Baaghi TV

Tag: whatsapp

  • میٹا کا نیا فیچر، اب واٹس ایپ صارفین بغیر نام گروپ بناسکیں گے

    میٹا کا نیا فیچر، اب واٹس ایپ صارفین بغیر نام گروپ بناسکیں گے

    واٹس ایپ انفو کے مطابق واٹس ایپ ایک نیا فیچر متعارف کروا رہا ہے جو صارفین کو بغیر کسی نام کے گروپ چیٹس بنانے کی اجازت دیتا ہے۔ فیچرجس کا فی الحال محدود تعداد میں صارفین کے ساتھ تجربہ کیا جا رہا ہےچھ افراد تک گروپ چیٹس کے لیے دستیاب ہوگا جبکہ جب کوئی صارف بغیر نام کے گروپ چیٹ بناتا ہے تو اس کا نام خود بخود ان لوگوں کے نام پر رکھا جائے گا جو اس میں شامل ہیں۔

    واضح رہے کہ گروپ کا نام ہر صارف کے لیے مختلف ہوگااس بات پر منحصر ہے کہ اس نے اپنے فون میں دوسرے اراکین کو کیسے محفوظ کیا ہے۔ جیسے کہ مثال کے طور پراگر آپ اپنے دوستوں جان اور جین کے ساتھ گروپ چیٹ بناتے ہیں تو آپ کا فون گروپ کا نام جان جین رکھے گا۔ تاہم جان کا فون اس گروپ کا نام جین اور آپ رکھ سکتا ہے جبکہ واٹس ایپ کا کہنا ہے کہ نیا فیچر اس لیے بنایا گیا ہے کہ گروپ چیٹس کو جلدی اور آسانی سے بنایا جا سکے۔

    خیال رہے کہ کمپنی نے ایک بلاگ پوسٹ میں کہا ہم جانتے ہیں کہ بعض اوقات آپ کو جلدی میں ایک گروپ بنانے کی ضرورت ہوتی ہےیا آپ کے ذہن میں گروپ کا کوئی موضوع نہیں ہوتا ہے۔ تاہم یہ نیا فیچر گروپ چیٹ کے ساتھ شروع کرنا آسان بناتا ہےبغیر کسی نام کے آنے کی فکر کیے بغیریہ گروپ بنا دے گا اور توقع ہے کہ یہ نیا فیچر آنے والے ہفتوں میں تمام صارفین کے لیے متعارف کرایا جائے گا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    دہشتگرد، سہولتکار اُن کے ساتھیوں کا پیچھا کریں گے،آرمی چیف
    شاہد خاقان عباسی کیخلاف ایل این جی ریفرنس، اسپیشل جج سینٹرل کو منتقل
    نوعمرسگریٹ نوشی کرنے والوں کی دماغی ساخت تبدیل ہوتی ہے،تحقیق
    علاوہ ازیں نئے گروپ چیٹ فیچر کے علاوہ واٹس ایپ دیگر بہتریوں پر بھی کام کر رہا ہےجس میں ایک بگ کو ٹھیک کرنا بھی شامل ہے جس کی وجہ سے تصاویر کو گروپ چیٹ میں بھیجے جانے پر سکڑ جاتا ہے اور کمپنی مبینہ طور پر ایک ایسے فیچر پر بھی کام کر رہی ہے جو صارفین کو بیان کرکے اسٹیکرز بنانے کی اجازت دے گی۔

