Baaghi TV

Tag: #UsmanAQ #زادمسافر #عثمانیات

  • دفترآتے ہی عثمان بزدار نے بڑا اعلان کردیا:ن لیگ سخت پریشان

    دفترآتے ہی عثمان بزدار نے بڑا اعلان کردیا:ن لیگ سخت پریشان

    لاہور:دفترآتے ہی عثمان بزدار نے بڑا اعلان کردیا:ن لیگ سخت پریشان،اطلاعات کےمطابق پنجاب کے وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے صبح ہوتے ہی ایسا اعلان کیا ہے کہ ن لیگ کی دوڑیں لگ گئی ہیں، عثمان بزدار نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ نوازشریف اینڈ کمپنی نے ہمیشہ ذاتیات کی خاطرملک اور ملکی اداروں کا وقار مجروح کیا اوراب ملک کے قومی اداروں کے خلاف سازشیں بھی کررہے ہیں،

    وزیراعلیٰ‌ پنجاب عثمان بزدار نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اداروں کو متنازعہ بنانے کی کوشش پاکستان کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے، اداروں کے خلاف باتیں کرنے والوں کا کوئی مستقبل نہیں، پاکستان کے عوام شر انگیز بیانیے کو مکمل مسترد کرتے ہیں۔

    وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ن لیگ کی جانب سے مخصوص ایجنڈے کے تحت اداروں کو نشانہ بنانا انتہائی افسوسناک امر ہے، اپوزیشن اداروں کو متنازعہ بنا کر مذموم مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہے، اپوزیشن رہنماؤں کے بیانات ناقابل فہم اور قومی مفادات کے یکسر منافی ہیں، ایسے بیانات ملک دشمن کے بیانیے کا عکاس ہیں،

    اپنے بیان میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان کے عوام شر انگیز بیانیے کو مکمل مسترد کرتے ہیں، ملک دشمن بیانیے کی پاکستان میں رتی بھر بھی گنجائش نہیں، اداروں کے خلاف ہر سازش کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا، قومی اداروں کی عزت پر کوئی حرف نہیں آنے دیں گے، قومی اداروں کے ساتھ کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے۔

    دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے آئندہ تین ماہ میں ترقیاتی منصوبوں کے افتتاح اور سنگ بنیاد رکھنے کے عمل میں تیزی لانے کا فیصلہ کرلیا۔ وزیراعلی پنجاب نے متعلقہ اداروں سے منصوبوں کی تفصیلات طلب کرلیں۔ عثمان بزدار نے ہدایت کی کہ جو منصوبے افتتاح کے لئے تیار ہیں، ان کی فہرستیں ایوان وزیر اعلی کو ارسال کی جائیں، جن منصوبوں کے آئندہ تین ماہ میں سنگ بنیا د رکھنے کے انتظامات مکمل ہیں، اس سے بھی آگاہ کیا جائے۔

    عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ جاری ترقیاتی فنڈز کو ٹائم فریم میں استعمال میں لایا جائے، حکومت کے مقرر کردہ اہداف میں غفلت برداشت نہیں کی جائے گی، حکومت عوامی ریلیف اور ترقیاتی منصوبوں میں تیزی لانے کے لئے پر عزم ہے۔

    ادھر وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے خواتین پر تشدد کے خاتمے کے عالمی دن پر اپنے پیغام میں کہا کہ خواتین پر تشدد خلاف انسانیت فعل ہے، خواتین پر تشدد معاشرتی برائی اور قانوناً جرم ہے، خواتین کو بااختیار بنا کر اور برابر کے حقوق دے کر ایسی معاشرتی برائی کا خاتمہ ممکن ہے، دین اسلام نے خواتین کو جن حقوق سے نوازا ہے، کسی معاشرے میں اس کی مثال نہیں ملتی۔

    عثمان بزدار نے خواتین کے حقوق ان کی عزت ،عصمت اور چادر اور چاردیواری کی حفاظت کا عزم کرتے ہوئے کہا کہ نئے پاکستان کا خواب خواتین پر تشدد کے مکمل خاتمے تک شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا، یہ دن تشدد کا شکار خواتین کو تحفظ دے کر انہیں معاشرے میں باعزت زندگی گزارنے کا موقع فراہم کرتا ہے، خواتین پر تشدد کے واقعات کی روک تھام کیلئے ہم سب کو مذہبی، سماجی اور اخلاقی ذمہ داریاں نبھانا ہوں گی، ہمیں اس عزم کا اعادہ کرنا ہے کہ خواتین پر تشدد کی روک تھام اور ان کے حقوق کے تحفظ کیلئے موثر اقدامات تسلسل کیساتھ جاری رکھیں گے۔

     

