Baaghi TV

Tag: what happened

  • ون ڈے رینکنگ:  نیوزی لینڈ سےنمبر ون پوزیشن چھن گئی،پاکستان پانچویں نمبر

    ون ڈے رینکنگ: نیوزی لینڈ سےنمبر ون پوزیشن چھن گئی،پاکستان پانچویں نمبر

    بھارت کے ہاتھوں دوسرے ون ڈے میں شکست کے بعد نیوزی لینڈ سے آئی سی سی مین ون ڈے رینکنگ کی نمبر ون پوزیشن چھن گئی۔

    باغی ٹی وی: بھارت نے گزشتہ روز کھیلے گئے میچ میں نیوزی لینڈ کو 108 رنز پر آؤٹ کر دیا تھا اور پھر روہت الیون نے مقررہ ہدف 2 وکٹوں کے نقصان پر پورا کر لیا تھا۔

    آئی سی سی بھی آن لائن فراڈ کا شکار ہو گیا

    آئی سی سی کی جانب سے نئی ون ڈے ٹیم رینکنگ جاری کی گئی ہے جس کے مطابق بھارت سے سیریز کے دوسرے ون ڈے انٹرنیشنل میں شکست پر نیوزی لینڈ نے رینکنگ میں ٹاپ پوزیشن گنوا دی،پہلی پوزیشن سے تنزلی کے بعد دوسری پوزیشن پر چلی گئی ہے انگلش ٹیم اب سرفہرست ہوگئی ہے بھارت کا تیسرا اور آسٹریلیا کا چوتھا نمبر ہے۔

    فیفا ورلڈ کپ ٹرافی جیتنے پر خراج تحسین،کسان نے مکئی کے کھیت میں میسی کی تصویر بنا دی

    اس مقابلے سے قبل کیویز 115 ریٹنگ پوائنٹس کے ہمراہ نمبرون اور انگلینڈ 113 پوائنٹس لے کر دوسری پوزیشن پر موجود تھا لیکن اب صورتحال بدل گئی آسٹریلیا 112 پوائنٹس تیسرے ، بھارت 111 پوائنٹس چوتھے نمبر پر ہے، پاکستان ٹیم106 پوائنٹس لے کر پانچویں پوزیشن پر براجمان ہے جبکہ جنوبی افریقا چھٹے، بنگلادیش ساتویں اور سری لنکا آٹھویں نمبر پر ہے افغانستان نویں اور ویسٹ انڈیز دسویں نمبر پر ہے۔

    تیسرا ون ڈے:آسٹریلیا کا کلین سوئپ،پاکستان ویمن ٹیم کو 101 رنز سے شکست

  • رضی اختر شوق معروف شاعر اور ڈرامہ نگار

    رضی اختر شوق معروف شاعر اور ڈرامہ نگار

    ہم اتنے پریشاں تھے کہ حال دل سوزاں
    ان کو بھی سنایا کہ جو غمخوار نہیں تھے

    نام خواجہ رضی الحسن انصاری اور تخلص شوق تھا۔ 23 اپریل 1933ء کو سہارن پور میں پید اہوئے۔ جامعہ عثمانیہ سے انھوں نے بی اے کیا۔ تقسیم ہند کے بعد وہ پاکستان آگئے اور کراچی میں مستقل سکونت اختیار کی۔ یہاں آکر انھوں نے کراچی یونیورسٹی سے ایم اے کیا اور ریڈیو پاکستان سے اپنی ملازمت کا آغاز کیا ۔رضی اختر شوق ایک اچھے شاعر ہونے کے ساتھ ایک بہترین ڈراما نگار بھی تھے۔ عمر کے آخری دنوں میں وہ دل کی بیماری میں مبتلا ہوگئے تھے۔ اسی مرض میں 22 جنوری 1999ء کو کراچی میں انتقال کرگئے۔ان کے دوشعری مجموعے’’میرے موسم میرے خواب‘‘ اور ’’جست‘‘ کے نام سے چھپ گئے ہیں۔ 2005ء میں انھیں علامہ اقبال ایوارڈ سے نوازا گیا۔ بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:276

    اشعار
    ۔۔۔۔۔۔
    ہم روح سفر ہیں ہمیں ناموں سے نہ پہچان
    کل اور کسی نام سے آ جائیں گے ہم لوگ

    دو بادل آپس میں ملے تھے پھر ایسی برسات ہوئی
    جسم نے جسم سے سرگوشی کی روح کی روح سے بات ہوئی

    مجھ کو پانا ہے تو پھر مجھ میں اتر کر دیکھو
    یوں کنارے سے سمندر نہیں دیکھا جاتا

    آپ ہی آپ دیے بجھتے چلے جاتے ہیں
    اور آسیب دکھائی بھی نہیں دیتا ہے

    ہم اتنے پریشاں تھے کہ حال دل سوزاں
    ان کو بھی سنایا کہ جو غم خوار نہیں تھے

    اب کیسے چراغ کیا چراغاں
    جب سارا وجود جل رہا ہے

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    یوں تو لکھنے کے لئے کیا نہیں لکھا میں نے
    پھر بھی جتنا تجھے چاہا نہیں لکھا میں نے
    یہ تو اک لہر میں کچھ رنگ جھلک آئے ہیں
    ابھی مجھ میں ہے جو دریا نہیں لکھا میں نے
    میرے ہر لفظ کی وحشت میں ہے اک عمر کا عشق
    یہ کوئی کھیل تماشا نہیں لکھا میں نے
    لکھنے والا میں عجب ہوں کہ اگر کوئی خیال
    اپنی حیرت سے نہ نکلا نہیں لکھا میں نے
    میری نظروں سے جو اک بار نہ پہنچا تجھ تک
    پھر وہ مکتوب دوبارہ نہیں لکھا میں نے
    میری سچائی ہر اک لفظ سے لو دیتی ہے
    جیسے سب لکھتے ہیں ویسا نہیں لکھا میں نے

