Baaghi TV

Tag: UAE

  • متحدہ عرب امارات میں بارش کا 75 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا

    متحدہ عرب امارات میں بارش کا 75 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا

    دبئی: متحدہ عرب امارات میں بارش کا 75 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : گلف نیوز نے ایک رپورٹ میں بتایا کہ بارش کے دوران گھروں سے دور، پریشان حال افراد کو بہت سے شہریوں نے اپنے گھروں میں پناہ دی، منگل کو یو اے ای میں ریکارڈ بارش ہوئی۔ 1949 سے اب تک کے دستاویزی ریکارڈ کی رُو سے یہ سب سے زیادہ بارش تھی، قومی مرکزِ موسمیات نے بتایا کہ العین کے علاقے خاتم الشاکلہ میں چوبیس گھنٹے سے بھی کم وقت میں 254 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی 9 مارچ 2016 کو اسی مرکز کے شعیب اسٹیشن نے 287.6 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی تھی۔

    موسم کی کیفیت میں اچانک رونما ہونے والی تبدیلی سے نمٹنے میں حکومت کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ شہریوں کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کیے گئے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں مزید خطرناک اور ریکارڈ توڑ بارش ہوسکتی ہے۔

    یو اےا ی میں بارشوں نے تباہی مچا دی،نظام زندگی بری طرح سے مفلوج،پروازیں …

    یو اے ای میں بھاری بارشیں غیر معمولی معاملہ ہیں موسلا دھار بارشوں سے لوگوں کو کو پیش آنے والی مشکلات سے قطعِ نطر ایک خوش کن حقیقت یہ ہے کہ ان بارشوں کے نتیجے میں زیرِ زمین پانی کے ذخائر بھی مضبوط ہوگئے ہیں۔

    خلیج ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق بھاری بارشیں بہت سے شہریوں کے لیے انتہائی پریشان کن تھیں کیونکہ وہ ایسی کسی بھی صورتِ حال کے لیے تیار نہ تھے جو لوگ اپنے گھروں سے دور بارش میں پھنس گئے تھے اُن کے لیے بہت سے شہریوں نے اپنے گھروں کے دروازے کھول دئیے اس سلسلے میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بالخصوص رین سپورٹ واٹس ایپ گروپس نے اہم کردار ادا کیا۔

    غزہ میں ہر روز تقریباً 70 بچے زخمی ہو رہے ہیں،یونیسف

    شارجہ میں کام کرنے والے بھارتی شہری اسلم نے بتایا کہ واٹس ایپ گروپ کے ذریعے بہت سے شہریوں نے بارش میں پھنسے ہوئے لوگوں کو اپنے ہاں پناہ دی، ان کے کھانے پینے کا اہتمام بھی کیا، مصیبت میں گھرے ہوئے کسی اجنبی کی مدد کرنے کا یہ بھرپور جذبہ یو اے ای کی نمایاں خصوصیات میں سے ہے۔

    گوادر سمیت مختلف علاقوں میں موسلادھار بارش ، ندی نالوں میں طغیانی کا خطرہ

  • یواےای میں 50 ڈگری سینٹی گریڈ کی حد کو عبور

    یواےای میں 50 ڈگری سینٹی گریڈ کی حد کو عبور

    متحدہ عرب امارات میں بڑھتی ہوئی گرمی نے ہفتے کے روز 50 ڈگری سینٹی گریڈ کی حد کو عبور کر لیا۔ یہ اس موسم گرما کا سب سے زیادہ درجہ حرارت ہے جبکہ نیشنل سنٹر آف میٹرالوجی نے اپنے ایک اعلامیہ میں بتایا کہ امارت ابوظبی کے ریجن الضفرا میں واقع گاؤں وتیید میں پارہ 50.8 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا ہے.

