Baaghi TV

Tag: what happened

  • پی ٹی آئی کے چار سالہ دورمیں ترقی کو ختم کیا گیا. وزیر اعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ عام انتخابات میں تصفیہ پر پہنچنے کی کوشش کی اور پی ٹی آئی کے ساتھ رائے ہو گیا تھا لیکن عمران خان نے ویٹو کر دیا، الیکشن کے انعقاد کا سوال توقعات نہیں بلکہ آئینی تقاضا ہے، انتخابات کا بروقت انعقاد ہونا چاہئے یہ جمہوریت کی مضبوطی کیلئے ضروری ہے تاہم یہ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرے اور ہم اس کی پابندی کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار وزیراعظم نے ترک میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا، اس انٹرویو کے دوران پاک ترک اور بھارت کے ساتھ تعلقات ، ملکی اقتصادی بحران سمیت دیگر اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    انٹرویو کے دوران شہباز شریف نے کہا کہ ترک صدر رجب طیب اردوان کو ایک بار پھر زبردست کامیابی پر مبارکباد پیش کرتا ہوں، انہوں نے کسی شک و شبہ کے بغیر ثابت کیا ہے کہ وہ ایک زبردست مقابلہ کرنے والی شخصیت ہیں، وہ ایک عظیم سیاستدان اور رہنما ہیں، ترکیہ کی عوام نے ان پر غیرمتزلزل اعتماد کا اظہار کیا ہے۔عوام، میری حکومت اور مجھ سمیت ہم سب بہت خوش اور اس شاندار کامیابی پر اللہ تعالیٰ کے شکرگزار ہیں، میں اپنے بھائی رجب طیب اردوان کے ساتھ بہت قربت سے مل کر کام کرنے کا متمنی ہوں تاکہ ہم اپنے برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط اور تجارت، سرمایہ کاری اور باہمی روابط میں اضافہ کریں۔

    اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم پہلے ہی اتفاق کرچکے ہیں کہ آنے والے تین سالوں میں ہم اپنی باہمی تجارت کو پانچ ارب ڈالر تک بڑھانے کی کوشش کریں گے، یہ کوئی مشکل ہدف نہیں ہے، ہمیں امید ہے کہ ہم مل کر یہ ہدف حاصل کرلیں گے۔ ترکیہ اور پاکستان دو برادر ملک ہیں، یہ یک جان دوقالب کی مانند ہیں جن کے تعلقات کی تاریخ صدیوں پرانی ہے، ترکیہ کی جنگ آزادی سے اس سے بہت پہلے سے ان تعلقات کی تاریخ ہے، ہمارے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں، ترکیہ امن، سیلاب، زلزلہ سمیت ہر مشکل وقت میں ہمیشہ پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا ہے، صدر طیب اردوان، ان کی حکومت اور ترکیہ کی عوام نے ہمیشہ آگے بڑھ کر پاکستان کی مدد کی ہے۔ اس طرح پاکستانی عوام اور ہر حکومت ترکیہ کے ساتھ تعلقات کے حوالہ سے ایک پیج پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہ سفر ہے جسے ہم نے اختیار کیا ہے اور مجھے امید ہے کہ ہم محنت اور مقصد سے وابستگی کے ساتھ مل کر اپنی خواہشات کہ پایئہ تکمیل تک پہنچائیں گے۔

    ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اپنا باہمی تجارتی حجم بڑھائیں گے، ہم شمسی توانائی کے شعبہ میں ترک سرمایہ کاروں کے تعاون کے خواہشمند ہیں کیونکہ ترکیہ شمسی توانائی کا زبردست تجربہ رکھتا ہے، ہم ترک سرمایہ کاروں کو پن بجلی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کیلئے بھی دعوت دیں گے۔ ترکیہ نے نہ صرف اپنے ملک بلکہ دنیا بھر میں پن بجلی کے منصوبے مکمل کئے ہیں، دیامر بھاشا جیسے منصوبوں میں مشترکہ سرمایہ کاری کے بہت مواقع ہیں، ترک سرمایہ کاروں سے اس پر بات ہوئی اور انہوں نے اس میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ترک سرمایہ کاروں کو سہولیات فراہم کرنے کی ہرممکن کوشش کریں گے تاکہ وہ پاکستان میں سرمایہ کاری کریں۔ پاکستان اورترکیہ میں اساتذہ، طلبا اور تاریخ دانوں کے وفود کے تبادلے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے دعوت دی باہمی تعلقات کے اس زبردست سفر سے آگاہی کیلئے سیمیناروں کا انعقاد کریں، اس حوالہ سے ہماری خواہشات اور مقاصد کی تکمیل صدر طیب اردوان کے موجودہ دور میں ہوگی، طیب اردوان ایک دوراندیش اور صاحب بصیرت رہنما ہیں جن کا بڑا احترام ہے۔

    ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ ہمارا تعلق برادرانہ ہے اور ہر اچھے برے وقت میں ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے ہوتے ہیں۔ صدر اردوان کی پسند کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کیلئے پاکستانی آموں کا تحفہ لایا، پاکستان کے سندھڑی آم بہت مشہور ہیں۔ پاکستان، ایران اورترکیہ کے مابین ریل روڈ نیٹ ورک کا منصوبہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ اس نیٹ ورک میں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔ اس سے سفری لاگت میں کمی آئے گی۔ ہماری پیداوار اور مصنوعات کو ان منڈیوں میں مقابلے کا موقع ملے گا اور وہ اس سے مستفید ہوسکیں گے۔ میرا مقصد ہوگا کہ اس ریل نیٹ ورک کو جدید ترین اور بہترین کارکردگی کا حامل بنایا جائے۔ پاکستان کی افرادی قوت زیادہ مہارت اور سستی ہونے کی وجہ سے دونوں ملکوں کیلئے فائدہ مند ہے۔ اگر ترکیہ پاکستان میں سرمایہ کاری کرے اور پاکستانی سرمایہ کار ترکیہ میں سرمایہ کاری کریں، ترکیہ کی ٹیکنالوجی اور پاکستان کی افرادی قوت میسر ہو تو یہ ایک زبردست مجموعہ ہوگا جس سے ہم زیادہ قیمتی اشیاء مقابلتا انتہائی بہتر قیمت پر تیار کرسکیں گے۔ اس سے ہمارے باہمی تعاون اور باہمی منصوبوں میں مواقع کا ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔

