Baaghi TV

Tag: women

  • بینظیر  کفالت کے تحت 75 لاکھ مستحقین میں 68 ارب روپے تقسیم

    بینظیر کفالت کے تحت 75 لاکھ مستحقین میں 68 ارب روپے تقسیم

    بینظیر کفالت کے تحت 75 لاکھ مستحقین میں 68 ارب روپے سے زائد کی رقم تقسیم کی جاچکی ہے

    ترجمان بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے مطابق اب تک بی آئی ایس پی کے تحت مالی سال 23-2022 کی بینظیر کفالت کی چوتھی سہ ماہی قسط کی ادئیگی جاری ہے اور اب تک 75 لاکھ سے زائد مستحق خواتین میں 68 ارب روپے سے زائد کی رقم تقسیم کی جا چکی ہے۔
    بینظیر کفالت کے تحت 90 لاکھ رجسٹرڈ گھرانوں کو 9000 روپے فی خاندان ادا کئے جارہے ہیں۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام اپنے پارٹنر بینکوں، یعنی بینک الفلاح اور حبیب بینک لمیٹڈ (HBL) کو 81 ارب روپے سے زائد کی رقم جاری کر چکا ہے۔

    پروگرام کے ترجمان نے کہا کہ بینظیر کفالت کے علاوہ رجسٹرڈ خاندانوں کے بچوں کو بھی بینظیر تعلیمی وظائف دیے جا رہے ہیں، تاہم تعلیمی وظائف کے حصول کے لیے سکول میں 70 فیصد حاضری لازمی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بشریٰ بی بی پھنس گئی،بلاوا آ گیا، معافی مشکل
    پشاور ہائی کورٹ، سونے کے قیمتوں کے تعین پر سماعت
    اسمبلیاں تحلیل کرنے کی بجائے مدت پوری کرنے دینی چاہئے،نیئر بخاری
    واشنگٹن پاکستانی سفارتخانے کی پرانی عمارت کس نے خریدی؟
    نجی تعلیمی اداروں کو بلا معاوضہ پلاٹ الاٹ کرنے کا فیصلہ
    روپیہ کی قدر میں اضافے کو بریک، ڈالر ایک بار پھر مہنگا

    علاوہ ازیں یہ بھی کہا گیا کہ کسی بھی شکایت کی صورت میں مستحق افراد بی آئی ایس پی کے قریبی تحصیل دفاتر سے رجوع کر سکتے ہیں یا بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ٹول فری ہیلپ لائن نمبر 080026477 پر کال کر سکتے ہیں۔ بی آئی ایس پی کے ترجمان نے اس بات کا اعادہ کیا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا کوئی بھی پیغام صرف 8171 سے بھیجا جاتا ہے اس کے علاوہ کسی دوسرے نمبر سے آنے والے پیغامات پر بھروسہ نہ کیا جائے۔

  • آئی سی سی نے مینز اور ویمنز کرکٹ ٹیموں کیلئے یکساں انعام کا اعلان

    آئی سی سی نے مینز اور ویمنز کرکٹ ٹیموں کیلئے یکساں انعام کا اعلان

    انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے مینز اور ویمنز کرکٹ ٹیموں کے لیے یکساں انعامی رقم کا اعلان کردیا ہے جبکہ مینز اور ویمنز کرکٹ ٹیموں کے لیے یکساں انعامی رقم کا اعلان ڈربن میں آئی سی سی کی سالانہ میٹنگز کے دوران کیا گیا ہے ۔ آئی سی سی ٹورنامنٹس کی فاتح، رنراپ مینز اور ویمن ٹیموں کو برابر انعامی رقم ملا کرے گی۔

