Baaghi TV

Tag: ThisIsFaheem

  • کان پکڑ لیجیے ۔۔۔از: محمد فہیم شاکر

    کان پکڑ لیجیے ۔۔۔از: محمد فہیم شاکر

    رانا ثناء اللہ کو اینٹی نارکوٹکس فورس نے اسلام آباد سے لاہور جاتے ہوئے گرفتار کر لیا اور اس کی گاڑی سے 15 کلو اعلی کوالٹی کی چرس برآمد کرلی اس پر اپوزیشن نے آسمان سر پر اٹھا رکھا ہے شاید *چور مچائے شور* اسے ہی کہتے ہیں.
    ماڈل ٹاون سانحہ کا مرکزی کردار اور پنجاب میں دہشت گردوں کو تحفظ اور تعاون فراہم کرنے والے غنڈے کی چرس سمیت گرفتاری اس بات کی علامت ہے کہ ہم آج تک قاتلوں کو کندھوں پر بٹھا کر اسمبلی تک چھوڑ کر آتے رہے ہیں
    بصری آلودگی کی انتہاء دیکھیے کہ ہم یہ سب جانتے بوجھتے کرتے رہے
    ہم جانتے تھے کہ نونی ہے یا پیپلی، یہ غنڈے ہیں لیکن ہم انہیں ووٹ دیتے رہے
    ہم جانتے تھے کہ یہ بنارسی ٹھگ باریاں لیتے اور عوام کو لوٹتے ہیں لیکن ہم انہیں ووٹ دیتے رہے
    ہم جانتے تھے کہ یہ قاتل ہیں لیکن ہم انہیں ووٹ دیتے رہے

    ہم جانتے تھے کہ یہ نونی اور پیپلی پاکستان پر قافیہ تنگ کر رہے ہیں لیکن ہم انہیں ووٹ دیتے رہے
    ہم جانتے تھے کہ پاکستان میں دہشتگردی کی اصل وجہ یہی خونی درندے ہیں لیکن ہم انہیں ووٹ دیتے رہے
    کیونکہ ہم تعلیم یافتہ نہ تھے، کاش ہم تعلیم یافتہ ہوکر باشعور ہوتے تو ملک آج تک اندھیروں میں دھکے نہ کھاتا
    اور یہ سب ہم سے زیادہ یہ بنارسی ٹھگ جانتے تھے شاید اسی لیے انہوں نے ہمارا نظام تعلیم کرائے پر دیئے رکھا تاکہ ہم اردو اور انگلش میڈیم، آکسفورڈ او اور اے لیول، اور اسی طرح کے دیگر جھمیلوں میں الجھے رہیں اور اصل مسئلے کی طرف ہمارا دھیان ہی نہ جائے
    اور یوں ہماری اسمبلیاں ہوں یا پارلیمنٹ، مقننہ ہو یا اپوزیشن، کسی بھی جگہ باشعور اور تعلیم یافتہ لوگوں کو آگے نہیں آنے دیا گیا، جو بھی یہاں پہنچے ذہنی غلام اور اپنے ضمیروں کا سودا کر کے آنے والے تھے
    شاید آپ کو "پارلیمنٹ سے بازار حسن تک” کا مطالعہ کرنا چاہیے
    اس کا خمیازہ ہم آج تک بھگت رہے ہیں، لیکن صرف ہم ہی بھگت رہے ہیں یا سارا وطن بھگت رہا ہے، اس کا جواب تلاش کرنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ اس کا جواب ہمیں روزانہ اور بلاناغہ بارہا مرتبہ
    جھنجھوڑتا ہے لیکن ہم بحیثیت قوم بے حسی کا شکار ہو چکے ہیں اور جب ایسی مِلّـی بے حسی طاری ہوتی ہے تو بڑے سانحات کی راہ از خود ہموار ہوجایا کرتی ہے۔
    اور اب کان پکڑ لیجیے قبل اس سے کہ کان پکڑوا دئے جائیں۔

