Baaghi TV

Tag: US

  • یواےای میں 50 ڈگری سینٹی گریڈ کی حد کو عبور

    یواےای میں 50 ڈگری سینٹی گریڈ کی حد کو عبور

    متحدہ عرب امارات میں بڑھتی ہوئی گرمی نے ہفتے کے روز 50 ڈگری سینٹی گریڈ کی حد کو عبور کر لیا۔ یہ اس موسم گرما کا سب سے زیادہ درجہ حرارت ہے جبکہ نیشنل سنٹر آف میٹرالوجی نے اپنے ایک اعلامیہ میں بتایا کہ امارت ابوظبی کے ریجن الضفرا میں واقع گاؤں وتیید میں پارہ 50.8 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا ہے.

    علاوہ ازیں اس سے قبل جولائی میں درجہ حرارت 50 ڈگری سے تجاوز کر گیا تھا اور اس وقت ملک میں موسم گرما کی لہر دوڑ گئی تھی۔بڑھتی ہوئی گرمی اور نمی کی وجہ سے ڈاکٹروں نے لوگوں کو براہ راست سورج کی تپش میں زیادہ وقت گذارنے اور ہائیڈریٹ رہنے کے لیے ایک ایڈوائزری جاری کی ہے ، خاص طور پر اسکولوں کے دوبارہ کھلنے کے بعد بچّوں کومحتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    زمین تنازعہ؛ باپ پر تشدد کرنے والا ملزم گرفتار
    کے پی؛ لوئر دیر ضمنی بلدیاتی انتخابات میں پیپلز پارٹی کامیاب
    افغانستان میں سیاحتی مقام جانے پر خواتین کو روک دیا گیا
    وزیر اعظم کا عوام کو بجلی بلوں میں ریلیف دینے کا حکم
    جبکہ عرب خطے میں گرمی میں شدت آتی جا رہی ہے اور سائنس دان اس رجحان کو گلوبل اُبلنا قرار دے رہے ہیں، جو گلوبل وارمنگ سے انتہائی گرمی کی لہرکی طرف تبدیل ہورہی ہے اور موسمیات سے متعلق آفات جیسے جنگل کی آگ کی طرف منتقلی کی عکاسی کرتا ہے۔

  • امریکی  جیل میں قیدیوں نے محافظ کو یرغمال بنالیا

    امریکی جیل میں قیدیوں نے محافظ کو یرغمال بنالیا

    امریکہ کی ایک جیل میں قیدیوں نے بڑے پیمانے پر بغاوت کی اور جیل کے ایک محافظ کو یرغمال بنالیا ہے جبکہ امریکہ کے شہر سینٹ لوئس میں ایک حراستی مرکز میں قیدیوں نے جیل کے ایک 70 سالہ محافظ کو حراست میں لے لیا اور جیل انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ کھانے کے مینو میں گرم پیزا اور تازہ چکن شامل کیا جائے۔

    واضح رہے کہ برطانوی اخبار ڈیلی مرر کے مطابق گارڈ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا اور اسے حراست میں لیے جانے کے کچھ دیر بعد رہا کر دیا گیا تاہم حکام نے بتایا کہ پولیس نے عمارت کو گھیرے میں لینے کے بعد بغاوت پر قابو پالیا ہے اور رپورٹ کے مطابق کوئی ہنگامہ نہیں ہوا اور دیگر ملازمین کو بھی فوری طور پر خطرہ نہیں تھا۔

    پولیس نے حراستی مرکز کی چوتھی منزل پر صبح 6 بجے کے بعد گارڈ کے اغوا کی اطلاع دی جبکہ حراست میں لیے گئے افراد نے گارڈ کی واپسی کے بدلے پیزا اور چکن پائی کا مطالبہ کیا، اس کے علاوہ ان کی شکایات تھیں کہ انہیں مناسب گرم کھانا نہیں ملتا۔

    تفتیش کاروں نے میڈیا کو بتایا کہ محافظ ایک 70 سالہ شخص تھا جس کے پاس بندوق نہیں تھی جب اسے یرغمال بنایا گیا تھا تاہم ذرائع کے مطابق پیرامیڈیکس صبح 8:30 بجے کے قریب گارڈ کے لباس میں ملبوس ایک شخص کو اسٹریچر پر لائے تاہم اخبار نے بتایا کہ وہ ہوش میں تھا لیکن تھکا ہوا دکھائی دے رہا تھا۔

    علاوہ ازیں جیل کے اندر تشدد کی کئی کارروائیوں کا تازہ ترین واقعہ ہے، جس میں تقریباً 700 قیدی ہیں جبکہ فروری 2021 میں، قیدیوں نے اس جیل کو آگ لگا دی، چوتھی منزل کی کھڑکیوں کو توڑ دیا، اور ٹوٹے ہوئے شیشوں سے کرسیاں اور دیگر چیزیں باہر پھینکیں۔ ایک گارڈ پر حملہ کیا گیا اور قیدیوں نے اپریل 2021 میں ایک اور ہنگامے کے دوران جیل کو آگ لگا دی تھی۔