  • ایٹمی پاکستان ۔۔۔ عثمان عبدالقیوم

    ایٹمی پاکستان ۔۔۔ عثمان عبدالقیوم

    14 اگست 1947 دنیا میں ایک ازاد ملک پاکستان کا قیام وجود میں آیا تھا۔ بس کیا تھا اسی دن سے پاکستان کے دشمن کم نہیں ہوئے بڑے ہی ہیں۔ شروع دن سے پاکستان کو اندرونی و بیرونی سازشوں میں گھیرا جا رہا ہے۔

    پہلے کشمیر ہم سے کاٹ دیا گیا پھر بنگال کو بنگلہ دیش بنا دیا گیا اسی اثنا میں پاکستان کا اصلی و ازلی دشمن بھارت پاکستان مخالفت میں عالمی گٹھ جھوڑ کی مدد سے دنیا میں ایٹمی طاقت بن کے ابھرتا ہے۔ اور جنوبی ایشیا میں طاقت کا عدم توازن پیدا کر دیتا ہے۔ اب پاکستان کو مقابل کھڑے ہونے کی اشد ضرورت تھی تاکہ خطے میں طاقت کا توازن قائم رہ سکے۔

    بھارت اور اس کے حواریوں کے کردار سے یہ بات بالکل واضح ہو چکی تھی کہ بھارت کبھی پاکستان کا پُر امن ہمسایہ یا دوست بن کر نہیں رہ سکتا۔بھارت سے دوستی اور امن کی بات تو دور بھارت سے امن کی معمولی سی بھی امید رکھنا خوابوں کی دنیا میں رہنے کے مترادف ہے۔ بھارت کا پاکستان کے حصے کے پانی کو روکنے کے لیے دریاﺅں پر ڈیم اور بیراج بنانا پاکستان کی زمینوں کو بنجر بنا دینے کی گہری سازش ہے۔ بھارت سے یہ توقع رکھنا بھی حماقت ہے کہ وہ شرافت اور امن و امان کی سفارت کاری کی زبان کو سمجھتا ہے۔

    بھارت نے 11 مئی 1998ءکو (ایٹم بم) نیوکلیئر (ہائیڈروجن) اور نیوکران بموں کے دھماکوں کے بعد پاکستان کی سلامتی اور آزادی کےلئے خطرات پیدا کر دیے تھے اور علاقہ میں طاقت کا توازن تبدیل ہونے سے بھارت کے جارحانہ عزائم کی تکمیل کی راہ ہموار ہو گئی تھی۔ جسے روکنے کے لیے پاکستانی عوام کے علاوہ عالم اسلام کے پاکستان دوست حلقوں کی طرف سے سخت ترین دباﺅ ڈالا جارہا تھا کہ پاکستان بھی ایٹمی تجربہ کر کے بھارت کو منہ توڑ جواب دے۔

    وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کو جوہری صلاحیتوں سے مالا مال کرنے کا خواب 1966 سے سجائے بیٹھے تھے۔ بھارت کے پہلے ایٹمی دھماکے نے اسے مزید مستحکم ارادے میں بدل کر رکھ دیا اور اس دن سے وہ پاکستان کو اس منزل تک پہنچانے کی غرض سے سرگرم ہو گئے تھے۔

    مگر پاکستان کے اس ایٹمی خواب کو امریکہ اور یورپ کی تائید حاصل نہ تھی۔ یہی وجہ تھی کہ امریکی صدر کلنٹن، برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر اور جاپانی وزیراعظم موتو نے پاکستان پر دباﺅ ڈالا کہ پاکستان ایٹمی دھماکہ نہ کرے ورنہ اس کے خلاف سخت ترین پابندیاں عائد کر دی جائیں گی۔ دوسری طرف بھارت کی سرگرمیوں کی صورتحال یہ تھی کہ بھارت نے ایٹمی دھماکہ کرنے کے علاوہ کشمیر کی کنٹرول لائن پر فوج جمع کرنا شروع کی جس سے پاکستان بھارت جنگ کا حقیقی خطرہ پیدا ہو گیا تھا۔ بھارتی وزیر داخلہ اور سربراہ امور کشمیر ایل کے ایڈوانی نے بھارتی فوج کو حکم دیا کہ وہ مجاہدین کے کیمپ تباہ کرنے کے لیے آزاد کشمیر میں داخل ہو جائے جبکہ بھارتی وزیر دفاع جارج فرنینڈس نے تو یہاں تک ہرزہ سرائی کی تھی کہ بھارتی فوج کو ایٹمی ہتھیاروں سے لیس کر دیا جائے گا۔ یہ سب کچھ پاکستان کے خلاف جارحانہ اقدامات کی تیاریاں تھیں۔ یہ درست ہے کہ بھارت نے ایٹمی دھماکے کر کے ایک آزاد اور خود مختار ملک کی حیثیت سے اپنے حق کا استعمال کیا مگر یہ بات بھی اپنی جگہ درست ہے کہ بھارت کے ایٹمی دھماکوں کا واضح مقصد صرف اور صرف پاکستان کو خوفزدہ کرنا تھا اور ایک طاقتور ملک ہونے کا ثبوت دےکر پاکستان سمیت پورے خطے کے ممالک پر اپنی برتری ظاہر کرنا تھا۔