    علاوہ ازیں اس سے قبل جولائی میں درجہ حرارت 50 ڈگری سے تجاوز کر گیا تھا اور اس وقت ملک میں موسم گرما کی لہر دوڑ گئی تھی۔بڑھتی ہوئی گرمی اور نمی کی وجہ سے ڈاکٹروں نے لوگوں کو براہ راست سورج کی تپش میں زیادہ وقت گذارنے اور ہائیڈریٹ رہنے کے لیے ایک ایڈوائزری جاری کی ہے ، خاص طور پر اسکولوں کے دوبارہ کھلنے کے بعد بچّوں کومحتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    زمین تنازعہ؛ باپ پر تشدد کرنے والا ملزم گرفتار
    کے پی؛ لوئر دیر ضمنی بلدیاتی انتخابات میں پیپلز پارٹی کامیاب
    افغانستان میں سیاحتی مقام جانے پر خواتین کو روک دیا گیا
    وزیر اعظم کا عوام کو بجلی بلوں میں ریلیف دینے کا حکم
    جبکہ عرب خطے میں گرمی میں شدت آتی جا رہی ہے اور سائنس دان اس رجحان کو گلوبل اُبلنا قرار دے رہے ہیں، جو گلوبل وارمنگ سے انتہائی گرمی کی لہرکی طرف تبدیل ہورہی ہے اور موسمیات سے متعلق آفات جیسے جنگل کی آگ کی طرف منتقلی کی عکاسی کرتا ہے۔

  • چھ ممالک کو برکس گروپ میں شمولیت کی دعوت، پاکستان نظرانداز

    چھ ممالک کو برکس گروپ میں شمولیت کی دعوت، پاکستان نظرانداز

    تیل کی طاقت کام کرگئی سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو ایک دہائی سے زائد عرصے میں پہلی بار برکس گروپ کی توسیع میں ترقی پذیر ممالک کے گروپ کا رکن بننے کی دعوت دی گئی ہے۔ جبکہ جنوبی افریقہ کے صدر سیرل رامفوسا نے جمعرات کو جوہانسبرگ میں گروپ کے سالانہ سربراہ اجلاس کے اختتام پر کہا کہ اگلے سال ایران، مصر، ایتھوپیا اور ارجنٹائن بھی اس میں شامل ہوں گے۔ مدعو کیے گئے تمام ممالک نے پہلے ہی شمولیت میں دلچسپی کا اظہار کیا تھا۔ اس گروپ میں اس وقت برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ شامل ہیں۔

    رامفوسا نے مزید کہا کہ رکنیت کا اطلاق یکم جنوری 2024 سے ہوگا۔ ایک ویڈیو پیغام میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے برکس کے نئے ارکان کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اس بلاک کا عالمی اثر و رسوخ بڑھتا رہے گا۔ اور میں نئے ارکان کو مبارکباد دینا چاہتا ہوں جو اگلے سال اس مکمل پیمانے پر کام کریں گے۔

    علاوہ ازیں روسی صدر نے مزید کہا کہ میں اپنے تمام ساتھیوں کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ ہم دنیا میں برکس کے اثر و رسوخ کو بڑھانے کے لئے آج شروع کیے گئے کام کو جاری رکھیں گے۔ جبکہ چین کے صدر شی جن پنگ نے بلاک کی توسیع کو تاریخی قرار دیا، جو ترقی پذیر ممالک کے ساتھ متحد اور تعاون کے اس کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

    جبکہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس سے برکس تعاون کے طریقہ کار میں نئی روح پھونکی جائے گی اور عالمی امن اور ترقی کی طاقت کو مزید تقویت ملے گی۔ سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ برکس ممالک کے ساتھ خصوصی، اسٹریٹجک تعلقات مشترکہ اصولوں کو فروغ دیتے ہیں، سب سے اہم بات خودمختاری کے احترام، آزادی اور داخلی معاملات میں عدم مداخلت کے اصول پر پختہ یقین ہے۔ انہوں نے برکس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب "محفوظ اور قابل اعتماد توانائی فراہم کنندہ” رہے گا۔

    سعودی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ 2022 میں سعودی عرب اور برکس ممالک کے درمیان مجموعی دوطرفہ تجارت 160 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی اس توسیع کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ملک کو ہمیشہ یقین رہا ہے کہ نئے ارکان کو شامل کرنے سے بلاک مضبوط ہوگا۔