    شہباز شریف نے کہا کہ آگے بڑھنے کا راستہ یہی ہے، پاکستان اگرچہ مشکل چیلنجوں سے گزر رہا ہے، بین الاقوامی منڈیوں میں اشیائے خورددونوش کی قیمتیں آسمانوں کو پہنچ گئیں، درآمدی اشیا مہنگی ہوگئی ہیں، ہمیں گزشتہ برس بدترین سیلابوں کا سامنا رہا جو ہماری تاریخ کے سب سے زیادہ تباہ کن تھے، 3 کروڑ 30 لاکھ لوگ بے گھر ہوئے، ہماری فصلیں تباہ ہوئیں، ہمارا انفراسٹرکچر تباہ اور 30 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہوا، اس کے باوجود ہماری قوم ہمہ گیر صلاحیتوں کی حامل، مضبوط اور بہادر ہے، اس لئے ہم ان چیلنجوں کا مقابلہ کر رہے ہیں اور ہماری ہر طرح سے یہ کوشش ہے کہ چیلنجوں سے نمٹیں۔ سخت محنت اور باہمی تعاون سے ہم قابل فخر انداز میں لگن کے ساتھ آگے بڑھیں گے۔ پاکستان اور ترکیہ قریبی دفاعی تعلقات کے حامل ہیں، دفاعی ٹیکنالوجی کے شعبہ میں دونوں ممالک کے درمیان اب تک بہت سے دفاعی معاہدے ہوئے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان مضبوط تذویراتی شراکتداری قائم ہے، پاکستان ترکیہ کی بحری جہاز بنانے والی کمپنیوں کے ساتھ مشترکہ منصوبہ کا حصہ بن چکا ہے، اس پر ترکیہ میں کام ہو رہا اور کچھ حصہ کراچی شپ یارڈ پاکستان میں پایہ تکمیل کو پہنچ رہا ہے، یہ باہمی اشتراک کی ایک زبردست مثال ہے۔ اسی طرح دیگر شعبوں میں بھی دونوں ملکوں کے مفاد میں ایک دوسرے سے تعاون کر رہے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ترکیہ کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت پاکستان کیلئے بہت اہمیت کی حامل ہے، ترکیہ نے کشمیر کاز پر ہمیشہ پاکستان کی غیرمشروط حمایت کی ہے جس کیلئے ہم ان کے مشکور ہیں۔ کشمیری بہت مشکل وقت سے گزر رہے ہیں، بھارتی مظالم سے پوری دنیا آگاہ ہے اور کشمیری عوام کی قربانیوں سے بھی پوری دنیا آگاہ ہے اس کے باوجود بھارت ضد پر اڑا ہوا ہے، بھارت کا کشمیریوں کا زیرتسلط رکھنے کا طرزعمل بہت بڑا منفی پہلو ہے، دنیا کو سمجھنا چاہئے کہ جس طرح شمالی آئرلینڈ کا مسئلہ حل کیا گیا تھا، جس طرح سوڈان، بلقان کے مسائل حل کئے گئے اسی طرح وقت آگیا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے۔ یہ وقت کی ضرورت ہے کہ کشمیریوں کی خواہشات مزید تاخیر بغیر پوری ہوں، بصورت دیگر ہمارے خطے میں امن قائم نہیں ہوسکے گا۔

    اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور بھارت کو اپنے لوگوں کو تعلیم، خوراک ، روزگار مہیا کرنے اور جہالت اور غربت کا خاتمہ کرنے کی ضرورت ہے، ہمیں اپنے محدود وسائل کو ان شعبوں میں استعمال میں لانے کی ضرورت ہے، ہمیں مزید اسلحہ اور جنگی جہاز خریدنے سے فائدہ نہیں ہوگا، تنازعات کے حل کا واحد راستہ پرامن مذاکرات ہیں۔

    ایک سوال کے جواب میں شہباز شریف نے پاکستان میں اتحادی حکومت کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ تباہ کن سیلابوں سے نمٹنے کیلئے بھرپور کاوشیں کی ہیں، عالمی برادری کو متحد کیا اور جینوا میں کامیاب ڈونر کانفرنس کا انعقاد کیا، جہاں دوست ممالک اورعالمی برادری نے امداد کے وعدے کئے، اتحادی حکومت نے پاکستان کو ڈیفالٹ کے سنگین خطرے سے بچایا۔گزشتہ حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کی پاسداری نہیں کی اس کے نتیجہ میں پاکستان کو سنگین معاشی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا، ہم نے فیٹف کی گرے لسٹ سے پاکستان کو نکالا جس کا کریڈٹ مشترکہ طور پر حکومت اور فوجی قیادت کو جاتا ہے، یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ان مشکلات کے باوجود ہم اپنی معیشت کی بہتری پر توجہ دے سکے ہیں، ہمارے ٹھوس اقدامات کی وجہ سے اس سال گندم کی ریکارڈ فصل ہوئی، اس سے گندم کی درآمد میں صرف ہونے والے اربوں ڈالر کی بچت ہوگی، ہمیں امید ہے کہ اس جیسے بہت سے اچھے اقدامات کی وجہ سے ہماری کپاس کی فصل بھی بہت اچھی ہوگی۔ پاکستان ٹیکسٹائل کی صنعت کا مرکز ہے، گزشتہ سالوں میں ہمیں کپاس درآمد کرنا پڑتی تھی مجھے امید ہے کہ اس سال ہم اپنی طلب کا ایک بڑا حصہ اپنی مقامی پیداوار سے پورا کر سکیں گے، ہمیں ان اقدامات پر فخر ہے لیکن ابھی ہم نے طویل سفر طے کرنا ہے، ہم نے ابھی آئی ایم ایف کے ساتھ نویں جائزہ کی تکمیل کرنا ہے، ہماری طرف سے تمام شرائط اور مطالبات پورے کردیئے گئے ہیں، امید ہے کہ جلد یا بدیر آئی ایم ایف بورڈ نویں جائزہ کی منظوری دیدے گا۔ اس طرح معیشت کو مستحکم بنانے کیلئے ہمارا کثیرجہتی اور دو طرفہ اداروں کے ساتھ مذاکرات کا راستہ ہموار ہوجائے گا۔

    ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ موجودہ قومی اسمبلی کی مدت 13 اگست کو مکمل ہو رہی ہے لیکن بغیر کسی ٹھوس وجوہات کے پی ٹی آئی قومی اسمبلی کو تحلیل کرنے کیلئے دبائو ڈال رہی تھی اگر انہیں قومی اسمبلی کی تحلیل میں اتنی دلچسپی تھی تو انہوں نے اپنی مدت کے دوران ایسا کیوں نہیں کیا۔ ان کے پاس موقع موجود تھا، پی ٹی آئی سے مذاکرات کیلئے کمیٹی تشکیل دی تاکہ ملک میں عام انتخابات کے انعقاد کیلئے پرامن تصفیہ پر پہنچ سکیں کیونکہ پی ٹی آئی نے دو صوبائی اسمبلیاں تحلیل کردی تھیں۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ہمیشہ قومی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ایک ہی دن ہوئے ہیں، اب انہوں نے دو اسمبلیاں تحلیل کیں، پنجاب پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے اور ماضی میں کچھ عناصر کی جانب سے یہ بے بنیاد الزام تراشی ہوتی رہی کہ پنجاب نے اقتدار پر اپنا تسلط قائم کر رکھا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ہمارا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ پنجاب کا دیگر تینوں صوبوں کے ساتھ برابری کا تعلق ہے، ہم ایک دوسرے کی عزت کرتے ہیں، یہ ہماری اقدار ہیں ،اگر ہم نے ایک خاندان کی طرح آگے بڑھنا ہے تو ہم سب نے مشترکہ طور پر کردار ادا کرنا ہے اور نفع نقصان میں حصہ دار بننا ہے، اگر پنجاب اور کے پی کے میں انتخابات کرانے ہیں تو آنے والے وقتوں میں ایک نظیر قائم ہوجاتی کہ سب سے پہلے بڑے صوبے میں اور دیگر صوبوں میں بعد میں انتخابات ہوتے تو ایک سنجیدہ عنصر وقت پر فیصلہ کرنے والے ووٹر کا ہے، اگر وہ دیکھتے ہیں کہ پنجاب میں ایک خاص پارٹی کامیاب ہوئی ہے تو اس کے دوسرے صوبوں میں قدرتی اثرات ہوں گے جو ناانصافی اور جمہوری اقدار کے برعکس ہے، ہم نے عام انتخابات کے حوالے سے کسی تصفیہ پر پہنچنے کی بھرپور کوشش کی، ہماری اور تحریک انصاف کی کمیٹی میں اتفاق رائے بھی ہوگیا تھا لیکن پی ٹی آئی چیئرمین نے اسے ویٹو کردیا۔ عام انتخابات کے انعقاد کا سوال توقعات کا نہیں بلکہ آئینی تقاضا ہے، انتخابات کا بروقت انعقاد ہونا چاہئے یہ جمہوریت کی مضبوطی کیلئے ضروری ہے تاہم یہ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرے اور ہم اس کی پابندی کریں گے۔ ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ 9 مئی کو تحریک انصاف کے چیئرمین کو کرپشن اور اختیارات سے تجاوز کے اقدامات کے تحت گرفتار کیا گیا۔

    انہوں نے اپنے چار سالہ اقتدار میں نوازشریف سے لے کر پاکستان کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں تک کو بے بنیاد الزامات کے تحت ساری اپوزیشن کو جیلوں میں ڈالا، لیکن تشدد کا کوئی واقعہ نہیں ہوا، کوئی احتجاج نہیں ہوا، ہم نے مہذب انداز میں پارلیمنٹ میں اس پر آواز اٹھائی لیکن عمران خان کی گرفتاری پر ان کی ہدایت پر شرپسند جتھوں نے ملک کی اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا جن میں فوجی تنصیبات بھی شامل تھیں۔ 6 جنوری 2021 کو اس کو کیپیٹل ہل میں جو ہوا، ان حملہ آوروں کو قانون کے مطابق عدالتوں کی طرف سے سزائیں دی جارہی ہیں۔ کیا پاکستان میں ایسے عناصر کے خلاف کوئی الگ سلسلہ ہونا چاہئے اگر ایک سنگین جرم ہوا ہے تو قانون اپنا راستہ خود بنائے گا۔


    جبکہ دوسری وزیر اعظم شہباز شریف نے قازقستان کے جنگلات میں لگی آگ سے ہونے والی 14 ہلاکتوں پر اظہار افسوس کیا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے قازقستان کے جنگلات میں لگی آگ سے ہونے والی 14 ہلاکتوں پر اظہار افسوس کیا ہے۔اپنی ٹوئٹ میں وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ قازقستان کے جنگلات میں آگ لگنے سے 14 افراد کی ہلاکت پر دکھ ہوا ہے۔ وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ حکومت پاکستان اورعوام کی طرف سے قازقستان کے صدر اور ہلاک شدگان کے اہلخانہ کے ساتھ دلی تعزیت کا اظہار کرتا ہوں۔


    اپنی ٹوئٹ میں وزیراعظم نے زخمیوں کی جلد صحتیابی کیلئے بھی دعاکی۔ خیال رہے کہ قازقستان کے شمال مشرقی علاقے میں جنگلات میں خطرناک آتشزدگی کے باعث 14 افراد ہلاک جبکہ کئی زخمی ہو گئے ہیں۔ قازقستان کے محکمہ دفاع کے مطابق علاقے میں پھنسے لوگوں کو ریسکیو کرنے اور آتشزدگی پر کنٹرول کرنے کیلئے کوششیں جاری ہیں۔

  • صرف 15فیصدفارمیسیز میں کوالیفائیڈ فارماسسٹ خدمات سرانجام د ے رہے

    صرف 15فیصدفارمیسیز میں کوالیفائیڈ فارماسسٹ خدمات سرانجام د ے رہے

    صرف 15فیصدفارمیسیز میں کوالیفائیڈ فارماسسٹ خدمات سرانجام د ے رہے

    فیصد سے زائد میڈیکل اسٹور، فارمیسیز بغیر مستند فارماسسٹس چلانے کا انکشاف انڈس ہسپتال اینڈ نیٹ ورک کے سی ای او ڈاکٹر سیّد ظفر زیدی نے کہا ہے کہ پاکستان میں 75فیصد سے زائد میڈیکل اسٹور اور فارمیسیز تربیت یافتہ کوالیفائیڈ فارماسسٹ کے بغیر چلائی جا رہی ہیں جبکہ صرف 15فیصدفارمیسیز میں کوالیفائیڈ فارماسسٹ خدمات سرانجام د ے رہیں ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتے کے روز انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک اور فارم ایوو کے درمیان مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

