Baaghi TV

Tag: what happened

  • پاکستان میں برطانوی ہائی کمشنر کرسٹن پاکستان سے واپس روانہ

    پاکستان میں برطانوی ہائی کمشنر کرسٹن پاکستان سے واپس روانہ

    پاکستان میں برطانوی ہائی کمشنر کرسٹن پاکستان سے واپس روانہ ہو گئے.

    پاکستان میں برطانوی ہائی کمشنر کرسٹن ٹرنر کے عہدے کی مدت مکمل ہو گئی ہے جس کے بعد کرسٹن ٹرنر پاکستان سے واپس روانہ ہو گئے ہیں. پاکستان میں برطانوی ہائی کمشنر کرسٹن ٹرنر کی الوادعی ویڈیو بھی جاری کر دی گئی ہے. کرسٹن ٹرنر نے اپنے دفتر سے سامان کی پیکنگ کی ویڈیو شیئر کردی کرسٹن ٹرنر نے پاکستان کے روایتی بکسے میں اپنا سامان رکھا.


    واضح رہے کہ دو روز قبل صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے سبکدوش ہونے والے برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر نے ملاقات کی تھی. ایوان صدر میں ہونے والی ملاقات میں صدر مملکت نے پاکستان اور برطانیہ کے درمیان دو طرفہ تجارت بڑھانے کےلیے ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت پر زور دیا تھا.ڈاکٹر عارف علوی نے مزید کہا تھا کہ اقتصادی اور سیاسی استحکام یقینی بنا کر دو طرفہ تجارت میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہاتھا کہ برطانیہ کی جانب سے سرمایہ کاری میں تعاون بڑھانے سے ملکی معاشی صورتحال بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    رمضان شوگر ملز کو این او سی جاری کرنے کے خلاف پنجاب حکومت کی انٹرا کورٹ اپیل مسترد
    آٹا بحران کیس؛ پشاور ہائیکورٹ کا سیکریٹری فوڈ و دیگر کو مارکیٹ کا دورہ کرنیکا حکم
    لیپ ٹاپ گم ہونے پر گاہک نےغصے میں اپنی کار ہوٹل پر دے ماری
    نادیہ خان 38 ہزار ڈالرز گنوا بیٹھیں. اداکارہ نے دلچسپ واقعہ سنا کر حیران کر دیا
    عدلیہ اورنیب کو درخواست کرتا ہوں جھوٹے کیسز ختم کیے جائیں. وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ
    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ دو طرفہ معاشی تعلقات میں اضافے سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ دوران ملاقات صدر مملکت نے برطانیہ کی ترقی پذیر ممالک کےلیے تجارتی اسکیم میں پاکستان کی شمولیت کو سراہا گیا تھا. ڈاکٹر عارف علوی نے مزید کہا تھا کہ 120 برطانوی کمپنیاں پاکستان میں تقریباً 10بلین ڈالر سرمایہ کاری کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دفاعی، سیکیورٹی تعاون اور انسداد دہشتگردی تعاون مزید گہرا کرنے کی ضرورت ہے۔ برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر نے کہا تھا کہ پاکستان برطانوی کمپنیوں کی جانب سے سرمایہ کاری کےلیے موزوں ملک ہے، معاشی اور سیاسی استحکام سے پاکستان میں سرمایہ کاری کو راغب کرنے میں مدد ملے گی۔

  • فیصل آباد موٹروے پر دو حادثات میں 5 افراد جاں بحق

    فیصل آباد موٹروے پر دو حادثات میں 5 افراد جاں بحق

    فیصل آباد موٹروے پر دو حادثات میں 5 افراد جاں بحق

    موٹروے ایم ٹو اور ایم تھری پر ہونے والے دو مختلف حادثات میں بچوں اور خاتون سمیت پانچ افراد جان بحق ہوگئے۔ فیصل آباد موٹروے ایم ٹو اور ایم تھری پر ہونے والے دو مختلف حادثات میں بچوں اور خاتون سمیت پانچ افراد جان بحق ہوگئے جبکہ نو زخمیوں میں سے تین کی حالت تشویش ناک ہے۔ پولیس کے مطابق پہلا حادثہ موٹروے ایم 3 پر ہوا، جہاں تیزرفتار کار الٹنے سے خاتون اور 2 بچے جاں بحق ہوگئے۔

    واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو اور پولیس کی ٹیمیں جائے حادثہ پر پہنچیں اور لاشوں اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کردیا گیا۔ حکام کے مطابق دوسرا حادثہ موٹر وے ایم 4 پر تیزرفتار کار ٹرک سے ٹکرا گئی، حادثے میں دو افراد جاں بحق ہوگئے۔ جب کہ دونوں حادثات میں 9 افراد زخمی ہوئے، جن میں سے 3 افراد کی حالت تشویشناک ہے۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    رمضان شوگر ملز کو این او سی جاری کرنے کے خلاف پنجاب حکومت کی انٹرا کورٹ اپیل مسترد
    آٹا بحران کیس؛ پشاور ہائیکورٹ کا سیکریٹری فوڈ و دیگر کو مارکیٹ کا دورہ کرنیکا حکم
    لیپ ٹاپ گم ہونے پر گاہک نےغصے میں اپنی کار ہوٹل پر دے ماری
    نادیہ خان 38 ہزار ڈالرز گنوا بیٹھیں. اداکارہ نے دلچسپ واقعہ سنا کر حیران کر دیا
    عدلیہ اورنیب کو درخواست کرتا ہوں جھوٹے کیسز ختم کیے جائیں. وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ

    یاد رہے کہ ٹریفک حادثات اور ان کے نتیجے میں انسانی جانوں کے ضیاع کی افسوس ناک باتیں سنتے ہوئے آپ کے ذہن میں‌ شاید یہ سوال بھی آیا ہو کہ دنیا میں پہلا کار حادثہ کب ہوا یا کسی موٹر کار کی وجہ سے ہلاک ہونے والا پہلا انسان کون تھا؟ 1840ء کے بعد یہ خیال کیا جارہا تھا کہ ایسی موٹر کاریں تیّار کی جاسکتی ہیں جنھیں بہت جلد بھاپ کی مدد سے چلانا ممکن ہوگا، لیکن ایسا نہیں‌ ہوسکا۔ اس زمانے کی یہ کار گزاری اور ایجاد ریل کے لیے تو کارآمد ثابت ہوئی، لیکن چوں کہ کاریں بہت وزنی اور بھاری ہوتی تھیں، اس لیے ان کا ناہموار زمین پر چلنا آسان نہ تھا۔ تاہم اس حوالے سے سائنس دان اور موجد تجربات اور آزمائشوں میں مصروف تھے اور موٹر کاریں بھی بنائی جارہی تھیں۔

    آئرلینڈ کی رہائشی میری وارڈ کے ایک کزن نے بھی ایک موٹر کار تیّار کی اور 31 اگست 1869ء کو اس کی آزمائش کے لیے گھر سے نکلا۔ میری وارڈ بھی اپنے کزن کے ساتھ بھاپ سے چلنے والی اس کار میں سوار ہوگئی۔ اس کا شوہر، دو رشتہ دار اور ان کے ایک استاد بھی اس گاڑی کے مسافر تھے۔ موٹر کار آگے بڑھی۔ سبھی مسافر اس آزمائشی سفر کے دوران ایک انجانی مسرّت محسوس کررہے تھے۔

    وہ سوچ بھی نہیں‌ سکتے تھے کہ خوشی کے یہ لمحے اور بے پناہ مسرّت انھیں ایک آزار کی جانب دھکیل رہی ہے اور اس کار کا ایک مسافر، جو ان کا اپنا ہے، موت کی طرف بڑھ رہا ہے۔

    ایک مقام پر جب تنگ موڑ آیا تو اچانک میری وارڈ گاڑی سے باہر جاگری اور اسی گاڑی کے نیچے آکر کچلی گئی۔ اس کی گردن کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی اور خون بہہ جانے کی وجہ سے اس کی موت واقع ہوگئی۔

    کہتے ہیں‌ کہ یہی میری وارڈ وہ پہلی انسان تھی جو موٹر کار کی وجہ سے اپنی زندگی سے محروم ہوگئی۔ حادثے کے وقت اس کی عمر 42 سال تھی۔

    میری وارڈ آئرلینڈ میں 1827ء میں پیدا ہوئی تھی۔ وہ ایک ایسے خاندان کی فرد تھی جو بالخصوص سائنس کے لیے معروف تھا۔ میری بھی نہایت قابل اور باصلاحیت لڑکی تھی جو کم عمری ہی میں قدرتی ماحول، مظاہرِ فطرت اور فلکیات میں دل چسپی لینے لگی تھی۔ یہ اپنے والد ہنری اور والدہ ہیرٹ کنگ کی تیسری اولاد تھی۔ اس زمانے میں لڑکیوں کو گھر پر تعلیم دینے کا رواج تھا اور کالج یا جامعات میں ان کا داخلہ حاصل کرنا مشکل تھا۔ میری وارڈ اور اس کی بہنوں کو گھر پر ہی ابتدائی تعلیم دی گئی، لیکن وہ عام لڑکیوں کے مقابلے میں مختلف تھی، کیوں کہ ان کا تعلق ایک علمی گھرانے سے تھا۔

    میری وارڈ چار سال کی تھی جب اس نے مختلف اقسام کے حشرات کا مشاہدہ اور انھیں باقاعدہ جمع کرنا شروع کر دیا تھا۔ جلد ہی وہ فلکیات میں دل چسپی لینے لگی، کیوں کہ اس کے ایک کزن نے اس وقت ایک دور بین تیّار کرلی تھی جسے 1917ء تک دنیا کی سب سے بڑی دور بین سمجھا جاتا رہا۔ اس دور بین نے میری کو غور و فکر اور فلکی اجسام کے مطالعے میں مدد دی اور ان کے علم میں خاطر خواہ اضافہ کیا۔

    لائقِ توجہ امر یہ ہے کہ میری وارڈ نے رسمی تعلیم کو اپنے لیے کافی نہیں جانا اور اپنے علم کو بڑھانے اور زیادہ سے زیادہ جاننے کی غرض سے اس دور کے ماہرین اور اساتذہ سے خط و کتابت کا سلسلہ شروع کردیا۔ ایک مرتبہ معروف ماہرِ فلکیات جیمز ساؤتھ نے اسے محدب عدسے سے حشرات کا معائنہ کرتے دیکھا اور ساتھ ہی میری کی بنائی ہوئی حشرات کی تصاویر بھی دیکھیں تو بہت حوصلہ افزائی کی۔ والد نے انہی کہنے پر اپنی بیٹی کو ایک خرد بین دلا دی جس سے میری نے بہت فائدہ اٹھایا۔

    اس کے علمی و تحقیقی کام کو دیکھتے ہوئے میری کو رائل سوسائٹی کا صدر بھی بنایا گیا۔ وہ ان تین خواتین میں شامل تھی جنھیں باقاعدگی سے ڈاک بھیجی جاتی تھی۔
    1854ء میں وہ ہنری وارڈ سے رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوگئی اور یہ خاندان سیاسی اور سماجی اعتبار سے مستحکم اور خطاب یافتہ تھا۔ یہا‌ں بھی اسے اپنے سائنسی اور تحقیقی کام کو جاری رکھنے کا موقع ملا۔