  • چیئرمین سینیٹ  سے  امریکی وفدکی ملاقات

    چیئرمین سینیٹ سے امریکی وفدکی ملاقات

    چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی سے اسلام آباد میں امریکی وفد نے ملاقات کی۔امریکی وفد میں ریپبلکن ڈیرن لاہود، ایڈم ہوورڈ، جان لافر، لیفٹننٹ کرنل کیٹلن شگورے اور پاکستان میں امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم شامل تھے۔ ملاقات میں دوطرفہ تعلقات سمیت باہمی دلچسپی کے امور،پاکستان اور امریکہ کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔علاقائی سلامتی، اقتصادی تعاون، تجارتی شراکت داری اور عوام سے عوام کے تبادلے سمیت مختلف موضوعات بھی زیر بحث آئے۔

    جبکہ جاری اعلامیہ کے مطابق چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے اور خطے میں امن واستحکام کے فروغ کے لیے دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات جاری رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔انہوں نےکہا کہ تعلیم، صحت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تجارتی تعلقات اور تعاون کو مزید بڑھانے کی ضرورت ہے۔چئیرمین سینیٹ نے کہا کہ پاکستان کی حکومت اور عوام امریکہ کو سماجی و اقتصادی ترقی کے ساتھ ساتھ علاقائی امن و سلامتی میں ایک دوست اور اہم شراکت دار سمجھتے ہیں۔

    امریکی وفد نے علاقائی استحکام کو برقرار رکھنے میں پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔وفد نے پاکستان کے ترقیاتی اہداف پورے کرنے کیلئے امریکہ کے عزم کا اعادہ کیا۔ جبکہ دونوں ممالک کے درمیان موجودہ تعلقات کو مزید بہتر بنانے اور باہمی دلچسپی کے امور پر باہمی تعاون کے ساتھ کام کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا گیا۔ملاقات میں ایک دوسرے کے مثالی جمہوری طریقوں سے باہمی طور پر مستفید ہونے اور پارلیمانی تعلقات اور ادارہ جاتی تعاون کو مزید فروغ دینے پر زور دیا گیا۔دونوں ممالک کے درمیان تجربات کے تبادلے کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا۔

    تاہم امریکی وفد نے کہا کہ پاکستان میں آکر خوشی ہوئی۔ پاکستان کے ساتھ تعلقات ہمارے لیے اہم ہیں اور ہم دو طرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے یہاں موجود ہیں اور دونوں ممالک کے مابین تعلقات تاریخی، متحرک اور دیرپا ہیں، چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں امن کا خواہاں ہے۔ ہم نے دہشت گردی کی وجہ سے نقصان اٹھایا ہے۔ 80 ہزار لوگوں نےدہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دیں۔چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پاکستان افغان مسئلے کا پرامن حل چاہتا ہے۔ ہمیں امن اور ترقی کے لیے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔دہشت گردی کی وجہ سے امریکہ اور پاکستان دونوں کا نقصان ہوا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    دہشتگرد، سہولتکار اُن کے ساتھیوں کا پیچھا کریں گے،آرمی چیف
    شاہد خاقان عباسی کیخلاف ایل این جی ریفرنس، اسپیشل جج سینٹرل کو منتقل
    نوعمرسگریٹ نوشی کرنے والوں کی دماغی ساخت تبدیل ہوتی ہے،تحقیق
    محمد صادق سنجرانی نے مزید کہا کہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کی ضرورت ہے۔بے گناہ کشمیریوں کو تشدد اور تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ امریکہ انسانی حقوق کا سب سے بڑا حامی ہونے کے ناطے آگے آکر مقبوضہ کشمیر کے معصوم کشمیریوں کے لیے آواز اٹھا سکتا ہے۔

  • فوجی بغاوت کے بعد نیجر کی رُکنیت معطل

    فوجی بغاوت کے بعد نیجر کی رُکنیت معطل

    افریقی یونین نے نیجر میں سویلین حکمرانی کی بحالی تک اس کی رُکنیت معطل کردی ہے جبکہ نیجر کی فوجی جنتا نے گذشتہ ماہ صدر محمدبازوم کی حکومت ختم کردی تھی اور اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا۔نیجر کی افریقی یونین میں شرکت معطل کرنے کے معاملے پر رکن ممالک کے درمیان شدید اختلاف پیدا ہوئے ہیں۔ عالمی ادارے کی خبر کے مطابق تتنظیم کی امن اور سلامتی کونسل نے منگل کے روز افریقی یونین کمیشن سے درخواست کی ہے کہ وہ نیجر میں فوج کی تعیناتی کے اقتصادی ، سماجی اور سلامتی سے متعلق مضمرات کا جائزہ لے اور اس کی رپورٹ واپس کونسل کو پیش کرے۔