    مگر میرے رب کو اس ارض وطن پر دشمنان اسلام کے عزائم کی کامیابی کسی صورت گوارا نہ تھی جسکا ہر بچہ ہر بوڑھا جوان مرد و عورت کے زبان پر ابھی تک پاکستان کا مطلب کیا لاالٰہ الا اللہ کے نعروں کی گونج سنائی دے رہی تھی۔

    مسلمانوں کو قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر دشمن سے مقابلہ کی تیاری کا حکم دے رکھا ہے ۔

    وَاَعِدُّوْا لَـهُـمْ مَّا اسْتَطَعْتُـمْ مِّنْ قُوَّةٍ وَّمِنْ رِّبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُوْنَ بِهٖ عَدُوَّ اللّـٰهِ وَعَدُوَّكُمْ وَاٰخَرِيْنَ مِنْ دُوْنِـهِـمْۚ لَا تَعْلَمُوْنَـهُـمُ اللّـٰهُ يَعْلَمُهُـمْ ۚ وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَىْءٍ فِىْ سَبِيْلِ اللّـٰهِ يُوَفَّ اِلَيْكُمْ وَاَنْتُـمْ لَا تُظْلَمُوْنَ (60)

    اور ان سے لڑنے کے لیے جو کچھ قوت سے اور صحت مند گھوڑوں سے جمع کرسکو سو تیار رکھو کہ اس سے اللہ کے دشمنوں پر اور تمہارے دشمنوں پر اور ان کے سوا دوسروں پر رعب پڑے، جنہیں تم نہیں جانتے اللہ انہیں جانتا ہے، اور اللہ کی راہ میں جو کچھ تم خرچ کرو گے تمہیں (اس کا ثواب) پورا ملے گا اور تم سے بے انصافی نہیں ہوگی۔

    پاکستان نے 28 مئی 1998ءکو چاغی کے پہاڑوں میں پانچ دھماکے کیے۔ جمعرات کا دن تھا اور سہ پہر 3 بجکر 40 منٹ پر یکے بعد دیگرے پانچ ایٹمی دھماکے کر کے پاکستان نے ہمسایہ اور دشمن ملک بھارت کی برتری کا غرور خاک میں ملا دیا۔ اس کےساتھ ہی پاکستان ایٹمی قوت رکھنے والا دنیا کا ساتواں اور عالم اسلام کا پہلا ملک بن گیا۔

    یہ 28 مئی 1998ءکا مبارک دن تھا کہ پاکستان ایٹمی قوت بن گیا مگر پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کی راہ میں رکاوٹوں کو دور کرنے کےلئے جن عناصر نے حب الوطنی اور اسلام پسندی کا ثبوت دیتے ہوئے تاریخی کردار ادا کیا، ان میں
    ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب، ذولفقار علی بھٹو رحمتہ اللہ علیہ جن کا نعرہ تھا گھاس کھا لیں گے مگر ملک کو ایٹمی قوت ضرور بنائیں گے اور روزنامہ نوائے وقت کے چیف ایڈیٹر جناب مجید نظامی صاحب مرحوم رحمتہ اللہ علیہ سرفہرست ہیں اور برادر اسلامی ملک سعودی عریبیہ ہے۔

    آج الحمدللہ دفاعی اعتبار سے دیکھا جائے تو پاکستان کے پاس دنیا کی پانچویں سب سے بڑی فوج ہے جس کی تعداد چھ لاکھ بیس ہزار ہے۔ عالمی رینکنگ میں پاکستان کی فوج کو دنیا کی گیارہویں سب سے طاقتور فوج مانا جاتا ہے۔ حالانکہ دفاع پر خرچ کرنے کے اعتبار سے پاکستان دنیا میں 23 ویں نمبر پر ہے۔ پاک فوج کی طاقت کا اندازہ اس بات سےلگائیں کہ پاکستان وہ واحد ملک ہے جس نے دہشتگردی کے اندرونی نیٹ ورک کو دس سال سے بھی کم عرصے میں کچل کر رکھ دیا۔ یاد رکھیں کہ یہی چیلنج شام، لیبیا، یمن اور عراق کو بھی در پیش تھا لیکن یہ تمام ممالک ان خطرات کا مقابلہ کرنے میں ناکام رہے اور خانہ جنگی کا شکار ہو گئے۔ اسی طرح افغانستان میں امریکہ اور ستر ملکوں کا فوجی اتحاد سترہ سال میں بھی مسلح گروہوں کو شکست نہیں دے سکا۔ پاکستان دنیا کی ساتویں ایٹمی قوت ہے۔ پاکستان دنیا کے ان طاقتور ممالک میں شامل ہے جو تھرڈ اور فورتھ جنریشن کے لڑاکا طیارے، آبدوزیں، جنگی بحری جہاز اور سیٹیلائٹس بھی تیار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
    اللہ سے دعا ہے کہ وہ اس ارض پاک کو قائم دائم رکھے۔