    خیال رہے کہ آئی سی سی کے ہرممبر کی فنڈنگ میں خاطر خواہ اضافہ کردیا گیا ہے اور اس سے اب تمام ممبران کو یکساں بنیاد کی تقسیم پر فنڈز ملیں گے۔ آئی سی سی نے ٹیسٹ کرکٹ میں سلو اوور ریٹ کی پابندیوں میں ترمیم کی توثیق کردی۔ موجودہ ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ سائیکل کے آغاز سے نئے اوور ریٹ قوانین لاگو ہوں گے، کھلاڑیوں کو ان کی میچ فیس کے 5 فیصد کے برابر جرمانہ عائد کیا جائے گا، اوور ریٹ کی زیادہ سے زیادہ سزا 50 فیصد میچ فیس کا حصہ ہوگا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    کبری خان اور میں شادی نہیں کررہے گوہر رشید
    فوجی عدالتوں میں سویلین کے ٹرائل کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقرر
    علی امین گنڈاپور کے گھر کی بجلی واجبات کی عدم ادائیگی پر کاٹ دی گئی
    ڈالر کے مقابلہ میں روپے کی قدر میں مزید بہتری
    شہر یار آفریدی کی ہمشیرہ انتقال کر گئیں
    تاہم واضح رہے کہ حال ہی میں انڈیا کی ٹیم کے پلیئرز پر پوری 100 فیصد میچ فیس کا جرمانہ عائد کر دیا گیا تھا۔ آئی سی سی اعلامیے کے مطابق کسی ٹیم کے 80 اوور تک پہنچنے سے پہلے ہی آؤٹ ہونے پر اوور ریٹ جرمانہ نہیں ہوگا۔ آئی سی سی کے مطابق نئے ایونٹس کے لیے اب کم از کم 7 مقامی کھلاڑیوں کو رکھنے کی شرط ہوگی، آرگنائزنگ ممبر بورڈ کسی کھلاڑی کے ہوم بورڈ کو شرکت کی فیس بھی ادا کرے گا۔

  • جہالت کے تالے اسلام نے کھلوائے

    جہالت کے تالے اسلام نے کھلوائے

    جہالت کے تالے اسلام نے کھلوائے

    ازقلم غنی محمود قصوری

    مورخہ 3 جولائی 2023 کو طاہرہ کاظمی کا ایک کالم ویب چینل،ہم سب ڈاٹ کام، پہ شائع ہوا جس کا نام ہے ویجائنا کو تالا لگا ہے

    ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کا کہنا ہے کہ یہ کالم انہوں نے پاکستان میں کام کرنے والی گائناکالوجسٹ( لیڈی ڈاکٹروں و گائنی سٹاف) کی وساطت سے پوری نیک نیتی سے اور پوری ذمہ داری سے لکھا ہے جس میں یہ بات سامنے آئی کہ پاکستان کے کچھ قبائلی علاقوں میں عورت کی ویجائنا ( عورت کی شرم گاہ) کو ان کے شوہر تالا لگا دیتے ہیں تاکہ وہ عورت کہیں اور منہ نا مار سکے یعنی اپنے خاوند کے علاوہ کسی اور سے راہ مراسم نا رکھ سکے

    خیر ایک کالم انہوں نے لکھا جس کو میں سچ مان لیتا ہوں اور بطور ثبوت ڈاکٹر طاہرہ کاظمی سے سوال کرتا ہوں کہ اگر ایسا ہے تو خدارا یہ بات پورے ثبوت کے ساتھ سامنے لے کر آئیں اور ایسے غلیظ لوگوں کو سزا دلوانے میں کلیدی کردار ادا کریں تاکہ آپکی وجہ سے کئی عورتوں کی زندگیاں اذیت سے بچ سکیں اور وہ اسلام کی دی ہوئی آزادی میں پوری آب و تاب سے زندگی گزار سکیں کیونکہ اسلام کے مطالعہ میں کہیں بھی ایسا کوئی تصور نہیں اور نا ہی ایسا جبر ہے بلکہ اسلام تو عورت کو ایک خاص مقام مہیا کرتا ہے اور اس بات پہ زور دیا گیا ہے کہ مرد اپنی بیوی کی ہر ضرورت اپنی بساط کے مطابق لازمی پوری کرے اگر وہ نا پورا کر سکے تو اسلام نے جہالت کے تالے توڑتے ہوئے عورت کو خلع کا اختیار دیا ہے-

