باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق جہلم میں حکومت پنجاب نے گزشتہ سال پنجاب کے مختلف کالجوں میں یکم اکتوبر 2019 سے 30 اپریل 2020 تک سات ماہ کے لیے ساڑھے چار ہزار سی ٹی آئی بھرتی کیے انہوں نے 14 اپریل تک اپنی خدمات سر انجام دیں کرونا کی وبا کے باعث تعلیمی عمل معطل ہوگیا تو دیگر ملازمین کی طرح یہ عارضی اساتذہ بھی گھروں میں بیٹھ گئے۔ پرنسپل حضراتِ نے 30 اپریل تک کی تنخواہیں اور تدریسی تجربے کے سرٹیفکیٹ ان کے حوالےکر دئیے دیگر ملازمین بھی گھر بیٹھے ماہانہ تنخواہیں وصول کر رہے ہیں شاہ سے زیادہ شاہ پرست حکام کو خیال آیا کہ عارضی ملازمین کو پریشان کیا جاسکتا تھا جو رہ گیا لہذا اکاؤنٹنٹ جنرل کے ایما پر ضلعی اکاؤنٹ آفس نے پرنسپل حضرات کو خطوط لکھے کہ آپ نے جن عارضی اساتذہ کو تنخواہیں دلوائی ہیں ان سے ڈیڑھ ماہ کے برابر رقم لے کر سرکاری خزانے میں جمع کروائیں ایک طرف تو حکام کرونا سے متاثر ہونے والے دہاڑی داروں اور چھوٹے کاروباری حضرات کی مالی اعانت کر رہی ہے اور دوسری جانب ان بے روزگار نوجوانوں سے وصول شدہ رقوم واپس طلب کر رہی ہے یہ دوہری پالیسی ناقابل فہم ہے۔
Tag: Teachers

جامعہ سرگودہا میں یکجہتی کشمیر کے حوالے سے واک کی گئی طلباء و اساتذہ کی شرکت
پاکستان بھر کی طرح سرگودھا میں بھی آج کا دن بطور یوم یکجہتی کشمیر منایا جا رہا ہے، اس سلسلہ میں جامعہ سرگودھا میں واک اور سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں شرکاء نے قابض بھارت کی جانب سے نہتے کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی بھرپور مذمت کی
https://youtu.be/58am0jMWUOM
واک میں یونیورسٹی فیکلٹی ممبران، سٹاف اور طلبا و طالبات کی بڑی تعداد نے شرکت کی، واک کے شرکاء نے انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنا کر کشمیری بہنوں اور بھائیوں سے اظہار یکجہتی کیا۔ کشمیریوں پر بھارتی ظلم و جبر کی مذمت کیلئے جامعہ سرگودھا کے کلاس رومز میں طلبہ نے ایک منٹ کی خاموشی بھی اختیار کی۔ حق آزادی اور کشمیری عوام کے موضوع پر منعقدہ سیمینار میں ڈائریکٹر ریاض شاد ہم نصابی فورم ڈاکٹرمحمد منیر، چیئرمین شعبہ سیاسیات و بین الاقوامی تعلقات ڈاکٹر محمد اعظم نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ امن پسند کشمیریوں پر بھارت کی جانب سے ڈھائے جانے والے مظالم کو روکا جائے اور کشمیر ی عوام کو بھارت کے ناجائز قبضہ سے نجات دلائی جائی۔ کشمیری بہنوں اور بھائیوں سے اظہار یکجہتی کیلئے طلبہ میں تقرریری اور شاعری کے مقابلے بھی منعقد کیے گئے۔