    جبکہ نیجر کے اعلیٰ فوجی افسروں نے 26 جولائی کو صدر محمد بازوم کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا جس کے ردعمل میں مغربی افریقا کے علاقائی بلاک ایکوواس نے ان کی حکومت کی بحالی کے لیے فوجی قوت کے استعمال کی دھمکی دی تھی اور مغربی افریقا کی ریاستوں کی اقتصادی کمیونٹی (ایکوواس) نے نیجر میں جمہوریت کی بحالی کے لیے آخری چارہ کار کے طور پر’’متبادل فورس کو فعال کرنے سے اتفاق کیا ہے۔

    علاوہ ازیں اس نے کہا ہے کہ وہ کارروائی کے لیے تیار ہے البتہ وہ مسئلہ کے سفارتی حل کی امید میں کوششیں بھی جاری رکھے گی، افریقی یونین نے گذشتہ ہفتے رکن ممالک کے درمیان نیجر میں فوجی مداخلت کے معاملے پرمختلف نکتہ ہائے نظر کو سلجھانے کے لیے ایک اجلاس بھی منعقد کیا تھا۔ نیجر میں فوجی بغاوت سے بین الاقوامی سطح پر ساحل کی صورت حال کے بارے میں تشویش پیدا ہوئی ہے جہاں داعش اور القاعدہ سے وابستہ شورش پسندی میں اضافہ ہورہا ہے۔

    خیال رہے کہ نیجر مغربی افریقا کا چوتھا ملک ہے جہاں 2020ء کے بعد فوجی بغاوت برپا ہوئی ہے۔اس سے پہلے بورکینافاسو ، گنی اور مالی میں فوجی بغاوتیں برپا ہوچکی ہیں اور ان ممالک میں مسلح افواج نے منتخب حکومتوں کو چلتا کیا ہے جبکہ بورکینا فاسو اور مالی کی فوجی جنتاؤں نے خبردار کیا ہے کہ ان کے پڑوس میں واقع ملک میں کسی بھی فوجی مداخلت کو وہ اپنے ملکوں کے خلاف ’’اعلان جنگ‘‘ قراردیں گی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    مزید یہ بھی پڑھیں؛پرواز میں دوران سفر مسافرکو خون کی الٹیاں
    بچوں کے حقوق کی پامالی،ملزمان کیخلاف کاروائی ہوگی،وزیراعظم
    تعلقات کو مزید وسعت دینے کے خواہاں ہیں،برطانوی ہائی کمشنر

    ایوان صدر میں بزرگ افراد کیلئے ظہرانے کا اہتمام
    تاہم یادرہے کہ فرانس سے 1960ء میں آزادی کے بعد نیجر کی تاریخ میں یہ پانچویں فوجی بغاوت ہے۔محمد بازوم سنہ 2021ء میں منعقدہ صدارتی انتخابات میں منتخب ہوئے تھے اور ملک میں پہلی مرتبہ پُرامن طریقے سے انتقالِ اقتدار کا تاریخی عمل مکمل ہوا تھا۔فوج نے انھیں اقتدار سے ہٹانے کے بعد سے صدر کی سرکاری رہائش گاہ پران کے خاندان کے ساتھ زیرحراست رکھا ہوا ہے۔فوج کی تحویل میں ان کی صحت کے بارے میں بین الاقوامی سطح پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

  • جج نے جھگڑے کے بعد بیوی کو قتل کردیا

    جج نے جھگڑے کے بعد بیوی کو قتل کردیا

    کیلی فورنیا میں جج نے نشے کی حالت میں اپنی بیوی کو قتل کر دیا ہے جبکہ جج نے جرم کے ارتکاب کے فوراً بعد کام پر موجود اپنے ساتھیوں کو پیغام بھیجا کہ وہ کام سے غیر حاضری پر ان سے معافی مانگتے ہیں کیونکہ اگلے دن انہیں معطل کر دیا جائے گا جبکہ 72 سالہ جج جیفری فرگوسن، منگل کو لاس اینجلس کی عدالت میں پہلی سماعت میں پیش ہوئے ہیں، جس میں انہوں نے قصوروار نہ ہونے کی استدعا کی ہے۔

    عالمی ادارے کی خبر کے مطابق جج کو ان کے گھر کے اندر سے گرفتار کیا گیا اور پھر جہاں سے پولیس کو ان کی اہلیہ کی لاش ملی جس کے سینے پر گولی لگی تھی جبکہ اسلحے کا ایک ذخیرہ ملا جس میں 47 ہتھیار اور 26 ہزار گولیاں شامل تھیں اور پھر فرگوسن، جو 2015 سے جج ہیں، قانونی طور پر اپنے اسلحے کے مالک بھی ہیں۔