    جب میری نے اپنی پہلی کتاب "خرد بین سے حاصل شدہ خاکے (Sketches with the Microscope)” تصنیف کی تو اس کا خیال تھا کہ یہ کتاب شائع نہیں ہوگی، کیوں کہ اس وقت سماج میں عورتوں کو کسی قسم کی اہمیت نہیں دی جاتی تھی۔ یوں بھی میری وارڈ کا کسی قسم کا تعلیمی پس منظر نہیں تھا۔ تب اس نے ذاتی طور پر اپنے کام کی نقل تیّار کروا کے اس کی تشہیر کروائی اور اس کی شہرت نے لندن کے ناشروں کو اس جانب متوجہ کرلیا۔ اس کی کتاب اوّلین اشاعت کے بعد آٹھ مرتبہ "خرد بین سے منکشف ہونے والے عجائب کی دنیا (A world of Wonders Revealed by the Microscope)” کے عنوان سے بازار میں فروخت کے لیے لائی گئی۔

    ان کی کتابیں اے ونڈ فال فار دا مائیکرو اسکوپ (1856)، اے ورلڈ آف ونڈرز ریویلڈ بائے دا مائیکرو اسکوپ (1857)، مائیکرو اسکوپ ٹیچنگز (1864) اور ٹیلی اسکوپ ٹیچنگز (1859) شائع ہوئیں۔ میری وارڈ نے متعدد تحقیقی مضامین بھی سپردِ قلم کیے۔ کئی برس بعد اس خاتون سائنس دان کے گھر کو میوزیم کا درجہ دے کر عوام کے لیے کھول دیا گیا۔

  • آپکا صوبہ گھوسٹ سکولز کے نام سے مشہور ہے،چیف جسٹس کا وکیل سے مکالمہ

    آپکا صوبہ گھوسٹ سکولز کے نام سے مشہور ہے،چیف جسٹس کا وکیل سے مکالمہ

    سپریم کورٹ میں سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کے فرنزاک آڈٹ سے متعلق سندھ ہاٸی کورٹ کے فیصلے کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سماعت کی ،وکیل سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ نے عدالت میں کہا کہ سندھ ہاٸی کورٹ نے غیر قانونی حکم جاری کیا،جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 2 ارب 30کروڑ کا بجٹ سندھ ٹیکسٹ بورڈ کو ملا ہے، سندھ ہاٸی کورٹ کا حکم ہے کہ اسکا آڈٹ کروایا جائے،عدالتی حکم کے باوجود آپ نے تاحال آڈٹ نہیں کروایا، وکیل سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ نے عدالت میں کہا کہ ہمیں آڈٹ کروانے میں کوٸی اعتراض نہیں ،اعتراض ایڈیشنل رجسٹرار کو سپرواٸزر لگانا اور فوری آڈٹ کا ہے،

    اگر یہ مندر ہوتا ۔۔۔ لیکن یہ تو مسجد ہے ، تحریر: محمد عاصم حفیظ

    مندر گرا دیا اگر مسجد گرا دی جاتی تو کیا ردعمل سامنے آتا؟ چیف جسٹس کا بڑا حکم

    مندر حملہ کیس، متعلقہ ایس ایچ او کو ابھی تک گرفتار کیوں نہیں کیا گیا؟ چیف جسٹس

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے ملک کی سب سے بڑی کمزوری ہے کہ تعلیم پر کوٸی توجہ نہیں دیتا،آپکا صوبہ گھوسٹ سکولز کے نام سے مشہور ہے،آپکے ادارہ کا آڈٹ کون کرتا ہے ؟ وکیل سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ نے عدالت میں کہا کہ ہمارا آڈٹ اے جی پی آر کرتا ہے، حکم دیں تو پچھلے 20سالوں کا آڈٹ پیش کرینگے ،سپریم کورٹ نے آڈیٹر جنرل کو سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کا آڈٹ کرنے کا حکم دے دیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آڈٹ مکمل ہونے پر رپورٹ متعقلہ عدالت میں جمع کرواٸی جائے، عدالت نے معاملہ نمٹا

  • ریحام سے ملاقات؛ جب ڈکیتوں نے اُنکا قیمتی بیگ چھیننے کی کوشش کی. مرزا بلال

    ریحام سے ملاقات؛ جب ڈکیتوں نے اُنکا قیمتی بیگ چھیننے کی کوشش کی. مرزا بلال

    ریحام سے ملاقات؛ جب ڈکیتوں نے اُنکا قیمتی بیگ چھیننے کی کوشش کی. مرزا بلال

    ریحام خان کے تیسرے شوہر مرزا بلال بیگ کا کہنا ہے کہ ان کی ریحام سے پہلی ملاقات ٹرین اسٹیشن پر ہوئی۔ ریحام خان نے انسٹاگرام پر اپنے شوہر مرزا بلال بیگ کا انٹرویو لینے کی ایک ویڈیو شیئر کی ہے جس دوران انھوں نے مرزا بلال سے خود سے پہلی ملاقات سے متعلق سوال کیا۔