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    کچھ لوگ سمجھنے ہی کو تیار نہیں تھے
    ہم ورنہ کوئی عقدۂ دشوار نہیں تھے
    صد حیف کہ دیکھا ہے تجھے دھوپ سے بے کل
    افسوس کہ ہم سایۂ دیوار نہیں تھے
    ہم اتنے پریشاں تھے کہ حال دل سوزاں
    ان کو بھی سنایا کہ جو غم خوار نہیں تھے
    سچ یہ ہے کہ اک عمر گزاری سر مقتل
    ہم کون سے لمحے میں سر دار نہیں تھے
    مانا کہ بہت تیز تھی رفتار حوادث
    ہم بھی کوئی گرتی ہوئی دیوار نہیں تھے
    یہ اس کی عنایت ہے کہ اپنا کے تمہیں شوقؔ
    وہ زخم دیے جن کے سزاوار نہیں تھے

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    آوارگان شوق سبھی گھر کے ہو گئے
    اک ہم ہی ہیں کہ کوچۂ دلبر کے ہو گئے
    پھر یوں ہوا کہ تجھ سے بچھڑنا پڑا ہمیں
    پھر یوں لگا کہ شہر سمندر کے ہو گئے
    کچھ دائرے تغیر دنیا کے ساتھ ساتھ
    ایسے کھنچے کہ ایک ہی محور کے ہو گئے
    اس شہر کی ہوا میں ہے ایسا بھی اک فسوں
    جس جس کو چھو گئی سبھی پتھر کے ہو گئے
    سورج ڈھلا ہی تھا کہ وہ سائے بڑھے کہ شوقؔ
    کم قامتان شہر برابر کے ہو گئے

  • کراچی بمقابلہ لاہور گزشتہ سالوں کا جائزہ

    کراچی بمقابلہ لاہور گزشتہ سالوں کا جائزہ

    کراچی بمقابلہ لاہور گزشتہ سالوں کا جائزہ

    ایک وقت تھا کہ کراچی پاکستان کا دارلحکومت تھا اور اس اب بھی اس میں کوئی شک نہیں کہ کراچی ایک بڑے بیٹے کی طرح پورے ملک کا سب سے بڑا کاروباری مرکز ہے لیکن افسوس کہ اب ہمیں سیاست دانوں سے یہ سننے کو ملتا ہے کہ جب بھی وہ ووٹ کیلئے کراچی کی عوام کے پاکستان جاتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم کراچی کو لاہور جیسا بنائیں گے. جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب تک کراچی نے لاہور جیسی ترقی نہیں کی ہے. آپ کو شہباز شریف کا ایک دعوٰی تو یاد ہوگا جب جون 2018 میں انہوں کراچی میں پریس کانفرنس کرتےہوئے کہا تھا کہ؛ "کراچی آیا ہوں اور اب پان کھانے والے بھائیوں کے شہر’کرانچی’ کو لاہور بنادوں گا اور سندھ کو پنجاب کی طرح ترقی یافتہ بناؤں گا۔”

    کراچی 1947ء سے 1960ء تک پاکستان کا دار الحکومت بھی رہا۔ موجودہ کراچی کی جگہ پر واقع قدیم ماہی گیروں کی بستی کا نام مائی کولاچی تھا۔ جو بعد میں بگڑ کر کراچی بن گیا ،لاہور پاکستان کا دوسرا بڑاشہر اور صوبہ پنجاب کا دارالحکومت ہے۔ یہ پاکستان کا تاریخی اور ثقافتی شہر ہے جبکہ لاہور کوپاکستان کا دل اور باغوں کا شہربھی کہاجاتاہے۔ لاہور اور کراچی کے ماضی کے کچھ عرصہ پر نظر دوڑائیں تو صوبائی اور وفاقی حکومتوں کی عدم دلچسپی کے سبب کراچی کو وہ مقام یا ترقی نصیب نہ ہوئی جیسے لاہور نے دن بدن کی، اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ ہمیشہ سے لاہور چونکہ پنجاب کے ایک بڑے صوبہ کا دارلخلافہ ہے تو وہاں سے ہی حکومتیں بنائی گئیں لیکن البتہ سندھ سے تعلق رکھنے والی پی پی کی حکومت آئی مگر انہوں نے بھی کوئی خاص کمال نہ دکھایا جبکہ اب بھی کئی سال سے لگا تار پی پی کی حکومت ہے مگر اس وقت بھی لاہور کی بہ نسبت کراچی کے حالات بدتر نہیں اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ صوبہ سندھ میں ایک وڈیرہ راج ہے اور اکثر ایسے لوگ ہی کراچی پر حکمرانی کرتے ہیں موجودہ وزیر اعلی اور سابقہ بھی سندھ سے تھے جن کی ناکامی کی بدولت آج بھی کراچی تنزلی کا شکار ہے. روز قتل عام اور چوریاں تو معمول بن گئی ہیں.