    مجھے قطعاً علم نہیں کہ ڈاکٹر طاہرہ کاظمی نے یہ تالے حقیقت میں دیکھے ہیں یاں نہیں مگر پروف دینا ان پہ لازم ہے تاکہ ریاست پاکستان اس ظلم کو روکےاور اگر انہوں نے یہ بات محض اڑتا تیر کے مصداق چھوڑی ہے تو یہ بہت ہی غلط بات ہےراقم نے تحقیق کی خاطر ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کی فیسبک وال کا وزٹ کیا جہاں اس بات پہ سخت مایوسی ہوئی کہ کچھ نام نہاد دین کے ٹھیکیدار ملاں حضرات بجائے طاہرہ کاظمی سے پروف مانگنے کے اور ایسے ظالم مردوں کو سزا دینے کے مطالبے کے بجائے انتہائی گندی زبان استعمال کرتے ہوئے اپنی گندگی ظاہر کر رہے ہیں-

    چاہئیے تو یہ تھا یہ لوگ عملاً پروف دیتے ہاں یاں پھر نا کے مگر یہ لوگ تو گندگی پہ اتر آئے اگر کوئی مجھ جیسا دنیا دار ایسا کرتا بات تب بھی کچھ اور تھی مگر یہاں تو نام نہاد ملاں جن میں سے اکثر کو میں ذاتی جانتا ہوں ٹھیک ہے انسان خطاء کار ہے گالی بھی دے سکتا ہے مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ کسی کی بات کی تحقیق کی بجائے اس پہ گندی اچھالی جائے اور بجائے بات کی تہہ تک جانے کے ایک عورت پہ ٹھرک، ہوس، فرسٹریشن یا جنسی ہراسمنٹ کا راستہ بنایا جائے-

    خیر میں ایک قلمکار ہوں میں دونوں طبقوں ڈاکٹر طاہرہ کاظمی اور نام نہاد دین کے ٹھیکیدار بنے بغیر دلیل ملاؤں کو مخاطب کرکے بتلاتا ہوں کہ کس طرح دین اسلام میں عورت پہ لگے جہالت کے تالے تڑوائے اسلام میں مرد حاکم تو ضرور ہے مگر درحقیقت ایک وفا شعار مرد اپنی بیوی،بہن,،بیٹی کا درحقیقت رکھوالا اور چوکیدار ہونے کیساتھ اس کا غلام بھی ہے اور اس غلامی پہ فخر بھی ہے کیونکہ عورت صنف نازک ہے اور اسے سماج کے ظالم درندوں سے بچانا اسی طاقتور مرد کا فرض ہے-

    آج بھی مغرب میں عورت اپنے مرد کے شانہ بشانہ کام کرکے بچے پالتی ہے جبکہ اسلام میں مرد کو حاکم قرار دیتے ہوئے گھر کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے سو مطالعہ اسلام کرلیں کمانا اور گھر چلانا مرد پہ فرض ہے نا کہ عورت پہ ہاں عورت اگر اپنی مرضی سے مرد کی معاون بنے تو کوئی روک ٹوک نہیں بلکہ گھر و معاشرے میں مذید خوشحالی آتی ہے آج ارض پاک میں عورت وزیر اعظم ،ایم پی اے, ایم این اے،سینیٹرز،ڈاکٹرز،پائلٹ، جج بلکہ سب سے اہم و مشکل محکمے فوج میں جرنیل تک جا پہنچی ہے اور یہ سب اسلام کی عورت کو دی گئی برابری کے باعث ہی ممکن ہوا –

    حالانکہ اسلام نے جو مقام عورت کو دیا وہ کسی اور مذہب نے نا تو دیا ہے نا ہی دے پائے گا قران مجید فرقان حمید میں ایک سورہ کا نام نساء ہے جس سے عورت کی حرمت وضع ہوتی ہے یعنی صنف نازک کا اس قدر احترام ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قران کی ایک سورہ کو عورت نام کی نسبت سے نساء رکھ دیا کیا کسی اور مقدس کتاب میں بھی ایسا ہے؟ہرگز نہیں دورِ جاہلیت میں عرب کی عورتوں کی قدر و منزلت ذرہ برابر بھی نہ تھی وہ ہر قسم کے انفرادی و اجتماعی حقوق سے محروم تھی اس دور جاہلیت میں عورت صرف ورثے ہی سے محروم نہیں رکھی جاتی تھی بلکہ اس کا شمار اپنے باپ، شوہر یا بیٹے کی جائیداد میں شمار ہوتا تھا چنانچہ مال و جائیداد کی طرح اسے بھی ورثے اور ترکے میں تقسیم کر دیا جاتا تھا اور بازاروں میں مویشیوں کی طرح بیچ دیا جاتا یا پھر زندہ درگور کر دیا جاتا تھا-

    پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور عورت کو برابری نہیں بلکہ مرد سے زیادہ تکریم و تعظیم کے درجات ملے ، اللہ تعالی نے اپنے محبوب نبی کریم سے بذریعہ وحی پیغام بجھوایا جو آج بھی ویسے ہی ہے

    وَإِذَا بُشِّرَ أَحَدُهُمْ بِالْأُنْثَىٰ ظَلَّ وَجْهُهُ مُسْوَدًّا وَهُوَ كَظِيمٌ ۔يَتَوَارَىٰ مِنَ الْقَوْمِ مِنْ سُوءِ مَا بُشِّرَ بِهِ ۚ أَيُمْسِكُهُ عَلَىٰ هُونٍ أَمْ يَدُسُّهُ فِي التُّرَابِ أَلَا سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ۔

    (النحل:59 ۔۔60)

    ترجمہ ۔ (اور) جس بات کی اسے خبر دی گئی ہے اس کی(مزعومہ) شناعت کے باعث وہ لوگوں سے چھپتا (پھرتا) ہے (وہ سوچتا ہے کہ) آیا وہ اسے(پیش آنے والی) ذلت کے باوجود( زندہ ) رہنے دے یا اسے( کہیں ) مٹی میں گاڑ دے ۔ سنو جو رائے وہ قائم کرتے ہیں بہت بری ہیں

    یہ آیت اس بابت نازل ہوئی کہ عورتوں کو زندہ درگور کرنا سخت گناہ ہے سو حضرت آدم کا بیٹا اس گناہ عظیم سے دور رہے
    دوسری جگہ فرمایا

    خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا۔

    (النساء:1)

    ترجمہ ۔ اللہ نے تمہیں ایک (ہی) جان سے پیدا کیا اور اس کی جنس سے ہی اس کا جوڑا پیدا کیا۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے اس آیت سے بہت اچھی طرح واضح کر دیا ہے عورت اور مرد بحیثیت انسان ایک ہی منصب پر فائز ہیں، مطلب یہ کہ عورت سے غیر انسانی برتاؤ کی مکمل نفی ہو گئی اور جو ایسا کرے گا اس پہ حد لگے گی کیونکہ وہ عورت بھی انسان ہے اور ہر مرد کی طرح اس کے بھی جذبات ہیں احساسات ہیں، وہ بھی مردوں کی طرح کھاتی، پیتی ، سانس لیتی اور دیگر معاملات میں مردوں کی طرح مساوی حیثیت کی حامل ہے

    اس آیت سے عورت کی مرد پر بعض امور میں برابری واضع ہے

    اسلام نے جہاں مردوں کے لئے علم کو فرض قرار دیا وہاں عورت کے لیے اس کے دروازے کھولے اور جو بھی اس راہ میں رکاوٹ و پابندیاں تھیں سب کو ختم کردیا اسلام نے لڑکیوں کی تعلیم و تربیت کی طرف خاص توجہ دلائی اور اس کی ترغیب دی
    جیسا کہ رسولِ خدا نے فرمایا کہ

    طَلَبُ العِلْمِ فَرِیْضَۃٌ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ۔

    (سنن ابن ماجہ)

    عِلم کا حاصل کرنا ہرمسلمان مرد (و عورت)پر فرض ہے اور دوسری جگہ حضرت ابوسعید خدری کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ

    فَلَہُ الْجَنَّةُ مَنْ عَالَ ثَلاثَ بَنَاتٍ فَأدَّبَہُنَّ۔

    (ابو داؤد)

    ترجمہ : جس نے تین لڑکیوں کی پرورش کی ان کو تعلیم تربیت دی، ان کی شادی کی اور ان کے ساتھ (بعد میں بھی) حسنِ سلوک کیا تو اس کے لیے جنت ہے