     جس پر مرزا بلال نے ڈرامائی انداز اپناتے ہوئے بتایا کہ ’یہ نیویارک کے علاقے میں رات کا وقت تھا، ہلکی سی بارش تھی اور ریحام خان ایک ٹرین اسٹیشن پر کھڑی تھیں، ان کے ہاتھ میں غالبا 10 لاکھ کا بیگ تھا‘۔ مرزا بلال بیگ کے مطابق اسی دوران 5 سے 6 لڑکوں نے ریحام خان کا بیگ چھیننے کی کوشش کی، میں بھی اسی وقت اسٹیشن میں داخل ہوا تھا اور میں نے یہ منظر دیکھتے ہی شرٹ کے بٹن کھولے اور سارے لڑکوں کو پیٹنا شروع کر دیا جس کے بعد آخری جو لڑکا بچا اس نے چھری نکال لی، اسی دوران ریحام کو دھکا لگا اور ٹرین کے ٹریک پر گر گئیں‘۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    رمضان شوگر ملز کو این او سی جاری کرنے کے خلاف پنجاب حکومت کی انٹرا کورٹ اپیل مسترد
    آٹا بحران کیس؛ پشاور ہائیکورٹ کا سیکریٹری فوڈ و دیگر کو مارکیٹ کا دورہ کرنیکا حکم
    لیپ ٹاپ گم ہونے پر گاہک نےغصے میں اپنی کار ہوٹل پر دے ماری
    نادیہ خان 38 ہزار ڈالرز گنوا بیٹھیں. اداکارہ نے دلچسپ واقعہ سنا کر حیران کر دیا
    عدلیہ اورنیب کو درخواست کرتا ہوں جھوٹے کیسز ختم کیے جائیں. وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ
    نئے جوڑے کے مطابق یہ حقیقی کہانی ہے تاہم اس کہانی کو شیئر کرنے کے حوالے سے ریحام نے پوسٹ کا کیپشن بھی درج کیا جس میں درج تھا کہ’ ناقدین اسے خود سے بنائی ہوئی کہانی قرار دیں گے‘۔

  • شہر قائد میں پیپلز الیکٹرک بس سروس کے آپریشنز کا آج سے آغاز

    شہر قائد میں پیپلز الیکٹرک بس سروس کے آپریشنز کا آج سے آغاز

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سندھ کے صوبائی وزیر اطلاعات و ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ پیپلز الیکٹرک بس سروس کے آپریشنز کا آغاز آج سے کیا جائے گا۔

    شرجیل انعام میمن کا کہنا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے محکمہ ٹرانسپورٹ حکومت سندھ کراچی کے شہریوں کے لئے پاکستان کی پہلی الیکٹرک بس سروس کا پہلا روٹ شروع کرنے جا رہا ہے۔ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت ہمیشہ کی ہمیشہ ترقی، اور خوشحالی پر مرکوز ہوتی ہے۔ پاکستان کی پہلی الیکٹرک بس سروس کا آغاز ٹینک چوک جناح ایونیو ملیر کنٹونمنٹ سے سی ویو براستہ کراچی ایئرپورٹ ، شارع فیصل ، ایف ٹی سی ، کورنگی روڈ ،خیابان اتحاد سے کلاک ٹاور تک کراچی کے عوام کو سروس فراہم کرے گی کراچي ايئرپورٹ جانے والے مسافر بھی الیکٹرک بس سروس سے فائدہ حاصل کر سکتے ہیں ، پیپلز الیکٹرک بس سروس کا کرایہ 50 روپے تک ہوگا کراچی کے شہریوں کو جدید ، محفوظ اور آرام دہ سفری سہولیات کی فراہمی پاکستان پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کی اولین ترجیح ہے ،یہ بسیں 20 منٹ میں چارج ہوکر 240 کلومیٹر فاصلہ طے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں یہ منصوبہ پیپلز بس سروس کے فیز ٹو کے تحت چلایا جارہا ہے۔

    زبانی نکاح،پھر حق زوجیت ادا،پھر شادی سے انکار،خاتون پولیس اہلکار بھی ہوئی زیادتی کا شکار

    سندھ کی جیلوں میں افغانی بچوں کی تصاویر، شرجیل میمن نے حقیقت بتا دی

    خواتین کی تصاویر اور ویڈیوز بنانے والے اوباش ملزمان گرفتار

    ان کا کہنا تھا کہ ہماری کوشش ہے کہ کراچی میں دنیا کی 2 سے 3 بڑی کمپنیاں پلانٹ لگائیں جس سے سندھ میں روزگار کے مواقع پیدا ہوں، یہ الیکٹرک بسیں، ہائبرڈ ڈیزل بسوں سے دگنا قیمت پر پاکستان آرہی ہیں کراچی میں پلانٹ لگنے سے ان کی درآمدی ڈیوٹی میں کمی آئے گی اور کم قیمت پر بسیں دستیاب ہوں گی۔

    پروجیکٹ ڈائریکٹر این آر ٹی سی صہیب شفیق نے بتایا کہ 12 میٹر بسوں میں 32 نشستیں عام شہریوں اور 2 نشستیں خصوصی افراد کے لیے ہیں اور 35 سے 40 افراد کھڑے ہو کر سفر کرسکتے ہیں، مجموعی گنجائش 70 سے 90 افراد کی ہے، یہ بسیں 20 منٹ میں چارج ہوجاتی ہیں اور ایک چارج میں 240 کلومیٹر فاصلہ طے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، بسوں کو چارج کرنے کے لیے یو پی موڑ بس ڈپو پر چارجنگ سسٹم لگایا گیا ہے۔

  • حق دو تحریک کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمن گرفتار

    حق دو تحریک کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمن گرفتار

    حق دو تحریک کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمن کو گرفتار کرلیا گیا۔پولیس نے عدالت کے باہر سے انہیں حراست میں لیا /strong>