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بارشیں برسانے والا نیا سلسلہ 24 جنوری تک جاری رہنے کا امکان
    فیفا ورلڈ کپ ٹرافی جیتنے پر خراج تحسین،کسان نے مکئی کے کھیت میں میسی کی تصویر بنا دی
    رواں برس ہی روسی افواج کو یوکرینی علاقوں سے نکالنا بہت مشکل ہے،امریکا
    بلوچستان مالی بحران:فوری اقدامات نہ کئےتوہم سخت فیصلے کرنے پرمجبور ہوںگے، وزیراعلیٰ بلوچستان
    جوکچھ امریکن انٹرنیشنل اسکول میں طالبہ کے ساتھ سلوک ہوا اس کی مذمت کرتےہیں:سٹی سکول
    نیا پاکستان اورنیا پاکستان اسلامک سرٹیفکیٹ پرمنافع کی شرح میں اضافہ
    جبکہ گزشتہ دس سال کو ہی دیکھ لیں تو لاہور نے تیز ترقی کی بہ نسبت کراچی کے کیونکہ میٹرو بس لاہور میں شہباز شریف پہلے لے کر آئے جبکہ کراچی میں اب جاکر کہیں اس طرز کی بسوں کا نظام شروع کیا گیا ہے. اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سب ان سیاسیوں کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت جو اس شہر اور صوبے پر حکومت کرتے ہیں، کراچی میں امن و امان کی صورتحال انتہائی مخدوش، ترقیاتی کام ٹھپ، بارشوں کے بعد سیلاب کا منظر، نالوں کی صفائی کا ناقص نظام ، بجلی چوری، سمیت کئی ایسے مسائل ہیں جن پر سالوں سے توجہ نہیں دی جا رہی دوسری جانب لاہور میں حکومتوں نے ترقیاتی کام کروائے، مسائل لاہور میں ہیں لیکن کراچی کی نسبت کم، لاہور میں اورنج ٹرین بھی نظر آئے گی تو میٹرو بھی، لاہور میں سڑکوں پر صفائی ہوتی نظر آئے گی لیکن شاید کراچی کی سڑکوں کی صفائی اہلیان کراچی کے مقدر میں نہیں،

  • موجودہ سیاسی صورتحال،وزیراعظم نے مشاورتی اجلاس طلب کر لیا

    موجودہ سیاسی صورتحال،وزیراعظم نے مشاورتی اجلاس طلب کر لیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے موجودہ سیاسی صورتحال پر مشاورتی اجلاس طلب کر لیا،

    اجلاس میں موجودہ ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا اجلاس میں پنجاب کے نگران سیٹ اپ کے حوالے سے بھی مشاورت ہوگی ، صوبوں کے انتخابات کیلئے ٹکٹوں کے تقسیم پر بھی غور کیا جائے گا،سلمان شہباز بھی اجلاس میں شرکت کریں گے ،خواجہ سعد رفیق سمیت دیگر پارٹی رہنما شرکت کریں گے ،

    قبل ازیں چیف سیکرٹری پنجاب عبداللہ سنبل اور آئی جی عامر ذوالفقار خان کی وزیراعظم شہباز شریف کی رہائشگاہ ماڈل ٹاون آمد ہوئی ہے، چیف سیکرٹری پنجاب اور آئی جی پنجاب کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات ہوئی ہے،عبداللہ سنبل نے وزیراعظم شہباز شریف کو صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیشرفت سے آگاہ کیا،چیف سیکرٹری پنجاب نے وزیراعظم کو صوبے کے حوالے سے مختلف امور پر تفصیلی بریفنگ دی،آئی جی پنجاب نے وزیراعظم کو صوبے میں امن و امان کی صورتحال بارے آگاہ کیا،آئی جی پنجاب نے وزیراعظم کو صوبے میں جرائم کی سرکوبی کیلئے پولیس و قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی کارکردگی بارے بریفنگ دی،

    وزیر اعظم شہباز شریف سے جرمن پریس فیڈریشن کے صدرکی قیادت میں وفد نے ملاقات کی، اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ حکومت آزادی صحافت کو شفافیت اور احتساب کیلئے کلیدی اہمیت دیتی ہے پاکستان اور جرمنی کے مابین صحافتی سطح پر تعلقات کو مزید فروغ دینا چاہیے،وزارت اطلاعات جرمن پریس فیڈریشن کیساتھ ملکرتربیت گاہ کےقیام کیلئےکام شروع کرے وزیراعظم نے وفدکی صحافت کے شعبےمیں تعاون بڑھانےکیلئے صحافتی وفود کے تبادلے کی تجویز کا خیرمقدم کیا، ملاقات میں مریم اورنگزیب، فہد حسین، سیکریٹری اطلاعات اور متعلقہ اعلی ٰحکام بھی شریک تھے

    شوکت ترین ، تیمور جھگڑا ،محسن لغاری کی پاکستان کے خلاف سازش بے نقاب،آڈیو سامنے آ گئی

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    کراچی کو ایسے فرد کی ضرورت ہے جو اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ لیکر چلے۔

    ، جماعت اسلامی کو چاہیے پیپلزپارٹی کی اکثریت کو مانے

  • سندھ کے سیلاب متاثرین کیلئے ایک ارب روپے کے فنڈز رکھے،پرویز الہیٰ

    سندھ کے سیلاب متاثرین کیلئے ایک ارب روپے کے فنڈز رکھے،پرویز الہیٰ

    وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی سے پنجاب احساس پروگرام کی سربراہ ڈاکٹر ثانیہ نشتر کی ملاقات ہقئی ہے

    ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے مستحق خاندانوں کیلئے مالی معاونت کے احساس راشن پروگرام پر بریفنگ دی ،ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے سیلاب متاثرین کی بحالی و آباد کاری کے پروگرام پر پیش رفت سے بھی آگاہ کیا وزیراعلیٰ چودھری پرویزالٰہی نے مستحق افراد کی مدد کیلئے ڈاکٹر ثانیہ نشتر کی خدمات کو سراہا، وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ پنجاب احساس پروگرام کے ذریعے سیلاب زدگان کی بحالی کے لئے مثالی کام کیا ہے۔ سیلاب متاثرین کا ڈیٹا حاصل کرنے کیلئے ٹیکنالوجی کی مدد لی گئی ہے۔احساس پروگرام کے ذریعے سیلاب متاثرین کی مدد آئندہ بھی جاری رہنی چاہیے احساس پروگرام کی افادیت کے پیش نظر اسے کسی دور میں بند نہیں کیا گیا۔ امید ہے احساس پروگرام اور سیلاب متاثرین کی بحالی جاری رہے گی۔سیلاب متاثرین کی مدد ثواب کا کام ہے۔ فنڈز کی شفافیت سے استعمال کی ماضی میں کوئی مثال نہیں۔ پنجاب حکومت نے سندھ کے سیلاب متاثرین کیلئے ایک ارب روپے کے فنڈز رکھے۔ مستند ڈیٹا ملنے پر ایک ارب روپے سندھ حکومت کو دیئے جائیں گے۔سندھ حکومت نے سیلاب متاثرین کا ڈیٹا نہیں دیا۔ پنجاب حکومت کی طرف سے باضابطہ طور پر ایک ارب روپے کی فراہمی کے لئے خط کا جواب بھی سندھ نے نہیں دیا۔

    وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی کا کہنا تھا کہ سندھ کے سیلاب متاثرین کے لئے عمران خان کی ہدایت کے مطابق ایک ارب روپے دینا چاہتے ہیں۔ سیلاب متاثرین کی مددفلاحی کام ہے، سندھ کا عدم تعاون ناقابل فہم ہے۔ حکومت پنجاب اور متعلقہ ادارے ہر طرح سے سندھ حکومت سے رابطہ کر چکے ہیں۔ پنجاب سندھ کے متاثرہ بھائیوں کیلئے اپنی کمٹمنٹ پوری کرے گا۔ وفاقی حکومت نے پنجاب کو سیلاب متاثرین کے لئے کوئی پائی پیسہ نہیں دیا۔

    شوکت ترین ، تیمور جھگڑا ،محسن لغاری کی پاکستان کے خلاف سازش بے نقاب،آڈیو سامنے آ گئی

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    پنجاب کا نگران وزیراعلیٰ کون؟ قرعہ کس کے نام کا

     پارلیمنٹ کے فیصلے پارلیمنٹ کے اندر ہی ہونے چاہئیں،

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

    قبل ازیں وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی سے مجلس ترقی ادب کے ڈائریکٹر اصغر عبداللہ کی ملاقات ہوئی ہے، اصغر عبداللہ نے مجلس ترقی ادب کی کارکردگی اور دیگر امور سے آگاہ کیا،وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی کا کہنا تھا کہ ادیب اور دانشور صحت مند معاشرے کی تعمیر میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں مجلس ترقی ادب کو جدید طرز کا ادارہ بنانے کی بنیا د رکھ دی ہے۔ بہت جلد یہ ادارہ نئے دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو کے اپنا کردار بھر پور طور پر ادا کرنے کے قابل ہو جائے گا۔ مجلس ترقی ادب کیلئے سٹیٹ آف دی آرٹ بک ویئر ہاؤس اور بک ڈسپلے سنٹر تعمیر کیے جائیں گے۔جدید طرز کا لٹریری کیفے اور کانفرنس ہال بھی تعمیر ہوں گے طلبہ کیلئے لٹریری ور کشاپس اور انٹرن شپ پروگرامز کا انعقاد کیا جائے گا۔

  • لینڈ مافیاز کراچی سے اپنا بوریا بسترگول کر دیں،گورنر سندھ

    لینڈ مافیاز کراچی سے اپنا بوریا بسترگول کر دیں،گورنر سندھ

    گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا ہے کہ کراچی میں پارکس کو دوبارہ بحال کررہے ہیں،کراچی کو کلین اینڈ گرین بنانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں،

    گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاک چائینہ فرینڈ شپ پارک کا افتتاح کردیا ہے ،کراچی کے تمام پارکس لینڈ مافیا سے واپس لے لیے جائیں گے،لینڈ مافیاز کراچی سے اپنا بوریا بسترگول کر دیں،لینڈ مافیا پار ک پر قبضے کا سوچ کر بیٹھی تھی ،ایڈمنسٹریٹر کراچی دن رات کام کررہے ہیں،کراچی میں پارکس کو دوبارہ بحال کر رہے ہیں،بطور گورنر سیاست میں کوئی کام نہیں ،بحیثیت وفاق کا نمائندہ میں پل کا کردار ادا کرسکتا ہوں ،

    قبل ازیں گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری سے میڈیا کے 11 رکنی وفد نے ملاقات کی۔اس موقع پر گورنرسندھ کامران ٹیسوری کا کہنا تھا کہ جمہوریت کے لئے صحافی برادری کی خدمات لائق تحسین ہیں ہر مشکل مرحلہ پر صحافی برادری نے بڑی دلیری سے جمہوریت کی آبیاری کی اس جدوجہد میں کئی صحافی شہید بھی ہوئے پوری قوم صحافت کے اس جذبہ کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے حکومت صحافیوں کی فلاح و بہبود کے لئے بھرپور اقدامات یقینی بنارہی ہے اس ضمن میں صحافیوں کے تحفظ کے لئے بل بھی منظور کیا جا چکا ہے اور صحافی برادری کے لئے ہاﺅسنگ سوسائٹی کا قیام بھی عمل میں لایا جارہا ہے صحافی مشکل وقت میں اپنی ذمہ داری ادا کررہے ہیں اس ضمن میں صحافیوں کو درپیش مشکلات کے خاتمہ کے لئے اپنا کردار ادا کروں گا۔ صحافی برادری سے میرا بڑا قریبی اور محبت بھرا رابطہ ہے گورنرہاﺅس میں صحافی بھائیوں سے ملاقات کو ترجیح دی جاتی ہے

