق عزیز کی آج تیسری برسی ہے. طارق عزیز نے اپنے فنی کیرئیر کا آغاز ریڈیو پاکستان لاہور سے کیا۔1964ء میں جب پاکستان ٹیلی وژن کا قیام عمل میں آیا تو طارق عزیز پی ٹی وی کے سب سے پہلے مرد اناؤنسر تھے۔طارق عزیز کو 1975 میں‌شروع ہونے والے نیلام گھر نے جو شہرت بخشی وہ لفظوں میں بیان نہیں کی جا سکتی. یہ پروگرام کئی سال تک جاری رہا اور اسے بعد میں بزمِ طارق عزیز شو کا نام دے دیا گیا۔انہوں نے فلموں میں بھی کام کیا ان کی پہلی انسانیت تھی.اس کے بعد انہوں نے کئی فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے جن میں سالگرہ، قسم اس وقت کی، کٹاری، چراغ کہاں روشنی کہاں اور ہار گیا انسان قابل زکر ہیں. طارق عزیز ایسے فن کار تھے جو علم دوست اور شائقِ مطالعہ بھی تھے، وہ مختلف موضوعات پر جامع اور مدلّل طریقے سے اظہارِ خیال کرتے اور ان کی گفتگو سے علمیت، قابلیت اور ذہانت جھلکتی تھی۔

    ”برجستہ اور موقع کی مناسبت سے کوئی مشہور قول سنانا یا شعر کا سہارا لے کر اپنی بات کو آگے بڑھانے والے طارق عزیز اہلِ محفل کو متوجہ کرنے کا ہنر جانتے تھے”۔وہ ادیب اور شاعر بھی تھے۔ انھیں بے شمار اشعار بھی ازبر تھے۔ کالم نویسی بھی کی 1992ء میں حکومتِ پاکستان نے انھیں صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی سے نوازا تھا۔طارق عزیز 84 سال کی عمر میں‌2020 میں وہ اس دنیا سے رخصت ہو گئے.

    شادی کرنا چاہتی ہوں خاندان بنانا چاہتی ہوں لیکن ……. کنگنا رناوت

    کترینہ کا شوہر سپورٹنگ ایکٹر تو بن سکتا ہے ہیرو نہیں‌ کے آر کے کی تنقید

    حنا بیات نے ندا یاسر کورلانے کے بعد ہنسا دیا

  • "یوں لگتا ہے جیسے وقت تھم گیا ہو” چند گھنٹے قبل ٹویٹ کرنے والے طارق عزیز کیلئے وقت تھم گیا از طہ منیب

    "یوں لگتا ہے جیسے وقت تھم گیا ہو” چند گھنٹے قبل ٹویٹ کرنے والے طارق عزیز کیلئے وقت تھم گیا از طہ منیب

    خواہش تھی کہ طارق عزیز مرحوم کے ساتھ ملاقات ہو، بس سستی کی وجہ سے ملاقات رہ گئی، جانے والے کہاں رکتے ہیں، انکے پروگرام نیلام گھر سے بچپن کی یادیں وابستہ ہیں، کیا خوبصورت، ادب، معلومات ، مزاح سے بھرپور پروگرام ہوتا تھا جو دہائیوں تک یاد رہے گا۔ اپنے مخصوص انداز "دیکھتی آنکھوں، سنتے کانوں کو طارق عزیز کا سلام پہنچے” سے پروگرام کا آغاز کرنے والے طارق عزیز آج کچھ دیر قبل چل بسے۔ 1936 کو جالندھر میں پیدا ہوئے ، قیام پاکستان پر پاکستان تشریف لائے ، اداکار ، میزبان ، ادیب ، سیاستدان جیسے متعدد کرداروں کے حوالے پہچان بنائی۔ بڑی سنجیدہ اور باوقار شخصیت کے مالک تھے۔

    ابو نے 1997 کی الیکشن مہم کا ایک واقعہ سنایا کہ الیکشن سے قبل نواز شریف کا دورہ ملتان تھا، جلسہ گاہ قلعہ کہنہ قاسم باغ کھچا کھچ بھرا ہوا تھا ، میں بھی اس جلسے میں تھا ، طارق عزیز کی دس منٹ کی تقریر نے مجمع جما بھی دیا تھا اور تقریر ختم ہوتے ہی پنڈال خالی ہونا شروع ہوگیا جیسے عوام نواز شریف نہیں طارق عزیز کو سننے آئی ہو، جبکہ نواز شریف سٹیج پر موجود تھے، نواز شریف کی اپیل پر طارق عزیز دوبارہ مائک پر آئے کچھ منٹ مزید گفتگو کی۔

    پی ٹی وی کی نشریات کے آغاز کا اعزاز آپکو حاصل ہے، طارق عزیز نے 1974 میں نیلام گھر نامی کوئز پروگرام کا آغاز کیا جو تقریباً چار دہائیوں تک جاری رہا۔ 1997 تا 1999 مسلم لیگ کی طرف سے دو سال ایم این اے بھی رہے۔ اٹھارہ گھنٹے قبل ٹویٹر پر ٹویٹ کی کہ یوں لگتا ہے جیسے وقت تھم گیا ہے اور اٹھارہ گھنٹوں بعد واقعی وقت تھم گیا۔ موت ایک حقیقت ہے، سال دو ہزار بیس بہت جان لیوا ثابت ہوا ہے، جہاں لوگوں کی بڑی تعداد وبا کی وجہ سے موت کی آغوش میں گئی وہاں بڑے بڑے نام بھی اس سال داغ مفارقت دے گئے ، طارق عزیز مرحوم بھی انہیں میں سے ایک ہیں ، اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے۔ آمین