Baaghi TV

Tag: what happened

  • جہانگیر ترین سے ملاقات پر پرویز خٹک کی تردید

    جہانگیر ترین سے ملاقات پر پرویز خٹک کی تردید

    جہانگیر ترین سے ملاقات پر پرویز خٹک کا انکار
    سابق وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک نے استحکام پاکستان پارٹی کے پیٹرن ان چیف جہانگیر ترین سے ملاقات سے متعلق وضاحت کی ہے جبکہ میڈیا پر اس قسم کی خبریں زیر گردش ہیں کہ پرویز خٹک کے جہانگیر ترین گروپ کے ساتھ معاملات طے پا گئے ہیں اور جلد پرویز خٹک استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت اختیار کر لیں گے۔

    ذرائع کے مطابق پرویز خٹک کو استحکام پاکستان پارٹی کا جنرل سیکرٹری بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ تاہم نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے پرویز خٹک نے کہا کہ جہانگیر ترین سے میری کوئی ملاقات نہیں ہوئی، اس وقت میں سیاسی معاملات پر کوئی بات نہیں کرنا چاہتا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آئین کا تحفظ ہمارے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔ چیف جسٹس
    100 واں ڈے،پی سی بی نے بابر اعظم کی فتوحات کی فہرست جاری کر دی
    لندن میں نواز شریف کے نام پرنامعلوم افراد نے تین گاڑیاں رجسٹرکرالیں،لندن پولیس کی تحقیقات جاری
    بینگ سرچ انجن تمام صارفین کیلئے کھول دیا گیا
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    یاد رہے کہ گزشتہ روز جہانگیر ترین نے استحکام پاکستان پارٹی کا باقاعدہ اعلان کیا تھا، علیم خان، فواد چوہدری، فردوس عاشق اعوان، مراد راس اور شعیب صدیقی سمیت پاکستان تحریک انصاف کے کئی سابق رہنما استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت اختیار کر چکے ہیں۔ اور قیاس آرئیاں ہیں اس میں مزید بھی لوگ ماضی میں پی ٹی آئی میں تھے اب اس جماعت کو جوائن کررہے ہیں.

  • زینب قتل کیس؛  سزا یافتہ میاں بیوی سمیت تینوں ملزمان بری

    زینب قتل کیس؛ سزا یافتہ میاں بیوی سمیت تینوں ملزمان بری

    زینب قتل کیس میں سزا یافتہ میاں بیوی سمیت تینوں ملزمان کو مقدمہ سے بری

    ہائی کورٹ راولپنڈی بنچ کے جسٹس صداقت علی خان اور جسٹس مرزا وقاص رؤف پر مشتمل 2رکنی بنچ نے ماتحت عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے تھانہ سول لائن کے مشہور9سالہ زینب قتل کیس میں سزا یافتہ میاں بیوی سمیت تینوں ملزمان کو مقدمہ سے بری کر دیا ہے سیشن عدالت نے 26اکتوبر2021کو ٹرائل کے بعدبابر مسیح اور عدنان کو سزائے موت اور5،5لاکھ ہرجانہ کی ادائیگی کا حکم دیا تھا.

    جبکہ بابر مسیح کی اہلیہ کویتا عرف انیقہ کودفعہ201کے تحت 7سال قید سخت اور1لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی ملزمان نے چوہدری یاسر محمود چٹھہ ایڈووکیٹ اور راجہ عمار عزیزایڈووکیٹ کے ذریعے سیشن عدالت کے فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا گزشتہ روزسماعت کے دوران ملزمان کے وکلانے حتمی دلائل میں موقف اختیار کیا کہ مدعی کے مطابق جب مقتولہ کے والدین اور اہل محلہ بابر مسیح کے گھر گئے تو لاش اندر پڑی تھی لیکن ملزمان انہیں دیکھ کر فرار ہو گئے.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آئین کا تحفظ ہمارے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔ چیف جسٹس
    100 واں ڈے،پی سی بی نے بابر اعظم کی فتوحات کی فہرست جاری کر دی
    لندن میں نواز شریف کے نام پرنامعلوم افراد نے تین گاڑیاں رجسٹرکرالیں،لندن پولیس کی تحقیقات جاری
    بینگ سرچ انجن تمام صارفین کیلئے کھول دیا گیا
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    خیال رہے کہ اس گھر کے عقب میں کوئی راستہ نہ تھا اور داخلی دروازے پر اہل محلہ بڑی تعداد میں موجود تھے جس سے ملزمان کے بھاگنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا جبکہ اتنی بڑی تعداد میں اہل علاقہ کی موجودگی کے باوجود کوئی بھی عینی شاہدف بطور گواہ پیش نہیں ہوا عدالت نے ملزمان کے وکلا کے دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے ناکافی شہادتوں کی بنیاد پر تینوں ملزمان کو بری کر دیا یاد رہے کہ تھانہ سول لائن پولیس نے22مارچ2021کو مقتولہ کے والد عمران کی مدعیت میں قتل اور زیادتی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا تھا جس میں الزام تھا کہ ملزمان نے9سالہ زینب کو جنسی زیادتی کے بعد قتل کیا.

    مقدمہ کے متن کے مطابق9سالہ زینب 22مارچ کی شام گلی سے اچانک غائب ہوگئی جس کو تلاش کرنے کے دوران محلے کے بچوں نے بتایا کہ زینب کی جوتی بابر مسیح کے گھر سے ملی ہے جب بچی کے والدین اور اہلیان علاقہ نے بابر مسیح کے گھر جا کر دیکھا تو زینب کی لاش چارپائی کے نیچے چھپا کر رکھی گئی تھی جو نیم برہنہ تھی اور اس کے چہرے اورجسم پر دانتوں کئے نشان تھے جس پرپولیس نے 26مارچ کو ملزمان کوباضابطہ گرفتارکیا تھا۔

  • بینظیر انکم اسپورٹ پروگرام کی مختص رقم میں بھی اضافہ

    بینظیر انکم اسپورٹ پروگرام کی مختص رقم میں بھی اضافہ

    بینظیر انکم اسپورٹ پروگرام کی مختص رقم میں بھی اضافہ

    حکومت نے بے نظیر انکم اسپورٹ پروگرام کی رقم 250 ارب روپے سے بڑھا کر 364 ارب روپے کردی ہے جبکہ وفاقی حکومت نے مالی سال 2023 – 24 میں بے نظیر انکم اسپورٹ پروگرام کی مختص رقم میں اضافہ کیا ہے، 2021-22 میں یہ رقم 250 ارب روپے تھی جو اب بڑھا کر 364 ارب روپے کردی گئی ہے۔ نئے بجٹ میں یوٹیلیٹی اسٹور کارپوریشن پر اشیا کی سبسڈی کے لئے 12 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں، اور 5 ارب روپے کی اضافی رقم رمضان پیکج کے طور پر رکھی گئی ہے۔

    نئے مالی سال میں بے نظیر انکم اسپورٹ پروگرام (BISP) کے تحت 90 لاکھ خاندانوں کو بے نظیر کفالت کیس ٹرانسفر پروگرام کی سہولت میسر ہوگی، جس کے لئے 266 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آئین کا تحفظ ہمارے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔ چیف جسٹس
    100 واں ڈے،پی سی بی نے بابر اعظم کی فتوحات کی فہرست جاری کر دی
    لندن میں نواز شریف کے نام پرنامعلوم افراد نے تین گاڑیاں رجسٹرکرالیں،لندن پولیس کی تحقیقات جاری
    بینگ سرچ انجن تمام صارفین کیلئے کھول دیا گیا
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    بے نظیر تعلیمی وظائف پروگرام کا دائرہ بھی ایک کروڑ بچوں تک بڑھایا جائے گا، جس کے لئے 35 ارب روپے سے زائد رقم رکھی گئی ہے۔ جب کہ 10 ہزار طلبا کو بے نظیر انڈر گریجویٹ اسکالر شپ دیا جائے گا، جس کے لئے 9 ارب روپے سے زائد رقم مختص کی گئی ہے۔ بے نظیر نشوونما پروگرام تمام اضلاع تک بڑھایا جائے گا، جس پر تقریباً 21 اعشاریہ 5 ارب روپے لاگت آئے گی، جب کہ 6 ارب روپے مستحق افراد کے علاج اور اماد کے لئے پاکستان بیت المال میں رکھے گئے ہیں۔