    سربراہ حق دو تحریک مولانا ہدایت الرحمن کو گوادر کی مقامی عدالت سے پولیس نے گرفتار کرلیا، قبل ازیں انہوں نے چند روز قبل گرفتاری دینے کا اعلان کیا تھا۔ ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ حق دو تحریک کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمٰن نے دھرنے کے شرکاء کو اشتعال دلایا اور سرکاری گاڑیوں پر پتھراو کروا کر لوگوں کو زخمی کیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    رمضان شوگر ملز کو این او سی جاری کرنے کے خلاف پنجاب حکومت کی انٹرا کورٹ اپیل مسترد
    آٹا بحران کیس؛ پشاور ہائیکورٹ کا سیکریٹری فوڈ و دیگر کو مارکیٹ کا دورہ کرنیکا حکم
    لیپ ٹاپ گم ہونے پر گاہک نےغصے میں اپنی کار ہوٹل پر دے ماری
    نادیہ خان 38 ہزار ڈالرز گنوا بیٹھیں. اداکارہ نے دلچسپ واقعہ سنا کر حیران کر دیا
    عدلیہ اورنیب کو درخواست کرتا ہوں جھوٹے کیسز ختم کیے جائیں. وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ
     سٹی تھانہ گوادر میں حق دو تحریک کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمن سمیت دیگر رہنماوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا تھا.
    واضح رہے کہ رواں سال کے آغاز پر منگل 3 جنوری کو ترجمان گوادر پولیس کے مطابق مقدمہ نائب تحصیلدار بلیدہ کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا. ایف آئی آر کے متن کے مطابق حق دو تحریک کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمٰن نے دھرنے کے شرکاء کو اشتعال دلایا تھا. اور سرکاری گاڑیوں پر پتھراو کیا اور لوگوں کو زخمی کیا تھا.

  • سینیٹر مشتاق احمد نے مہنگائی اور آٹے کے بحران کا معاملہ اٹھا دیا

    سینیٹر مشتاق احمد نے مہنگائی اور آٹے کے بحران کا معاملہ اٹھا دیا

    پی آئی اے جہازوں کی خستہ حالی کا معاملہ ایوان میں

    سینیٹ اجلاس میں سینیٹر مشتاق احمد نے مہنگائی اور آٹے کے بحران کا معاملہ اٹھا دیا

    سینیٹر مشتاق احمد نے کہا ہے کہ ملک میں آٹے کا بحران ہے ،آٹا افعانستان اسمگل ہورہا ہے ، ملک میں گندم وافر موجود ہے ،آٹا ، گندم اورڈالر چور کون ہے ؟ آٹا چور ایوانوں میں بیٹھے ہوئے ہیں اس لیے پکڑے نہیں جاتے ،اسحاق ڈار ڈالر کنٹرول نہیں کر سکتے، آٹا ،روٹی اور ادویات کی قلت ہے ،ملک سے وی وی آئی پی کلچر ختم کیا جائے، مراعات یافتہ طبقوں سے مراعات واپس لی جائیں

    سینیٹ اجلاس ،سنیٹر فدا محمد نے پی آئی اے جہازوں کی خستہ حالی کا معاملہ ایوان میں اٹھا دیا ،اجلاس میں کہا کہ ہم پی آئی اے کی فلائٹ پی کے 706سے استنبول گئے ، اس جہاز کی سیٹوں میں فوم تک نہیں تھا ،سیٹوں کا لوھا نکلا ہو تھا گرنے کا خدشہ تھا ،پھر جدہ کی فلائٹ میں سائیڈ کے شیشے ٹوٹے تھے قصر ناز کے حالات خراب ہیں، ہم نے قصر ناز مں رہائش اختیار کی، وہاں بہت کتے تھے، قصر ناز میں کوئی کھانا نہیں ملتا نہ گیس میسر ہوتی ہے،

    سینیٹر طاہر بزنجو نے سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا نے گوادر میں مظاہرے اورغیر اعلانیہ مارشل لا کو کوئی کوریج نہیں دیں، میڈیا سے رابطہ کرکے کہا کہ بلوچستان کو بھی تھوڑی جگہ دیں تو کہا گیا اوپر سے بہت سخت حکم ہے.

    سینیٹ اجلاس میں گزشتہ دنوں دہشت گردی کے واقعات میں شہید ہونے والے سیکورٹی فورسز کے جوان اور دیگر کے لئے دعائے مغفرت کی گئی،دعا سینیٹر عطاءالرحمان نے کروائی، سینیٹر فوزیہ ارشد نے کہا کہ پناہ گاہ کو پاکستان شیلٹر ہوم بنا دیا ہے کوئی بھوکا نہ سوئے پروگرام کو روٹی سب کیلئے بنا دیا گیا سیاسی طور پر ہمارے منصوبے بدلے جارہے ہیں ,سینیٹر دوست محمد خان نے کہا کہ حکومت کچھ فاٹا کے لوگوں کے لیے بھی کریں،شہادت اعوان نے کہاکہ ہم خیبرپختونخوا میں تمام سہولیات فراہم کر رہے ہیںاگر ان کے پاس کوئی تجویز ہے تو بتائیں ہم عمل کرنے کو تیار ہیں،

    زیشان خانزادہ نے کہا کہ میں نے ان سے بینظر انکم سپورٹ پروگرام سے متعلق سوال کیا تھا انہوں نے مجھے احساس پروگرام سے متعلق اعداد و شمار دیئے ہیں،سینیٹر بہرہ مند تنگی نے کہا کہ عمران خان اور اس کا پورا خاندان چور یے،جس کے بعد پی ٹی آئی کے سینیٹرز نے احتجاج شروع کردیا ،سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ بہرہ مند تنگی بدتمیز شخص ہے اس کو باہر نکالیں، چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ ایوان کا تقدس برقرار رکھیں، لیڈر شپ کے حوالے سے الفاظ کا چناو مناسب رکھیں،

    وزیر آئی ٹی نے سینیٹ اجلاس میں کہا کہ سوشل میڈیا پر جعلی خبروں سے متعلق 15ہزار 444 شکایات کی گئی ،6ہزار 418 لنکس کو بلاک کیا گیا سات ھزار 711جعلی لنکس اب بھی قابل رسائی ہیں فیس بک نے 3ہزار 214 شکایات میں سے 2105 جعلی خبروں والے لنکس کو بلاک کیا ، فیس بک پر چھ سو چودہ لنکس اب بھی قابل رسائی ہیں ٹوئٹر پر 5614 اکاونٹس اب بھی موجود ہیں بھیجی گئی شکایات میں سے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے 1315کو مسترد کیا