    خواتین کو دست درازی سے بچانے کیلئے سی سی پی او لاہور میدان میں آ گئے

    شوہر نے بھائی اور بھانجے کے ساتھ ملکر بیوی کے ساتھ ایسا کام کیا کہ سب گرفتار ہو گئے

    لڑکیوں سے بڑھتے ہوئے زیادتی کے واقعات کی پنجاب اسمبلی میں بھی گونج

  • قومی کرکٹرشان مسعود رشتہ ازدواج میں منسلک ہوگئے

    قومی کرکٹرشان مسعود رشتہ ازدواج میں منسلک ہوگئے

    قومی ٹیم کے بیٹر شان مسعود رشتہ ازدواج میں منسلک ہوگئے جس کے بعد ان کا دلہن نیشے کے ہمراہ فوٹو شوٹ سوشل میڈیا پر وائرل ہورہا ہے۔

    باغی ٹی وی : شان مسعود کی شادی کی تقریبات کا آغاز نکاح کی تقریب کے ساتھ ہوا جس میں کرکٹرز سمیت قریبی رشتہ داروں نے شرکت کی۔

    اتنی جلدی نکاح کر کے مایا علی اوردیگر لڑکیوں کا دل کیوں توڑا؟ حارث رؤف نے دیا جواب

    فوٹو گرافرز کی جانب سے شان کے نکاح کی تقریب کی شیئر کردہ تصاویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ دلہن اور دلہے دونوں نے پیسٹل رنگ کے جوڑے کا انتخاب کیا ہے۔
    https://twitter.com/batool8918/status/1616512047566712832?s=20&t=AlousWB6tP5xNQ8T8r_EOQ
    شان مسعود کی شادی کی تقریبات کا آغاز گزشتہ شب نکاح سے ہوا، اسی تقریب میں شان اور نیشے کے درمیان انگوٹھیوں کا تبادلہ بھی ہوا وائرل ہونے والی ویڈیوز میں شان اور نیشے خوشگوار انداز میں خاندان کے دیگر افراد کے درمیان ایک دوسرے کو انگوٹھیاں پہناتے ہوئے دیکھے گئے شان اور نیشے ایک دوسرے کو انگوٹھی پہنا کر کافی خوش دکھائی دیئے۔

    آج 21 جنوری کو بارات کی تقریب پشاور میں منعقد کی جائے گی جبکہ ولیمہ 27 جنوری کو کراچی میں ہوگا، جس میں متعدد کرکٹرز سمیت معروف شخصیات کو مدعو کیا گیا ہے، 33 سالہ شان کے ولیمے کا کارڈ بھی سامنے آچکا ہے-

    شان مسعود رواں ماہ رشتہ ازدواج میں منسلک ہو ں گے،ولیمہ کب اور کہاں ہوگا؟

    قبل ازیں شان مسعود کا انٹرویو میں کہنا تھا کہ وہ پسند کی شادی کر رہے ہیں،دلہن ان کی بہترین دوست رہی ہیں اور اب وہ ان کی لائف پاٹنر بننے جا رہی ہیں،ان کی ان سے پہلی ملاقات لاہور میں ہوئی۔

    شان مسعود نے اپنی دلہن کے حوالے سے بتایا تھا کہ ان کا تعلق پشاور سے ہے ان کی ان سے پرانی دوستی ہے جو اب بہترین رشتے میں بدل رہی ہے اور وہ بہت زیادہ خوش ہیں کہ انہیں زندگی کا بہترین ساتھی مل رہا ہے، وہ انہیں بہترین انسان کے ساتھ بہترین کرکٹر بننے میں بھی مدد کریں گی کیوںکہ جب سے وہ ان کی لائف میں آئی ہیں ان کے کردار میں بڑا اچھا بدلاؤ آیا ہے۔

    شان مسعود معروف بینکر منصور مسعود خان کے بیٹے ہیں، ان کے تایا وقار مسعود خان حکومت پاکستان میں سابق سیکریٹری فنانس رہ چکے ہیں، 3 بہن بھائیوں میں شان مسعود کا دوسرا نمبر ہے۔

    ثانیہ مرزا کی نئی پوسٹ نےشعیب ملک سےجدائی کی تصدیق کردی؟

  • اعظم خان کی بطور نگراں وزیراعلیٰ تقرری کا نوٹی فیکیشن جاری

    اعظم خان کی بطور نگراں وزیراعلیٰ تقرری کا نوٹی فیکیشن جاری

    اعظم خان کی بطور نگراں وزیراعلیٰ تقرری کا نوٹی فیکیشن جاری

    اعظم خان کی بطور نگراں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا تقرری کا نوٹی فیکیشن جاری کردیا گیا ہے۔ گورنر خیبر پختونخوا حاجی غلام علی کی جانب سے وزیراعلیٰ کیلئے اعظم خان کے نام کی منظوری آج بروز ہفتہ 21 جنوری کو دی گئی۔ واضح رہے کہ محمود خان اور اپوزیشن لیڈر اکرم خان درانی کی جانب سے گزشتہ روز 20 جنوری بروز جمعہ گورنر کے پی کو نگراں وزیراعلیٰ کے نام کے حوالے سے مراسلہ ارسال کیا گیا تھا۔ دونوں رہنماؤں نے اعظم خان کے نام پر اتفاق کیا تھا۔

    دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات گزشتہ روز پشاور میں ہوئی۔ ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں اکرم درانی کا کہنا تھا کہ دو، تین نام ان کے تھے، دو نام ہمارے پاس تھے، ہم نے مشورہ کیا کہ عوام کو مزید مشکلات میں نہیں ڈالیں گے، تاریخ میں پہلی بار اپوزیشن اور وزیراعلیٰ نے بیٹھ کراہم فیصلہ کیا۔ انہوں نے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس موقع پر محمود خان، پرویز خٹک اور اسپیکر کا مشکور ہوں۔