  • پاکستان مخالف اتحاد کی خاموش ٹھکائی ۔۔۔ محمد فہیم شاکر

    پاکستان مخالف اتحاد کی خاموش ٹھکائی ۔۔۔ محمد فہیم شاکر

    مورخ کا کہنا ہے کہ ہمارے مغربی ہمسائے میں پاکستان مخالف اتحاد کی خاموش ٹھکائی بڑی شُدمُد سے جاری ہے اور اگر یہ منظر عام پر آئی تو دنیا میں تہلکہ مچ سکتا ہے۔
    سادہ سی مثال ہے کہ جہاں کہیں پاکستان مخالف گٹھ جوڑ ہو رہا ہوتا ہے وہیں ایک "پلوامہ” ہوجاتا ہے۔
    اور امریکہ رذیل باؤلا ہوکر عام آبادی پر بمباری کرتا اور دنیا میں حق پرستوں کو بلیک میل کرنے کی ناکام کوشش کرتا ہے۔
    ذرا غور کیجیے کہ فروری 2019 میں جب انڈیا نے امریکی شہہ پر پاکستان پر جنگ مسلط کرنے کی کوشش کی تھی تو افغانستان میں امریکہ کی جو دُرگت بنی تھی وہ تو آپ کو یاد ہی ہوگی۔
    پورا امریکی ائیربیس تباہ کر دیا گیا تھا درجنوں جنگی و ٹرانسپورٹ طیارے اور ٹینک اور 300 سے زائد امریکی سورمے نرک واصل ہوئے تھے یہ دراصل پاکستان کا جواب تھا۔
    افغانستان میں را، سی آئی اے، موساد، این ڈی ایس پاکستان مخالف اتحاد کے روحِ رواں ہیں اور مزے کی بات کہ سب سے زیادہ ٹھکائی بھی انھی کی ہو رہی ہے اور ان میں سے بھی سب سے زیادہ چھترول اسرائیلی موساد کی ہو رہی ہے۔
    اب گمنام مجاہدوں کے ہاتھوں ہونے والی چھترول کا بدلہ لینے کا بھوت اس بے چاری کے سر پر سوار ہے اور اس کوشش میں باقی سب بھی با جماعت چھتر کھا رہے ہیں اور ثواب کما رہے ہیں، لیکن کریں تو کیا کریں شور بھی نہیں کر سکتے، کہ جگ ہنسائی ہوگی اور تھو تھو الگ ہوگی کہ دنیا کی طاقتور ترین خفیہ ایجنسی دراصل چھترول کروا رہی ہے اور مفت کروا رہی ہے تو ایک ایسے چھوٹے سے ملک کی ایجنسی سے کہ جس کا بجٹ ہر لحاظ سے باقی ممالک سے کم ہے اور اس چھوٹے سے ملک کی ایجنسی اس کم ترین بجٹ میں بھی اپنی قوم کو بہترین سروسز فراہم کر رہی ہے۔

    اب آپ کو سمجھ آئی کہ دراصل پاکستان کے اندر سے سیاہ ست دانوں اور مختلف سیاہ سی پارٹیوں کی جو فوج مخالف آوازیں بلند ہوتی ہیں وہ دراصل "پِیڑیں” کسی اور کی ہیں جو ان کے منہ سے نکل رہی ہیں۔
    آئیے! ففتھ جنریشن وار میں مارخور کے ہمقدم ہوجائیے۔
    آج جس جنگ میں ہم الجھ چکے ہیں یہ بلا شبہ سرحدوں پر نہیں لڑی جا رہی لیکن یہ عقائد و نظریات اور سوچوں میں لڑی جا رہی ہے۔
    عقیدہ رہا تو ہم ہیں، عقیدے کی بنیاد پر وجود میں آنے والے دو ممالک کے درمیان اس وقت واضح طور پر ایک زبردست جنگ چھڑ چکی ہے جس میں ابھی تک مارخور دشمنوں کے قومی جانوروں کا بخوبی شکار کر رہا ہے۔
    بس جوانو! آپ نے مارخور کی کمرِہمت بندھانی ہے اور اس کی پشت پر موجود رہنا ہے یعنی ففتھ جنریشن وار میں پیچھے نہیں ہٹنا، ہاں یاد رہے کہ آپ کو بہت سے ایسے محب وطن بھی ملیں گے جو وطن سے محبت کے نام پر افواج پاکستان اور دفاعی اداروں سے نفرت آپ کے دلوں میں بھرنے کی کوشش کریں گے لیکن آپ نے ان سے باخبر رہنا ہے اور بہت سے ایسے غدار بھی ملیں گے جو واشگاف الفاظ میں ملک اور فوج کو برا بھلا کہہ کر آپ کو پارہ چڑھانے کی کوشش کریں گے، ان سب سے آپ نے محتاط رہنا ہے۔
    کیونکہ ہمیں اس وقت دنیا کی تمام بڑی طاقتوں سے زیادہ خطرہ اپنے اندر کے اُن غداروں سے ہے جو 24 گھنٹے اپنے اِن محسنوں کی کردار کُشی کرتے ہیں۔