  • آئی ٹی ڈپلومیسی سے آپکے موبائل کی جاسوسی تک از طہ منیب

    آئی ٹی ڈپلومیسی سے آپکے موبائل کی جاسوسی تک از طہ منیب

    ہم خود اجازت دیتے ہیں جب بھی ہم کوئی ایپ انسٹال کرتے ہیں، اگر ہم اسکی اجازت نا دیں تو ہم اس ایپ سے درست فائدہ ہی نہیں اٹھا سکتے ، جیسا کہ گیلری، آڈیو، کیمرہ تک ایکسس اور اس سے وہ ہمارا سب کہا ، دیکھا، بولا سنتے ریکارڈ کرتے اور اسکے مطابق اسکی بنیاد پر ہمیں گائیڈ یا ڈکٹیٹ کرتے ہیں۔ مزید جب بھی کسی ایپ کو انسٹال کرنا ہوتا ہے تو وہ ایک صفحہ سامنے لاتے ہیں جس پر انکی جانب سے اصول و ضوابط لکھے ہوتے ہیں جسے ٹک کیے بغیر آپ آگے بڑھ ہی نہیں سکتے اور جسے ہم ہمیشہ آنکھیں بند کر کے جلدی میں اسے پڑھے بغیر ہی ٹک کر کے انسٹال کے بٹن پر کلک کر کے ہی دم لیتے ہیں، اگر اسے ہم پڑھ لیں تب شروع میں ہی ہم محتاط ہو جائیں یا شاید باز آجائیں لیکن ایسا ہوتا نہیں ہے کیونکہ یہ ہمارے مزاج میں شامل نہیں ہے۔

    یہ ٹیکنالوجی میں خود مختار ممالک کا باقیماندہ دنیا پر اسی طرح کا استحصال ہے جیسا کہ وہ کمزور معیشتوں سے تعاون کے نام پر قرضوں کے بعد انکی خودمختاری گروی رکھوا لیتے ہیں اور داخلی خارجی معاملات پر کنٹرول کر لیتے ہیں۔

    بالکل اسی طرز پر انہیں بڑے ممالک کی ٹیکنالوجی میں برتری نے خطرناک حد تک دنیا کے ہر شخص کا ہر طرح کا بائیو ڈیٹا انکی گود میں ڈال دیا ہے جس سے اس شخص کو چلانا اسکی پسند نا پسند اسکی نفسیات غرض سب کچھ ان کے ہاتھ چلا گیا ہے، اور آپکی میری ہم سب کی مجبوری ہے اگر دنیا کے ساتھ چلنا ہے تو ” یہ تو ہو گا”۔ ٹیکنالوجی کا کنٹرول معاشی کنٹرول سے سو گنا بڑھ کر ہے کیونکہ یہاں چند ڈکٹیٹرز حکمرانوں یا ملکی سطح کے مرکزی اداروں تک انکی ڈکٹیشن نہیں ہوتی بلکہ اس کا دائرہ کار ہر فرد تک پہنچ جاتا ہے ۔ آپ یہ دیکھیں کہ صرف فیس بک کے ڈاؤنلوڈز پانچ سے چھ ارب کے درمیان ہیں جو دنیا کی کل آبادی کا نوے فیصد ہیں، تقریباً یہی اعداد و شمار باقی بڑی ویب سائٹس و ایپس کے بھی ہیں۔

    ٹیکنالوجی میں خود مختار دنیا کے بڑے ملکوں کی جنگیں پالیسیاں اب اسی طرز پر ہوتی ہیں جیسا کہ آپ نے دیکھا چند ماہ پہلے امریکہ نے چینی کمپنی ہواوے کو بین کیا ، روسی ایپس پہلے سے بین تھیں، روس و چائنہ میں امریکی ایپس بین ہیں۔ اور تو اور لداخ میں چین سے پڑنے والی مار کا جواب بھارت نے 59 چینی ایپس کو بین کر کے دیا ہے۔

    فی الحال پاکستان جیسے معاشی اعتبار سے کمزور ملک کے بس کی بات نہیں کہ ٹیکنالوجی کے اس میدان میں خود کوئی بڑی ایجادات کرے یا ان کمپینوں سے اپنا کچھ منوا سکے ۔ تقریباً دو ماہ حکومت پاکستان نے تقریباً ان تمام بڑی ایپس کو کچھ اصول و ضوابط پر پابند کرنے کی کوشش کی جس پر ان سب نے پاکستان سے اپنے تمام آپریشنز کو بند کرنے کی دھمکی دی اور تاحال حکومت اس پر کسی قسم کی معمولی شرائط نہیں منوا سکی، بلکہ چند ہفتے قبل پاکستان میں ٹویٹر ڈاؤن پر یہ شبہ کیا گیا تھا کہ یہ پاکستان کو ٹریلر دیکھایا گیا ہے کہ ہمارے سے اپنی سروسز کو بند کرنا کوئی بڑا سودا نہیں۔