    اکرم خان درانی کا کہنا تھا کہ ہم نے مشورہ کیا کہ ایک ایسا آدمی ہوں جو معیشت اور صوبے کے حالات سے واقف ہوں۔ نگران وزیر اعلی کی نامزدگی کے لئے محمود خان اور اکرام درانی نے گورنر کو مراسلہ بھیج دیا۔ نگران وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے لیے نامزد اعظم خان چیف سیکرIٹری سمیت دیگر اہم عہدوں پر رہ چکے ہیں، وہ سابق نگراں وفاقی وزیر بھی رہے، اعظم خان پیٹرولیم اور مذہبی امور کی وزارتوں کے وفاقی سیکریٹری بھی رہے۔

    سابق بیوروکریٹ اور خیبرپختونخوا میں چیف سیکریٹری کے طور پر خدمات انجام دینے والے اعظم خان کا تعلق خیبرپختونخوا کے ضلع چارسدہ سے ہے۔ وزیر اعلیٰ محمود خان نے اپنی ٹوئٹ میں سمری بھیجنے کی تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ دو تہائی اکثریت حاصل کرکے قائد عمران خان کو دوبارہ وزیراعظم بنائیں گے

    18 جنوری کو خیبر پختونخوا کے گورنر حاجی غلام علی نے صوبائی اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری پر دستخط کیے تھے، جس کے بعد صوبائی اسمبلی کو تحلیل کردیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 112(1) کے تحت 17 جنوری کو اسمبلی تحلیل کی سمری گورنر کو ارسال کی گئی تھی۔

    قانون کے مطابق وزیراعلیٰ کی ایڈوائس پر گورنر، صوبائی اسمبلی تحلیل کر دے گا اور اگر وزیراعلیٰ کی ایڈوائس پر گورنر اسمبلی تحلیل نہیں کرتا تو 48 گھنٹے کے بعد اسمبلی ازخود تحلیل ہو جائے گی۔
    پنجاب اسمبلی خیال رہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی جانب سے اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری بھیجنے سے قبل پنجاب اسمبلی کی تحلیل کر دی گئی تھی۔ وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی نے 11 جنوری کو اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد اگلے روز صوبائی اسمبلی تحلیل کرنے کے لیے سمری پر دستخط کردیے تھے اور سمری گورنر پنجاب کو بھیج دی تھی۔ بعد ازاں گورنر پنجاب بلیغ الرحمان نے اسمبلی تحلیل کرنے کے لیے سمری موصول ہونے کی تصدیق کی تھی، تاہم 48 گھنٹے کی مدت ختم ہونے کے باوجود انہوں نے سمری پر دستخط نہیں کیے تھے اور یوں اسمبلی خود تحلیل ہوگئی تھی۔

  • منی لانڈرنگ کیس؛ ایف آئی اے نے سلیمان شہباز کو کلین چٹ دیدی

    منی لانڈرنگ کیس؛ ایف آئی اے نے سلیمان شہباز کو کلین چٹ دیدی


    منی لانڈرنگ کیس؛ ایف آئی اے نے سلیمان شہباز کو کلین چٹ دیدی

    اسپیشل سینٹرل کورٹ میں وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف کے صاحبزادے سلیمان شہباز کے خلاف منی لانڈرنگ کیس میں وفاقی تحقیقاتی ادارے نے سلیمان شہباز کو کلین چٹ دیتے ہوئے کہا ہے کہ سلیمان شہباز کیخلاف منی لانڈرنگ کے ثبوت نہیں ملے۔ لاہور کی اسپیشل سینٹرل کورٹ میں آج بروز ہفتہ 21 جنوری کو وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف کے صاحبزادے سلیمان شہباز کے خلاف وفاقی تحقیقاتی ادارے کی جانب سے دائر منی لانڈرنگ سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔

    آج ہونے والی سماعت میں ایف آئی اے نے سلیمان شہباز کیخلاف چالان عدالت پیش کیا۔ تفتیشی افسر نے عدالت کے روبرو کہا کہ چالان کو متعلقہ اتھارٹی کی منظوری کے بعد پیش کیا گیا ہے۔ اس موقع پر ایف آئی اے نے عدالت کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ کسی قسم کی کک بیکس کے شواہد نہیں ملے، جس پر جج نے سلیمان شہباز کے وکیل سے سوال کیا کہ کیا آپ ضمانت واپس لینا چاہتے ہیں،؟ جس پر ایف آئی اے کے تفتیشی افسر نے کہا کہ سلیمان شہباز اور طاہر نقوی کے کیس میں ملوث ہونے کے ثبوت نہیں ملے ہیں۔اس پر عدالت سے سلیمان شہباز اور طاہر نقوی نے ضمانت کی درخواست واپس لے لی۔ عدالت نے سلیمان شہباز کو ٹرائل میں چار فروری کو طلب کرلیا۔ آج ہونے والی سماعت میں ایف آئی اے کی جانب سے سلیمان شہباز کی حد تک منی لانڈرنگ کا چالان پیش کیا گیا، جب کہ عدالت نے سلیمان شہباز کی عبوری درخواست ضمانت واپس کردی۔

    سماعت کے باہر عدالتی احاطی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سلیمان شہباز سے صحافی نے سوال کیا کہ ”آپ نے ٹویٹ میں وزیر خزانہ کو جوکر کہا تھا“، جس پر سلیمان شہباز نے کہا کہ ”پی ٹی آئی نے پانچ وزیر خزانہ تبدیل کئے تھے آخری تین کو جوکر کہا تھا“، جس پر صحافی نے برجستہ سوال کیا کہ “ کیا اس میں مفتاح اسماعیل بھی شامل تھے “ ؟؟، جس پر سلیمان شہباز نے کہا کہ “ میں نے کسی کا نام نہیں لیا“ ، باقی گفتگو بعد میں کروں گا“ ۔ بعد ازاں سلیمان شہباز عدالت سے روانہ ہوگئے۔