    اس اعلان سے سعودی عرب، جو دنیا کا سب سے بڑا خام تیل برآمد کنندہ ہے، کو دنیا کے سب سے بڑے تیل درآمد کنندہ، چین کی طرح اقتصادی بلاک میں ڈال دیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ روس اور سعودی عرب، دونوں تیل پیدا کرنے والے بڑے گروپ اوپیک پلس کے رکن ہیں – ایک نئے اقتصادی بلاک میں ایک دوسرے کے ساتھ شامل ہوں گے۔ دونوں ممالک اکثر اپنی تیل کی پیداوار کو مربوط کرتے ہیں ، جس نے ماضی میں سعودی عرب کو اپنے اتحادی ، امریکہ کے ساتھ اختلافات میں ڈال دیا ہے۔

    غریب بچے اچانک خوشی سے جھوم اٹھے، جب ایک ٹوٹا کھلونا کباڑ سے نکلا
    توشہ خانہ فوجداری کیس میں عمران خان کی اپیل پر سماعت آج ہو گی
    ڈریپ نے دواؤں کی قیمت میں اضافے کی تردید کر دی

    جبکہ سی این این کی رپورٹ کے مطابق بلاک کی توسیع سے ممکنہ ڈی ڈالرائزیشن کا سوال پیدا ہوتا ہے ، ایک ایسا عمل جس کے ذریعے ارکان آہستہ آہستہ تجارت کرنے کے لئے امریکی ڈالر کے علاوہ دیگر کرنسیوں کا استعمال کریں گے۔ برکس ممالک ایک مشترکہ کرنسی کے بارے میں بھی بات کر رہے ہیں، جسے تجزیہ کاروں نے مستقبل قریب میں ناقابل عمل اور ناممکن چیز قرار دیا ہے۔ تایم پیوٹن نے کہا کہ مشترکہ کرنسی کا مسئلہ ایک مشکل سوال ہے لیکن انہوں نے مزید کہا کہ ہم ان مسائل کو حل کرنے کی طرف بڑھیں گے۔ یہ توسیع ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب برکس کے کچھ رکن ممالک یعنی روس اور چین مغرب کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی میں پھنسے ہوئے ہیں۔

    علاوہ ازیں ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران جیسے مغرب کے خلاف کھلے عام مخالف ممالک کو شامل کرنے کا انتخاب گروپ کو مغرب مخالف بلاک بننے کی طرف دھکیل سکتا ہے جبکہ گولڈ مین ساکس کے سابق ماہر اقتصادیات جم او نیل نے اہم ابھرتی ہوئی مارکیٹوں کی وضاحت کے لیے جو اصطلاح ایجاد کی تھی، اس کے ارکان کے درمیان سیاسی اور معاشی نظام میں گہرے اختلافات کے باوجود یہ گروپ برقرار ہے۔

  • اقوام متحدہ کوپ 28 اجلاس اور  غذائی قلت کا مسئلہ

    اقوام متحدہ کوپ 28 اجلاس اور غذائی قلت کا مسئلہ

    اقوام متحدہ کوپ 28 سربراہی اجلاس کے ایجنڈے میں غذائی عدم تحفظ کا مسئلہ موسمیاتی تبدیلی سے متعلق اہم مسائل میں مرکزی حیثیت اختیار کر رہا جبکہ عالمی رہنما موسمیاتی تبدیلی سے متعلق اپنے وعدوں کو عملی جامہ پہنانے کی تیاری میں لگے ہوئے ہیں تاہم عاکمی ادارے کی رپورٹ کے مطابق مشرقِ اوسط میں ہونے والی اس موسمیاتی کانفرنس کی متحدہ عرب امارات نومبر میں میزبانی کرے گا اور خطے میں غذائی عدم تحفظ کے بڑھتے ہوئے خطرے کے پیش نظر ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ خلیجی ملک ، اپنے وسیع وسائل سمیت تکنیکی ترقی اور اس مسئلے پر فعال وکالت کے ساتھ ، ممکنہ طور پر خطے میں غذائی عدم تحفظ سے نمٹنے کی جنگ کی قیادت کرسکتے ہیں.