    واغع رہے کہ نا تو دور جہالت میں مرد کو زندہ درگور کیا جاتا تھا نا ہی مرد کو وراثت سے محروم رکھا جاتا تھا یہ سب قدغنیں عورتوں کے لئے ہی تھیں جن کو میرے نبی نے برابر حقوق دے کر اعلی مقام عطا فرمایا اور جہالت کے سارے تالے توڑ ڈالے پھر بھی کوئی آج عورت کی تضحیک کرے تو وہ اپنی عقل کا علاج کروائے اور مطالعہ اسلام کرے کیونکہ ایک پکے سچے مسلمان کے ہاں عورت ماں کے روپ میں جنت،بیوی کے روپ میں عزت،بہن کے روپ میں راز دان اور غرور،بیٹی کے روپ میں رحمت ہے میں حکومت وقت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کی بات کا نوٹس لیا جائے اور اگر اس بات میں صداقت ہے تو ایسے لوگوں کو فی الفور سخت سے سخت سزا دی جائے تاکہ دنیا کو پتہ چل سکے کہ پاکستان ایک آزاد اسلامی ملک ہے-

  • خواتین پر کاروبار کرنے کی  پابندی نہیں مگر یہ کام کرنا ہو گا،ڈاکٹر نگہت ہاشمی

    خواتین پر کاروبار کرنے کی پابندی نہیں مگر یہ کام کرنا ہو گا،ڈاکٹر نگہت ہاشمی

    فیصل آباد (عثمان صادق) پاکستان میں ٹھوس بنیادوں پرمعاشی اور معاشرتی تبدیلی لانے کیلئے خواتین کو آگے آنا ہو گا کیونکہ 50فیصد آبادی کو عضو معطل بنا کر ہم ترقی نہیں کر سکتے۔ یہ بات معروف مذہبی سکالر اور مفسر محترمہ نگہت ہاشمی نے فیصل آباد وومن چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری میں ربیع الاول کے سلسلہ میں سیرت النبی ؐ اور وومن ایمپاورمنٹ کے بارے میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے اسلامی تاریخ کے حوالے دیا اور بتایا کہ چودہ سو سال قبل خواتین نہ صرف گھریلو ذمہ داریوں کو پورا کرتی تھیں بلکہ کاروباری معاملات کو خوش اسلوبی سے چلا رہی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ نبی برحق ؐ نے خواتین کے حقوق پر خصوصی توجہ دی اور کہا کہ اُن پر کاروبار کرنے کی کوئی پابندی نہیں۔ تاہم انہیں اسلامی شریعت کے مطابق حجاب اور دیگر قوانین کی پاسداری کرنا ہوگی۔ انہوں نے خواتین کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ حضور نبی کریم ﷺ نے یہ اعتراف کیا تھا کہ انہیں دو چیزیں بہت محبوب ہیں ایک عورت اور دوسری خوشبو۔ انہوں نے کہا کہ خواتین پر پابندیاں عائد کرنے کی بجائے انہیں معاشرے کا پیداواری حصہ بنانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کام کرنے والی خواتین کو دراصل دوہرا ثواب ملے گا پہلے اپنے گھر کی ذمہ داری کا جبکہ دوسرے مرحلہ میں اپنے خاندان کی خود کفالت کے ذریعے بھی اللہ تعالیٰ کی عنایات کی مستحق ٹھہریں گی۔