    سینیٹ اجلاس پیر کی شام 3بجے تک ملتوی کر دیا گیا

    کارکن تپتی دھوپ میں سڑکوں پرخوار،موصوف ہیلی کاپٹر پرسوار،مریم کا عمران خان پر طنز

    خیبرپختونخوا حکومت کا ہیلی کاپٹر جلسوں میں استعمال کیا جا رہا ہے،وفاقی وزیر اطلاعات

    وہ کون ہے جس نے احسان فراموش عمران خان کیلیے ملک کی بقا کی خاطر سب کچھ کیا؟

    سینیٹ میں عمران خان کے ہیلی کاپٹر کے استعمال کا تذکرہ 

  • بھارتی وزیر اعظم کے دورہ پاکستان کے حوالہ سے خبروں پر دفترخارجہ کا ردعمل

    بھارتی وزیر اعظم کے دورہ پاکستان کے حوالہ سے خبروں پر دفترخارجہ کا ردعمل

    ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں کہا ہے کہ وزیراعظم متحدہ عرب امارات کے دو روزہ دورے پر ہیں ،وزیراعظم شہبازشریف نے اماراتی قیادت سے دوطرفہ ملاقاتیں کیں،

    ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ کا کہنا تھا کہ آج وزیراعظم شہبازشریف اماراتی بزنس کمیونٹی سے ملاقاتیں کریں گے،وزیراعظم متحدہ عرب امارات کا 2 روزہ دورہ مکمل کر کے آج ہی وطن واپس پہنچیں گے،رواں ہفتے پاکستان نے جنیوا میں ڈونرز کانفرس کی،عالمی برادری اور مالی اداروں نے پاکستان کے سیلاب زدگان کے لیے دل کھول کر مدد کی موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے امداد خرچ کی جائے گی،پاکستان کابل میں دہشت گردی کے واقعے کی شدید مذمت کرتا ہے، دہشت گردی دونوں ممالک کے لیے خطرہ ہے،وزیرخارجہ بلاول بھٹو نے افغان عبوری وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ،پاکستان مشکل وقت میں افغانستان کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتا ہے،پاکستان افغان سفارتخانے کے ساتھ رابطے میں ہے، موسم سرما میں لوگوں کو سردی سے بچانا حکومت کی ذمہ داری ہے ،وزیر خارجہ بلاول بھٹو 16 سے 20 جنوری تک ڈیوس میں ورلڈ اکنامک فورم میں شرکت کریں گے وزیر خارجہ بلاول بھٹو اور وزیر مملکت حنا ربانی کھر ڈیوس میں عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں کریں گے ،بھارتی وزیر اعظم کے دورہ پاکستان کے بارے میں مضمون مفروضے پر مبنی ہے مفروضے پر مبنی مضمون پر تبصرہ نہیں کرتے ،تجارت اور سرمایہ کاری سے متعلق ایشوز پر بات میں مہینوں لگتے ہیں ،سعودی حکومت کی طرف سے پاکستان میں سرمایہ کاری بڑھانے کا اعلان کو خوش آئند ہے

    چند ماہ بعد عمران خان خود کہیں گے کہ مراسلے والی بات غلط تھی،مبشر لقمان

    آج پھر کہتا ہوں کہ مراسلے سے متعلق جو بھی کہا تھا وہ سچ ہے،عمران خان

     دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے کوششیں جاری رکھے گا،

     سال 2022ء میں پاکستان نے خارجہ محاذ پر اہم کامیابیاں حاصل کیں،

    ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ کا مزید کہنا تھا کہ نیو یارک میں روز و یلٹ ہوٹل نجی پراپرٹی ہے،جموں و کشمیر متنازعہ معاملہ ہے اس کے حل میں عالمی برادری کردار ادا کرے ،پاک بھارت بات چیت میں جو بھی ملک ثالثی کرنا چاہے تو خوش آمدید کہیں گے،جو بھی افغانی غیر قانونی رہائش پذیر یا قید ہےاسے وطن واپس بھجوایا جائے گا،

  • بجلی مہنگی؛ نیپرا نے یکساں ٹیرف کے حوالے سے درخواست پر فیصلہ جاری کر ديا

    بجلی مہنگی؛ نیپرا نے یکساں ٹیرف کے حوالے سے درخواست پر فیصلہ جاری کر ديا

    بجلی مہنگی؛ نيپرا نے یکساں ٹیرف کے حوالے سے درخواست پر فیصلہ جاری کر ديا

    نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے یکساں ٹیرف کے حوالے سے درخواست پر فیصلہ جاری کرتے ہوئے ’کے الیکٹرک‘ صارفین کیلئے بجلی 4.49 روپے تک مہنگی کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ حکومت کی جانب سے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کو “ کے الیکٹرک“ صارفین کے لئے بجلی مہنگی کرنے کی درخواست دائر کی تھی۔ نیپرا کی جانب سے آج بروز جمعہ 13 جنوری کو یکساں ٹیرف کے حوالے سے درخواست پر فیصلہ جاری کیا گیا۔

    نیپرا کی جانب سے جاری بیان کے مطابق مختلف کیٹیگریز کیلئے قیمتوں میں اضافہ 1.49 سے 4.49 روپے تک ہوگا۔ فيصلے سے صارفین پر 16 ارب روپے کا بوجھ پڑے گا۔ قیمتوں کی ایڈ جسٹمنٹ اکتوبر، نومبر، دسمبر 2022 اور جنوری 2023 میں استعمال ہوئیں۔ اضافی ایڈ جسٹمنٹ جنوری سے اپریل 2023 تک 4 ماہ میں وصول کی جائے گی۔ واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے ڈسکوز اور کے الیکٹرک کے یکساں ٹیرف کیلئے درخواست دی تھی۔ نیپرا اتھارٹی نے27 دسمبر کو وفاقی حکومت کی درخواست پر سماعت کی تھی۔