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نگران وزیراعظم سے متحدہ عرب امارات کے سفیرکی ملاقات
    جڑانوالہ میں جو کچھ ہوا، افسوسناک،مجرموں کے خلاف کارروائی کی جائے۔شہباز شریف
    گھریلوملازمہ رضوانہ کی پہلی پلاسٹک سرجری
    جج نے جھگڑے کے بعد بیوی کو قتل کردیا
    سابق گورنر اسٹیٹ بینک نگراں وزیر خزانہ مقرر
    بین الاقوامی ریڈ کراس کے ماہر کے مطابق متحدہ عرب امارات کے پاس اس مسئلے کے حل کیلئے وسائل موجود ہیں اور وہ ان چیزوں کو ٹھیک کرنے کے لیے کافی تیزی سے اقدام بھی کرسکتا اور اسکی وجہ سے وہ کوپ 28 کے بعد غذائی تحفظ اور اقدامات پر بحث کی قیادت کرنے کی بہترین پوزیشن میں بھی ہے۔ جبکہ انہوں نے مزید کہا کہ یہ کوئی ایسا ملک نہیں جس کے پاس خوراک کی وافر مقدار ہو جو غذائی تحفظ پر بات چیت کی قیادت کرے تاہم یہ متحدہ عرب امارات جیسا ملک ہے جو روزانہ کی بنیاد پراس سے نمٹ رہا ہے اور اس مسئلے کو حل کرسکتا ہے لیکن مشرق اوسط میں غذائی عدم تحفظ کے بنیادی اسباب پانی کی قلت، غیر مستحکم معیشتیں اور خوراک کی درآمدات پر بھاری انحصار ہے۔

    تاہم موسمیاتی ماہرین کا خیال ہے کہ اصل چیلنج ٹیکنالوجی کو سستی اور مقامی آبادی کے لیے آسانی سے اپنانے کے قابل بنانا ہے کیونکہ بہت سے خلیجی ممالک میں زرعی صنعت کاری میں اضافہ ایک مثبت علامت ہے لیکن اس سے صرف اسی صورت میں نتیجہ خیز نتائج برآمد ہوں گے جب کوششیں صرف غریبوں کے حق میں ہوں اور ضرورت مندوں کیلئے محنت کی جائے یا انہیں ترجیح دی جائے، غذائی عدم تحفظ کو کامیابی سے کم کرنے کے لیے خطے کے رہنماؤں کو سب سے زیادہ کمزور اور متاثرہ آبادی کی مدد کے لیے جامع پالیسیوں پر عمل درآمد کرنا ہوگا جو کوپ 28 کے موضوعات میں سے ایک ہے۔

  • ایرانی وزیر خارجہ بہت جلدسعودی عرب کا دورہ کریں گے

    ایرانی وزیر خارجہ بہت جلدسعودی عرب کا دورہ کریں گے

    ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان بہت جلد سعودیہ عرب کا دورہ کریں گے جبکہ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ناصر کنعانی نے ہفتہ وار پریس کانفرنس میں کہا کہ امیرعبداللہیان کے سعودی عرب کے دورے میں اقتصادی تعلقات سمیت متعدد امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

    عالمی میڈیا کے مطابق اگرچہ کنعانی نے دورے کی صحیح تاریخ کا انکشاف نہیں کیا، لیکن ایران سے تعلق رکھنے والی نیوز ویب سائٹ ایران کنٹس’ نے ہفتے کے روز خبر دی تھی کہ امیر عبداللہیان 17 اگست کو الریاض روانہ ہونے والے ہیں۔ سعودی عرب اور ایران نے مارچ میں چین کی ثالثی میں سفارتی تعلقات بحال کرنے کے معاہدے کا اعلان کیا تھا اور دونوں ملکوں کے درمیان سات سال کے بعد تعلقات بحال ہوئے تھے۔