    حامد الرحمان کی رپورٹ کے مطابق تقریب میں صدر انڈس اسپتال اینڈ نیٹ ورک ڈاکٹر عبدالباری خان، سی ای او اور ڈین انڈس یونورسٹی اینڈ ہیلتھ سائنسز ڈاکٹر سیدظفر زیدی، چیئرمین پریمیئر گروپ ابراہم قاسم، فارمیو کے سی ای او ہارون قاسم، ڈپٹی سی ای او سید جمشید احمد، انڈس کے چئیرمین بورڈ آف ڈائریکٹر عبدالکریم پراچہ، چیئرمین ریسورس جنریشن اینڈ پارٹنرشپ کمیٹی، بورڈ آف ڈائریکٹر ، سلیم تابانی اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر سیّد مشہود رضوی شامل تھے۔

    ایم او یو کے مطابق مقامی فارماسیوٹیکل کمپنی فارمیوو، انڈس ہسپتال کورنگی کیمپس میں بننے والی نئی عمارت میں ابن سینا کالج آف فارمیسی، انڈس یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کی تعمیر کے لیے مالی اور تکنیکی وسائل فراہم کرے گی۔ سماء کے مطابق تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر سید ظفر زیدی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں 75فیصد سے زائد فارمیسیز تربیت یافتہ کوالیفائیڈ فارماسسٹ کے بغیر چلائی جا رہی ہیں جبکہ صرف 15فیصدفارمیسیز میں کوالیفائیڈ فارماسسٹ خدمات سرانجام د ے رہیں ہیں۔

    صدر انڈس ہیلتھ نیٹ ورک ڈاکٹر عبدالباری خان نے کہا کہ جب وہ اسپتال شروع کر رہے تھے تو سوچا تھا میڈیکل کالج نہیں بنائیں گے، ہمارے بہترین ڈاکٹر میڈیکل کالجز سے پڑھ کر باہر چلے جاتے ہیں، پھر ہم نے اپنے مشن کو ریوائز کیا کہ اچھی ہیومن ریسورس ملنا مشکل کام ہے۔ اس ادارے کو چلانے کے لیے ایسے لوگ درکار تھے جن کے دل میں درد ہو، پاکستانی پاکستان یا پاکستان کے باہر جتنا چیئرٹی کرتے ہیں اور کوئی نہیں کرتا، مجھ سے کسی نے پوچھا ڈالر مہنگا ہونے سے انڈس کتنا متاثر ہوا ، میں نے انہیں جواب دیا اللہ کے ہاں کرائسز نہیں ہے۔ فارمیوو کی سخاوت واضح طور پر اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ وہ پاکستان میں ایک عالمی معیار کی یونیورسٹی کی بنیاد رکھنے میں اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔

    ڈاکٹر عبدالباری کا مزید کہنا تھا کہ انڈس اسپتال کو فارمیوو کے ساتھ شراکت داری پر فخر ہے اور ہمارا وژن ہے کہ ہم ایک ایسا معیار تعلیم فراہم کریں جو نہ صرف معیاری ڈاکٹرز بنائیں بلکہ ضرورت مند کیلیے خدمت کا جذبہ بھی رکھتے ہوں۔ جبکہ چیئرمین پریمیئر گروپ ابراہیم قاسم نے انڈس اسپتال اور انڈس یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کو پاکستان میں عالمی معیار کی صحت کی تعلیم کو فروغ دینے میں سراہا۔ وہ انڈس اسپتال جیسے اداروں کی حمایت کرتے ہوئے ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل کے لیے کوشاں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جو بزنس گروپ عطا کیا ہے ہماری کوشش ہے اس میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کریں ،اللہ کی راہ میں بھی تعلیم پر خرچ کرنے کی بڑی اہمیت ہے، ہمارے پاس جو کچھ ہے وہ امانت ہے، ہم اُس کے چوکیدار ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آئین کا تحفظ ہمارے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔ چیف جسٹس
    100 واں ڈے،پی سی بی نے بابر اعظم کی فتوحات کی فہرست جاری کر دی
    لندن میں نواز شریف کے نام پرنامعلوم افراد نے تین گاڑیاں رجسٹرکرالیں،لندن پولیس کی تحقیقات جاری
    بینگ سرچ انجن تمام صارفین کیلئے کھول دیا گیا
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    ان کا کہنا تھا کہ اس پروجیکٹ کا نام ابن سینا اس لیے ہے کہ اپنے مسلم ہیروز کو یاد کیا جائے، ڈاکٹر عبدالباری اور ان کی ٹیم نے انڈس کی صورت جو پودا لگایا وہ تناور درخت بن چکا ہے، انڈس بہت اچھا کام کر رہا ہے، مکمل کیش لیس اور پیپر لیس ہے جہاں بغیر سفارش مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ڈاکٹر دوا لکھ دے اور مریض کو درست دوا نہ ملے تو پھر فارمیسی کا مقصد پورا نہیں ہوتا، ہمارا مقصد سختی سے اخلاقی مارکیٹنگ کی جائے، فارمیو اسٹرکلی ایتھکلی مارکیٹنگ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ابن سینا کالج آف فارمیسی میں اعلیٰ کوالٹی کی تعلیم دی جائے گی، داخلے کے لیے سختی سے میرٹ پر عمل کریں گے، میری گزارش بھی ہے اگر کسی کو سفارش پر داخلہ نہ دیں، جو اسٹوڈنٹس اس کالج سے نکلیں وہ اچھے مسلمان اور اچھے خدمت گزار ہوں۔

  • بھارت کو شکست،  ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ آسٹریلیا نے جیت لیا

    بھارت کو شکست، ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ آسٹریلیا نے جیت لیا

    بھارت کو شکست، ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ آسٹریلیا نے جیت لیا

    آسٹریلیا نے آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل میں بھارت کو 209 رنز سے شکست دے دی ہے جبکہ لندن کے اوول گراؤنڈ میں کھیلے گئے ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل کے آخری روز بھارتی ٹیم 444 رنز کے ہدف کے تعاقب میں 234 رنز بناکر آؤٹ ہو گئی، ٹیسٹ کے آخری روز بھارت کی 7 وکٹیں صرف 70 رنز پر گر گئیں۔