    قبل ازیں نیپرا کے جاری کردہ اعلامیہ میں بتایا گیا کہ وفاقی حکومت نے کے-الیکٹرک کا ٹیرف ڈسکوز کے ساتھ یکساں کرنے کی درخواست جمع کروائی تھی جبکہ ڈسکوز کے لیے مالی سال 22-2021 کی چوتھی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں اوسط 3 روپے 30 پیسے فی یونٹ اضافے کی منظوری دی گئی تھی۔ نیپرا نے کہا تھا کہ وفاقی حکومت یکساں ٹیرف کے حوالے سے کے-الیکٹرک کے لیے بھی یکساں اضافے کی منظوری چاہتی ہے۔

    خیال رہے کہ کے-الیکٹرک نے نومبر میں ماہانہ فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) کی مد میں بجلی 9 روپے 71 پیسے فی یونٹ سستی کرنے کی 2 الگ الگ درخواستیں دائر کی تھیں۔ کے-الیکٹرک کی جانب سے جولائی تا ستمبر کی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 7 روپے 83 پیسے کم کرنے کی درخواست دائر کی گئی ہے، جب کہ اکتوبر کی ماہانہ ایڈجسٹمنٹ میں ایک روپے 88 پیسے کمی کی درخواست کی گئی ہے۔ نیپرا نے 30 نومبر کو سماعت کے بعد کے-الیکٹرک صارفین کے لیے ماہانہ فیول لاگت ایڈجسٹمنٹ میں 2 روپے 15 پیسے فی یونٹ اور سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ (کیو ٹی اے) میں 7 روپے 83 پیسے فی یونٹ کمی کی منظوری دے دی تھی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    رمضان شوگر ملز کو این او سی جاری کرنے کے خلاف پنجاب حکومت کی انٹرا کورٹ اپیل مسترد
    آٹا بحران کیس؛ پشاور ہائیکورٹ کا سیکریٹری فوڈ و دیگر کو مارکیٹ کا دورہ کرنیکا حکم
    لیپ ٹاپ گم ہونے پر گاہک نےغصے میں اپنی کار ہوٹل پر دے ماری
    نادیہ خان 38 ہزار ڈالرز گنوا بیٹھیں. اداکارہ نے دلچسپ واقعہ سنا کر حیران کر دیا
    عدلیہ اورنیب کو درخواست کرتا ہوں جھوٹے کیسز ختم کیے جائیں. وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ
    کے الیکٹرک نے اکتوبر میں پیدا ہونے والی سستی بجلی کی وجہ سے صارفین کو تقریباً 3 ارب 16 کروڑ روپے ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے واپس کرنے کے لیے ایف سی اے میں تقریباً 1.9 روپے فی یونٹ کمی کا مطالبہ کیا تھا، نیپرا نے ڈیٹا کی جانچ کے بعد 3 ارب 59 کروڑ روپے ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے 2.15 روپے فی یونٹ کی منفی ایڈجسٹمنٹ کی تھی۔ کے الیکٹرک نے اپنی دوسری درخواست میں جولائی تا ستمبر کے لیے تقریباً 7.8 روپے فی یونٹ منفی سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کا مطالبہ کیا تھا اور نیپرا نے 7.83 روپے فی یونٹ کی کمی کی تھی۔

  • قائمہ کمیٹی اجلاس میں افغانستان میں میڈیکل طلبہ کی تعلیم پر پابندی پر تفصیلی جائزہ

    قائمہ کمیٹی اجلاس میں افغانستان میں میڈیکل طلبہ کی تعلیم پر پابندی پر تفصیلی جائزہ

    اسلام آباد:سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اینڈ کوارڈینیشن کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر ڈاکٹر محمد ہمایوں مہمند کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔

    باغی ٹی وی : قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں 6دسمبر 2022کو منعقد ہونے والے کمیٹی اجلاس میں دی گئی سفارشات پر عملدرآمد کے علاوہ پاکستان نرسنگ کونسل ایکٹ 1973 کی مبینہ خلاف ورزی, PNC ملازمین کی جانب سے قائم کردہ بوگس اداروں کے ذریعے نرسنگ کے ہزاروں طلباء کے مستقبل کی تباہی، بدعنوانی اور غیر قانونی تقرریوں سے متعلق پبلک پیٹیشن، ڈاکٹر سلمان قاضی کی عوامی عرضداشت کے علاوہ پاکستان میڈیکل کمیشن کی طرف سے میڈیکل کے طالبعلموں کے 350وظائف کی معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔

    قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں افغانستان میں میڈیکل طلبہ کی تعلیم پر پابندی اور پاکستانی طلبہ کی پاکستانی یونیورسٹیز میں ٹرانسفر کے معاملے کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ متعلقہ محکمے کے پاس کسی طالبعلم نے اپروچ نہیں کیا تاہم کمیٹی میں جو معاملہ اٹھایا گیا ہے متعلقہ محکموں سے مل کر اس کا جائزہ لیا جائے گا۔ اُن بچوں کا دسمبر میں امتحان ہونا تھا اُن کا ایک سال ضائع ہو گیا ہے۔ جس پر چیئرمین قواعد وضوابط کے مطابق ہی معاملات کو حل کرنے کی ہدایت کر دی۔

    کمیٹی اجلاس میں 6دسمبر 2022کو منعقد کمیٹی اجلاس میں دی گئی سفارشات پر عملدرآمد کا بھی تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ دفاتر میں خواتین کو تحفظ فراہم کرنا ہماری ذمہ داری ہے ہراسگی کے معاملات کو تفصیلی دیکھ کر فیصلہ کرنا چاہئے۔

    چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ہماری ہدایات تھیں کہ اسسٹنٹ رجسٹرار کو ان کے پیرنٹ محکمہ میں واپس بھیجیں۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ پی این سی کا قانون تو بن گیا مگر رولز ریگولیشن کا ڈرافٹ بنایا گیا مگر نوٹیفائی نہیں ہو سکے۔ اب نیا ایکٹ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے منظور ہو چکا ہے تو نئے رولز ریگولیشن مرتب کئے جائیں گے۔

    جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ بہتر یہی ہے کہ ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دی جائے جو پی این سی سے متعلقہ امور کا جائزہ لے کر رپورٹ تیار کرے۔ سینیٹر پروفیسر ڈاکٹر مہر تاج روغانی کی سربراہی میں ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دی گئی جس کے ممبران میں سینیٹر روبینہ خالد اور سینیٹر سردار محمد شفیق ترین شامل کئے گئے جو معاملات کا جائزہ لے کر کمیٹی کو رپورٹ پیش کرے گی۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اگر یہ معاملہ نہ اٹھتا تو پتہ ہی نہ چلتا کہ نرسنگ کونسل ایسے ہی چل رہی ہے۔

    صدر پی این سی نے کہا کہ انہوں نے متعلقہ محکموں کو قانون کے مطابق کام کرنے کا کہا تو ان کے خلاف معاملات اٹھائے گئے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ پی این سی کے 2019 میں رولز کے ڈرافٹ بنائے گئے تھے مگر نوٹیفائی نہیں ہو سکے۔ سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ نرسنگ کالج کی انسپیکشن کا طریقہ کار کیا ہے اور کسی بھی کالج کیلئے کیا قواعد وضوابط ہوتے ہیں کمیٹی کو تفصیل آگاہ کیا جائے۔

    انہوں نے کہاکہ پی این سی ایک ریگولیٹری باڈی ہے۔ ان کے اندرونی جھگڑوں کی وجہ سے لوگ متاثر ہو رہے ہیں۔ قائمہ کمیٹی نے ہدایت کہ کہ ہرنرسنگ کالج کا جائزہ لیا جائے اور جو قانونی طریقہ کار سے ہٹ کر کام کر رہے ہیں۔ انہیں مناسب وقت دیا جائے جس کے اندر وہ اپنے طریقہ کار کو قانون کے مطابق بہتر کریں۔

    سپیشل سیکرٹری وزارت صحت نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ معاملات کی ایف آئی اے میں بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں اور جو الزامات تھے ان کا بھی جائزہ لیا جارہاہے رپورٹ آنے تک انتظار کیا جائے۔ ریکارڈ ایف آئی اے کے پاس موجود ہے۔ کمیٹی اجلاس میں صدر پی این سی کے ڈی نوٹیفائی کے احکامات بھی پیش کیے گئے۔

    چیئرمین کمیٹی نے قائمہ کمیٹی کو آگاہ کیا کہ یہ وزارت قانون کی طرف سے نوٹیفیکیشن کیا گیاہے۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ قائمہ کمیٹی صدر پی این سی کے ڈی نوٹیفیکیشن ملنے کے بعد شازیہ ثوبیہ کا کمنٹ قائمہ کمیٹی نہیں لے سکتی۔

    قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں ڈاکٹر سلمان قاضی کی عوامی عرضداشت کے حوالے سے چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ آج سی پی ایس کا سالانہ اجلاس ہو رہا ہے اور انہوں نے درخواست کی ہے کہ ان کا ایجنڈا آئندہ اجلا س میں زیر بحث لایا جائے۔ صرف بنیادی ڈھانچے میں فرق ہے۔ قائمہ کمیٹی نے معاملے کو آئندہ اجلاس تک موخر کر دیا۔

    پاکستان میڈیکل کمیشن کی طرف سے میڈیکل کے طالبعلموں کے 350وظائف کی معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ جن طالبعلموں ایک دفعہ ایڈمیشن مل چکا ہے ان کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ جب وظائف ایوارڈ ہوا تھا اس کو جاری رکھنے کیلئے کچھ رولز بنے تھے۔ ایک طالبعلم جب فرسٹ ایئر میں وظیفہ لیتا ہے تو ایک میرٹ ہونا چاہیے جو پہلے نہیں تھا۔

    جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ یہ وظائف ان بچوں کیلئے تھے جو مستحق اور ضرورت مند تھے۔ اگر ایک طالبعلم سپلیمنٹری میں پاس ہو جاتا ہے تو وظیفہ ملنا چاہیے اور پلان میں کم ازکم پانچ سال کا وظیفہ لازمی ہوناچاہیے آخری سال میں دیکھا جائے۔ اچھی پالیسیوں کو جاری رکھیں اور جن پالیسیوں میں کوئی مسائل ہیں ان کو بہتر بنایا جائے۔ سید ذوالقرنین کاظمی کے معاملے کے حوالے سے چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ وہ آئندہ اجلاس میں اپنی شرکت یقینی بنائیں تاکہ ان کا موقف سن کر معاملہ کاجائزہ لیا جا سکے۔

    قائمہ کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سینیٹرز، ڈاکٹر پروفیسر مہر تاج روغانی، ثنا جمالی، روبینہ خالد، بہرامند خان تنگی اور سردار محمد شفیق ترین کے علاوہ سپیشل سیکرٹری وزارت صحت، پارلیمانی سیکرٹری برائے صحت شازیہ ثوبیہ، ایڈیشنل سیکرٹری اسٹبلشمنٹ ڈویژن اور متعلقہ وزارت کے سینئر حکام نے شرکت کی۔