  • سیاسی سرکس لگنے کو ہے ۔۔۔ محمد فہیم شاکر

    سیاسی سرکس لگنے کو ہے ۔۔۔ محمد فہیم شاکر

    مورخ کی پیشین گوئی ہے کہ ملک میں سیاسی ٹمپریچر بڑھنے والا اور سیاسی سرکس لگنے والا ہے۔
    لیکن کیا میری قوم کسی نئی مشکل کی متحمل ہو سکتی ہے؟
    اگر سیاہ ست دان ملک سے اتنے ہی مخلص ہیں تو مشکل کی اس گھڑی میں وطن کے حال پر رحم کیوں نہیں کھاتے؟
    ایک طرف جبکہ دنیا کی مشہور ٹرائی اینگل میرے ملک کو توڑنے پر کمربستہ ہے وہیں میرے سیاہ ست دان بھی کسی نادان سے کم نہیں جو غداری کی آخری حدوں کو چھونے کی کوشش میں ہیں۔
    یاد رکھیے گا کہ سیاسی پارٹیوں کے کارکنان کو اپنی قیادت پر اعتماد نہیں ہے چند ایک ضرور نکلیں گے لیکن احتجاج میں وہ دم نہیں ہوگا جو ہوا کرتا تھا۔
    لیکن مسئلہ یہ ہے کہ انٹرنیشنل میڈیا اس وقت تیاری کر کے بیٹھا ہوا ہے کہ پاکستان مخالف چھوٹی سے چھوٹی سرگرمی کو بھی انتہائی بڑا کر کے دنیا کو دکھانا ہے تاکہ پاکستان کی خون بدنامی ہو سکے۔
    جیسا کہ منظور پشتین علی وزیر اور محسن داوڑ کے معاملے پر وائس آف امریکہ اردو سروس نے الگ الگ پولز کروائے اور پاکستانی حکومت کے پی ٹی ایم مخالف ہر اقدام کو تنقید کا نشانہ بنایا اور دنیا کو دکھانا چاہا کہ ریاست جابرانہ رویہ رکھتی ہے، اور ظاہری سی بات ہے کہ اس سب کا مطلب یہی ہے کہ ریاست کو اس سب سے روکنے کے لیے دنیا آگے بڑھے، اور دنیا کے آگے بڑھنے کا مطلب پاکستان کی ٹوٹ پھوٹ ہے۔
    اسی طرح بی بی سی اردو سروس نے پاک فوج کو پشتونوں کا قاتل قرار دیتے ہوئے آرٹیکلز لکھے تاکہ پاک فوج کو دنیا میں نفرت کا نشانہ بنوایا جا سکے اور تاکہ ملک کے اندر اس کا اعتماد مجروح ہو اور دنیا کے سامنے یہ فوج قاتل اور مجرم بنا کر پیش کی جا سکے تاکہ دنیا پاکستان سے پہلے پاکستان کی فوج کو توڑے اور ختم کرے اور اس سب کا مطلب یہی ہے کہ اگر فوج نہ رہی تو ملک کیسے رہے گا؟
    اب زرا غور کیجیے کہ ہمارے سیاہ ست دان آج تک کیوں فوج پر بھونکتے آئے ہیں؟
    یقینا آپ کو ساری بات سمجھ آرہی ہوگی
    منظور پشتین حالات خراب کرنے کے در پے ہے اور فوج پر حالیہ حملوں کے بعد افغانستان سے جو کالز انہیں موصول ہوئی ہیں جن میں فوج کے نقصان پر مبارکباد دی گئی اور واقعات کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کا کہا تھا تاکہ حالات کو غلط رنگ دیا جا سکے۔
    دوسری طرف پیپلز پارٹی نے زرداری کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کی مکمل تیاری کر رکھی ہے ان حالات میں جبکہ ملک پہلے ہی سے مشکل کا شکار ہے یہ لوگ مزید مشکل کھڑی کرنے چلے ہیں یہی وہ ایام ہیں جب انڈیا بھی حالات سے فائدہ اٹھا سکتا اور پاکستان پر کسی بھی قسم کی جارحیت کر سکتا ہے لہذا عوام الناس کے لیے ضروری ہے کہ آنکھیں اور کان کھلے رکھیں اور کسی بھی ایسی سیاہ سی پارٹی کی قیادت کے نعروں میں مت آئیں جو پاکستان سے مخلص نہیں ہے۔
    اللہ پاکستان کا حامی و ناصر ہو۔