    تاہم جون میں سعودی وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے تہران کا تاریخی دورہ کیا تھا جس میں انہوں نے حسین امیر عبداللہیان اور صدرابراہیم رئیسی سے ملاقات کی تھی۔ جبکہ کنعانی نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ صدر ابراہیم رئیسی کو شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے سعودی عرب کے دورے کی دعوت دی تھی ، لیکن ابھی اس کی خاص تاریخ کا فیصلہ نہیں کیا گیا ہے اور ’’مناسب وقت‘‘ پراس کا تعیّن کیا جائے گا۔انھوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات قدم بہ قدم آگے بڑھ رہے ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    کسی بھی سیاسی جماعت پر پابندی نہیں لگنی چاہیے،چودھری شافع حسین
    سیما حیدر نے بھارتی ترنگا لہرا کر بھارت زندہ باد کا نعرہ لگا دیا
    گھبرانے کی ضرورت نہیں منزل قریب ہے، راجہ پرویز اشرف
    ڈاکوؤں کے متعدد ٹھکانے تباہ، املاک کو آگ لگا دی گئی
    76 واں یوم آزادی:14 صحافیوں کو سرکاری اعزازات سے نوازے جانے کاامکان
    واضح رہے کہ مارچ میں طے شدہ معاہدے کے تحت الریاض اور تہران نے ایک دوسرے کے علاقوں میں سفارت خانے اور قونصل خانے دوبارہ کھولنے اور 20 سال قبل طے پانے والے سکیورٹی اور اقتصادی تعاون کے معاہدوں پر عمل درآمد پر اتفاق کیا تھا۔ سعودی عرب نے 2016 میں تہران میں اپنے سفارت خانے اور مشہد میں قونصل خانے پر حکومت کے حامی مظاہرین کے حملے کے بعد ایران کے ساتھ تعلقات منقطع کرلیے تھے اور ایران میں تعینات سفارتی عملہ کو واپس بلا لیا تھا۔

  • سندالہ لگژری جزیرے پر جی سی سی خطے کا پہلا گولف کورس قائم

    سندالہ لگژری جزیرے پر جی سی سی خطے کا پہلا گولف کورس قائم

    سعودی عرب کے ایک جزیرے پر نیا گالف کورس بنایا جائے گا۔ یہ اس علاقے میں پہلا گولف کورس ہوگا۔ عامی ادارے کی خبر کے مطابق نیوم، ایک کمپنی نے کہا کہ وہ آئی ایم جی گالف کورس کے ساتھ کام کر رہے ہیں تاکہ ان کے گولف کورس میں ان کی مدد کی جا سکے۔ وہ کھلنے کے لیے تیار ہونے، اشتہار دینے اور کورس چلانے جیسی چیزوں میں مدد کریں گے۔

    نیوم کے چیف اربن ڈیولپمنٹ اینڈ آئی لینڈ آفیسر انٹونی ویویس نے کہا ہے کہ سندالا نیوم کا پہلا بڑا پروجیکٹ ہوگا جسے وہ سب کو دکھائیں گے۔ یہ ان لوگوں کے لیے ایک خاص جگہ ہوگی جو گالف کھیلنا پسند کرتے ہیں اور یہ کسی بھی چیز کے برعکس ہوگا جبکہ وہ جگہ جہاں لوگ گولف کھیلنے کی مشق کر سکتے ہیں وہاں نئی ​​ٹیکنالوجی کے ساتھ خصوصی کیمرے ہوں گے جو یہ ٹریک کر سکتے ہیں کہ گولف کی گیند کہاں جاتی ہے اور اس بارے میں معلومات دے سکتے ہیں کہ انہوں نے کتنا اچھا کھیلا۔