    واضح رہے کہ وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف کے صاحبزادے سلیمان شہباز گزشتہ سال 2022 میں دسمبر کے اوائل میں لندن میں 74 سالہ جلا وطنی ختم کرنے کے بعد وطن واپس پہنچے تھے۔ سلیمان شہباز وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) میں درج منی لانڈرنگ کیس میں ملزم قرار دیئے گئے تھے، جب کہ قومی احتساب بیورو (نیب) نے انہیں آمدن سے زائد اثاثوں میں نامزد کیا۔ دونوں مقدمات میں انہیں اشتہاری قرار دیا گیا۔ ان کی وطن واپسی سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ نے نیب اور ایف آئی اے کو سلیمان شہباز کی گرفتاری سے روک دیا تھا۔

    خیال رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے سلیمان شہباز کی حفاظتی ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں ائیرپورٹ پر گرفتار کرنے سے روکنے کا حکم جاری کیا تھا تاکہ وہ ٹرائل کورٹ کے سامنے سرنڈر ہو سکیں، عدالت نے 13 دسمبر کو سلیمان شہباز کی 14 دن کے لیے حفاظتی ضمانت منظور کی تھی۔

    تاہم آج ان کی لاہور احتساب عدالت اور اسپیشل کورٹ میں دو مختلف مقدمات میں عبوری ضمانت منظور کرلی گئی ہے۔ سلیمان شہباز نے خود کو لاہور کی احتساب عدالت اور اسپیشل کورٹ کے سامنے سرنڈر کیا۔ وزیر اعظم کے صاحبزادے نے احتساب عدالت میں سرنڈر ہونے کے بعد نیب کے منی لانڈرنگ کے ریفرنس میں عبوری ضمانت دائر کی تھی۔ احتساب عدالت میں سلیمان شہباز نے وکیل امجد پرویز کے ذریعے درخواست دائر کی۔ بعد ازاں عدالت نے نیب کو سلیمان شہباز کو 7 جنوری 2023 تک گرفتار کرنے سے روک دیا اور سلیمان شہباز کو شامل تفتیش ہونے کی ہدایت کی۔ احتساب عدالت کے جج نے کہا کہ سلیمان شہباز کا شناختی کارڈ عدالت میں پیش کیا جائے جس پر سلیمان شہباز نے شناختی کارڈ نہ ہونے پر جج سے معذرت کی۔

    بعد ازاں عدالت نے اگلی سماعت تک سلیمان شہباز کی درخواست ضمانت پر نیب سے جواب طلب کرلیا۔ عدالت نے سلیمان شہباز کی عبوری ضمانت 5 لاکھ کے مچلکوں کے عوض منظور کی۔ اس سے قبل سلیمان شہباز اسپیشل کورٹ میں بھی پیش ہوئے جہاں ایف آئی اے نے 16 ارب منی لانڈرنگ کے مقدمے میں سلیمان شہباز کو نامزد کررکھا ہے۔

    اسپیشل جج سینٹرل کی عدالت میں ایڈووکیٹ امجد پرویز نے عبوری ضمانت کی درخواست دائر کی تھی۔ بعد ازاں عدالت نے ایف آئی اے کو سلیمان شہباز کو 7 جنوری تک گرفتار کرنے سے روک دیا اور انہیں اگلی سماعت میں شامل تفتیش ہونے کا حکم دیا۔ اسپیشل کورٹ نے ایک لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض عبوری ضمانت منظور کی۔
    منی لانڈرنگ کیس

    خیال رہے کہ ایف آئی اے نے نومبر 2020 میں شہباز شریف اور ان کے بیٹوں حمزہ شہباز اور سلیمان شہباز کے خلاف انسداد بدعنوانی ایکٹ کی دفعہ 419، 420، 468، 471، 34 اور 109 اور اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کی دفعہ 3/4 کے تحت مقدمہ درج کیا تھا، سلیمان شہباز برطانیہ میں ہیں اور انہیں مفرور قرار دے دیا گیا تھا۔
    28 مئی کو سلیمان شہباز کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے گئے لیکن وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) نے عدالت کو بتایا تھا کہ سلیمان شہباز اپنے گھر میں موجود نہیں ہیں، وہ بیرون ملک جاچکے ہیں، اس لیے انہیں گرفتار نہیں کیا جاسکتا۔

    ٹرائل کورٹ نے رواں سال جولائی میں 16 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کیس میں سلیمان شہباز اور ایک اور ملزم کو اشتہاری قرار دیا تھا۔ ایف آئی اے نے دسمبر 2021 میں شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے خلاف شوگر اسکینڈل کیس میں 16 ارب روپے کی لانڈرنگ میں مبینہ طور پر ملوث ہونے پر خصوصی عدالت میں چالان جمع کرایا تھا۔ ایف آئی اے کی جمع کروائی گئی رپورٹ کے مطابق تحقیقاتی ٹیم نے شہباز خاندان کے 28 بے نامی اکاؤنٹس کا پتا لگایا تھا جن کے ذریعے 2008 سے 2018 کے دوران 16.3 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کی گئی، عدالت میں جمع کرائی گئی ایف آئی اے کی رپورٹ کے مطابق ایف آئی اے نے 17ہزار کریڈٹ ٹرانزیکشنز کی منی ٹریل کی جانچ کی۔