    بہرحال ٹیکنالوجی ایک ایسا وسیع موضوع ہے جسے ایک فیس بک پوسٹ یا تحریر میں مکمل کرنا ناممکن ہے، کوشش ہوگی کہ مستقبل میں اس کے دفاعی، معاشی، معاشرتی، ثقافتی، نفسیاتی اثرات پر بات کروں ، فی الوقت اتنا ہی۔

  • یوکرین کے صدر نے عالمی دنیا کے قائدین کی مزاحیہ واٹس ایپ گفتگو شیئر کردی

    یوکرین کے صدر نے عالمی دنیا کے قائدین کی مزاحیہ واٹس ایپ گفتگو شیئر کردی

    یوکرین کے صدر ولودومیر زیلینسکی نے عالمی دنیا کے بڑے قائدین کی واٹس ایپ گروپ کی مزاحیہ گفتگو شئیر کردی. اس گروپ میں یوکرائن، امریکہ، انگلینڈ، فرانس، جرمنی، اسپین، فن لینڈ، روس، چائنہ، ڈنمارک، شمالی کوریہ اور جنوبی کوریہ کے قائدین سمیت آئی ایم ایف اور یوکرین کے بزنس مین اور سیاستدان پیٹرو پوروشینکو شامل ہیں.

    تفصیلات کے مطابق اس گروپ کی گفتگو کا آغاز یوکرین کے قائد "خوش آمدید سب کو” سے کرتے ہیں، گفتگو میں کچھ دیر بعد یوکرین کے بزنس مین پیٹرو پوروشینکو اس وقت گروپ چھوڑ دیتے ہیں جب امریکہ کے لیڈر سب کو خوش آمدید کہتے ہیں. لیکن کچھ دیر بعد جب امریکی لیڈر بزنس کی بات کرتے ہیں تو پیٹرو پوروشینکو گروپ کو دوبارہ جوائن کرلیتے ہیں. اس بزنس ڈیل کے جواب میں جب یوکرین کے لیڈر قرضہ لینے کی بات کرتے ہیں تو آئی ایم ایف گروپ ہی چھوڑ دیتا ہے، لیکن اگلے ہی لمحے جب یوکرین اپنے قرضے کی قسط واپس کرنے کی بات کرتا ہے تو آئی ایم ایف ایک مرتبہ پھر گروپ کو جوائن کرلیتا ہے. سب سے مزاحیہ بات یہ تھی کہ جب یوکرین اگلا میسج یہ کرتا ہے کہ "ہمیں اگلی قسط کب ملے گی” آئی ایم ایف ایک مرتبہ پھر گروپ چھوڑ دیتا ہے.

    https://twitter.com/rama_rajeswari/status/1175280153510854657

    امریکی لیڈر غلطی سے میسج کردیتے ہیں کہ "تم بہت خوبصورت لڑکی ہو” لیکن ساتھ ہی اس میسج کو ڈیلیٹ کردیتے ہیں اور معافی بھی مانگتے ہیں. امریکی لیڈ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم گرین لینڈ کو خرید لیں گے، جس پر دنمارک کے لیڈر کہتے ہیں "گرین لینڈ سیل کیلئے نہیں ہے” اس ساری گفتگو کو چائنہ بھی جوائن کرتا ہے اور امریکہ کو مشورہ دیتا ہے کہ میں اس کی کاپی بناکر تمہیں 10 فیصد سستی بیچ دوں گا”.

    https://twitter.com/rama_rajeswari/status/1175280500606263296

    واضح رہے کہ یوکرین کے صدر اس میٹنگ میں آئے تھے اور یہ مزاحیہ گفتگو شیئر کی، جس پر پورا ہال قہقہوں سے گونج اٹھا.