    رابرٹ ٹرینٹ جونز جونیئر نے گولف کی ایک خاص جگہ بنائی جو ماحول کا خیال رکھنے اور لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کے لیے واقعی اچھے اصولوں کی پیروی کرتی ہے۔ اسے یہ بتانے کے لیے ایک خاص سرٹیفیکیشن ملا کہ یہ ان چیزوں کو کرنے میں کتنا اچھا ہے۔ جبکہ سندالا گالف اکیڈمی کے نام سے ایک خاص جگہ ہوگی جہاں لوگ گولف سیکھنے اور پریکٹس کرنے جا سکیں گے۔ اس میں مختلف کمرے ہوں گے جہاں وہ نئے آلات آزما سکتے ہیں اور خصوصی ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے گولف کے بارے میں سیکھ سکتے ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نمایاں تیزی
    صادق سنجرانی سب سے آگے،بڑا گھر بھی مان گیا، سلیم صافی کا دعویٰ
    سابق آئی جی کے پی کے بھائی کو اغوا کے بعد کیا گیا قتل
    غیرقانونی کاموں پر جواب دینا پڑتا ہے. عطاءاللہ تارڑ
    ایران اور امریکا کے درمیان منجمد فنڈز کی بحالی کا معاہدہ
    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نمایاں تیزی
    اسپورٹس کلب میں، ورزش کرنے کے لیے ایک جگہ ہوگی جسے جم کہا جاتا ہے، تیراکی کے لیے واقعی ایک بڑا پول جیسا کہ اولمپکس میں، ایک آرام دہ سپا، اور مختلف کھیل کھیلنے کے لیے علاقے۔ سندالا بحیرہ احمر میں ایک خاص جگہ ہے جہاں جزیروں کا ایک گروپ ہے۔ ان میں سے ایک جزیرے میں فینسی کشتیوں کے لیے واقعی ٹھنڈی جگہ ہو گی جسے یاٹنگ کی منزل کہا جاتا ہے۔ اسے اٹلی کے ایک مشہور ڈیزائنر نے ڈیزائن کیا ہے۔ تین واقعی فینسی ہوٹل، ایک گولف کورس، کھانے کے لیے بہت سی جگہیں، اور 51 فینسی اسٹورز کے ساتھ ایک خاص شاپنگ ایریا ہے۔
    2024 کے پہلے حصے میں بچے اسے دیکھ سکیں گے اور اسے دریافت کر سکیں گے۔

  • فلم باربی متحدہ عرب امارات کے سینما گھروں میں10 اگست کو ریلیز ہوگی

    فلم باربی متحدہ عرب امارات کے سینما گھروں میں10 اگست کو ریلیز ہوگی

    ہالی وڈ فلم باربی نے پوری دنیا میں دھوم مچا رکھی ہے ، سوشل میڈیا پر ہر طرف اسی کے چرچے ہیں ، ہالی وڈ ہو یا بالی وڈ، ایکٹرز باربی کے فیور میں مبتلا ہیں.اور پنک رنگ کے ڈریس پہن کر تصاویر بنا کر سوشل میڈیا پر جاری کررہے ہیں. اس فلم کے بارے میں اطلاعات یہ ہیں کہ اب اسے متحدہ عرب امارات میں بھی ریلیز کیا جائیگا . فلم 10اگست سے سینما گھروں میں دکھائی جائے گی اور اس حوالے سے عوام نے ٹکٹ کی خریداری بھی شروع کردی ہے۔ فلم کی ریلیز کی نئی تاریخ متحدہ عرب امارات کی میڈیا کونسل کی منظوری کے بعد سامنے آئی ہے۔غیرملکی میڈیا کے مطابق متحدہ عرب امارات کی میڈیا کونسل نے میڈیا مواد کے معیارات اور ملک میں عمر کی حد بندی کے مطابق ضروری طریقہ کار مکمل کرنے کے بعد باربی فلم کو متحدہ عرب امارات کے لائسنس یافتہ سینما گھروں میں نمائش کی منظوری دی ہے۔

    غیرملکی میڈیا کے مطابق” فلم کی ریلیز نامعلوم وجوہات کی بنا پر روک دی گئی تھی ”. کہا جا رہا ہے کہ یہ فلم اب تک دنیا بھر میں 800ملین ڈالر سے زائد کا بزنس کر چکی ہے۔فلم جہاں‌جہاں‌نمائش پذیر ہوئی ہے شائقین جوک در جوک دیکھنے کےلئے جا رہے ہیں.