    بھارت کی جانب سے دوسری اننگز میں ویرات کوہلی 49 رنز بنا کر نمایاں رہے جبکہ اجنکیا رہانے نے 46 اور روہت شرما نے 43 رنز کی اننگز کھیلی۔ آسٹریلیا کی جانب سے ناتھن لیون نے دوسری اننگز میں چار شکار کیے جبکہ اسکاٹ بولینڈ نے 3 وکٹیں حاصل کیں، مچل اسٹارک نے دو اور پیٹ کمنز نے ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آئین کا تحفظ ہمارے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔ چیف جسٹس
    100 واں ڈے،پی سی بی نے بابر اعظم کی فتوحات کی فہرست جاری کر دی
    لندن میں نواز شریف کے نام پرنامعلوم افراد نے تین گاڑیاں رجسٹرکرالیں،لندن پولیس کی تحقیقات جاری
    بینگ سرچ انجن تمام صارفین کیلئے کھول دیا گیا
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    آسٹریلیا نے پہلی اننگز میں 469 رنز بنائے تھے جبکہ دوسری اننگز 8 وکٹ 270 رنز پر ڈیکلیئر کی تھی، بھارتی ٹیم پہلی اننگز میں 296 رنز بناکر آؤٹ ہو گئی تھی۔

  • تیز ہواؤں سے تعمیرات کو نقصان پہنچنے کا خطرہ، ساحل سمندر پر دفعہ 144 نافذ

    تیز ہواؤں سے تعمیرات کو نقصان پہنچنے کا خطرہ، ساحل سمندر پر دفعہ 144 نافذ

    تیز ہواؤں سے تعمیرات کو نقصان پہنچنے کا خطرہ، ساحل سمندر پر دفعہ 144 نافذ

    محکمہ موسمیات نے کراچی میں تیز ہواؤں کے باعث کمزور تعمیرات کو نقصان پہنچنے کا الرٹ جاری کر دیا ہے جبکہ محکمہ موسمیات کے مطابق سسٹم کے مرکز کے گرد سمندر میں کافی طغیانی کی کیفیت ہے، سسٹم کے مرکز کے گرد لہروں کی اونچائی 25 سے 28 فٹ تک پہنچ رہی ہے، سائیکلون وارننگ سینٹر سسٹم کو مانیٹر کر رہا ہے۔

    طوفان میں ممکنہ شدت کے باعث کمشنر نے کراچی کے ساحلوں پر دفعہ 144 نافذ کر دی ہے، مچھلی کے شکار کرنے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ مشنر کراچی کا کہنا ہے کہ ساحل پر نہانے اور تفریح کے لیے جانے سے گریز کیا جائے، حکومتی فیصلے پر متعلقہ ادارے عمل درآمد کرائیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آئین کا تحفظ ہمارے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔ چیف جسٹس
    100 واں ڈے،پی سی بی نے بابر اعظم کی فتوحات کی فہرست جاری کر دی
    لندن میں نواز شریف کے نام پرنامعلوم افراد نے تین گاڑیاں رجسٹرکرالیں،لندن پولیس کی تحقیقات جاری
    بینگ سرچ انجن تمام صارفین کیلئے کھول دیا گیا
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جبکہ اس سے قبل محکمہ موسمیات کے حکام کا کہنا ہے کہ خطرناک سمندری طوفان بائپر جوائے رخ تبدیل کر کے پاکستانی ساحل کی جانب بڑھ سکتا ہے۔ حکام محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ سمندری طوفان بائپر جوائے رخ تبدیل ہونے کے بعد شمال اور شمال مشرق کی جانب بڑھ رہا ہے، سمندری طوفان بائپر جوائے مکران کے ساحل کی طرف آ سکتا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق طوفانی نظام میں مسلسل تبدیلی کے باعث سمندیر طوفان میں مزید شدت بھی آ سکتی ہے، ماہی گیر 12 جون سے سمندر میں نہ نکلیں جب تک سسٹم بحیرہ عرب سے گزر نہ جائے۔

  • چھینہ گروپ بھی استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے کو تیار

    چھینہ گروپ بھی استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے کو تیار

    چھینہ گروپ بھی استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے کو تیار

    پاکستان تحریک انصاف چھوڑنے والے سابق ارکان اسمبلی پر مشتمل چھینہ گروپ کا رواں ماہ استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے کا امکان ہے۔ جبکہ گزشتہ روز سینیئر سیاستدان جہانگیر ترین نے استحکام پاکستان پارٹی کا باضابطہ اعلان کیا۔ تاہم ذرائع کے مطابق جہانگیرترین اورملک غضنفرعباس چھینہ کے درمیان مشترکہ دوستوں کے ذریعے رابطہ ہوا ہے۔

    نجی ٹی وی ذرائع کا کہنا ہے کہ استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت کیلئے چھینہ گروپ اور جہانگیر ترین کے درمیان معاملات حتمی مراحل میں داخل ہوگئے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ چھینہ گروپ کی جانب سے رواں ماہ استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت اختیار کیے جانے کا امکان ہے، چھینہ گروپ میں پنجاب سے 20 کے قریب سابق ارکان اسمبلی شامل ہیں۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آئین کا تحفظ ہمارے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔ چیف جسٹس
    100 واں ڈے،پی سی بی نے بابر اعظم کی فتوحات کی فہرست جاری کر دی
    لندن میں نواز شریف کے نام پرنامعلوم افراد نے تین گاڑیاں رجسٹرکرالیں،لندن پولیس کی تحقیقات جاری
    بینگ سرچ انجن تمام صارفین کیلئے کھول دیا گیا
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جبکہ اس سے قبل بھکر سے پاکستان تحریک انصاف کے سابق رکن پنجاب اسمبلی غضنفر عباس چھینہ نے پارٹی چھوڑنے کا اعلان کیا تھا اور اپنے ویڈیو بیان میں غضنفر عباس چھینہ کا کہنا تھاکہ 9 مئی کے واقعات کی مذمت کرتا ہوں، 9 مئی کے واقعات کے باعث پی ٹی آئی سے علیحدگی کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا تھا کہ آئندہ کا لائحہ عمل دوستوں کی مشاورت سے طے کروں گا۔