    علاوہ ازیں استغاثہ نے کہا کہ گرفتاری کے دوران فرگوسن سے شراب کی شدید بو آرہی تھی۔ جبکہ فرگوسن اور ان کی اہلیہ شیرل (65 سال) کے درمیان 3 اگست کو لاس اینجلس کے قریب ایک لگژری ریستوران میں جھگڑا ہوا۔ استغاثہ نے بتایا کہ جج نے اس وقت اپنی بیوی کی طرف اس انداز میں انگلی اٹھائی تھی جیسے کو‏ئی ہتھیار ہو۔ تاہم گھر پہنچنے پر بھی جوڑے نے لڑائی جاری رکھی، اور شیرل نے اپنے شوہر سے کہا، آپ مجھے اصلی بندوق کیوں نہیں دکھاتے؟
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نگران وزیراعظم سے متحدہ عرب امارات کے سفیرکی ملاقات
    جڑانوالہ میں جو کچھ ہوا، افسوسناک،مجرموں کے خلاف کارروائی کی جائے۔شہباز شریف
    گھریلوملازمہ رضوانہ کی پہلی پلاسٹک سرجری
    علاوہ ازیں استغاثہ کے مطابق، جج کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کہ اپنی بندوق ٹخنے سے جڑی ہوئی ہولسٹر سے نکال کر اسے گولی مار دے۔ فرگوسن نے بعد میں یہ یہ بتانے سے انکار کر دیا کہ آیا اس نے گولیاں چلائی تھیں۔ تاہم اس نے دو عدالتی معاونین کے سامنے ایک ٹیکسٹ میسج میں اپنے فعل کا اعتراف کیا تھا کہ میں اپنا ہوش کھو بیٹھا، میں نے اپنی بیوی کو گولی مار دی۔ میں کل نہیں آؤں گا۔ مجھے گرفتار کر لیا جائے گا۔ مجھے بہت افسوس ہے،” انہوں نے میسج میں لکھا، جسے سماعت کے دوران سرکاری وکیل نے پڑھ کر سنایا۔

    ان کے دفاعی وکیل پال میئر نے میڈیا کو بتایا، یہ ایک غیر ارادی اور حادثاتی فائرنگ تھی، کوئی جرم نہیں تھا جبکہ جج کو شراب نوشی پر پابندی کے ساتھ ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا۔ انہیں اکتوبر میں دوبارہ عدالت میں پیش ہونا ہے۔

  • جوبائیڈن نے چین کو کمزور اقتصادی ترقی کے سبب ٹکنگ ٹائم بم کہہ دیا

    جوبائیڈن نے چین کو کمزور اقتصادی ترقی کے سبب ٹکنگ ٹائم بم کہہ دیا

    صدر جو بائیڈن نے چین کو ٹکنک ٹائم بم سے تشبیہ دیا ہے کیونکہ ان دنوں ان کے کچھ مسائل چل رہے ہیں جبکہ صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ چین ٹائم بم کی طرح ہے کیونکہ اس کی معیشت ٹھیک نہیں چل رہی اور یہ مستقبل میں ایک بڑا مسئلہ بن سکتا ہے۔ امریکی صدر نے ایک خصوصی اجتماع میں چین کے بارے میں بات کی۔ انہوں نے کہا کہ چین کو کچھ مشکلات کا سامنا ہے جو کہ اچھی بات نہیں ہے کیونکہ جب برے لوگوں کو مسائل ہوتے ہیں تو وہ برے کام کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ چین کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتے لیکن ان کے ساتھ منصفانہ اور اچھے تعلقات رکھنا چاہتے ہیں۔

    صدر جو بائیڈن نے یہ بات سیکرٹری آف سٹیٹ انتھونی بلنکن کے چند ہفتے قبل کسی دوسرے ملک کے دورے کے بعد کہی۔ بلنکن کا دورہ دونوں ممالک کو بہتر دوست بنانا تھا۔ صدر جو بائیڈن نے کہا کہ امریکہ اب چین پر اتنی رقم خرچ نہیں کرے گا۔ ہنری کسنجر نامی ایک بہت ہی اہم شخص، جو دوسرے ممالک کے ساتھ امریکہ کے تعلقات کا انچارج ہوا کرتا تھا، جب وہ 100 سال کا ہو گیا تو بیجنگ کا دورہ کرنے گیا۔ وہ وہ شخص تھا جس نے امریکہ اور چین کے درمیان تعلقات کا آغاز کیا۔