  • ارض پاک میں تیل کے ذخائر ۔۔۔ محمد فہیم شاکر

    ارض پاک میں تیل کے ذخائر ۔۔۔ محمد فہیم شاکر

    خبرہےکہ سمندرسےتیل،گیس نہیں نکلا
    دوسری خبرہےکہ پاک فضائیہ اور نیوی نےآفشور ڈرلنگ پوائنٹ کی سکیورٹی سنبھال لی ہے۔ ماجراکیاہے؟
    یہ تو طے ہے کہ اندر کھاتے وہ ہو چکا جو دنیا کے چودہ طبق روشن کر دینے کو کافی ہے
    ہاں البتہ حکومت کی طرف سے حکمت کے تحت دانستہ منفی خبریں دی جا رہی ہیں
    اگر آپ غور کریں تو صاف سمجھ آجاتی ہے کہ جیسے ہی پاکستان نے ڈرلنگ کا عمل شروع کیا اور کچھ حوصلہ افزاء خبریں ملنا شروع ہوئیں تو امریکہ نے ایران کے ساتھ پھڈا ڈال کر اس قدر سرعت کے ساتھ فوج اور بحری بیڑے حرکت میں لائے کہ مورخ حیران و پریشاں رہ گیا، مورخ کا کہنا ہے کہ ٹائمنگ بہت عجیب ہے ایک بار پھر سے ہمیں مرحوم جنرل حمید گل کے الفاظ پر غور کرنا ہوگا کہ افغانستان بہانہ ہے پاکستان نشانہ ہے، بس اب افغانستان کی بجائے ایران لکھ لیں، اب کی بار ایران بہانہ ہے اور پاکستان نشانہ ہے اور امریکی افواج کا حرکت میں آنا دراصل پاکستان کو تیل و گیس کے ذخائر کی دریافت یا دریافت کے اعلان سے روکنے کی خاطر ہے جبھی تو پاکستان نے دانستہ 14 ارب ڈالر کے ضیاع کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ
    *تیل کوئی نئی جے نکلیا*
    ایسا کہہ کر دراصل پاکستان نے ایک نیو کلیئر جنگ کو ٹالا ہے
    جبکہ لنڈے کے دانشوروں نے آسمان سر پر اٹھا لیا ہے کہ قوم کا پیسہ ضائع کیا گیا ہے وغیرہ وغیرہ
    ایسے لوگوں کو پاکستانی کہلانے کا کوئی حق نہیں دیا جا سکتا کیونکہ دراصل ہائبرڈ وار کے یہی وہ ہراول ہیں جو کسی بھی ملک میں خانہ جنگی کا ماحول پیدا کر کے دشمن کو دعوت طعام دیتے ہیں تاکہ وہ خانہ جنگی کے شکار ملک میں آکر ہر قسم کے وسائل پر قابض ہو سکے
    یقین نہ آئے تو عراق، شام، مصر، لیبیا کی مثالوں سے استفادہ کیا جا سکتا ہے جہاں عوام ہی کے ہاتھوں وہاں کی حکومتوں کو گرا دیا گیا
    اور پاکستان میں عوام کو مشتعل کرنے کا فریضہ یہی لنڈے کے دانشور انجام دے رہے ہیں
    بھائی اگر تیل و گیس کے ذخائر دریافت نہیں ہویے تو کیا ہوا
    دنیا ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے کہ تیل دریافت کرنے والے ممالک نے 17 سے زائد بار کوششیں کیں تب جا کر یہ ذخائر دریافت ہویے اور پاکستان میں پہلی ناکام کوشش کو لے کر طوفان بدتمیزی کھڑا کر دیا گیا ہے
    لیکن حقیقت تو عیاں ہو چکی ہے کہ امریکی افواج کیوں موو کر رہی ہیں؟ اگر تیل و گیس کے بہت بڑے ذخائر دریافت نہ ہوئے ہوتے تو امریکی افواج بھلا کیوں موو کرتیں، اور پردہ داری کی خاطر سعودی تیل کے بحری جہاز کو نشانہ بنایا گیا تاکہ ایران اور سعودیہ کو آپس میں الجھا کر کسی ایک کی مدد کی خاطر خطے میں آمد کو جواز فراہم کیا جا سکے