    کرش 4 کی تیاری لیکن راکیش روشن فکر مند کیوں ؟

    منفی کردار نہیں کروں‌گی ہیما مالنی کا اعلان

    ڈریم گرل ٹو 25 اگست کو ریلیز کی جائیگی

  • احسن خان نے یو اے ای کا گولڈن ویزہ حاصل کر لیا

    احسن خان نے یو اے ای کا گولڈن ویزہ حاصل کر لیا

    اداکار اھسن خان کی ایک وڈیو انسٹاگرام پر وائرل ہو رہی ہے جس میں اداکار یو اے ای کی حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں. احسن خان یو اے ای کی حکومت کا اس لئے شکریہ ادا کررہے ہیں کہ کیونکہ انہیں یو اے ای کی حکومت نے انہیں گولڈن ویزہ جاری کیا ہے. اداکار نے ویزہ ملنے پر یو اے کی حکومت کا شکریہ ادا کرنے کے ساتھ ساتھ جی سی سی گلوبل لیگل کنسلٹنسی کا بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ آپ کا بھی شکریہ آپ نے میرے کیس کو بہت جلدی پراسس کیا اور آج مجھے گولڈن ویزہ مل گیا ہے. احسن خان پہلے فنکار نہیں ہیں جنہیں یو اے ای کی

    حکومت نے گولڈن ویزہ جاری کیا ہے اس سے پہلے بھی کئی پاکستانی فنکاروں کو گولڈن ویزہ مل چکا ہے ، جن میں علی ظفر ، فخر عالم ، سعدیہ خان ، اقراء عزیز اور یاسر حسین و یگر کے نام شامل ہیں، اداکارہ سعدیہ خان تو گولڈن ویزہ ملنے کے بعد دبئی میں ہی مقیم ہیں. یاد رہے کہ گولڈن ویزہ جسکو ملتا ہے وہ دبئی میں دس سال تک مسلسل نہ صرف رہ سکتا ہے بلکہ وہاں تعلیم حاصل کر سکتا ہے کاروباز کر سکتا ہے ، ملازمت کر سکتا ہے وہ وہاں کے شہریوں کے برابر کے حقوق سے لطف اندوز ہو سکتا ہے.

  • مایا علی کو بھی یو اے ای کا گولڈ ویزا مل گیا

    مایا علی کو بھی یو اے ای کا گولڈ ویزا مل گیا

    ڈراموں اور فلموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھانے والی مایا علی کو مل گیا ہے یو اے ای کا گولڈ ن ویزہ . مایا علی نے اپنے مداحوں کے ساتھ یہ خوشخبری سوشل میڈیا پر شئیر کی . انہوں نے یو اے وی میں گولڈ ویزہ حاصل کرتے ہوئے تصویر شئیر کی اور یو اے ای حکام کا شکریہ ادا کیا . مایا علی نے جیسے ہی یہ خبر مداحوں کے ساتھ شئیر کی تو ان میں خوشی کی لہر دوڑ گئی . مایا علی کے ساتھیوں اور مداحوں نے ان کو مبارکباد کے کمنٹس کرنا شروع کر دئیے. مایا علی سے پہلے علی ظفر ، فخر عالم ، عمیر جسوال ، وسیم اکرم ، ثانیہ مرزا ، شعیب ملک ، کرکٹر شاداب خان،

    افتخار احمد و دیگر کو گولڈن ویزہ مل چکا ہے. گولڈن ویزہ جس کو جاری کیا جاتا ہے وہ نیشنل اسپانسر کے بغیر یو اے ای میں تعلیم، کاروبار اور رہائش اختیار کرسکتے ہیں اور رہائش دس سال تک مسلسل اختیار کر سکتے ہیں اس دوران ان کو وہ تمام سہولیات ملتی ہیں جو وہاں کے رہائشوں کو میسر ہوتی ہیں.یاد رہے کہ مایا علی کا آج کل ڈرامہ آن ائیر ہے یونہی اس ڈرامے میں انہوں نے ایسی لڑکی کا کردار ادا کیا ہے جو پے تو پاکستانی لیکن باہر کے ملک میں رہتی ہے.