  • 2023-24 بجٹ؛ فری لانسرز کیلئے ٹیکس سہولتوں کا اعلان

    2023-24 بجٹ؛ فری لانسرز کیلئے ٹیکس سہولتوں کا اعلان

    مالی سال 2023-24 کے بجٹ میں فری لانسرز کیلئے ٹیکس سہولتوں کا اعلان

    وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے آئندہ مالی سال 2023-24 کے بجٹ میں فری لانسرز کیلئے ٹیکس سہولتوں کا اعلان کردیا ہے جبکہ وفاقی کابینہ سے منظوری کے بعد وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی میں مالی سال 2023-24 کا بجٹ پیش کیا گیا جبکہ وزیر خزانہ کا کہنا تھاکہ آئی ٹی اور آئی ٹی خدمات معیشت کے سب سے تیزی سے ترقی کرنے والے شعبے ہیں اور ان کا برآمدات میں نمایاں حصہ ہے، عالمی معیشت میں مسائل کی وجہ سے یہ شعبہ بھی مشکلات کا شکار ہوا پھر بھی ہمیں یقین ہے کہ یہ شعبہ آنے والے سالوں میں Engine of Growth ثابت ہو گا۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنا کاروبار کرنے والے فری لانسرز کے اعتبار سے دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے، ان کو در پیش مسائل کا حل اور عمومی طور پر اس شعبے کے مسائل کو حل کرنے کے لیے مندرجہ ذیل اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھاکہ آئی ٹی برآمدات کو بڑھانے کے لیے انکم ٹیکس 0.25 فیصد کی رعایتی شرح لاگو ہے اور یہ سہولت 30 جون 2026 تک جاری رکھی جائے گی، فری لانسرز کو ماہانہ سیلز ٹیکس گوشوارے جمع کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا تھا لہٰذا کاروباری ماحول میں آسانیاں پیدا کرنے کے لیے 24 ہزار ڈالر تک سالانہ کی برآمدات پر فری لانسرز کو سیلز ٹیکس رجسٹریشن اور گوشواروں سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔

    وزیر خزانہ کا کہنا تھاکہ اس کے علاوہ ان کے لیے ایک سادہ انکم ٹیکس ریٹرن کا اجرا کیا جارہا ہے، آئی ٹی خدمات فراہم کرنے والوں کو اجازت ہو گی کہ وہ اپنی برآمدات کے ایک فیصد کے برابر مالیت کے سافٹ وئیر اور ہارڈ وئیر بغیر کسی ٹیکس کے درآمد کر سکیں گے، ان درآمدات کی حد 50 ہزار ڈالرز سالانہ مقرر کی گئی ہے۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ آئی ٹی خدمات اور ایکسپورٹرز کے لیے آٹومیٹڈ ایگزیمشن سرٹیفکیٹ جاری کرنے کو یقینی بنایا جائے گا اور IT شعبہ کو ایس ایم ایز کا درجہ دیا جارہا ہے جس سے اس شعبے کو انکم ٹیکس ریٹس کا فائدہ ملے گا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آئین کا تحفظ ہمارے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔ چیف جسٹس
    100 واں ڈے،پی سی بی نے بابر اعظم کی فتوحات کی فہرست جاری کر دی
    لندن میں نواز شریف کے نام پرنامعلوم افراد نے تین گاڑیاں رجسٹرکرالیں،لندن پولیس کی تحقیقات جاری
    بینگ سرچ انجن تمام صارفین کیلئے کھول دیا گیا
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    ان کا کہنا تھاکہ اسلام آباد کی حدود میں آئی ٹی سروسز پر سیلز ٹیکس کی موجودہ شرح کو 15 فیصد سے کم کر کے 5 فیصد کی جارہی ہے، اس کے علاوہ IT کے شعبے میں قرضہ جات کی فراہمی کو ترغیب کے لیے بینکوں کو اس شعبے میں 20 فیصد کے رعایتی ٹیکس کا استفادہ حاصل ہوگا، اگلے مالی سال میں 50 ہزار آئی ٹی گریجویٹس کو فنی تربیت دی جائے گی۔

    دوسری جانب وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ 3 سال تک کنسٹرکشن اینٹرپرائز کی آمدنی پر 10 فیصد رعایت دی جائے گی۔ قومی اسمبلی میں وزیرخزانہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ تعمیراتی شعبے سے 40 سے زائد صنعتیں جڑی ہوئی ہیں، آئندہ 3 سال تک کنسٹرکشن اینٹرپرائز کی آمدنی پر 10 فیصد رعایت دی جائے گی، اور اس کا اطلاق یکم جولائی اور بعد میں شروع ہونے والے تعمیراتی منصوبوں پر ہوگا۔ جبکہ وزیرخزانہ نے یہ بھی بتایا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لئے 450ارب روپے مختص کئے جارہے ہیں، یوٹیلٹی اسٹورز کو 35 ارب روپے سے ٹارگٹڈ سبسڈی دی جائے گی۔

  • سرکاری ملازمین کی پنشن ،تنخواہ،اجرت میں اضافہ،پی ڈی ایم کا دوسرا بجٹ اسمبلی میں پیش

    سرکاری ملازمین کی پنشن ،تنخواہ،اجرت میں اضافہ،پی ڈی ایم کا دوسرا بجٹ اسمبلی میں پیش

    قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ میں خدائے بزرگ و برتر کا تہہ دل سے مشکور ہوں کہ مجھے اس معزز ایوان کے سامنے Coalition Government کا دوسرا بجٹ برائے مالی سال 24-2023 پیش کرنے کا اعزاز حاصل ہو رہا ہے۔ جناب اسپیکر !اس سے پہلے کہ میں مالی سال 24-2023 بجٹ کے اعداد و شمار اس معزز ایوان کے سامنے پیش کروں، میں آپ کی اجازت سے میاں محمد نواز شریف کی بطور وزیر اعظم حکومت 2013-17 اور تحریک انصاف کی نا اہل حکومت 22-2018 کا ایک تقابلی جائزہ آپ کے سامنےپیش کروں گا۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ آپ کو یاد ہوگا کہ مالی سال 17-2016 تک وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی قیادت میں پاکستان کی معیشت کی شرح نمو 6.1 فیصد پر پہنچ چکی تھی۔ افراط زر کی شرح 4 فیصد تھی۔ کھانے پینے کی اشیاء کی مہنگائی میں سالانہ اوسطاً اضافہ صرف 2 فیصد تھا۔ پالیسی ریٹ 5.5 فیصد اور فیصد اور سٹاک ایکسچینج ساؤتھ ایشیاء میں نمبر 1 اور پوری دنیا میں پانچویں نمبر پر تھی۔ پاکستان خوشحالی اور معاشی ترقی کی جانب گامزن تھا اور دنیا پاکستان کی ترقی و خوشحالی کی معترف تھی۔ گلوبل ادارہ (Price Waterhouse Coopers (PWC کی projection کے مطابق سال 2030 تک پاکستان 2010-G کا رکن بننے یعنی دنیا کی 20 سب سے بڑی معیشتوں میں شامل ہونے جا رہا تھا۔ پاکستانی روپیہ مستحکم اور زرمبادلہ کے ذخائر 24 ارب ڈالر کا بلند ترین تاریخی ریکارڈ قائم کر چکے تھے۔

    اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں بجلی کی کمی کو پورا کرنے کے نئے منصوبے مکمل کیے گئے۔اس سے ملک میں 12 سے 16 گھنٹے کی روزانہ لوڈ شیڈنگ سے نجات حاصل ہوئی اور ملک کی معاشی ترقی میں ایک بڑی رکاوٹ کو دور کیا گیا۔ اس کے علاوہ انفراسٹرکچر کے شعبے ، ہائی ویز کی تعمیر ، Mass Transit Systems ، روزگار کی فراہمی کے مواقع اور آسان قرضوں کی فراہمی جیسے عوام دوست منصوبوں کی تکمیل کی گئی تھی۔ یہ ایک خوشحالی، استحکام اور ترقی کا دور تھا۔ یاد رہے کہ مالی سال 18-2017 میں وفاقی ترقیاتی بجٹ کا ہدف پہلی دفعہ 1001 ارب روپے رکھا گیا تھا جو آج تک دوبارہ نہیں رکھا جاسکا۔ ضرب عضب اور ردالفساد آپریشنز اور افواج پاکستان کی قربانیوں کے مرہون منت ملک بھر میں دہشت گردی کے ناسور پر قابو پا کر اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکا تھا۔ پاکستان میں امن وامان اور سیاسی استحکام تھا۔

