Baaghi TV

Tag: Umar Farooq Zahoor

  • عمر فاروق ظہور سے کس نے رابطہ کیاِ؟

    عمر فاروق ظہور سے کس نے رابطہ کیاِ؟

    معروف کاروباری شخصیت عمرفاروق ظہور نے پروگرام کھرا سچ کے میزبان اور سینئر صحافی مبشر لقمان کو اپنے انٹرویو میں بتایا کہ ان سے رابطہ خود مرزا شہزاد اکبر نے کیا تھا کیونکہ آفیشل دوروں کے دوران ان سے دوستی ہوئی تھی تو گپ شپ بن گئی اور ایک دن شہزاد اکبر نے کہا کہ ہمیں بہت ساری چیزیں ملتی جب کسی ملک کا دورہ ہوتا تو اگر کوئی دلچسپ چیز ہو تو آپ لینگے تو میں نے کہا کہ کیونکہ نہیں جناب اور ایک دن انہوں کہا کہ فرح گوگی صاحبہ آرہی ہیں اور آپ ان سے مل لیں.
    https://www.youtube.com/watch?v=eExIRUqIPbI
    عمر فاروق ظہور نے مبشرلقمان کو بتایا کہ جب فرح میرے پاس آئی تو انہوں نے مجھے ایک خاص گھڑی دکھائی جسے دیکھ کر میں حیران ہوگیا جبکہ ان سے کہا کہ میں اسے چیک کروا لوں اور جب مارکیٹ لے گیا تو انہوں نے دیکھتے ہی حیرانی ظاہر کی کہ یہ گھڑی آپ کے پاس کیسے آئی کیونکہ یہ تو سعودی شہزادہ نے دو ٹکڑے بنوائے تھے خصوصی طور پر تو خیر انہوں نے مجھے کہا کہ آپ کو اگر ملتی ہے تو لے لو پھر میں نے ساڑھے سات ملین درہم میں یہ گھڑی خرید لی.


    ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ صاحبہ (فرح گوگی) پیسے لیکر چلی گئیں اور پھر کچھ عرصے بعد میرے خلاف پاکستان میں وارداتیں شروع ہوگئیں، کیونکہ اس وقت کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر نے پہلے مجھ سے ناجائز فرمائشیں کی لیکن جب انہیں منع کیا گیا تو انہوں نے جھوٹے مقدمات بنوا دیئے، جبکہ میری سابقہ اہلیہ کے ساتھ مل کر میرے بچوں کے میرے خلاف جھوٹے مقدمات قائم کروا دیئے، اور پھر مجھے انٹرپول پر ڈال دیا جبکہ بچوں کو کہا گیا وہ گم شدہ ہیں جبکہ یہ سب حقیقت نہ تھا.

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    مریم نواز تشدد کا شکار کم عمر بچی کی عیادت کے لیے ہسپتال پہنچ گئیں
    بغداد، پاکستانی سفارتخانے میں مشین ریڈ ایبل پاسپورٹ سسٹم کا افتتاح
    انتخابی عمل میں خواتین کی شرکت سے جمہوریت مضبوط ہوتی ہے،وفاقی وزیر قانون
    پنجابی فلم "بلو بادشاہ دی رئیل ہیرو” کے دوسرے گانے کا لاہور میں شوٹ
    پی ٹی آئی کے سابق صوبائی وزیر کا نگران وزیر اعلی کو ڈاریکٹر اینٹی کرپشن کو ہٹانے کے لئے خط

    فاروق ظہور نے دعویٰ کیا کہ میرا پاکستان سے کوئی لینا دینا نہیں تھا جبکہ میں ایک پرائیویٹ بندہ ہوں لیکن انہوں نے میرے خلاف کابیبہ سے منظوری لیکر منی لانڈرنگ کے کیس بنادیئے، جبکہ وہ کیس میں کئی عرصہ تک کیس بھگتا رہا جسکے بعد اللہ کا شکر ہوا میں سرخرو ہوا، جبکہ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا میرے پاس سارے ثبوت موجود ہیں اگر کوئی تفتیش کرنے آئے گا تو پھر انہیں مہیاء کردیا گیا.

    ایک اور سوال کے جواب میں عمر فاروق ظہور نے کہا کہ شہزاد اکبر کو جب یہ معلوم ہوا کہ یہ اتنے امیر ہیں کہ ایک مہنگی گھڑی خرید لی تو شائد ان سے کچھ اور مل جائے اس لیئے سابقہ اہلیہ کو استعمال کرکے ایک طرح کی بلیک میلنگ کرنے کی کوشش کی تھی.انہوں نے مزید کہا کہ میری سابقہ اہلیہ صوفیہ مرزا، ان کی بہن اور مرزا شہزاد اکبر ایک ساتھ بیرون ملک لندن میں ایک ساتھ رہ رہے ہیں.

  • مرزا شہزاد  اکبر، صوفیہ مرزا کیخلاف فراڈ سمیت مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کرنے کی درخواست

    مرزا شہزاد اکبر، صوفیہ مرزا کیخلاف فراڈ سمیت مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کرنے کی درخواست


    معروف کاروباری شخصیت عمر فاروق ظہور نے سابق معاون خصوصی برائے احتساب مرزا شہزاد اکبر سمیت مختلف نام ایک آن لائن درخواست میں درج کیئے ہیں جن کے خلاف 420 سمیت مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کرنے کی درخواست کی ہے جبکہ روزنامچہ کے متن کے مطابق سٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) پولیس سٹیشن کی جانب سے خوش بخت مرزا، مریم مرزا، مائرہ خرم، مرزا شہزاد، رضابادشاہد، مرزا کے خلاف فوجداری مقدمہ کے اندراج کی درخواست گزار عمر فاروق ظہور نے اپیل کی ہے.