    جب سے دونوں ممالک 1979 میں دوست بنے تھے، حال ہی میں ان کی دوستی واقعی خراب ہوئی ہے۔ تاہم یاد ہے جب صدر جو بائیڈن نے رقم اکٹھا کرنے کے لیے ایک خصوصی تقریب میں بات کی تھی؟ ٹھیک ہے، انہوں نے چین کے رہنما صدر شی جن پنگ کے بارے میں کچھ باتیں کہیں۔ اس نے اسے ایک ڈکٹیٹر کہا، جس کا مطلب ہے کوئی ایسا شخص جس کے پاس بہت زیادہ طاقت ہو اور وہ لوگوں کو یہ کہنے کی اجازت نہیں دیتا کہ معاملات کیسے ہوتے ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نمایاں تیزی
    صادق سنجرانی سب سے آگے،بڑا گھر بھی مان گیا، سلیم صافی کا دعویٰ
    سابق آئی جی کے پی کے بھائی کو اغوا کے بعد کیا گیا قتل
    غیرقانونی کاموں پر جواب دینا پڑتا ہے. عطاءاللہ تارڑ
    ایران اور امریکا کے درمیان منجمد فنڈز کی بحالی کا معاہدہ
    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نمایاں تیزی
    کل، صدر جو بائیڈن نے ایک اصول بنایا جس کے مطابق امریکہ کے لوگ اہم کام کرنے والی چین کی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو پیسے نہیں دے سکتے۔ امریکہ اور چین کو سیکھنے کی ضرورت ہے کہ ساتھ کیسے چلنا ہے کیونکہ اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو بڑی لڑائی ہو سکتی ہے۔ اسے مصنوعی ذہانت کے ذریعے مزید خراب کیا جا سکتا ہے، جو چیزوں کو مزید غیر دوستانہ بنا سکتا ہے۔ کسنجر کا خیال ہے کہ دونوں ممالک کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ پرامن طریقے سے ایک ساتھ کیسے رہنا ہے۔ صدر کے فیصلے کے بعد، امریکی کمپنیوں کو چین میں کمپیوٹر چپس جیسی اہم ٹیکنالوجیز میں پیسہ لگانے کی اجازت نہیں ہے۔

  • پاکستان اور امریکا مل کرعظیم کام کرسکتے ہیں. ڈونلڈ بلوم

    پاکستان اور امریکا مل کرعظیم کام کرسکتے ہیں. ڈونلڈ بلوم

    پاک امریکا تعلقات کے 75 برس مکمل ہونے پر یادگاری ٹکٹ جاری کردیا گیا جبکہ امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کا کہنا ہے کہ پاکستان اور امریکا مل کرعظیم کام کرسکتے ہیں، مشترکہ مقاصد کے حصول کے لیے مستقبل کی ویژن موجود ہے۔ پاکستان اور امریکا کے تعلقات کی 75 ویں سالگرہ پر امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کی جانب سے اسلام آباد میں تقریب کا اہتمام کیا گیا۔


    تقریب میں پاک امریکا تعلقات کی 75 ویں سالگرہ پر یادگاری ٹکٹ کا اجراء کیا گیا اور ٹکٹ جاری کرنے کی تقریب پاکستان میں امریکا کے سفیر ڈونلڈ بلوم کی رہائش گاہ پر منعقد ہوئی۔ جس کے مہمان خصوصی سیکریٹری خارجہ اسد مجید خان تھے۔ اس موقع پر تعلیمی اداروں اور سول سوسائٹی کے اراکین نے بھی شرکت کی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نمایاں تیزی
    صادق سنجرانی سب سے آگے،بڑا گھر بھی مان گیا، سلیم صافی کا دعویٰ
    سابق آئی جی کے پی کے بھائی کو اغوا کے بعد کیا گیا قتل
    غیرقانونی کاموں پر جواب دینا پڑتا ہے. عطاءاللہ تارڑ
    ایران اور امریکا کے درمیان منجمد فنڈز کی بحالی کا معاہدہ
    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نمایاں تیزی
    علاوہ ازیں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم نے کہا کہ یہ ڈاک ٹکٹ دونوں ملکوں کی آزادی کی علامتوں کو نمایاں کرتا ہے، یہ ڈاک ٹکٹ دوستی کے 75 سال کا نشان ہے۔ امریکی سفیر کا مزید کہنا تھا کہ یہ ہماری مستقبل کی شراکت داری کے ایک وژن کو ظاہر کرتا ہے، جب ہم مل کر کام کرتے ہیں تو ہم عظیم کام انجام دے سکتے ہیں۔ جبکہ اس موقع پر سیکرٹری خارجہ ڈاکٹر اسد مجید نے کہا کہ 75 سالوں سے پاکستان کا امریکا شراکت دار رہا ہے، امریکا کے ساتھ اپنے وسیع البنیاد تعلقات کو اہمیت دیتے ہیں۔