    بجٹ تقریر میں وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ جناب اسپیکر! ان حالات میں آنا فانا منتخب جمہوری حکومت کے خلاف سازشوں کے جال بچھا دیئے گئے۔ جس کے نتیجے میں اگست 2018 میں ایک Selected حکومت وجود میں آئی۔ اس Selected حکومت کی معاشی ناکامیوں پر اتنا ہی کہنا کافی ہے کہ جو ملک 2017 میں دنیا کی 24 ویں بڑی معیشت بن چکا تھا وہ 2022 میں گر کر 47 ویں نمبر پر آ گیا۔ جناب اسپیکر ! آج پاکستان معاشی تاریخ کے مشکل ترین مرحلے سے گزر رہا ہے۔ میں انتہائی وثوق سے کہنا چاہوں گا کہ آج کی خراب معاشی صورت حال کی اصل ذمہ دار پاکستان تحریک انصاف کی سابقہ حکومت ہے۔ موجودہ حالات پچھلی حکومت کی معاشی بد انتظامی، بدعنوانی، عناد پسندی اور اقربا پروری کا شاخسانہ ہیں۔ لہذا یہ مناسب ہوگا کہ میں مالی سال 22-2021 تک کی معاشی صورتحال کا ایک جائزہ اس معزز ایوان کے سامنے رکھوں۔ جناب اسپیکر ! 4 پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی غلط معاشی حکمت عملی کے باعث کرنٹ اکاؤنٹ کا خسارہ 17.5 ارب ڈالر تک پہنچ گیا اور زر مبادلہ کے ذخائر تیزی سے گر رہے تھے۔ IMF پروگرام کی تکمیل پاکستان کے لیے انتہائی اہم تھی۔ لیکن PTI حکومت نے اس نازک صورتحال میں حالات کو جان بوجھ کر خراب کیا۔ پیٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں سبسڈی کے ذریعے کمی کردی۔ ایسے اقدامات اٹھائے جو کہ IMF کی شرائط کی صریحاً خلاف ورزی تھی۔ یہاں تک کہ اس ضمن میں آپ کو یاد ہو گا کہ سابقہ حکومت کے وزیر خزانہ نے فون کر کے دو صوبائی وزرائے خزانہ پر شدید دباؤ ڈالا کہ وہ اپنا قومی فریضہ انجام نہ دیتے ہوئے IMF کے پروگرام کو سبوتاژکریں۔

    اسحاق ڈار نے کہا کہ یہ اقدامات نئی حکومت کے لیے بارودی سرنگیں بچھانے کے مترادف تھے۔ ان اقدامات نے نہ صرف مالی خسارے میں اضافہ کیا بلکہ حکومت پاکستان اور IMF کے تعلقات کو شدید نقصان پہنچایا۔ اس پر ستم ظریفی یہ کہ PTI نے تمام حالات کی ذمہ داری نئی حکومت پر ڈالنے کی کوشش کی۔ یہ کوشش محض چور مچائے شور کے مترادف تھی۔ ان کو یقین تھا کہ معاشی حالات اتنے خراب ہو جائیں گے کہ کوئی پاکستان کو ڈیفالٹ سے نہیں بچا سکے گا۔ لہذا وہ حقائق کو مسخ کر کے ان کی ذمہ داری آنے والی حکومت پر ڈالنا چاہتے تھے۔ یہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ طرز عمل تھا۔ کسی محب وطن، سیاسی جماعت کو اس طرح کا طرز عمل زیب نہیں دیتا۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور وزیراعظم شہباز شریف اور اتحادی جماعتوں کے بھر پور تعاون سے ایسے معاشی فیصلے کیے جارہے ہیں جن کی وجہ سے ان ملک دشمن لوگوں کے عزائم پورے نہیں ہو پار ہے۔ خدائے بزرگ و برتر نے نہ صرف پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچایا بلکہ ان سازشی عناصر کو عوام کے سامنے بے نقاب کیا۔

    اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت کی معاشی حکمت عملی کی ناکامی کا سب سے بڑا ثبوت ان کے دور میں مالی خسارے کا خطرناک حد تک بڑھنا تھا۔ مالی سال 22-2021 کا خسارہ GDP کے 7.9 فیصد کے برابر جبکہ Primary Deficit جی ڈی پی کے 3.1 فیصد تک پہنچ چکا تھا۔ موجودہ اتحادی حکومت نے اقتدار میں آتے ہی IMF پروگرام کو بحال کرنے کی کوشش کی۔ حکومت کو اُس وقت بھی علم تھا کہ پاکستان کو معاشی بحالی کے لیے انتہائی تکلیف دہ اقدامات کرنے پڑیں گے جس کی وجہ سے عوام کو مہنگائی اور غربت میں اضافے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ روپے کی قدر میں کمی اور Interest Rate میں تیزی سے اضافے کے نتیجے میں معاشی مشکلات میں اضافہ ہوا۔ حکومت نے “سیاست نہیں ریاست بچاؤ پالیسی پر عمل کیا۔ اپنی سیاسی ساکھ کی قربانی دے کر معیشت کی بحالی کو ترجیح دی۔

    وزیر خزانہ نے کہا کہ جناب اسپیکر !-6 جون 2018 میں پاکستان کا Public Debt تقریباً 25 ٹریلین روپے تھا۔ PTI کی معاشی بدانتظامی اور بلند ترین بجٹ خساروں کی وجہ سے یہ قرض مالی سال 22-2021 تک 49 ٹریلین روپے تک پہنچ چکا تھا۔ اس طرح پچھلے چار سالہ دور میں اتنا قرض لیا گیا جو 1947 سے 2018 تک یعنی 71 سال میں لیے گئے قرض کا 96 فیصد تھا۔ اس طرح Public Debt and Liabilities اس عرصہ میں 100 فیصد سے بڑھ کر 30 ٹریلین سے 60 ٹریلین روپے پر پہنچ گیا۔ جون 2018 میں External Debt and Liabilities 95 ارب ڈالر تھیں۔ جون 2022 تک یہ 130 ارب ڈالر تک پہنچ چکی تھیں۔ قرضوں کے مجموعی حجم میں اس قدر اضافے کی وجہ سے حکومت پاکستان کے Interest Expenditure میں بے پناہ اضافہ ہوا اور نتیجتاً پاکستان کی معیشت Debt Servicing کی وجہ سے بہت زیادہ Vulnerable ہوگئی۔ جناب اسپیکر ! پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو 2013 میں 503 ارب روپے کا گردشی قرضہ ورثے میں ملا جو کہ مالی سال 2018 تک بڑھ کر 1148 ارب روپے پر پہنچ گیا۔ یعنی 5 سالوں میں گردشی قرضوں میں 645 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔ یعنی 129 ارب سالانہ بڑھا۔ جبکہ پی ٹی آئی حکومت کے غیر سنجیدہ رویوں اور بدنظمی کی وجہ سے توانائی کا شعبہ شدید بحران کا شکار ہوا۔ پی ٹی آئی کے 4 سالہ دور حکومت میں گردشی قرضوں میں 1319 ارب روپے کا اضافہ کے ساتھ یہ 1148 ارب سے بڑھ کر 2467 ارب روپے پر پہنچ گیا۔ یعنی سالانہ 329 ارب روپے بڑھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ جناب اسپیکر !-8 بجٹ خسارہ پاکستان کے معاشی مسائل میں کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ PTI حکومت ٹیکس وصولی کے نظام میں بہتری لانے میں یکسر ناکام رہی جبکہ اخراجات میں بے پناہ اضافہ کر دیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ PTI کے چار سالہ دور میں GDP کے تناسب سے اوسط بجٹ خسارہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پانچ سالہ دور سے تقریباً دو گنا تھا۔ صورتحال کی سنگینی کا اندازہ کرتے ہوئے موجودہ حکومت نے خسارے کو کم کرنے کے لیے کفایت شعاری سے کام لیا۔ Austerity Measures لیے گئے، Untargeted Subsidies کو بہت حد تک ختم کیا گیا اور Grants کی مد میں پچھلے سال کے مقابلے میں اخراجات میں کمی کی گئی۔ ان اقدامات کے نتیجے میں بجٹ خسارہ پچھلے مالی سال میں GDP کے 7.9 فیصد سے کم ہوکر رواں مالی سال میں GDP کا 7.0 فیصد ہو گیا ہے۔ اس طرح بجٹ خسارے میں ایک سال میں GDP کے تقریباً 1 فیصد کے برابر کمی لائی گئی۔ یاد رہے کہ خسارے میں یہ کمی Interest Expenditure میں ہوش ربا اضافے کے باوجود کی گئی جبکہ Primary Deficit کو صرف ایک سال کی مدت میں GDP کے 3.1 فیصد سے کم کر کے 0.5 فیصد پر لایا گیا۔ یعنی 2.6 فیصد کے برابر کمی ہوئی۔

    اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ جناب اسپیکر ! یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ آج کی معاشی صورتحال اور عام آدمی کے لیے مشکلات PTI حکومت کی غلط معاشی پالیسیوں، بدعنوانیوں اور ناکامیوں کا نتیجہ ہے۔ مجھے امید ہے کہ پاکستان کی عوام اس بات سے پوری طرح آگاہ ہو چکے ہیں کہ موجودہ معاشی مشکلات اور مہنگائی کی مکمل ذمہ دار گزشتہ حکومت ہے۔ ماضی کی Selected حکومت نے اپنے سیاسی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دیتے ہوئے ملک کی معیشت کو شدید نقصان سے دوچار کیا۔ وزیر اعظم شہباز شریف کی دور اندیش قیادت میں حکومت نے مشکل ترین حالات میں حکومت کی باگ دوڑ سنبھالی۔ حکومت نے اپنے سیاسی نقصانات کی پرواہ کیے بغیر ملک کو ڈیفالٹ سے بچایا۔ میری گزارش ہے کہ پاکستان کی عوام یہ پہچان لے کہ کس نے ملک کو بچانے کی کوشش کی اور کون پاکستان کی تباہی کا باعث بنتا رہا۔جناب اسپیکر ! اس ضمن میں 9 مئی کو رونما ہونے والے المناک، شرمناک، ملک دشمن واقعات کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ سیاسی جماعت کا لبادہ اوڑھے مسلح دہشت گرد جتھوں نے پاکستان کی سالمیت ، ساکھ اور قومی وقار کو مجروح کرنے کی گھناؤنی اور منظم سازش کی ۔ پاک افواج کے شہداء کی قربانیوں کو یکسر نظر انداز کیا اور اُن کی یادگاروں کی بے حرمتی کا جرم کیا ملکی تاریخ میں پہلی دفعہ دفاعی تنصیبات کو بربریت کا نشانہ بنایا گیا۔ ایسے ملک دشمن عناصر اپنی ناپاک حرکتوں کی وجہ سے خود ہی بے نقاب ہو چکے ہیں۔ یہ گروہ کسی صورت بھی نرمی اور رحم دلی کے حقدار نہیں۔ ایسے تمام عناصر کو پاکستان کے قوانین کے مطابق سخت سے سخت سزائیں دی جانی چاہیں تاکہ آئندہ کسی کو بھی ایسے ناپاک عزائم کے ساتھ ملک دشمن سرگرمیوں میں حصہ لینے کی جرات نہ ہو۔

    ان کا کہنا تھا کہ جناب اسپیکر ! ملکی معیشت کو پچھلے ایک سال کے دوران کئی اندرونی اور بیرونی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔ پچھلے سال پاکستان کی عوام خاص طور پر صوبہ سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کے عوام کو سیلاب کی ناگہانی آفت کا سامنا کرنا پڑا۔ سیلاب کی وجہ سے ملکی املاک اور معاشی نقصانات کا تخمینہ 30 ارب ڈالر سے زیادہ کا ہے۔ سیلاب سے متاثرہ عوام کی بحالی اور آبادکاری کے لیے وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں نے بھر پور طریقے سے حصہ لیا۔مزید برآں اقوام متحدہ کے ادارے FAO کے تخمینے کے مطابق سال 2021 کے مقابلے میں سال 2022 کے دوران مبین الاقوامی سطح پر خوراک کی قیمتوں میں 14.3 فیصد کا اضافہ ہوا۔ پاکستان تیل، گندم، دالیں خوردنی تیل اور کھاد درآمد کرنے والے ممالک میں شامل ہے جس کی ہمیں زرمبادلہ میں ادا ئیگی کرنا پڑتی ہے اور یہ مہنگائی میں اضافے کا باعث بنا۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی صورتحال جس میں یوکرین کی جنگ، عالمی سطح پر تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ اور مغربی ممالک میں شرح سود میں اضافہ نے ملک کی معاشی مشکلات میں مزید اضافہ کیا ۔ پاکستان کی معیشت کا دوسرا بڑا مسئلہ (Current Account Deficit (CAD ہے۔ PTI حکومت کی وجہ سے مالی سال 22-2021 میں CAD 17.5 ارب ڈالر ہو گیا تھا۔ موجودہ حکومت کے بروقت اقدامات سے CAD میں تقریباً 77 فیصد کمی آئی۔ انشاء اللہ مالی سال 2022-23 کے اختتام پر یہ خسارہ کم ہو کے تقریباً 4 ارب ڈالر رہ جائے گا۔ اسی طرح تجارتی خسارہ جو کہ سال 22-2021 میں 48 ارب ڈالر تھا، مالی سال 23-2022 میں تقریباً 26 ارب ڈالر متوقع ہے۔ اس طرح ایک سال میں تجارتی خسارے میں تقریباً 22 ارب ڈالر کی کمی لائی گئی ہے۔ CAD اور تجارتی خسارے میں کمی لاتے ہوئے حکومت نے حتی الامکان کوشش کی ہے کہ صرف Luxury Goods اور دیگر غیر ضروری درآمدات کو روکا جائے تاکہ ملک کی معاشی پیداواری صلاحیت میں کم سے کم منفی اثرات مرتب ہوں۔

    وزیر خزانہ نے کہا کہ ان کا کہنا تھا کہ جناب اسپیکر موجودہ مخلوط حکومت کے مشکل فیصلوں کی وجہ سے الحمد للہ ملک ڈیفالٹ سے بچ گیا ہے اور زرمبادلہ کے ذخائر میں گراوٹ کو کم کیا گیا ہے۔ حکومت نے IMF پروگرام کے نویں جائزے کی تمام شرائط کو پورا کرلیا ہے۔ IMF پروگرام حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ اسی لیے حکومت با قاعدگی سے IMF کے ساتھ مذاکرات کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ ہماری حتی المقدور کوشش ہے کہ جلد سے جلد SLA پر دستخط ہو جائیں اور پروگرام کا نواں جائزہ رواں ماہ میں مکمل ہو جائے۔جناب اسپیکر !14۔ حکومت کو عوام کی مشکلات کا اندازہ ہے اور اس کی ہر ممکن کوشش ہے کہ عوام کو ریلیف دینے کے زیادہ سے زیادہ اقدامات کیے جائیں۔ تا کہ عوام کو مہنگائی کے اثرات سے بچایا جاسکے۔ مہنگائی کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے چند ماہ پہلے BISP کے تحت دیئے جانے والے کیش ٹرانسفر کی شرح میں 25 فیصد اضافہ کیا اور بجٹ کو 360 ارب سے بڑھا کر 400 ارب روپے کر دیا۔ اس کا اطلاق یکم جنوری 2023 سے ہو چکا ہے۔پنجاب اور خیبر پختونخواہ میں مفت آٹے کی تقسیم کی گئی۔ اس کے علاوہ وفاقی حکومت کی طرف سے یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کے ذریعے عوام کو سستی اشیاء کی فراہمی کے لیے 26 ارب روپے کی سبسڈی دی گئی۔پچھلے ایک ماہ میں حکومت نے دو مرتبہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی۔ نتیجتاً پیٹرول کی قیمت میں 20 روپے، ڈیزل کی قیمت میں 35 روپے اور لائٹ ڈیزل کی قیمت میں 17 روپے کمی کی گئی۔ امید ہے اس کے نتیجے میں مہنگائی میں کمی آئے گی۔