    انہوں نے حضرت خدیجہ ؓ اور دیگر خواتین کا ذکر کیا اور کہا کہ وہ اس زمانے میں کاشتکاری بھی کرتی تھی اور کئی ایک باغات کی مالک بھی تھیں۔ تاہم انہوں نے کہا حقوق و فرائض میں توازن ضروری ہے اور خواتین کو بہرحال اس توازن کو برقرار رکھنا ہو گا۔ انہوں نے اس تقریب کیلئے مدعو کرنے کا خاص طور پرصدر فیصل آباد وومن چیمبر محترمہ نگہت شاہد کا شکریہ ادا کیا۔ صدر محترمہ نگہت شاہد نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فیصل آباد وومن چیمبر خواتین کے کردار کو بڑھانے کیلئے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے خواتین کو ہنر سکھانے پر زور دیا اور بتایا کہ فیصل آباد وومن چیمبر بہت جلد خواتین کیلئے کمپیوٹر، موبائل رپئیرز، ڈیجیٹل مارکیٹنگ وغیرہ کے کورسز شروع کر رہا ہے جس سے خواتین گھر بیٹھے ہی اپنا روزگار شروع کر سکیں گی۔ انہوں نے انتہائی پر مغز اور پر اثر تقریر کرنے پر ڈاکٹر نگہت ہاشمی کا شکریہ ادا کیا۔ جبکہ نعت رسول مقبولؐ کی سعادت محترمہ ارم شہزاد ی نے حاصل کی۔ فاؤنڈر صدر محترمہ روبینہ امجد نے اس تقریب کے انعقاد پر صدر فیصل آباد وومن چیمبر محترمہ نگہت شاہد کی کاوشوں کو سراہا اور کہا کہ حقوق و فرائض میں توازن بہرحال خواتین کیلئے ضروری ہے اور اس سلسلہ میں خواتین کو اپنے بچوں کی تربیت خالصتاً اسلامی اصولوں کے مطابق کرنا ہو گی۔ آخر میں محترمہ نگہت شاہد اور محترمہ روبینہ امجد نے ڈاکٹر نگہت ہاشمی کو تحائف پیش کئے جبکہ نگہت ہاشمی نے محترمہ شمع احمد، محترمہ نجمہ افضل، محترمہ زرقا طارق اور دیگر شرکاء کو کتاب کا تحفہ پیش کیا۔

  • خواتین کو بھی ٹرین ڈرائیور بننے کی اجازت مل گئی.

    خواتین کو بھی ٹرین ڈرائیور بننے کی اجازت مل گئی.

    روس میں اب خواتین کو ٹرین ڈرائیور بننے کی اجازت مل گئی ہے۔ یہ فیصلہ حکومت کے خواتین پر مختلف قسم کی ملازمتوں پر پابندی کا قانون بدلنے کے بعد کیا گیا ہے۔

    ماسکو میٹرو نے، جس میں کرونا (کورونا) وبا سے ایک دن پہلے تک روزانہ 90 لاکھ افراد سفر کرتے تھے، حالیہ تاریخ میں خواتین کو پہلی بار ڈرائیور کے طور پر بھرتی کیا ہے جب کہ گذشتہ سال خواتین کو اس ذمہ داری کے لیے تربیت دی گئی تھی۔

    روس میں قوانین کے تحت خواتین پر 456 قسم کی مختلف ملازمتیں کرنے پر کئی دہائیوں سے پابندی عائد تھی لیکن گذشتہ سال ستمبر میں ملک کی وزارت محنت نے مردوں کے لیے مخصوص ملازمتوں کی تعداد کو 100 تک کم کر دیا ہے۔

    وزارت محنت کی جانب سے ایسی ملازمتوں کی تعداد میں کمی یکم جنوری، 2021 سے مکمل طور پر نافذ العمل ہو گی۔ ان قوانین کی، جو سوویت یونین کے زمانے میں 1974 میں نافذ کیے گئے تھے، صدر ولادی میر پوتن نے 2000 میں توثیق کی تھی۔

    ان کے تحت خواتین پر نیوی، ٹرین، ٹرک اور بس ڈرائیور، بحری جہازوں کے عملے، کان کنی اور کار مکینکس کے طور پر کام پر پابندی تھی۔

  • خواتین کے خلاف تشدد کے کیسز میں خطرناک حد تک اضافہ

    خواتین کے خلاف تشدد کے کیسز میں خطرناک حد تک اضافہ

    بھارت کے قومی خواتین کمیشن کا کہنا ہے کہ سال 2020میں اسے خواتین کے خلاف جرائم کی 23 ہزار سے زائد شکایات موصول ہوئیں جو گزشتہ چھ برسوں میں اب تک کی سب سے بڑی تعداد ہے۔

    بھارت کے قومی خواتین کمیشن کے مطابق کورونا وائرس کے سبب لاک ڈاون کے دوران خواتین کے مصائب میں مزید اضافہ ہوا اور انہیں گھریلو تشدد کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

    سال 2020کے دوران خواتین کے خلاف جرائم کے مجموعی طورپر 23722شکایتیں درج کرائی گئیں۔