  • ایران اور امریکا کے درمیان منجمد فنڈز کی بحالی کا معاہدہ

    ایران اور امریکا کے درمیان منجمد فنڈز کی بحالی کا معاہدہ

    ایران اور امریکا کے درمیان قیدیوں کے تبادلے سمیت منجمد فنڈز کی بحالی کا معاہدہ ہوگیا ہے جبکہ ایرانی حکام کےمطابق امریکا کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کے تحت واشنگٹن ڈی سی بہت جلد ایرانی قیدیوں کو رہا کردے گا اور 10 ارب ڈالر کی منجمد رقم بحال کرنے کا بھی فیصلہ ہوا ہے دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے بھی تصدیق کی ہے کہ ان کا ملک ایران پر عائد تمام پابندیوں پر عملدرآمد جاری رکھے گا اور ایران کو 5 امریکی قیدیوں کی رہائی کے معاہدے کے تحت پابندیوں سے کوئی ریلیف نہیں ملے گا۔

    وزارت خارجہ ایران نے جنوبی کوریا میں منجمد ایرانی فنڈز کی بحالی کا عمل شروع کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی نیوز ایجنسی نے وزارت خارجہ کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کے زیر حراست متعدد ایرانی قیدیوں کو جلد رہا کردیا جائے گا جبکہ وزارت خارجہ ایران کے مطابق فنڈز کی بحالی کے بعد منجمد فنڈز کے استعمال کے ذریعے تہران کے اختیار میں ہوں گے اور مجاز حکام ان کو خرچ کرنے کے عمل کو سنبھالیں گے کیونکہ وہ ملک کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے موزوں سمجھتے ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نمایاں تیزی
    صادق سنجرانی سب سے آگے،بڑا گھر بھی مان گیا، سلیم صافی کا دعویٰ
    سابق آئی جی کے پی کے بھائی کو اغوا کے بعد کیا گیا قتل

    جبکہ دونوں ممالک کے درمیان قیدیوں کے تبادلے اور جنوبی کوریا اور عراق میں 10 ارب ڈالر کے منجمد ایرانی فنڈز جاری کرنے کا معاہدہ بھی ہوا جس میں عراق کے تجارتی بینک میں رکھے گئے فنڈز بھی شامل ہیں۔ ارنا نیوز ایجنسی کو انٹرویومیں بتایا گیا ہے کہ جنوبی کوریا میں 6 ارب ڈالر کے منجمد فنڈز کو سوئٹزرلینڈ کے ایک بینک اور پھر قطر میں ایک ایرانی بینک اکاؤنٹ میں منتقل کیا جائے گا تاکہ قیدیوں کی رہائی کے معاہدے کے تحت تہران ان تک رسائی حاصل کرسکے۔

  • امریکی ویب سائٹ نے سائفر لیک کردیا؟

    امریکی ویب سائٹ نے سائفر لیک کردیا؟

    امریکی ویب سائٹ نے سائفر لیک کر دیا

    ویب سائٹ دی انٹرسیپٹ دعوی کیا ہے کہ ان کو موصول ہونے والی خفیہ دستاویز کے مطابق امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے 7 مارچ 2022 کو ہونے والے ایک اجلاس میں عمران خان کو یوکرین پر روسی حملے پر غیر جانبداری پر وزیر اعظم کے عہدے سے ہٹانے کے لیے پاکستانی حکومت کی حوصلہ افزائی کی، امریکہ میں پاکستانی سفیر اور اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے دو عہدیداروں کے درمیان ہونے والی ملاقات گزشتہ ڈیڑھ سال سے پاکستان میں شدید چھان بین، تنازعات اور قیاس آرائیوں کا موضوع بنی ہوئی ہے، کیونکہ عمران خان اور ان کےمخالفین اقتدار کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ سیاسی کشمکش 5 اگست کو اس وقت شدت اختیار کر گئی جب عمران خان کو بدعنوانی کے الزام میں تین سال قید کی سزا سنائی گئی اور ان کی برطرفی کے بعد دوسری بار حراست میں لیا گیا۔ عمران خان کے حمایتی ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کرتے ہیں۔


    ویب سائٹ کے مطابق لیک ہونے والی دستاویز میں امریکی حکام کے ساتھ ملاقات کے ایک ماہ بعد پارلیمنٹ میں عدم اعتماد کا ووٹ لیا گیا، جس کے نتیجے میں عمران خان کو اقتدار سے ہٹادیا گیا۔ خان کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے امریکہ کی درخواست پر اقتدار سے ہٹانے کی منصوبہ بندی کی تھی۔ پاکستانی کیبل کا متن، جو سفیر کی جانب سے اس ملاقات سے تیار کیا گیا تھا اور پاکستان منتقل کیا گیا تھا، اس سے قبل شائع نہیں کیا گیا تھا۔ اندرونی طور پر ‘سائفر’ کے نام سے جانی جانے والی اس کیبل میں ان گاجروں اور لاٹھیوں کو ظاہر کیا گیا ہے جو اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے عمران خان کے خلاف دباؤ ڈالنے کے لیے تعینات کی تھیں، جس میں وعدہ کیا گیا تھا کہ اگر عمران خان کو ہٹایا گیا تو تعلقات بہتر ہوں گے اور اگر ایسا نہ ہوا تو مشکل کا سامنا کرنا پڑے گا.