    جبکہ متن میں درخواست گزار نے کہا کہ ان ملزمان نے میرے خلاف جھوٹی ایف آئی آر درج کروائی تھی جبکہ درخواست گزار ملزمان خوش بخت مرزا، مریم مرزا، مائرہ خرم، شہزاد اکبر، عمید بٹ اور علی مردان شاہ کے خلاف فوجداری مقدمہ کے اندراج کا مطالبہ کر رہاہے۔ جبکہ عمر فاروق ظہور نے کہا جب لاہور میں وفاقی تحقیقاتی ایجنسی کے کارپوریٹ کرائم سرکل نے درخواست گزار کی سابقہ ​​اہلیہ خوش بخت مرزا کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ کی بنیاد پر انکوائری شروع کی تھی۔ انکوائری کے نتیجے میں دو ایف آئی آر درج کی گئیں، ایف آئی آر نمبر 36/20، مورخہ
    05.10.2020، اور ایف آئی آر نمبر 40/20، مورخہ 09.10.2020۔ ایف آئی آر نمبر 36/20 میں درخواست گزار اور دیگر پر سوئٹزرلینڈ میں سرمایہ کاروں کو دھوکہ دینے کا الزام لگایا گیا تھا تاہم ایف آئی آر نمبر 40/20 میں ان پر ناروے میں بینک فراڈ کا الزام لگایا گیا تھا۔ لیکن ان الزامات کی پہلے ہی پاکستان اور اس میں شامل متعلقہ ممالک دونوں میں تحقیقات گئیں جس کے بعد کچھ نہ ملنے پر وہ بند کر دیے گئے۔ جبکہ ایف آئی اے حکام نے مذکورہ ملزم کے کہنے پر جھوٹا مقدمہ درج کیا تھا، اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان کے خصوصی مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر نے اپنے دفتر میں تمام لوگوں کی موجودگی میں جعلی دستاویزات تیار کیں تھیں۔

    درخواست گزار نے مزید کہا کہ مذکورہ ملزم نے دھوکہ دہی سے سیکشن
    188 CrPC 1898 کے تحت کابینہ سے منظوری حاصل کی، اس حقیقت کو چھپاتے ہوئے کہ سوئٹزرلینڈ اور ناروے میں تحقیقات کے بعد تمام مقدمات پہلے ہی بند ہو چکے ہیں۔ جبکہ جے آئی ٹی نے یہ نتیجہ اخذ کیاتھا کہ مذکورہ ایف آئی آر میں الزامات جھوٹے، غیر سنجیدہ اور جعلی دستاویزات پر مبنی تھے۔ نتیجتاً، بورڈ کی منظوری سے، جے آئی ٹی ایف آئی اے نے سیکشن 173 سی آر پی سی کے تحت کینسلیشن رپورٹ مجاز عدالتوں میں جمع کرائی تاکہ وہ جھوٹی ایف آئی آر ختم ہوسکیں، جبکہ عدالت نے دونوں کینسلیشن رپورٹس سے اتفاق کیا۔ ملزمان نے وزیر اعظم کے اس وقت کے مشیر برائے احتساب عمید بٹ اور علی مردان شاہ (ایف آئی اے کے افسران کے ساتھ ملی بھگت سے مبینہ طور پر درخواست گزار خوش بخت مرزا سے بلیک میلنگ اور رقم بٹورنے ایسا کیا تھا جن کی معاونت مذکورہ بالا نے کی.

    علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ درخواست گزار اور ان کے خاندان کے دیگر افراد کے خلاف جھوٹے فوجداری مقدمات درج کروائے گئے جبکہ جھوٹا مقدمہ درج کر کے مجھے بدنام کرنے کی کوشش کی جبکہ مجھے جان سے مارنے کی دھمکیان دینے سمیت سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دیتے رہے۔ درخواست گزار کو ملزم کی جانب سے تیار کردہ جعلی دستاویزات کی بنیاد پر متعدد مواقع پر بلیک میل، دھمکیاں، ہراساں
    کرنے اور بھتہ خوری کا نشانہ بنایا گیا۔ لہٰذا، میں درخواست کرتا ہوں کہ درج ذیل جرائم کے لیے مذکورہ افراد کے خلاف فوجداری مقدمہ درج کیا جائے.

    تاہم خیال رہے کہ دوسری جانب شہزاد اکبر نے گزشتہ روز اپنے میں بیان میں کہا کہ میں عمر فاروق ظہور نامی شخص سے کبھی نہیں ملا، میں نے کبھی فون پر یا کسی اور ذریعے سے عمر فاروق ظہور سے بات نہیں اور ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پہلے عمر فاروق ظہور نے بیان دیا تھا کہ میں نے زلفی بخاری کے فون کرنے کا بتایا، جبکہ ٹی وی پر سنا کہ اب یہ شخص کہہ رہا ہے میں نے فرح گوگی کے فون کرنے کا بتایا، یہ شخص ناروے میں پیدا ہوا مگر ناروے میں شہریت ختم کردی گئی.