  • یہ بجٹ سود خوروں کا ہے، عوام کیلئے کوئی ریلیف نہیں. سینیٹر مشتاق احمد

    یہ بجٹ سود خوروں کا ہے، عوام کیلئے کوئی ریلیف نہیں. سینیٹر مشتاق احمد

    یہ بجٹ سود خوروں کا ہے، عوام کیلئے کوئی ریلیف نہیں. سینیٹر مشتاق احمد

    جماعت اسلامی کے سینیٹرمشتاق احمد نے کہا ہے کہ این ایف سی ایوارڈ کے بغیر بجٹ کی دستوری حیثیت مشکوک ہے،یہ سود خوروں کا بجٹ ہے،عوام کیلئے کوئی ریلیف نہیں ہے۔ سینٹیر مشتاق خان نے میڈیا سےگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ سےپہلےاین ایف سی ایوارڈ دیناآرٹیکل 160 کےتحت آئینی تقاضا تھا،اوروہ نہیں دیا گیا تو اس بجٹ کی دستوری حیثیت مشکوک ہے۔

    انہوں نے کہا کہ سود کےخاتمےکاروڈ میپ دینا چاہیےتھا،حکومت نےتوسودکواورمضبوط کیا،9 ہزار 200 ارب روپےٹیکس ہدف میں سے 7 ہزار 200 ارب روپےسودپردیں گے،یہ سود خوروں کا بجٹ ہے،عوام کیلئے کوئی ریلیف نہیں ہے، انہوں نے مزید کہا کہ آٹے، چاول، گھی ،پٹرول ،ڈیزل اوردالوں کی قیمتوں پرکوئی کمی نہیں ہے،حکومت تمام اہم اہداف حاصل کرنےمیں ناکام ہوگئی ہے،معاشی مسائل کا ان کے پاس کوئی حل نہیں یہ آئی ایم ایف کا بجٹ ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آئین کا تحفظ ہمارے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔ چیف جسٹس
    100 واں ڈے،پی سی بی نے بابر اعظم کی فتوحات کی فہرست جاری کر دی
    لندن میں نواز شریف کے نام پرنامعلوم افراد نے تین گاڑیاں رجسٹرکرالیں،لندن پولیس کی تحقیقات جاری
    بینگ سرچ انجن تمام صارفین کیلئے کھول دیا گیا
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    سینیٹرمشتاق احمد نے کہا کہ یہ عوام کیلئے ڈیتھ وارنٹ ہے،ویسے بھی روپے کی قدر نہیں رہی ،سری لنکا ڈیفالٹ پرہےاور ہمارے ہاں مہنگائی اس سے بھی زیادہ ہے، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کی کوئی حیثیت نہیں۔

  • پی ایم ایس افسران کا پنجاب میں احتجاج کا اعلان

    پی ایم ایس افسران کا پنجاب میں احتجاج کا اعلان

    پی ایم ایس آفیسرز ایسوسی ایسوسی ایشن پنجاب کا اجلاس امروز 9 جون 2023 لاہور میں منعقد ہوا۔ پنجاب بھر سے کثیر تعداد میں افسران نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن، جسے DMG/PAS کے افسران کنٹرول کرتے ہیں، کے پی ایم ایس کی طرف معاندانہ رویے پہ انتہائی تشویش کا اظہار کیا گیا۔

    پورے پنجاب میں وزیر اعلی پنجاب کی ہدایات پر پروموشن بورڈ منعقد کیے گئے لیکن گریڈ 18 اور 19 کی سینکڑوں آسامیاں خالی ہونے کے باوجود پی ایم ایس افسران کی ترقیاں نہیں کی جا رہیں۔ یہ رویہ نہ صرف غیر اخلاقی بلکہ غیر قانونی بھی ہے جس کی شدید مذمت کی گئی۔ مزید براں پی ایم ایس کے پروموشن کورسز کے بارے میں ایس اینڈ جی اے ڈی کی پی ایم ایس ایسوسی ایشن کو دی گئی یقین دہانیوں کے باوجود DMG/PAS افسران اس پر عملدرامد کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔

    نجی ٹی وی کے مطابق پی ایم ایس ایسوسی ایشن نے پچھلے ایک سال کے دوران بارہا چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور سیکرٹری سروسز کو زبانی اور تحریری طور پر پروموشن ٹریننگ کے بارے باور کروایا کہ اگلے سالوں میں آسامیاں ہوں گی مگر افسران لمبی نوکری کے باوجود محض اسلئے ترقی حاصل نہیں کر سکیں گے کہ انہوں نے ٹریننگ نہیں کی۔ اسلئے فوارا“ ٹریننگز کروائی جائیں مگر ارباب اختیار ٹس سے مس نہ ہوئے۔ نتیجتاً آج گریڈ 20 کی بے شمار آسامیاں موجود ہونے کے باوجود پی ایم ایس افسران ترقی سے محروم ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آئین کا تحفظ ہمارے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔ چیف جسٹس
    100 واں ڈے،پی سی بی نے بابر اعظم کی فتوحات کی فہرست جاری کر دی
    لندن میں نواز شریف کے نام پرنامعلوم افراد نے تین گاڑیاں رجسٹرکرالیں،لندن پولیس کی تحقیقات جاری
    بینگ سرچ انجن تمام صارفین کیلئے کھول دیا گیا
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    ان حالات میں آج کے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ پنجاب بھر کے پی ایم ایس افسران DMG/PAS کے رویے کے خلاف سیاہ پٹیاں باندھ کر، اپنے تمام فرائض منصبی ادا کرتے ہوئے، پر امن خاموش احتجاج شروع کریں گے ۔ مسائل حل نہ ہونے کی صورت میں احتجاج کے دیگر راستے اپنانے کیلئے دوبارہ اجلاس منعقد کیا جائے گا۔

  • وفاقی بجٹ میں 200 ارب روپے کے اضافی ٹیکسز  عائد

    وفاقی بجٹ میں 200 ارب روپے کے اضافی ٹیکسز عائد

    وفاقی بجٹ میں 200 ارب روپے کے اضافی ٹیکسز عائد. چیئرمین ایف بی آر

    چیئرمین ایف بی آر عاصم احمد کا کہنا ہے کہ وفاقی بجٹ میں 200 ارب روپے کے اضافی ٹیکسز عائد کیے گئے جبکہ وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی میں 144 کھرب 60 ارب روپے کا وفاقی بجٹ پیش کیا اور اس دوران ان کا کہنا تھا کہ بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا۔ وفاقی بجٹ کے بعد چیئرمین ایف بی آر عاصم احمد نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ترسیلات زر کے ذریعے غیرمنقولہ جائیداد خریدنے پر 2 فیصد ٹیکس ختم کیا جا رہا ہے، ترسیلات زر کارڈ کی کیٹگری میں ایک نئے ڈائمنڈ کارڈ کا اجرا کیا جا رہا ہے، سالانہ 50 ہزار ڈالر سے زائد ترسیلات زر بھیجنے والوں کو ڈائمنڈ کارڈ جاری ہو گا۔