    انہوں نے کہا کہ جولائی 2022 سے اب تک حکومت ماضی کے تقریباً 12 ارب ڈالر کے بین الاقوامی قرضہ جات کی ادائیگی کر چکی ہے اور تمام تر بیرونی ادائیگیاں بروقت ہو رہی ہیں۔ اس کے باوجود ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 9 ارب 34 کروڑ ڈالر ہیں۔ حکومت نے دوست ممالک اور ڈویلپمنٹ پارٹنرز (Development partners) کے ساتھ بھی بہتر تعلقات قائم کرنے کیلئے اقدامات اٹھائے ہیں جو کہ پچھلے چند سالوں میں تنزلی کا شکار ہو گئے تھے۔ اس سے معاشی بحالی میں مدد ملے گی۔ حکومت نے غیر ملکی زرمبادلہ کی غیر قانونی ترسیل کو ختم کرنے کیلئے بھی انتظامی اقدامات اٹھائے ہیں جس کے مثبت نتائج ظاہر ہو رہے ہیں۔ جناب اسپیکر ! موجودہ حکومت نے زرعی شعبے پر سیلاب کے تباہ کن اثرات اور مجموعی مشکلات کو دور کرنے کے لیے 2 ہزار ارب روپے سے زائد کا کسان پیکیج دیا۔ مجھے خوشی ہے کہ اس پیکیج کے معیشت پر مثبت اثرات آئے ہیں۔ سیلاب کی تباہ کاریوں کے باوجود زرعی شعبہ میں 1.5 فیصد کی گروتھ ہوئی ہے۔ گندم کی Bumper Crop کی وجہ سے 28 ملین ٹن سے زائد پیداوار ہوئی ہے اور کسان کی آمدن میں اضافہ ہوا ہے۔ ہماری دیہی معیشت میں 1500 سے 2000 ارب روپے اضافی منتقل ہوئے۔ اس سے ملک کی مجموعی معیشت پر مثبت اثر پڑے گا۔ بجٹ 24-2023 کے ذریعے حکومت زرعی شعبے کے لیے مراعات کو جاری رکھنے کا ارادہ رکھتی ہے جس کی تفصیل آگے چل کر پیش کی جائے گی۔ امید ہے کہ یہ اقدامات ملک میں فوڈ سیکورٹی کے حوالے سے اہم کردار ادا کریں گے۔ ا جناب اسپیکر ! رواں مالی سال کے دوران سیلاب سے متاثرہ علاقے ملکی معیشت میں اپنا کردار ادا نہ کرسکے ۔حکومت نے ان علاقوں میں بحالی کا کام مکمل کر لیا ہے۔ تعمیر نو کے لیے حکومت نے 578 ارب روپے کے منصوبوں پر کام کا آغاز کر دیا ہے اور انشاء اللہ اگلے مالی سال سے یہ علاقے معیشت میں دوباہر اپنا فعال کر دیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ رواں مالی سال میں اندرونی اور بیرونی مشکلات کی وجہ سے LSM سیکٹر میں منفی گروتھ کا رحجان رہا، اس کی بڑی وجہ زر مبادلہ کی کمی تھی، جس کی وجہ سے خام مال کی دستیابی میں مشکلات پیدا ہوئیں، ان حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے خام مال کو ترجیحی بنیاد پر ایل کھولنے کی اجازت دیدی گئی ہے۔ حکومت اگلے مالی سال میں اس ان رحجان کو ریورس کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، وزیراعظم شہبازشریف کی حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ صنعتی شعبے پر اگلے سال کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جائے گا، اسی طرح یہ عالمی منڈیوں میں قیمتوں میں گراوٹ، ترقی یافتہ ممالک میں’ انوینٹری بلڈ اپ’ میں کمی اور ملک میں خام مال کی بہتر دستیابی کی وجہ سے بھی ایل ایس ایم میں بہتری آئے گی۔

    وزیر خزانہ نے کہا کہ مندرجہ بالا اقدامات کے نتیجے میں ملکی معیشت میں ایک Vulnerableصورتحال سے نکل کر استحکام کی طرف آ رہی ہے، بجٹ مالی سال 2023-2024ء کے ذریعے ملک استحکام سے ترقی کی جانب گامزن ہوگا۔ انشاء اللہ انہوں نے کہا کہ جناب سپیکر اب میں آپ کو بجٹ مالی سال 2023-2024ء کو عمومی سمت کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں، معیشت میں بہتری کی سمت کے باوجود ابھی بھی معیشت کو چیلنجز کا سامنا ہے، ان حالات کے مد نظر ہم نے اگلے مالی سال کے لیے ترقی کا ہدف صرف 3.5 فیصد رکھا ہے، جو کہ ایک Modest targetہے، جلد ہی ملک جنرل الیکشنز کی طرف جانے والا ہے، اس کے باوجود اگلے مالی سال کے بجٹ کو ایک الیکشن بجٹ کی بجائے ایک ذمہ دارانہ بجٹ کے طور پر ترتیب دیا گیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ہم نے بھر پور مشاورت کے بعد اُن Elements of real economy کومنتخب کیا ہے۔ جن کی بدولت ملک کم سے کم مدت میں ترقی کی راہ پر دوبارہ گامزن ہوسکتا ہے۔بجٹ تجاویز میں ہمارے ترجیحی Drivers of Growth مندرجہ ذیل ہیں، زراعت کا شعبہ ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگلے مالی سال میں اس شعبے کے لیے مندرجہ ذیل اقدامات کرنے کی تجاویز ہیں:زرعی قرضوں کی حد کو رواں مالی سال میں 1800 ارب سے بڑھا کر 2250 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔ بجلی / ڈیزل کے بل کسان کے سب سے بڑے اخراجات میں شامل ہیں اگلے مالی سال میں 50,000 زرعی ٹیوب ویلز کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے لیے 30 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ معیاری بیج ہی اچھی فصل کی بنیاد ہے ملک میں معیاری بیجوں کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے ان کی درآمد پر تمام ٹیکسز اور ڈیوٹیز ختم کی جا رہی ہیں۔ اسی طرح Sapplings کی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی ختم کی جارہی ہے۔ موسمی تبدیلی کی وجہ سے وجہ سے Harvesting کی مدت کم سے کم ہوتی جارہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اگر کسان نے تیسری فصل بھی اُٹھانی ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ پکی ہوئی فصل کو جلد سے جلد سنبھالا جائے۔ اس کے لیے Combine Harvesters کی ضرورت ہے۔

    بجٹ تقریر کے دوران اسحاق ڈار نے کہا کہ Combine Harvester کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے یہ تجویز ہے کہ ان پر تمام ڈیوٹی و ٹیکسز سے استثنیٰ دیا جائے۔ چاول کی پیداوار بڑھانے کے لیے Rice Planters, Seeder اور Dryers کو بھی ڈیوٹی و ٹیکسز سے استثنیٰ کی تجویز ہے۔ Agro Industry دیہی معیشت میں انقلاب لانے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔ بجٹ میں Agro Industry کو Concessional قرض کی فراہمی کے لیے 5 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔ زرعی اجناس کی اصل Value Addition اُن کی Processing میں ہے اس سے اجناس بالخصوص پھل اور سبزیوں کے ضائع ہونے کا احتمال بھی کم کیا جاسکتا ہے۔ اسکے علاوہ Food Processing Units روزگار کے مواقع بھی فراہم کرتے ہیں۔ اس تناظر میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ دیہی علاقوں میں لگائی جانے والے Agro-based Industrial Units جن کا سالانہ Turnover 80 کروڑ روپے تک ہوگا ان کو تمام ٹیکسز سے 5 سال کے لیے مکمل استثنیٰ حاصل ہوگا۔ PM’s Youth, Business and Agriculture Loan Scheme کے تحت چھوٹے اور درمیانی درجے کے آسان قرضوں کو جاری رکھا جائے گا اور اس مقصد کے لیے اگلے مالی سال میںمارک اپ سبسڈی کے لیے 10 ارب روپےفراہم کیے جائیں گے۔

    انضمام شدہ اضلاح کیلئے بجٹ میں خصوصی ترقیاتی منصوبے شامل کرنے کا فیصلہ

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    بجٹ 2023-24 میں وزیر اعظم پیکج کے تحت 80 ارب کے منصوبے

     وفاقی بجٹ میں نئے انتخابات کیلئے بھی رقم

    پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے حوالے سے بجٹ تجاویز 

    وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے بجٹ تقریر میں بتایا کہ سرکاری ملازمین کی پنشن میں اضافہ کیا جارہا ہے، سرکاری ملازمین کی کم سے کم پنشن 10 ہزار سے بڑھا کر 12 ہزار کی جارہی ہے، وفاقی حدود میں کم سے کم اجرت 32 ہزار روپے کی جارہی ہے، صوبے اس حوالے سے اپنا فیصلہ کریں گے۔ ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹ انسٹیوٹیوٹ (ای او بی آئی) کے ذریعے پنشن حاصل کرنے والے پنشنرز کی کم سے کم پنشن کو 8500 روپے سے بڑھا کر 10ہزار روپے کرنے کی تجویز ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ مقروض افراد کی بیواؤں کے 10لاکھ روپے کے قرضے حکومت ادا کرے گی، قومی بچت کے شہداء اکاؤنٹ میں ڈپازٹ کی حد 50لاکھ روپے سے بڑھا کر 75 لاکھ روپے کی جارہی ہے۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے بجٹ کو 360 ارب روپے سے بڑھا کر 400ارب کردیا ہے۔

  • مبینہ جعلی پائلٹ لائسنس بارے سفارشات پر بحث مکمل

    مبینہ جعلی پائلٹ لائسنس بارے سفارشات پر بحث مکمل

    سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے ہوابازی نے مبینہ جعلی پائلٹ لائسنسوں کے بارے میں سفارشات پر بحث مکمل کر لی

    سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے ہوا بازی نے مبینہ جعلی پائلٹ لائسنس معاملہ پر اپنی کارروائی مکمل کر لی ہے جبکہ اس کا مقصد جائزہ لینا اور تجزیہ کرنا تھا جس میں ہوابازی کے شعبے کی سالمیت کو برقرار رکھنے اور متاثرہ پائلٹس کے مستقبل کی حفاظت کی جاسکے.

    سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) کے ڈائریکٹر جنرل نے اس بات کا اعادہ کیا کہ سی اے اے کے پاس انتظامی اختیارات ہیں اور وہ کسی مجرمانہ کارروائی میں ملوث نہیں ہے۔ جبکہ کابینہ ڈویژن اور سپریم کورٹ کی ہدایات کے بعد سی اے اے نے مناسب کارروائی شروع کرنے کے لیے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کو خط لکھا علاوہ ازیں ڈائریکٹر جنرل نے منسوخ شدہ لائسنسوں کے لیے وقت کی حد مقرر کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سی اے اے فی الحال اپنے قوانین میں ترمیم کر رہا ہے، اور منظوری کے لیے ایک سمری کابینہ کو پیش کی جائے گی۔

    تاہم اس موقع پر انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ پائلٹس کے لائسنس کابینہ ڈویژن نے منسوخ کیے ہیں نہ کہ سی اے اے نے لہذا جن پائلٹس کے خلاف ایف آئی آر درج نہیں انہیں کلیئر کر دیا جائے گا۔ جبکہ سینیٹر مانڈوی والا نے متاثرہ پائلٹس کے تحفظ کے لیے فوری حل کی ضرورت پر زور دیا کیونکہ ان کا مستقبل داؤ پر ہے۔ علاوہ ازیں انہوں نے روشنی ڈالی کہ عدالت اس معاملے کے فوری حل پر زور دیتے ہوئے کمیٹی کے نتائج اور رپورٹ کا انتظار کر رہی اور اس معاملے سے ملک کی ساکھ پر پڑنے والے منفی اثرات تشویش ناک ہیں.

    اس موقع پر ایف آئی اے کے نمائندے نے بتایا کہ ملزم لائسنس ہولڈرز کے خلاف مقدمات واپس نہیں لے جاسکتے تاہم سینیٹر مانڈوی والا نے بے گناہ لائسنس ہولڈرز کو ریلیف دینے کا مطالبہ کیا. رکن قومی اسمبلی نذیر نے نشاندہی کی کہ بغیر لائسنس کے طالب علم پائلٹ جنہوں نے ابھی تک پرواز نہیں اڑائی اس تنازعہ میں الجھے ہوئے ہیں۔ جبکہ کمیٹی نے منصفانہ تشخیص کے لیے اسٹوڈنٹ پائلٹس کے کیس کو مبینہ جعلی لائسنس ہولڈرز سے الگ کرنے کی سفارش کی۔

    جس کے بعد غور خوص کیا گیا اور کمیٹی نے کچھ تجاویز پیش کیں جس میں ایف آئی اے کو چاہیے کہ وہ پائلٹس کے خلاف درج ایف آئی آرز میں اضافی/حتمی الزامات پیش کرے اور عدالت کو مطلع کرے کہ پائلٹس کی جانب سے کوئی مجرمانہ غلطی نہیں پائی گئی۔ تاہم، ایف آئی اے کو بھیجی گئی شکایت میں مذکورہ سی اے اے ملازمین کے خلاف ایف آئی آر برقرار رکھی جانی چاہیے، جو مناسب سمجھے جانے پر قانونی کارروائی کا سامنا کر سکتے ہیں۔

    اس کے علاوہ تجاویز میں یہ بھی کہا گیا ایئر لائن ٹرانسپورٹ پائلٹ لائسنس (ATPL) اور کمرشل پائلٹ لائسنس (CPL) کے حامل پائلٹس کو اپنے لائسنس کے امتحانات کے دوران دھوکہ دہی کی سرگرمیوں کے الزامات کے باعث دوبارہ جانچ پڑتال سے گزرنا چاہئے۔ جبکہ ایک سال کے اندر دوبارہ امتحان کے عمل کی تعمیل کرنے میں ناکامی کے نتیجے میں ان کے لائسنس منسوخ کیے جائیں.

    تیسری تجویز یہ کہ سی پی ایل اور پرائیویٹ پائلٹ لائسنس کے حامل پائلٹس جن پر اعلیٰ لائسنسوں کے لیے امتحانات میں دھوکہ دہی کا الزام لگایا گیا ہے، ان کے نچلے لائسنس جاری کیے جائیں اور ایف آئی آر سے ان کے نام ہٹانے کے بعد انہیں مکمل طور پر فعال کیا جائے. چوتھی اور آخری تجویز یہ تھی کہ ایوی ایشن کی ذیلی کمیٹی عوامی اعتماد کو بحال کرنے، ہوا بازی کے شعبے کی ساکھ کے تحفظ اور مسافروں سمیت عملے کے ارکان کے مفادات کے تحفظ کے اپنے عزم پر ثابت قدم رہے۔ علاوہ ازیں کہا گیا کہ کمیٹی نے فرضی پائلٹس کے لائسنس کے مسئلے کو حل کرنے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات پر عمل درآمد کے لیے تندہی سے کام کیا۔

  • ای او بی آئی کی پنشن میں بھی اضافہ

    ای او بی آئی کی پنشن میں بھی اضافہ

    وفاقی کابینہ نے ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹس انسٹی ٹیوشن (ای او بی آئی) کی کم سے کم پنشن 8500 سے بڑھا دی۔وفاقی کابینہ کے اجلاس میں آئندہ مالی سال کے بجٹ کی منظوری دی گئی اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن میں اضافے کا بھی حتمی فیصلہ کیا گیا۔ وفاقی کابینہ نے سرکاری ملازمیں کیلئے 30 فیصد ایڈہاک کی منظوری دے دی ہے جبکہ اسی طرح مکمل بجٹ کی بھی کابینہ نے منظوری دے دی گئی جسے پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا، خیال رہے کہ بجٹ کا مجموعی حجم 144 کھرب 60 ارب مختص جبکہ خسارہ 75 کھرب 73 ارب ہوگا.

    اس نئے مالی سال کا 14 ہزار 460 ارب روپے کا بجٹ آج قومی اسمبلی میں پیش کیا جائےگا جبکہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار بجٹ تجاویز ایوان میں پیش کریں گے۔ بجٹ دستاویز کے مطابق وفاقی بجٹ 24-2023 کا مجموعی حجم 14 ہزار 460 ارب روپے مختص کیا گیا ہے۔ بجٹ دستاویز کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کا ٹیکس وصولی کا ہدف 92 کھرب روپے مقرر کیا گیا ہے جس میں سے براہ راست ٹیکس وصولی کا حجم 37 کھرب 59 ارب روپے ہوگا جبکہ بلواسطہ ٹیکسز کا حجم 54 کھرب 41 ارب روپے ہوگا۔ اس کے علاوہ غیر ٹیکس شدہ آمدنی 29 کھرب 63 ارب روپے ہوگی۔

    بجٹ دستاویز کے مطابق آئندہ مالی سال حکومت کی مجموعی آمدن 121 کھرب 63 ارب روپے ہوگی، وفاقی محاصل 25 کھرب 31 ارب روپے ہوں گے، صوبوں سے 6 کھرب 50 ارب روپے کا سرپلس بجٹ ملے گا، اداروں کی نجکاری سے 15 ارب روپے کی آمدن ہوگی اور آئندہ مالی سال بجٹ خسارہ 75 کھرب 73 ارب روپے ہوگا۔ بجٹ دستاویز کے مطابق دفاعی بجٹ 18 کھرب 4 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے۔

    وفاقی ترقیاتی بجٹ کا حجم 11 کھرب 50 ارب روپے رکھے جانے کا امکان ہے جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 31فیصد زیادہ ہوگا، اس میں پارلیمنٹیرینز کی تجویز کردہ اسکیموں کے لیے 90 ارب روپے مختص کیے جا رہے ہیں۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس آمدن کا تقریباً 80 فیصد قرض اور سود کی ادائیگیوں میں چلا جائے گا، قرض اور سود کی ادائیگیوں کے لیے 7300 ارب روپے روکھے جانے کی تجویز ہے، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کےلیے 430 ارب، 1300 ارب کی سبسڈی اور دفاع کےلیے 1800 ارب مختص کیے جانے کاامکان ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آئین کا تحفظ ہمارے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔ چیف جسٹس
    100 واں ڈے،پی سی بی نے بابر اعظم کی فتوحات کی فہرست جاری کر دی
    لندن میں نواز شریف کے نام پرنامعلوم افراد نے تین گاڑیاں رجسٹرکرالیں،لندن پولیس کی تحقیقات جاری
    بینگ سرچ انجن تمام صارفین کیلئے کھول دیا گیا
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی

    صوبائی ترقیاتی بجٹ کا حجم 1350 ارب روپے ہونے کاا مکان ہے، سندھ کا ترقیاتی بجٹ 40 فیصد اضافے سے 617 ارب روپے تجویز کیا گیا ہے جب کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کا عبوری بجٹ 4 ماہ کے لیے تجویز کیا جا رہا ہے۔ پنجاب کا ترقیاتی بجٹ 426ارب روپے اور خیبر پختونخوا کا268 ارب روپے تجویز کیا جا رہا ہے، بلوچستان کا ترقیاتی 248 ارب روپے تجویز کیاجائے گاجوکہ موجودہ سال کی نسبت 65 فیصد زیادہ ہے۔ بجٹ میں درآمدات کا ہدف 58.70 ارب ڈالر اور برآمدات کا حجم 30 ارب ڈالر مختص کیا جارہا ہے جب کہ تجارتی خسارہ 28.70 ارب ڈالر رہنے کا امکان ہے۔

    تاہم دوسری جانب وفاقی حکومت نے سال 2023-24 کے بجٹ کے دوران ملکی دفاع کیلئے 1 ہزار 8 سو4 ارب روپے مختص کیے ہیں جبکہ اپنی بجٹ تقریر کے دوران وفاقی وزیر خزانہ محمد اسحاق ڈار نے بتایا کہ ملکی دفاع کیلئے اس بار بجٹ 1 ہزار 8 سو4 ارب مختص کیے گئے ہیں۔ وفاقی حکومت کی جانب سے گزشتہ سال کے مقابلے میں اس بار دفاعی بجٹ میں284 ارب روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔

    خیال رہے کہ گزشتہ سال پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی حکومت کے سابق وزیر خزانہ مفتاع اسماعیل نے بجٹ پیش کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ملکی دفاع کیلئے 1 ہزار 5سو 20 ارب مختص کیے گئے ہیں۔ جبکہ واضح رہے کہ گزشتہ روز ایک تقریب کے دوران خطاب کرتے ہوئے سابق صدر آصف علی زرداری نے ملکی دفاعی بجٹ کے حوالے سےمخالفین کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

    علاوہ ازیں وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2023-24 کے بجٹ میں ٹیلی کام سروسز پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح کم کردی ہے جبکہ وفاقی کابینہ سے منظوری کے بعد وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی میں مالی سال 2023-24 کا بجٹ پیش کیا۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ ٹیلی کام سروسز پر 19.05 فیصد کی شرح سے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد ہے جس کو کم کر کے 16 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔ بجٹ میں فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح میں 3.5 فیصد کمی کی تجویز ہے۔

    وفاقی حکومت نے اپنے آخری بجٹ 2023-24 میں تعلیم کے فروغ اقدامات اور مستحق طلبہ کو ایک لاکھ لیپ ٹاپ دینےکا اعلان کیا ہے۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی میں اپنی بجٹ تقریر کے دوران کہا کہ تعلیم کی اہمیت پر کوئی دو رائے نہیں ہوسکتی۔ گو کہ یہ Subject صوبائی ذمہ داری ہے لیکن وفاق اس کی ترویج میں اپنا بھر پور حصہ ڈالتا ہے۔ اس سلسلے میں مندرجہ ذیل اقدامات کیے جارہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے لیے Current Expenditure میں 65 ارب اور Development Expenditure کی مد میں 70 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ تعلیم کے شعبے میں مالی معاونت کے لیے پاکستان انڈومنٹ فنڈ کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے جس کے لیے بجٹ میں 5 ارب روپے رکھے جا رہے ہیں۔ یہ فنڈ میرٹ کی بنیاد پر ہائی سکول اور کالج کے طلبہ و طالبات کو وظائف فراہم کرے گا ۔ ہمارا ہدف ہے کہ کسی ہونہار طالبعلم کو وسائل میں کمی کی وجہ سے اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم سے محروم نہ ہونا پڑے۔

    وزیر خزانہ نے کہا کہ لیپ ٹاپ سکیم جس کو پنجاب میں 18-2013 کے دوران بڑی کامیابی سے چلایا گیا تھا۔ رواں مالی سال میں وفاقی حکومت نے 1 لاکھ لیپ ٹاپ مستحق طلبہ میں تقسیم کا اجراء کیا۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ اسی اسکیم کو جاری رکھنے کے لیے آئندہ مالی سال میں 10 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی کھیل تعلیم کا ایک لازمی حصہ ہیں بجٹ میں سکول، کالج اور پروفیشنل کھیلوں میں ترقی کے لیے 5 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

    سپریم کورٹ کےمالی سال 24-2023کیلئے 3 ارب 55 کروڑ 50لاکھ روپے کے بجٹ کی تجویزہے۔ دستاویزکے مطابق رواں مالی سال کیلئے سپریم کورٹ کے بجٹ میں 50کروڑ روپے سے زائد کے اضافے کی تجویزہے۔ گزشتہ مالی سال میں سپریم کورٹ کا بجٹ 3 ارب 5 کروڑ 40 لاکھ 56 ہزار روپے تھا۔ ملازمین کی تنخواہوں کی مد میں 66 کروڑ 93 لاکھ 50 ہزار روپے رکھنے کی تجویز ہے،سپریم کورٹ ملازمین کے الاؤنسز کی مد میں 2 ارب 17 کروڑ 6 لاکھ 50 ہزار روپے رکھنے کی تجویز ہے

    آپریٹنگ اخراجات کیلئے 40 کروڑ 59 لاکھ 64 ہزار روپے مختص کرنے کی تجویزہے،ملازمین کی پینشن کیلئے 17 کروڑ 90 لاکھ 26 ہزار روپے رکھنے کی تجویزہے۔ گرانٹس اور سبسڈیز کیلئے ایک کروڑ 75 لاکھ روپے مختص کرنے کی تجویزہے،ساز و سامان کی خریداری کیلئے7کروڑ65 لاکھ10ہزار روپے رکھنے کی تجویز۔ سپریم کورٹ کی مرمت اور دیکھ بھال کی مد میں 3 کروڑ20 لاکھ روپے کی تجویزہے۔

  • وفاقی بجٹ 2023-24 آج پیش کیا جائے گا

    وفاقی بجٹ 2023-24 آج پیش کیا جائے گا

    وفاقی بجٹ 2023-24 آج پیش کیا جائے گا جس میں تنخواہوں میں 20 جبکہ پنشن میں 15 فیصد اضافےکا امکان ظاہر کیا جارہا ہے.

    پی ڈی ایم کی حکومت آج ساڑھےسات سو ارب روپے خسارے کا اپنا چودہ ہزار پانچ سو ارب روپے مالیت کاآخری بجٹ 2023-24 پیش کرے گی، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں بیس اور پنشن میں پندرہ فیصد اضافے کا امکان ہے۔ جبکہ وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اسحاق ڈار قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کریں گے، آئندہ مالی سال کے بجٹ میں سات سو ارب خسارے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، سات ہزار تین سو ارب سود اور قرضوں کی ادائیگی پر خرچ ہوں گے ۔دفاع کےلئے اٹھارہ سو ارب مختص کیا گیا ہے۔ مہنگائی کا تخمینہ اکیس فیصد رکھا گیا ہے،شرح نمو ساڑھے تین فیصد رہنے کا امکان ہے اورایکسپورٹ ٹارگٹ تیس ارب ڈالر مقرر کیا گیا ہے، سبسڈیز کا تخمینہ ساڑھے بارہ سو ارب روپے لگایا گیا ہے اوربینظیرانکم سپورٹ پروگرام کےلئے چار سو تیس ارب رکھنے کی تجویز ہے۔

    بجٹ میں نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ میں عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے ، زرعی شعبے کی ترقی اورزرعی صنعت میں اختراع ، انفارمیشن ٹیکنالوجی کا فروغ ، برآمدات میں اضافہ ، صنعتی ترقی کو فروغ دینا، کاروبار اورسرمایہ کاری میں آسانیاں فراہم کرنے اور معیشت کودستاویزی بنانے پرتوجہ مرکوز کی گئی ہے ۔ حکومت عوام اورکاروبار دوست وفاقی بجٹ پیش کرنے کے لیے پوری طرح سے پرعزم ہے۔ نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ میں خسارے پر قابو پانے کے لیے مالیاتی استحکام کی پالیسیوں پر بھی توجہ دی گئی ہے ۔ آئندہ مالی سال 2023-24 کے بجٹ میں بیرونی مالیاتی ادائیگیوں کے انتظام کے علاوہ محصولات میں اضافہ، اقتصادی استحکام اور ترقی کے لیے اقدامات، غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی، روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے ساتھ برآمدات میں اضافہ اور ملک کی سماجی و اقتصادی خوشحالی کے لیے عوام دوست پالیسیاں بجٹ میں شامل کی جائیں گی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آئین کا تحفظ ہمارے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔ چیف جسٹس
    100 واں ڈے،پی سی بی نے بابر اعظم کی فتوحات کی فہرست جاری کر دی
    لندن میں نواز شریف کے نام پرنامعلوم افراد نے تین گاڑیاں رجسٹرکرالیں،لندن پولیس کی تحقیقات جاری
    بینگ سرچ انجن تمام صارفین کیلئے کھول دیا گیا
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ میں گورننس میں بہتری اور سرمایہ کاری کے لیے نجی شعبے کو فروغ دینے کے لیے اصلاحات متعارف کرانے کے علاوہ سماجی شعبے کی ترقی پر بھی توجہ دی جارہی ہے ۔ حکومت ٹیکس وصولی کے نظام میں بہتری لانے، ٹیکس کی بنیاد کو وسیع کرنے اور ٹیکس دہندگان کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے اقدامات کرے گی۔ تاہم جاری مالی سال کے دوران محصولات کی مضبوط نمو کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت کی جانب سے مالی سال 2023-24 کے لیے محصولات کی وصولی کا ہدف 9 ٹریلین روپے سے زیادہ مقرر کرنے کا امکان ہے۔