    ویب سائٹ میں لکھا ہے کہ اس دستاویز کو ‘خفیہ’ کا نام دیا گیا ہے جس میں محکمہ خارجہ کے حکام بشمول جنوبی اور وسطی ایشیائی امور کے بیورو کے معاون وزیر خارجہ ڈونلڈ لو اور اسد مجید خان کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں کا ذکر بھی شامل ہے، جو اس وقت امریکہ میں پاکستان کے سفیر تھے۔ یہ دستاویز ذرائع نے "دی انٹرسیپٹ” کو فراہم کی، جبکہ انٹرسیپٹ ذیل میں کیبل کی باڈی شائع کر رہا ہے ، متن میں معمولی ٹائپوز کو درست کر رہا ہے کیونکہ ایسی تفصیلات دستاویزات کو واٹر مارک کرنے اور ان کے پھیلاؤ کو ٹریک کرنے کے لئے استعمال کی جاسکتی ہیں۔

    دی انٹرسیپٹ کو حاصل ہونے والی دستاویز کے مندرجات پاکستانی اخبار ڈان اور دیگر جگہوں پر شائع ہونے والی رپورٹنگ سے مطابقت رکھتے ہیں جس میں ملاقات کے حالات اور کیبل میں ہی تفصیلات بیان کی گئی ہیں، جس میں انٹرسیپٹ کی پریزنٹیشن سے حذف کیے گئے درجہ بندی کے نشانات بھی شامل ہیں۔ کیبل میں بیان کردہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کی حرکات کو بعد میں واقعات سے ظاہر کیا گیا۔ کیبل میں امریکہ یوکرین جنگ پر عمران خان کی خارجہ پالیسی پر اعتراض کرتا ہے۔ ان کی برطرفی کے بعد ان موقف کو فوری طور پر تبدیل کر دیا گیا، جس کے بعد، جیسا کہ اجلاس میں وعدہ کیا گیا تھا.

    جبکہ ویب نے مزید لکھا کہ دستاویز کے مطابق؛ ملاقات میں، لو نے تنازعہ میں پاکستان کے موقف پر واشنگٹن کی ناراضگی کے بارے میں واضح الفاظ میں بات کی۔ اس دستاویز میں لو کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ‘یہاں اور یورپ کے لوگ اس بات پر کافی فکرمند ہیں کہ پاکستان (یوکرین پر) اتنا جارحانہ غیر جانبدار موقف کیوں اختیار کر رہا ہے،۔ یہ ہمارے لئے اتنا غیر جانبدار موقف نہیں لگتا ہے۔ لو نے مزید کہا کہ انہوں نے امریکہ کی قومی سلامتی کونسل کے ساتھ داخلی بات چیت کی ہے اور "یہ بالکل واضح ہے کہ یہ وزیر اعظم کی پالیسی ہے۔

    ویب نے دعویٰ کیا کہ لو نے دو ٹوک انداز میں عدم اعتماد کے ووٹ کا معاملہ اٹھایا: "میرے خیال میں اگر وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کا ووٹ کامیاب ہو جاتا ہے، تو واشنگٹن میں سب کو معاف کر دیا جائے گا کیونکہ روس کے دورے کو وزیر اعظم ایک فیصلے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ بصورت دیگر،” انہوں نے مزید کہا، ”مجھے لگتا ہے کہ آگے بڑھنا مشکل ہو جائے گا۔ لو نے متنبہ کیا کہ اگر یہ صورتحال حل نہ کی گئی تو پاکستان اپنے مغربی اتحادیوں کے ہاتھوں پسماندہ ہو جائے گا۔ لو نے کہا، "میں یہ نہیں بتا سکتا کہ یورپ اسے کس طرح دیکھے گا لیکن مجھے شبہ ہے کہ ان کا رد عمل بھی ایسا ہی ہوگا، انہوں نے مزید کہا کہ اگر خان عہدے پر رہے تو انہیں یورپ اور امریکہ کی طرف سے "تنہائی” کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نگران حکومت کو ہر صورت مہنگائی کو قابو کرنا ہو گا ، راجہ ریاض
    نو مئی یوم سیاہ کے طورپر، آج رات اسمبلی تحلیل کی سمری بھیجوں گا، وزیراعظم
    ایشیا کپ اورافغانستان سیریز کیلئے 18 رکنی اسکواڈ کا اعلان
    نواز شریف بہت جلد واپس آرہے، مریم نواز شریف نے عندیہ دے دیا
    روپے کی قدر میں بحالی