    چیئرمین ایف بی آر کا کہنا تھا آئندہ بجٹ میں 200 ارب روپے کے اضافی ٹیکسز عائد کیے گئے جس میں سے 175 ارب روپے کے براہ راست ٹیکسز لگائے گئے ہیں جبکہ 25 ارب روپے کے بالواسطہ ٹیکسز لگائے گئے ہیں۔ عاصم احمد کا کہنا تھا ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈز غیرممالک میں استعمال پر ود ہولڈنگ میں اضافہ کیا گیا ہے، غیر ممالک میں ڈیبٹ کریڈٹ کارڈز نان فائلرز پر 10 فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس عائد ہو گا جبکہ فائلرز پر 5 فیصد ٹیکس عائد ہو گا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آئین کا تحفظ ہمارے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔ چیف جسٹس
    100 واں ڈے،پی سی بی نے بابر اعظم کی فتوحات کی فہرست جاری کر دی
    لندن میں نواز شریف کے نام پرنامعلوم افراد نے تین گاڑیاں رجسٹرکرالیں،لندن پولیس کی تحقیقات جاری
    بینگ سرچ انجن تمام صارفین کیلئے کھول دیا گیا
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    چیئرمین ایف بی آر عاصم احمد نے بتایا کہ بینکوں سے کیش رقوم نکلوانے پر نان فائلرز پر 0.6 فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس بحال کرنےکی تجویز رکھی گئی ہے جبکہ غیر ملکی گھریلو ملازمین پر سالانہ 2 لاکھ روپے ایڈوانس ایڈجسٹمنٹ ٹیکس لگانےکی تجویز ہے۔ ان کا کہنا تھا برانڈڈ ٹیکسٹائل اور چمڑے کے پی او ایس ریٹیلرز ٹیکس 12 سے بڑھا کر 15فیصد کرنے کی تجویز ہے، اسپورٹس سامان کے پی او ایس ریٹیلرز ٹیکس 12 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کرنے کی تجویزہے جبکہ 1300 سی سی سے زائد کی ایشیائی گاڑیوں کی درآمد پر مقرر حد ختم کی گئی ہے۔

  • معاشی ماہرین نے  9200 ارب ٹیکس ہدف کے حصول کو مشکل قرار دے دیا

    معاشی ماہرین نے 9200 ارب ٹیکس ہدف کے حصول کو مشکل قرار دے دیا

    معاشی ماہرین نے 9200 ارب ٹیکس ہدف کے حصول کو مشکل قرار دے دیا

    بجٹ سے متعلق سابق چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی کا کہنا ہے کہ قرضوں کی ری پروفائلنگ کرنی پڑے گی جبکہ 6 مہینے سے آئی ایم ایف کے ساتھ پنگ پانگ کھیل رہے ہیں، اس کو بند کریں، ملک میں 30 لاکھ انڈسٹریل اور کمرشل کنکشن ہیں جو پاکستان کے سرکاری اداروں سے بجلی اور گیس لے رہے ہیں، لیکن سیلز ٹیکس ادا کرنے والے 70 ہزار یا اس سے بھی کم ہیں۔

    نجی ٹی وی پر بات کرتے ہوئے شبر زیدی نے کہا کہ جو لوگ بجٹ تیار کر رہے ہیں ان کو اچھی طرح اندازہ ہے کہ آگے کیا ہونے والا ہے، اس پر آپ پردہ ڈالنا چاہتے ہیں تو ڈال لیں لیکن آپ یہ پردہ ڈال نہیں سکتے۔ ماہر معیشت خاقان نجیب نے کہا کہ ٹیکس پر بات ہوتی ہے لیکن اخراجات پر بات نہیں ہوتی، حقائق پر مبنی بات نہ ہوئی تو ایک سال بعد نمبرز دیکھ کر سب حیران ہوجائیں گے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آئین کا تحفظ ہمارے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔ چیف جسٹس
    100 واں ڈے،پی سی بی نے بابر اعظم کی فتوحات کی فہرست جاری کر دی
    لندن میں نواز شریف کے نام پرنامعلوم افراد نے تین گاڑیاں رجسٹرکرالیں،لندن پولیس کی تحقیقات جاری
    بینگ سرچ انجن تمام صارفین کیلئے کھول دیا گیا
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    سابق صدر کے سی سی آئی انجم نثار بولے کہ بہت مشکل ہے کہ ہم 9200 ارب کا ٹیکس ہدف حاصل کرسکیں، اگر حاصل بھی کرلیں تو وہ قرضوں کی ادائیگی میں چلا جائے گا۔ معاشی تجزیہ کار محمد سہیل نے کہا کہ بدقسمتی سے یہ ایک نارمل بجٹ ہے ، سب سے بڑا مسئلہ 22 ارب ڈالر کی ادائیگی کا ہے، 22 ارب ڈالر کی پیمنٹ کیسے ہوگی؟ اگر اس کی پیمنٹ نہ ہوئی تو کرنسی مزید گر جائے گی۔ ماہر ٹیکس امور ذیشان مرچنٹ کا کہنا ہے کہ جتنے ٹیکس یہ لگا سکتے تھے لگا چکے ، اب مزید کی گنجائش نہیں۔

    بجٹ میں مختلف سیکٹرز میں ٹیکس کی شرح میں اضافہ کیا گیا ہے۔ ٹیٹرا پیک دودھ، پیکٹ کی دہی، ڈبے میں بند مکھن اور پنیر مہنگے ہوں گے، ٹن پیک مچھلی، ڈبے میں بند مرغی کا گوشت اور انڈوں کے پیکٹ کی قیمت بھی بڑھ جائے گی، 18 فیصد ٹیکس لگ گیا۔ جبکہ برانڈڈ کپڑے مہنگے ہوں گے۔ جی ایس ٹی 12 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کر دیا گیا، کافی ہاؤسز، شاپس اور فوڈ آؤٹ لیٹس پر 5 فیصد ٹیکس لگے گا، ٹیکس ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈ سے کی گئی ادائیگی پر ہوگا۔