    اور وزیراعظم عمران خان کا کہنا کہ قوم زیادہ سے زیادہ دعا کریں اور نوافل ادا کریں اگر اس پر غور کیا جائے تو یہ کس طرف اشارہ ہے؟ یقینا آسمانی مدد کی طلب کی خاطر، کیونکہ پاکستان سے جو خزانہ نکلا ہے وہ دنیا کو ہضم نہیں ہو پا رہا جبھی تو اس قدر شور برپا ہے کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی، اب پاکستان حقیقتا ڈبل گیم کر رہا ہے پہلے امریکہ کو مارتا تھا مانتا نہیں تھا اب ذخائر دریافت کر چکا ہے اور مان نہیں رہا
    یاد رکھیے گا کہ پاکستان نے دنیا کی دم پر پاوں رکھ دیا ہے جس کی سب سے زیادہ تکلیف امریکہ بہادر کو ہے کیونکہ پاکستان نے دنیا کایا پلٹ کر رکھ دینی ہے اور جب دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر کا حامل ملک ہونے کے ناطے تیل و گیس پر کنٹرول حاصل کرنا ہے تو سب سے پہلے امریکی معیشت دھڑام سے گرے گی کیونکہ جس پاکستان کو امریکہ نے پتھر کے دور میں دھکیلنے کی دھمکی دی تھی وہی پاکستان اب گن گن کر بدلہ لینے کی پوزیشن میں آرہا ہے اور جب امریکہ بہادر کا ناطقہ بند کرے گا تو سوچیں کہ امریکہ کتنی جلدی پتھر کے دور میں پہنچے گا
    *لو وائی ہتھ ہو گیا جے*
    امریکی معیشت کیسے گرے گی اس بات کو یوں سمجھئیے کہ سی پیک دنیا کے 70 کے قریب ممالک کو جوڑنے جا رہا ہے جن میں اکثریت یورپی ممالک کی ہے اور امریکی معیشت یورپی منڈیوں کے بل بوتے پر ہی تو کھڑی ہے اور جب یورپی منڈیاں سی پیک سے منسلک ہو جائیں گے تو امریکہ کو کون منہ لگایے گا تو آپ کیا سمجھے کہ امریکہ کیسے دھڑام گرے گا
    لہذا امریکہ بار بار بہانے بہانے سے سی پیک کو نشانہ بنانے کے لیے پاکستان کے اندرونی حالات کبھی ایم کیو ایم سے کبھی پی ٹی ایم سے اور کبھی کسی دوسرے تیسرے گروہ سے خراب کرواتا رہا ہے تاکہ پاکستان کو داخلی محاذ پر غیر یقینی صورتحال کا شکار کر دیا جائے لیکن پاکستان نے جس احسن طریقے سے ان سب کو کاونٹر کیا ہے دنیا اس پر انگشت بدنداں ہے
    انڈیا کی طرف سے جس جنگ کو مسلط کرنے کی کوشش کی گئی اور پاکستان نے ابھی نندن کو واپس کر کے جس جنگ کو ٹالا ہے اس کے رازوں سے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہی پردہ اٹھے گا
    تو صبر رکھئیے اور مورخ کی بات لکھ لیجیے کہ وہ سب ہو چکا جس پر ایک دنیا سانس روکے کھڑی ہے
    جس پاکستان سے لوگ بھاگتے تھے کہ یہ ملک عدم استحکام کا شکار ہو چکا ہے اب وہی ملک دنیا کو لیڈ کرنے جا رہا ہے
    بس اک زرا صبر۔