  • استحکام پاکستان پارٹی کا نام  الیکشن کمیشن اور اعلی عدلیہ میں چیلنج

    استحکام پاکستان پارٹی کا نام الیکشن کمیشن اور اعلی عدلیہ میں چیلنج

    جہانگیرترین کی پارٹی کا نام الیکشن میں رجسڑیشن سے پہلے ہی الیکشن کمیشن اور اعلی عدلیہ میں چیلنج

    جہانگیرترین کی پارٹی کا نام الیکشن میں رجسڑیشن سے پہلے ہی الیکشن کمیشن اور اعلی عدلیہ میں چیلنج کرنے کا اعلان کردیا گیا صدر استحکام پاکستان تحریک احمد کلیم کا دعویٰ ہے کہ جو نام جہانگیرترین نے اپنی پارٹی کا رکھا ہے وہ نام ہم اپنی پارٹی کا الیکشن کمیشن میں گزشتہ سال رجسٹرڈ کراچکے ہیں اس لئے جہانگیرترین الیکشن کمیشن میں پہلے سے رجسٹرڈ ہماری پارٹی کا نام استعمال کرنا بند کریں ورنہ ہم اسے الیکشن کمیشن اور عدالتوں میں چیلنج کریں گے.

    انہوں نے مزید کہا کہ جہانگیرترین کی نئی پارٹی استحکام پاکستان پارٹی کے قیام سے قبل ہی عدالتی جنگ سامنے آگئی استحکام پاکستان تحریک کے نام سے الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ سیاسی جماعت نے جہانگیرترین کو یہ نام استعمال کرنے سے روکنے کا مطالبہ کردیا نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں استحکام پاکستان تحریک کے صدر احمد کلیم فوکل پرسن ایمن جاوید اور لیگل ایڈوائزر جاوید سلیم شورش ایڈووکیٹ نے پریس کانفرنس کی صدر استحکام پاکستان تحریک احمد کلیم نے کہا کہ جہانگیر ترین استحکام پاکستان پارٹی کا نام استعمال کرنا بند کریں جہانگیرترین کو بتانا چاہتے ہیں کہ اسی نام سے ہماری پارٹی الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ ہے.

    ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر جہانگیر ترین نے ہماری الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ نام استعمال کرنا بند نہ کیا تو ہم اسے الیکشن کمیشن اور عدالتوں میں چیلنج کریں گے ہر پارٹی میں سے نئی پارٹیاں نکل آنا بہت غلط ہے ہم نے پہلے استحکام پاکستان تحریک رجسٹرڈ کرائی ہوئی ہے تو جہانگیرترین ہمارا نام کیوں چوری کررہے ہیں وہ طاقتور ہیں اور ہم عام آدمی ہیں ہمارا ان سے کوئی مقابلہ نہیں ہے استحکام پاکستان تحریک کی بنیاد 25 دسمبر 2021کو رکھی گئی استحکام پاکستان تحریک سترہ مئی 2022کو الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ ہوئی پچیس مئی 2022کو استحکام پاکستان تحریک انتخابی نشان الاٹ “سکے “کیا گیا اس تحریک کا مقصد پاکستان میں حکم خداکا آزادی قانون کی اور حق سب کا عملی نمونہ پیش کرنا ہے.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آئین کا تحفظ ہمارے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔ چیف جسٹس
    100 واں ڈے،پی سی بی نے بابر اعظم کی فتوحات کی فہرست جاری کر دی
    لندن میں نواز شریف کے نام پرنامعلوم افراد نے تین گاڑیاں رجسٹرکرالیں،لندن پولیس کی تحقیقات جاری
    بینگ سرچ انجن تمام صارفین کیلئے کھول دیا گیا
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جبکہ ایمن جاوید فوکل پرسن استحکام پاکستان تحریک نے کہا کہ یہ تحریک ملک و قوم کو استحکام دینے کی تحریک ہے ملکی دفاع و استحکام کو ہماری پالیسی میں بنیادی حیثیت ہے افواج پاکستان کو عزت دینا جوہری صلاحیت کو تحفظ دینا بھی ہمارا منشور ہے اداروں کے درمیان آئین کے دائروں رہتے ہوئے کام ہونا بھی ہمارا منشور ہے آزادی صحافت و اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ ہمارا منشور ہے آئی ٹی کو فروغ دیا جائے گا سرکاری اخراجات میں کمی اور ٹیکس میں شفافیت لائی جائے گی صنعت و زراعت کو فروغ دیا جائے گا موجودہ معاشی و سیاسی صورتحال نے عوام کو پریشان کررکھا ہے گزشتہ دنوں قومی املاک کو نقصان پہنچایا گیا جو ہم سب کے لئے لمحہ فکریہ ہے آئندہ ایسے واقعات روکنے کے لئے ملکی سیاسی قیادت کو ملکر سوچنا ہوگا.

  • جوڑ میلہ’ شرکت کیلئے بھارت سے سکھ یاتریوں  کی آًمد کا سلسلہ جاری

    جوڑ میلہ’ شرکت کیلئے بھارت سے سکھ یاتریوں کی آًمد کا سلسلہ جاری

    جوڑ میلہ’ شرکت کیلئے بھارت سے سکھ یاتریوں کی آًمد کا سلسلہ جاری

    گرو ارجن دیو جی کی شہیدی دن کی تقریبات اور جوڑ میلے میں شرکت کے لئے بھا رت سے سکھ یاتری پاکستان پہنچنے لگے ہیں اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ جبکہ ایوکیویٹ ٹرسٹ پراپرٹی بورڈ (ای ٹی پی بی) کے ایڈیشنل سیکرٹری شرائنز رانا شاہد سلیم اور پاکستان گوردوارہ پربندھک کمیٹی پردھان (صدر) امیر سنگھ نے واہگہ بارڈر پر 170 سکھ یاتریوں کو خوش آمدید کہا۔170 بھارتی سکھوں خواتین بھی شامل ہیں۔ تمام سکھ یاتری لاہور میں واہگہ بارڈر کے راستے پاکستان پہنچے۔


    ای ٹی پی بی کے ترجمان امیر ہاشمی کے مطابق گوردوارہ پنجہ صاحب، حسن ابدال میں منعقد ہونے والے جور میلہ میں حصہ لینے کے لیے پہنچے ہیں، اقلیتیوں کی عبادت کی دیکھ بھال ہماری ذمہ داری ہے۔ آنے والے زائرین کو واہگہ پر لنگر (کھانا) پیش کیا گیا اور بعد میں مرکزی تقریب کے لیے صوبہ پنجاب کے شہر حسن ابدال پہنچایا گیا۔ سردار گوربچن سنگھ نے آنے والے یاتریوں کی قیادت کرتے ہوئے سکھ مذہب کے بانی بابا گرو نانک کی سرزمین پر آکر خوشی کا اظہار کیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آئین کا تحفظ ہمارے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔ چیف جسٹس
    100 واں ڈے،پی سی بی نے بابر اعظم کی فتوحات کی فہرست جاری کر دی
    لندن میں نواز شریف کے نام پرنامعلوم افراد نے تین گاڑیاں رجسٹرکرالیں،لندن پولیس کی تحقیقات جاری
    بینگ سرچ انجن تمام صارفین کیلئے کھول دیا گیا
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    انہوں نے کہا کہ یاتری 10 روزہ قیام کے دوران صوبہ پنجاب کے کچھ دوسرے گوردواروں کا بھی دورہ کریں گے۔ وہ کرتارپور ٹاؤن میں گوردوارہ دربار صاحب کا بھی دورہ کریں گے۔ جبکہ ملک اور بیرون ملک سے سکھ اپنے گرو، گرو ارجن دیو جی کی برسی، شہیدی جور میلہ کے موقع پر، سکھ مذہب کے تیسرے مقدس ترین مقام حسن ابدال شہر میں گوردوارہ پنجہ صاحب پر جمع ہوتے ہیں۔