    اس کے علاوہ جون 2020 میں نیب نے سلیمان شہباز کے 16 کمپنیوں میں 2 ارب روپے اور 41 لاکھ روپے مالیت کے تین بینک اکاؤنٹس کے ساتھ ساتھ 10 مرلہ زرعی اراضی اور 209 کنال پر پھیلی زمین ضبط کر لیے تھے۔ نیب کا یہ اقدام تب سامنے آیا جب احتساب عدالت لاہور نے اکتوبر 2019 میں سلیمان شہباز کو اشتہاری مجرم قرار دیا تھا اُس وقت نیب پراسیکیوٹر نے کہا تھا کہ ادارہ نے ملزم کو کم از کم 6 طلبی نوٹس جاری کیے تھے، لیکن ملزم نے جواب نہیں دیا اور تفتیش سے بچنے کے لیے ملک سے فرار ہو گیا۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بارشیں برسانے والا نیا سلسلہ 24 جنوری تک جاری رہنے کا امکان
    فیفا ورلڈ کپ ٹرافی جیتنے پر خراج تحسین،کسان نے مکئی کے کھیت میں میسی کی تصویر بنا دی
    رواں برس ہی روسی افواج کو یوکرینی علاقوں سے نکالنا بہت مشکل ہے،امریکا
    بلوچستان مالی بحران:فوری اقدامات نہ کئےتوہم سخت فیصلے کرنے پرمجبور ہوںگے، وزیراعلیٰ بلوچستان
    جوکچھ امریکن انٹرنیشنل اسکول میں طالبہ کے ساتھ سلوک ہوا اس کی مذمت کرتےہیں:سٹی سکول
    نیا پاکستان اورنیا پاکستان اسلامک سرٹیفکیٹ پرمنافع کی شرح میں اضافہ

  • بارشیں برسانے والا نیا سلسلہ 24 جنوری تک جاری رہنے کا امکان

    بارشیں برسانے والا نیا سلسلہ 24 جنوری تک جاری رہنے کا امکان

    بارشیں برسانے والا نیا سلسلہ 24 جنوری تک جاری رہنے کا امکان

    بلوچستان کے مختلف علاقوں میں برفباری کے باعث سردی کی شدت میں اضافہ ہوگیا ہے، جب کہ کوژک ٹاپ پر ٹریول ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ توبہ اچکزئی میں برفباری کے دوران لاپتا پولیو ٹیم کو بھی ریسکیو کر لیا گیا، جس کے بعد پولیو ٹیم کو طبی معائنے کیلئے قلعہ عبداللہ ہیڈکوارٹر منتقل کردیا گیا ہے۔ چمن شہر اور گردونواح میں موسلادھار بارش کے باعث ندی نالے بھر گئے۔

    شمالی بلوچستان کے موسمی اثرات آج سے سندھ بھر میں پڑنے کا امکان ہے، کراچی سمیت ساحلی علاقوں میں ریکارڈ سردی متوقع ہے، کراچی میں درجہ حرارت 3 ڈگری سینی گریڈ تک گرنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ حیدر آباد اور لطیف آباد میں بوندا باندی سے ٹھنڈی ہواؤں نے موسم کو مزید سرد کر دیا ہے جبکہ خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں بھی آج سے بدھ تک بارش اور پہاڑوں پر برفباری کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

    مینگورہ میں بھی وقفے وقفے سے بارش اور بالاٸی علاقوں کے پہاڑوں پر برف باری جاری ہے، ملکہ کوہسار مری میں برفباری کے بعد سردی کی شدت میں اضافہ ہو گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بارشیں برسانے والے نئے نظام کی آج سے آمد شروع ہوگئی ہے، نیا سلسلہ 21 جنوری سے ملک میں داخل ہوگا، جس کے بعد بالائی علاقوں میں مزید برفباری کا امکان ہے، پنجاب کے بیشتر میدانی علاقوں میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش کی پیش گوئی بھی کی گئی ہے۔

    مغربی ہواؤں کے باعث بننے والے بارشوں کا نیا نظام بلوچستان کے راستے ملک میں داخل ہوگا، جو ہفتے کی شام تک ملک کے بالائی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا، نئے نظام کے تحت ملک کے بیشتر بالائی علاقوں میں برفباری کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ جبکہ اس نئے سسٹم کے تحت لاہور سمیت پنجاب کے بیشتر میدانی علاقوں میں ہلکے سے درمیانے درجے کی بارشیں متوقع ہے۔

    بارش کا یہ سلسلہ وقفے وقفے سے 24 جنوری تک جاری رہ سکتا ہے، اِس دوران تیز ہواؤں کا سلسلہ بھی جاری رہنے کا امکان ہے جس دوران چند ایک علاقوں میں ژالہ باری بھی ممکن ہے۔ صورت حال کے پیش نظر متعلقہ محکموں کو الرٹ رہنے کی ہدایت بھی کردی گئی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق بارشوں کے نتیجے میں درجہ حرارت میں نمایاں کمی آئے گی البتہ یہ بارشیں فصلوں کے لئے مفید ثابت ہوں گی۔
    آزاد کشمیر

    آزاد کشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برفباری کا سلسلہ جاری ہے۔ وادی نیلم کے پہاڑی علاقوں میں برفباری سے سردی کی شدت میں اضافہ ہوگيا۔ ہلکی برفباری مزید ایک روز تک جاری رہنے کا امکان ہے۔ برف باری کے باعث راستوں کی بندش سے پہاڑی علاقوں میں لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ علاوہ ازیںچمن اور مضافاتی علاقوں میں بارش اور برفباری کا سلسلہ تو تھم گیا مگر ٹھنڈ کی شدت بڑھ گئی، کوژک ٹاپ اور توبہ اچکزئی میں منفی سات جب کہ چمن میں درجہ حرارت منفی دو ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر چمن کے مطابق کوژک ٹاپ شاہراہ پر ٹریفک بحال ہے۔