  • پاک اسرائیل تعلقات ، فوائد و نقصانات کا ایک تاریخی جائزہ از طہ منیب

    اسرائیل کے قیام اور اس سے تعلقات سے متعلق سوال پر قائد اعظم کا کہنا تھا کہ اسرائیل مغرب کا ناجائز بچہ ہے جسے ہم تسلیم نہیں کر سکتے ، اسی طرح 1948 میں قائد اعظم کو پہلے اسرائیلی وزیر اعظم ڈیوڈ بن گوریان کا ٹیلیگرام موصول ہوا جسے اگنور کرتے ہوئے جواب نہیں دیا گیا۔ لیاقت علی خان کے پہلے دورہ امریکہ پر کچھ تاجروں نے انہیں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے بعد معاشی و تجارتی اہمیت بیان کی تو انہوں نے کہا، "Gentleman our souls are not for sale”۔ پاکستان نے 1948 ، 1967 ، 1973 اور 1982 کی جنگوں میں عربوں کی حمایت کی ، پاک فضائیہ کے شاہینوں کو چار اسرائیلی طیارے گرانے کا اعزاز بھی ہے۔ 1967 کی جنگ کے بعد اسرائیلی وزیراعظم بن گوریان نے پاکستان کو اپنا دشمن نمبر قرار دیتے ہوئے کہ کہا کہ ہمیں عربوں سے زیادہ انکے دوست پاکستان سے خطرہ ہے جسکے مقابل اسرائیل کو اقدامات کرنے ہونگے۔

    یہ تو ہے اسرائیل پاک تعلقات کے معاملات کی کچھ تاریخ تاہم مشرف دور میں انقرہ میں ترکی نے خفیہ طور پر پاک اسرائیل وزراء خارجہ ملاقات کا اہتمام کروایا جسکا مقصد یقیناً مستقبل قریب میں پاک اسرائیل تعلقات کی بحالی تھا۔ تاہم اس کے بعد پاکستان کی طرف سے اسرائیل سے تعلقات سے متعلق کوئی خاص کاوش دیکھنے میں نہیں آئی۔ ابھی گزشتہ دو تین سالوں سے مخصوص قبیل کے کچھ اینکرز کی طرف سے مسلسل اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے فوائد و ثمرات پر دلائل دیکھنے میں آرہے ہیں یہاں تک کہ کل کامران خان نے کہا کہ پاکستان کو متحدہ عرب امارات سے سبق سیکھنا چاہیے۔ طاقت کے ایوانوں میں عمران خان اسرائیل کے حوالے سے خاصا سخت مؤقف رکھتے ہیں شاید یہی وجہ ہے کہ اس پر مزید کوئی ڈویلپمنٹ سامنے نہیں آئی۔

    پاکستان میں پبلک پریشر خارجہ و داخلہ امور میں ہمیشہ سے اثر انداز رہا ، ایٹمی دھماکے ہوں ، توہین رسالت کا مسئلہ ہو یا اسرائیل کا تسلیم کرنا اس قسم کے معاملات پر ہمیشہ سخت ردعمل دیکھنے میں آیا ہے اسکی اپنی جگہ حقیقت لیکن یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ جب ریاست کسی فیصلے پر عمل درآمد کا ارادہ کرتی ہے تو دہشتگردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن اتحادی جیسے غیر مقبول معاملات بھی کر گزرتی ہے۔

    اسرائیل کی شروع دن سے پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات کی خواہش رہی ہے ، جبکہ ہم واحد ایٹمی اسلامی ریاست ہیں جو اسرائل کے ناجائز وجود کو دنیا میں تسلیم کرنے سے انکاری ہیں اور اپنے پاسپورٹ پر بھی لکھ رہا ہے کہ اسرائیل کے علاوہ دنیا کے ہر ملک میں کارآمد ہے۔ ہمارے تسلیم کرنے سے دنیا میں اسرائیل کے راستے کی واحد رکاوٹ بھی ختم ہو جائے گی اور اسکی سلامتی کو ہم سے لاحق خطرات بھی ختم ہو جائیں گے۔

    یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر پاکستان کے پالیسی میکرز کہیں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے سرگرم و متحرک ہوتے ہیں تو شاید تجارتی و معاشی فوائد تو حاصل ہو جائیں جیسا کہ ماضی میں بھی لیاقت علی خان کو اس کی یقین دہانی کرائی گئی تھی لیکن پاکستان کشمیر پر اپنے اصولی موقف کو کھو دے گا ، کشمیر ہماری بقاء اور خارجہ پالیسی کا بنیادی مرکز ہے اس پر کسی قسم کی اخلاقی کجی کمی ہمیں اقوام عالم میں کھڑا نہیں رکھ پائے گی۔