    وفاقی حکومت نے نان فائلر پر 50 ہزار سے زائد رقم نکالنے پر ٹیکس کی شرح میں اضافہ کردیا۔ بجٹ دستاویز میں کہا گیا ہے کہ نان فائلر افراد کی جانب سے بینک سے رقم نکالنے کو دستاویزی اور ان کی ٹرانزیکشن کے اخراجات بڑھانے کیلئے 50 ہزار روپے سے زائد کی رقم نکالنے پر 0.6 فیصد کی شرح سے ٹیکس عائد کیا جارہا ہے۔ اس کے علاوہ وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2023-24 کے بجٹ میں ایشیا میں بننے والی پرانی اور استعمال شدہ 1300 سی سی سے بڑی گاڑیوں کی درآمد پر ڈیوٹی اور ٹیکسز کی حد بندی ختم کردی۔

    وزیر خزانہ کا کہنا تھاکہ ایشیا میں بننے والی پرانی اور استعمال شدہ 1800 سی سی تک کی گاڑیوں کی درآمد پر 2005 میں ڈیوٹیز اور ٹیکسز کو محدود کر دیا گیا تھا۔ اب 1300 سی سی سے اوپر کی گاڑیوں کے ڈیوٹی اور ٹیکسز کی حد بندی ختم کی جا رہی ہے۔ ڈیوٹی اور ٹیکسز کی حد بندی ختم ہونے کے بعد گاڑیاں مہنگی ہونے کا امکان ہے۔

  • تمام اہداف مصنوعی ہیں، حماد اظہر کا بجٹ پر ردعمل

    تمام اہداف مصنوعی ہیں، حماد اظہر کا بجٹ پر ردعمل

    تمام اہداف مصنوعی ہیں، حماد اظہر کا بجٹ پر ردعمل

    سال-24 2023 کے بجٹ کے حوالے سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اظہار خیال کرتے ہوئے حماد اظہر کا کہنا تھا کہ "اس بجٹ میں تمام اہداف مصنوعی ہیں اور پچھلے سال کی طرح حقیقت پر مبنی نہیں۔ معاشی ترقی، ٹیکس کلیکشن، مہنگائی کی شرح، درامدات، ترسیلات زر کے ہدف صرف بجٹ بیلنس کرنے لے لئے لکھے گئے۔ ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں جبکہ اسی طرح سود ادائیگیوں کی رقم اور نان ٹیکس رونیو میں ہی ایک ہزار ارب کی فگر فنڈنگ ہے۔”


    انہوں نے مزید لکھا کہ "وزیر خزانہ نے مہنگائی کم کرنے کا یا ڈوبتی معیشت کو بچانے کا کوئی منصوبہ بیان نہیں کیا۔ صنعتی پیداوار میں خام مال کی امپورٹ پر پابندی اور سکڑتی معیشت کے باعث %25 کمی آخری دو ماہ میں واقع ہوئی۔ اس کو بحال کیسے کرنا ہے اس پر کوئی جامع منصوبہ سامنے نہیں آیا۔”

    حماد اظہر کا یہ بھی کہنا تھا کہ "بجٹ میں 8.5 ارب ڈالر کا نئے بیرونی قرضوں کا ہدف ہے۔ لیکن آئی ایم ایف کے نا ہوتے ہوئے یہ بھی ممکن نا ہو گا، لگتا ہے پی ڈی ایم حکومت کا موثر فیصلہ سازی کا کوئی ارادہ نہیں۔ ان کو معیشت کی نہیں صرف عمران خان کو مینج کرنے کی پرواہ ہے۔”

    حماد اظہر کے مطابق "پی ڈی ایم حکومت ایک سال میں معاشی ترقی کی رفتار کو %6 سے منفی پر لے آئی۔ ایکسپوڑٹ اور ترسیلات زر میں 7 ارب ڈالر کی کمی واقع ہوئی۔ بڑے درجے کی صنعتی بیداوار میں آخری دو ماہ میں %25 کمی آئی۔ مہنگائی کی شرح ایک سال میں تین گنا بڑھی۔ مقامی قرضے لینے کی رفتار دگنی ہو گئی۔ اب اس سب کو کیسے بحال کرنا ہے اس کا پی ڈی ایم کے پاس کوئی جواب نہیں۔”

    دوسری جانب بجٹ پر رد عمل دیتے ہوئے فیضان راوت نے کہا کہ یہ ن لیگ اسحاق ڈار کی طرف سے ایک سیاسی و الیکشن بجٹ ہے. اس بجٹ کے ساتھ پاکستان آئی ایم ایف کا نواں(9) ریویو میں نہیں جاسکے گااس میں مشکلات آئیں گی. اس بجٹ میں کوئی نئے ٹیکس نہیں لگائے گئے، جس کے باعث 9200 ارب کا ہدف حاصل کرنا ناممکن ہوگا.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آئین کا تحفظ ہمارے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔ چیف جسٹس
    100 واں ڈے،پی سی بی نے بابر اعظم کی فتوحات کی فہرست جاری کر دی
    لندن میں نواز شریف کے نام پرنامعلوم افراد نے تین گاڑیاں رجسٹرکرالیں،لندن پولیس کی تحقیقات جاری
    بینگ سرچ انجن تمام صارفین کیلئے کھول دیا گیا
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    فیضان راوت کا کہنا تھا کہ سرکاری تنخواہوں میں غیر معمولی اضافہ کیا گیا ہے آئیندہ اس سال آنے والی حکومتوں کو منی بجٹ پیش کرنے پڑیں گے. جبکہ زراعت، آئی ٹی اور تعمیراتی سیکٹر کے لیے ریلیف خوش آئند ہے،. توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے، سولر پینل پر ڈیوٹی ختم کرنا بھی اچھی بات ہے . لیکن پی ایس آئی ڈی پی بجٹ میں غیر معمولی اضافہ کیا گیا. پی ایس آئی ڈی پی کو دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ بجٹ ن لیگ کی طرف الیکشن مہم میں استعمال ہوگا ، فیضان راوت فیضان راوت کا مزید کہنا تھا کہ اس بجٹ کے ساتھ اندرونی و بیرونی قرضوں میں اضافہ ہوگا یہ بجٹ فقط اعدادوشمار کا ہیر پھیر ہے، مختصراً یہ کہ یہ ن لیگ کا سیاسی بجٹ ہے.