    لیکن فرحان ورک کے مطابق تحریک انصاف کا سائفر بیانیہ جعلی جعلی ہے کیونکہ اگر امریکہ روس جانے پر پی ٹی آئی حکومت ہٹاتا تو امریکہ کے تین ہی فوائد ہوسکتے تھے

    1۔ پاکستان روس یوکرین جنگ میں یوکرین کا ساتھ دے
    2۔ پاکستان اقوام متحدہ میں روس کے خلاف ووٹ دے
    3۔ پاکستان روس سے دور ہوجائے

    اسکے علاوہ تحریک انصاف ہٹانے کا امریکہ کو کوئی فائدہ نہیں تھا۔ لیکن پی ٹی آئی حکومت ہٹنے کے بعد کیا امریکہ کو ان تینوں فائدوں میں سے ایک بھی فائدہ ملا؟ نہیں۔
    فرحان ورک نے مزید کہا ثبوت حاضر ہیں
    1۔ پاکستان کے وزیر خارجہ بلاول زرداری صاف صاف واضح کرچکے ہیں کہ پاکستان روس یوکرین جنگ میں نیوٹرل ہے۔
    (ثبوت ساتھ جڑا ہے)
    2۔ پاکستان نے اقوام متحدہ میں روس یوکرائن جنگ پر نیوٹرل موقف رکھا۔ یہ وہی موقف تھا جو عمران خان دور کا تھا اور وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی اسی موقف کی حمایت کی۔ امریکہ کے پریشر کے باوجود یوکرائن کے حق میں ووٹ نا دیا
    (ثبوت ساتھ جڑا ہے)
    3۔ پاکستان روس سے قطع تعلقی کرلیتا لیکن یہاں تو پاکستان روس سے تیل منگوا رہا ہے۔
    (ثبوت ساتھ جڑا ہے)

    انہوں یہ بھی کہا کہ ان تمام ثبوتوں کو دیکھ کر آپ خود بتائیں کہ اگر امریکہ نے روس سے تعلقات پر تحریک انصاف حکومت ختم کروائی تو پھر اس حساب سے تو پی ڈی ایم حکومت کی بھی یہی پالیسی رہی تو پھر امریکہ کوعمران حکومت ہٹانے کا فائدہ کیا ہوا؟ لیکن وقت نے اس جماعت کے تمام جعلی پراپیگینڈا کو بے نقاب کر دیا ہے۔

  • پاک امریکادفاعی تعلقات کےتناظرمیں جنرل کوریلا پاکستان پہنچ گئے

    پاک امریکادفاعی تعلقات کےتناظرمیں جنرل کوریلا پاکستان پہنچ گئے

    امریکی سنٹرل کمانڈ کے کمانڈر جنرل مائیکل ایریک کوریلا پاکستان پہنچ گئے ہیں جبکہ جنرل مائیکل ایریک کوریلا دوطرفہ دفاعی تعلقات پر بات چیت کریں گے جبکہ پاک امریکادفاعی تعلقات کےتناظرمیں جنرل کوریلا پاکستانی حکام سےملاقاتیں کریں گے اور جنرل مائیکل ایریک کوریلا کا پاکستانی میڈیا نمائندگان سے بھی ملاقات کا امکان ہے۔

    جبکہ واضح رہے کہ اس سے قبل پاکستان کے اس وقت کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے امریکی سینٹ کام کے کمانڈر جنرل مائیکل ایرک کوریلا نے ملاقات کی تھی جب وہ پاکستان کے دورہ پر آئے تھے افواج پاکستان کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق بتایا گیا تھا کہ امریکی سینٹ کام کے کمانڈر جنرل مائیکل ایرک کوریلا نے وفد کے ہمراہ جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی کا دورہ کیا تھا.

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    وکیل قتل کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کی نامزدگی، سپریم کورٹ کا بینچ دوسری بار تبدیل
    بین الاقوانی شہرت یافتہ صحافی، اینکر پرسن، کالم نگار ، مدیر اور مصنف حامد میر
    کسی صورت تو ظاہر ہو مری رنجش مرا غصہ

    علاوہ ازیں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی فوج کی کاوشوں کو مائیکل نے سراہا تھا جبکہ جنرل مائیکل ایرک کوریلا نے راولپنڈی میں آرمی میوزیم کا بھی دورہ کیا تھا جبکہ اب بھی کوریلا مختلف دورے بھی کریں گے جب پاکستانی حکام سے ملاقات بھی کریں جس میں اعلیٰ سطح کے علاوہ میڈیا صحافی اور اہم عہدیداران بھی شامل ہیں.

    تاہم ابھی تک ان کی ملاقات کسی اہم اعلی عہدیدار سے طے نہیں ہوئی ہے.